Translater

Elections لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Elections لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

21 اپریل 2012

اکیلی شیلا دیکشت ہی ہار کی ذمہ دار نہیں ہیں



Published On 21 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی ہار کا ذمہ دار کون ہے؟ ویسے کانگریس میں پوسٹ مارٹم کرنے کا کوئی چلن نہیں ہے اور ہار کے بعد شاید ہی کسی کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے اترپردیش، پنجاب کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے ہیں۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ہار کی ذمہ داری طے نہیں ہو پارہی ہے۔ دہلی میں اکیلے وزیراعلی محترمہ شیلا دیکشت کو ذمہ دار ماننا صحیح نہیں ہے۔ بیشک دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں بانٹنا شیلا جی کا نظریہ تھا اور اس حدتک ہار کیلئے وہ ذمہ دار ہوسکتی ہیں لیکن دہلی سے تمام کانگریسی ایم پی دہلی سرکار کے وزیر و ممبران اسمبلی بھی اس کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں ممبران پارلیمنٹ کی ۔ سب سے زیادہ خراب حالت نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی رہی ہے جہاں سے مرکزی وزیر اجے ماکن کی پسند کے لوگوں کو ٹکٹ دئے گئے۔ اس حلقے میں 32 وارڈ نہیں اور کانگریس کو صرف 7 وارڈوں پر جیت حاصل ہوسکی ہے یہاں سے کانگریس کے تین باغی جیتنے میں بھی کامیا ب رہے۔ بھاجپا نے یہاں سب سے زیادہ32 سیٹوں پر اپنا پرچم لہرایا۔ مغربی دہلی کے ایم پی مہابل مشرا کے علاقے میں کانگریس کی ٹکٹوں کے لئے گھماسان ہوااور نتیجہ یہ نکلا کے 10 سیٹیں ہی کانگریس کومل سکیں۔ بی جے پی 19 پر کامیاب رہی ایس پی1،آر ایل ڈی 2 سیٹوں پر قابض ہوئی۔ کئی داغی بھی جیت گئے۔مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ کو ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اپنے ممبران اسمبلی کی مخالفت جھیلنی پڑی اور کانگریس نے ان کے علاقے میں بھی خراب مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں کانگریس 11 سیٹیں جیت پائی ، بی ایس پی کو سب سے زیادہ6 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ پردیش پردھان اور نارتھ دہلی سے ممبر پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال کو فری ہینڈ ملا لیکن ان کی پوزیشن بھی کافی مشکل بھری رہی۔وہ12 امیدواروں کو ہی جتا سکے۔ کانگریس کے بھاری بھرکم وزیر کپل سبل چاندنی چوک سے ہلکے ثابت ہوئے۔ کانگریس کو14 سیٹیں ملیں بھاجپا کو21 سیٹیں ملیں جبکہ شعیب اقبال کی آر ایل ڈی کو3 سیٹیں مل سکیں۔ بی ایس پی کو1 اور 1 آزاد امیدوار کے کھاتے میں گئی۔ حالانکہ وزیر اعلی کے بیٹے سندیپ دیکشت بھی آدھے نمبروں سے بھی پاس نہیں ہوسکے15 سیٹیں ہی جتا سکے لیکن باقی ممبر پارلیمنٹ سے ان کی کارکردگی بہتر رہی۔ بی جے پی نے ایسٹ دہلی سے18 سیٹیں جیتیں۔ کانگریس سے صرف3 زیادہ لیکن3 باغیوں نے کھیل بگاڑ دیا۔ اب بات کرتے ہیں دہلی سرکار میں کانگریس وزراء کی ۔ سبھی 6 وزرا کی کارکردگی خراب رہی۔ سب سے برا حشر کانگریس کے سینئر وزیر ڈاکٹر اے کے والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے لکشمی نگر کے چاروں وارڈ کشن گنج ، لکشمی نگر، شکر پور، پانڈو نگر میں کانگریس ہار گئی۔ سرکار کے دوسرے وزیر ہارون یوسف بھی اپنے اسمبلی حلقے بلیماران کے تین وارڈوں میں پارٹی کو جتا نہیں پائے۔ ان کے وارڈ بلیماران، رام نگر، قصاب پورہ میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ واحد وارڈ عید گاہ روڈ میں پارٹی لاج بچا سکی۔ رماکانت گوسوامی کی راجندر اسمبلی حلقے میں تین وارڈ راجندر نگر، اندرپوری، نرینا میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ پوسا وارڈ میں ہی کانگریس جیتی۔ یہ ہی حال وزیر بہبود پروفیسر محترمہ کرن والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے مالویہ نگر کے تین وارڈ مالویہ نگر، صفدر جنگ انکلیو، حوض خاص میں کانگریس امیدوار ہار گئے جبکہ ایک سیٹ حوض رانی میں پارٹی جیت پائی۔ راجکمار چوہان کا بہرحال ریکارڈ برابری پر چھوٹا۔ ان کے اسمبلی حلقے منگولپوری کے چار وارڈ میں سے دو منگولپوری ایسٹ اور منگولپوری میں پارٹی امیدوار جیتے ہیں جبکہ روہنی ساؤتھ، منگولپوری ویسٹ میں ہار گئے۔ ہار جیت کے ریکارڈ میں وزیر اروندر سنگھ لولی کا ریکارڈ بہتر مانا جاسکتا ہے۔ ان کے اسمبلی حلقے گاندھی نگر کے چار میں سے تین وارڈ دھرم پورہ، گاندھی نگر، رگھوبر پورہ میں پارٹی امیدوار جیتے جبکہ آزاد نگر میں پارٹی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح جمنا پار وکاس بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نریندر ناتھ اپنے چاروں وارڈ ہار گئے ہیں تو دہلی اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر یوگانند شاستری چار میں سے دو اور سینئر ممبر اسمبلی مکیش شرما کے تین وارڈوں میں کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف بی جے پی کے سینئر ممبران اسمبلی کی کارکردگی ٹھیک مانی جاسکتی ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ تین ، جگدیش مکھی دو، ڈاکٹر ہرش وردن کے دو وارڈوں میں بی جے پی کے امیدواروں نے فتح حاصل کی ہے۔ اس لئے اکیلے شیلا دیکشت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔ اسمبلی چناؤ ڈیڑھ سال بعد ہونے ہیں اگر کانگریسی ممبران پارلیمنٹ، وزراء اور ممبر اسمبلی کا یہی حال رہا تو انجام بھگتنے کے لئے کانگریس اعلی کمان کو تیار رہنا ہوگا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Sheila Dikshit, Vir Arjun

19 اپریل 2012

ایم سی ڈی چناؤ کی جھلکیاں


Published On 20 March 2012
انل نریندر
اس بارکے میونسپل چناؤ میں کئی دلچسپ قصے سامنے آئے ہیں۔دہلی کے اس ایم سی ڈی چناؤ میں لوگوں نے نوجوانوں اور بزرگوں سبھی کو چونکا دیا ہے۔ بات اس بھروسے کی ہے لوگوں کو جس پر یقین ہوا اسی کے سر پر سہرہ باندھ دیا۔ سب سے بزرگ لیڈروں میں مانے جانے والے کانگریس کے رمیش دتہ کو ایک بار پھر جیت کا تاج پہنا دیا وہیں دوسری طرف محض21 سال کے دو نوجوان لڑکوں کوبھی اپنا لیڈر چنا۔ ترکمان گیٹ سے منتخب ہوکر آئے آل محمد اقبال محض 21 سال اور ایک مہینے کی عمر میں سب سے نوجوان کونسلروں میں سے ایک ہیں۔ آل محمدراشٹریہ لوکدل کے امیدوار تھے وہیں 21 سالہ بسپا امیدوار پونم پریرا بھی سب سے کم عمر امیدوار رہیں۔ وہ منگولپوری ویسٹ وارڈ سے کامیاب ہوئیں۔ پچھلے کئی برسوں سے دہلی کی سیاست میں سرگرم رمیش دتہ سب سے بزرگ کونسلر ہیں۔ اس بار چناؤ میں انہیں دل کا دورہ بھی پڑا لیکن ہرگھر سے واقف رمیش دتہ کا اتنے برسوں سے لوگوں کے ان کے تئیں پیار میں کوئی کمی نہیں آئی۔
بات اگر مسلم کونسلروں کی کریں تو میونسپل چناؤ میں سیاسی پارٹیوں کا مسلم امیدواروں پر لگایا داؤں کامیاب رہا۔ اس بار سب سے زیادہ مسلم کونسلر کانگریس سے چن کر آئے ہیں اس کے علاوہ راشٹریہ لوکدل سے 3 ، بھاجپا۔بسپا اور سپا سے بھی1-1 کونسلر چن کے آیا ہے۔ اس بار چناؤ میں خاص بات یہ رہی کہ مسلم آبادی والے علاقے قصاب پورہ کی سیٹ بھاجپا کے کھاتے میں گئی وہیں اوکھلا اسمبلی حلقے کے وارڈ نمبر 206 سے سپا نے بھی اپنا کھاتہ کھول کر ایم سی ڈی میں اپنی موجودگی درج کرا دی۔ تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں سب سے زیادہ 7 مسلم امیدوار مشرقی دہلی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نارتھ دہلی سے6 اور ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن میں سب سے کم3 مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے۔ کل ملاکر 16 مسلم امیدواروں کے سر بندھا جیت کا سہرہ۔ ایک اہم پہلو اس چناؤ میں یہ بھی رہا کہ آزاد امیدوار کافی تعداد میں جیتے ہیں ان کی تعداد24 ہے۔ آزاد امیدواروں میں زیادہ تر کانگریس اور بھاجپا کے باغی امیدوار شامل ہیں جنہیں پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا اور وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوگئے۔ لیکن انہوں نے اپنی جیت درج کراکر اپنے کو ضرور ثابت کردیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس میں سے کچھ امیدوار پھر سے پارٹی میں واپس آسکتے ہیں۔ اس چناؤ میں باغیوں نے پارٹی امیدواروں کو ہروانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ ساؤتھ دہلی کی بات کریں تو یہاں کی منریکا سیٹ سے کانگریس کے باغی امیدوار پرمیلاٹوکس چناؤ جیت گئی ہیں۔ گیتا کالونی سے باغی ہوئے بنسی لال نے اپنی سیٹ نکال لی ہے۔ نہرو وہار سے بھاجپا کے شیوکمار شرما اس لئے ہار گئے کیونکہ ان کے خلاف پانچ باغی کھڑے ہوگئے تھے۔ بغاوت کے چلتے کھجوری سیٹ بھی بھاجپا کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اس سیٹ سے بھاجپا کے چودھری رام ویر سنگھ کونسلر تھے۔ اس بار ان کا ٹکٹ کاٹ کر ڈاکٹر انل گپتا کو دے دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا چودھری رام ویر دوسری پارٹی سے چناؤ لڑ گئے اور بھاجپا کا ووٹ بٹ گیا۔ مغربی دہلی سے آزاد امیدوار پونم بھاردواج کامیاب ہوئیں۔ وویک وہار سے آزاد پریتی کامیاب ہوئیں۔ مہیپال پور سے بھاجپا کے باغی کرشن سہراوت بھی بازی جیت گئے۔نوادہ سیٹ سے کانگریس کے باغی نریش بلمان چناؤ جیتے، انہوں نے کانگریس کے امیدوار کو ہرادیا۔ بھاجپا کونسلر رہے وجے پنڈت کے کہنے کے باوجود ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے اپنی اہلیہ سیما پنڈت کو راشٹریہ لوکدل کے ٹکٹ سے چناؤ لڑایا اور وہ بھی چاؤ جیت گئیں۔ بھاجپا کے سابق کونسلر پروین راجپوت بغی ہوکر چناؤ جیت گئے۔ بندا پور سیٹ سے کانگریس کے باغی راج راگھو چناؤ جیت گئے۔ باہری دہلی میں بھاجپا کے باغی پشپا وجے وہار سیٹ سے کامیاب ہوئیں انہوں نے پارٹی کی امیدوار سریتا کو ہرایا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں کانگریس کی ہار کی ایک اور وجہ بسپا ،ایم سی پی سمیت سپا کی بھی دھاک رہی۔
ایم سی ڈی چناؤ کے پچھلے چناؤ میں بسپا نے17 سیٹیں جیت کر زور دار شروعات کی تھی اور درجنوں دیگر سیٹوں پر کانگریس امیدواروں کی ہار یقینی کی۔ اس مرتبہ بسپا نے 15 سیٹیں جیتی ہیں تو گھڑی چناؤ نشان والی این سی پی نے بدرپور سیٹ پر قبضہ کرلیا۔ این سی پی کے سابق ممبر اسمبلی رام ویر سنگھ ودھوڑی کا گڑھ کہے جانے والے اس علاقے نے ان کی پارٹی نے6 سیٹیں جیتی ہیں۔ اس میں بدرپور کی جیت پور، میٹھا پور، مولڑبند اور بدپور کی سیٹ شامل ہے۔ یہاں سے بسپا کے رام سنگھ نیتا جی ممبر اسمبلی ہیں۔ این سی پی نے ہرکیش نگر اور مہرولی کی سیٹوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس علاقے میں کانگریس کے امیدوار تیسرے، پانچویں مقام پر پہنچ گئے۔ دہلی میں تیسرا مورچہ تیار ہورہا ہے؟ چناؤ نتائج تو اسی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ کل ملا کر حالت یہ ہے کہ چھوٹی پارٹیوں کے امیدوار چناؤ جیت گئے ہیں جنہیں قومی پارٹیوں نے نظر انداز کردیا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ بھاجپاکی اس چناؤ میں 36 سیٹیں کم آئی ہیں۔2007 ء کے چناؤ میں بھاجپا نے 174 سیٹیں جیتی تھیں۔ یہ زیادہ اہم ہے کہ ہارنے والی کئی سیٹیں وہ سیٹیں ہیں جو پوروانچل کے لوگوں نے جیتی تھیں چاہے وہ آزاد ہوں یا کسی چھوٹی پارٹیوں کے ٹکٹ پر چناؤ لڑے ہوں۔ ایسے لوگوں میں شامل ہیں۔
پوروانچلیوں کے اکثریت والے علاقوں سنگم وہار ویسٹ سے آزاد امیدوار کلپنا جھا ، جنوبی دہلی سے این سی پی کی شیکھا شاہ جیت گئی ہیں۔ سکراوتی سیٹ سے پوروانچل پس منظر کے ستندر رانا آزاد چناؤ جیت گئے ہیں۔ یہاں یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ دلشاد کالونی سے سابق کونسلر رام نارائن دوبے نے کانگریس کے چودھری اجیت سنگھ کو ہرایا ہے جو شیلا دیکشت کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ کانگریس نے اس سیٹ کو جیتنے کے لئے سبھی طریقے اپنائے۔ پوری طاقت جھونک دی تھی۔ اسی طرح نئی سیما پوری سیٹ پر بھاجپا ورکر سنیل جھا نے سیٹ نکال لی جبکہ پولنگ سے پہلے تک اس سیٹ سے کانگریس کے امیدوار وید پرکاش بیدی کو مضبوط مانا جارہا تھا۔ بھاجپا کے انتہائی رسوخ ذرائع کا کہنا ہے جو بھی آزاد اور چھوٹی پارٹیوں کے پوروانچلی جیتے ہیں وہ کچھ وقت پہلے تک بھاجپا سے وابستہ رہے ہیں مگر پارٹی کی طرف سے نظر انداز کئے جانے پر انہوں نے دوسری طرف رخ کیا۔ بھاجپا نہ انہیں اب کوئی سنمان دے رہی ہے اور نہ ہی پوروانچل کے بڑے نیتاؤں کو پارٹی میں مناسب اہمیت مل رہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

بھاجپا کی جیت نہیں ووٹ تو مہنگائی اور کرپشن و گھوٹالوں کے خلاف ہے



Published On 19 March 2012
انل نریندر
دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ایم سی ڈی کو تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی جو چال چلی تھی وہ الٹی پڑ گئی ہے۔ بھاجپا نے تینوں کارپوریشنوں میں کانگریس کوہرادیا ہے۔ نارتھ ایسٹ میں بھاجپا اکثریت میں آگئی ہے جبکہ جنوبی دہلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں یہ ہی کہوں گا کہ یہ کانگریس کے خلاف ایک منفی ووٹ ہے۔ اس میں بھاجپا کے کارناموں کے سبب ووٹ نہیں پڑا یہ تو لوگوں کا کانگریس سے غصے کی علامت کا ووٹ ہے۔ جنتا مہنگائی، کرپشن، گھوٹالوں سے تنگ آچکی ہے اور چونکہ دہلی میں سرکار بھی کانگریس کی ہی ہے اور مرکز میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہے اس لئے جنتا نے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ ووٹ شیلا دیکشت کی حکومت کے خلاف بھی ہے اور ساتھ ہی منموہن سنگھ حکومت کے بھی ہے۔ شیلا جی نے تو سوچا تھا کہ ایم سی ڈی کو تین حصوں میں بانٹ کر بی جے پی کو ہمیشہ کے لئے کمزور کردیں گی لیکن ان کا داؤ الٹا پڑ گیا اور ان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ کچھ لوگ اسے شیلا دیکشت کے خلاف ریفرنڈم بھی مان رہے ہیں۔کانگریس کہہ سکتی ہے کہ ہمارے اندر بہت پھوٹ تھی اور باغیوں نے ہمیں ہروادیا لیکن پھوٹ تو بھاجپا میں بھی آپ سے زیادہ تھی ، باغی تو وہاں بھی کھڑے تھے آپ کے تو کئی سرکردہ لیڈروں کو دھول چٹا دی گئی۔ لیڈر اپوزیشن جے کشن شرما نجف گڑھ سے ہار گئے۔ پچھلے تین بار سے کونسلر رہے کانگریس کے سینئر لیڈر چودھری اجیت دلشاد کالونی سے ہار گئے۔ تین بار کونسلر رہیں کانگریس کی انیتا ببر تلک نگر سے بی جے پی کی امیدوار ریتو ووہرا سے ہار گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں کانگریس اور بی جے پی کے باغی زیادہ تر ہارے لیکن انہوں نے ووٹ کاٹنے کا کام کیا ہے۔ مشرقی دہلی کا چناؤ کانگریس کے لئے خاص اہمیت اور وقار کا سوال تھا اس لئے شیلا دیکشت، سندیپ دیکشت ، جے پرکاش اگروال، ڈاکٹر اشوک والیہ، اروندر سنگھ لولی سبھی کا وقار داؤ پر تھا۔ محترمہ شیلا دیکشت نے خود تو ہار پر کچھ رائے زنی نہیں کی لیکن ان کے صاحبزادے اور مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ رہے سندیپ دیکشت نے مہنگائی اور ٹو جی جیسے گھوٹالوں کو ہار کا سبب مانا ہے۔ انہوں نے کہا سی اے جی کی رپورٹ اور انا ہزارے کی تحریک سے ایسا ماحول بنا کے لوگوں کو لگا کہ کانگریس ہی ساری غلطیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے لوکل اشوز کو سامنے رکھا جبکہ پورے دیش اور دہلی میں ایسا ماحول تھاکہ بی جے پی نے مہنگائی اور ٹوجی گھوٹالے پر توجہ دی۔ کانگریس کے وزیر راجکمار چوہان بیان دیتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو تنخواہیں بھی بڑھی ہیں۔ یہ بیان جنتا کو پسند نہیں آیا۔ پوری چناؤ مہم میں بھاجپا نے کہیں بھی ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال کے اپنے ریکارڈ پر ووٹ نہیں مانگا۔ اس نے مرکزی سرکار اور شیلا سرکلار کو نشانے پر رکھا۔ اس سے بھی یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر بھاجپا جیتی ہے تو اپنے کارناموں سے نہیں بلکہ مرکز اور دہلی میں کانگریس کی سرکاروں کے خلاف منفی ووٹ پڑنے سے جیتی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں مقامی سرکردہ لیڈر بھی اثر رکھتے ہیں اس لئے جنتا نے کئی مقامات پر دونوں بڑی پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امیدوار کی شخصیت کو ووٹ دئے۔ تبھی تو 37 آزاد امیدوار جیت کر آئے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھاجپا کی جیت کا سہرہ نوجوان پردیش صدر وجیندر گپتا کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی ہے۔ اس کامیابی سے کافی خوش پارٹی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ یہ نتیجے کانگریس کی عوام مخالف جذبے کا نتیجہ ہیں۔ پکا ثبوت اور ان کی پارٹی آنے والے دہلی اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں بھی کامیاب ہوگی۔ دہلی اسمبلی کا چناؤ تقریباً18 ماہ بعد ہونا ہے اور لوک سبھا کے انتخابات 2014ء میں ہونے ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مرکزی حکومت اب بھی جاگے گی؟ یہ چناؤ ایک طرح سے مرکز کی پالیسیوں ، کارگزاریوں اور گھوٹالوں پر تھا۔
اس حکومت کو جنتا کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنی عوام مخالف پالیسوں پر گامزن رہی ہے۔ جنتا کے پاس اپنا احتجاج کرنے کا ایک واحد ہتھیار اپنا ووٹ ہے اور اس نے کانگریس کے خلاف ووٹ دے کر اپنی ناراضگی اور تبدیلی کے جذبے کو صاف طور سے ظاہر کردیا ہے۔ باقی ان چناؤ نتائج کا تجزیہ تو کئی دنوں تک چلتا رہے گا۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

14 اپریل 2012

میونسپل چناؤ سے ٹھیک پہلے ورکر کے قتل سے بھاجپا کوجھٹکا



Published On 14 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن چناؤ میں ووٹنگ کے کچھ دن پہلے بھاجپا کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ پہلے ہی سے اندرونی رسہ کشی کا شکار بھاجپا کی مشکلیں رکتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ چناؤ مہم کے آخری دور میں ایم سی ڈی چناؤ تشدد آمیز بن گیا ہے۔منگل کی دیر رات لال باغ علاقے میں آزاد پور ریلوے پلیٹ فارم کے پاس جاری بھاجپا امیدوار کی چناؤ ریلی میں بھاجپا ورکر آپس میں ہی لڑ پڑے۔ اس میں بھاجپا ورکر جے پی یادو کو چاقو مار دیا گیا۔ جس سے اس کی ہسپتال میں موت ہوگئی۔ کرائم اینڈ ریلوے کے اڈیشنل پولیس ڈپٹی کمشنر بھیروسنگھ گرجر نے بتایا کے پرانی دہلی ریلوے تھانہ پولیس نے معاملہ درج کرکے بھاجپا امیدوار مادھو سنگھ اور اس کے ڈرائیور منوج عرف پنکی اور انل یادو کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے منوج کو ایک دن کے ریمانڈ میں لیا ہے جبکہ مادھو سنگھ اور انل کو جوڈیشیل حراست میں رکھا گیا ہے۔ وہیں پولیس نے دوسرے فریق کے خلاف مقدمہ درج کرملزم وریندر کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مادھو پرساد آزاد پور کے سنگم پارک وارڈ نمبر 71 سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ واردات قریب11 بجے لال باغ کوشل پوری ریلوے لائن کے پاس جھگی بستی میں مادھو پرساد کی چناؤ ریلی جاری تھی تبھی مخالف گروپ کے بھاجپا کے کچھ ورکر وہاں آگئے اور اس میں اس وارڈ کے ٹکٹ کے دعویدار رہ چکے جے پرکاش یادو ، وریندر ، بلرام اور سنتوش تھے، کچھ ہی دیر میں دونوں گروپوں کے ورکر آپس میں بھڑ گئے اسی دوران جے پی یادو کو چاقو ماردیا گیا۔ جھگڑے میں منوج بھی زخمی ہوا۔ پولیس جے پی یادو کو سندر لال جین ہسپتال لے گئے جہاں اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ308 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واردات کا علاقے کے ووٹروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ بھاجپا کے نیتا ارون جیٹلی نے اسے قانون نظم کی بگڑی صورتحال بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے لیکر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے لیکن کیا عوام اسے محض قانون و نظم کا معاملہ ماننے کو تیار ہے؟ اس واردات سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ پارٹی کے قریب دو درجن لیڈر ، کونسلر و ان کے واقف کار باغی ہوکر چناؤ میں کود پڑے ہیں تو پارٹی کے نیتا جگدیش مامگئی نے ٹکٹوں کی تقسیم میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے جھنڈا بلند کردیا ہے۔ قتل پر ردعمل سوشل نیٹورک پر بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔ ٹوئٹر فیز بک پر اس قتل کانڈ کے خلاف لگاتار رد عمل سامنے آرہے ہیں اور اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بھاجپا جیت گئی تو جنتا کے لئے اور مصیبتیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ قتل کانڈ نے کانگریس کو ایک اور ٹھوس مدعا دے دیا ہے۔ کانگریس کے نیتا اجے ماکن نے کہا کے یہ قتل پارٹی کی اندرونی رسہ کشی کا نتیجہ ہے اس کا قانون و نظم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پردیش پردھان جے پرکاش اگروال کے مطابق یہ صاف ہوگیا ہے کہ بھاجپا نے ٹکٹوں کو لیکر گھوٹالے بازی کی ہے اورجرائم پیشہ کردار کے لوگوں کو ٹکٹ دینے میں کوئی گریز نہیں کیا ہے۔ بھاجپا کو اس واردات سے کئی جھٹکے لگے ہیں۔ ورکر کی جان چلی گئی ہے اور کونسلر مادھو پرساد جیل چلے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں میں مارے گئے ورکر کے تئیں ہمدردی ہے لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے تئیں غصہ بھی ہے جو مادھو پرساد کو ہرانے کے لئے بھڑکانے میں لگے تھے۔ مقامی لوگوں نے ایک پرچہ بھی نکالا ہے جس میں مادھو کو انصاف دلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد مادھو پرساد اور دیگر کو پکڑا ہے لیکن مادھو کے حمایتیوں کا کہنا ہے قتل میں مادھو کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ کوئی پلان قتل نہیں ہے بلکہ اچانک ہوئی واردات ہے جس میں مادھو کا کوئی رول نہیں ہے۔ اس لئے پارٹی کو مادھو کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آس پاس کی 8-10 سیٹوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف کانگریس نے کہا ہے بھاجپا میں جس طرح ٹکٹوں کو لیکر دھاندلے بازی ہوئی ہے اس سے پارٹی کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ پارٹی نے سوال کیا بھاجپا نے ابھی تک اپنے امیدوار کونسلر کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا ہے۔ اس کی امیدواری کیوں نہیں ختم کی ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واردات کا 15 اپریل کو ہونے والی پولنگ پر کیا اثر پڑتا ہے؟
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Vir Arjun

10 اپریل 2012

تین کارپوریشن اور ڈھیر سارے چیلنج

دنیا کی سب سے بڑی ایم سی ڈی اس چناؤ کے بعد تین ٹکڑوں میں بٹی دکھے گی ۔ نئی ایم سی ڈی تیار ہوجانے کے بعد مقامی سطح پر ایم سی ڈی کی اپنی الگ چنوتی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ نیتاؤں کے چناوی وعدے بھی بدل گئے ہیں۔ نئے ایم سی ڈی کے لئے 15اپریل کو چناؤ ہونا ہے۔ اس چناؤ کے نتیجے کے بعد دہلی کے تین نگرنگم ہوں گے۔ ان نگموں میں شمالی دلی، مشرقی دلی اور جنوبی دلی نگم شامل ہیں۔ ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہے۔ اس چناؤ میں آزاد امیدواروں سمیت کل ملا کر20 پارٹیوں کے 2400 امیدوار میدان میں ہیں۔ اہم مقابلہ بھاجپا اور کانگریس میں ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس بار نگم چناؤ میں عورت اور مرد ملا کر ایک درج سے زیادہ ڈاکٹر میدان میں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں 6 خاتون ڈاکٹر تو ایسی دکھ رکی ہیں جو کسی نہ کسی بڑے ہسپتال میں میڈیکل پریکٹس کرچکی ہیں یا کررہی ہیں۔ نگرنگم کے اس چناؤ میں ایک نئی بات یہ ہے کہ تینوں نگموں میں 50فیصدی وارڈ عورتوں کے لئے ریزرو ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسے سینئر کونسلر ہیں جو 1997ء سے کارپوریشن کے نمائندے رہے ہیں لیکن اس بار چناؤ نہیں لڑ رہے۔ ایسے کونسلروں میں اہم طور پر بھاجپا کے پردیش صدر وجیندر گپتا ، آرتی مہرہ اور سابق میئر اور مہرولی سے کونسلر ستبیر سنگھ ہیں۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ امیدواروں سے زیادہ پریشان انہیں ٹکٹ دلانے والے نیتا ہیں۔دمدار نیتاؤں نے اس بار اپنے چہیتوں کو ٹکٹ تو دلا دیا ہے لیکن اب چاہے اَن چاہے ان پرہی انہیں جتانے کی ذمہ داری آگئی ہے۔ موجودہ نگرنگم چناؤ میں ایک تو موسم کی گرماہٹ سے پرچار کا وقت محدود ہوگیا ہے اوردوسری طرف چناؤ کمیشن کی سختی کی وجہ سے ڈھول نگاڑے اور تام جھام سے بھی پرچار مہم دور ہوگئی ہے۔پیسے والے امیدوار بھلے ہی فلم اداکاروں وغیرہ سے روڈ شو کروارہے ہوں لیکن باقی امیدوار چناؤ پرچار گلی گلی پدیاترا کرکے ، گھر گھر جاکراور محلوں میں چھوٹی چھوٹی میٹنگوں کے ذریعے کررہے ہیں۔ پارہ چڑھتے ہیں بجلی نے بھی اپنے نخرے دکھانے شروع کردئے ہیں چناؤ سر پر ہیں اور کئی گھنٹوں بجلی گل ہونے لگی ہے۔ جب امیدوار علاقے میں چناؤ پرچار کرنے جاتے ہیں تو لوگ سب سے پہلا سوال یہ کرتے ہیں کہ بجلی کی سپلائی کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ اور سنگین ہونے والا ہے۔کہیں ایم سی ڈی چناؤ پر بجلی نہ گر جائے۔
اس بار نیتاؤں کو اپنے پرچار کے لئے زیادہ وقت ملے گا۔ دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پہلی بار شام کے بجائے پرچار تھمنے کا وقت صبح ساڑھے پانچ بجے تک کیا ہے۔ابھی تک ووٹنگ سے 36 گھنٹے پہلے چناؤ پرچار بند ہوجاتا تھا لیکن اس بار 24 گھنٹے پہلے چناؤ پرچار بند ہوگا۔ دونوں اہم پارٹیاں باغیوں سے پریشان ہیں۔ بھاجپا نے 7 لوگوں کو 6-6 سال کے لئے پارٹی سے نکال دیا ہے تو کانگریس نے بھی 4 لوگوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ دہلی نگر نگم چناؤ میں اس بار پپوپچھلے پندرہ سال کا ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں راجدھانی میں تین بار نگم چناؤ ہوئے ہیں لیکن صرف ایک ہی بار ووٹنگ کا فیصد 52 فیصدی کا آنکڑہ چھوپایا ہے۔ باقی دو بار یہ 42 فیصدی ہی رہا۔ کانگریس کی باگ ڈور شیلا دیکشت، جے پرکاش اگروال اور کپل سبل نے سنبھالی ہے تو بھاجپا کی کمان وجے کمار ملہوترہ اور وجیندر گپتا کے ہاتھ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

29 مارچ 2012

ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں



Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

25 مارچ 2012

کیا کہتی ہے یوپی کی ہار پر کانگریس کی خفیہ رپورٹ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
حال ہی میں اختتام پذیر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی کراری ہار پارٹی لیڈر شپ ہضم نہیں کرپارہی ہے۔ باوجود سخت مشقت کے پارٹی کو کراری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ پارٹی کو سب سے زیادہ تشویش سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے اور یووراج راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں ہار کی ہے۔ اس ہار کے اسباب کو جاننے کیلئے پارٹی نے کئی رپورٹ تیار کرائی ہیں۔ راہل گاندھی کے کرشمے کا فائدہ نہ مل پانے کے لئے جہاں کانگریس لیڈر شپ کمزور تنظیم، ٹکٹو کی غلط تقسیم مان رہی ہے بلکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی کی رہنمائی میں سینٹرل الیکشن کمیٹی کے لئے بنی ایک خاص رپورٹ میں کہا گیا ہے پارٹی کے یووراج راہل گاندھی کی منڈلی بھی ہار کے لئے ذمہ دار ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے سے بیحد تعصب رکھنے والے لوگوں کے چھوٹے لیکن بااثر گروپ اور سیاسی پارٹی کے دم خم میں کمی والے امیدواروں کو ٹکٹ دئے جانے سے چناؤ کے نتیجے پارٹی کے لئے مایوس کن رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ذات پات اور سینئر لیڈروں کا غرور بھی ہار کا سبب مانا گیا ہے اس کی وجہ سے بنیادی ورکر چناؤ میں پوری طاقت لگانے کے بجائے علیحدہ رہا۔ کانگریس کی اس ہار کا پوسٹ مارٹم سے متعلق اس پہلی رپورٹ میں صوبے کی 33 سیٹوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کی کارکردگی خراب رہی ہے جہاں راہل گاندھی کے قریبیوں نے مداخلت کرکے اپنی مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ دلائے تھے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کے مبصرین کے ذریعے چنے گئے امیدواروں اور مقامی ورکروں کو نظرانداز کیا گیا۔ فیروز آباد میں سسرا گنج سیٹ کی مثال سامنے ہے جہاں کانگریس امیدوار ہری شنکر یادو محض 4 ہزار 224 ووٹ لیکر پانچویں مقام پر رہے۔ مبصرین اور مقامی ورکروں کی پہلی پسند ٹھاکر دلبیرسنگھ تومر تھے۔ راہل نے خاص زور دیکر یادو کو ٹکٹ دلوایا۔ اسی طرح ایٹہ ضلع میں علی گنج سیٹ پر پارٹی کے امیدوار رنجن پال سنگھ 8 ہزار160 ووٹوں کے ساتھ پانچویں مقام پررہے۔اس سیٹ پر پارٹی کے آبزرور نے بزنس مین سبھاش ورما کو ٹکٹ کی وکالت کی تھی۔وہ اس اسمبلی حلقے میں لودھ فرقے سے واحد امیدوار تھے جو 27 ہزار لودھ ووٹوں کے زیادہ تر ووٹ حاصل کرسکتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس ورکروں کو نظرانداز کرنے سے انہوں نے پارٹی امیدوار کے خلاف ہی کام کیا اور اسے ہروانے میں لگ گئے۔ ریاست کے ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ نے کہا جو رپورٹ اب مل رہی ہے ہم لوگوں کو تو پہلے ہی اس بارے میں پتہ تھا۔ راہل گاندھی کو بھی اشارہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ مسلم لیڈر کی شکل میں صرف سلمان خورشید کو آگے برھایا گیا جبکہ مسلم انہیں اپنا لیڈر مانتے ہی نہیں ہیں۔ اس لئے راہل گاندھی نے سماجوادی پارٹی سے آئے رشید مسعود بینی پرساد ورما کو اہمیت دی۔ جبکہ یہ لوگ دوسری پارٹیوں سے آئے تھے اور اسی وجہ سے کانگریس ورکر اس چناؤ سے دور رہا۔ ریاست کے کئی ایم پی اور نیتا یہ ہی چاہتے ہیں کہ ہار کے ذمہ دار لوگوں کو سزا دی جائے جن لوگوں نے اس چناؤ میں درجہ فہرست ذاتوں، پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں والی سیٹوں کو جیتنے کے لئے لگایا تھا ان پر کارروائی کی جانی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Congress, Uttar Pradesh, State Elections, Elections, Rahul Gandhi, Bahujan Samaj Party, Ajit Singh, Samajwadi Party,

10 مارچ 2012

بھاجپا کیلئے نتیجے زیادہ غم خوشی کم لیکر آئے ہیں



Published On 10 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تھوڑی خوشی اور زیادہ غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی کی وجہ یہ ہے گووا کا نتیجہ۔ گووا میں بھاجپا اور مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ بھاجپا میں پہلی بار خوبصورت ساحلوں والی اس ریاست میں 21 سیٹیں جیت کر اکیلے اپنے دم خم پر اکثریت حاصل کی ہے۔ گووا میں بھاجپا کی اس کامیابی کے لئے اصل ہیرو سابق وزیر اعلی پاٹیکر ہیں۔چناوی کمان انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔ گووا میں میری رائے میں ایک بہت بڑا کارنامہ بھاجپا کا یہ ہے کہ اس نے اقلیتوں کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ گووا کے عیسائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے بھاجپا ان کے لئے اچھوت نہیں ہے۔ جنوبی گووا کی 17 میں سے8 سیٹیں پارٹی ان حلقوں میں جیتی ہے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ بھاجپا نے خود 6 عیسائی امیدوار کھڑے کئے تھے اور 2 آزاد کی حمایت کی تھی۔ سبھی آٹھوں امیدواروں جیتے ۔ پارٹی کو سب سے بڑا جھٹکا اترپردیش میں لگا ہے۔ ریاست میں چناؤ نتائج بھاجپا کو 2014 ء میں مرکز تک این ڈی اے سرکار بنانے کی امیدوں پر بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ بھاجپا اترپردیش کے اسمبلی چناؤ میں بوئے گئے بیج سے مرکز میں 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کا اندازہ لگا رہی تھی لیکن نتیجے آئے اس سے مایوس کن اور پریشانی ہی ہاتھ لگی۔ اترپردیش پھر ایک بار تاملناڈو کی راہ پر چلا گیا ہے جہاں قومی پارٹی کا کردار بے جواز ہوکر رہ گیا ہے۔ بھاجپا اور آر ایس ایس کی چناوی لیباریٹری بنے یوپی انتخابات میں جہاں ایک ایک کرکے سبھی تجربوں کو دھکا لگا ہے وہیں پارٹی کے کئی لیڈروں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ناراض ووٹروں کو منانے کا ذمہ آر ایس ایس اور صدر نتن گڈکری نے مل کر اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے گڈکری نے سنگھ کی حمایت کی بدولت پارٹی کے بڑے لیڈر اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق تنظیمی سکریٹری سنجے جوشی کو یوپی کے چناؤ میں سرگرم کیا۔ دوسرا نتن گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے گئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔ بڑھتی ناراضگی کے چلتے کشواہا کی ممبر شپ تو معطل کردی گئی لیکن کرپشن کے دوسرے ملزم بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں بنائے رکھا بلکہ ان کو مہوبہ سے چناؤ میدان میں اتاردیا۔ پارٹی نے بندیلکھنڈ کو لیکر جتنے بھی تجربے کئے سوائے اس میں ایک اما بھارتی کے علاوہ کوئی نہیں جیت سکا۔ مسلم ووٹروں کے پولارائزیشن کو روکنے کے لئے اپنے سبھی فائر بینڈ لیڈروں ورون گاندھی، یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندو وادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت تو بھیجی لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم ووٹوں کو بٹوانے میں کامیاب نہ ہوسکی بلکہ وہ اپنی اس کوشش میں اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا بیٹھی جس کے چلتے پارٹی کو 2007ء کی کارکردگی کو دوہرانا تو دور رہا بلکہ اس سے بھی کم ہوگئی۔ ایودھیا میں 6 دسمبر1992ء کے متنازعہ ڈھانچہ گرنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار للوسنگھ سپا کے تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے سے ہار گیا۔ للو سنگھ 1991ء سے مسلسل یہ سیٹ جیت رہے تھے۔ اترپردیش کے لئے امیدوارں کا چناؤ بھی آر ایس ایس گڈکری اور سنجے جوشی نے کیا تھا۔ انہوں نے ایسے پھسڈی امیدوار کھڑے کئے جنہوں نے نہ صرف پارٹی کی بھد پٹوائی بلکہ مقابلے میں نہ رہ کرچوتھے میدان پر رہے۔ اور بہت سے امیدواروں نے اپنی ضمانت تک گنوا دی۔ 122 ایسے امیدوار ہیں جو چار مقابلوں کی لڑائی میں جگہ تک نہیں بنا سکے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے یوپی کے اندر تبدیلی کے لئے لمبی تیاری کی تھی۔ پارٹی کے اندر پرانا روایتی رویہ رکھنے والے امیدواروں کی بجائے نئی نسل کے امیدواروں کو لانے کا تجربہ کیا گیا۔ یہ ہی نہیں گڈکری اینڈ کمپنی نے الگ سروے کرایا جس سے کہ اول امیدوار کا انتخاب ہوسکے۔ چناؤ کے بعد جو حالت بنی ہے اس میں بھاجپا کے چوتھے مقام پر قریب 122 امیدوار رہے جن میں سے زیادہ تر اپنی ضمانت بچانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ کئی امیدوار تو ایسے تھے جن کو پانچ ہزار ووٹ لانے کے لالے پڑ گئے۔ اترپردیش میں بھاجپا حاشئے پر چلی گئی اور اس کے لئے ذمہ دار ہیں آر ایس ایس، نتن گڈکری اور سنجیو جوشی جیسے بڑے نیتا۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Goa, Nitin Gadkari, Punjab, RSS, Sanjay Joshi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

08 مارچ 2012

مایا کے خلاف نگیٹو ووٹ اور اکھلیش یادو کی آندھی



Published On 8 March 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں ان میں نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ اسباب کے لمبے چوڑے تجزیئے ہونے لگے ہیں۔ موٹے طور پر جو اہم وجہ مجھے لگی وہ کچھ اس طرح ہے۔ پہلے ہم بات کرتے ہیں اترپردیش کی۔یہاں چناؤ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ سائیکل نے ہاتھی کو پست کردیا۔ سماجوادی پارٹی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ تھی مایاوتی حکومت کے خلاف ناراض ووٹ ۔ یوپی کی عوام نے طے کردیا تھا کہ مایاوتی کی بسپا سرکار کو ہرانا ہے اور سامنے متبادل کی شکل میں اس کوسپا کے نوجوان لیڈر اکھلیش یادو نظر آئے۔ اکھلیش یادو ریاست کے عوام کی نبض کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی اور زمین پر چلنے والے اکھلیش نے ایک نئی امید کی کرن پیدا کی۔ محنت تو راہل گاندھی نے بھی کم نہیں کی تھی ۔ انہوں نے بھی دو مہینے سے یوپی بھر میں خاک چھانی۔ 20 سے زیادہ ریلیاں کیں لیکن جنتا ایسا نیتا چاہتی تھی جس کے پاس وہ چاہ کر اپنی نالی، بجلی، پانی کے مسئلے کو سامنے رکھ سکے۔ وہ ہر بات راہل سے آکر دہلی میں نہیں کہہ سکتے تھے۔ راہل کی کڑی محنت پر یوپی کانگریس یونٹ نے پانی پھیردیا۔ چناوی ماحول تو راہل نے بنا دیا لیکن فصل کاٹنے کے لئے تنظیم تیار نہیں تھی۔ کوئی بوتھ کمیٹی نہ تھی اور نہ ہی ضلع کمیٹی ۔ جن مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے کانگریس نے ہر ہتھکنڈہ اپنا یا انہوں نے ملائم کی جھولی میں جانا بہتر سمجھا۔ مسلم ووٹ سپا ۔ کانگریس اور بسپا میں بنٹا یکمشت کسی کو نہیں گیا لیکن اکثریت سپا کے ساتھ گئی۔ مایاوتی اپنی ہار کے لئے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کا تاناشاہی طریقہ عوام کو نہیں بھایا۔ مہارانیوں کی طرح ان کے برتاؤں سے خود ان کے پارٹی والے دکھی تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ دلت ووٹ بھی پوری طرح سے بسپا کو ملا۔ آخر وہ ووٹ دیتے بھی کیوں؟ جن دلتوں کی بہبود کے لئے مایاوتی اقتدار میں آئیں اسی دلت کو کالج میں ایک کلرک کی نوکری لینے کے لئے چار لاکھ روپے رشوت دینی پڑتی تھی۔ لوگ بھوکے مر رہے تھے اور بہن جی ہاتھی بنوانے میں لگی ہوئی تھیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں نہ تو کسی کالج میں چناؤ ہوا اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کے چناؤ ہوئے۔ سارا چناوی عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ نوجوانوں میں بہن جی کے تئیں ناراضگی تھی۔ کسانوں کی زمین بلڈروں کو اونے پونے بھاؤ میں لٹا دی اور پیسہ بنانے کی فیکٹری بن گئی۔ بہوجن سماج پارٹی کے خلاف لوگوں کا متبادل کیا تھااسی لئے انہوں نے دوسری لیڈر شپ کی لائن کے لیڈر کو کڑا کرنے کی کوشش کی اور کوئی نوجوان چہرہ تھا ان کے پاس پیش کرنے کو۔ متبادل کے طور پر ریاست کی عوام کو اکھلیش یادو کی شکل میں نظر آیا۔ نیتا جی (ملائم) شاید اپنے بلبوتے پر یہ چناؤ نہ جیت پاتے۔ آج بھی ان کے غنڈے راج کو کوئی نہیں بھولا۔ 2007ء میں ان کا اسی طرح صفایا ہوا تھا کیونکہ ہر تھانے میں ہر گاؤں میں تحصیل میں ملائم کھڑا ملا۔ دراصل سپا کے ورکر اقتدار میں آنے سے سبھی ملائم بن جاتے ہیں اور وہاں غنڈہ راج آ جاتا ہے۔ اسی سے ناراض عوام نے مایاوتی کو موقعہ دیا تھا۔ اکھلیش یادو کے لئے یہ سب سے بڑی چنوتی ہوگی اپنے ورکروں پرلگام رکھنا۔ پارٹی کے برسر اقتدار آتے ہی دو مقامات پر تو گولی چل چکی ہے، مارپیٹ ہوچکی ہے۔ یوپی کی عوام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سیاستدانوں سے زیادہ وہ پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بھاجپا کو یہ ہی حکمت عملی مار گئی۔ اس بار یوپی کا سارا چناؤ خود آر ایس ایس نے لڑا۔ سنجے جوشی، نتن گڈکری نے امیدواروں سے لیکر ریلیوں تک سب کچھ سنگھ کے اشاروں پر کام کیا۔ سنگھ نے کہا کے اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا ہو دہلی گجرات سے نہیں بلانا اور نہ بلایا گیا۔ اوما بھارتی کو زبردستی لا کر یوپی کے نیتاؤں میں گھمسان کردیا۔ بھاجپا اس چناؤ میں ایک بٹی ہوئی پارٹی کی طرح اتری اور اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ اس چناؤ میں بھاجپا کی اتنی ہار نہیں ہوئی ہے جتنی سنگھ کی ہوئی ہے۔ بھاجپا تو پہلے سے بھی زیادہ گر گئی ہے۔
اسی حکمت عملی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتراکھنڈ میں بھاجپا کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اتراکھنڈ کی بدقسمتی دیکھئے وہاں رمیش پوکھریال نشنک چناؤ جیت گئے جنہیں کرپٹ ہونے کے الزام میں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور بھون چندر کھنڈوری جو وزیر اعلی تھے چناؤ ہار گئے جن کی ایماندار ساکھ پر بھاجپا نے داغ لگادیا تھا۔ اس سے تو شاید بہترہوتا نشنک کو ہی وزیر اعلی بنائے رکھتے اور چناؤ سے تین مہینے پہلے انہیں ہٹا کر پارٹی کو نقصان پہنچ گیا۔ چناؤ میں شخصیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ پنجاب میں پرکاش سنگھ بادل اور کیپٹن امریندر سنگھ آمنے سامنے تھے جہاں بادل انتہائی ملنسار ، عوام کے دکھ درد میں ساتھ دینے والے ہیں وہیں کیپٹن کا مہاراجہ اسٹائل نہیں بدلا۔ انہوں نے وہی شاہی انداز میں چناؤ لڑا جب جنتا کو بادل اور امریندر میں سے ایک کو چننے کا موقعہ ملا تو انہوں نے بادل کو ترجیح دی۔ پنجاب میں اکالیوں کے خلاف ماحول تھا لیکن کانگریس اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ 44 سال میں یہ پہلا موقعہ ہے کے حکمراں پارٹی محاذ پھر سے چناؤ جیتا ہے۔ اترپردیش اسمبلی کے چناؤ نتیجے خاص کر اکثریت کا دعوی کرنے والی کانگریس کے لئے بیحد مایوس کن اور پریشانی کا باعث ہیں۔ پارٹی کو کہا ں تو دگوجے سنگھ جیسے بڑبولے نیتا 125 سیٹوں کا دعوی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ کانگریس کو صرف وہاں28 ہی سیٹیں مل سکی ہیں۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں22 سیٹیں جیتنے والی اس پارٹی کا تجزیہ تھا تو اس کی بنیاد پر اسے 100 سیٹیں ملنی چاہئے تھیں۔ اتحادی راشٹریہ لوکدل جس نے مغربی اترپردیش میں آندھی آنے کا دعوی کیا تھا کل 9 سیٹیں ہی جیت سکی جو پچھلی جیت سے کم ہیں۔ چناؤ میں کانگریس کی خراب کارکردگی کی حد تو تب ہوگئی جب ان کے گڑھ کہے جانے والے سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں کانگریس سبھی پانچوں سیٹیں ہار گئی جبکہ اس چناؤ میں اپنی پوری طاقت جھونکنے والے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے والے ضلع امیٹھی میں کانگریس پانچ میں سے تین سیٹیں گنوا بیٹھی۔ امیتا سنگھ جیسی قد آور لیڈر امیٹھی میں ہار گئی۔ تمام ڈرامے کرنے کے باوجود سلمان خورشید اپنی بیوی لوئس خورشید کی ضمانت نہیں بچا سکے۔ چناؤ میں اپنے بڑ بولے پن کے لئے سرخیوں میں بنے رہے مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما کے بیٹے راکیش ورما دریا باد چناؤ دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہے۔ ویسے اگر سرکردہ لیڈروں کی ہار کی بات کریں تو بھاجپا کا حشر بھی کانگریس جیتا ہی رہا۔ سوائے اوما بھارتی کے چناؤ میدان میں اترے سبھی دھرندر چناؤ ہار گئے۔ بھاجپا پردیش پردھان سوریہ پرتاپ شاہی سابق اسپیکر راجہ پتی رام ترپاٹھی اور قومی نائب صدر کلراج مشر ودھان منڈل کے لیڈر اوم پرکاش سنگھ اور سابق پردیش پردھان کیسری ناتھ ترپاٹھی کو بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اترپردیش کے چناؤ میں عوام کا ان پارٹیوں کو مسترد کرنا ان کے لئے ایک سبق مانا جائے گا۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Elections, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Rahul Gandhi, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 مارچ 2012

اور اب سب کی نظریں دہلی میونسپل چناؤ پر لگیں



Published On 7 March 2012
انل نریندر
حالانکہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ جیسی اہمیت تو نہیں رکھتے لیکن پھر بھی دیش کی قومی راجدھانی دہلی ہونے کے ناطے میونسپل کارپوریشن کے چناؤ اہمیت کے حامل ہیں۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج کے بعد اب سب کی نگاہیں بلدیاتی اداروں کے آنے والے انتخابات پر لگی ہیں۔ راجدھانی میں پیر سے چناؤ ضابطہ لاگو ہوگیا ہے۔ اس کانفاذ ہوتے ہی نئے پروجیکٹوں کا اعلان یا افتتاحی پروگراموں پر روک لگ گئی ہے۔ حالانکہ چناؤکا نوٹی فکیشن19 مارچ سے لاگو ہوگا۔ اسی کے ساتھ کاغذات نامزدگی شروع ہوجائے گی۔ یہ چناؤ ضابطہ 17 اپریل تک نافذ العمل رہے گا۔ خیال رہے کہ 17 اپریل کو ایم سی ڈی چناؤ کے ووٹوں کی گنتی ہوگی اسی کے ساتھ ڈیڑھ ماہ سے نافذ چناؤ ضابطہ ختم ہوجائے گا۔ سرکاری ایجنسیوں یا عوام کو لبھانے والے پروجیکٹوں کو منظوری نہیں دی جاسکتی۔ چناؤ ضابطے کے تحت ریاستی چناؤ کمیشن پیسہ، طاقت اور شراب مافیہ کے بیجا استعمال کے علاوہ راجدھانی کی املاک پر پوسٹر بینر چپکانے پر بھی نظر رکھے گا۔ دہلی میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب چناؤ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی راجدھانی میں عوامی مفاد کی اسکیموں کے اعلان کی جھڑی لگ گئی تھی۔محض تین دنوں کے اندر سینکڑوں کروڑ روپے کی اسکیموں کو ایم سی ڈی نے ہری جھنڈی دی۔ محض جمعہ اور سنیچر کو ہی ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے 200 کروڑ روپے سے زائد کی اسکیموں کو منظوری دی۔ چناؤ کے عین موقعے پر 11500 سلائی مشین تقسیم کرنے کی اسکیم کو ہری جھنڈی دی گئی۔ اس کے علاوہ سنیچر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے میٹنگ میں 60 سے زیادہ اسکیمیں منظور کی گئیں ساتھ ہی ایتوار کو دہلی کی میئر پروفیسر رجنی ابی کی جانب سے سبھی اخبارات میں ایم سی ڈی کی کامیابیوں کو لیکر بڑے بڑے اشتہارات جاری کئے گئے۔ جہاں بھاجپا کے لئے یہ چناؤ ایک چنوتی ہوں گے کے وہ ایم سی ڈی میں پھر کمل کھلائے، وہیں دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کا وقار بھی ان ایم سی ڈی چناؤ سے براہ راست وابستہ ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر سیاسی پارٹیاں جو بھی حکمت عملی بنا لیں لیکن چناؤ میں خاص اشو دہلی سرکار ہی رہے گی۔ کانگریس جہاں اپنی سرکار کے 13 سال کی کامیابیوں کو بھنانے پر توجہ دے گی وہیں بھاجپا سرکار کی ناکامی اور کرپشن کا اشو بنائے گی۔دونوں پارٹیوں کے لیڈر مانتے ہیں کہ چناؤ میں اشو دہلی سرکار کی ناکامیاں ہی رہیں گی۔ دہلی حکومت کی آج کی تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرانا اور خواتین کا ریزرویشن 33 فیصدی سے بڑھا کر50 فیصدی کرنے کو بتاتی ہے۔ وہیں کانگریس کے ذریعے فراہم کی گئی سہولیات کو بھی بھنانے کی پارٹی کوشش کرے گی۔ وہیں بھاجپا مسلسل وزیر اعلی پر گھوٹالوں کو لیکر جارحانہ رہی۔ ساتھ ہی قانون و نظم کا اشو بھی بھاجپا ضرور اچھالے گی۔ پچھلے دنوں بھاجپا کے پردیش پردھان وجیندر گپتا کے ذریعے شروع کی گئی جن سمپرک یاترا خاصی خامیاب رہی۔ ان کے نشانے پر دہلی سرکار اور وزیر اعلی شیلادیکشت دونوں ہی رہے۔ اپنی 15 دن کی یاترا میں انہوں نے دہلی سرکار کی ناکامیوں کو پانی پی پی کر کوسا۔ ویسے بھاجپا نیتا بھی مانتے ہیں پارٹی کی چاہے جتنی بھی شیلا دیکشت برائی کرلیں لیکن ایم سی ڈی بٹوارے کی چال پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات بھی ضرور تھوڑا بہت اثر ایم سی ڈی کے چناؤپر ڈالیں گے۔ بھاجپا بہت حوصلہ افزا ہے کانگریس کا حوصلہ تھوڑا کمزور ضرور ہوگا۔ دیکھیں ایم سی ڈی چناؤ پرچار کے دوران کیا کیااشو اٹھتے ہیں؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

28 فروری 2012

کانگریس نے چناؤ مریادا کو تار تار کردیا ہے



Published On 28nd February 2012
انل نریندر
اب کی بار اترپردیش چناؤ میں کچھ کانگریسی لیڈروں نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں نہ تو انہیں چناؤ کمیشن کی فکر ہے اور نہ اس کی مان مریادا کی۔ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کے اس کا پارٹی کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟ اس زمرے میں ایک نام ہے مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال کا۔ ابھی آپ کے اس تنازعے کا طوفان رکا نہیں تھا کہ کانگریس کی صوبے میں سرکار نہیں بنی تو صدر راج لگا دیا جائے گا، کہ انہوں نے ایک اور متنازعہ بیان دے ڈالا۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں لگتا ہے جو زبان مرکزی وزیر بول رہے ہیں یا جو اپنا برتاؤ ظاہر کررہے ہیں کیا وہ کانگریس کی کوئی نئی حکمت عملی تو نہیں ہے؟ اس زبان اور کانگریس کے مرکزی لیڈروں کے برتاؤ میں اس چناؤ کو چناؤ کمیشن بنام کانگریس میں بدل دیا ہے۔ سنیچر کو پھر مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال نے متھرا میں چناؤ ریلی میں کہہ ڈالا کہ راہل اگر چاہیں تو آج آدھی رات کو ہی وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور کوئی انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا ، لیکن وہ نہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں اور نہ وزیر اعلی۔ جیسوال اس سے پہلے وزیر اعلی بننے کی بھی خواہش جتا چکے ہیں۔ چناؤ مہم کے دوران ہی انہوں نے یہ کہہ کر واویلا کھڑا کردیا تھا کہ یوپی میں کانگریس کی سرکار بنتی ہے تو مکھیہ منتری بھلے ہی کوئی بنے لیکن ریمورٹ کنٹرول توراہل گاندھی کے ہی ہاتھ میں ہوگا۔ اپوزیشن نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہارتی ہوئی کانگریس نے جمہوریت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ پہلا چناؤ ہے جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر الگ الگ زبان بول رہے ہیں۔ راہل گاندھی خود لگاتار دو حکومتوں کو غنڈوں اور چوروں کی حکومت بتا چکے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کامن ویلتھ گیمز سے لیکر ٹوجی گھوٹالے میں مرکزی حکومت پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ستیش شکل نے کہا کہ قانون میں غنڈہ چور کی تشریح طے ہے ، اگر اس دائرے میں کوئی نیتا آتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ ایسے میں ان الفاظ کا استعمال پوری سرکار کے لئے کیا جانا سمجھ سے پرے ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اسے چناؤ میں کانگریسی رویئے کو نیا ضابطہ بتا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مانو کانگریس چناؤ کمیشن سے دو دو ہاتھ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈروں کے بیان پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج فطری ہی ہے ۔ سپا کے ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ کانگریس کے نیتا اور وزیر یہاں تک کہ راہل گاندھی جو زبان بول رہے ہیں اس میں پورے چناؤ کی مریادا کو تار تار کردیا ہے۔ اس بار تو لگ رہا ہے کانگریس پارٹی چناؤ کمیشن سے ہی لڑ رہی ہے مرکزی وزیر کیا بول رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں۔ کوئی ایک وزیر اعظم کے رہتے آدھی رات میں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرتا ہے تو کوئی دھمکاتا ہے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا تو صدر راج لگا دیں گے۔ بعد میں یہ سب اپنے بیانوں سے مکر جاتے ہیں۔ بینی پرساد ورما ،سلمان خورشید اور سری پرکاش جیسوال اس طرح کے بیان دے چکے ہیں۔ بسپا چیف مایاوتی نے کہا کہ کانگریس اس چناؤ میں مختلف طرح کی سازشیں رچ کر جنتا کو گمراہ کررہی ہے۔ کانگریس پارٹی اب پوری طرح سے مایوس اور بیزار ہوچکی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان وجے پاٹھک کا کہنا ہے سری پرکاش جیسوال رات میں 12 بجے راہل کو وزیر اعظم بنا کر کیا سندیش دینا چاہتے ہیں؟ جب ایک وزیر اعظم کام کررہا ہے تو اس طرح کی بات کرنے سے اپنی سرکار کی ہی کھلی اڑوا نا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

22 جنوری 2012

کیا اومابھارتی کی اینٹری ہندوتوپولارائزیشن کی کوشش ہے؟



Published On 22th January 2012
انل نریندر
نانا کرتے ہوئے بھی آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی کی فائر بینڈ لیڈر مس اوما بھارتی اترپردیش اسمبلی انتخابات میں کود گئی ہیں۔ اس سے بھاجپا میں ان کے دوبارہ سرگرم ہونے کا عمل بھی پورا ہوگیا ہے۔ یوں تو پارٹی صدر نتن گڈکری نے اوما کو چھ سال کے بنواس کے بعد پچھلی جون میں پارٹی میں شامل کیا تھا لیکن صحیح معنی میں اوما کی سیاست میں دوبارہ اینٹری بندیلکھنڈ کے مہوبہ ضلع کی چرخاری اسمبلی سیٹ پر اپنی نامزدگی داخل کرنے سے ہوئی ہے۔ اوما بھارتی بنیادی طور سے بندیلکھنڈ کی ہی رہنے والی ہیں لیکن ان کاحلقہ مدھیہ پردیش ہی رہا ہے۔ چرخاری حلقہ لودھ فرقے کی اکثریت والا ہے۔مس اوما بھارتی بھی لودھ برادری سے ہیں۔ اوما بھارتی کو بھاجپا میں شامل کرنے کے پیچھے نتن گڈکری کو یہ ہی امید تھی کے وہ کلیان سنگھ کے پارٹی چھوڑنے کے بعد پارٹی کو پھر سے منظم کرکے جتائیں گی۔ اوما بھارتی ہمیشہ تنازعوں کا مرکز رہی ہیں۔ جب وہ پارٹی میں لوٹیں تو بحث شروع ہوگئی کے کیا پارٹی انہیں وزیر اعلی کے عہدے کا چہرہ پروجیکٹ کرے گی؟ 90 کی دہائی جیسا سیاسی جلوہ دکھانے کے چکر میں لگی بھاجپا پسماندہ کارڈ کے بہانے پھر ہندوتو کا ڈنکا بجانے کی تیاری میں ہے۔ مسلم ریزرویشن کی مخالفت اور اوما بھارتی کو آگے کر پسماندہ ووٹ بینک میں سیند کو بھاجپا نے اپنے چناوی ایکشن پلان کا کام شروع کردیا ہے۔ چناوی اشو کی تلاش میں بٹھک رہی بھاجپا کا کام کانگریس نے کچھ حد تک کردیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقہ (او بی سی) کوٹے سے 4.5 فیصد کوٹہ مذہبی بنیاد پر اقلیتوں کو دینے کے فیصلے میں بھاجپا کو چناوی فائدہ نظر آیا اس لئے پارٹی نے لائن آف ایکشن ہی بدل ڈالا۔ کرپشن، بدانتظامی اور مہنگائی ، کالی کمائی جیسے معاملوں کو پیچھے چھوڑ کر مسلم ریزرویشن مخالفت کو ہی بنیادی اشو بنا لیا۔ اتنا ہی نہیں پسماندہ طبقوں کی ہمدردی لینے کی جلد بازی میں این آر ایچ ایم گھوٹالے میں ملزم وزیر بابو سنگھ کشواہا کو گلے لگالیا۔ کشواہا معاملہ بھاجپا کے گلے کی ہڈی بنتا دکھائی دیا تو مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی کو چناؤ میدان میں اتار دیا۔ پسماندہ طبقات کے مفاد کو بچانے کو مسلم مخالف مہم کی پٹری پر لوٹتی بھاجپا نے جمعہ کو پوری ریاست میں اسمبلی حلقے سطح پرستا پریورتن پد یاترائیں نکالنا شروع کردیں۔پسماندہ طبقات کو لبھانے کے لئے سال2000 میں اس وقت کے وزیر اعلی راجناتھ سنگھ نے سماجی انصاف کمیٹی رپورٹ نافذ کرکے انتہائی پسماندہ طبقات کو او بی سی کوٹہ دینے کا داؤ بھی نہیں چل پایا۔ 1996 میں 174 سیٹیں جتانے والی بھاجپا 2002ء میں88 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی تھی۔ کلیان سنگھ کی وجہ سے لودھ ووٹ بینک بھاجپا کے ساتھ طویل عرصے تک جڑا رہا ہے۔
پردیش میں یہ ووٹ بینک 4 سے6 فیصدی مانا جاتا ہے۔ بندیلکھنڈ میں تو اس ووٹ بینک کی حصے داری 9 فیصدی تک مانی جارہی ہے۔ 2007ء میں تو بھاجپا بندیلکھنڈ سے اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی تھی۔ مندر تحریک کے دوران اوما نے بندیلکھنڈ کی دھرتی میں کمل کو کھلانے کے لئے جم کر محنت کی تھی۔اس کے لئے گاؤں گاؤں میں ان کا نیٹ ورک قائم ہے۔ لمبے عرصے تک ، گنگا ابھیان جیسی غیر سیاسی تحریک میں اپنی طاقت لگاتی آئیں اوما ایک بار پھرجارحانہ چناوی انداز میں نظر آ نے لگی ہیں۔ دو دن پہلے تو ان کے نشانے پر کانگریس کے یووراج راہل گاندھی آگئے تھے۔ دراصل بندیلکھنڈ کے چناؤ میدان میں اوما زور شور سے اتریں تو راہل نے ان کو نشانہ بنایا تھا۔ ایک ریلی میں انہوں نے اوما پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہہ ڈالا کہ مدھیہ پردیش سے بھاگ کر آئیں ایک نیتا اچانک آپ کے درمیان مسیحا بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ جب آپ تکلیف میں تھے تب ساتھ دینے کے لئے اکیلے کانگریس ہی آئی تھی۔ راہل کے اس تلخ بیان کا زور دار جواب اپنے فائر بینڈ اسٹائل میں اوما نے یوں دیا: ان کی ماں تو اٹلی سے آئی ہیں پھر بھی یہاں کے لوگوں نے انہیں قبول کرلیا ۔ جبکہ وہ تو پڑوسی ریاست سے ہی آئی ہیں۔ ایسے میں راہل کچھ بولنے سے پہلے سوچ سمجھ لیاکریں تو اچھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اوما بھارتی کے میدان میں کودنے سے کانگریس میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ کانگریس نے اکیلے بندیلکھنڈ میں ہی 19 میں سے10 سیٹیں جیتنے پر امید لگائی ہوئی ہے۔ اوما بھارتی کے آنے سے جہاں کانگریس کا تجزیہ بدل سکتا ہے وہیں آہستہ آہستہ پارٹی پھر ہندوتو پر لوٹ سکتی ہے۔ اوما بھارتی کی کوشش ہوگی ایک بار پھر اترپردیش میں ووٹوں کا دھارمک لائن پر پولارائزیشن ہورجائے۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, State Elections, Uma Bharti, Uttar Pradesh, Vir Arjun

15 جنوری 2012

یوپی چناؤ میں نریندر مودی و نتیش کمار آمنے سامنے


Published On 15th January 2012
انل نریندر
یوپی کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس ، بھاجپا، سپا و بسپا کے اہم کمپینر کون کون ہوں گے۔ لوگوں کی اس کو لیکر دلچسپی بنی ہوئی ہے۔ خاص طور سے اترپردیش میں۔ مشن 2012ء فتح پر دیو بھومی اتراکھنڈ و یوپی میں کانگریس کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ امیدواروں کے نام کے اعلان کے ساتھ پارٹی اب چناؤ مہم کیلئے اشتہار کمپینروں کی فہرست بنانے میں لگ گئی ہے۔ ظاہرہے محترمہ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی خاص کشش کا مرکز ہوں گے۔ مسلم ووٹروں کو رجھانے کیلئے سلمان خورشید دگوجے سنگھ، راشد علوی، رشید مسعود کا استعمال ہوسکتا ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم بھی جائیں گے یا نہیں؟ اس کے علاوہ دہلی ۔
راجستھان کے وزرائے اعلی کا بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھی چناؤ مہم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے راہل کے ساتھ سچن پائلٹ، جوتر ادتیہ سندھیہ، جتن پرساد بھی عوام سے خطاب کرسکتے ہیں۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے پارٹی صدر نتن گڈکری،ایل کے اڈوانی، سشما سوراج،ارون جیٹلی اہم کمپینر ہوسکتے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ یوپی میں ضرور چناؤ پرچار کے لئے آئیں گے۔ نتیش کمار اور نریندر مودی سیاست میں ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ اترپردیش میں دونوں آمنے سامنے ہوں گے۔
بھاجپا کے ذریعے وقاری سیٹیں نہ دئے جانے کے سبب پہلے نتیش نے اترپردیش سے الگ رہنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اب جبکہ ان کی پارٹی (جنتا دل یو) سبھی403 سیٹوں پر تنہا لڑنے کی کوشش کررہی ہے تو چناؤ مہم کے لئے ان کا یوپی آنا طے مانا جارہا ہے۔ ادھر بھاجپا نے نریندر مودی کو اپنے سٹار کمپینر کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔بہار اسمبلی چناؤں میں بھاجپا نے وزیر اعلی نتیش کمار کی شرط کو قبول کرلیا تھا اور چناؤ مہم چلانے کیلئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بہار نہیں آنے دیا تھا۔ مودی کی ساکھ کٹر پسند ہندو لیڈر کی رہی ہے اس وجہ سے نتیش ان سے پرہیز کرتے ہیں۔ نتیش کو اقلیتوں کی بھاری حمایت ملتی رہی ہے اور وہ کسی قیمت پر اس مینڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتے۔
ماضی میں بھی این ڈی اے کے وزراء اعلی کی کانفرنس میں نتیش اور مودی آمنے سامنے ایک اسٹیج پرتھے۔ دونوں لیڈروں کے ساتھ والی تصویر سے سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ بھاجپا کی قومی ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اس تصویر کے چھپنے پر نتیش اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے بھاجپا کی ریلی میں شرکت کرنے سے منع کردیا۔ یہ ہی نہیں نتیش نے گجرات سرکار کے دئے پانچ کروڑ بھی واپس لوٹا دئے جو سیلاب راحت کے لئے مودی نے بھیجے تھے۔ حالانکہ اب بھی بہار میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے۔ ان دونوں سیاستداں حریفوں کے درمیان ایک چناؤ میں آمنے سامنے دیکھیں کیا حالات بنتے ہیں؟ سماجوادی پارٹی کے اسٹار کمپینرملائم سنگھ یادو ان کے بیٹے اکھیلیش یادو اور اعظم خاں اہم ہوں گے۔ بسپا میں تو ایک ہی اسٹار کمپینر ہیں بہن جی۔ مایاوتی اکیلے اپنے ہی دم خم پر پارٹی کو جتانے کی کوشش کریں گی۔ یوپی میں ان بڑی پارٹیوں کے علاوہ درجنوں چھوٹی پارٹیاں بھی چناؤ میدان میں ہیں۔ وہ سب ہی اپنی تال ٹھوکیں گی۔ کل ملا کر دلچسپ ہوگا ان سٹار کمپینروں کے آپس میں بھڑنے کا نظارہ۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, Narender Modi, Nitish Kumar, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

چناؤ کمیشن کی سختی رنگ دکھانے لگی ہے


Published On 15th January 2012
انل نریندر
ووٹروں کو بہلانے کیلئے امیدوار اور سیاسی پارٹی ہر طرح کے ہتھکنڈے اپناتی ہیں۔ چاہے اس میں پیسہ ہو، طاقت ہو، چاہے شراب ہو یا شباب یا پھر نشے کے دیگر وسائل ہی کیوں نہ ہوں۔ چناؤ کمیشن نے اس مرتبہ ان سب پر روک لگانے کی ٹھان لی ہے۔ تبھی تو آئے دن روپیہ پکڑا جارہا ہے اکیلے اترپردیش میں ہی پولیس نے چناؤ کمیشن کی ہدایت پر چلائے گئے آپریشن میں جمعرات کو76 لاکھ روپے برآمد کئے ہیں۔اب تک ریاست میں نقدی برآمدگی کا گراف38کروڑ53 لاکھ53 ہزار 604 روپے ہوگیا ہے۔اے ڈی جی سدیش کمار سنگھ نے لکھنؤ میں بتایا کہ پولیس کی چوکسی نگرانی ٹیم کی کارروائی میں جمعرات کو 76 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔ اس میں لکھنؤ کے تالکٹورہ علاقے میں وین سے12 لاکھ روپے اور ٹھاکر گڑھ علاقے میں ایک اینووا گاڑی سے3 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔
چناؤ کمیشن کو اندیشہ ہے اکیلے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کالی کمائی کی شکل میں قریب 10 ہزار کروڑ روپے کا استعمال ہوسکتا ہے۔اس کے پیش نظر اس کی ہدایت پر ہی محکمہ انکم ٹیکس نے پوری ریاست میں گہرہ تلاشی آپریشن چلا رکھا ہے۔جمعرات کو ہی کمیشن نے ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی خط لکھا۔ اس میں ایسا سسٹم یقینی کرنے کوکہا گیا ہے جس سے بینکوں کا بیجا استعمال نہ ہوسکے۔ اترپردیش میں اب تک جو 38 کروڑ روپے ضبط کئے گئے ہیں اس کا60 فیصدی حصہ غازی آباد اور پنچ شیل نگر(ہاپوڑ) سے ملا ہے۔
غازی آباد کے صاحب آباد میں 9 جنوری کو12.38 کروڑ روپے ضبط کئے گئے جو آئی سی آئی سی آئی بینک سے لائے گئے تھے۔یہ رقم آر بی آئی کے ذریعے مقرر نقدی آمدورفت(بینک کی چھوٹی شاخ کے ذریعے بڑی شاخ میں جمع کرانے کے لئے یا کسی اے ٹی ایم میں ڈالنے کے لئے پیسے لے جانا)سسٹم کے تحت نہیں لیجایا جارہا تھا۔اس کے بعد کمیشن نے آر بی آئی کو خط لکھا اس میں کہا گیا ہے''ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس واقعہ (غازی آباد میں بینک پیسوں کی ضبطگی) کی جانچ کرائیں۔ ساتھ ہی یقینی بنائیں کہ چناؤ عمل میں بینک ناجائز پیسے کے لین دین کا ذریعہ نہ بنیں۔'' ممبئی میں کمیشن کے ڈپٹی گورنر کو یہ خط ملا ہے۔
عموماً پیسہ ، طاقت اور دبنگی کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں لیکن اس بار جو ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں وہ بہت ہی عجیب و غریب ہیں۔ چناؤ کمیشن نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے چناؤ کے دوران جمعرات تک ساڑھے تین لاکھ لیٹر شراب کے ساتھ ساتھ 6 کلو ہیروئن،2.3 لاکھ نشے کے کیپسول و گولیاں ضبط کی ہیں۔ پنجاب سے85 ہزار نشیلے کیپسول و ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔
کمیشن کے افسر نے بتایا گاؤں گاؤں پہنچ رہی ہیں یہ نشے کی گولیاں۔ چناؤ کمیشن کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں نشے کا سامان جتنی مقدار میں ضبط ہوا اتنا پہلے نہیں ہوا۔ پہلے صرف شراب برآمد ہوتی تھی لیکن اس مرتبہ تو ہیروئن، نشے کے کیپسول و گولیاں تک مل رہی ہیں۔ یہ ٹرینڈ یقینی طور سے تشویش کا باعث ہے۔ ایسے میں نشے کا استعمال روکنا چناؤ کمیشن و متعلقہ سرکاری انتظامیہ کے لئے ایک سنگین چنوتی ثابت ہورہا ہے۔ چناؤ کمیشن کی اس سمت میں سختی قابل خیر مقدم ہے۔ اگر انتخابات کو ان لعنتوں سے نجات دلائی جاسکے تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 جنوری 2012

یوپی میں مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟



Published On 10th January 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ اترپردیش میں آزادانہ ، منصفانہ چناؤکرانے کے غرض لکھنؤ اور ریاست کے کئی حصوں میں لگی وزیراعلی مایاوتی اور بہوجن سماج کا چناؤ نشان ہاتھی کے مجسموں پر چناؤ تک پردہ ڈال دیا جائے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فرمان اندرا گاندھی، راجیوگاندھی اور ایسے دیگرسیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے مجسموں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن سے ووٹر متاثر ہوسکتے ہیں۔ چناؤ کمیشن نے کہا کہ چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کی وجہ سے اس حکم کو فوراً نافذ کردیا جائے۔ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کے سبب نوئیڈا کے قومی دلت پریرنا استھل اور لکھنؤ میں 9 مقامات پر مایاوتی اور ہاتھی کے بت متاثر ہوں گے۔ بسپا میں اس کا سخت احتجاج ہونا فطری تھا۔ چناؤ کمیشن کے اس متنازعہ فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہرکرتے ہوئے بسپا کے سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے کہا کہ اگر چناؤ نشان ڈھکنے کی بات ہے تو کیا کمیشن ہر کسی کو اپنے ہاتھ کے پنجے کٹوانے یا ڈھکنے کا حکم دے گا کیونکہ یہ کانگریس کا چناؤ نشان ہے؟ یہ ہی نہیں بھاجپا کا چناؤ نشان کمل کا پھول ہے ،تو کیا کمیشن ہر تالاب سے کمل کے پھول نکلوا لے گا؟ انہوں نے کہا سائیکل سپا کا چناؤ نشان ہے تو کیا چناؤ کمیشن اسے چلانے پر روک لگادے گا۔ مشر کا کہنا ہے کہ مرکز کی حکومت کی قریب 150 اسکیمیں گاندھی ،نہرو پریوار کے نام سے چلتی ہیں تو کیا کمیشن انہیں بھی بند کردے گا؟ یہاں ہم یہ بات قبول کرتے ہیں کہ یہ قدم بھلے ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کو یکساں طور پر عمل کرنے کی بنیاد پر اٹھایاگیا ہے لیکن ہم اس کا وقت اور اس کے جواز پر ضرور اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے تھے کہ چناؤ کمیشن کو اگر ایسا کوئی فیصلہ لینا ہی تھا تو اسے قریب15 مہینے پہلے جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا مایاوتی سرکار پبلک خزانے سے مختلف پارکوں میں ہاتھیوں کی مورتیاں لگوا رہی ہے ، تو کیوں نہیں اسے روکا گیا؟ ایک لمحے کے لئے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ مایاوتی اور ہاتھیوں کی ان مورتیوں کو ڈھک دیا جائے جو سڑکوں اور چوراہوں پر لگائی گئی ہیں لیکن آخر چار دیواری سے گھرے پارکوں میں بنی مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟ پارکوں میں آنے والوں کو ان مورتیوں کے وہاں ہونے کا پتہ ہے اور ڈھکی ہوئی مورتیاں الٹے انہیں زیادہ ہی احساس کرائیں گی۔ اگر چناؤ کمیشن اتنا ہی غیر جانبدار ہے تو اس نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے اعلان سے پہلے مرکزی سرکار کے ذریعے اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کے فیصلے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اتنا ہی نہیں کمیشن نے چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کے بعد دلتوں اور پسماندہ طبقوں کی خالی آسامیوں کو بھرنے کے لئے مرکزی حکومت کے اعلان پر بھی خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اترپردیش کے مختلف اضلاع میں سفید سنگ مرمر کے یہ ہاتھی ''دلت وجے'' کی علامت کی شکل میں کھڑے کئے گئے ہیں۔ اب پردے میں ڈھکے یہ ہی ہاتھی اگر دلتوں کی توہین کی شکل میں ان چناؤ میں پروپگنڈہ کئے جائیں تو مقابلتاً اس کا کیا توڑ نکالیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بیشک بسپا اس کی مخالفت کرے گی لیکن اتنا تو ہے کہ ریاست کی نوکرشاہ برادری کو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ تھوڑی غیر جانبداری برتے اور حکمراں حکومت کے غلام بن کر کام نہ کرے؟ لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ چناؤ میں استعمال ہونے والا کالا دھن۔ پچھلے دو تین دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں روپے برآمد ہوچکے ہیں جن کا استعمال چناؤ میں ہونا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی نے مانا کہ اترپردیش ،پنجاب، گوا میں انتخابات کو کالی کمائی سے مستثنیٰ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خیال رہے کہ جب انا ہزارے انتخابات میں کالی کمائی کے مسئلے پر روشنی ڈالی تھی تو تمام سیاسی پارٹیوں نے انا ہزارے کی جم کر مخالفت کی تھی۔ انا نے بس اتنا کہا تھا کہ ان کے جیسا فقیر چناؤ میں کبھی جیت نہیں سکتا کیونکہ فیصلہ تو دھن اور بل پر ہوتا ہے۔ بیشک چناؤ کمیشن نے اس بار چناؤ میں امیدواروں کے خرچ پر گہری نظر رکھنے کے لئے خصوصی انتظام کئے اور انکم ٹیکس محکمے کو بھی اس میں جھونک دیا لیکن سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ عہدیداران کے خرچ کی حد طے ہے۔ لیکن وہیں سیاسی پارٹیوں پر ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔ ایک اور مسئلے کی طرف ہم الیکشن کمیشن کی توجہ دلانا چاہیں گے وہ پیٹ نیوز کا معاملہ ہے۔ مختلف اخباروں میں ہم سیاسی پارٹیوں کے منعقدہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ بسپا کی مخصوص مہم کئی دنوں سے چل رہی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر عام خبروں کے درمیان ایسا پوشیدہ سندیش ہوتا ہے جو ووٹروں کو متاثر کرتا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے شاید کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Elephant, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

04 نومبر 2011

دارالعلوم دیو بند کی نیک تجویز



Published On 4th November 2011
انل نریندر
 ہم دارالعلوم دیوبند کے تازہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ چناؤ اصلاحات کی سمت میں اسے ایک بڑا قدم مانا جاسکتا ہے۔ ایتوار کو لکھنؤ میں شیعہ عالم اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق نے کہا کہ مسلمان ایماندار امیدواروں کو جتانے کی کوشش کریں۔ اگلے ہی دن دارالعلوم دیوبند اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالتے وقت مسلمان یہ نہ دیکھیں کہ امیدوار کس مذہب یا کس برادری کا ہے انہیں صرف یہ دیکھنا چاہئے کونسا امیدوار علاقے کی ترقی کرسکتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے اس مشہور مرکز کا یہ نظریہ اس لحاظ سے بیحد اہم ہے کہ مسلم ووٹ کے طلبگار لیڈر ہر چناؤ میں اپنی آرزو لیکر فتوے کے لئے دیوبند میں دستک دیتے ہیں۔ دوسرا مسلم ووٹ بینک حاصل کرنے کی خواہش میں مسلم اکثریتی والی سیٹوں پر مسلمانوں کو ٹکٹ دئے جاتے ہیں۔ اگر اس نظریئے روشنی میں دیکھیں تو مسلم امیدواروں کے سامنے خود کو غیروں سے بہتر ثابت کرنے کی چنوتی کھڑی ہوگئی ہے۔ دارالعلوم کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا یہ اہم نہیں کہ امیدوار کس مذہب کا ہے۔ لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ کونسا امیدوار ان کے حلقے میں سب سے زیادہ ترقی دلا سکتا ہے اور کون ان کی سب سے زیادہ خدمت کرسکتا ہے؟ انہوں نے کسی بھی سیاسی پارٹی کا نام لئے بغیریہ بھی جوڑدیا کہ ووٹ دیتے وقت یہ خیال رکھا جائے امیدوار کسی فرقہ پرست پارٹی کا نہ ہو، سیکولر پارٹی کا ہونا چاہئے۔ غور طلب ہے دارالعلوم دیوبند نے پچھلے سال بھی ایک فتوی جاری کیا تھا۔ چناؤ میں مسلمان مذہب کو نہیں ملک کی ترقی کا خیال رکھیں۔ ادھر بریلی میں اعلی حضرت خاندان کے سینئر ممبر اور منتظم مدرسہ جامعہ نوریہ رضویہ کے منانی میاں نے کہا کہ ایم ایل اے، ایم پی چناؤ میں مذہب کے بجائے اہلیت اور کردار پر توجہ دینی چاہئے ۔ اگر مسلم لیڈر یا مذہبی پیشوا یہ بات آر ایس ایس کے ایک منچ پر آکر کہتے ہیں تو یہ خراب بات ہے۔ ظاہر ہے وہ کلب صادق اور سدرشن کی بات چیت کا حوالہ دی رہے تھے جو پچھلے دنوں ان سے ملے تھے۔
مسلم سماج کے بارے میں ایک عام رائے یہ ہے کہ وہ ایک دقیانوسی اکیلاسماج ہے۔اس خیال کو ووٹوں کی یا مذہب کی سیاست کرنے والے خوب بھناتے ہیں۔ چاہے وہ ہندو کٹر پنتھی ہو یا خود ساختہ مسلم لیڈر ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مسلم سماج میں مسلسل تبدیلی اور ذی شعوری آتی جارہی ہے جیسی کسی بھی سماج میں ہونی چاہئے۔ مسلم سماج اپنی حالت سے واقف ہے اور اسے بہتر بنانے کی کوشش میں ہے اسی نظریئے سے دارالعلوم دیوبند کے اس نظریئے کو دیکھا جانا چاہئے جو سیاسی اور مذہب کے بارے میں اس نے پیش کیا ہے۔ دارالعلوم کا یہ نظریہ اس کے نظریات میں سیکولرازم کی جھلک دکھاتا ہے۔ اسی طرح کی باتوں سے ان مسلم لیڈروں کو ضرور پریشانی ہو سکتی ہے جو مذہب اور ووٹ کی سیاست کرتے ہیں۔ ہم دارالعلوم دیوبند اور کلب صادق کے بیانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deoband, Elections, Kalbe Sadiq, Religion, Vir Arjun

26 اکتوبر 2011

پیڈ نیوز پر چناؤ کمیشن کی تاریخی پہل




Published On 26th October 2011
انل نریندر
پیڈ نیوز کے معاملے میں چناؤکمیشن کی پہل کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔ چناؤ کمیشن نے اترپردیش کے وسولی اسمبلی حلقے کی ممبر اسمبلی ارملیش یادو پر تین سال تک کے لئے چناؤ لڑنے پر پابندی لگادی ہے۔ کمیشن نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ پیڈ نیوز معاملے پر الزام ثابت ہونے کے چلتے یادو پر20 اکتوبر2011 سے19 اکتوبر2014 تک چناؤ لڑنے پر پابندی لگادی ہے۔ ایسی صورت میں ارملیش یادو2012 میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں حصہ نہ لے سکیں گی۔ ارملیش یادو2007 کے اسمبلی چناؤ میں قومی پریورتن دل کی جانب سے وسولی اسمبلی حلقے سے امیدوار تھیں۔ اسی سیٹ سے یوگیندر کمار بھی ان کے خلاف چناؤ لڑ رہے تھے۔ انہوں نے یکم جولائی2010 کو چناؤ کمیشن کے اپنی شکایت میں کہا کہ چناؤ سے ٹھیک پہلے 17 اپریل2007 کو ارملیش یادو نے اترپردیش کے دو بڑے ہندی روزناموں میں اپنے حق میں خبریں شائع کرائی تھیں۔ یوگیندر کمار نے یہ ہی شکایت بھارتیہ پریس پریشد میں بھی کی تھی۔ذرائع کے مطابق چناؤ کمیشن نے اس معاملے کی جانچ کی اور دونوں فریقین کی دلیلیں سنیں اور تفتیش کے بعد کمیشن نے پایا کہ ارملیش یادو نے چناؤ سے ٹھیک پہلے اپنے حق میں خبر شائع کروانے کے لئے 21250 روپے خرچ کئے لیکن اس خرچ کو چناوی خرچ میں نہیں دکھایا گیا تھا۔ پیڈ نیوز اور چناؤ خرچ کو ٹھیک سے نہیں دکھانے کے چلتے چناؤ کمیشن نے اترپردیش اسمبلی چناؤ کی منتخبہ ممبر ارملیش یادو کو تین سال کے لئے چناؤ لڑنے کے لئے نا اہل قراردے دیا ہے۔
چناؤ کمیشن کی اس کارروائی کے دوررس نتائج ہوں گے۔ مستقبل میں دونوں سیاستداں اور اخبار چوکس رہیں گے۔ امیدوار کو اپنا پرچار کرنے کا پورا حق ہے لیکن اسے خرچ دکھانا پڑے گا۔ ایسی خبریں شائع کرنے والے اخباروں اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی ایسی خبروں کے آخر میں یہ لکھنا اور دکھانا ہوگا کہ یہ ایک اشتہار ہے وہ بھی پیڈ اشتہار۔ ابھی اور بھی کئی سیاستداں اس معاملے میں پھنس سکتے ہیں۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی اشوک چوہان ، جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا پر بھی پیڈ نیوز کے الزامات ہیں۔ کمیشن سے اشارے مل رہے ہیں کہ ارملیش یادو کے معاملے میں لئے گئے اس سخت فیصلے کے بعد اشوک چوہان اور مدھو کوڑا کا بھی سیاسی کیریئر خطرے میں ہے۔ ان دونوں لیڈروں کو بھی کمیشن کی جانب سے نوٹس دیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے ان امیدواروں کے چناوی حساب کتاب کو کھنگالنے میں جٹ گیا ہے جنہوں نے اپنے چناوی خرچ کا صحیح حساب کتاب نہیں رکھا۔ غور طلب ہے ارملیش یادو نتیش کٹارا کانڈ میں قصوروار وکاس یادو کی ماں ہیں اور ڈی پی یادو کی اہلیہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, Paid News, State Elections, Vir Arjun

20 اکتوبر 2011

حصار سے اٹھی تبدیلی اقتدار کی آندھی کانگریس روک پائے گی؟



Published On 20th October 2011
انل نریندر
حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ کانگریس کے لئے دوررس اثر ڈال سکتے ہیں۔دونوں ٹیم انا اور اپوزیشن پارٹیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ہریانہ کے حصار اور پارلیمانی حلقے سمیت جن پانچ ریاستوں کی اسمبلی سیٹوں کے لئے 13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہوئے تھے ان میں چار کے نتیجے کانگریس کے خلاف گئے۔ یہ ہی نہیں حصار میں کانگریس امیدوار کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی۔ ان میں آندھرا پردیش، مہاراشٹر، بہار ریاستیں شامل تھیں۔ حصار پارلیمانی حلقے کو کانگریس نے اپنے وقار کا اشو بنا لیا تھا۔ انا کی اپیل کو پنکچر کرنے کے لئے کانگریس نے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ اپنے امیدوار جے پرکاش کی ساکھ بتانے کے لئے پارٹی نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اور اغل بغل تین وزرائے اعلی اور ہریانہ کے سبھی وزیر اور دہلی سے اسٹار کمپینر کو حصار بھیجا گیا۔ راجستھان سے اشوک گہلوت، دہلی سے شیلا دیکشت گئیں اور خود ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا بھی وہیں ڈیرا ڈالے رہے۔ ساری انتظامی مشینری کا استعمال اور پلاٹ بانٹے گئے۔ وظیفے تقسیم کئے گئے۔ ہیڈ کوارٹر سے کئی جنرل سکریٹریوں نے حصار میں اپنی حکمت عملی بنائی۔ اسٹار کمپینر راج ببر نے خود ریلیاں کیں ، نتیجہ رہا صفر ۔جے پرکاش اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ کے لئے کانگریس نے مشترکہ امیدوار اتارا۔ سورگیہ رمیش واگلے کی بیوہ شردھا واگلے کو ٹکٹ دیا گیا تاکہ انہیں ہمدردی کی لہر مل سکے لیکن بھاجپا امیدوار بھیم راؤ نے کانگریس اور این سی پی کے مشترکہ امیدوار کو چاروں خانے چت کردیا۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ممبر اسمبلی رمیش واگلے کی موت کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ ان کی بیوی شردھا کو این سی پی کا امیدوار مرکزی وزیر شرد پوار کی خاص ہدایت کے بعد بنایا گیا تھا اور ان کے بھتیجے ریاست کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے شردھا کے حق میں چناؤ مہم کرنے کے لئے دن رات ایک کردی تھی۔ان کے ذریعے کھڑک واسلا سیٹ پر اپنا امیدوار اعلان نہ کئے جانے اور کانگریس این سی پی کے امیدوار کی حمایت کردئے جانے کے بعد یہ سیٹ حکمراں محاذ کے لئے کسوٹی بن گئی تھی۔ شرد پوار اور ان کے بھتیجے اجیت پوار کی اپنے ہی گڑھ میں ہوئی اس مار کا مہاراشٹر کی سیاست پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہیں پہلے سے بھاجپا شیو سینا محاذ میں آر پی آئی کے جڑ جانے سے ریاست کی سیاست میں کھڑک واسلا سیٹ کے نتیجے آنے والے دنوں کی چناوی لہر کا پہلا بڑا اشارہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ انا کی کانگریس ہٹاؤ اپیل سے حصار میں تبدیلی کی جو آندھی اٹھی ہے یہ ویسی ہی ہے جیسی 1974ء میں جبلپور اور 1989ء میں الہ آباد ضمنی چناؤ سے اٹھی تھی۔
حصار کا نتیجہ کرپٹ راج کے خاتمے کی کہیں شروعات تو نہیں ہے ؟ اب تبدیلی کا یہ سلسلہ اگر اترپردیش میں ان چار ریاستوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ جہاں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں تو یہ کانگریس کے لئے بڑی تشویش کا موضوع بن جاتا ہے۔ 1989ء میں تاریخ نے الہ آباد کے چناؤ میں تبدیلی اقتدار کی اپیل وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے بوفورس گھوٹالے کے بعد بھی اپوزیشن وی پی سنگھ کے پیچھے متحد ہوئی تھی۔ ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ اس ضمنی چناؤ سے اٹھی کانگریس مخالف ہوا کو اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی روک نہیں سکے تھے۔ آج تو راجیو جی کے مقابلے ایک بہت کمزور وزیر اعظم ہیں اور رہا سوال گھوٹالوں کا تو پوچھئے مت۔ کانگریس خوش فہمی پال سکتی ہے کہ اہم چناؤ ابھی دور ہیں تب تک گھر سنبھال لیا جائے گا لیکن ساکھ گنوا چکی سرکار کو حصار کا مینڈیڈ چاروں طرف سے گھیرے گا۔ یہ مینڈیڈ اپوزیشن بکھراؤ کو روکے گا۔ حصار 1974ء اور 1989 ء کی طرح اپوزیشن اتحاد کی ایک دھری بن سکتا ہے۔ کانگریس اگر اب بھی نہیں جاگی تو اسے بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Elections, Hissar By Poll, Sheila Dikshit, State Elections, Vir Arjun

02 ستمبر 2011

اگلا ایجنڈا چناؤ اصلاحات کا ہونا چاہئے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 3rd September 2011
انل نریندر
 لوکپال کے اشو پر انا ہزارے نے پہلی لڑائی جیت لی ہے۔ اب ٹیم انا کا اگلا ایجنڈا چناؤ اصلاحات کا ہوگا۔ اس کے اشارے وہ خود دے چکے ہیں۔ رام لیلا میدان میں انا نے کہا تھا کہ دیش کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چناوی عمل میں وسیع اصلاحات کی جائیں۔ ورنہ جو نیتا ایک ایک چناؤ میں 10-10 کروڑ روپے خرچ کرڈالتے ہیں ، ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سیاست میں سادھو سنت بنے رہیں۔ انا نے دو اشو دئے ہیں۔ پہلا ’’رائٹ ٹو رجیکٹ‘‘ دوسرا ہے ’’رائٹ ٹو ری کال‘‘یعنی چناہوا نمائندہ عوام کے حساب سے کام نہ کرے تو اسے بیچ میں ہی واپس بلانے کا حق ووٹروں کے پاس ضروری ہونا چاہئے۔ میں نے بہت عرصے پہلے یہ بات اسی کالم میں سپرد قلم کی تھی۔ جرمنی میں یہ سسٹم نافذ ہے اور موجودہ حکومت اسی کے تحت بنی ہے۔ رائٹ ٹو جیکٹ کا دباؤ سارے ممبران پارلیمنٹ پر ضرور بنے گا۔ ابھی تو یہ ہورہا ہے کہ ایک بار وہ چناؤ جیت کر آجائیں تو انہیں اگلے پانچ سال تک جنتا کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ صرف پارلیمنٹ معطل نہ ہو اور انہیں دوبارہ چناؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے یہ ہی ایک تشویش رہتی ہے۔ جھارکھنڈ سے آزاد ممبر پارلیمنٹ اندر سنگھ نام دھاری نے کہا کہ انا کی دونوں مانگوں میں سب سے پائیدار مانگ ’’رائٹ ٹو رجیکٹ‘‘ ہے۔ اس سے سیاست میں دبنگئی اور کالی کمائی پر روک لگ سکتی ہے۔ دیش میں سب سے زیادہ ووٹر نوجوان ہیں۔آج کا نوجوان طبقہ بیدار ہوچکا ہے اور وہ کہتا ہے سیاست میں جرائم کا بول بالا ختم ہو۔ انا کی اس مانگ سے سیاست میں صاف ستھری ساکھ کے لوگوں کو ہی داخلہ ملے گا۔ نام دھاری نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کیلئے جے پرکاش نارائن کی اپیل دیش میں مقبول ہوچکی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ ٹیڑھی کھیر ہے۔ پنچایتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ عوام کے نمائندوں کو واپس بلانے کی سہولت ہے۔ لیکن ایک بار چناؤ ہونے کے بعد عوام کے نمائندوں کو فی الحال واپس بلانا اس لئے ناممکن ہے کیونکہ قانون میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس کے تحت انہیں واپس بلایا جاسکے۔ کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ ایک عام معاملہ نہیں ہے کیونکہ بڑی تعداد میں ووٹر ووٹ نہیں ڈالتے۔ انہوں نے کہا کہ آج ووٹر بیدار ہوا ہے۔ انا کی تحریک کے بعد حالات بدلے ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کا خیال ہے انا کا ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ یعنی ووٹ کے وقت بھی امیدوار کی ناپسند کا متبادل کی عوامی تحریک زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔ حکومت اگر جھک گئی تو ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سیاست کرنا مشکل ہوجائے گا۔ انا کے ساتھی اروند کیجریوال فرماتے ہیں کہ چناؤ اصلاحات کو لیکر لوگ جلد ہی ایک ایجنڈا جنتا کے سامنے لائیں گے۔ ان کی کوشش رہے گی کے اگلے سال میں دیش کی چناوی تصویر بدل جائے۔ چناؤ اصلاحات کا ایجنڈا جن لوکپال سے بھی زیادہ پائیدار ہے۔ ایک طرح سے یہ تو موجودہ سسٹم میں تبدیلی کا ایک حصہ ہے۔ اس کے لئے پورے دیش میں ایک ساتھ تبدیلی کی مشعل جلانے ہوگی۔ تبھی سیاسی پاٹیوں پر کارگر دباؤ بن پائے گا۔ کیونکہ اس تبدیلی کیلئے کئی آئین ترامیم بھی کرنی پڑ سکتی ہیں۔ ٹیم انا نے امید لگائی ہوئی ہے کہ 26 جنوری سے پہلے لوکپال قانون بن جائے گا۔ کیجریوال کو اب یہ اندیشہ نہیں ہے کے جنتا کے دباؤ کو دیکھنے کے بعد حکومت کے لوگوں میں اس میں کوئی گڑ بڑی کرنے کی ہمت ہوگی۔
یہ مناسب ہی ہے کہ چناؤ اصلاحات کے سلسلے میں انا کے ذریعے اٹھائے گئے اشوز پر بحث ہو۔ یہ بحث تبھی رفتار پکڑنی چاہئے کیونکہ بدعنوانی کی بنیادی وجہ خرچ ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک سچائی ہی ہے کہ لوک سبھا اسمبلی انتخابات میں امیدوار بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتے ہیں اور چنے جانے کے بعد اس سے دوگنا روپیہ کمانے کے چکر میں لگ جاتے ہیں۔ یہ مان کر چلتے ہیں کہ اگر اگلا چناؤ وہ کسی سبب ہار بھی جاتے ہیں تو ان کے پاس اتنا پیسہ ہونا چاہئے کہ ان کا سیاسی بنواس ٹھیک طرح سے کٹ جائے۔ اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ جائز طریقے سے پیسہ کمایا جاتا ہے دراصل اس کے سبب کالی کمائی کے کاروبار پر روک لگانے کے لئے منموہن سرکار کوئی ٹھوس پہل نہیں کررہی ہے۔ چناوی عمل کو کالی کمائی سے آزاد کرنے کے لئے طرح طرح کی تجاویز سامنے آچکی ہیں۔ ان میں سے ایک تجویز یہ ہے چناؤ کا خرچ سرکاری خزانے سے ہو۔ابھی حال میں راہل گاندھی نے بھی یہ تجویز رکھی تھی کہ چناؤ کمیشن اس سے متفق نہیں ہے۔ اسے یہ خطرہ ہے کہ اس سے مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہوجائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر اس تجویز کو اس لئے خطرناک نظریہ مانتے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ امیدوار سرکاری خزانے سے ملے پیسے کے ساتھ ساتھ اپنے پیسے کا بھی استعمال کریں گے۔ سیاسی پارٹیوں کو چناؤ اصلاحات کی مخالفت کرنے کی جگہ موجودہ ماحول کو سمجھتے ہوئے چناؤ اصلاحات کی سمت میں آگے بڑھیں۔ کیونکہ بدعنوانی کی طرح سے عام جنتا اسے بھی طویل عرصے تک اب برداشت کرنے والی نہیں ہے۔ دیش کو سمت دینے والی سیاست نامناسب وسائل پر ٹکی ہو جب سیاست کی ساکھ صاف ستھری نہیں ہوگی تو پھر وہ دیش کا بھلا کیسے کر سکے گی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Elections, Right to Recall, Right to Reject, Vir Arjun

18 مئی 2011

پانچ ریاستوں کے کوارٹر فائنل کے بعد سیمی فائنل یوپی کی باری

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ مرکز میں اقتدار کے کھیل کا ایک طرح سے کوارٹر فائنل میچ تھا ۔ اب باری ہے سیمی فائنل کی۔ یہ سیمی فائنل10 مہینے کے بعد اترپردیش میں ہونے والا ہے۔ اگر بہن جی نے چاہا تو یہ اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہوگی کہ یوپی کے سیمی فائنل میں وہ ٹیمیں خاص طور پر کھیلیں گی جو کوارٹر فائنل میں صرف معاون کے کردارمیں نظر آئیں گی۔ یہ پرانی کہاوت ہے کہ دہلی کی گدی کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یوپی اسمبلی چناؤ اور بھی اہم ہوگئے ہیں۔ کانگریس اور بھاجپا کیلئے نہ صرف صوبے کی سیاست اس پر منحصر کرتی ہے بلکہ مرکزی سیاست میں بھی یوپی کی اپنی اہمیت ہے۔ سب کی آنکھیں محترمہ مایاوتی پرلگی ہوئی ہیں۔ پانچ ریاستوں کے نتائج آئے ۔ یہ عجب اتفاق ہی ہے کہ اسی دن یوپی میں مایاوتی حکومت نے سنیچر کو اپنے چار سال پورے کئے۔ اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اگلے12 مہینے اترپردیش کے لئے سیاسی طور سے بیحد گہما گہمی سے بھرے رہیں گے۔ یوپی میں اے اور بی ٹیم تو بسپا اور سپا کی ہی رہے گی۔ اہم لڑائی بھی ان دونوں میں ہی ہونے والی ہے۔ واضح اکثریت پاکر پہلی مرتبہ پائیدار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی مایاوتی کے لئے یہ سال کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنا گڑھ بچائے رکھنے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گی۔ ادھر ملائم سنگھ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو پانے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دیں گے۔ سپا اپنے دم پر چناؤ لڑے گی۔ پارٹی نے 403 میں سے270 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا بھی اعلان کردیا ہے۔ ملائم نے پورا زور اپنا روایتی یادو اور مسلم ووٹ بینک پر لگایا ہوا ہے۔
مغربی بنگال سے لیکرتاملناڈو تک اقتدار مخالف رجحان بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ہونا چاہئے۔ اگر مغربی بنگال میں نندی گرام اور سنگور میں حکمراں پارٹی لیفٹ کے خلاف ماحول بنایا تو اگرپردیش میں گھوڑی اور بچھڑا اور یہاں پارسول کی کسان تحریک مایاوتی حکومت کے خلاف ماحول بنا رہی ہے۔ حالانکہ یہاں قانون و نظم کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن کچھ بسپا ممبران کے سبب وصولی اور ٹھگی اور لوٹ مار و آبروریزی اور قتل وغیرہ کی وارداتوں نے ماحول کو ضرور آلودہ کیا ہے۔ شکروار کو جب کئی ریاستوں کے چناؤ نتائج آرہے تھے تو مشرقی اترپردیش میں بچھڑائیوں اسمبلی سیٹ کا ابھی نتیجہ آیا ہی تھا اسی سیٹ پر بسپا کہنے کو خود چناؤ نہیں لڑ رہی تھی لیکن ایک شراب تاجر کو پوری حمایت دی ہوئی تھی اور یہ امیدوار بری طرح سے ہار گیا۔ اس چناؤ نے اترپردیش کی سیاست کے لئے دونوں پیغام دئے ہیں۔ حکمراں پارٹی سے اگر اپوزیشن متحد ہوکر لڑی تو بسپا کے لئے مشکلیں کھڑی ہوجائیں گی ، دوسرے فرقہ پرستوں کے لئے بھی اب جیت آسان نہیں ہے۔ اس چناؤ میں پروانچل میں ہندوتو کے سب سے بڑے نیتا یوگی ادیتے ناتھ کی ہار ہوئی ہے، جو اس چناؤ کے لئے ایک وقار کا سوال بنائے ہوئے تھے۔مایاوتی کی سالگرہ کے سلسلے میں چل رہی وصولی کے بعد ایک انجینئر کے قتل سے جو ماحول خراب ہو وہ ایک کے بعد ایک واقعات سے بسپا کے کئی وزراء اور ممبران اسمبلی کو بے نقاب کرگیا۔ اس کی حرکتوں سے مایاوتی کی ساکھ کے وہ ایک سخت ایڈ منسٹریٹر ہیں ، کو بھی دھکا لگا ہے۔ لوگ مایاوتی کے اس نعرے کو یاد دلاتے ہیں غنڈوں کی چھاتی پر پیر لگاؤ اور مہر لگاؤ ہاتھی پر۔ ان سب خامیوں کے باوجود مایاوتی کا آج بھی پلڑا بھاری لگتا ہے۔ ریاست میں انہوں نے کافی کام کیا ہے لیکن آنے والے کچھ مہینے سبھی کے لئے اہمیت کا حامل ہوں گے۔
Read this Article In Hindi: http://anilnarendrablog.blogspot.com/2011/05/5.html

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...