Translater

25 اگست 2018

بکھرتا جارہا ہے کیجریوال کا کنبہ

آندولن کی آنچ سی نکلی عام آدمی پارٹی کا سورج اب آہستہ آہستہ مدھم ہوتا جارہا ہے۔ بیشک شری اروند کیجریوال نے پارٹی تو بنا لی لیکن وہ اسے سنبھال نہیں سکے۔ شاید ہو یہ بھول گئے کہ پارٹی کی بنیاد آئیڈیالوجی ہوتی ہے موقعہ پرستی نہیں۔ جنہوں نے انا ہزاری کی تحریک سے پیدا پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا وہ ساتھی باری باری کیجریوال کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انا آندولن سے پیدا عام آدمی پارٹی کی تشکیل سیاست میں تبدیلی کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ تشکیل کے وقت اس نے 100 ناموں کی فہرست جاری کر انہیں کرپٹ قرار دیا تھا۔ جنتا کو بھی لگا کہ جیسے یہ پارٹی دیش میں انقلاب لائے گی۔ لیکن جب اسی پارٹی نے انقلاب کا آغاز کرنے کے لئے فوجی بھرتی کئے تو اس میں وہ بھی آگئے جنہیں عاپ نے کرپٹ قرار دیا تھا۔ ایسے میں پارٹی کے اندر سنگین حکمت عملی سازوں کی کمی کھلنا فطری ہی ہے۔ حال ہی میں عاپ کے پی اے سی ممبر اور قومی ترجمان آشوتوش اور بدھوار کو دہلی ڈائیلاگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین آشیش کیتھان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ حالانکہ ابھی پارٹی نے ان دونوں کا استعفیٰ منظور نہیں کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے نیتاؤں کی فہرست لمبی ہوتی جارہی ہے۔ پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، پروفیسر آنند کمار و پروفیسر اجت جھا کو کیجریوال نے پارٹی سے نکال کر اندرونی رسہ کشی کو جنم دیا۔ اس کے بعد دہلی میں جس شخص کے محلہ سبھا کنسیپٹ کی نقل پارٹی کرتی رہی ،پارٹی کے پٹ پڑ گنج سے ممبر اسمبلی رہ چکے ونود کمار بنی نے استعفیٰ دے کر کھلبلی مچادی۔ بنی و غازی آباد سے لوک سبھا چناؤ لڑ چکی پی اے سی کی ممبر شازیہ علمی نے بھاجپا میں شامل ہوکر پارٹی کو جھٹکا دے دیا۔پھر وزیر آب سے ہٹائے گئے کپل مشرا نے کیجریوال کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ کیجریوال نے عاپ کو آگے بڑھانے کے لئے کانگریس اور بھاجپا کے سابق لیڈروں کو ٹکٹ دیا۔ سیاسی واقف کاروں کے مطابق اقتدار میں قابض ہوتے ہوئے پارٹی لیڈر شپ سے لیکر نیچے تک سبھی کے نظریات بدلنے لگے۔ پارٹی لیڈر شپ پر راجیہ سبھا چناؤ کے لئے پرانے ساتھیوں پر دھن کبیروں کو ترجیح دینے کے بھی الزام لگے۔ احتجاج میں جس نے بھی آواز اٹھائی یا یاد کرانے کی کوشش کی کہ پارٹی اپنی آئیڈیا لوجی کو بھول گئی ہے اور دھن کبیروں کو ترجیح دے رہی ہے تو انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا یا مجبور کیا گیا وہ خود پارٹی کو چھوڑدیں۔ بھاجپا کے پردیش پردھان منوج تیواری نے آشیش کھتان کے استعفے پر چٹکی لیتے ہوئے کیجریوال کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان نیتاؤں کے استعفے یہ بتاتے ہیں کہ کیجریوال کا برتاؤ تانا شاہی والا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال کا کرشمہ دہلی کے ساتھ ہی اب پارٹی میں بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے مستقبل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سال 2020 تک یعنی اگلا اسمبلی چناؤ آتے آتے یہ پارٹی تاریخ بن جائے گی۔
(انل نریندر)

ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش

کلیان سنگھ ، کیسری ناتھ ترپاٹھی اور ستیہ پال ملک کے بعد اترپردیش سے بھاجپا کے دیگر لیڈروں لال جی ٹنڈن اور بے بی رانی موریہ کو گورنر بنا کر مرکز میں بھاجپا سرکار نے قومی سیاست میں اترپردیش کی سیاسی اہمیت کو قبول کرلیا ہے۔ یہ تقرریاں لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر اترپردیش کی چنوتیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی ہمیں نظر آرہی ہے۔ موریہ کو اتراکھنڈ ، ٹنڈن کو بہار کا گورنر مقرر کرتے ہوئے بہار کے گورنر کو جموں و کشمیر بھیج کر اہم اشارہ دئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ستیہ پال ملک کو بھیجنا بھاجپا نے پہلی بار وہاں پوری طرح سے سیاسی شخصیت کو گورنر بنایا ہے۔ ستیہ پال ملک کی شکل میں جموں و کشمیر کو 51 سال بعد ایسا گورنر ملا ہے جو فوجی یا انتظامی پس منظر کا نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں دیکھیں تو اسے آنے والے دور میں اہم تبدیلیوں کا اشارہ مانا جاسکتا ہے۔ 1965-67 تک ڈاکٹر کرن سنگھ کی میعاد کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی سیاستداں کو جموں و کشمیر کے گورنر کا عہدہ سونپا گیا ہے۔بیشک ایک افسر شاہ پوری حالات کو قانون و سسٹم کے آئینے سے زیادہ دیکھتا ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک اہم ترین پہلو ہے لیکن اس کے ساتھ سیاسی پس منظر میں بھی قدم اٹھانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ اس وقت جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ ہے۔ اس معنی میں جموں و کشمیر کے پورے حالات کا دارومدار مرکزی حکومت پر آجاتا ہے اور بھاجپا لیڈر شپ کو امید ہے کہ ستیہ پال ملک اس کے نمائندے کی شکل میں مرکز کی پالیسیوں پر عمل کریں گے۔ جموں و کشمیر میں پچھلے قریب پانچ دہائی سے افسر شاہوں فوجی پس منظر سے آنے والے افراد کو گورنر مقرر کرنے کی روایت کو توڑ کر مرکز نے ایک صحیح فیصلہ دیحا ہے۔ اس نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اس شورش زدہ ریاست میں ایک سیاستداں کو گورنر بنایا جائے گا۔ستیہ پال ملک کے حق میں دو باتیں کام آئی ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ آر ایس ایس سے جڑے نہیں ہیں لہٰذا بے حد حساس ریاست میں وہ نظریاتی پہلوؤں کو دیکھ کر ہی کام کرسکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ سابق وزیر اعلی و مرحوم وزیر اعلی مفتی سعید کے دوست رہے ہیں۔ ستیہ پال ملک وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹیوں میں عہدیدار بھی رہ چکے ہیں۔ حالانکہ اصلاً وہ بھاجپائی نہیں ہیں جن کی جموں و کشمیر کے بارے میں پارٹی سے الگ آئیڈیا لوجی ہے۔ملک کی تقرری سے اتنا تو صاف لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک غیر بھاجپائی آئیڈیا لوجی سے جموں و کشمیر میں ابھی کوئی بڑی پہل نہیں کرنے جارہے ہیں۔ ملک کے سامنے ریاست میں تشدد پر قابو پانا ، بلدیاتی اداروں کا چناؤ کرانے اور آگے چل کر اسمبلی چناؤ کرانے کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے۔ وہ اس میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں کہنا مشکل ہے۔ مودی نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

24 اگست 2018

کٹہرے میں کھڑی یوپی۔راجستھان کی بھاجپا حکموتیں

عزت مآب سپریم کورٹ نے اترپردیش ،راجستھان کی حکومتوں سے دو مختلف اشوز پر جواب مانگا ہے۔ اس طرح دونوں سرکاریں آج کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ پہلا معاملہ راجستھان میں الور ضلع میں 20 جولائی کو ہوئے مارپیٹ اور قتل کا ہے تو دوسرا اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ سے متعلق 2007 میں گورکھپور دنگوں سے جڑا ہوا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے راجستھان حکومت کے محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری نے کہا ہے کہ وہ مابلنچنگ کے معاملہ میں ہوئی کارروائی کے بارے میں مفصل تفصیل پر مبنی حلف نامہ دائر کریں۔ الور ضلع کے رام گڑھ علاقہ میں 20 جولائی کو گؤ رکشکوں نے اکبر خان کی مبینہ طور پر پٹائی کردی تھی۔ عدالت نے پرنسپل سکریٹری سے کہا ہے کہ وہ آگ بگولہ بھیڑ کے ذریعے کئے گئے قتل کے معاملہ میں کارروائی کے بارے میں تفصیل ایک ہفتے کے اندر حلف نامہ کے ذریعے داخل کریں۔ تشار گاندھی اور کانگریس لیڈر تحسین پونا والا کی جانب سے دائر توہین عدالت عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ عرضی میں الور میں بھیڑ کے ذریعے پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے معاملہ میں راجستھان سرکار کے خلاف توہین عدالت پر کارروائی کی مانگ کی گئی تھی۔ بلوائی بھیڑ کے تشدد اور گؤ رکشکوں سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے قدموں پر ریاستوں سے 7 ستمبر تک تعمیلاتی رپورٹ دینے کو کہا ، ابھی تک مہاراشٹر ،پنجاب اور چنڈی گڑھ نے ہی یہ رپورٹ کورٹ کو سونپی ہے۔ صاف ہے کہ باقی ریاستوں نے عدالت کے حکم کی تعمیل نہیں کی ہے۔ مرکز نے بھی ایڈوائزری تو جاری کی لیکن صاف گائڈلائنس و نئے قانون کے معاملہ میں خاموش ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے ایڈوائزری اور گائڈلائنس کے علاوہ ایسا قانون بنانے کو کہا تھا جس میں اسے الگ جرم کی شکل میں تشریح کی جائے۔ دوسرا معاملہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے متعلق ہے۔ ان کے خلاف 2007 کے دنگوں سے وابستہ ہے۔ معاملہ واپس لینے کے فیصلہ کو چنوتی والی عرضی پر سپریم کورٹ نے ریاستی سرکار سے پیرتک جواب مانگا تھا ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم خانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی ڈویژن بنچ نے نوٹس جاری کیا اور ریاستی سرکار سے چار ہفتے کے اندر جواب مانگا۔ اس وقت ایم پی رہے یوگی آدتیہ ناتھ اور کئی دیگر لوگوں کے ساتھ 27 جنوری 2007 کو گورکھپور کے کوتوالی تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ایف آئی آر میں دو گروپوں کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ آدتیہ ناتھ کے نفرت بھرے بھاشن کے بعد گورکھپور میں اسی دن تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ آدتیہ ناتھ کی تقریر کے بعد ہوئے دنگوں میں 10 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ آدتیہ ناتھ کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 11 دنوں کی پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا گیا تھا۔ 1 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کے حکم کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ مجسٹریٹ کے حکم میں آدتیہ ناتھ کے خلاف چارج شیٹ کو نوٹس میں لیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ مابلنچنگ کے معاملہ میں سنجیدہ ہے اور قصورواروں کو سزا دلانے کی کوشش میں ہے۔ ساتھ ساتھ یہ سبھی بھاجپا ریاستی حکومتوں کے لئے چنوتی بھی ہے کہ وہ مابلنچنگ و بھیڑ کے ذریعے جاری تشدد پر فوری روک لگانے کے موثر قدم اٹھائے۔ یہ اچھا ہے لا اینڈ آرڈر کو قائم رکھنے میں ناکام سرکاروں سے سپریم کورٹ جواب طلب کررہی ہے اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کررہی ہے۔ اس طرح کے بے تکے تشدد قابل برداشت نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

عمران خان کے سامنے متعدد چیلنج

عمران خان کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے کے بعد دنیا بھر کی نظریں ان کی طرف لگی ہوئی ہیں اور یہ دیکھنے کے لئے بے چین ہیں کہ سابق کرکٹر سیاست کی پچ پرکس طرح کا کردار نبھاتے ہیں؟ نے پاکستان کی نئی صبح جب عمران خان اس دیش کے نئے وزیر اعظم عہدہ کا حلف لے رہے تھے پاکستانی عوام بھی ان کو دیکھ رہی تھی۔ آنے والے دنوں کی طرف نئے پاکستان کے حمایتیوں میں بڑا جوش ہے لیکن عمران خان کے درجنوں نکتہ چینی کرنے والے بھی نظریں لگائے بیٹھے ہیں پاکستان کو بدلنے کا نعرہ دینے والے اب دیش میں کسے تبدیلی لے کر آتے ہیں۔ چناؤ مہم کے درمیان الزام تراشیاں ایک دوسرے پر خوب کی جاتی ہیں اور اس تلخی کی ایک دلیل تو ہمیشہ یہی دی جارہی ہے کہ جلسے کا ماحول اور ہوتا ہے سرکار کے ایوانوں کا ماحول اور ہوتا ہے۔ پاکستان جس طرح دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اس وجہ سے پوری دنیا کی زیادہ دلچسپی اس کی پالیسیوں میں رہتی ہے۔ چناؤ میں سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آنے کے بعد عمران خان نے اپنی لمبی تقریروں میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عزم تک ظاہر نہیں کیا تھااس وجہ سے بھی دلچسپی بنی ہوئی ہے۔ آخر دہشت گردی کے معاملہ میں ان کی حکومت کا موقف کیا ہوتا ہے؟ سابقہ حکومتیں وزیرستان سمیت سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی چلا رہی تھیں۔ بہت سے دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکادیا گیا ہے۔ عمران اسے جاری رکھتے ہیں یا نہیں یا بند کرتے ہیں یہ دیکھنا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی سفارتی ذمہ داری کی تعمیل کرتے ہوئے نئے وزیر اعظم عمران خان کو خیر سگالی پر مبنی خط کیا لکھا دونوں دیشوں کے سیاسی حلقوں میں طوفان آگیا۔ مودی کے خط کا مضمون اتنا بھر تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعمیرانا اور پائیدار بات چیت کے لئے عہد بند ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ دسمبر 2015 میں دونوں ملکوں کے درمیان لٹکی پڑی بامقصد بات چیت کو پھر سے بحال کیا جائے جو جنوری 2016 میں پٹھانکوٹ ایئر بیس پر آتنکی حملہ کے بعد سے ملتوی ہے۔ لیکن پاکستان کے نئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مودی کے اس خط کی تشریح ایسے کی کہ مانوں انہوں نے عمران خان کو بات چیت کے لئے دعوت دی ہو۔ یہ کہنا مشکل ہے انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا یا ان کی سفارتی ناسمجھی تھی لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے اس سفارتی داؤ سے بھارت کی اپوزیشن پارٹی کانگریس کو مودی سرکار کی پاکستان پالیسی کو گھیرنے کا موقعہ مل گیا حالانکہ بی جے پی نے نوجوت سنگھ سدھو معاملہ سے حساب کتاب برابر کرلیا ہے۔ بدلے ہوئے ماحول کی ایک جھلک پوری دنیا 20 جولائی کو دیکھ چکی ہے جب ایک تقریرعمران خان نے اپنی جیت کا اعلان کیا تھا۔ وہیں سفید کرتا شلوار، گلے میں وہی پاکستان تحریک انصاف کے رنگوں کا مفلر اور وہی کمرہ، اگر کچھ بدلا ہوا تھا تو عمران خان کے الفاظ اور ان کا لہجہ۔ تقریر سے تقریباً سبھی پاکستانی طبقات میں انہیں اچھی نظر سے دیکھا گیا۔ ان کے حمایتی اور اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ اس دن وہ عمران نظر آئے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ اب تو سب کی نظر پاکستان تحریک انصاف کے پہلے 100 دنوں کی میعاد کے پلان پر ہے جس میں پی ٹی آئی نے پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کو بدلنے اور انجمن کو مضبوط کرنے اور سماجی خدمات اور حکمرانی کو بہتر بنانے، ذراعت سیکٹر میں خامیوں کو دور کرنا، بلوچستان میں سکیورٹی نظام کو بہتر بنانا، ساؤتھ پنجاب کو الگ ریاست بنانے اور عام آدمی کی زندگی بہتر کرنے سمیت ایسے وعدے کئے ہیں جو پورے ہوں گے تو پاکستان جنت نہ صحیح جنت جیسا تو بن ہی سکتا ہے۔ عمران خان کو وزیر اعظم بننے پر ہم انہیں مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی قیاد ت میں دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہوں گے اور ایک نیا باب لکھیں گے۔
(انل نریندر)

22 اگست 2018

لوٹ کر آؤں گا، کُوچ سے کیوں ڈروں؟۔۔۔(1)

پورے شمالی ہندوستان میں 27 سال بعد اگر کسی راج نیتا کی انتم یاترا میں سڑکوں پر بھیڑ انتم شردھانجلی دینے کے لئے اتری تو وہ اٹل جی کے لئے تھی۔1991 میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے بے رحمانہ قتل کے وقت ایسا عوامی سیلاب دیکھا گیا تھا۔ ویسے ساؤتھ انڈیا میں اس طرح کا منظر عام ہے لیکن شمالی بھارت میں ایسا صدیوں کے بعد دیکھنے کو ملا ہے۔ دہلی کے لوگوں نے 27 سال بعد کسی سیاستداں کی انتم یاترا میں ایسا عوامی سیلاب دیکھا ہوگا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کے بعد جو گاندھی جی کی انتم یاترا میں پیدل چلے تھے ، وزیر اعظم نریندر مودی نے آخری وداعی دی۔ جمعہ کو اٹل جی کی انتم یاترا میں ایسا عوامی سیلاب آیا کہ اسے دیکھ کر جے للتا، کروناندھی کی انتم یاترا میں اکھٹی ہوئی بھیڑ کے منظر یاد آگئے۔ گرمی کے باوجود لوگوں کی بھیڑ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بھیڑ کا سلسلہ ہری داور میں بھی دیکھنے کو ملا۔ ہزاروں لوگوں کی بھیڑ سے بھری ہرکی پوڑی اس لمحہ کا گواہ بنی جب اٹل جی کی استھیوں کو گنگا کی تیز دھاراؤں میں وسرجت کیا گیا۔ ہم دہلی پولیس ، دہلی ٹریفک پولیس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں انہوں نے عام لوگوں سے لیکر انتہائی اہم شخصیات کی پورے راستے اتنی اچھی حفاظت دستیاب کرائی۔ جب دیش کے وزیر اعظم ، اہم ترین مرکزی وزیر ، وزرائے اعلی سڑکوں پر اترے تو ان کی حفاظت کرنا ایک چیلنج تھا جس میں دہلی پولیس اول نمبر سے پاس ہوگئی۔اٹل جی کی انتم سنسکار کی جگہ کے بالکل قریب بڑے بڑے الفاظوں میں ہورڈنگ پر لکھا تھا : ہر چنوتی سے دو ہاتھ میں نے کئے ، آندھیوں میں میں نے جلائے دئے۔ انتم بدائی دینے پہنچے بھاجپا نیتا اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا ،عام آدمی ہر کوئی اٹل جی کی زندگی کی داستان کو اپنے طریقے سے لکھنا چاہتا تھا۔ ہر شخص کے پاس تھی اٹل جی کی اپنی کہانی۔ بھاجپا کو اقتدار سے صفر سے چوٹی تک پہنچانے والے اٹل بہاری واجپئی نے پارٹی نیتاؤں کی ایک پوری پیڑھی تیار کی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھاجپا مرکز کے ساتھ ساتھ 20 سے زائد ریاستوں میں برسر اقتدار ہے۔ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہر موقعہ پر اور ہر اپنی تقریروں میں نریندر مودی کبھی اٹل بہاری واجپئی کو یاد کرنا نہیں بھولتے۔ دراصل دونوں لیڈروں کا پرانا تعلق بھی رہا ہے۔ وہ اٹل بہاری واجپئی ہی تھے جن کے فیصلہ سے نریندر مودی اقتدار کی چوٹی تک کا راستہ طے کرپانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ گجرات میں 1995 کے چناؤ میں بھاجپا نے مکمل اکثریت سے حکومت بنائی۔ شنکر سنگھ واگھیلا اور نریندر مودی کو درکنارکر کیشو بھائی پٹیل کو وزیر اعلی بنایا گیا۔ اس کے بعد نریندر مودی کو پارٹی کا کام کاج دیکھنے کے لئے دہلی بلا لیا گیا۔ اکتوبر 2001 میں اٹل بہاری واجپئی نے مودی سے کہا کہ وہ دہلی چھوڑ دیں ،اس لئے کہ اٹل انہیں گجرات کا وزیر اعلی بنانا چاہتے تھے۔ اس دن واجپئی سے ملاقات کرنے کے بعد نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی بننے کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد 2002،2007 اور 2012 میں وہ اس عہدہ پر فائض رہے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے عہد کے دوران وہ گجرات دنگوں کو لیکر اٹل جی کافی پریشان تھے۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی ہوا کرتے تھے۔ 27 فروری 2002 کی صبح ریاست میں گودھرا ریلوے اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس میں آگ زنی ہوئی تھی جس میں ٹرین کے ڈبے ایس 6- میں سوار 59 کارسیوکوں کی موت ہوگئی۔ یہ کارسیوک ایودھیا سے آرہے تھے۔آگ زنی کے اس واقعہ کے بعد گجرات کے مختلف حصوں میں دنگے بھڑک گئے جس میں اقلیتی فرقے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دنگوں کی خوفناک منظر سے دیش اور بیرونی ملک کی توجہ کھینچی۔ واجپئی 4 اپریل کو احمد آباد کے دورہ پر گئے۔ وہاں وہ شاہ عالم روزہ اقلیتی کیمپ میں بھی گئے اور متاثرین سے ملاقات کی تھی اور حکام کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی امتیاز کے ہر شہری کی حفاظت کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے اور پاگل پن کو انسانیت کو کچلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ واجپئی کے کے جذبات نے اس کیمپ میں رہ رہے قریب آٹھ ہزار پناہ گزینوں کا دل جیت لیا اور اپنی تکلیفوں کے باوجود انہوں نے واجپئی کے احساسات کی تعریف کی۔ واجپئی نے کہا گودھرا میں جو کچھ ہوا وہ شرمناک ہے، گودھرا کے بعد جو ہوا وہ بھی کم قابل مذمت نہیں ہے۔ پاگل پن کا جواب پاگل پن سے نہیں دیا جاسکتا۔ آگ سے آگ نہیں بجھائی جاسکتی اور آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لئے پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ظاہر ہے واجپئی گجرات کے حالات کو لیکر کافی بے چین تھے۔ دہلی لوٹنے سے پہلے انہوں نے ہوائی اڈہ پر اخبار نویسوں سے خطاب کیا تھا۔ ایک صحافی نے ان سے مرکز کی مدد اور حالات وغیرہ سے متعلق سوال پوچھ لئے تھے۔ اس سلسلہ میں ان سے جو آخری سوال پوچھا گیا تھا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا اور انہوں نے اس کا جو جواب دیا وہ آج بھی ہر سرکار کے لئے نصیحت کی طرح ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم جی اس دورہ پر چیف منسٹر کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے، کیا میسج ہے؟ واجپئی: چیف منسٹر کے لئے میرا ایک ہی پیغام ہے کہ وہ راج دھرم کا پالن کریں۔۔۔ راج دھرم ۔۔۔ یہ لفظ کافی پائیدار ہے۔۔۔ میں اسی پر عمل کررہا ہوں اور تعمیل کرانے کی کوشش کررہا ہوں۔ راجہ کے لئے حکمرانی کے لئے پرجا میں کوئی امتیاز نہیں ہوسکتا۔۔۔ پیدائش کی بنیاد پر نہ ذات پات کی بنیاد پر نہ فرقہ واریت کی بنیاد پر ۔ بیچ میں نریندر مودی بولے ہم بھی وہی کررہے ہیں صاحب ۔ واجپئی :مجھے یقین ہے کہ نریندر بھائی وہ ہی کررہے ہیں۔ بہت بہت شکریہ ۔ (جاری)
(انل نریندر)

پانی میں تیرتی لاشیں، پھنسے لوگوں کی جان بچانے کی چنوتی

پانی کی خوبصورت لینیں دیکھنا ریاست کیرل کی خاصیت رہی ہے۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ یہاں پانی کی ان لینوں کا آنند لینے جاتے ہیں لیکن پانی اتنا خوفناک بھی ہوسکتا ہے یہ پچھلے کچھ دنوں سے پتہ چلا ہے۔ کیرل1924 کے بعد پہلی بار ایسے خوفناک سیلاب کا سامنا کررہا ہے جس کا کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ بیسویں صدی کے خوفناک بحران کا سامنا کررہی ریاست میں 8 اگست سے ابھی تک سینکڑوں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ پانی میں تیر رہی لاشیں روز مل رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے کیرل کے 11 ضلعوں میں بھاری بارش کے اندیشہ کے چلتے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ ریاست کے 12 ضلعوں میں 3 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہیں 1568 راحت کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کیرل میں سیلاب کی تباہ کاری کا جائزہ لینے کے بعد کیرل کو فوری طور پر 500 کروڑ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم 12 اگست کو وزارت داخلہ کے ذریعے 100 کروڑ روپے سے الگ ہے۔ سیلاب کی وجہ سے ہوئے جان و مال کے نقصان پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جانا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ کیرل کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ابتدائی اندازہ کے مطابق ریاست کو سیلاب کی وجہ سے 19512 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ متاثرہ علاوں کے بعد سیلاب کا پانی گھٹنے کے بعد اصلی نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ریاست کے سبھی اضلاع ریڈالرٹ پر ہیں اور یہ بھی پہلی بار جب کسی قدرتی آفت کی وجہ سے اس بار اونم جیسا دنیا کے مشہور تہوار کیرل نہیں منا سکے گا۔ ایک ایسا تہوار جس میں ملک و بیرون ملک سے سیاح آتے ہیں اور یہ ریاست کے لئے سب سے بڑاسیاحتی کمائی کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ تشویش کی بات ہے کہ ریاست کے 35 باندھوں کے پھاٹک کھولنے کے باوجود سبھی باندھوں پر پانی کی سطح خطرہ کے نشان سے اوپر بنی ہوئی ہے اور بارش اور تیز ہواؤں کے چلتے خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یہ سیلاب وارننگ کے ساتھ کئی نئے سبق بھی دے رہا ہے۔ کیرل کی مثال بتا رہا ہوں کہ دیش کو اب ماحولیات پر صرف بحث تک محدود نہ رہ کر صحیح اندازوں میں ماحولیات کا بیلنس بنانے کے طریقے بلا تاخیر اپنانے ہوں گے۔ گلوبل وارمنگ کا اثر پوری دنیا میں ہورہا ہے۔ یہاں تو تھوڑی زیادہ بارش ہوجاتی ہے تو سڑکوں پر پانی بھرنے لگتا ہے آمدورفت مشکل ہوجاتی ہے۔ مشکل امتحان کے دور میں کیرل کو ہر طرح سے مدد اور دعاؤں کی بھی ضرورت ہے۔ آج کیرل دیش سے کچھ معنوں میں کٹ گیا ہے۔ پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لئے ہیلی کاپٹروں، کشتیوں کی سخت ضرورت ہے۔ کیرل کی اس قدرتی مار سے سارا دیش متحد ہے اور سبھی کو اپنے اپنے طریقوں سے مدد کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

21 اگست 2018

پاک فوج چیف کو گلے لگا کر برے پھنسے سدھو

ٹونگ دھارایل او سی پر سنیچر کی صبح ایک طرف پاکستانی فوج ہندوستانی فوجیوں پر گولیاں برسا رہی تھی وہیں تقریباً اسی دوران پنجاب حکومت کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو عمران خان کی حلف برداری میں پاک فوج کے چیف قمر جاوید باجوا سے گلے مل کر ان کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔ سدھو کی ہر طرف کرکری ہورہی ہے۔ حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے پاک صدر کی رہائش گاہ پہنچے سدھو کو دیکھ کرباجوا ان کے پاس آئے اور گلے لگا کر خیر مقدم کیا۔اس کے بعد باجوا نے دوبارہ سدھو کو گلے لگا کر پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے الوداعی لی۔ سدھو کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دیہانت پر قومی سوگ اعلان ہونے کے باوجود پاکستان جانے پر پہلے ہی ان کی تنقید ہورہی تھی نارتھ کشمیر کے ٹونگ دھارمیں سنیچر کی صبح11 بجے پاکستانی فوج نے ہندوستانی چوکی پر جم کر گولہ باری کی۔ حالانکہ ہندوستانی فوج نے بھی اسے منہ توڑ جواب دیا۔ بھاجپا ترجمان سمبت پاترا نے اس تقریب میں سدھو کے پاکستان مقبوضہ کشمیر کے صدر مسعود خان اور پاک فوج کے چیف باجوا سے گلے ملنے کی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کیا سدھو نے اپنے پارٹی صدر راہل گاندھی سے اس کی اجازت لی تھی؟ کرکٹر سے وزیر اعظم کے عہدہ تک پہنچے عمران خان کی حلف برداری میں سدھو کے ساتھ کپل دیواور سنیل گواسکر کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن صرف سدھو ہی گئے کیونکہ سندھو اس وقت پنجاب حکومت میں وزیر بھی ہیں۔ ایسے میں ان کے مسعود خان اور جنرل باجو سے گلے ملنے پر اعتراض جتایا جارہا ہے۔ پاترا کا کہنا تھا کہ جنرل باجو ا کو گلے لگاتے وقت کیا سدھو کو یہ یاد نہیں رہا کہ کیسے پاکستانی فوج بے وجہ گولہ باری کر ہندوستانی جوانوں اور بے قصور لوگوں کی جان لیتی ہے؟ حلف برداری تقریب میں جب سدھو کو مقبوضہ کشمیر کے صدر کے بغل میں بیٹھنے کے لئے سیٹ دی گئی تو انہوں نے اس کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اٹل جی کے دیہانت سے جہاں پورا دیش قومی سوگ میں ہے وہیں سدھو عمران خان کی حلف برداری میں جشن منا رہے تھے، کیا یہ شرمناک نہیں ہے؟ باجوا سے گلے ملنے پر نوجوت سنگھ سدھو نے صفائی دی ہے کہ میں بطور سیاستداں نہیں دوست کی حیثیت سے پاکستان آیا ہوں۔ جنرل صاحب نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ وہ امن چاہتے ہیں۔ خان صاحب (عمران) نے کہا کہ آپ امن کے لئے ایک قدم چلو تو میں دو قدم چلوں گا۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی کا کہنا تھا اگر سدھو مجھ سے پوچھتے تو میں پاکستان جانے سے اسی وقت منع کردیتا۔ دوستی دیش سے بڑی نہیں ہے۔ سرحد پار ہمارے جوان مارے جارہے ہیں ایسے میں سدھو کا پاکستانی فوج کے سربراہ سے گلے ملنا غلط ہے۔ حکومت کو بھی انہیں پاکستان جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔ پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان نے حلف برداری کے بعد سنیچر کو اپنی 20 نفری کیبنٹ کا اعلان کردیا جس میں تین عورتیں بھی شامل ہیں۔اسلام آباد کی ماہر تعلیم ڈاکٹر شری مظاہری بھی ہیں جنہوں نے کارگل ختم ہونے کے تین مہینے بعد اکتوبر1999 میں ایک مضمون میں پاکستان سرکار کو بھارت پر نیوکلیائی حملہ کرنے کی صلاح دی تھی۔ انہیں خارجہ یا ڈیفنس وزارت دئے جانے کی خبر تھی لیکن انہیں انسانی حقوق وزارت دی گئی ہے۔ پاکستان کے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مظاہری عمران خان کی پارٹی کی خارجہ پالیسی کی انچارج بھی رہی ہیں۔کولمبیا یونیورسٹی سے خارجہ پالیسی ، فوجی اسٹڈی پر بھی پی ایچ ڈی کرچکی ہیں۔ مظاہری ’دی نیشن‘ اخبار کی مدیر بھی رہ چکی ہیں۔ ایک امریکی صحافی کو سی آئی اے جاسوس بتانے کے لئے انہیں تنقید کا شکار ہونا پڑا تھا۔ خیر سدھو جی نے ایک تنازع کھڑا کردیا ، ایک ایسا تنازع جو ان کے گلے ملنے سے پیدا ہوا ہے۔ ان کے اس تنازع سے ان کی پارٹی کانگریس کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ جبکہ مجھے لگتا ہے کہ اس کا کانگریس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سدھو کا پاکستان جانا ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ رہی بات گلے ملنے کی تو اس سے بچا جاسکتا تھا۔ پی او کے کے صدر کے ساتھ والی سیٹ پر جان بوجھ کر انہیں بٹھایا گیا تاکہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا میں جنرل کو گلے لگانے کی مخالفت کرتا ہوں۔ روز ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں ایسے وقت پر وہ پاکستانی فوج کے چیف کو گلے لگاتے ہیں یہ غلط ہے۔
(انل نریندر)

امریکی میں 343 اخباروں نے ٹرمپ کے خلاف ایک ساتھ لکھا اداریہ

پچھلے کچھ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی پرنٹ میڈیا سے خاص کر ٹھنی ہوئی ہے۔ صدر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ امریکی اخبار دیش دشمن ہیں۔ پچھلی جمعرات کو پرنٹ میڈیا نے ٹرمپ کو سخت جواب دیتے ہوئے 343 اخباروں نے ان کے خلاف ایک ساتھ اداریہ لکھے ہیں۔ صدر ٹرمپ اکثر میڈیا کے خلاف جارحانہ رہتے ہیں اور میڈیا کے لئے فیک میڈیا لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ٹرمپ نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے میڈیا کو جنتا کا دشمن تک کہہ دیا تھا۔ ٹرمپ کے بیانوں کا ہی اثر تھا کہ ایک حالیہ سروے میں امریکہ کے 51 فیصد لوگوں نے میڈیا کو جنتا کا دشمن کہہ دیا تھا۔ اس پر امریکہ کے میڈیا نے اعتراض جتایا تھا اور صدر کے نفرت بھرے بیانات کے خلاف ایک ساتھ اداریہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ پوری کمپین کی شروعات انگریزی اخبار ’گلوب ‘ نے کی ۔شروع میں 100 اخباروں ان کے ساتھ آئے اور اداریہ لکھنے کے لئے 16 اگست کی تاریخ طے کی گئی لیکن 16 اگست کی تاریخ آتے آتے اس مہم میں 343 اخبار جڑ گئے۔ یہ اخباروں نے مل کر یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کی پوری 50 ریاستوں کو کور کرتے ہیں۔ نیویارک ٹائمس نے اپنے اداریہ میں ایک بار بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا نام تک نہیں لیا۔ ان کے لئے یا تو مسٹر پریسڈنٹ لکھا گیا یا وہ کہہ کر مخاطب کیا۔ اخبار نے لکھا ہے وائٹ ہاؤس کی اہمیت اس سے کم تو کبھی نہیں ہوئی وہ (ٹرمپ) جمہوریت کی رگوں میں بہنے والے خون کے لئے بھی خطرناک ہے۔ دی گارجین اخبار نے لکھا ہم امریکہ کی جنتا کے دشمن نہیں ہیں، ہم تو ان کی بہتری چاہتے ہیں لیکن خود کی بہتری چاہنے کے لئے امریکیوں کو اب آواز اٹھانی ہوگی۔ ہماری جو بات ٹرمپ کو جنگ لگتی ہے ہمارے لئے وہ روز مرہ کا کام ہے۔ نیویارک پوسٹ نے لکھا کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ متفق ہیں یا نہیں؟ ہم نا اتفاقی ظاہر کرنے والے کون ہیں؟ ہمارے پاس نا اتفاقی کا حق ہی نہیں بچا ہے۔ دیش میں غیر متفق ہونے والے یا سچ کہنے والے ہر شخص کو جھوٹا ثابت کیا جارہا ہے۔ ہمیں کسی کا ووٹ نہیں چاہئے، ہم کیوں جھوٹ بولیں گے؟ دراصل ٹرمپ نے کچھ اخباروں کو ’فیک نیوز‘ بتایا تھا اس کے بعد کچھ صحافیوں سے بدسلوکی کے واقعات بھی ہوئے جس سے میڈیا میں یہ تصور قائم ہوا کہ صحافیوں سے غلط برتاؤ کرنے والوں کوٹرمپ کی شے مل رہی ہے۔ بہرحال امریکہ یا کسی دوسرے دیش میں انتظامیہ اور میڈیا میں یہ بے اعتمادی جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں۔ امریکہ نے فری پول اور فری فریڈم کا اظہارساری دنیا سے زیادہ ہے۔وہاں پریس کی جو حیثیت ہے اب بھی کئی ملکوں میں میڈیا کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ پریس کی ٹرمپ کو کچھ چیزوں سے ناراضگی ہوسکتی ہے لیکن پریس کی آزادی کی کسی طرح کی حق تلفی ہو اس سے دونوں کو نقصان ہوگا۔ امید کی جانی چاہئے صدر اور میڈیا کے درمیان جو بھی غلط فہمی ہے وہ جلد دور ہوجائے گی اور رشتوں میں جو کڑواہٹ آئی ہے وہ ختم ہوگی۔
(انل نریندر)

19 اگست 2018

سب سے اونچے اس جنگی خطہ میں ہر قدم پر موت کا خطرہ ہے

دنیا کے سب سے خطرناک جنگی سیاچن گلیشئر میں تعینات جوانوں کے لئے اسپیشل کپڑے، سلیپنگ کٹ اور دیگر اہم سازو سامان کی ضرورت پڑتی ہے۔ 16 ہزار سے 20 ہزار فٹ کی اونچائی پراس جنگی خطہ میں جوانوں کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوسکتا۔ 100-100 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آتے برفیلے طوفان کے سبب جہاں تک نگاہ جائے وہاں برف ہی برف نظر آتی ہے۔ اس سب سے اونچے جنگی خطہ کے ہر قدم پر موت کا خطرہ منڈراتا رہتا ہے۔ مشرق میں چین کی سرحد لگتی ہے تو مغرب میں پاکستان کی سرحد ہے۔ آئے دن برفیلے تودے گرنے اور میٹل وائٹ اور فراٹ وائٹ اور زیادہ اونچائی پر ہونے والی بیماریوں کے ساتھ سانس اکھڑنے اور ہڈیاں گلا دینے والی برفباری کے درمیان یہاں کے جوان دیش کی خاطر ڈیوٹی دیتے ہیں۔ تیز برفیلے طوفان کے سبب جوان برف میں دب جاتے ہیں ان کو بچانے کے لئے کتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ دو سال پہلے ایسے ہی ایک طوفان میں سونم چوکی پر تعینات لانس نائک ہنومن تھاپا کو لیبراڈور نسل کے ڈاگ نے زندہ تلاش کرلیا تھا۔ حالانکہ دہلی میں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی تھی۔ ساڑھے تین دہائی پہلے پاکستان کی دراندازی کا جواب دینے کے لئے لانچ کردہ آپریشن میگھ دوت کے بعد 70 سے75 کلو میٹر میں پھیلا یہ پیچیدہ علاقہ جنگ کے میدان میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بھارت کے ان دونوں حریف ملکوں (پاکستان اور چین) کی اہم ترین سی پیک یعنی کمرشل گلیارہ اس کے اوپر سے ہی گزرتا ہے اور ہمارے لئے دوہری چنوتی سے کم نہیں ہے۔ یہاں رہنا اتنا مشکل ہے کہ تین سے چار سال تک سیاچن میں تعیناتی کے دوران جوان نہاتے تک نہیں ہے وہ صرف ٹاول بھگو کر پوچھ لیتے ہیں یعنی اپنے جسم کو صاف کرتے ہیں۔ اس کے بعد جوان پورے دن نگرانی کرتے رہتے ہیں تاکہ انہیں کوئی بیماری نہ ہو۔ ہاتھ میں ڈبل دستانے پہننا ضروری ہوتا ہے تاکہ چمڑی رائفل ٹریگر کو نہ چھوئے۔ رات میں ٹینٹ میں سوتے وقت ہر گھنٹے میں سنتری سبھی جوانوں کو جگاتا ہے تاکہ کم آکسیجن کے سبب سوتے ہوئے کوئی جوان مر نہ جائے۔ آرمی میڈیکل کور کے ڈاکٹر دیو دوت سے کم نہیں ہیں۔ ہر دو سے تین پوسٹ کے درمیان ڈاکٹر کی ٹیم ہے۔ جوان کو نیند نہ آنے، سانس لینے میں تکلیف ہونے، یاد داشت کھونے یا چکر آنے وغیرہ جیسی کئی بیماریاں ہوتی ہیں۔ روزانہ 300 سے 400 جوانوں کا میڈیکل ہوتا ہے۔ وہاں 15 سے20 بیمار ہوکر آتے ہیں۔ سیاچن کے جنگی خطہ میں چوکیوں پرتعیناتی سے پہلے جوانوں کو تین ہفتہ کی سخت ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے جس میں انہیں ممکنہ بیماریوں اور ان سے بچنے کے قدم بتائے جاتے ہیں۔ جوان جب پیٹرولنگ پر جاتے ہیں تو ایک دوسرے کو ایک رسی سے باندھ لیتے ہیں تاکہ کوئی برف کے نیچے گرے تو فوراً اسے باہر نکال لیا جائے۔ ہیلی کاپٹر یہاں کی لائف لائن ہے۔ ایسی ناگزیں حالات میں ہمارے جوان دیش کی حفاظت کررہے ہیں۔ ان بہادر جوانوں پر پورے دیش کو ناز ہے۔ ان کو ہم سلام کرتے ہیں۔ جے ہند۔
(انل نریندر)

کیا تینوں ریاستوں میں کانگریس جیت رہی ہے

اس سال ہونے والے راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ میں ڈھے جائے گا بی جے پی کا قلعہ۔ کانگریس کو تینوں ریاستوں میں واضح اکثریت ملے گی۔ یہ میرا کہنا نہیں ہے یہ وہ چینل ہیں جس سے ابھی کچھ دن پہلے مبینہ طور سے مرکزی سرکار کئی سینئر صحافیوں کو نکلوا چکی ہے۔یہ کہنا ہے اے بی پی چینل سی ووٹر کا۔ اس چینل کے مالک اتنے خوفزدہ تھے اور کیا یہ بتانے کے لئے یہ سروے کروا کر انہوں نے بھاجپا لیڈر شپ کو بتانا چاہا ہے کہ وہ دباؤ میں کام نہیں کریں گے؟ یعنی میڈیا سے بھاجپا لیڈر شپ کا ڈر بھگانے کیلئے تو نہیں کیا گیا ہے؟ خیر اس سروے کے مطابق تینوں ریاستوں میں چوٹی پر بیٹھی بھاجپا اینٹی کمبینسی کی زبردست لہر سے دوچار ہورہی ہے۔ ان ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج 2019 کے سیاسی مہا بھارت کے لئے بڑا سندیش بھی ہیں۔ اسے 2019 کا سیمی فائنل کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس اوپینین پول کے مطابق تینوں ریاستوں میں کانگریس کی اکثریت کی سرکار بننے کے امکانات ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کل 231 سیٹیں ہیں۔ اے بی پی نیوز سی ووٹر کے مطابق بھاجپا کو 106 سیٹیں ملیں گی وہیں کانگریس کو 117 سیٹیں مل سکتی ہیں دیگر پارٹی کو7 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس کو کل 90 سیٹوں میں سے 54 اور بھاجپا کو 33 سیٹیں ملنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ وہیں راجستھان میں کل 200 سیٹوں میں سے کانگریس کو130 ، بھاجپا کو 57 سیٹیں ملنے کی امید بتائی گئی ہے دیگر کو 13 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ بھاجپا حکمراں ان تینوں ریاستوں میں ہی ان کا سیدھا مقابلہ کانگریس سے ہے۔ ویسے سی ووٹر کے اس سروے پر بھروسہ پر بھی کم سوال نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ سی ووٹر وہی کمپنی ہے جس نے پچھلے اسمبلی چناؤ میں اپنے سروے میں دہلی میں بھاجپا ، پنجاب میں عام آدمی پارٹی ، تاملناڈو میں ڈی ایم کے، کرناٹک میں بھاجپا کو مکمل اکثریت سے سرکار بننے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ میں اسی سال نومبر ۔دسمبر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ ان تینوں ریاستوں میں بھاجپا کی سرکار ہے۔ جہاں بھاجپا لیڈر شپ نے تینوں ریاستوں میں چناؤ کمپین شروع کردی ہے وہیں وہ اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ یہاں کانٹے کی لڑائی ہے۔ بھاری سرکار مخالف لہر موجود ہے اور کئی ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کٹنے کا امکان ہے۔ اس سروے سے یہ فائدہ ضرور ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کے لئے یہ ایک بیداری کال ہے۔ ظاہر ہے اس سے کانگریس خوش ہوگی۔ راہل گاندھی کو لگے گا ان کی محنت، تپسیا رنگ لا رہی ہے لیکن آخر میں پھر سے یہ سوال اٹھتا ہے جب چناؤ نشان امیدواروں کے سلیکشن وغیرہ کا کام ابھی تک نہیں ہوا تو سی ووٹر نے ایسی پیشگوئی کس بنیاد پر کر ڈالی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...