Translater

01 اگست 2015

یعقوب دیش دروہی تھا ، اسے موت کی سزاہی ملنی تھی

یعقوب میمن کی پھانسی کے حق اور مخالفت میں ظاہر کی جارہیں دلیلوں نے دیش کے غیر جانبدار سماج کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کیا دہشت گردی اور قوم دشمنی بھی اب گندی سیاست کے کھیل کے ہتھکنڈوں میں شامل ہوجائیں گے؟ پھانسی کی مخالفت کرنے والے اگر اس بنا پر مخالفت کرتے ہیں کہ دیش سے سزائے موت ختم ہوجانی چاہئے تو اس پر بحث ہوسکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر بحث ہوکہ جرائم پیشہ کسی مذہب خاص سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اسے نشانہ بنایا جارہا ہے ، سراسر غلط ہے۔ یعقوب میمن ایک دہشت گرد تھا ۔1993 کے بم دھماکوں میں کیا اس کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر دھماکے کئے تھے کہ مرنے والوں کا مذہب کیا ہے؟ یعقوب میمن کو قانونی نقطہ نظر سے جتنے موقعے دئے گئے اتنے شاید کسی دیش دروہی کو نہیں دئے گئے۔ سپریم کورٹ آدھی رات کو بھی بیٹھی تاکہ کوئی بعد میں یہ نہ کہہ سکے کہ سزا پائے گئے شخص کو انصاف نہیں ملا۔ سپریم کورٹ نے 21 مارچ 2013 کو اس معاملے میں اپنا 792 صفحات پر مبنی فیصلہ سنایا تھا۔ ان 792 صفحات کے فیصلے میں اکیلے یعقوب میمن اور اس کی اس بم دھماکوں میں سانجھے داری پر تقریباً300 صفحات تھے۔ بصد احترام عدالت نے یہاں تک کہا یعقوب میمن ماسٹر مائنڈ ہے۔ یہ سازش میں پوری طرح شامل ہے۔ ہندوستان میں پہلی بار استعمال آر ڈی ایکس کو اس نے چھپایا ہے۔اسے حوالہ کے ذریعے ٹائیگر میمن، داؤد ابراہیم و آئی ایس آئی نے پیسے بھیجے۔ اس نے 15 آدمیوں کو بم رکھنے کیلئے اکٹھا کرکے انہیں دوبئی ٹریننگ کیلئے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو اس نے پرانی گاڑیاں خریدیں اور ان میں بم رکھوائے اور ان کو ممبئی کے کون کون سے مقامات پر رکھنا ہے یہ طے کیا۔ جو15 آدمی دوبئی گئے تھے ان کے پاسپورٹ ،ویزا کا یعقوب نے ہی انتظام کیا تھا۔ اس پر تو بحث ہوسکتی ہے کہ دیش میں سزائے موت ختم ہونی چاہئے یا نہیں لیکن یعقوب میمن بے قصور تھا یہ کوئی نہیں مانتا۔ جو 40 خود ساختہ دانشور اور دکھاوٹی سیکولرسٹ یعقوب کو تاعمر قید کی وکالت کررہے تھے وہ بھی یہ مانتے تھے کہ یعقوب قصوروار ہے لیکن اسے سزا زیادہ دی جارہی ہے اور اس کے گناہوں کے لئے اسے سزائے موت نہیں عمر قید ہونی چاہئے ، وہ بھی یہ تو مانتے ہیں کہ یعقوب میمن قصوروار تھا اور اس نے غلطی کی تھی۔ یہ بھی دلیل دی جارہی تھی کہ یعقوب کو بھارت کی خفیہ ایجنسی را ایک معاہدے کے تحت دہلی لیکر آئی تھی۔ سورگیہ رمن کے آرٹیکل کا حوالہ دیا جارہا ہے انہوں نے اس میں بتایا کہ میمن نے سرنڈر کیاتھا اور اسے اس یقین دہانی پر لایا گیا تھا کہ سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق یعقوب میمن پاکستان میں رہنے سے تنگ آچکا تھا اس لئے وہ کاٹھمنڈو اپنے وکیل سے ملنے آیا تھا یہ امکان تلاشنے اور وکیل سے غور کرنے کے لئے کیا وہ بھارت واپس آسکتا ہے اور بھارت سرکار سے کسی طرح کا سمجھوتہ ہوسکتا ہے؟ اس کے وکیل نے اسے ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ آپ پاکستان میں ہی محفوظ ہیں۔ بھارت ابھی نہیں آسکتے۔ یعقوب میمن واپس کراچی جارہا تھا کہ نیپال پولیس نے اسے گرفتار کرلیا اور بعد میں بھارت کو سونپ دیا۔ یعقوب میمن نے کوئی سرنڈر نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی طرح کی بھارت سرکار نے اس سے کوئی ڈیل کی تھی۔ یہ دلیل غلط ہے کہ اسے دھوکہ دیاگیا۔
سورگیہ رمن تو ویسے بھی ضرورت سے زیادہ سیکولر افسر تھے ان کی کینسر سے موت ہوگئی تھی۔ یعقوب میمن ، میمن خاندان میں سب سے پڑھا لکھا تھا وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا ۔ یعقوب جب پڑھائی کر پریوار کا معیار زندگی اوپر اٹھانے کی کوشش کررہا تھا تب بڑا بھائی ابراہیم میمن عرف ٹائیگر میمن مافیہ سرغنہ داؤد ابراہیم کے گروہ سے تار جوڑ رہا تھا۔ ممبئی بم دھماکوں سے پہلے ہی میمن خاندان دوبئی بھاگ گیا تھا۔ وہاں سے پاکستان منتقل ہوگیا۔ یعقوب کو پاکستان پسند نہیں آیا اور وہ18 مہینے بعد بھارت آناچاہتا تھا۔5 اگست 1994 ء کو دہلی ریلوے اسٹیشن سے سی بی آئی نے اسے گرفتار کرلیا۔ اگر بھارت سرکار سے کوئی سمجھوتہ ہوتا تو اسے سرکاری گواہ بنا لیا جاتا اور پھر پچھلے 20 سالوں میں داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن اور آئی ایس آئی نے ایک بھی قدم کیوں نہیں اٹھایا یعقوب کے حق میں ؟ 12 مارچ1993 ء کو ممبئی دھماکوں کی سازش بھلے ہی ٹائیگر میمن۔ داؤد ابراہیم و آئی ایس آئی نے رچی تھی لیکن اس کا اہم کردار یعقوب میمن ہی تھا۔ اسی نے دھماکے میں شامل دیگر لوگوں کو گولہ بارود، ہتھیار، ڈیٹونیٹر وغیرہ سپلائی کئے تھے اور لوگوں سے دھماکے لئے21.90 لاکھ روپے اکٹھے کئے ۔ کون کہاں بم رکھے گا اس کا پورا منصوبہ یعقوب میمن نے ہی بنایا تھا اور سب طے کرنے کے بعد خاندان کے ساتھ کراچی فرار ہوگیا۔ ہم ان نام نہاد سیکولرسٹوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر اس طرح کی وارادت سعودی عرب یا کسی دوسرے عرب ملک میں ہوتی تو آج سے22 سال پہلے ہی اس کا سر قلم کردیا جاتا۔یہ تو ہمارے دیش کا قانون لچیلا ہے اور اس لئے بھارت آتنک کی پنا ہ گاہ بنتا جارہا ہے۔ انسان کی پہچان اس کے کرموں سے ہوتی ہے نہ کہ مذہب سے۔ کلام بن کر رہو گے تو ملک سر آنکھوں پر بٹھائے گا۔ یعقوب بننے کی کوشش کرو گے تو دیش دروہی کہہ لاؤ گے۔ کلام بن کر رہو گے تو دیش سلام کرے گا۔
(انل نریندر)

31 جولائی 2015

گورداس پور آتنکی حملے کے یہ گمنام ہیروز

پنجاب کے گورداس پور میں حملہ کرنے والے دہشت گرد پاکستان سے راوی ندی کے ذریعے ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کے ارادے تو بہت خطرناک تھے جو پورے نہیں ہوسکے۔ جہاں ہمارے پنجاب پولیس کے جانبازوں نے ان دہشت گردوں کو مار گرایا وہیں کئی اور ہیرو بھی ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر بے قصوروں کو بچایا۔ ایسا ایک شخص نانک چند آتنکی حملے کے خوفناک منظرکبھی نہ بھولے گا۔ نانک چند نے 80 بس مسافروں کو اپنی جان داؤ پر لگاکر بچا لیا ہے۔نانک چند پنجاب روڈ ویز کی بس نمبر PV06G9569 چلاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ بنیال سے اپنی بس لیکرصبح نکلا تھا۔ بس جیسے ہی دینا نگر پولیس تھانے کے آگے پہنچی تو تھانے کی طرف سے سیدھی ایک گولی بس کے اندر آکر لگی۔ اس گولی سے پانچ مسافر زخمی ہوگئے۔اسی درمیان دوسرے دہشت گرد نے بس روکنے کیلئے ہاتھ دیا۔ تبھی انہیں آتنکی حملے کا احساس ہوا اور انہوں نے بس کو بھگالیا۔ پانچ سواریوں کو گولی لگنے سے بس کے اندر چیخ پکار و دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا۔ زخمی سواریوں کے پیش نظر ڈرائیور نانک چند سیدھے سول ہسپتال پہنچے۔ تب تک ہسپتال میں آتنکی حملے کی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ وہاں پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے فوراً علاج شروع کردیا۔ نانک چند اگر بس روک لیتا تو غدر مچ جاتا ۔ ہم نانک چند کی بہادری اور سوجھ بوجھ کر سلام کرتے ہیں۔لگتا ہے دہشت گردوں کے نشانے پر جموں توی بھٹنڈہ ایکسپریس ٹرین تھی۔ یہ ٹرین جموں سے رات9.30 بجے چل تک دینا نگر کے اس پل سے گزرتی ہے جہاں دہشت گردوں نے بموں کا جال بچھایا ہوا تھا۔ صبح قریب 4 بجے ٹرین کو اس پل سے گزرنا تھا لیکن ریل منڈل فیروز پور نے ایک ہفتے پہلے لائن میں کچھ تکنیکی خرابی کے چلتے اس کا روٹ بدل کر براستہ مکینیا۔ جالندھر کردیا تھا۔ کی ۔ مین(Key-man )کی سوجھ بوجھ کے سبب پیر کو پٹھان کوٹ ۔امرتسر ریلوے اسٹیشن پر بڑا حادثہ ٹل گیا۔گینگ نمبر 13AP (امرتسر ۔پٹھان کوٹ) ہیڈ کوارٹر دینا نگر میں تعینات کی۔مین اشونی کمار نے بتایا کہ صبح قریب ساڑھے چار بجے وہ ٹریک کی چیکنگ کررہے تھے کہ کلو میٹر 85 پر پہنچے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ پل پر کچھ لگا ہوا ہے۔ اس پر وہ فوراً کلو میٹر 84/5-6 پر واقع برج نمبر236 کے پاس پہنچے۔ وہاں پل پر تارسے لپٹے چار پانچ سیل نماآلات لگے تھے۔ اس پر اسے شبہ ہوا کہ یہ تو بم ہیں۔ اس دوران پٹھان کوٹ سے امرتسر پیسنجر(ٹرین نمبر54612 ) پرمانند اسٹیشن سے نکل چکی ہے اور دو تین منٹ میں پل پر پہنچنے والی تھی۔ اس پر اس نے فوراً اپنے تھیلے سے لال کپڑا نکال کر ٹریک کے بیچ میں لگادیا۔لال کپڑا دیکھ پل سے قریب 60 میٹر پیچھے ڈرائیور نے ٹرین روک لی۔ ٹرین رکنے کی اطلاع دینا نگر ریلوے اسٹیشن ماسٹر کو ملی تو انہوں نے کنٹرول روم کو بتایا۔ اس پر جی آر پی، آر پی ایف و ضلع پولیس کے افسران و جوان موقع پر پہنچے۔ ریل حکام نے بتایا کہ آج اگر کی۔ مین اشونی کمار نے سوجھ بوجھ کا مظاہرہ نہ کیاہوتا تو یقیناًریل گاڑی اڑ جاتی اور کئی لوگوں کی جان چلی جاتی۔ اشونی کی تعریف کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ انہیں خصوصی اعزاز دلایا جائے گا۔ دینا نگر میں آتنکی حملے کو انجام دینے والے ملزم پاکستان سے آئے تھے۔اس کے لئے دہشت گردوں نے یوپی ایس سسٹم کا استعمال کیا تھا۔ ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کے لئے دہشت گردوں نے شنکر گڑھ۔ بنیال کا راستہ چنا۔ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ڈی جی پی سمید سنگھ سینی نے کہا کہ دہشت گردوں کے جی پی ایس کی پہلی لوکیشن راوی ندی کے کنارے بنیال کی ملی ہے۔ ڈی جی پی دیر شام دینا نگر تھانے کا دورہ کرنے آئے تھے۔ پاکستان میں سیالکوٹ سے کچھ ہی دوری پر واقع گاؤں شنکر گڑھ ہندوستانی سرحد سے لگا ہوا ہے۔ یہ گاؤں دینا نگر سے صرف 20 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دہشت گردوں کے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی اس لئے اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دہشت گرد ہندوستانی سرحد میں داخل ہوکر پیدل ہی دینا نگر ریلوے پٹری سے گاؤں تلونڈی پہنچے جہاں انہوں نے پل پر بم لگائے۔ اس کے بعد ایک کلو میٹر پیدل چل کر شہری علاقے میں آئے۔ خفیہ ایجنسی کے ایک افسر کا خیال ہے کہ اس گاڑی کو نشانہ بنانے کا مقصد سیدھے طور پر فوج کے جوانوں اور افسروں کو نشانہ بنانا تھا کیونکہ اس گاڑی میں جموں کشمیرمیں ڈیوٹی کرنے والے تمام فوج کے جوانوں سے لیکر اعلی افسر سفر کرتے ہیں۔ پلان تو ان آتنکیوں کا ریل کو اڑانے کے بعد واپس پاکستان بھاگ جانے کا تھا لیکن ان کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ دینا نگر پولیس تھانے میں گھس گئے جہاں ان کا کام تمام ہوگیا۔ جہاں ہم ایس پی بلجیت سنگھ کی بہادری کی داد دیتے ہیں وہیں ہم پنجاب روڈ ویز کے بس ڈرائیور نانک چند اور کی مین اشونی کمار کو بھی سلام کرتے ہیں۔ یہ ہیں گورداس پور آتنکی حملے کے ان سنگ ( گمنام)ہیرو۔
(انل نریندر)

30 جولائی 2015

پیسہ ہونہ ہو ، علاج پہلے:مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایتوار کو دیش میں سڑک حادثوں کے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ آکاش وانی پر نشر ’’من کی بات‘‘ پروگرام میں انہوں نے کہا کہ سرکار جلد ہی سڑک ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی بل ، قومی شاہراہ سرکشا پالیسی، نیشنل ہائی وے پروجیکٹس وسڑک حادثوں کے متاثرین کے علاج کیلئے چنندہ شہروں و ریاستی شاہراہوں پر کیش لیس (بے پیسے) علاج کا سسٹم لاگو کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دو دن پہلے دہلی کے ایک حادثے کے منظر پر میری نظر پڑی اور حادثے کے بعد وہ اسکوٹر ڈرائیور 10 منٹ تک تڑپتا رہا ، اسے کوئی مدد نہیں ملی۔ وزیر اعظم کی تشویش فطری ہے۔اصلیت یہ ہے کہ ہمارے دیش میں قدرتی آفات کے چلتے اتنی اموات نہیں ہوتیں، جتنی سڑک حادثات میں ہوتی ہیں اور اکثر دیکھا گیا ہے سڑک پر پڑے زخمی شخص کی کوئی مدد کرنے نہیں آتا۔ اگر کوئی ہمت کرکے زخمی آدمی کو کسی ہسپتال لے جاتا ہے تو پہلے اس کی پولیس رپورٹ لکھی جاتی ہے اور پھر وہ اگر کسی پرائیویٹ ہسپتال جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے پیسہ جمع کرنے کو کہا جاتا ہے۔ دیش میں سڑک حادثات پر تشویش ظاہرکرتے ہوئے مودی نے شہروں اور قومی شاہراہوں پر زخمیوں کے لئے کیش لیس (بے پیسے) علاج کی سہولت مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس کا مقصد ہوگا کہ پیسہ ہے یا نہیں، پیسہ کون دے گا، یہ سب فکر چھوڑ سڑک حادثے میں زخمی شخص کو عمدہ سے عمدہ ہیلتھ سروس دلانے کی ترجیح دی جائے۔ آکاشوانی پر اپنی 15 منٹ کی تقریر میں مودی نے کہا غیر نقدی علاج کی شروعات گوڑگاؤں، جے پور، ودودرا سے لیکر ممبئی ، رانچی، رن گاؤں مینڈیا شاہراہوں کیلئے ہوگی۔ دیش میں سڑک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد بہت ہی خوفناک طریقے سے بڑھتی جارہی ہے۔ جیسے جیسے سڑکوں کی حالت سدھر رہی ہے اور گاڑیاں بڑھ رہی ہیں ویسے ویسے شاہراہوں پر حادثات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ بھارت میں ہر برس قریب سوا لاکھ لوگ سڑک حادثوں کا شکار بنتے ہیں۔2014ء کے اعدادو شمار بتا رہے ہیں کہ اس ایک بس میں1 لاکھ40 ہزار لوگ سڑک حادثوں میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ محض ایک برس میں ساڑھے چار لاکھ سڑک حادثے اور ان میں 4 لاکھ 80 ہزار لوگوں کے زخمی ہونے اور قریب ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے جان گنوانے کی تعداد حیرت میں ڈالنے والی ہے۔ وزیر اعظم کے ان اعلانات سے سڑکوں پر منڈرانے والے خطرے کم ہونے، ایمرجنسی مدد کے انتظام کی امید ضرور جاگی ہے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ڈرائیور یا گاڑیوں میں سوار لوگ سنگین طور پر زخمی ہوجاتے ہیں ۔ راہ چلتے لوگ انہیں ہسپتال پہنچانے کی پہل اس لئے نہیں کرتے کہ وہاں علاج کرنے سے پہلے پیسہ جمع کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ ہسپتال کسی غیر متعارف شخص کا علاج کرنے سے کتراتے ہیں یہ سوچ کر کہ علاج کا خرچ کون اٹھائے گا؟ اس طرح وقت پر علاج نہ مل پانے کے سبب بہت سارے لوگ دم توڑجاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ حادثات کے بعد زخمی شخص کو 50 گھنٹے تک ہوئے علاج کا خرچ سرکار برداشت کرے گی۔ ہم وزیر اعظم کی اس پہل کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ریاستی حکومتیں بھی اسی طرح کے موثر قدم اٹھائیں گی۔ ہمارے دیش میں ہر منٹ میں ایک سڑک حادثہ ہوتا ہے۔ حادثے کے سبب ہر چار منٹ میں ایک موت ہوتی ہے اور سب سے بڑی تشویش کا موضوع یہ بھی ہے کہ قریب ایک تہائی مرنے والوں میں 15 سے25 سال کی عمر کے نوجوان ہوتے ہیں اور ایک موت پورے خاندان کو ہلا دیتی ہے۔
(انل نریندر)

رابرٹ واڈرا اشو پر بھاجپا۔ کانگریس میں تلخی بڑھے گی

آپسی ٹکراؤ سے ٹھپ لوک سبھا میں کانگریس کے مشتعل برتاؤ کو دیکھتے ہوئے بھاجپا نے کانگریس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رگ دیا ہے۔ جمعرات کو حکمراں فریق کو جوابی حملے کے لئے سونیا گاندھی کے داماد اور پرینکا کے شوہر رابرٹ واڈرا کا اشو اچھال دیا۔ پہلے لوک سبھا اور پھر سلسلہ وار ایک کے بعدایک کئی ریاستوں میں اپنی زمین کھو چکی کانگریس اور اس کے نائب صدر راہل گاندھی اس کی تلاش میں جارحانہ کوششوں پر حکمراں فریق نے اس پر ایسی جگہ حملہ بولا جو اس کو بیک فٹ پر لانے میں فائدے مند رہا۔ چار دن سے پارلیمنٹ کی کارروائی روکنے والی کانگریس کی طرف سے جب ’’بغیر استعفے کے بحث نہیں‘ کا نعرہ دیا گیا تو جواب میں کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلی کے مبینہ کرپشن کے پٹارے کھلنے لگے۔پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھاجپا ممبران پارلیمنٹ نے واڈرا کی کارگزاریوں کا پلے کارڈ دکھا کر سونیا ۔ راہل گاندھی کے خاندان کو گھیرا۔ پچھلے کئی دنوں سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ ہریانہ سرکار و راجستھان حکومت نے رابرٹ واڈرا کے ذریعے مبینہ طور پر زمین گھوٹالوں کی جانچ تیز کردی ہے۔ان خبروں سے پریشان رابرٹ واڈرا نے مرکزی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی سرکار تقسیم کرنے کے سیاسی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ رابرٹ واڈرا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا:پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی دشمن کو سیاسی اختلافات بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔جب بھاجپاسرکار تقسیم کاری سیاست کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوگیا ہے اور ان کے مفاد ی تقسیم کرنے والے سیاسی ہتھکنڈے بھی۔ ہندوستان کی عوام بیوقوف نہیں ہے اور خود ساختہ لیڈروں کو بھارت کی لیڈر شپ کرتے ہوئے دیکھ کر دکھ ہورہا ہے۔ رابرٹ واڈرا نے اپنے متنازعہ زمین سودے پر بحث کی کوشش کو بیان کے ذریعے بھٹکانے کی سطحی کوشش بتایا۔ انہوں نے کہا جب اپوزیشن ویاپم گھوٹالے پر بحث کرانا چاہتی ہے تب سرکار زمین سودے کی آڑ لینے کی کوشش کررہی ہے۔ بھاجپا ایم پی ارجن رام میگھوال نے واڈرا کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس دے دیا ہے اور شور شرابے میں ہی انہوں نے کہا واڈرا نے پارلیمنٹ اور ممبران پارلیمنٹ کی توہین کی ہے، ایک دوسرے ممبر پرہلاد جوشی نے تھوڑا اور تلخ تبصرہ کرتے ہوئے ساس۔ دامادتک کی بات کہہ ڈالی اور مطالبہ کیا کہ یہ مخصوص اختیاراتی کمیٹی کو بھیجا جائے تاکہ واڈرا پر کارروائی ہوسکے۔ واڈرا کے اشو نے سونیا گاندھی کو بھڑکا دیا۔ ساس۔ داماد جیسے لفظ سنتے ہی وہ اپنی سیٹ سے کھڑی ہو گئیں۔ پاس بیٹھے کانگریس لیڈر کھڑگے نے اٹھ کر ویل میں جاکر احتجاج جتایا۔
واڈرا کے خلاف مخصوص اختیار خلاف ورزی کا ریزولوشن واڈرا کے ساتھ ساتھ گاندھی خاندان کے لئے ایک تیزابی ٹیسٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کی مخصوص اختیاراتی کمیٹی کے ممبر کے بھاجپا ممبران نے گاندھی خاندان کے داماد کو بلانے کی امید میں ان سے تلخ سوال جواب کرنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ کمیٹی میں15 ممبر ہیں جس میں7 بھاجپا ،2 ان کے این ڈی اے ساتھیوں میں سے ہیں۔ کمیٹی میں محض ایک کانگریس کے ممبر جوتر آدتیہ سندھیا ہیں۔ حکمراں پارٹی کے ایم پی دعوی کرتے ہیں ان پر اس بات کو لیکر دباؤ ہے کہ واڈرا کو سزا دیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کمیٹی یقینی طور پر واڈرا کو بلائے گی اور ان کے فیس بک پوسٹ کے بارے میں گہری پوچھ تاچھ کرے گی۔ اسے مخصوص اختیاراتی کمیٹی میں واڈرا کو اگر بلایا گیا تو یقینی طور سے بھاجپا۔ کانگریس کی فیس آف سیاست بڑھے گی۔
(انل نریندر)

29 جولائی 2015

آتنکی حملے سے پھر دہلا پنجاب

پیر 27 جولائی 2015 ہمیشہ یاد رہے گا کیونکہ پیر کو دیش کو دوہرا دھکا لگا ہے۔ صبح صبح خبر آئی پاکستان نواز دہشت گردوں نے پنجاب کے گورداس پور کے دینا نگر میں بھاری حملہ کردیا ہے اور شام ہوتے ہوتے خبر آئی ہندوستان کے میزائل مین، سابق صدر ڈاکٹر اے ۔ پی ۔ جے عبدالکلام اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ بات کرتے ہیں گورداس پور آتنکی حملے کی۔ فوج کی وردی پہنے زبردست ہتھیاروں سے مسلح تین دہشت گردوں نے پیر کو ایک چلتی بس اور ایک پولیس تھانے پر تابڑ توڑ گولیاں برسائیں جس میں ایک پولیس ایس پی سمیت 7 لوگ مارے گئے اور 15 زخمی ہوگئے۔ ریاست میں 8 سال بعد پنجاب میں یہ پہلا آتنکی حملہ تھا۔ مانا جارہا ہے کہ آتنکی پاکستان سے آئے تھے اور جس تیاری کے ساتھ آئے تھے اور جو ہتھیار اپنے ساتھ لائے تھے ان سے لشکر طیبہ کی بو آتی ہے۔ حملہ آوروں کے بارے میں حالانکہ کوئی سرکاری بیان تو ابھی تک نہیں آیا لیکن شبہ ہے کہ وہ جموں اور پٹھانکوٹ کے درمیان بغیر باڑھ کی سرحد کے ذریعے یا جموں ضلع کے چکہیرا کے راستے پاکستان سے بھارت میں گھس آئے تھے۔ اس سے پہلے20 مارچ کو جموں وکشمیر کے کٹھوا ضلع میں جیش محمد کے آتنکی فوج کی وردی میں ایک تھانے میں گھس آئے اور تین سکیورٹی ملازمین سمیت6 لوگ مارے گئے تھے۔ فوج کی وردی پہنے آتنکیوں کے حملے میں 4 عام شہری اور 3 پولیس ملازمین کی موت ہوگئی۔ شہید ہوئے پولیس ملازمین میں پولیس سپرنٹنڈنٹ (خفیہ) بلجیت سنگھ شامل ہیں۔ بلجیت اپنے والد انسپکٹر آدھار سنگھ کی موت کے بعد سال1985 میں بطورایس ایس پی فورس میں شامل ہوئے تھے۔ آپریشن کی رہنمائی کررہے شہید ایس پی (خفیہ) بلجیت سنگھ کے آخری الفاظ: بلجیت کے ساتھ مورچہ سنبھالے اے ایس آئی بھوپندر سنگھ کے مطابق دہشت گردوں کی گولیاں مسلسل اے ایس پی کے پاس سے نکل رہی تھیں، بلجیت تھانے کی چھت پر ایک ٹنکی کے پیچھے چھپ کر جوابی فائرننگ کررہے تھے ۔بھوپندر نے ان سے سنبھل کر رہنے کے لئے کہا۔ بلجیت سنگھ کا جواب تھا، آپ میری فکر نہیں کرو اور آگے بڑھ کر لڑو۔۔۔ میں ان کو کھڈیڑ کر ہی دم لوں گا۔ تبھی ایک گولی بلجیت کے سر میں پار ہوگئی۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے دم توڑدیا۔ کپورتھلا کے باشندے بلجیت سنگھ ڈیڑھ مہینے پہلے ہی پرموشن پا کر ایس پی بنے تھے۔ پیر کو دینا نگر تھانے میں فائرننگ کی خبر سنتے ہی وہ وہاں پہنچ گئے تھے۔ ان کے والد نے بھی دیش کے لئے اپنی جان نچھاور کی اور اب بیٹے بلجیت نے بھی۔ایسے سپوتوں پر پورے دیش کو فخر ہے۔ پنجاب پولیس کی اسپیشل فورس کی تعریف کرنی ہوگی جو ایک بار تھانے کے اندر گھسی اور تینوں دہشت گردوں کو مار کر ہی نکلے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ایک کر آتنکی کو50-50 گولیاں لگیں۔ اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پنجاب کے ان جانباز سپاہیوں نے جس دلیری سے ان پر حملہ کیا ہوگا ۔آتنکی ہائی وے نام سے مشہور پٹھانکوٹ جموں شاہراہ پر اس بار حملے کی جگہ جموں سے بدل کر پنجاب بیشک کردی گئی تھی مگر ارادے بڑے خطرناک تھے۔ بھاری ہتھیاروں اور پوری رسد پانی کی تیاری کے ساتھ آئے ان شیطانی گروہ کا نشانہ اس قومی شاہراہ سے ہوکر گزرنے والے امرناتھ یاتریوں کو مارنا تھا لیکن کشمیرمیں بالتال میں بادل پھٹنے کے حادثے کے بعد امرناتھ یاترا کوعارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ بھولے شنکر کی کرپا سے تیرتھ یاتریوں کی تو جان بچ گئی لیکن اس کی قیمت دیش کے 7 سپوتوں کو اپنی جان دیکر چکانی پڑی۔ آتنکی کتنی تیاری سے آئے تھے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہماری سکیورٹی فورس کو فوج کو 16 گھنٹے سے زیادہ تک لڑائی میں الجھائے رکھا۔ تباہی پھیلانے سے پہلے ان خودکش گروہ کا صفایا کرنے والے سکیورٹی فورس کے دستے کے عزم اور بہادری تو بیشک قابل تعریف ہی ہے لیکن سکیورٹی تیاریوں و خفیہ محکمہ کے بھروسے پر ضرور سوالیہ نشان لگتا ہے۔ 
پٹھانکوٹ ۔جموں ہائی وے کوئی عام قومی شاہراہ نہیں ہے۔ جموں کشمیر کو بھارت کی قومی دھارا سے جوڑنے والی لائف لائن ہے اور اب سارے دیش کی نظریں مودی سرکار کی طرف ہیں۔ دیکھیں وہ اس حملے پر کیا جوابی کارروائی کرتے ہیں؟ کیا آپ اب بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے؟ دہشت گردی ایسا سیاسی اشو نہیں جس پر سیاسی روٹیاں سینکی جائیں۔یہ وقت متحد ہوکر چوکس رہنے کا ہے اور پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کا بھی ہے۔
(انل نریندر)

جنتا کے مہامہم کی وداعی

بھارت کے سب سے مقبول اور عوام کے صدر،جن جن کے مشعل راہ بھارت رتن ڈاکٹر اے۔ پی ۔جے عبدالکلام اب اس دنیا میں نہیں رہے۔میزائل مین کے نام سے مشہور بھارت رتن کا پیر کی شام انتقال ہوگیا۔83 سالہ ڈاکٹر کلام شیلانگ میں ایک لیکچر کے دوران بے ہوش ہوکر گر پڑے تھے۔ انہیں بیتھنی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ سابق صدر کے انتقال پر 7 دنوں کا سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کے انتقال سے حقیقت میں ایک خلاصا پیدا ہوگیا ہے۔ بہت ہی غریبی میں پلے بڑھے کلام تمام دقتوں سے دوچار ہونے کے باوجود نہ صرف ایک کامیاب سائنسداں ہی بنے بلکہ دیش کے سچے ہتیشی کی شکل میں دیش کے اعلی ترین عہدے پر فائز ہوئے۔ 21 ویں صدی میں جوان ہوتی پیڑھی کے سامنے کلام ایک مشعل راہ کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے پاس ایک ویژن تھا دیش کو ترقی یافتہ ملکوں کی برابری میں لاکر کھڑا کرنے کا۔جس چیز کے سہارے کلام نے دیش کو بدلنے کا خواب دیکھا وہ ہے سائنس اور تکنالوجی۔ تکنیک سے ان کے لگاؤ نے صرف نوجوانوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ سبھی مذہب اور ذات اور فرقوں کے درمیان انہیں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد وہ دوسرے ایسے شخص تھے جنہیں بچوں سے ملنے اور بات کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہوتی تھی۔بیشک ڈاکٹر کلام سے ہمارا ساتھ اب چھوٹ گیا ہے لیکن کہہ سکتے ہیں کہ ان کی نصیحت ہمیشہ ہمارا ساتھ دے گی۔ مسلسل آگے بڑھنے کی تلقین دے گی۔ انہوں نے پہلے ڈیفنس سائنسداں کے طور پر میزائل مین کی شکل میں دیش کی قابل قدر خدمت کی پھر صدر کی حیثیت سے پورے دیش کو ایک مکمل نیوکلیائی کفیل دیش بنانے میں ان کا قابل فخر تعاون تھا۔صدر جمہوریہ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی وہ قومی ٹیچر کا رول نبھاتے رہے اور آخری سانس لینے سے ٹھیک پہلے بھی وہ آئی آئی ایم شیلانگ میں لیکچر دے رہے تھے۔ وہ پہلے ایسے صدر تھے جنہوں نے ممبران پارلیمنٹ کو فرض پر اٹل رہنے کا حلف دلایا۔ 
انہوں نے نہ صرف دیش کو بڑی طاقت بنانے کا مول منتر دیا بلکہ لوگوں میں یہ بھروسہ بھی جگایا کہ بھارت ایک بڑی طاقت بن سکتا ہے اور دیش کے پہلے کنوارے صدر کلام کا ہیئر اسٹائل اپنے آپ میں انوکھا تھا۔ اور ایک صدر کی عام ہندوستانی تشریح میں فٹ نہیں بیٹھتا تھا لیکن دیش کے سب سے معزز ترین اشخاص میں سے ایک تھے جنہوں نے ایک آئینی اور ایک صدر کی حیثیت سے قابل قدر تعاون دے کر دیش کی خدمت کی تھی۔ ڈاکٹر کلام کی وفات سے پورے دیش میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ ایک ایسا خلا ہے جسے پر نہیں کیا جاسکتا۔ دیش ان کے مثالی تعاون کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔بھارت نے ایک عزیم سپوت کھو دیا ہے۔ہم انہیں اپنی شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2015

آخر کیوں بڑھ رہے ہیں آبروریزی کے واقعات

این سی بی آر کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ دہلی میں سب سے زیادہ آبروریزی کے واقعات ہوتے ہیں۔ راجدھانی میں ا وسطا ہرروز چار عورتیں درندگی کے شکار ہوتی ہیں۔ سال 2015 کے پہلے دومہینے میں راجدھانی کے 181 پولیس اسٹیشنوں کے دائرے اختیار علاقوں میں آبروریزی کے 300 اور چھیڑ خانی کے 500 معاملے درج کئے گئے۔ 2014میں آبروریزی کے 269 معاملے درج کئے گئے جب کہ سال 2013 میں یہ تعداد1571 ہوا کرتی تھیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سارے انتظامات اور قوانین کے باوجود ریپ کے معاملے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ہم پولیس کو ہی ان کے لئے ذمہ دار ٹھہرادیتے ہیں دیش کے قانون اور نظام انصاف بھی اس کے لئے کم قصوروار نہیں ہے۔ دہلی کے ایڈیشنل سیشن جج ایم سی گپتا نے 21 سالہ لڑکی کااغوا کرنے اور زبردستی شادی کر اس سے آبروریزی کرنے کے ایک شخص کو دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس جرم میں مدد کرنے والی خاتون کو بھی عدالت نے اتنی ہی سزا سنائی۔ ہمارے دیش میں آبروریزی کے قانون نربھایا کانڈ کے بعد سخت کئے گئے یہ 16دسمبر 2013میں ہوا تھا۔ آج تک اتنا وقت گزرجانے پر ایک بھی ملزم کو موت کی سزا نہیں دی جاسکی۔ ابھی معاملہ عدالتوں میں ہی لٹکا ہوا ہے ہمارے دیش عدلیہ نظام پر اتنے ہی سنگین سوال اٹھتے ہیں جتنے پولیس اور سماج پر۔ فیس بک پر میرے ایک جاننے والے نے دنیا کے دیگرملکوں کے آبروریزی کی سزاؤں کی تفصیل پیش کی ہے۔ میں اس کی جواز پر تو دعوی تو نہیں کرسکتا لیکن مجھے یہ صحیح لگتا ہے کہ اب اگر غور فرمائیں دنیا کے دیگرملکوں میں آبروریزی کی سزاکویت میں 7 دنوں کے اندر موت کی سزا دے دی جاتی ہیں۔ ایران میں 24 گھنٹے کے اندر پتھروں سے مار دیا جاتا ہے یا پھانسی لگا دی جاتی ہیں۔ افغانستان میں 4 دنوں کے اندر سر میں گولی مار دی جاتی ہیں۔ ادھر چین میں تو کوئی مقدمہ نہیں چلتا۔ میڈیکل جانچ سے ثابت ہونے کے بعد موت کی سزا، ملیشیا میں موت کی سزا، منگلولیہ میں خاندان کے ذریعے بدلے کے طور پر موت۔ ڈیتھ از لیونج بائی فیملی۔ عراق میں پتھروں سے مار کر قتل۔ڈیتھ بائی استھونک ٹل لاسٹ بریتھ۔ قتل میں ہاتھ پیر اور پتھر وغیرہ مار کر موت کی سزا دی جاتی ہے۔پویلین میں سوروں سے کٹوا کر موت،ساؤتھ افریقہ میں 20 سال کی سزا ہوتی ہیں۔ امریکہ میں متاثرہ کی عمراور اس کی بربریت کو دیکھ کر عمر قید یا 20 سال کی قید کی سزا۔ سعودی عرب میں 7 دنوں کے اندر موت کی سزا یا پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ روس میں 20سال کی قید مشقت جیل۔نیدر لینڈ میں جنسی جرائم کے لئے الگ الگ سزا اور بھارت میں مظاہرہ فنی اور کینڈل مارچ، جانچ کمیشن، سمجھوتہ ، رشوت میں ڈال دینا ہے۔ اور متاثرہ کی تنقید، میڈیا ٹرائل، سیاسی کرن، اور ذات پات کی سیاست، برسوں بعد چارج شیٹ، سالوں بعد مقدمہ، بے عزتی اور ذلالت اور آخر میں قصوروار کا بچ نکلنا۔ ہمارے دیش میں پورا کا پورا ہی دھراّہی خراب ہے۔اس میں ٹھوس اصلاح کی ضرورت ہے۔ صرف پولیس کو ہی قصوروار قرار دینے سے آبروریزی رکنے والی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

اسپاٹ فکسنگ معاملے میں یہ سبھی ملزم بری؟

آئی پی ایل ۔6 اسپاٹ فکسنگ بدنام زمانے میں دہلی پولیس کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اس اسپاٹ فکسنگ کانڈ میں پولیس نے آئی پی ایل ٹیم کے کھلاڑیوں ایس سری سنت ، اجیت جنڈیلہ، انکت چوہان سمیت سبھی 36 ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اسی چارج شیٹ میں داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ اس وقت کے پولیس کمشنر نیرج کمار نے آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ معاملے کا انکشاف کرنے کے لئے انڈیا ہیپی ٹیٹ سینٹر میں باقاعدہ ایک ہال بک کرایا تھا۔ نیرج کمار نے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ میڈیا سے کھچا کھچ ہال میں جم کر اپنی پولیس کی پیٹھ تھپھپائی تھی لیکن سنیچر کو آئے فیصلے کو پولیس کی جانچ پر ہی سوالیہ نشان لگا ڈالیں۔ پٹیالہ ہاؤس میں ایڈیشن سیشن جج نینا بنسل کی عدالت نے اس معاملے میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے جیسے ہی بھگوڑا قرار ملزمان کو چھوڑ کر باقی 36لوگوں کو الزام سے بری کردیا۔ عدالت میں موجود کھلاڑی ایس سری سنت پھوٹ پھوٹ کررونے لگیں۔ وہی کوٹ روم موجود دیگر ملزم ایک دوسرے سے مل کر مبارکباد دینے لگے۔ فیصلے کے کچھ وقت بعد ہی بی سی سی آئی نے اعلان کیا کہ کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی جاری رہے گی اس معاملے میں 23مئی کو سماعت پوری ہوچکی تھی۔ سرکاری وکیل نے ثبوت پیش کرنے کے لئے وقت مانگا اوردوبارہ 4بجے سے کورٹ کی کارروائی پھر شروع ہوئی۔ اسی دوران کورٹ سرکاری وکیل کی دلیلوں سے مطمئن نہیں ہوئی۔ اور اس معاملے کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے افسران نے اٹھایا تھا اور پختہ اطلاع اور پختہ ثبوت کے بعد میچ فکسنگ معاملے میں کارروائی کا فیصلہ لیا گیا تھالیکن عدالت نے پولیس کے تمام ثبوت اور دلائل کو پوری طرح سے خارج کردیا۔ جب کہ اس معاملے میں کھلاڑی سمیت داؤد ابراہیم اور چھوٹا شکیل کو ملزم بنایا گیا تھا لیکن پولیس ایک بھی دلائل پر الزام طے کرپانے میں ناکام رہی۔ یہ بھی سچائی ہے کہ اسپیشل سیل کے پاس اس معاملے میں شروع سے ہی پختہ ثبوت اور دلائل نہیں تھے۔ جسٹس نے دونوں فریقین کے دلیلیں سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دہلی پولیس کو بھی پھٹکار لگائی انہوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ انہیں سبھی ملزمان پر مقدمہ چلانے کے لئے پختہ ثبوت نہیں ہے پولیس کے ہاتھ خالی ہے جانچ ایجنسی ایسی صورت میں کوئی چارج دائر کرنے میں ناکام رہی ہے کہ ملزمان کے خلاف گواہ اور ثبوت پیش کران پر مقدمہ چلایاجائے۔ عدالت کے اس فیصلے کا پہلے ہی سے احساس ہونے پر صبح ہی میں دہلی پولیس نے کورٹ اپیل دائر کرکے معاملے کو دوبارہ جانچ کرانے کی مانگ کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کو انصاف کے لئے کورٹ جسٹس لودھا کمیٹی کی تشویش میں سامنے آئے حقائق پر دوبارہ جانچ کاموقعہ دیا جائے لیکن عدالت نے پولیس کی عرضی خارج کردی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس معاملے میں 6ہزار صفحات کی چارج شیٹ دائر کی تھی لیکن ان ہزاروں صفحات میں ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لائق ثبوت نہیں پائے گئے۔ایسے میں دوبارہ جانچ کرانے کا مناسب نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پولیس کادعوی تھا کہ 9مئی 2013کو پنجاب اور راجستھان کے درمیان ہوئے میچ میں سری سنت نے پہلے سے منظم طریقے سے ایک اوور میں 14 رن دیئے تھے اس کے لئے 40لاکھ روپے کاسودا ہواتھا۔ سری سنت نے اسپاٹ فکسنگ کے لئے تولیہ کو بطور کوڈ استعمال کیا تھا۔
(انل نریندر)

26 جولائی 2015

دہلی میں سرکار کا مطلب ہے ’’لیفٹیننٹ گورنر‘‘

دہلی وومن کمیشن کے چیئرمین کے عہدے پر سواتی مالی وال کی تقرری پر لیفٹیننٹ گورنر اور کیجریوال سرکار کے درمیان پیدا ہوا تنازعہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی ہی دین ہے۔ دہلی سرکار جان بوجھ کر راجیہ پال اور مرکزی سرکار سے ٹکرانے کے مدعے اٹھاتی ہے۔دہلی کے وزیر اعلی کو اچھی طرح پتہ ہے کہ آئین کے مطابق دہلی کے اہم عہدوں پر تقرری صرف لیفٹیننٹ گورنر ہی کرسکتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی جناب کیجریوال نے سواتی مالیوال کو وومن کمیشن کا چیئرمین بنادیا۔ جب گزشتہ دنوں49 دنوں کی کیجریوال سرکار تھی تب انہوں نے صحیح طریقہ اپنایا تھا۔تب وہ مذکورہ وومن کمیشن کی چیئرمین برکھا سنگھ کو ہٹانا چاہتے تھے۔ انہوں نے تب لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو خط لکھ کر یہ مانگ کی تھی ، جسے جنگ صاحب نے نامنظور کردیا تھا۔پر وہ صحیح طریقہ اور پروسیجر تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں سیدھی تقرری کا اختیار نہیں ہے، پھر بھی انہوں نے سواتی مالیوال کی تقرری کردی اور بلاوجہ ٹکراؤ پیدا کردیا۔ نتیجہ انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ 
لیفٹیننٹ گورنر نے دو ٹوک کہہ دیا کہ دہلی میں سرکار کا مطلب ہے لیفٹیننٹ گورنر۔ مالیوال کی تقرری کے معاملے میں لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے چیف سکریٹری ایس سی ایل داس نے وزیر اعلی کیجریوال کے سکریٹری کو بھیجے خط میں وزارت داخلہ کے ذریعے جاری سال 2002ء کے ایک آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں سرکار کا مطلب ہی لیفٹیننٹ گورنر ہے۔ ایسے میں بغیر ان کی منظوری کے سواتی مالیوال کی تقرری غیر قانونی ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ تاکید بھی کردی ہے کہ اگر مالیوال کمیشن کی چیئرمین کے طور پر کوئی فیصلہ لیتی ہیں تو وہ بھی پوری طرح غلط ہوگا۔ اس بابت عام آدمی پارٹی کے ترجمان کی یہ دلیل بیحد ہی لچر اور بچکانی لگتی ہے کہ پچھلی سرکار کے وقت انہیں مکمل اکثریت حاصل نہیں تھی لیکن اب ہے۔ 
سرکار کے کرتا دھرتا اتنے ناسمجھ تو نہیں ہوسکتے کہ وہ اس بات سے انجان ہوں کہ آئینی طریقہ کار کو سبھی سرکاروں کو مساوی ڈھنگ سے پورا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سرکار کے حق میں کتنے ممبران پارلیمنٹ، ممبر اسمبلی ہیں۔ ظاہر ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کیجریوال سرکار نے یہ تقرری کی تو اس لئے کہ کیندر سے ٹکراؤ ہو اور تنازعہ بڑھے۔اس میں کوئی برائی نہیں کہ کیجریوال سرکار دہلی کو مکمل راجیہ بنوانے کو لیکر اپنی ذمہ داری دکھائے لیکن اس کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں کہ اس کے لئے موجودہ قواعد و ضوابط کی ان دیکھی کی جائے۔
(انل نریندر)

نتیش تو چندن ہیں اور سانپ کون ہے

عالمتوں کے ذریعے اپنے سیاسی حریفوں پر کرارے حملے کرنے میں ماہربہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی تازہ ٹوئٹ میں راجیہ میں سیاسی پارے کو پھر چڑھا دیا ہے۔نتیش نے رحیم کے ایک دوہے کے ذریعے خود کو چندن قراردیا جس پر لپٹے رہنے والے سانپوں کے زہر کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سانپ کسے کہا گیا ہے اسے لیکر دن بھر بیانات و قیاسات کا بازار گرم رہا۔ یہی اندازہ لگایاگیا کہ اشارہ راشٹریہ جنتادل سپریمو لالو پرساد یادو کی طرف تھا۔مخالفین نے ا سے ایک نیا موقعہ مان کر کھلے عام بیان بازی شروع کردیں۔ بار بار گلے ملنے اور زہر پی کر بھی بھاجپا کا ورودھ کرنے کی حد پر نتیش کو وزیر اعلی کا امیدوار گھوشت کرنے والے لالو کے ساتھ گٹھ بندھن پر نتیش کی مشکل کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لالو کے جنگل راج کو اکھاڑنے والے وکاس پرش کا عکس بچانا ان کی اور پارٹی کارکنان کی بڑی چنوتی ہے۔ نتیش نے لکھا ’’جو رحیمن اتم پرکرتی، کا کری سکت کرسنگ،یداں وش ویاپت نہیں، لپٹے رہت بھجنگ‘‘ لالو نے اسے بھاجپا کیلئے بتایا۔ حالانکہ انہوں نے نتیش سے اس کی وضاحت کرنے کی بات بھی کہی۔ خود پر شکنجہ کستے دیکھ کر نتیش نے بھی وضاحت کی کہ ٹوئٹ لالو کے سلسلے میں نہیں بلکہ بھاجپا کے بارے میں ہے۔
نتیش اور لالو میں عجیب نوعیت ہوگئی ہے۔ وہ دل سے تو ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے پر سیاسی مجبوری کے چلتے یا یوں کہیں بھاجپا کے بڑھتے قدموں کے ڈر کی وجہ سے دونوں کو جبراً ہاتھ ملانا پڑ رہا ہے۔ ہاتھ تو مل گئے ہیں لیکن دل کبھی نہیں مل سکتے اس لئے نتیش کے پبلسٹی کے پوسٹروں پر لالو کی تصویر بھی غائب ہے۔جس پر راشٹریہ جنتادل کے رگھوونش پرساد جیسے نیتاؤں نے کڑی مخالفت اور ردعمل بھی آیا ہے۔جن ادھیکار پارٹی کے سنرکشک و ممبر پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے کہا کہ پچھلے 25 سال سے لالو اور نتیش زہریلے سانپوں کی طرح بہار کو ڈس رہے ہیں۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ نتیش نے لالو کا مقابلہ سانپ سے کرکے اپنے درد کو ظاہر کیا ہے۔اب لالو کو بتانا چاہئے کہ ان کا نتیش کے تئیں کیا رویہ ہے۔ دونوں جاتیہ گٹھ بندھن کے ذریعے بہار کو کونسا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ لالو نے بھی زہر پی کر نتیش کو گٹھ بندھن کا وزیر اعلی کا امیدوار مانا ہے۔ ایسے میں یہ اقتدار کے حساب کو صحیح بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔بے میل گٹھ بندھن چناؤ تک کتنا کھرا اترتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...