Translater

24 اگست 2024

اب بھی چمپائی سورین کے ذریعے چناو ¿ جیتنے کی قواعد!

بھاجپا پچھلے چار برسوں سے جھارکھنڈ میں سرکار بنانے کی کوشش میں لگی ہے ۔کم سے کم پانچ بار جھارکھنڈ مکتی مورچہ کو توڑنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن ہر بار ناکام رہی ۔تازہ مثال چمپائی سورین کی ہے جو جے ایم ایم کے سینئر لیڈر چمپائی سورین نے پارٹی چھوڑ دی ہے ۔حال ہی میں دہلی بھی گئے تھے ۔ان کے ساتھ چار ممبران کو بھی آنا تھا لیکن کسی وجہ سے چمپائی کے ساتھ وہ دہلی نہیں آئے ۔اکیلے چمپائی بھاجپا کے لئے کوئی خاص کار ا ٓمد نہیں تھے اس لئے اس بار کا آپریشن لوٹس فیل ہو گیا ۔ہیمنت سورین نے اب تک بھاجپا کے سارے آپریشن لوٹس فیل کئے ہیں ۔بھاجپا کی نظر اس سال کے آخر میں وہاں اسمبلی چناو¿ پر ہے وہ ہر قیمت پر یہاں سرکار بنانا چاہتی ہے ۔چمپائی سورین کی بغاوت کے باوجود بھاجپا کو آنے والے اسمبلی چنا و¿ میں اقتدار میں واپسی کے لئے بڑی مشقت کرنی پڑ سکتی ہے ۔پارٹی کے سامنے اندرونی اور باہری دونوں محاذوں پر سخت چنوتیاں ہیں ۔حالانکہ اس کے دو بڑے اہم حکمت عملی ساز مرکزی وزیر و مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما ریاست میں بھاجپا کی اقتدار میں واپسی کے لئے مضبوط حکمت عملی بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔جس میں قبائلی ووٹروں کو ساتھ لانا سب سے اہم ہے ۔جھارکھنڈ میں ہوئے لوک سبھاچناو¿ میں بھاجپا کو قبائلی آبادی والی سیٹوں پر بڑا جھٹکا لگا تھا وہ ریاست کی سبھی شیڈول قبائل برادریوں کے لئے ریزرو سیٹوں پر ہا ر گئی تھی یہی وجہ ہے کہ بھاجپا کی لوک سبھا سیٹیں 11 سے گھٹ کر آٹھ رہ گئیں اس کو قبائلی سیٹوں پر نقصان کے لئے اسمبلی چناو¿ میں بڑی مشکل بن سکتی ہے ۔حالانکہ بھاجپا نے ریاست کی چناوی حکمتع عملی کی کمان اپنے دو مضبوط لیڈروں کو سونپی ہے ۔چمپائی سورین کی جے ایم ایم میں بغاوت کو بھی بھاجپا کی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھاجارہا ہے ۔ چمپائی سورین جے ایم ایم کے مضبوط لیڈر ہیں اور ایک نامور قبائلی لیڈر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ چمپائی کو ہی ہیمنت نے جیل جانے پر وزیراعلیٰ بنایا تھا ۔لیکن جب جیل سے لوٹے تو چمپائی کو ہٹا کر خود وزیراعلیٰ بن گئے تبھی سے دونوں میں ناراضگی چل رہی ہے ۔چمپائی سورین کے پالا بدلنے کی تیز ہوئی قیاس ا ٓرائیوں کو لے کر اپوزیشن ا تحاد انڈیا کی قومی قیادت چوکس اور سرگرم ہو گئی ہے ۔چمپائی کے بھاجپا میں جانے کے اشارے مل رہے ہیں ۔انڈیا کے لئے چناوی تشویش والے ضرور ہیں ۔چمپائی اگر بھاجپا میں شامل ہوتے ہیں تو قبائلی سیاست کے وجود کی لڑائی میں پکڑ کے لئے چنوتی بن سکتے ہیں ۔جھارکھنڈ میں کانگریس اور ہیمنت سورین چوکس ہو چکے ہیں ۔اور اپنی اپنی حکمت عملی بنانے میں لگے ہیں ۔وہیں چمپائی سورین نے تین روزہ دہلی دورہ کے بعد منگلوار کی دیر شام کولکاتہ ہوتے ہوئے سرائے کیلا گاو¿ں لوٹ آئے لیکن انہوں نے اگلے قدم کے بارے میں خلاصہ نہیں کیا ہے ۔پرانے موقف پر قائم ہیں ۔دہلی ایئر پورٹ پر چمپائی سورین نے بھاجپا کے کسی نیتا سے بات چیت کے بارے میں بتانے سے صاف انکار کر دیا ۔ناراضگی اور دیگر امور پر بار بار یہی دہرایا کہ شوشل میڈیا میں میںنے اپنی باتیں رکھ دیں ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا ہے ۔چمپائی اپنے عنقریب اگلے قدم کا خلاصہ کریں گے تب تک انتظار کیجئے ۔ (انل نریندر)

اور اب بدلاپور میں گھناونا کانڈ!

ابھی کولکاتہ کے ریپ - مرڈر کانڈ پر ہنگامہ مچاہواہے تو ادھر مہاراشٹر کے ٹھانے بدلاپور میں ایک اسکول میں سے بھی کئی معنوں میں بڑاکانڈ ہو گیا ۔اس میں ایک ا سکول کی دو چھوٹی چھوٹی طالبات کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا گھناو¿نے الفاظ میں بیان کرنے والا کانڈ سامنے آیا ہے ۔واردات کے سامنے آنے کے بعد ملزموں کے خلاف زبردست احتجاج مظاہرے نے تشدد کی شکل اختیار کر لی ۔آگ بگولا مظاہرین نے اسکول میں توڑ پھوڑ کر دی ہزاروں کی تعدادمیں مظاہرین نے بدلا ریلوے اسٹیشن کی پٹریوں پر بیٹھ کر ٹرینوں کو روک دیا ۔انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر پتھراو¿ بھی کیا ۔شام کو پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا ۔اور ٹریک کو مشکل سے خالی کروایا ۔مہاراشٹر سرکار نے معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے ۔وزیراعلیٰ ایکناتھ شندھے نے معاملے میں گرفتار ملزم کےخلاف بدفعلی کی کوشش کے کیس درج کرنے کی ہدایت دی ۔وزیراعلیٰ شندھے نے کہا کہ معاملے میں فوری سماعت کی جائے گی اور ایک خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا جائے گا ۔اب تک کی کاروائی میں پولیس نے ملزم اکشے شندھے کو پاسکو ایکٹ کے تحت کیس درج کرکے گرفتار کر لیا ہے ۔انسپکٹر شندھا ستولے کا تبادلہ کر دیا گیا ہے ۔اسکول پرنسپل ،کلاس ٹیچر ،خاتون ملازم کو معطل کر دیا گیا ہے ۔دراصل پوری واردات 12 اور 13 اگست کی ہے ۔تین سال کی دو بچیوں کے ساتھ آدرش ودیالیہ میں ہی کام کرنے والے صفائی کرمچاری نے مبینہ طور پر اذیت پہنچائی ۔واردات کے بعد بچیاں اتنی ڈری ہوئی تھیں کہ وہ اسکول جانے سے منع کررہی تھیں ۔جب ماں باپ نے زور دیا اور پوچھا تب بچیوں نے اپنے ساتھ ہوئی واردات کے بارے میں بتایا۔16 اگست کو جب بچیوں کے ماں باپ ایف آئی آر درج کرانے پہنچے تب پولیس مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی ۔الزام ہے کہ 12 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی تھی ۔پھر کچھ مقامی نیتا پولیس اسٹیشن پہنچے اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی ۔ملزم کو پاسکوایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔اور گرفتار بھی کر لیا ہے ۔پولیس کے سینئر ذرائع کے مطابق اسکول منیجر کی طرف سے اس معاملے میں لاپرواہیاں برتی گئیں ۔اسکول کے سی سی ٹی وی کیمرے ایسے ہیں جو کام نہیں کررہے تھے ۔فی الحال منیجر کی طرف سے پرنسپل ٹیچر اسکول نینی اور کونٹریکٹ ایجنسی کو معطل کر دیاگیا ہے ۔اس پورے واقعہ کے لئے اسکول کی طرف سے مافی مانگی گئی ہے ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کولکاتہ میں جو ہوا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔لیکن اگر کولکاتہ میڈیکل کالج ٹرینی کیس کی لیپا پوتی اور سچائی چھپانے کا الزام ہے تو بدلا پور کے اسکول پر بھی یہ الزام لگتا ہے ۔اگر آپ مغربی بنگال کی ممتا سرکار سے استعفیٰ مانگ سکتے ہیں تو مہاراشٹر میں اس ڈبل انجن کی سرکار کو کیسے بے قصور ثابت کر سکتے ہیں ۔سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے بچیوں سے بدتمیزی کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔کبھی شکایت ہوتی ہے کبھی بہارمیں تو کبھی دہلی میں تو کبھی کولکاتہ اور مہاراشٹر میں انہیں روکا کیسے جائے سوال تو یہ ہے ؟ (انل نریندر)

22 اگست 2024

کیا پوتن جنگ ہار رہے ہیں؟

پچھلے کچھ دنوں سے خبریں آرہی ہیں کہ روس یوکرین جنگ میں یوکرینی فوجی روس کے اندر گھس گئے ہیں اور سال 2022 میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا اب تقریباً تین سال ہونے کو ہیں اور جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا دکھائی دے رہا ہے ۔لیکن خبرہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب غیر ملکی فوجی روس کی سرزمین میں داخل ہو گئے ہیں ۔روس میں یوکرینی فوج کے تیس کلو میٹر اندر تک گھسنے اور کئی عمارتوں پر یوکرینی فوج کا روسی جھنڈا ہٹا کر لہرانے کے بیچ روس نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کرکی سرحدی علاقہ کھالی کرنے کا حکم دیا ہے ۔دراصل یہاں اتنی فوجیوں تقریباً ایک ہفتہ کی زبردست لڑائی کے بعد بھی یوکرینی حملے کا پرزور جواب دے رہی ہیں ۔روس کا ایمرجنسی انتظام کے حکام نے پیر کو کہا کرک علاقہ میں 76000 سے زیادہ لوگوں نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا ہے ۔جہاں 6 اگست سے یوکرینی فوج اوربختر بند گاڑیاں سرحد پار کر قریب 30 کلو میٹر تک آگئی تھیں ۔مبینہ طور پر ابھی بھی شہر کے مغربی حصوں میں قبضہ کئے ہوئے ہے ۔حکام نے کہا کہ اب بولوستھی سے بھی 14 ہزار لوگوں کو نکالا گیا ہے ۔وہاں کے گورنر نے بی کہا کہ سرحد پر دشمن کی سرگرمیوں کی وجہ سے لوگوں کو ہٹایاجارہا ہے لوگوں کو تیخانہ میں چھپنے کو کہا گیاہے ۔یوکرینی فوجوں کے روس کی سرحد کے اندر گھسنے کے قریب 2 ہفتے بعد یہ صاف ہورہا ہے کہ وہ یہاں رکنے کا پلان بنا رہے ہیں ۔صدر زیلنسکی نے سنیچر کو کہا تھا کہ ان کے فوجی کوارک میں آگے بڑھتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کررہے ہیں ۔اتوار کی شام کو اپنے آئیں میں انہوں نے کہا کہ کوارک علاقہ میں ہماری کاروائی اب بھی روس اور اس کی فوج اور اس کے ڈیفنس سسٹم اور معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ یوکرین کے لئے محض بچاو¿ سے کہیں زیادہ ہے اس کا مقصد جہاں تک ممکن ہو سکے روس کی جنگی صلاحیت کو تباہ کر دینا ہے اور جوابی کاروائی کرنا ہے ۔زیلنسکی نے کہا کہ جارحانہ علاقہ میں ایک بفر زون بنانا بھی شامل ہوگا تاکہ یوکرین میں آگے روسی حملوں کو روکا جاسکے ۔ان کے مطابق یوکرین کا مقصد روس کو بات چیت کے لئے راضی کرنا ہے ۔روس نے اس دراندازی کو اکساوے والی کاروائی بتایا ہے اور اس کا مناسب جواب دینے کی قسم کھائی ہے ۔جیسے جیسے مغربی روس میں یوکرین آگے بڑھ رہاہے روس کی فوج کا حوصلہ بھی گرتا جارہا ہے ۔اب تو روس کے اندر بھی اس نے فیصلہ کن جنگ کو لے کر سوال کھڑے ہو رہے ہیں ۔شوشل میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ کوئی روسی جنرل پوتن سے سوال کررہے ہیں کہ اس جنگ سے روس کو کیا فائدہ ہورہا ہے ۔ایک طرف روس کی فوج برباد ہو رہی ہے وہیں اس جنگ کے سبب روس کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔صدر ولاددیمیر پوتن نے دعویٰ کیا تھا کہ 15 دن میں یہ جنگ ختم ہو جائے گی اور یوکرین پر ہمارا قبضہ ہو جائے گا ۔اب تین سال ہو گئے ہیں پوتن کی قیادت پر بھی کئی سوال اٹھنے لگے ہیں ۔روس جنگ ہار رہا ہے ۔ (انل نریندر)

اس لئے واپس لینا پڑا لیٹرل انٹری !

لیٹرل انٹری کے ذریعے سے جوائنٹ سکریٹری ،ڈائرکٹر اور ڈپٹی سکریٹری کے 45 اعلیٰ عہدوں پر سیدھی بھرتی پر سیاسی سنگرام چھڑ گیا ہے ۔بتا دیں مرکزی حکومت نے انتظامیہ کی آسانی کے لئے نئے ٹیلنٹ کے شامل کرنے کو لیکر وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کی اہم ترین پلاننگ کے تحت مرکز کے مختلف وزارتوں میں جوائنٹ سکریٹریوں ،ڈائرکٹروں اور ڈپٹی سکریٹریوں کے اہم ترین عہدوں پر جلد ہی 45 ماہرین مقرر کئے جانے کا اعلان کیا ۔عام طور پر اب تک ایسے عہدوں پر آل انڈیا سروسز انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز (آئی اے ایس )بھارتیہ پولیس سروسز ،(آئی پی ایس) اور ہندوستانی جنگاتی سیوائیں اور دیگر گروپ اے کی سیواو¿ں کے افسرا ن ہوتے ہیں اس اعلان کی چوطرفہ نکتہ چینی ہور ہی ہے ۔کانگریس ،بسپا ،سپا سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے معاملے کو لیکر مرکز پر تنقید ہے ۔سپا چیف اکھلیش یادو نے مرکزی سرکار کی اس اسکیم کی مخالفت کرتے ہوئے اس کےخلاف 2 اکتوبر سے آندولن چھیڑنے کا اعلان کیا ہے ۔اکھلیش نے اتوار کو اپنے ایکس پر لکھا بھاجپا اپنی آئیڈیا لوجی کے آر ایس ایس ساتھیوں کو پیچھے کے دروازے سے یو پی ایس سی کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بٹھانے کی جوسازش رچ رہی ہے اس کے خلاف ایک ملک گیر آندولن کھڑا کا وقت آگیا ہے ۔یہ طریقہ آج کے حکام کے ساتھ ، نوجوانوں کے لئے بھی موجودہ مستقبل میں اعلیٰ عہدوں پر جانے کا راستہ بند کر دے گا ۔عام لوگ بابو اور چپراسی تک ہی محدود ہوجائیں گے ۔دراصل ساری چال پی ڈی اے سے ریزرویشن چھیننے کی ہے ۔اب جب بھاجپا یہ جان گئی ہے کہ آئین ختم کرنے کی بھاجپائی چا ل کے خلاف دیش بھر میں پی ڈی اے جاگ رہا ہے تو ایسے عہدوں پر کسی بھرتی پر ریزرویشن کو دوسرے بہانے سے نظر انداز کرنا چاہتی ہے ۔بسپا چیف مایاوتی نے مرکز میں لیٹرل انٹری کے ذریعے سے اعلیٰ عہدوں پر سیدھی بھرتی پر اعتراض جتایا ہے اور کہا ہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ صحیح نہیں ہے ۔بسپا چیف نے اتوار کو اپنے ایکس پر لکھا مرکزی سرکار کا لیٹرل انٹری کے ذریعے سے سیدھے بھرتی کا مطلب یہ ہے کہ سیدھی بھرتی کے ذریعے سے نیچے کے عہدوں پر کام کررہے ملازمین کو ترقی کے فائدے سے محروم ہونا پ©ڑے گا ۔ساتھ ہی ان تقرریوں میں درج فہرست ذاتوں و قبائلیوں و دیگر پسماندہ طبقہ کے لوگوں کو ان کے کوٹے کے تناسب میں اگر تقرری نہیں دی جاتی ہے تو یہ آئین کی سیدھی خلاف ورزی ہے۔کانگریس نیتا اور نیتا اپوزیشن راہل گاندھی نے الزام لگایاہے کہ پردھان منتری یو پی ایس سی کے بجائے آر ایس ایس کے ذریعے سے لوک سیوکوں کی بھرتی کرکے آئین پر حملہ کررہی ہے اس طرح کی کاروائی سے درج فہرست اور شیڈول قبائل برادریاں اور دیگر پسماندہ طبقہ کا ریزرویشن کھلے عام چھینا جارہا ہے ۔راہل گاندھی نے کہا کہ مرکزی سرکار کے مختلف وزارتوں میں اہم ترین عہدوں پر چور دروازے سے انٹری کاروائی کے ذریعے بھرتی کھلے عام ایس سی ایس ٹی اور ا و بی سی طبقہ کا ریزرویشن چھینا جارہا ہے انہوں نے کہا بڑے افسروں سمیت دیش کے سبھی بڑے عہدوں پر محروم ہو جائیں گے ۔اور ا ن کی نمائندگی نہیں ہوگی اسے سدھارنے کے بجائے لیٹرل انٹری کاروائی کے ذڑیعے بڑے عہدوں سے دور رکھنے کی کوشش ہے ۔یو پی ایس سی کی تیاری کررہے نوجوانوں کے حق پر ایک طرح سے ڈاکا ہے ۔محرومین کے ر یزرویشن سمیت سماجی انصاف کے تصور پر بھی چوٹ ہے ۔ادھر لالو پرساد یادو نے کہا بابا صاحب کے آئین ریزرویشن کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔کارپوریٹ میں کام کررہی بھاجپا کی نجی سینا مبینہ طور پر خاکی پینٹ والوں کو سیدھا بھارت سرکار کے اہم ترین وزارتوں میں بٹھانے کی منشاءصاف دکھائی دے رہی ہے ۔ (انل نریندر)

20 اگست 2024

بھاجپا کی ہٹ ٹرک یا کانگریس کی واپسی !

ہریانہ اسمبلی چناو¿ کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے ۔ریاست کی 90 اسمبلی سیٹوں پر ہونے جارہے اس چناو¿ میں کئی پارٹیاں مقابلے کے لئے تیار ہیں ۔ہریانہ اسمبلی چناو¿ کے لئے ووٹنگ ایک مرحلے میں ایک اکتوبر کو ہوگی ۔اور نتیجے چار اکتوبر کو اعلان کر دئیے جائیں گے ۔چناو¿ کمیشن اس بات کی مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس چناو¿ میں پولنگ اور گنتی میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔نازیادہ انتظار کرنا پڑے گا ۔لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کی قیادت والے اتحاد لگاتار تیسری بار جیتنے کی امید لگائے ہوئے ہے۔بھاجپا کانگریس ،عام آدمی پارٹی جہاں اکیلے میدان میں ہے وہیں انڈین نیشنل لوک دل اور بہوجن سماج پارٹی اتحاد بنا کر چناو¿ لڑرہی ہیں ۔جن نائک جنتا پارٹی اکیلے چناو¿ میدان میںاترے گی یا کسی کے ساتھ تال میل کرے گی اس کا اعلان ابھی تک نہیں ہوا ہے ۔بھاجپا نے اعلان کیا ہے کہ اس چناو¿ میں وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی کی قیادت میں چناو¿ لڑے گی ۔وہیں کانگریس ابھی بھی کسی سی ایم کے چہرے کا اعلان نہیں کر پائی ۔اس سال جولائی میں ہی بہوجن سماج پارٹی اور انڈین نیشنل لوک دل نے اتحاد بنا کر سات اسمبلی چناو¿ لڑنے کا اعلان کیا تھا اس اتحاد کا سی ایم فیس نائب سنگھ چوٹالہ کو بنایا گیا ہے ۔اس بار بدلے حالات میں ہو رہے اسمبلی چناو¿ کے نتیجے کئی اہم سوالوں کا جواب دیں گے ۔چناو¿ میں بھاجپا کے سامنے تیسری بار جیت کر اپنا اقتدار بچائے رکھنے کی چنوتی ہے تو کانگریس کے سامنے گروپ بندی سے اوپر اٹھ کر ہار کی روایت کو ختم کرنے کی ہے ۔اس کے علاوہ جی ڈی پی نیشنل لوک دل ،ہریانہ لوک ہت پارٹی جیسی چھوٹی پارٹیوں کے لئے گروپ بچائے رکھنے کا سوال بھی ہے ۔چند ماہ پہلے ہوئے لوک سبھا چناو¿ نے بھاجپا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی ۔لوک سبھا چناو¿ سے ٹھیک پہلے لیڈر شپ تبدیلی کے باوجود پارٹی نے کانگریس کے ہاتھوں 10 میں سے 5 سیٹیں گنوا دی تھیں ۔او بی سی برادر ی کے نئے وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی اپنی برادری کے ووٹ پانے کے لئے پوری طاقت لگا رہے ہیں انہوں نے سبھی فصلوں کو ایم ایس پی پر خریدنے سمیت کئی اہم اعلانات کئے ہیں پارٹی اپنی ساری طاقت او بی سی اور پسماندہ طبقہ کو شیشے میں اتارنے میں لگی ہے ۔لوک سبھا چناو¿ کانگریس کے لئے کافی اچھا رہا ۔پارٹی ایک دہائی کے بعد ریاست کی دس میں سے پانچ سیٹیں جیتی ہے ۔حالانکہ نتیجہ کے بعد سے ہی پارٹی میں گروپ بندی زوروں پر ہے ۔ایک طرف شیلجا گروپ ہے تو دوسری طرف بھوپندر سنگھ ہڈا گروپ ہے ۔کانگریس نے فی الحال کسی کو بھی وزیراعلیٰ کا چہرہ بنانے سے پرہیز کیا ہے ۔پارٹی کی حکمت عملی 22 فیصدی جاٹ ،21 فیصدی دلت ووٹوں کو ساتھ لانے کی ہے ۔2014 کے لوک سبھا چناو¿ کے پہلے بھاجپا ہریانہ میں کبھی بڑی سیاسی طاقت نہیں رہی ہے ۔بھاجپا میں مودی دور کے بعد پارٹی پہلی بار کسی سال اپنے دم پر اکثریت حاصل کر سرکار بنانے میں کامیاب رہی تھی ۔پچھلے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا اکثریت سے رہ گئی اور اسے سرکار بنانے کے لئے جے جے پی کا سہارا لینا پڑا۔اس کے بعد لوک سبھا چناو¿ میں پارٹی نے جے جے پی سے اتحاد توڑ لیا اور نتیجہ یہ ہوا کانگریس کے ہاتھوں پانچ سیٹیں گنوانی پڑیں ۔آج عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہریانہ میں تین سیکٹر سب سے زیادہ چلتے ہیں ۔جے جوان ،جے کسان اور جے پہلوان ۔ان تینوں کے ارد گرد ہی ہریانہ کی سیاست گھومتی ہے ۔ (انل نریندر)

کولکاتہ ریپ - مرڈر کیس بیک فٹ پر ممتا!

آرجی کر ہسپتال کے واردات کے ملزم کو اتوار تک پھانسی دی جائے ۔بنگلہ دیش کی طرح یہاں میری سرکار بھی گرانے کی کوشش چل رہی ہے ۔مجھے اقتدار کا کوئی لالچ نہیں ہے اس واردات پر سی پی ایم اور بھاجپا سیاست کررہی ہیں ۔آر جی ہسپتال پر حملے کے پیچھے بھی رام اور وام کا ہی ہاتھ ہے ۔یہ بیان کولکاتہ کے آرجیکر ہسپتال میں ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ ریپ اور قتل کے معاملے میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے دیا گیا ہے ۔عموماً ا س سے پہلے ان کی کسی معاملے میں مسلسل ایسے بیان بازی کرتے نہیں دیکھا گیا ہے ۔اس سے سیاسی حلقہ میں سوال کھڑے ہورہے ہیں کیا ممتا اس واردات کی وجہ سے بھاری دباو¿ میں ہیں ۔کیا ان کو اپنے سب سے بڑے ووٹ بینک کے کھسکنے کا خطرہ نظر آرہا ہے ؟ کیا اپنی تیسری میعاد میں ان کو پہلی بار ایسی کڑی چنوتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟ عموماً وہ کسی واردات کے احتجاج میں سڑک پر نہیں اترتیں اس واقعہ کے بعد جہاں سرکار اور پولیس کے رول پر سوالوں کے گھیرے میں ہیں وہیں ریبلین دی نائٹ کی اپیل پر ریاست کے 300 مقامات پر عورتوں کو از خود جمع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کے سبب ان کے اس ووٹ بینک (سب سے مضبوط) کے بکھرنے کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا ۔تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ فی الحال ریاست میں کوئی چناو¿ بھلے ہی نا ہو اپوزیشن اس اشو کوبھنانے اور اگلے اسمبلی چناو¿ تک زندہ رکھنے کی کوشش کرے گی ۔ممتا بنرجی پر چوطرفہ حملے ہو رہے ہیں بھاجپا اور سی پی ایم تو جارحانہ طو رپر احتجاج کرہی رہی ہیں ۔کانگریس بھی وزیراعلیٰ کے خلاف رائے زنی کررہی ہے ۔ان میں راہل گاندھی اور پردیش کانگریس صدر ادھیر رنجن چودھری شامل ہیں ۔ممتا نے جمعہ کو شام کولکاتہ موتالی سے دھرم تلہ علاقہ تک قریب 1.5 کلو میٹر تک پد یاترا کی ۔ان کا ایک ہی نعرہ تھا کہ قصورواروں کو سزا دینی ہوگی ان کو پھانسی پر لٹکانا ہوگا ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ممتا کس سے سزا دلوانے اور پھانسی پر لٹکانے کی مانگ کررہی تھیں ؟ یہ ترنمول کانگریس سرکار اور پولیس انتظامیہ کو دینی ہے ؟ پھر اس طرح کی مانگ کا کیا تک ہے ؟ ان کے انتظامیہ پر لیپا پوتی ثبوت مٹانے کے الزام ہیں ۔ان نربھکشیوں کو بچانے کا الزام ہے ۔ا س واردات کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اس نے تو نربھیا کانڈ کی یاد تازہ کر دی ہے ۔سارے دیش کے ڈاکٹر آج سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں اور انصاف اور سیکورٹی کی مانگ کررہے ہیں اس پر ممتا اور ان کی سرکار پھنس گئی ہے ۔اگر اس نے پورے معاملے کی لیپا پوتی کی کوشش نہیں کی ہوتی تو آج سڑک پر یہ ڈاکٹر نہ اترتے خاص کر پرنسپل کا بچاو¿ کرنا اس کو استعفیٰ کے کچھ گھنٹوں کے بعدنئی بحالی دے دینا ان کے گلے کی پھانس بتایا جارہا ہے ۔ممتا کے خلاف اشو کی تلاش میں اپوزیشن نے اب اشو کو لپک لیا ہے ۔وزیراعلیٰ خود ایک خاتون ہیں پارٹی میں 11 ایم پی خواتین ہیں پھر بھی ایک لڑکی کے ساتھ رونماایسی بربریت آمیز واردات کے بعد سرکار ویسی سرگرمی نہیں دکھا سکی جیسی اس سنگین معاملے میں اس سے امید تھی ۔بیشک سی بی آئی اب پورے معاملے کی جانچ کررہی ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ بنگال کے معاملے میں ترنمول سرکار کا ٹریک ریکارڈ بہتر نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن حملے کی دھار کند کرنے کی پالیسی کی مانگ کررہی ہے ۔اب ممتا بھی عام لوگوں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے قصورواروں کو پھانسی کی مانگ کررہی ہیں ۔ادھر اسپتال پر حملے کے معاملے میں پولیس نے اب تک 24 لوگوں کو گرفتار کیا ہے اس میں ایک عورت بھی شامل ہے ۔فی الحال ممتا اپنی مہلا ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کی چنوتی سے لڑرہی ہیں ۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...