Translater

Sharad Pawar لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Sharad Pawar لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

26 جولائی 2012

کانگریس کس حد تک اتحادی دھرم نبھانے کو تیار ہے؟

یوپی اے سرکار کی مشکلیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ایک طرف تو سرکار کے اتحادی ساتھیوں نے حکومت اور کانگریس پارٹی کا ناک میں دم کررکھا ہے وہیں دوسری طرف کانگریس کے اندر بھی اب گھمسان مچ گیا ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی پہلے سے ناراض چل رہی ہے اور اب تو اس کے لیڈروں نے کانگریس لیڈر شپ کو وارننگ دینا شروع کردی ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی نے کانگریس کو وارننگ دی ہے کہ اگر یوپی اے اتحاد کیلئے تال میل کمیٹی اور ساتھیوں کے ساتھ مناسب برتاؤ جیسی ان کی مانگوں کا بدھوار تک کوئی حل نہیں نکلا تو وہ حکومت سے الگ ہوسکتی ہے۔ شرد پوار کی پارٹی نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ مرکزی سرکار سے الگ ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر میں اتحادی حکومت پر بھی پڑے گا کیونکہ ریاست کے لیڈر کانگریس یوپی اے کیبنٹ سے الگ ہونے کے حق میں ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں کانگریس سرکار کے ساتھ پچھلے 13 سال سے اتحادی محاذ میں ہے۔ ابھی اتحادی این سی پی کے ساتھ کانگریس کی تکرار رکی نہیں تھی کہ پارٹی کے اندربھی بغاوت شروع ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے خلاف انہی کے ممبران اسمبلی نے ان کی شکایت پارٹی ہائی کمان سے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہان اپنی منمانی کررہے ہیں۔ ولاس راؤ دیشمکھ کے حمایتی 42 ممبران اسمبلی نے ایک شکایتی خط ہائی کمان کو لکھا ہے۔ اس میں پارٹی ہائی کمان سے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو فوراً عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ادھر شردپوار اینڈ کمپنی بغاوتی تیور دکھا رہی ہے تو ادھر کانگریس پارٹی ممبر اسمبلی بھی اپنے وزیر اعلی کے خلاف چارج شیٹ پیش کررہے ہیں؟شرد پواردباؤ بنانے میں ماہر ہیں اور کانگریس لیڈر شپ میں وہی یہ کام آج کل کررہے ہیں۔ کانگریس کی مشکل یہ ہوتی جارہی ہے کہ پارٹی کو مرکزی اورریاستی سطح پر مسلسل تضادی سیاست سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرکز کی سیاست کہتی ہے کہ اسے اتحادی اور حمایتی پارٹیوں سے اچھے رشتے رکھنے چاہئیں تاکہ منموہن سنگھ سرکار بنی رہے جبکہ اس کی ریاستی یونٹ اس کی خلاف ہے کیونکہ انہیں وہاں اسی سیاسی پارٹیوں سے دو دو ہاتھ کرنے پڑ رہے ہیں جس کو مرکز میں آج کل بیحد دلار مل رہا ہے۔اس میں پہلا نمبر ترنمول کانگریس کے ساتھ ہے۔ دہلی میں کانگریس کو جتنا زیادہ ترنمول کی ضرورت ہے مغربی بنگال کی کانگریس یونٹ کو اتنی ہی نفرت ترنمول سے ہے۔ اسے گذشتہ دنوں ترنمول سے بے عزت ہونا پڑا ہے۔ پردیش کانگریس صدر پردیپ بھٹاچاریہ تو کئی بار کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ آخرمرکز میں اقتدار کی خاطر ہم کب تک ترنمول کانگریس ورکروں سے پٹتے رہے ہیں؟ اوپر سے ممتا آئے دن یہ کہتے نہیں تھکتییں کہ کانگریس اس کا ساتھ کل چھوڑتی ہے تو آج چھوڑ دے۔ اب تو ممتا نے کھلے عام یہ اعلان کردیا ہے کہ مغربی بنگال کے آنے والے اسمبلی چناؤ بغیر کانگریس کے ہی لڑے گی۔ پچھلی بار بھی ٹکٹ بٹوارے میں کانگریس کے ترنمول سے بیحد بے عزتی کا سمجھوتہ کرنا پڑا تھا۔ مہاراشٹر میں بھی کانگریس این سی پی کو لیکر یہ ہی دکھڑا رو رہی ہے۔ کہاں تو وہ اقتدار میں برابر کی سانجھے دار ہے اور ملائی دار وزارت این سی پی نے اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر کی کانگریس یونٹ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھوٹالے پر گھوٹالے تو این سی پی کررہی ہے اور خمیازہ اسے نہ بھگتنا پڑ جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی یونٹ ایک وائٹ پیپر لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ شرد پوار اینڈ کمپنی کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر کسی قسم کا وائٹ پیپر مہاراشٹر حکومت لیکر آتی ہے تو ان کے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوجائے گا جس کا خمیازہ اسے اسمبلی چناؤ میں بھگتنا پڑے گا۔ پرتھوی راج چوہان ایک ایماندار لیڈر کی ساکھ رکھتے ہیں اور وہ پوار اینڈ کمپنی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آنے والے ہیں اس لئے اب پوار کی کوشش ہے کہ چوہان کو ہٹوا ہی دیا جائے۔ اسی طرح اترپردیش کانگریس یونٹ بھی دکھی ہے۔ پردیش کے ایم پی کہہ رہے ہیں کہ مرکزی سرکار دونوں ہاتھوں سے سپا کو پیسہ لٹا رہی ہے۔ اس کا استعمال اس کے ہی خلاف ہونا ہے۔ اگر سپا سے اسی طرح کے رشتے کانگریس نبھاتی رہی تو اگلے چناؤ میں کانگریس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ 22 کی جگہ وہ دو سیٹوں تک محدود ہوجائے گی۔ کل ملاکر کانگریس ہائی کمان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مرکز میں اقتدار کی خاطر وہ ریاستوں میں اپنی یونٹوں کو کتنا نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہے۔ ویسے ابھی تک تو کانگریس ہائی کمان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ ریاست جائے بھاڑ میں مرکز میں اقتدار بنا رہنا چاہئے۔

24 جولائی 2012

شرد پوار کی لڑائی نمبردو کی حیثیت کیلئے نہیں ہے

تمام کوششوں کے باوجوداین سی پی اور کانگریس لیڈر شپ کے درمیان پیدا ہوئی سیاسی خلیج دور نہیں ہو پارہی ہے کیونکہ اس مرتبہ این سی پی چیف شرد پوار نے کافی اڑیل رویہ اپنالیا ہے۔ لگتا ہے اب یہ ہے کہ اب شرد پوار اینڈ کمپنی اپنی راہ طے کرچکے ہیں۔ این سی پی کے ترجمان ڈی پی ترپاٹھی کے مطابق این سی پی چیف نے ابھی تک اتنا کھل کر سرکار کے کام کاج کی مخالفت نہیں کی تھی اس لئے مہاراشٹر سرکار کو لیکر دہلی تک تال میل کی سطح پر سب کچھ بہتر نہیں تو این سی پی سرکار سے کنارہ کرنے کا من بنا چکی ہے۔ کیا پوار اس لئے کیبنٹ چھوڑنا چاہتے ہیں کانگریس لیڈر شپ انہیں منموہن سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن دینے کو تیار نہیں ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تو بہانا ہے اصل میں پوار کا زیادہ جھگڑا مہاراشٹر میں وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے طور طریقوں کو لیکر ہے۔ کافی دنوں سے پوار اور پرتھوی راج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے پوار اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے مفادات کے خلاف ریاستی حکومت نے جو مہم چھیڑ رکھی ہے اس سے این سی پی خفا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کیبنٹ میں سینیرٹی میں دوسرے نمبر کی آڑ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی این سی پی نے یوپی اے سرکار پر دباؤ بنا کر سرکار سے باہر نکل جانے کی بات تک کہہ ڈالی ہے۔ شرد پوار کی اصل ناراضگی کی وجہ مہاراشٹر میں ہے۔ مہاراشٹر پوار کا اصل گڑھ ہے۔ جب سے پرتھوری راج چوہان وزیر اعلی بنے ہیں تبھی سے کانگریس اور این سی پی میں ٹکراؤ چل رہا ہے۔ پوار اینڈ کمپنی کا الزام ہے کہ کانگریس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھ واڑا میں این سی پی کا اثر کم کرنے کے لئے وہاں کی ساری دیہی اسکیموں کوداؤ پر رکھا ہوا ہے۔ مہاراشٹر سرکار خور شری پوار اور ان کی لڑکی سپریا سلے اور پرفل پٹیل کے چناؤ حلقے میں مختلف اسکیموں کو لٹکانے کی سیاست پر چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کی ملی جلی حکومت ہے۔ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار وزیر مالیات ہونے کے باوجود لاچار مانے جاتے ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کی ساری فائلیں دبائے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شرد پوار کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے وزیر اعلی کے عہد میں ایک سینچائی اسکیم میں الاٹ بجٹ سے 26 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کی جانچ بھی ہے۔ اس پروجیکٹ میں پوار کے رشتے داروں کو ٹھیکے ملے تھے۔ اب اس پروجیکٹ پر ہوئے خرچ کی جانچ کی رفتار کو جہاں پوار سست کرنا چاہتے ہیں وہیں ایک معاملہ مہاراشٹر ہاؤسنگ گھوٹالے سے وابستہ ہے۔ دہلی میں بنے دوسرے مہاراشٹر سدن کی تعمیر کے وقت اس کی اسکیم رقم 52 کروڑ روپے تھی ،آخر میں یہ سدن تیار ہوتے ہوتے اس کی رقم 152 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ مہاراشٹر سدن گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کو لیکر بھاجپا نیتا کرت سمیا نے حال ہی میں صدرسے بھی شکایت کی تھی اس معاملے میں بھی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی چھگن بھجبل کے قریبی رشتے داروں کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر سدن میں گھوٹالے کی بات سامنے آنے پر خود صدر نے اپنے کو اس کے افتتاحی پروگرام سے الگ کرلیا۔ شرد پوار کو اندیشہ ہے کہ جس طرح بھاجپا اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے اس سے بھی معاملے کی جانچ ہوئی تو ان کی پارٹی کیلئے پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے۔پرفل پٹیل پر بھی طرح طرح کے الزام ہیں۔ خود شرد پوار کے وزیر ذراعت کی حیثیت سے غذائی درآمد برآمد کے معاملے بھی تنازعوں میں ہیں اس لئے لڑائی کی جڑ نمبر دو کی حیثیت کی نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ سنگین ہے جو اتنی آسانی سے شاید ہی سلجھ پائے۔ دراصل شرد پوار کو اس بات کی فکر ہے کہ کہیں کانگریس لیڈر شپ اس سال کے آخر تک لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ نہ کروالے۔ پھر مہاراشٹر اسمبلی کے چناؤ بھی 2014ء میں ہونے ہیں۔ ویسے لوک سبھا چناؤ اگر اپنے مقررہ وقت اپریل2014ء میں ہوتے ہیں تو مہاراشٹر اسمبلی چناؤ اکتوبر 2014ء میں ہوں گے۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں این سی پی کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر اسمبلی چناؤ پر بھی سیدھا پڑ سکتا ہے۔ سوال تو اب مہاراشٹر میں کانگریس ۔این سی پی اتحاد سرکار کے مستقبل کو لیکر بھی کھڑا ہورہا ہے۔ دوسری طرف شیو سینا میں آئی دراڑ ختم ہوچکی ہے۔ راج ٹھاکرے اور اوددھو ٹھاکرے کے درمیان بھی دوریاں کم ہورہی ہیں۔ اگر شیو سینا ایک ہوجاتی ہے تو شیو سینا ، ایم این ایس اور بھاجپا مہاراشٹر میں کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کی چھٹی کر سکتی ہے۔اس لئے معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ یہ لڑائی صرف نمبر دو کی حیثیت کی نہیں اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

18 جولائی 2012

سرکار میں نمبر2-کی لڑائی کھل کر سامنے آئی

میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ مسٹر پرنب مکھرجی کے یوپی اے سرکار سے رخصت ہونے کے بعد سے اس منموہن سنگھ سرکار کو چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ پرنب دا اس حکومت کے سنکٹ موچک تھے وہ ہر سیاسی مسئلے کا حل نکال لیا کرتے تھے۔ اب منموہن سرکار کو پرنب بابو کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ سلسلہ شروع ہوبھی گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبر دو کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبردو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکھرجی کے صدر کے عہدے کے امیدوار بننے کے بعد ان کی کرسی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ پرنب کے سرکار سے باہر جانے کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار کی جگہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو وزیر اعظم کے بعد نمبردو کی جگہ دینے کا اشو یوپی اے اتحاد میں رسہ کشی کا سبب بن گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد منہ کھولنے والے مراٹھا سردار شرد پوار نے نائب صدر چناؤ کے لئے بلائی گئی میٹنگ سے دور رہ کر اپوزیشن کو یوپی اے کے اتحاد پرسوال اٹھانے کا ایک اور موقعہ دے دیا ہے۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر ذراعت شرد پوار یوپی اے I اورII میں کیبنٹ کی سینیرٹی میں پرنب مکھرجی کے بعد وہ آتے تھے۔ مکھرجی کے سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد نمبردو کی حیثیت انہیں ملنی چاہئے۔ مکھرجی کے استعفے کے بعد ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں شردپوار کو وزیر اعظم کی بغل میں بٹھایاگیا۔ پی ایم او کی وزرا کی سیریز والی ویب سائٹ سے بھی ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا مگر بعد میں ویب سائٹ سے فہرست ہٹا دی گئی۔ ادھر میٹنگ کے دو دن بعد کیبنٹ میں وزرا کی سینیرٹی کے زمرے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو سرکار میں نمبردو بنا دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں این سی پی نے سنیچر کو نائب صدر کا امیدوار طے کرنے کیلئے بلائی گئی یوپی اے کی میٹنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا۔ این سی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کیبنٹ میں سینیرٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نیتا نے کہا کہ این سی پی ایسی پارٹی نہیں ہے جو چھوٹے چھوٹے اشوز پر ہنگامہ کرتی آئی ہے لیکن ایسا رویہ ہماری بے عزتی ہے اور ہم یہ بے عزتی برداشت کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔ این سی پی نے کبھی بھی اس سے پہلے کیبنٹ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے اور وجہ ہے شرد پوار کی بے عزتی۔ اپوزیشن نے اسے یوپی اے میں بکھراؤ کا ایک اور اشارہ دے دیا ہے۔ بھاجپا سکریٹری جنرل مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس اتحادی دھرم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدارتی چناؤ کے بعد یوپی اے ٹوٹ جائے گا اور دیش کو وسط مدتی چناؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوار کا تجربہ اور سینیرٹی پرنب مکھرجی کے برابر ہے۔این سی پی کے ایک نیتا نے کہا کہ اس مسئلے پر رسمی خانہ پوری سے پارٹی اپنی طرف سے کانگریس سے کوئی بات نہیں کرے گی لیکن جو ہوا وہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔

27 نومبر 2011

شرد پوار کو تھپڑآخر کیوں پڑا؟



Published On 27th November 2011
انل نریندر
جمعرات کو نئی دہلی کے این ڈی ایم سی سینٹر میں افکو کے ایک پروگرام میں بطور مہمان خصوصی آئے مرکزی وزیر زراعت نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس دن ان کے ساتھ کیا گذرنے والی ہے۔ پروگرام کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے کیلئے پوار جب باہر کی طرف نکلے تو تبھی ایک سکھ شخص نے آگے بڑھ کر ان کے گال پر طمانچہ جڑدیا۔ پوار کو سمجھ میں نہیں آیا آخر اچانک ہوا کیا۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئے۔ وزیر کے اسٹاف کی دھکا مکی سے ناراض اس شخص نے اپنی کرپان نکال لی اور احتجاج کے طور پر اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے کی کوشش کی۔ این ڈی ایم سی کے گارڈوں نے اس شخص کو بڑی مشکل سے قابو کر پولیس کے حوالے کیا۔ حملہ آور کا نام ہروندر سنگھ ہے اور وہ دہلی کے وجے وہار میں رہتا ہے۔ وہ نعرے لگا رہا تھا ''و ہ بھرشٹ ہیں ، میں یہاں منتری کو تھپڑ ہی مارنے آیا تھا،وہ سبھی بدعنوان ہیں۔ اس نے آگے کہا کہ آج گورو تیغ بہادر کی شہادت کا دن ہے۔ حالات اور بھی برے ہوسکتے تھے میں نے ہی روہنی عدالت میں سکھرام کو بھی مارا تھا۔ میں سکھ ہوں ،چپل نہیں ماروں گا، صرف بھاشن دیتے ہیں بھگت سنگھ کو بھول گئے جس نے قربانی دی، مارو مارو مجھے خوب مارو میں پاگل ہوں۔ ان کے پاس گھوٹالے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میں غلط نہیں ہوں۔
شرد پوارپر طمانچے کی گونج نے دہلی کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن نے اس واقعے کی مذمت کی ہے لیکن اسے مہنگائی سے پیدا غصہ قراردے کر سرکار پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وہیں کانگریس نے اس واقعے کے لئے بھاجپا نیتا یشونت سنگھ کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پوار سے بات چیت کر پورے واقعے کی مذمت کی۔ کانگریس کے پارلیمانی وزیر ہریش راوت نے کہا یشونت سنہا کے بیان ' مہنگائی نہیں رکی تو تشدد ہوگا'واپس لینا چاہئے۔ایسی رائے بنانا غلط ہے وہیں بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا کہ یہ شخص میرے بیان سے پہلے ہی سکھرام کو تھپڑ مار چکا ہے۔ ایسے میں اسے مجھ سے جوڑا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج کا تبصرہ تھا کہ بھاجپا اس کی مذمت کرتی ہے۔عدم تشددکے ذریعے ناراضگی جتائی جانا چاہئے۔پوار عمر کے سبب احترام کے لائق ہیں وہیں سب سے دلچسپ تبصرہ انا ہزارے کا تھا۔ انہوں نے پوار پر حملے کی اطلاع ملنے پر پہلے رد عمل کے طور پر پوچھا کہ ''صرف ایک تھپڑ؟'' بعد میں انہوں نے اس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پوار کو تھپڑ پڑنا جمہوریت پر طمانچہ ہے۔ جنتا میں اس واقعہ ا کیا رد عمل ہوا ہے کچھ تبصرے پیش ہیں۔مرکزی وزیر شرد پوار کو پڑا تھپڑ کسی نیتا یا منتری پر نہیں بلکہ ان کے ذریعے بنائے گئے سسٹم پر ہے جس سے عام لوگوں کا پورا بجٹ بگڑ گیا ہے۔ وہ عام آدمی کیا کرے جس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ہو۔ دہلی والوں نے اسی طرح کی رائے زنی کی ہے۔ مہنگائی گھروں کے کچن کے ساتھ لوگوں کے خوابوں پر بھی حملہ کررہی ہے۔ایک انسان اپنے بچے کو پڑھا کر کچھ بنانے کے خواب دیکھنے سے پہلے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے پیسے کیسے کیسے بچائیں۔ کیرل کی ایک طالباکا نظریہ ہے میور وہار کی ایک ورکنگ خاتون نے کہا یہ تھپڑ ایک عام آدمی کا نہیں پورے دیش کی جنتا کا ہے ۔ دیش کے نیتاؤں اور وزرا کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جنتا اپنے طریقے سے جواب دینا سیکھ رہی ہے۔ اسے پانچ سال تک بہلا پھسلا کر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ کوٹلہ فیروز شاہ کی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ پریشانی ہے تو لوگ ایسا کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ وزیر دفتر میں بیٹھ کر جو پالیسی تیار کرتے ہیں وہ عام آدمی کی کمر توڑنے والی ہوتی ہے ایسے میں لوگ کیا کریں ۔ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ سیوا نگر میں ایک سیاسی ورکر کا کہنا تھا پریشانی اپنی جگہ ہے لیکن ہر جگہ تھپڑ مارنا ٹھیک نہیں ہے۔ سبق سکھانا ہے تو چناؤ میں سکھائیں۔ لوگ بھی کیا کریں جب ان کے نمائندے امید پر کھرے نہیں اترتے تو وہ تیش میں آجاتے ہیں اور یہی تیش تھپڑ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک تاجر کی رائے تھی سرکار جب سورہی ہو تو اسے جگانے کیلئے اس بہتر طریقہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل آر کے شرما کا خیال ہے کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے۔ وزیر ، نیتا اور ان کے رشتے دار کروڑوں اربوں میں کھیل رہے ہیں ۔ عام آدمی بھرپیٹ کھانے سے پہلے بھی سوچتا ہے کہ حالت خطرناک ہے اور دیش کے پالیسی سازوں کو اب سنجیدگی سے جنتا کے دکھ درد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میکس ہسپتال کے ڈاکٹر سمیر پاریکھ کا کہنا ہے کہ اپنی ناراضگی نکالنے کا یہ طریقہ کاپی کیٹ یعنی نقل کرنا کہا جاسکتا ہے۔ جب لوگ دوسرے کی نقل کرتے ہیں وہ کسی پر حملہ کرتے ہیں اور اسے چوٹ پہنچاتے ہیں تو وہ ایک بھدی پبلسٹی کے بھوکے ہوتے ہیں۔ حملہ کرنے والا پہلے کے واقعے سے کہیں نہ کہیں ضرور ترغیب پا چکا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اسے بھی لوگوں کی توجہ مل سکتی ہے۔
شرد پوار پر ہوئے حملے سے سیاسی پارہ بھی تیز ہوگا۔ پوار کی پارٹی این سی پی اندر خانے کانگریس سے سخت خفا ہے ۔ اسے لگ رہا ہے کہ جس طرح سے کانگریس نے پوار کو مہنگائی کی علامت بنایا ہے اس کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ اگرچہ فوری طور پر کانگریس کے نیتا پوار کے بچاؤ میں اترے لیکن این سی پی اس واقعے سے بہت مایوس ہے۔ وزیر ہیوی صنعت پرفل پٹیل نے کہا بڑے نیتاؤں کی سلامتی پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے اور ان پر حملے کے بعد مہاراشٹر میں کچھ علاقوں میں پارٹی ورکروں کے مشتعل رویئے پر پٹیل نے صبر و تحمل رکھنے کی اپیل کی۔ معاملے کے پیچھے بھاجپا کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ ہے اس بارے میں پارٹی اس لئے بھی ناراض ہے کہ کانگریس مسلسل مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار کو ہی آگے رکھتی تھی۔ بیشک بدعنوانی اور مہنگائی سے دیش پریشان ہے اور غصے میں ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ہم چاروں طرف آگ لگانا شروع کردیں اور جو سامنے آئے اس پر ٹوٹ پڑیں۔ اس سے حل تو کیا نکلے گا ہاں چاروں طرف بدامنی ضرور پھیل جائیگی۔ وہیں سیاستدانوں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عوام کا موڈ کیا ہے۔ ہمارے سامنے مشرقی ایشیا کی مثال ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری نے دیش میں آگ لگا دی ہے۔ سیاستدانوں کو اس ٹرینڈ سے ڈرنا چاہئے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, Manmohan Singh, NCP, Sharad Pawar, Sonia Gandhi, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yashwant Sinha

22 اکتوبر 2011

نہ تو میں مہنگائی کیلئے ذمہ دار ہوں نہ ہی اسے کم کرسکتا ہوں




Published On 22nd October 2011
انل نریندر
مسٹر منموہن سنگھ کی یہ یوپی اے حکومت کمال کی ہے۔ اس حکومت میں کسی بھی وزیر کے جو نظریات ہوں وہ انہیں کہہ ہی دیتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ایسے بیانوں کو اتحادی مجبوری کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن ان سے پتہ چلتا ہے کہ منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں ان کی کتنی عزت ہے اور وہ کتنے طاقتور ہیں۔ ضمنی چناؤ میں ملی کراری شکست کے بعد اب کانگریس کی ساتھی پارٹیوں نے بھی وزیر اعظم اور کانگریسی پارٹیوں کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا ہے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ پر ملی ہار سے بوکھلا گئے وزیر ذراعت شرد پوار نے براہ راست وزیر اعظم پر ہی حملہ بول دیا ہے۔پوار نے ایک مراٹھی روزنامے کی طرف سے ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ پچھلے دنوں مختلف گھوٹالوں کے سلسلے میں سرکار نے مضبوط لیڈر شپ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پوار نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے سلسلے میں جنتا یہ سوال پوچھ رہی تھی کہ پردھان منتری پورے معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسے وقت جبکہ لیڈرشپ کو مضبوطی کے ساتھ اس کی صفائی دینی چاہئے تھی مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے آگے کہا مختلف گھوٹالوں کے سبب عوامی رائے مرکزی حکومت کے خلاف گئی ہے اور اس سے سرکار کی ساکھ کو دھکا لگا۔ سرکار کی سست روی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدلیہ نے انتہائی سرگرمی دکھاتے ہوئے مختلف قدم اٹھائے۔ انا ہزارے اور یوگ گورو بابا رام دیو کے بھرشٹاچار مخالف آندولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں منتخب نمائندوں کو پوری طاقت سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دیگر طاقتوں کو سامنے آنے کا موقعہ ملے گا جو جمہوری نظام کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ شرد پوار یہیں نہیں رکے، بدھوار کو نئی دہلی میں اقتصادیات کے مدیروں کی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ نہ تو میں مہنگائی کے لئے ذمہ دار ہوں اور نہ ہی اسے کم کرنا میرا کام ہے۔ میں وزیر زراعت یعنی ایک کسان ہوں اور میرا کام اناج پیدا کرنا ہے۔ میری وزارت کی یہ بھی کوشش رہتی ہے کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہم کو شرد پوار کی باتیں سن کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ پہلے بھی کانگریس لیڈرشپ پر سیدھے حملے کرچکے ہیں۔ اگر ایسے بیانوں کا اپوزیشن پارٹی فائدہ اٹھائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ بھاجپا پوار کے بیان سے خوش ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یوپی اے ڈوبتا جہاز ہے اور اب اس سے بھاگنے کی سبھی پارٹیاں کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے وزیر اعظم کے ساتھ بنگلہ دیش جانے سے انکار کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ بڑی اتحادی پارٹی اور وزیر زراعت شرد پوار یوپی اے کو چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک سینئر وزیر اپنے ہی وزیر اعظم اور سرکار کی پالیسیوں پر اس طرح کے سوال اٹھاتا ہے تو مجموعی ذمہ داری کہاں گئی؟ ذمہ داری کی بات کریں تو شری پوار تو صاف کہتے ہیں کہ مہنگائی کم کرنا میرا کام نہیں۔ اگر یہ کام شرد پوار کا نہیں تو کس کا ہے؟ اور اگر وہ اپنی سرکار کی پالیسیوں سے اتنے ناخوش ہیں اور متفق ہیں تو انہیں سرکار میں رہنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں نہیں شرد پوار منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے دیتے۔ ہمیں پردھان منتری پر بھی رحم آتا ہے جو وزیر اعظم اپنے سینئر وزرا پر لگام نہیں کس سکتا وہ پورے دیش کو کیسے چلا سکتا ہے؟ جیسے دیش چل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہی ہے۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Price Rise, Sharad Pawar, UPA, Vir Arjun

01 ستمبر 2011

کھیل تنظیموں پر لگام والے بل کا یہی حشر ہونا تھا


Published On 2nd September 2011
انل نریندر
جب بات سیاستدانوں پر لگام کسنے کی ہو تو بھلا بات کیسے بن سکتی ہے؟ جی ہاں منگل کے روز وزیر اعظم کی موجودگی میں ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں قومی کھیل ڈیولپمنٹ بل کا جو حال ہوا اس سے تو یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی سرگرمیوں پر یہ کھیل مٹھادھیش کسی بھی طرح کی روک لگانے کی مخالفت جم کر کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ کیبنٹ میٹنگ کا چیئرمین کون ہے۔ غالباً یہ پہلی بار ہوا ہوگا جب وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی ہی کیبنٹ میں ایک سیاسی چیلنج ملا ہو۔ وزیر کھیل اجے ماکن نے ماہ فروری میں اعلان کیا تھا کہ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) سمیت تمام کھیل فیڈریشنوں کو ایک نئے ضابطے کے تحت لانے کیلئے وزیر ایک بل لائے گی۔ منگل کے روز کیبنٹ میں اجے ماکن نے یہ بل رکھا تھا۔ اس میں یہ تجویز بھی تھی کہ بی سی سی آئی بھی آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں آئے تاکہ اس میں زیادہ شفافیت دکھائی پڑے۔ وزارت نے کھیل فیڈریشنوں کے وابستہ عہدیداران کے لئے زیادہ تر عمر اور میعار کے کنٹرول کے بھی قواعدرکھے۔ دیش کی کھیل کی حالت اور سمت طے کرنے کیلئے تنظیموں کی لگام کسنے کے مقصد سے لائے گئے اس بل کی یہ بری حالت طے ہی تھی کیونکہ کھیل تنظیموں کو بے لگام دوڑارہے کئی سیاسی دھرندروں کو یہ اپنا کھیل بگاڑنے کا اوزار نظر آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں کیبنٹ کی میٹنگ میں اس بل کے مستقبل طے کررہے سیاسی کھلاڑیو ں کے ہاتھ سے اسے ہری جھنڈی کیسے مل جاتی۔ بل کو لیکر سب سے زیادہ ناراض وزیر زراعت شرد پوار تھے۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین ہیں۔ وہ اس تجویز سے خاصے خفا تھے کہ کھیل فیڈریشنوں کو عہدیداران کے لئے70 سال سے زائد عمر طے کردی گئی ہے۔ بزرگ ہوگئے پوار نے عمر کی حد کی اس تجویز پر وزیر کھیل کے طریقے پر سوال اٹھائے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر 70 سال کی عمر کے بعد مانا جاتا ہے کہ کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوسکتا تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کمرے میں 70 سال کی عمر پار کر گئے کسی شخص کو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے تنقید کی کہ وہ تو70 پارکرچکے ہیں۔ وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم کی جانب دیکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔فاروق عبداللہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ کیبنٹ میں اس بل کو لیکر شرد پوار ، پرفل پٹیل، کملناتھ اور ولاس راؤ دیشمکھ نے بھی اپنا احتجاج ظاہر کیا اس لئے وزیر اعظم کو وزیر کھیل سے یہ کہنا پڑا کہ اس بل کا ڈرافٹ دوبارہ لائیں اور اس میں سے وہ تجویز ہٹا دیں جن کولیکر ساتھی وزیر ناراض ہیں۔ وزیر کھیل اجے ماکن نے شفافیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بل کی حمایت کی لیکن پوار،کملناتھ، سی پی جوشی ،ولاس راؤ دیشمکھ ، پرفل پٹیل جیسے کئی نیتاؤں کے احتجاج نے راستہ روک دیا۔ خیال رہے سی پی جوشی راجستھان کرکٹ بورڈ کے ولاس راؤ دیشمکھ ممبئی کرکٹ بورڈ کے جبکہ پٹیل بھارتیہ فٹ بال فیڈریشن میں بطور چیئرمین قابض ہیں۔ اس سے پہلے وزیر پارلیمانی امور و بی سی سی آئی کے ڈپٹی چیئرمین راجیو شکلا نے بھی اس پر اعتراض ظاہر کیا۔ اپوزیشن کے انوراگ ٹھاکر و وجے کمار ملہوترہ بھی احتجاج میں شامل تھے۔ اس واقعے کے سلسلے میں کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں جو بل وزیر اعظم، وزیر مالیات ، وزیر خزانہ کی خاص پہل پر لایا گیا ہو اس پر کیبنٹ کے پانچ وزیروں نے بلڈوزر چلا دیا ہو، یہ معمولی بات نہیں مانی جاسکتی۔ اس سے وزیر اعظم کی اپنی کیبنٹ پر پکڑ کے سوال بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کیبنٹ میں شرد پوار کا یہ کہنا کہ اس کمرے میں بھی تو70 سال کے بزرگ بیٹھے ہیں ، سیدھے طور پر وزیر اعظم کو چیلنج تھا۔ پوار یہاں تک نہیں رکے انہوں نے یہ بھی دھمکی دے دی کہ اگر کیبنٹ میںیہ پرستاؤ منظور ہوگیا تو وہ اس معاملے کی شکایت یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے پاس لے جائیں گے۔ پوار کے تیور دیکھ کر پرنب مکرجی بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مجوزہ بل کے خلاف بھاجپا کے ارون جیٹلی، وجے کمار ملہوترہ، یشونت سنہا، انوراگ ٹھاکر جیسے سرکردہ نیتا بھی ہیں کیونکہ یہ لوگ بھی کئی کھیل تنظیموں میں دہائیوں سے گھس پیٹھ بنائے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم کے لئے اتنا ہی غنیمت رہا کہ اپوزیشن اس معاملے میں حکومت کو گھیرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جو گنے چنے نیتا اس کی حمایت کررہے تھے ان میں لالو پرساد یادو، کیرتی آزاد۔ کھیل ڈولپمنٹ بل کی کئی شقیں ایسی ہیں جو برسوں سے کھیل تنظیم کی کرسی سنبھال کر ملائی کھا رہے سیاسی دھرندروں کا پتا صاف کرسکتی ہیں۔ مجوزہ بل نے کھیل کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ خاص کر کرکٹ کی دنیا میں۔ سنیل گواسکر جیسے سرکردہ کرکٹر نے کہا کہ اگر بی سی سی آئی کو کچھ چھپانا نہیں ہے تو وہ آر ٹی آئی کے دائرے میں آنے سے اتنا کیوں گھبراتی ہے۔ کپل دیو کا کہنا ہے جب بی سی سی آئی سرکار سے کوئی گرانٹ نہیں لیتی تو اسے آر ٹی آئی میں کیسے لیا جاسکتا ہے؟ دراصل مجوزہ بل میں سی بی سی آئی کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کرکٹرز کو بھی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے تحت لانے کی سہولت ہے۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے حکومت اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہی ہے جبکہ حکومت کی دلیل ہے کہ وہ اسے جوابدہی اور شفاف بنانا چاہتی ہے۔ غور طلب ہے کہ بی سی سی آئی اپنے آپ میں ایک مختار ادارہ ہے جو اپنا فنڈ خود ہی اکٹھا کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سرکار سے وہ ٹیکس میں چھوٹ یا دیگر دوسری سہولتیں لیتی رہتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے اس تنظیم پر کئی طرح کے الزام لگ رہے ہیں۔ خاص طور پر آئی پی ایل انعقاد میں وہ سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے۔ اس لئے کئی لوگ مانگ کرنے لگے ہیں کہ کرکٹ جیسے سب سے مقبول کھیل کو چلانے والی اس تنظیم کے کام کاج میں شفافیت لائی جائے تاکہ پورا دیش اس پر نظر رکھ سکے۔ ہندوستان کا کرکٹ محض ایک کھیل نہیں ، یہ دیش کی سوشل لائف کے ساتھ دیش کی معیشت کو بھی اچھی طرح سے متاثر کرتا ہے۔ اس لئے اس سیکٹر کو بغیر کسی ریگولیشن کے چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ اگر نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ بل پاس ہوا تو بی سی سی آئی کا درجہ بھی دیش کی دیگر کھیل فیڈریشنوں کے برابر ہوجائے گا اور اسکا کنٹرول بھی انہیں کی طرح ہوگا۔ لیکن کرکٹروں کے ایک طبقے کی دلیل ہے کہ بی سی سی آئی کو اور فیڈریشنوں کی طرح بنانا ہوگا۔یہ سمجھداری والا قدم نہیں ہوگا۔ فیڈریشنوں میں بیشک کچھ خامیاں ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہوں نے کھیلوں کو کہاں تک پہنچایا ہے۔ آج کھیل کی دنیا میں بھارت کا نام ہے یہ کچھ حد تک اس لئے بھی ممکن ہوا کیونکہ بی سی سی آئی نے بغیر کسی مداخلت کے اپنے طریقے سے کام کرکے انعام دیکر بھارتیہ کرکٹ کو دنیا کی اول ٹیموں میں سے ایک بنایا ہے۔ اسی طرح اور کھیل بھی ہیں جن کی کارکردگی پچھلے ایشیائی کھیلوں میں دیکھنے کو ملی ،مگر اس پر کنٹرول لگانے کی کوشش کی تو ہو سکتا ہے اس کا بھی منفی اثر کھیلوں پر پڑے۔ دراصل دونوں فریق اپنے اپنے مضبوط دلائل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لئے ہڑبڑی میں کچھ کرنا خطرنا ک ہوسکتا ہے۔ اگر بی سی سی آئی جیسے ادارے کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانا ہے تو پہلے اس قانون میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی۔ اس مسئلے پر مزید بحث درکار ہے۔ سبھی فریقین کی رائے جان کر ہی کوئی فیصلہ لینا بہتر ہوگا۔

10 جون 2011

وزیراعظم کی وزرا پر نکیل کسنے کی کوشش کا خیر مقدم


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
10 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کالی کمائی اور بدعنوانی کے خلاف بڑھتے چوطرفہ دباؤ سے گھری منموہن سرکار پریشان لگ رہی ہے۔ خاص کر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ۔ وہ اپنی حکومت کی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے اب قدم اٹھانے کی بات کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہے اپنے وزرا کو املاک کی تفصیل ظاہر کرنے کی ہدایت دینا۔ وزیر اعظم کا یہ قدم اعلی سطح پر انتظامیہ نے شفافیت لانے کی سمت میں انتہائی اہم مانا جارہا ہے۔منموہن سنگھ نے اپنے وزراء کے لئے ضابطہ رہنما اصول جاری کئے ہیں۔ ان کے تحت ہر وزیر کو اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی املاک کی تفاصیل دینی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں وزراء کو اپنے مفادات کی بھی جانکاری دینی ہوگی۔ مثلاً اگر کسی وزیر کا رشتہ دار غیر ملکی کمپنی میں کام کرتا ہے تو اس کی پوری تفصیل بھی دینی ہوگی اور سرکار سے اس کی پہلے سے منظوری لینی ہوگی۔ ریاستوں کو بھی یہ فرمان لاگو کرنا ہوگا۔ انہیں 31 اگست تک وزراء کو اپنی املاک کی تفصیل دینے کو کہا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے سبھی وزراء کو خط لکھ کر اپنی املاک اور سالانہ کمائی ہی نہیں بلکہ اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ ان کے بچوں, رشتہ داروں کے نام ہوئی املاک کو بھی ظاہر کرنے کیلئے کہا ہے۔اتنا ہی نہیں وزراء کو اس بار خاص طور سے کارپوریٹ دنیا سے اپنے کاروباری رشتوں ،روابط کا خلاصہ کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنی کوئی فرم شروع کرتا ہے یا پھر کسی کاروباری فرم کے بورڈ کا ممبر بنتا ہے تو اس کی جانکاری بھی سرکار کو دینی ہوگی۔ضابطے کے تحت سبھی وزراء کو پراپرٹی، دینداریوں، کاروباری مفادات اور دیگر کنبے کے غیر ملکی سرکار یا تنظیم کے تحت روزگار سے متعلق معلومات بھی دینی ہوگی۔ تفصیل میں منقولہ غیر منقولہ املاک، نقدی، زیور، حصص اور جمع رقم کی بھی تفصیل بیان کرنی شامل ہے۔
وجہ کچھ بھی رہی ہو چاہے وہ بابا رام دیو کی تحریک کا دباؤ ہو یا پھر انا ہزارے کا دباؤ۔ وزیر اعظم کے اس قدم کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ منموہن سرکار میں کئی کروڑ پتی وزیر پہلے ہی سے موجود ہیں۔ نیشنل الیکشن واچ کی ایک رپورٹ جو وزراء کے ذریعے 2009 ء میں داخل حلف نامے پر مبنی ہے، کا کہنا ہے کہ شری پرفل پٹیل پہلے ہی 79.9 کروڑ کی املاک کے مالک ہیں۔ کپل سبل 31.97 کروڑ اور وی سینٹ پالا25.16 کروڑ، ویر بھدر سنگھ22.52 کروڑ روپے کے پراپرٹی کے مالک ہیں۔یوپی اے سرکار میں اس وقت47 وزیر کروڑ پتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے کھلنائک اور سابق وزیر اے راجا کے معاملے میں پردے کے پیچھے کچھ صنعتی گھرانوں سے ان کی سانٹھ گانٹھ اور انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم کے خریدنے کیلئے شرد پوار کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی سپریہ پھلے اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی وجہ سے سرکار کی فضیحت ہوئی تھی۔شاید وزیر اعظم کی نئی ہدایات کا سبب یہ ہی ہوسکتا ہے۔جہاں ہم وزیراعظم کے اس قدم کا خیرم مقدم کرتے ہیں وہی یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ نوکر شاہوں پر بھی نکیل کسنی چاہئے۔ وزراء سے کہیں زیادہ افسر شاہی نے لوٹ کھسوٹ مچائی ہوئی ہے۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Kapil Sibal, Manmohan Singh, Praful Patel, Sharad Pawar, Vir Arjun, Virbhadr Singh

19 مئی 2011

کانگریس کے پاس موقعہ ہے پوار اینڈ کمپنی کو صحیح اوقات دکھائے

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 19مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چنائو کے دوران جس طرح لیفٹ فرنٹ کا مغربی بنگال میں اور تاملناڈو میں ڈی ایم کے کا صفایا ہوا ہے اس سے این سی پی صدمے کی حالت میں آگئی ہے۔ اگر ہے تو وہ فطری ہی ہے۔ پارٹی کے ورکروں میں اب یہ ہی تذکرہ چل رہا ہے کہ ڈی ایم کے کی ہار کی وجہ ٹو جی اسپیکٹرم بدعنوانی گھوٹالہ تھا تو این سی پی نیتا شرد پوار تو کئی معاملوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آئی پی ایس، ٹو جی اسپیکٹرم، لواسا جیسے کئی متنازعہ معاملوں میں جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر چلے آرہے مراٹھا پتر شرد پوار کو جنتا کیسے بخشے گی؟ اکیلے پوار ہی نہیں بلکہ پرفل پٹیل کے بھی متنازعہ اشخاص بلوا ، حسن علی سے رشتوں کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔ ایئر انڈیا اسکینڈل بھی سامنے آچکا ہے۔ این سی پی اپنے استھاپنا دیوس10 جون کو ممبئی میں دلتوں کی ایک بڑی کانفرنس کرنے کی تیاری میں لگی ہوئی ہے لیکن کانگریس این سی پی کے خیمے سے آر پی آئی کے اٹھاولے گروپ کو اپنی طرف راغب کرلینے والے بھاجپا۔ شیو سینا محاذ نے ٹھیک ایک دن پہلے بدعنوانی مخالف کانفرنس کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ مہاراشٹر کے کوآپریٹو بینک کے ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے میں گلے تک ڈوبی نظر آرئی راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نیتا یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ پارٹی کے یوم تاسیس سے پہلے وہ اپنے ورکروں کو کیا پیغام دیں؟ یہاںتک کہ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے دیہی علاقوں میں پارٹی کو ورکروںکی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی پردیش آفس پر بھی ورکروں کی بھیڑ لگاتار کم ہورہی ہے اور جو لوگ وہاں دکھائی دے رہے ہیں ان کے چہرے پر بھی پانچ ریاستوں کے اسمبلی نتائج نے اداسی لا دی ہے۔ پنے سے آئے ایک سینئر کانریسی لیڈر نے بتایا کہ این سی پی نے اگراپنی ساکھ کو درست کرنے کے لئے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا یا تو ونائک دیشمکھ کی دیکھا دیکھی این سی پی کے تمام لیڈر اس سال کے آخر سے شروع ہورہے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات سے پہلے کانگریس کو زبردست جھٹکا لگا سکتے ہیں۔
کانگریس کے لئے یہ موقعہ اچھا ہے شرد پوار سے ہمیشہ کے لئے نمٹ لیں۔شرد پوار کی پارٹی این سی پی کی تشکیل کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ کانگریس نے اس کی سرزمین میں شگر لابی پر سخت حملہ کیا ہے مگر پوار کانگتیس کو کوئی کرارا جواب دینے کے بجائے اس کی چاپلوسی کرتے نظر آرہے ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے غیر ملکی نژاد مسئلے کو چھیڑ کر الگ پارٹی بنانے والے شرد پوار کانگریس کے ہی ساتھ مل کر پچھلے12 سال سے مہاراشٹر کے اقتدار اور 6 سال سے مرکز میں اقتدار کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اتحادی پارٹی ہونے کے باوجود پوار اپنی عادت کے مطابق وقتاً فوقتاً کانگریس کو انگلی کرتے ہی رہتے ہیں۔ وزارت زراعت نے ان کی پالیسیوں اور چالبازیوں نے دیش کو زبردست مہنگائی کے دہانی پر لا کھڑا کیا ہے لیکن پوار نے یہ بتانے میں کوئی قباحت نہیں کی کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اس کے لئے پورے ذمہ دار ہیں۔ کانگریس کو شرد پوار ڈبا سکتے ہیں انہوں نے پہلے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ یہ موقعہ اچھا ہے اگر کانگریس تھوڑی ہمت کرلے تو شرد پوار کو صحیح اوقات دکھا سکتی ہے۔ وزارت زراعت اور پرفل پٹیل کی وزارت اس جھٹکے میں بد ل دی جانی چاہئے۔

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...