Translater
04 نومبر 2020
شادی صرف تبدیلی مذہب کے لئے قبول نہیں !
ان دنوں الہٰ آباد ہائی کورٹ سے کئی فیصلہ آرہے ہیں پہلے گﺅ ہتھیا قانو ن کے بیجا استعمال پر آیا اب تبدیلی مذہب معاملے میں اسی کورٹ نے کہا صرف شادی کے لئے مذہب تبدیل کیا گیا تبدیلی مذہب قبول نہیں ہے ۔ عدالت نے شادی شدہ میاں بیوی کی پولس حفاظت کی مانگ سے متعلق عرضی کو خارج کردیا اس معاملے میں مسلم لڑکی نے مذہب بدل کر ہندو لڑکے سے شادی کی تھی ۔ جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی کے سامنے پیش عرضی میں پرینکا عرف سبرین اور ان کے شوہر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے مگر لڑکی کے والد اس سے خوش نہیں ہیں میاں بیوی نے پولس سیکورٹی اور ان کے ازدواجی زندگی میں دخل نہ دینے کی درخواست دی تھی جج نے آئین کی دفع 226کے تحت معاملے کے مداخلت سے انکار کر دیا ۔ جسٹس ترپاٹھی نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے کہ 2014کے نو جہاں بیگم معاملے نے کورٹ نے سوال اٹھایا تھا کیا صرف شادی کے لئے تبدیل کیا گیا مذہب تسلیم ہے ۔ تب مذہب بدلنے والوں کو اگلے مذہب کی نا تو کوئی جانکا ری ہے اور نہ ہی اس میں عقیدت اور یقین ۔ سماعت کے دوران ترپاٹھی نے کہا اس معاملے کو پڑھنے صاف ہے کہ لڑکی پیدائش سے مسلم ہے اور اس نے 29جون 2020کو ہندو مذہب اختیار کیا اور 31جولائی کو ہندو رسم و رواج سے شادی کی اس صاف ہے مذہب شادی کے مقصد سے بدلہ گیا ۔ عدالت نے اس تبدیلی مذہب کو نہ منظور کرتے ہوئے عرضی گزار کو مجسٹریٹ کے سامنے اپنی دلیل دینے کی طول دے دی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں