الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ہیں کیونکہ وہ دیش کے اس آئینی ادارہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑا کرتی ہیں جس پر آزادانہ منصفانہ و شفاف چنائو کرانے اور جمہوریت میں عوام کا بھروسہ بنائے رکھنے کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔بھارت میں چنائو کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ کا تذکرہ پورے دیش میں تو ہو ہی رہا ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا میں بھی یہ خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار سرخیوں میں آگئے ہیں۔ پورے دیش میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہیں بین الاقوامی میڈیا میں اس پر رائے زنیاں بھی شائع ہورہی ہیں۔امریکی میڈیا آئوٹ لیٹ بلوم برگ نے اس اشو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس آئی آر میں جائزووٹروں کے نام ہٹانے اور اس سے چناوی نتیجوں پر اثر پڑنے کا پورا پورا اندیشہ ہے۔ بلوم برگ نے لکھاہے : ستمبر کے آخر میں اس اشو پر پھر سوال اٹھے، جب ا خبار انڈین ایکسپریس نے خبر شائع کی کہ تین چنائو کمشنروں میں سے دو نے اس مہینے میں کم سے کم 14 مرتبہ اس پروسیس کو لیکر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے تشویش جتائی تھی۔ چنائو کمشنر نے اس خبر کی تردید کردی ہے کہ چنائو کمشنروں کے درمیان مبینہ عدم اتفاق نے چنائوکی نگرانی کرانے والے ادارہ پر اور سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل جیت کے بعد ووٹر لسٹ میں صفائی کا سیاسی طور پر اشو بیحد حساس ترین ہوگیا ہے۔اپریل میں مغربی بنگال چنائو سے پہلے ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام ہٹا دئے گئے تھے۔ اس کے بعدبی جے پی نے پہلی بار یہاں بڑی جیت حاصل کی۔پچھلے سال بہار میں بھی لاکھوں لو گوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے تھے اور پچھلے سال ہی اسمبلی چنائو سے پہلے اسی طرح ووٹر لسٹ کی نظرثانی کرائی گئی تھی۔ ووٹروں کے نام جوڑنے اور ہٹانے کے ساتھ ووٹ فہرست کے مینجمنٹ والے سسٹم کے بڑھتی مرکزیت کو لیکر تشویشات پر بلوم برگ نے لکھا ہے دونوں کمشنروں نے یہ بھی کہا کہ کچھ فیصلے لئے گئے اور احکامات جاری کئے گئے لیکن اس کی جانکاری انہیں نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر کے دوران قریب 13 کروڑ لوگوں کے نام ابتدائی ووٹر لسٹ سے ہٹا دئے گئے۔ان میں سے کئی لوگوں کے نام ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کی گئی جو زیادہ تر ابھی بھی التوا میں پڑی ہے۔ اخبار نے لکھا وزیر اعظم نریندر مودی کو 2029 تک لوک سبھا چنائو میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن کچھ ہی مہینے بعد بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی چنائو ہونے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے اسمبلی چنائو ان کی مقبولیت کےلئے ایک اہم سیاسی امتحان ہوگا۔ قطر کے اخبار الجزیرہ نے چنائو کمیشن سے وابستہ خبر شائع ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان آندولن کاریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیش کے چیف الیکشن کمشنر سنیچروار تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ اخبار نیویارک ٹائمس نے بھی اس مسئلہ پر بڑی اہمیت کے ساتھ خبر شائع کی ہے۔ ایس آئی آرسے لیکر اپوزیشن پارٹیوں میں تقسیم اور چناوی سمبل ضبط کرنے اور انہیں تسلیم ہونے تک کہ اشو چھائے۔ ہر جگہ اپوزیشن کو چنائو کمشنر پر سوال اٹھانے کا ایک موقعہ بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے یہ اشو رکنے والا نہیں ہے اور ابھی کئی آندولن دیکھنے کو ملیںگے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جو الزام لگائے ہیں وہ بھی وضاحت کی مانگ کرتے ہیں۔ یہاں سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکردتتا کی رائے زنی بھی بیحد اہم ہے۔ ایک آئینی ادارہ پر اس طرح کے الزام بیحد تشویشناک ہیں۔جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا جواب ملنا ہی چاہئے۔ کیونکہ چنائو کمیشن کے بھروسے پر پوری جمہوری مشینری کے اعتماد کا سوال بھی ہے۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں