Translater

14 جولائی 2018

فیس نہ دینے کی سزا

راجدھانی دہلی کے علاقہ بلیماران کے ایک اسکول رابعہ پبلک اسکول میں فیس جمع نہ کرنے پر 59بچیوں کو اسکول کے تہہ خانے میں پانچ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھنا یہ توہین تو ہے ہی ساتھ ساتھ چونکانے والا واقعہ بھی ہے۔ یہ واقعہ منگل کو اس وقت ہوا جب ساڑھے بارہ بجے والدین بچوں کو لینے اسکول پہنچے تب انہیں پتہ چلا 59 بچیاں کلاس میں نہیں تھیں۔ ٹیچر سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ فیس نہ دینے کی وجہ سے حاضری نہیں لگائی گئی ہے انہیں تہہ خانے میں رکھا گیا ہے۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس فرح ادیبہ خان کے کہنے پر ایسا کیا گیا ہے۔ یہ تو ان دادا نما مہاجنوں جیسی کرتوت ہوگئی ہے جو قرض لینے والوں کو یرغمال بنا کر ان کے رشتے داروں سے کہتے ہیں کہ ھن لاؤ اور اسے واپس لے جاؤ۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس کے دماغ میں اس طرح بچیوں کو ان کی کلاس سے نکال کر تہہ خانے میں بٹھائے رکھنے کا خیال کہاں سے آیا؟ ٹھیک ہے والد ین نے وقت سے فیس جمع نہیں کی یا کچھ نے کئی مہینوں سے فیس نہیں بھری ہوگی لیکن فیس وصولنے کا یہ طریقہ ناقابل قبول ہے۔ اس میں ان معصوم بچوں کی کیا غلطی ہے؟ یہ تو بچوں کا اغوا کرنا ہوگیا ہے۔ اغوا بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے پیسہ دو یرغمال چھوڑدیں گے۔ اس گرمی میں تہہ خانے میں بچوں کو یرغمال بنا کر رکھنے میں ہیڈ مسٹریس ٹیچروں کو شرم نہیں آئی۔یہ واقعہ بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ جہاں کئی پرائیویٹ اسکولوں میں بچوں کے ساتھ کی جارہی غیر انسانی حرکات ایک بانگی ہے وہیں یہ کمرشیلائزیشن کے سبب تعلیم کے مندروں کی گرتی اخلاقی حالت کی بھی علامت ہے۔ بلیماران کے اس اسکول کے انتظامیہ کے خلاف والدین نے پولیس میں معاملہ درج کرایا ہے لیکن پولیس کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اسکول کے انتظامیہ کو اس طرح سے سزا دی جائے کہ وہ دوبارہ کبھی بھی اس طرح کا جرم نہ کرپائیں۔ تعلیم جس طرح ایک کاروبار میں تبدل ہوگئی ہے اس میں اس طرح کا واقعہ غیر فطری نہیں ہے اس طرح کے زیادہ تر واقعات ہمارے سامنے آتے ہی نہیں۔ اگر ایک دو بچیوں کو یرغمال بنانے کا معاملہ ہوتا تو شاید کبھی پتہ نہ چلتا کیونکہ ایک ساتھ 59 بچیوں کا معاملہ ہے اس لئے یہ معاملہ میڈیا اورپولیس کے سامنے آگیا۔ ہمارا خیال ہے سرکاری تعلیمی مشینری کو ایسا بنایا جائے تاکہ نرسری سے لیکر پرائمری و سیکنڈری اسکولوں میں پھر سے توجہ کا مرکز بنیں۔ دہلی سرکار کو اس اسکول کے خلاف کارروائی کر دوسرے اسکولوں کے لئے مثال پیش کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

سٹہ بازی کو روک نہیں سکتے تو اسے جائز ہی کردیں

اگلی مرتبہ اگر آپ کا من انڈین پریمیئر لیگ آئی پی ایل میں کسی ٹیم کو جیتنے پر خاص بولر کے وکٹ لینے پر یا مہندر سنگھ دھونی کے ہیلی کاپٹر سے شاٹ لگانے والے چھکے پر سٹہ لگانا ہو تو یہ کام پولیس یا قانون سے ڈر کر یا چھپاکر شاید نہیں کرنا ہوگا کیونکہ مرکزی لا کمیشن نے کرکٹ سمیت سبھی کھیلوں پر جوئے اور سٹے بازی کو قانونی منظوری دینے کی سفارش کی ہے۔ لاء کمیشن نے براہ راست یا درپردہ ٹیکس سسٹم کے تحت جوا کھیلنے و سٹے بازی کرنے کو منظوری دے کر اسے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ذریعہ بنانے کی سفارش کی ہے۔ لا کمیشن نے اس ہفتے مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد کو سونپی گئی رپورٹ میں گلوبلنگ کو ریگولیٹ کرنے کی سفارش کی ہے۔ حالانکہ اس رپورٹ کو سونپے جانے کے اگلے دن ہی لا کمیشن کے چیئرمین نے وضاحت بیان جاری کردیا۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس بی ایس چوہان کا کہنا ہے کہ لا کمیشن کی تازہ رپورٹ کو غلط سمجھ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صا ف طور پر کہا کہ بھارت میں موجودہ حالات میں سٹے بازی اور جوئے کو جائز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ناجائز سٹے بازی اور جوئے پر پوری طرح پابندی جاری رہنی چاہئے۔ کانگریس نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس نے پوچھا ہے کیا دیش کی ہر پان کی دوکان جوئے کے اڈے میں مودی سرکار بدلنا چاہتی ہے؟ کانگریس نے کہا سرکار جوئے ، سٹے کے ذریعے سے پیڑھیوں کو برباد کرنے کی تیاری میں ہے؟ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ غریب کی زندگی میں جوئے کا زہر کا گھول ، ٹیکس کے لئے مستقبل میں سٹے کا جھولا۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری کا کہنا ہے جہاں ایک طرف کھیل کو نقصان پہنچے گا وہیں دوسری طرف خاندانوں و سماج پر اس کا غلط اثر ہوگا۔ قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے 2016 میں آئینی کمیشن سے کرکٹ میں سٹے بازی جائز کرنے کے اشوز کی جانچ کرنے کے لئے کہا تھا۔ کمیشن نے قانونی ڈھانچہ جوا اور کرکٹ سمیت کھیلوں میں سٹے بازی عنوان سے رپورٹ سونپی ہے۔ لا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ اسے قانون کے تحت لا سکتی ہے۔ کوٹیکس اور ایف ڈی آئی اور اسی سے وابستہ قوانین میں ترمیم کے ذریعے جوا گھروں و آن لائن گیملنگ صنعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکتا ہے۔ کمیشن کا خیال ہے اس سے جہاں دیش میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی وہیں لاکھوں کی تعداد میں روزگار بھی پیدا ہوں گے۔ کمیشن نے جوئے اور سٹے میں لین دین کو کیش لیس بنانے اور منی لانڈرنگ جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے اس میں شامل ہونے والے شخص کے آدھار و پین کارڈ کو لنک کرنے کی سفارش ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں جوا لیگل ہے اور جوا کھیلنے والوں کو چھپ کر یہ کام نہیں کرنا پڑتا۔
(انل نریندر)

13 جولائی 2018

ایک بار پھر سپریم کورٹ کی پناہ میں

دہلی میں افسر شاہی کے تبادلہ کا حق کسے ہے؟ دہلی سرکار یا دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس، اسے لیکر دہلی سرکار نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ایل جی سے اختیارات کی جنگ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ دہلی سرکار نے سپریم کورٹ سے ٹرانسفر پوسٹنگ جیسے معاملوں سمیت کل 9 اپیلوں پر جلد سماعت کر نپٹارہ کرنے کی مانگ کی ہے۔ گذشتہ 4 جولائی کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد دہلی سرکار کو کئی معاملوں میں فیصلے لینے کی چھوٹ مل گئی ہے لیکن ٹرانسفر پوسٹنگ وغیرہ سے وابستہ سروس میٹر ابھی لٹکے پڑے ہیں کیونکہ پبلک آرڈر پولیس و اراضی کے علاوہ سروس معاملوں کا دائرہ اختیار بھی لیفٹیننٹ گورنر کو دینے والی مرکزی سرکار کی 21 مئی 2015 کے نوٹیفکیشن کو چنوتی دینے کی عاپ سرکار کے علاوہ کرپشن انسداد برانچ میں دہلی سرکار کے اختیارات میں کٹوتی کرنے والی مرکز کی 23 جولائی 2015 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی اپیل بھی التوا میں ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دونوں ہی معاملوں میں دہلی سرکار کی عرضیاں خارج کردی تھیں۔ آئینی بنچ نے 4 جولائی کو کہا تھا کہ التوا اپیلوں کی میرٹ پر مناسب بنچ سماعت کرے گی۔ دہلی سرکار کے وکیل نے چیف جسٹس دیپک مشرا کی رہنمائی والی بنچ کے سامنے اس معاملہ کو اٹھایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے سماعت کرسکتے ہیں۔ دہلی سرکار نے کہا سپریم کورٹ کے پچھلے فیصلے کے بعد بھی کئی اشو پر تعطل برقرار ہے۔ایسے میں سماعت کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ نے4 جولائی کو اپنے فیصلہ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال کو راحت دی تھی ۔ ایل جی پر سرکار کو ٹھیک ڈھنگ سے کام کاج کرنے سے روکنے کے الزام لمبے وقت سے چلے آرہے تھے۔دہلی میں 2014 میں عام آدمی پارٹی کی سرکار بننے کے بعد سے ہی مرکز اور دہلی سرکار کے درمیان اختیارات کو لیکر طویل عرصہ سے رسہ کشی جاری ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم خان، ولکر اور جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ کی بنچ نے سرکار کی اس دلیل پر غور کیا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد بھی پبلک سروسز کے اشو پر تعطل بنا ہوا ہے اور اس پرکسی مناسب بنچ کے ذریعے غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بصد احترام سپریم کورٹ اگلے ہفتہ جب سماعت کرے گی تو ان التوا میں پڑے مسئلوں پر بھی واضح فرمان سنائی گی تاکہ دہلی میں سرکار کے کام کاج و ترقی میں نہ تو کوئی تعطل رہے اور نہ ہی بہانا۔ ادھر ایل جی کا کہنا تھا کہ سروسز کو اسمبلی کے دائرہ اختیار کے باہر بتانے سے متعلق وزارت داخلہ کی 2015 کا نوٹیفکیشن ابھی تک جائز ہے اس لئے دہلی سرکار کے پاس اس معاملہ میں کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔
(انل نریندر)

دہلی کوڑے کے پہاڑ میں اور ممبئی پانی میں ڈوب رہی ہے

سپریم کورٹ نے منگلوار کو کچرا انتظام کو لیکر ریاستی حکومتوں کے لاچار رویئے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنی طرف سے رائے زنیاں کی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ دہلی میں کوڑے کے پہاڑ ہیں اور ممبئی پانی میں ڈوب رہی ہے لیکن حکومتیں کچھ نہیں کررہی ہیں۔ یہ سخت ریمارکس جسٹس مدن بی لوکر و جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے ریاستوں میں کچرا مینجمنٹ کے معاملہ کے دوران دئے۔ بنچ نے کہا جب کورٹ دخل دیتی ہے تو اس پر عدلیہ کی سرگرمی کا الزام لگتا ہے ۔ اسے طاقت بٹوارے کے اصول پر لیکچردیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دائرہ اختیار پر قبضہ جما رہی ہے لیکن کورٹ کیا کرے جب سرکاریں غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتی ہیں؟ کورٹ اس معاملہ میں 7 اگست کو پھر سماعت کرے گی لیکن دہلی کے معاملہ پر 12 جولائی کو سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ دہلی میں غازی پور، اوکھلا اور بھلسوا میں کوڑے کے پہاڑ پر تشویش جتاتے ہوئے سپریم کورٹ نے پوچھا آخر راجدھانی میں کوڑا مینجمنٹ کی ذمہ داری کس کی ہے سرکار یا لیفٹیننٹ گورنر ؟ عدالت نے دہلی سرکار کو حلف نامہ داخل کرنے اور جواب دینے کو کہا ہے۔ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت شہریوں کو اسمارٹ بنانے کے اس دور میں ریاستی سرکاریں صاف صفائی کے تئیں کتنی لاپرواہ ہیں اس کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد میں میگھالیہ، اڑیسہ، کیرل،پنجاب، بہار، چھتیس گڑھ، ہماچل، گووا، مغربی بنگال میں ٹھوس کچرے کے نپٹان پر اپنا حلف نامہ داخل نہیں کیا۔ ناراض سپریم کورٹ نے ان سبھی ریاستوں پر ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے اور یہ کہہ کر پالیسی سازوں کو شرمسار بھی کردیا کہ دہلی کچرہ میں دب رہی ہے اور ممبئی پانی میں ڈوب رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد بھی صاف صفائی کے تئیں سرکاروں کے ایسے رویئے سے صاف ہے کہ شہروں کو اسمارٹ بنانا تو دور رہا انہیں ٹھیک ٹھاک صاف بنائے رکھنے کی فکر بھی نہیں کی جارہی ہے۔ اس کے ثبوت آئے دن ملتے ہی رہتے ہیں۔ ممبئی میں مانسون کے دوران شہر کے ڈوبنا کا ہر سال سلسلہ ہوتا ہے لیکن اتنے برسوں میں کوئی کارگر حل نہیں نکل سکا۔ اسی طرح دہلی میں کوڑے اور آلودگی کا مسئلہ بھی چلتا آرہا ہے۔ راجدھانی میں آلودگی کو لیکر دو طالباؤں کے ذریعے دائر عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے بھی دہلی سرکار کی جم کر کھنچائی کی ہے۔ ہائی کورٹ کی چیف بنچ نے سوال کیا کہ آپ کو صرف شہر میں پارکنگ ،ہاؤسنگ اسپیس کی فکر ہے۔ آپ کو لوگوں کی چنتا کیا ہے؟ ان مسئلوں کا مستقبل حل ہونا چاہئے۔ اس میں ہمیں شبہ ہے ۔ ہاں دکھانے کے لئے کچھ فوری قدم ضرور اٹھا لئے جائیں گے۔
(انل نریندر)

12 جولائی 2018

دنیا میں سب سے سرگرم نمبر ون خفیہ ایجنسی موساد

مشرقی وسطی میں چاروں طرف سے اسلامی ممالک سے گھرے چھوٹے سے ملک اسرائیل کے لئے اپنا وجود بنائے رکھنے کی چنوتی بروقت بنی رہتی ہے۔ اس دیش کی آبادی کافی کم قریب 80-85 لاکھ کے آس پاس ہے۔ اس کے لئے ان کے اپنے ہر شہری کی زندگی کی قیمت کافی زیادہ ہے۔اسرائیل اپنے شہریوں پر آنے والے کسی بھی سنکٹ کا منہ توڑ جواب یتا ہے اور آپریشن اسٹین وے ، آپریشن تھنڈر بولٹس و میونخ اولمپک میں اسرائیلی کھلاڑیوں کو مارنے کا عزم کا ایسے ہی کرارے جواب تھے۔ آپریشن اسٹین وے کے دوران اسرائیلی کمانڈوں اور فوج نے ایک دوسرے دیش یوگانڈا کے ہوائی اڈے میں بغیر اجازت داخل ہوکراغوا کئے گئے اپنے 54 شہریوں کو چھڑا لیا تھا۔ آج بھی دنیا کے سب سے بڑے شہری سکیورٹی آپریشن ایٹن وے کا نام سب سے اوپر شمار ہوتا ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد آج دنیا کی سب سے اول نمبر خفیہ ایجنسی مانی جاتی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک بہت تیز ترار افسر سیون شیلوتھے اس ایجنسی کوقائم کرنے کا سہرہ انہی کو جاتا ہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں جو سیکریٹ ڈپلومیسی ہوتی ہے موساد ہی اس کی خالق ہے۔ آپ کسی ایجنسی سے امید نہیں کرسکتے کہ یہ معموں کو اجاگر کرے لیکن موساد ایسی ایجنسی ہے جو ایک دیش کے معمے دوسرے دیش تک پہنچانے کا کام بھی کرتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس کے ایجنٹوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی سیکریٹری مونیکا لیونسکی کے ساتھ بات چیت کو ریکارڈ کر لیا تھا اور اس کے سہارے بل کلنٹن تک کو بلیک میل کیا گیا تھا۔ یہ تب ہوا تھا جب کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایک امریکی صدر کی اس کے وائٹ ہاؤس اینٹرن سے جنسی تعلقات ہوسکتے ہیں۔ موساد ایک ایسی ایجنسی ہے جس میں سائیکلوجیکل جنگ کا پورا دماغ ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ آپریشن کے کونسے خفیہ حصہ کو میڈیا تک لیک کرنا ہے تاکہ دشمنوں کے دل و دماغ میں خوف اور بدحواسی پیدا کی جاسکے ۔ موساد کا پورا ایک دماغ ہے جیوک اور کیمیکل زہر کی تلاش میں لگا رہتا ہے اور اس سے خطرناک ہتھیار بھی بناتے ہیں۔ایسا مانا جاتا ہے کہ فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کو موساد نے ایسا زہر دے کر مارا تھا کہ اس کی پہچان آج تک نہیں کی جاسکی۔ موساد کے پاس دنیا کے ہر لیڈر اور اہم شخصیتوں اور ایسے لوگوں کی خفیہ فائلیں بنی ہوئی ہیں جن کے پاس کسی بھی طرح کی کوئی فوجی اہمیت کی معلومات ہوتی ہے۔ مثال کے لئے ایک بار موساد کے ایجنٹوں نے دہشت گرد کی بیوی کو پھول بھیجے تھے اور اس کے چند منٹوں بعد ہی اس دہشت گرد کا قتل ہوگیا تھا۔ موساد ایجنٹوں نے عرب نژاد نیوکلیائی سائنسدانوں کو راستے سے ہٹایا تاکہ عرب ممالک کی نیوکلیائی بم بنانے کی خواہشات کو روکا جاسکے۔ موساد میں عورتیں بھی کام کرتی ہیں لیکن عورت ایجنٹوں کے لئے طے ہوتا ہے کہ انہیں کیا کام کرنا ہے اور کیا نہیں۔ ایران کے شاہ کے عہد میں ایرانی خفیہ ایجنسی ساواک تک میں اپنی گھس پیٹھ کرلی تھی۔ ان ایجنٹوں نے عراق میں کرد باغیوں کی مد د کی تھی۔ موساد ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ مل کر کوبرڈ آپریشن بھی چلاتی ہے۔ان میں زیادہ تر کا شکار پاکستان ہوتا ہے۔ موساد کا خاص طور سے کام غیر ملکی خفیہ معلومات اکٹھا کرنا اور اسرائیل سے باہر کوبرڈ آپریشن کو انجام دینا ہوتا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد وہاں کے اس وقت کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گرین کے وقت موساد کی نیو رکھی گئی تھی۔ موساد مشکل سے مشکل کام کرنے سے نہیں کتراتی۔ ابھی حال میں اسرائیل نے اپنے ایک ہیرو کی یاد گار نشانی حاصل کی ہے۔ اسرائیل 53 سال سے ایک گھڑی کی تلاش میں لگی ہوئی تھی۔تلاش کا ذمہ موساد کو سونپا تھا۔ دنیا کی سب سے چالاک خفیہ ایجنسی سے شام جا کر ایک گھڑی کے لئے سرچ آپریشن چلایا۔ آخر اب گھڑی تلاش کر لی گئی۔ گھڑی معمولی نہیں ہے۔ یہ اسرائیل کے نیشنل ہیرو کی گھڑی ہے۔ اسرائیل کے نیشنل ہیرو یعنی ان کے بڑے جاسوس ایلی کوہن کی گھڑی ہے۔ ایلی 1960-65 میں شام میں رہ کر اسرائیل کے لئے جاسوسی کیا کرتے تھے۔1965 میں انہیں پکڑ لیا گیا اور پھانسی دے دی گئی تھی۔ تب سے موساد جاسوس کی آخری نشانی کے طور پر ان کی گھڑی کی تلاش میں لگی ہوئی تھی۔ تلاش کے لئے موساد نے اسپیشل آپریشن چلایا جس پر وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نظر رکھے ہوئے تھے۔ گھڑی ملنے کے بعد وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا کہ میں موساد کے لڑاکو کے عزم اور ہمت کی کارروائی کی تعریف کرتا ہوں۔ ٹیم کا مقصد اپنے عظیم جاسوس کی نشانی واپس لانا تھا حالانکہ نہ تو اسرائیل نے اور نہ ہی موساد نے یہ جانکاری ی کہ گھڑی کہاں سے اور کیسے اور کس حال میں ملی۔ مصر میں پیدا ہوئے کوہن موساد جوائن کرنے کے بعد عرب چلے گئے تھے وہاں سے وہ خفیہ جانکاریاں حاصل کرتے تھے۔ ان کی دی ہوئی خفیہ جانکاریاں ہی عرب۔ اسرائیل لڑائی میں اسرائیلی جیت کی سبب بنی تھیں۔ شام نے 1964 میں ان کی سچائی جان لی اور 1965 میں کوہن کو ڈھونڈ کر بیچ چوراہے پر پھانسی پر لٹکادیا تھا۔ کوہن کی پھانسی کی سزا کے خلاف اسرائیل نے بین الاقوامی سطح پر اپیل بھی کی تھی لیکن وہ اپنے جاسوس ہیرو کو بچا نہیں سکا۔ پھانسی کے بعد کوہن کی لاش اور اس سے جڑے سامان کہاں گئے یہ کسی کو پتہ نہیں چلا۔
(انل نریندر)

مافیہ منا بجرنگی کے قتل پر اٹھے سوال

ہماری جیلوں میں مار پیٹ سے لیکر موبائل سے اپنا اسٹیٹ چلانا ناجائز چیزوں کی برآمدگی عام بات بن گئی ہے اور ہر واقعہ کے بعد جانچ، انکوائری بھی عام بات ہے لیکن ایک غیر محفوظ مانی جانے والی جیل کی بیرک کے اندر ایک خطرناک ڈان کو گولیوں سے چھلنی کر دینا عام نہیں مانا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ گولیوں سے چھلنی کرکے قتل چونکانے والا واقعہ ہے۔ باغپت ضلع جیل میں پیر کی صبح قریب6:15 پر خطرناک بدمعاش سنیل راٹھی نے پوروانچل کے مافیہ منا بجرنگی پر تابڑ توڑ 9 گولیاں داغ کر مار ڈالا۔ بجرنگی پر بسپا کے سابق ممبر اسمبلی لوکیش دیکشت سے پھروتی معاملہ میں کورٹ میں پیشی ہونی تھی۔ اسے ایتوار رات 9 بجے جھانسی سے باغپت جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ معاملہ میں جیلر ادے پرتاپ سنگھ، ڈپٹی جیلر شیواجی یادو و دیگر چی سکیورٹی گارڈ ارجندر سنگھ، مادھو کمار کو معطل کردیا گیا ہے۔ منا بجرنگی کا قتل حریف جرائم پیشہ گروپوں کی آپسی رنجش کا نتیجہ ہوسکتا ہے لیکن اس سے اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کو لیکر سنگین سوال ضرور اٹھ رہے ہیں، خاص کر اس لئے بھی کیونکہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سال بھر سے جرائم پیشہ کے خلاف وسیع کارروائی شروع کی ہوئی ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہوگیا کہ ایک ایسے بدمعاش کو جس پر قتل سے لیکر پھروتی جیسے 40 سے زائد مقدمات درج ہوں، جیل کے اندر گولی مار کر قتل کردیا جائے؟ جیل میں منا بجرنگی کے قتل کی گتھی ابھی الجھی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر جیل میں پستول کب اور کیسے پہنچی؟ واردات میں کیا اکیلا سنیل راٹھی شامل تھا، یا اس کے گینگ کا بھی کوئی رول تھا؟ سنیل راٹھی کہہ رہا ہے کہ پستول منا بجرنگی کی تھی، ایسا ہے تو پھر راٹھی نے اسے گٹر میں کیوں پھینک دیا؟ جیل میں داخلے سے پہلے ہر سامان کی جانچ ہوتی ہے، ہر جانے والے کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے اس کے بعد ہی اسے جیل کے اندر جانے دیا جاتا ہے۔ اترپریش پولیس کا بڑا درد سر منا نومبر2005 میں تب سرخیوں میں آیا جب اس نے بھاجپا کے ممبر اسمبلی کرشنا نند رائے کا قتل ہوا تھا۔ اس قتل کانڈ میں رائے کے علاوہ چھ مزید لوگ مارے گئے تھے۔ یہ اتنا خطرناک قتل کانڈ تھا کہ ہر متوفی کے جسم پر 60سے100 گولیوں کے نشان پائے گئے تھے۔ سچ یہ ہے کہ اپنے منہ سے 20 سال کی مجرمانہ زندگی میں 40 قتل کی بات کرنے والے منا کی فراری سے لیکر اس کے انکاؤنٹر میں بچنے اور پھر گرفتاری کی کہانی جتنی فلمی ہے اس کا خاتمہ بھی اتنا ہی فلمی ہوا۔ سیاست میں پیٹ رکھنے والے اس مافیہ سرغنہ کے قتل کے بعد پوروانچل کے جرائم پیسہ گروہ اور مافیہ نیا میں تو نئے تجزیئے بنیں گے ہی ذات۔ پات والا پوروانچل کا پس منظر بھی اس سے متاثر ہونے جارہا ہے۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا جو گینگ وار جیل کے باہر ہورہی ہے وہ اب جیل کے اندر پہنچ گئی ہے۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2018

درندوں میں خوف پیدا کرنے کیلئے بلاتاخیر پھانسی پر لٹکاؤ

16 دسمبر 2012 کی رات فلم دیکھ کر لوٹتے وقت ایک 23 سالہ پیرامیڈیکل کی طالبہ نربھیا کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے سارے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ چلتی بس میں اجتماعی آبروریزی اور حیوانیت کی ساری حدیں پار کردی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے اس بدفعلی معاملہ میں قصورواروں کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھ کر ان کو صاف کردیا ہے کہ انہیں کوئی راحت ملنے والی نہیں ہے۔ ہمارا قانونی نظام ایسا لچر ہے کہ 2012 کے اس واقعہ میں ابھی تک انصاف نہیں ہوسکا۔ قانونی داؤ پیچ میں ان کی پھانسی لٹکی ہوئی ہے اور اب بھی ان راکشسوں کے پاس متبادل بچے ہیں۔ ایک تو یہ کہ نظرثانی عرضی خارج ہونے کے بعد اب یہ مجرم سپریم کورٹ میں ہی ریویوپوٹیشن داخل کرسکتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صاف کردیا ہے کہ کسی طرح کی ریویو پوٹیشن کی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا قصور پوری طرح ثابت ہوچکا ہے۔ ان کے پاس اب کوئی بچنے کی بنیاد نہیں رہی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کیوریٹیو پوٹیشن خارج کردیتی ہے تو ان کے پاس صدر کے پاس رحم کی اپیل اخل کرنے کا ہی آخری متبادل بچتا ہے۔ نربھیا کے قصورواروں کو بلا تاخیر پھانسی پر لٹکایا جائے۔ ان ریویو عرضی کو بلا تاخیر نپٹایا جائے یہ دیش کی مانگ ہے۔ آج تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ درندوں میں قانون کا خو ف ختم ہوچکا ہے۔ آبروریزوں کے حوصلہ اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ یہ نہ تو قانون کو کچھ سمجھتے ہیں اور نہ ہی انسانیت کو۔ اگر نربھیا کے قصورواروں کو بلاتاخیر پھانسی ہوتی ہے تو اس سے پورے دیش میں ایک پیغام جائے گا۔ ان آبروریزوں میں تھوڑا خوف پیدا ہوگا۔ یقینی طور سے بڑی عدالت کا یہ فیصلہ لائق خیر مقدم ہے۔ اس سے بدفعلی جیسے گھناؤنے جرائم کرنے والوں کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور ان میں ڈر پیدا ہوگا۔ حالانکہ اس کے باوجود دہلی میں خواتین کی سلامتی کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آج بھی دیش کی راجدھانی کی گنتی عورتوں کے لئے غیر محفوظ شہروں میں ہوتی ہے۔ 2012 کے اس گھناؤنے واقعہ کے بعد ناراض لوگ سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ دہلی میں کئی دنوں تک تحریک چلی تھی۔ اس کانڈ کے بعد عورتوں کی سلامتی کے لئے اوشا مہرہ کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں کئی تجاویز آئیں تھیں لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک اس کی سفارشوں پر عمل نہیں ہوپایا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج پورے دیش میں ان درندوں کی باڑ سے آگئی ہے۔ آئے دن بچوں سے بدفعلی اور حیوانیت کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ دہلی کو ریپ کیپٹل کہا جانے لگا ہے۔ دہلی کی عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ سرکار، انتظامیہ، دہلی پولیس کی ذمہ داری ہے اور اسے لیکر سیاست یا بہانے بازی نہیں ہونی چاہئے۔ اس کی شروعات نربھیا کے قاتلوں کو پھانسی پر لٹکاکر کی جانی چاہئے۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...