چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، چنائو کمشنر سکھبیر سنگھ اور ویویک جوشی شامل ہوئے۔میٹنگ کے بعد الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایس آئی آر سے جڑے سبھی بڑے فیصلے اتفاق رائے سے لئے گئے تھے۔ چنائو کمیشن نے ایس آئی آر کی کارروائی میں کچھ تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہےلیکن باوجود اس کے کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے سوال ختم نہیں ہوئے ہیں۔حالانکہ دوسری طرف بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے چنائو کمیشن کی وضاحت کا خیر مقدم کیا ہے۔ایسے میں سوال ہے کہ تنازعہ اب کس سمت میں جائے گا؟ یہ میٹنگ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد ہوئی ہے جس میں چنائو کمشنروں کے درمیان ایس آئی آر ووٹر ڈاٹا اور فارم 6 سے جڑے معاملوں پر اختلافات کا دعوی کیا گیا تھا۔ چنائو کمیشن نے یہ بھی کہا کہ دو چنائو کمشنروں کی کیبنٹ سکریٹری کو بھیجے گئے خطوط چنائو کمیشن کی کسی پالیسی یا ایس آئی آر کے فیصلہ سے متعلق نہیں تھے لیکن کانگریس نے چنائو کمیشن کے بیان کو ٹال مٹولی والابتاتے ہوئے کہا کہ اس کے اٹھائے گئے بنیادی سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔ پارٹی نے ایس آئی آر روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کی مانگ دوہرائی ہے۔وہیں بی جے پی کا کہنا ہے چنائو کمیشن کے بیان سے صاف ہوگیا ہے کہ ایس آئی آر کو لیکر لگائے گئے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔بی جے پی صدر نتن نبین نے اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔کانگریس نیتا پون کھیڑا نے کہا کہ چنائو کمیشن اپنے اوپر لگے الزامات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر دو چنائو کمشنروں نے فارم 6 میں تبدیلی کو غیر مجاز اور غیر قانونی کہا تھا تو اس پر کوئی وضاحتی جواب کیوں نہیں دیا گیا؟ پون کھیڑا نے اپنے ایکس پر چنائو کمیشن کے پریس نوٹس کو ڈائون لوڈ کیا اور ڈلیٹ بتایا۔کہا کہ پریس نوٹس نے تین بڑے سوالوں کے جواب نہیں دئے۔ فارم 6 میں تبدیلی، نوجوان ووٹروں کا سوال اور ای سی آئی ان ای ٹی۔ پون کھیڑا نے لکھا جب تک چنائو کمیشن خاص قانونی اعتراضات کا جواب نہیں دیتا تب تک کتنے بھی لمبے پریس نوٹس جاری کردئے جائیں، اتفاق رائے کا کتنا بھی دعوی کرلیا جائے یا اور کوئی اور تماشہ کرلیا جائےاس سے گیانتش کمار گپتا کی مشکلیں ختم نہیں ہوںگی۔ابھی بھی اس کے لئے انتظار نہیں ہوا ہے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے اور سرکاری گواہ بن جانا چاہئے ورنہ جیل جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد چنائو ہو چکے ہیں وہاں نوجوان ووٹروں کا کیا ہوگا؟ پون کھیڑا نے خاص طور پر پوچھا کہ بہار اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد بغیر ایس آئی آر چنائو ہوگئے، وہاں چھٹے نوجوان ووٹوں کا کیا ہوگا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جنوری 2024 کے بعد سے ایس آئی آر نہیں ہوا تو پرانے فارم6 کا جواز کیا ہے؟ادھر دیش کے 2 ہزار سے زیادہ شہریوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ایس آئی آر پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ساتھ ہی چنائو کمیشن سے از خود نوٹس لے کر کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے جواز اور پروسیس کا جائزہ لینے تک اسے روکا جائے۔ووٹر رجسٹریشن سافٹ ویئراور فارم میں مبینہ تبدیلیوں کی کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہونی چاہئے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر حکام کے خلاف قانونی کارروائی اور ای سی آئی نیٹ کا سپریم کورٹ کی مقرر آزادانہ کمیٹی سے سکیورٹی اورلیگل آڈٹ کرانے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل وشنو بھاگوت ، سابق آئی اے ایس افسر ادیتی مہتہ،سینئروکیل پرشانت بھوشن، تاریخ داں ادتیہ مکھرجی اور اداکار پرکاش راج سمیت کئی ماہر تعلیم وکیل ،صحافی اور سماجی رضاکار شامل ہیں۔ ویسے بھی کورٹ میں کئی عرضیاں لگی ہوئی ہیں۔ دیکھنا ہوگا اس معاملہ میں آگے کیا کیا ہوتا ہے؟ 2اکتوبر سے کاکروچ پارٹی نے آندولن کا اعلان کیا ہے۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں