Translater
28 جون 2025
اسرائیل ایران جنگ کے کیا نکلے نتیجے !
اسرائیل اورایران کے درمیان 12 دنوں کی جنگ کے کیا نتیجے نکل سکتے ہیں ؟ ہم اس جنگ میں تین بڑے دیش شامل تھے ۔اسرائیل ،ایران اور امریکہ اور تین ہی بڑے کردار تھے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای ،بنجامن نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ ،اگر ہم کرداروں کی بات کریں تو سب سے پہلے سب سے بڑے ہیرو رہے آیت اللہ علی خامنہ ای نہ صرف انہوں نے اسرائیل کو ان کی تاریخ میں پہلی بار ایسی مار ماری کہ اسے اپنے وجود کو بچانے کیلئے ٹرمپ کے آگے بھیک مانگنی پڑی ۔بتادیں کہ اسرائیل نے 12 روزہ اس جنگ کو دو مقاصد سے شروع کیا تھا ۔پہلا ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو ختم کرایاجائے اوردوسرا مقصد تھا ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو ختم کرکے اپنے پٹھوو¿ں کو بٹھانا ۔اسرائیل دونوں مقاصد میں ناکام رہا ۔ایرا ن نے اسرائیل پر ایسا تابڑ توڑ جوابی حملہ کیا کہ اس کے وجود پر ہی خطرہ منڈراگیا اور اپنے وجود کو بچانے کے لئے ٹرمپ کی پناہ میں جانا پڑا ۔رہا سوال تبدیلی اقتدار کو تو وہ ایران سے کہیں زیادہ متحد ہوگیا اور مضبوط ہو گیا ۔اسرائیل کے مشرقی وسطیٰ میں بادشاہت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ۔اور جہاں تک نیوکلیائی پروگرام روکنے کا سوال ہے بیشک امریکہ نے ایران کے کچھ نیوکلیائی ٹھکانوں پر زبردست حملے کئے لیکن وہ ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو ختم نہیں کر سکے ۔زیادہ سے زیادہ کچھ مہینہ پیچھے دھکیل دیا ہے ۔امریکی پنٹاگون سے جو رپورٹ آرہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ایران کا نیوکلیائی پروگرام پوری طرح تباہ نہیں ہو پایا ۔حالانکہ ٹرمپ اسے فیک نیوز کہتے ہیں ۔اب بات کرتے ہیں اسرائیل اور نیتن یاہو کی نیتن یاہو نے اسرائیل کو اتنا بھاری نقصان پہنچوایا ہے کہ جتنا اس کو 70/75 سالوں کی تاریخ میں کسی نے نہیں پہنچایا ۔اس نے اسرائیل کو مشرقی وسطیٰ میں نہ صرف دھونس کو ہی ختم کر دیا بلکہ دنیا کو یہ ثابت کردیا کہ وہ ایک کمزور دیش نہیں ہے ۔اس پر بھی حملے ہوسکتے ہیں ۔اسرائیل کی چودراہٹ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے ۔نیتن یاہو چلے تو خامنہ ای کو ہٹانے کے لئے لیکن ان کو خود کو نہ ہٹنا پڑ جائے ؟ اب بات کرتے ہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ باربار جھوٹے تو ثابت ہو چکے ہیں لیکن ان کی سیز فائروں کے اعلانات بھی مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔قابل غور ہے کہ لڑائی کے 12 ویں دن ٹرمپ کے سیز فائر کے اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں میں اسرائیل اور ایران میں پھر سے حملے کرنے شروع کردیے ہیں ۔یہ خوشی کی بات ہے کہ فی الحال جنگ بندی لاگو ہے ۔کتنے دنوں تک رہتی ہے یہ کہنا مشکل ہے ۔جہاں تک ٹرمپ کے سیز فائر کی بات ہے تو آپریشن سندور کو رکوانے کا سہرہ اب تک 17 بار لے چکے ہیں جبکہ یہ سچ نہیں ہے ۔ایسے ہی ٹرمپ نے روس ،یوکرین جنگ بندی کی پھرتی میں اعلان کیا تھا اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ اپنی سیز فائر اعلانات کو بھی نابل ایوارڈ کے لئے مضبوط دعویداری کی شکل میں پیش کرنا چاہتے ہیں حالانکہ سچائی یہ ہے کہ ناول ایوارڈ یہ فوری کارناموں کے لئے نہیں بلکہ قلیل مدت امن کی کوششوں کے لئے دیے جاتے ہیں کل ملا کر ایران اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو پلڑا سب سے بھاری رہا ۔میں نے لکھا تھا کہ ایران بڑی طاقت بن کر ابھرے گا اور یہ سچ ہوتاجارہا ہے ۔
(انل نریندر)
26 جون 2025
ایران کے پاس پلٹ وار کے متبادل!
اتوار صبح اسرائیل - ایران لڑائی میں امریکہ کے سیدھے کودنے سے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔اعلانیہ طور سے امریکہ نے ایران کے نیوکلیائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔اور اس کا اندیشہ لڑائی کی شروعات سے جتایا جارہا تھا ۔امریکہ نے اپنے سب سے دوسرے بڑے بم بلاسٹر بم جو کہ بی 2- بمبار سے پھینکا گیا تھا استعمال کرکے اب ایران کے لئے جوابی کاروائی اپنی پوری طاقت کے ساتھ کرنے کا راستہ کھول دیا ہے۔اسرائیل امریکہ دوبڑے اہم نشانہ کے ساتھ اس لڑائی میں اترے ۔ایران کا نیوکلیائی پروگرام کا پوری طرح سے خاتمہ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کا خاتمہ ۔ہمیں نہیں لگتا امریکی بمباری کے بعد بھی وہ اپنے ان نشانون میں کوئی بھی مقصد پورا ہونے کے قریب پہنچا ۔اب ایران کو امریکہ کو بھی منھ توڑ جوا ب دینے کا موقع مل گیا ہے ۔جب سے اسرائیل میں ایران کے فوجی اور نیوکلیائی اڈوں پر بم پھینکے ہیں اور جنگ کی شروعات کی ہے تب سے ایران کے سپریم لیڈر سے لے کر کئی حکام نے امریکہ کی اس جنگ سے دور رہنے کو کہا تھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے پاس جوابی کاروائی کرنے کے متبادل کیا ہیں ؟ ایران ہرموز آبی سمندر کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ایران خلیج فارس کو عمان کی خلیج سے جوڑنے والے دنیا کے سب سے اہم ترین آئل کوریڈور ہرمز کو تباہ کر سکتا ہے ۔بتادیں کہ عالمی سطح پر ہونے والے کل تیل تجارت کا تقریبا ً 20 فیصد اسی ہرموز کے ذریعے ہی ہوتا ہے ۔اس کا دنیا پر کیا نتیجہ ہوگا تصور کرنا بھی مشکل ہے ۔دوسرا امریکی ٹھکانوں اور ساتھیوں پر حملہ کرسکتا ہے ۔ایران امریکہ نے اس خطہ میں دوجنگی بیڑے تعینات کررکھے ہیں ان سے کوئیت ،بحرین ،قطر ،متحدہ عرب امارات میں ایشیائی اڈے شامل ہیں ۔ان ٹھکانوں پر اسرائیل جیسی ہی جدید ترین سیکورٹی اتنظام ہیں ۔لیکن میزائلوں کی بوچھار یا مسلح ڈرون کے جھنڈ سے پہلے الرٹ کے لئے بہت کم وقت ہوگا ۔ایران ان دیشوں میں بڑا تیل اور گیس پلانٹ پر بھی حملہ کر سکتاہے ۔ایسا کرکے ایران جنگ میں امریکہ کی ساجھیداری کے لئے ان دیشوں کو سبق سکھانا چاہے گا۔ اسرائیل اپنی پراکسی تنظیموں حزب اللہ ،حماس ،حوثی سے بھی امریکہ اور اسرائیل پر حملے کروا سکتا ہے ۔ایران نے امریکی حملوں کی بڑی مذمت کی ہے ۔اور اسے توہین آمیز بتایا ہے ۔ایران نے دور رس نتیجوں کی وارننگ بھی دی ہے ۔ایران کو بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دینے کا حق ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔اول تو ٹرمپ کے لڑائی میں کودنے کی امریکہ میںبھی مذمت ہو رہی ہے۔اپوزیشن پارٹی جنگ بھڑکانے والے اس ایک طرفہ قدم کی تلخ نکتہ چینی کررہے ہیں آنے والے دنوں میں اسرائیل میں نیتن یاہو کی اور امریکہ میں ٹرمپ کے اقتدار کو ہی چنوتی مل سکتی ہے ۔رہا سوال ایران کا اور آیت اللہ علی خامنہ کو ایران کے اقتدار سے ہٹانے کا ہے تو آج ایران متحد ہو گیا ہے ۔اور پوری طاقت سے آیت اللہ علی خامنہ ای کے پیچھے کھڑا ہے ۔ایک بعد ایک وبا اور جنگوں سے لڑرہی دنیا کو سب سے زیادہ مضبوطی اور امن کی ضرورت تھی لیکن ڈر ہے کہ امریکی حملے میںایسی کسی امید پر پانی پھیر دیا ہے ۔یہی نہیں پوری دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دروازہ پر لاکر کھڑاکردیا ہے ۔
(انل نریندر)
19 جون 2025
کیا ایران وسطی ایشیا کا نیا سپر پاور بنے گا؟
جمعہ کو اسرائیل نے ایران کیخلاف یہ کہتے ہوئے بڑے حملوں کو انجام دیا کہ ایران اس کے لئے اور دنیا کیلئے وجود کیلئے سنکٹ کھڑا ہو گیا ہے ۔اسی مقصد کو ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل نے تہران پر تابڑ توڑ حملہ کیا ۔اسرائیل اور اس کے حمایتی ملکوں نے سوچا تھا کہ اس حملے کے بعد جس میں اس نے ایران کی ٹاپ ملیٹری لیڈر شپ اور نیوکلیائی سائنسدانوں کو مار ڈالاتھا سوچا کہ ایران اب ڈر کر چپ بیٹھ جائے گا لیکن اتنی بربادی کے 24 گھنٹے کے اندر اندر ایران نے اسرائیل پر اتنا زبردست جوابی حملہ کیا کہ اسرائیل ،امریکہ تمام اس کے ساتھی تلملا گئے ہیں۔اسرائیل کے جمعہ کو کئے گئے حملے کے جواب میں سنیچروار کو ہی جوابی حملہ کر دیا ۔اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایران نے سنیچروار کی دیر رات قریب 24 گھنٹے میں 150 سے زیادہ اسرائیلی محاذوں کو نشانہ بنایا اور تب سے لے کر اس آرٹیکل کے لکھنے تک اسرائیل پر اپنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔ایرا ن نے اسرائیل کے کئی اہم ترین فوجی اڈوں کو سیدھا نشانہ بنایا ہے ۔ان میں فوج کا ہیڈکوارٹرسے لے کر وائز مین سنٹر جہاں سے اسرائیل ساری فوجی کاروائی طے کرتا ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ تک کو نہیں چھوڑا ۔اسرائیل دراصل ایرانی میزائل اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو گچا دے کر اپنے نشانہ پر پہنچ گئے ۔اس سے ساری دنیا چونک گئی ۔ایران نے ثابت کر دکھایا کے اس کی ٹیکنالوجی امریکہ روس اورچین کے تقریباً برابر پہنچ گئی ہے ۔اسی سے اسرائیل اور امریکہ میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے ۔یہی نہیں دیگر فوجی عرب ممالک میں بھی دہشت پیدا ہو گئی ہے۔ایران دراصل پچھلے 20-25 برس سے اس لمحہ کی تیاری کررہا تھا ۔اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کے پیچھے کئی مقصد تھے ۔دراصل وہ چاہتے ہیں کہ ایران میں آیت اللہ عہد کا تختہ پلٹ کر اپنی من پسند ہمدردر دسرکار کو سونپ دیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای اس مقصدمیں ایران کے اندر سے بھی اس کو مدد مل رہی ہے ۔موساد نے ایران کے اندر کئی سلیپر سیل تیار کر لئے ہیں جو آیت اللہ علی خامنہ ای سرکار کے خلاف اسرائیل کے لئے کام کرتے ہیں ۔پھر شاہ رضا پہلووی کے حمایتی ابھی بھی ایران میں موجود ہیں ۔جمعہ کو جب اسرائیل نے پہلی بار جب ایران پر حملہ کیا تھا تو ان میں ایران کے اندر سے ہی ڈرونوں سے حملہ کیا گیا ۔اس کا مطلب ہے کہ موساد نے ایران کے اندر ہی ڈرون فیکٹری تیار کر لی تھی ۔ایران کے ٹاپ ملیٹری لیڈر شپ کی پختہ جانکاری بھی ایران موساد ایجنٹوں نے اسرائیل کو دی ہوگی ۔اور تبھی موساد نے ٹھیک نشانوں پر حملہ کیا ۔اس درمیان اسرائیل سرکار نے ایرانی لوگوں سے خامنہ ای کو اقتدار کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے ۔اس کے لئے اسرائیل کی جانب سے فارسی زبان میں پیغام میں جاری کئے جارہے ہیں ۔اس درمیان یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کرنے کی اسرائیلی اسکیم پر روک لگا دی ہے ۔کل ملا کر جس طریقہ سے ایران اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے کررہا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مڈل ایسٹ میں ایک نیا پاور سنٹر ایران بننے جارہاہے ۔
(انل نریندر)
17 جون 2025
اگر جنگ بڑھی تو کیا ہوگا؟
پہلے سے جنگ لڑرہے اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کر جس میں کئی بڑے ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں ۔اپنے لئے جنگ کا نہ صرف ایک نیا مورچہ کھول دیا ہے بلکہ یوں کہیں نہ صرف مغربی ایشا کو ہی بلکہ پوری دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔دراصل اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن رائزنگ لائن ایران کے مبینہ نیوکلیئر ہتھیار کی توقعات کے ناکام کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔اسرائیل کے حملے کے جواب میں جمعہ کے روز ایران نے اپنا جوابی کاروائی شروع کی۔اسرائیل میں راجدھانی تل ابیب ،یوروشلم میں کئی جگہوں پر کئی بیلسٹک میزائلیں داغی گئیں ۔اور ڈرون سے حملہ کیا گیا ۔شوشل میڈیا میں بصرہ میں ایران کے حملے سے ہوئی بربادی کی کئی تصویریں بھی سامنے آئی ہین ۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ملٹری کمانڈ سنٹر جہاں سے اسرائیل کے سارے حملے اور کاروائیں طے کی جاتی ہیں اس کو بھی تباہ کر دیا ہے ۔اسرائیل کا طاقتور ایئر ڈیفنس سسٹم کو کئی میزائلوں اور ڈرون سے گراسکا لیکن بہت سی میزائلیں اور ڈرون ٹھیک نشانہ پر لگی ۔اب اسرائیل کی باری ہے اور پھر ایران کا جواب دے گا ۔ایران بے شک یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا نیوکلیائی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے لیکن اس پر خفیہ طور سے نیوکلیائی پروگرام چلانے کے جو الزام لگتے رہے ہیں وہ خدشات بھی پیدا کرتے ہیں ۔اس کا مزید ایران کی جانب سے باربار اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکیاں اور اس کے ذریعے حمایتی حماس اور حزب اللہ اور حوسی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں اسرائیل کی تشویشات کو اور ٹھوس بناتی ہیں ۔پھر سوال صرف اسرائیل کی سیکورٹی کا نہیں ہے بلکہ ایک نیوکلیائی طاقت کفیل ایران پورے مغربی ایشیا میں طاقت کے تواژن کو بگاڑنے کا بتایاجارہا ہے ۔پھر سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستا ن بھی تو ایک اسلامی نیوکلیائی کفیل دیش ہے تو اس سے نہ تو امریکہ کو کوئی فکر ہے اور نہ ہی اسرائیل کو کیا ہم یہ مان کر چلیں کہ پاکستان خفیہ طور سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے ۔شوشل میڈیا میں تو یہاں تک دعویٰ کیاجارہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے قریبی تعلقات ہیں اور اطلاعات کے تبادلے میں شریک کار ہیں ۔جب پاکستا ن سے کوئی خطرہ نہیں تو ایران سے کیوں ؟ وہیں دہائیوں میں ہم نے مغربی ایشیا میں بہت خون خرابہ دیکھا ہے ۔لاکھوں بے گناہ مارے جاچکے ہیں ایسے میں اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور بڑھتی ہے تو بڑی تعدادمیں لوگ مارے جائیں گے ۔ایراق وافغانستان کی تباہی لوگ بھولے نہیں ہیں اور بیچ میں بسے اسرائیل اور ایران کی تباہی کو ئی نہیں چاہے گا ۔اگر شوشل میڈیا پر جائزہ لیا جائے تو کچھ بسطی ایشیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ خراسان میں امانت اللہ عہد کو ختم کرکے اپنے مفاد والی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔اور ایران کو بم بنانے کی جلدی ہے ۔جبکہ امریکہ کے ساتھی دیش ایسا نہیں چاہتے ۔ایران کی اس کوشش پر اسرائیل کو سخت اعتراض ہے اور اس کا خیال ہے کہ اگر ایران کا نیوکلیائی پروگرام بھی نہیں روکا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ایران ایک نیوکلیائی کفیل ملک بن جائے گا جو اسرائیل کے وجود کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جائے گا اس لئے وہ جلدی میں ہے ۔آج جنگ اور جنگ کے ماحول دونوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔کچھ لوگوں کا غرور کی وجہ سے عام لوگوں کا خون نہیں بہنا چاہیے اس کے ساتھ ہی یہ مسلم ملکوں کے لئے بھی امن چین سے سوچنے کا وقت ہے ۔انہیں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی گروپ بندی یا جنگ کی حمایت سے بچنا ہوگا ۔رہی بات اسرائیل کی تو امریکہ ایسے ہر مورچہ پر پلہ جھاڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اس لڑائی میں امریکہ پوری طاقت سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے بلکہ ہم یہی کہیں کہ یہاں ساری خرافات کے پیچھے امریکہ اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہاتھ ہے ۔اس کا پٹھو نیتن یاہو بغیر امریکہ کے ایک قدم بھی نہیں اٹھاتا ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ اس میں بعد کی بھی قطعی فکرنہیں ہے کہ ایران - اسرائیل جنگ تیسری جنگ میں نہ بدل جائے جس کا امکان ہے ۔
(انل نریندر)
14 جون 2025
ڈپلومیسی یا ڈبل گیم ؟
امریکہ نے صرف دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی کھل کر تعریف کی ہے ۔بلکہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر کو امریکہ مدعو کیا ہے ۔اس سے ٹھیک پہلے عاصم منیر نے ایک بیان دیا تھا جسے بھارت نے جموں وکشمیر میں ہوئے ہوئے 22 اپریل کے آتنکی حملے سے جوڑ کر دیکھا گیا ۔دراصل آپریشن سندور کی شروعات کے ساتھ ہی یہ دیکھاجارہا ہے کہ پاکستان کو لے کر امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ کا رخ کچھ بدلا ہواہے ۔گزشتہ بدھوارکو یہ کافی واضح ہو گیا ہے کہ سرحد پر دہشت گردی کے اشور پر امریکہ کا رویہ بدلا ہوا ہے ۔پچھلے کچھ گھنٹوں میں امریکی حکومت نے تین سطحوں پر ایسے اشارے دیے ہیں جو بھارت کی پریشانیوں کو بڑھاتے ہیں۔پہلا امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ کے چیف مائیکل کوریلا نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان ایک زبردست شریک کار ہے ۔14 جون کو امریکی سینا دیوس کی پریڈ میں پاکستانی فوج کے چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا ۔تیسرا وائٹ ہاو¿س نے اشارے دئیے ہیں کہ کشمیر کو لیکر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کرسکتے ہیں ۔امریکی سینٹ کام کے چیف جنرل مائیکل کریلا نے امریکی سرکار کے قانونی باڈی کمیٹی آن آرمڈ سروس کی ایک سماعت میں کئی باتیں کہیں ہیں کہ ہمیں بھارت پاکستان دونوں کے ساتھ رشتہ بنا کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ہم ایسا نظریہ نہیں رکھ سکتے ہیںکہ اگر بھارت کے ساتھ رشتے رکھنا ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔پاکستان کے ساتھ ہماری کافی زبردست ساجھیداری ہے ۔پاکستان نے آئی ایس خورستان کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی ہے ۔او ر ہزاروں آتنکیوں کو مارا ہے ۔امریکہ کے ساتھ اطلاعات شیئر کی ہیں اور بڑے آتنکیوں کو پکڑنے میں مدد کی ہے ۔سینٹ کام چیف نے عاصم منیر کا بھی ذکر کرتے ہوئے تعریف کی ہے کیسے سب سے پہلے انہوں نے شریف اللہ کی گرفتاری کی اطلاع ان کو دی ۔انہوںنے پاکستان سرکار کی اس دلیل پر مہرلگائی کہ دہشت گردی کیخلاف لڑائی جو لمبے عرصہ سے لڑی جارہی ہے اس میں بھی وہ متاثر ہوا ہے ۔یہ بیان اس بیان کے بعد ہی اطلاعات آئی کہ پاکستانی فوفی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی فوجی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔یہ تقریب 14 جون یعنی آج ہے ۔یہ وہی منیر ہیں جنہوںنے 16 اپریل کو اسلام آباد میں ایک تقریر میں کشمیر کو پاکستان کو اپنی اپنی لائیف لائن بتایا تھا ۔انہوں نے ٹو نیشن تھیوری کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ ہندوو¿ں سے الگ ہیں اور منیر کے اس بھڑکاو¿ بیان کے بعد ہی 22 اپریل کو بیسرن پہلگام میں آٹنکی حملہ ہوا جس میں 26 بے قصور سیاح شہید ہو گئے تھے ۔آخر امریکہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟ عاصم منیر جیسے متنازعہ شخص کو بلانا بھارت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے ۔حالانکہ آ ج بھارت عالمی طور پر سرخیوں پر ہے ۔ایک نظریہ ہے کہ امریکہ کا عاصم منیر کو بلانا اور پاکستان کو غیر متوقع کے طور پر ساجھیدار کہنا بھلے ہی حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن بھارت کے لئے یہ صاف اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب اس خطہ میں توازن بنا کر چلنا چاہتا ہے اس سے بھارت کی نوتھرڈ پارٹی پالیسی کو چنوتی ملتی ہے ۔حالانکہ دونوںملکوں سے رشتے بنائے رکھنا امریکہ کی پرانی پالیسی رہی ہے ۔پھر بھی یہ قدم ڈپلومیٹک طور سے بھارت کے لئے پریشانی کا باعث ضرور ہے ۔ٹینشن نہیں لیکن چوکسی ضروری ہے ۔امریکہ کی منشاءاور نظریہ پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔فیلڈ یعنی فیلڈ مارشل منیر کے بیان پہلگام آتنکی حملے سے جڑا ہے ۔اس لئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف امریکہ کی یہ ڈپلومیسی ہے یا ڈبل گیم ؟
(انل نریندر)
12 جون 2025
پاک کو الگ تھلگ کرنے میں ہم ناکام رہے !
آپریشن سندور کے دوران گزری 9 مئی کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے (آئی ایم ایف ) نے پاکستان کو بیل آو¿ٹ پیکج کی شکل میں ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دے دی ۔آپریشن سندور کے ٹھیک بعد ورلڈ بینک نے پاکستان کو 40 بلین ڈالر دینے کا فیصلہ لیا ۔۔۔پھر ایشین ڈولپمنٹ بینک نے پاکستان کو 800 ملین ڈالر دے دیے ۔کچھ دن پہلے 4 جون کو پاکستان کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طالبان پر پابندی کمیٹی کے چیئرمین اور دہشت گردی انسداد کمیٹی کے وائس چیئرمین چنا گیا ۔پاکستان کے سلسلے میں ہوئی سبھی ڈولپمنٹ کو کانگریس نیتا پون کھیڑا نے سامنے رکھا ہے ۔اور بھارت کی خارجہ پالیسی کے زوال سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں ۔پاکستان ان معاملوں کو ایک بڑی کامیابی کی شکل میں پیش کررہا ہے ۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا میں ان کے دیش کے لئے یہ فخر کی بات ہے ۔انہوںنے ایکس پر کئے ایک پوسٹ میں لکھا ہے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں اہم ترین تقرریاں بھی متاثر کرتی ہیں ۔اور عالمی برادری کو پاکستان کی دہشت گردی مخالف کوششوں پر پورا بھروسہ ہے ۔شریف کا کہنا ہے پاکستان ان دیشوں میں سے ایک ہے اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے ۔دہشت گردی کے سبب اب تک دیش میں 90 ہزار لوگوں کی جان جاچکی ہے ۔دیش کو 150 بلین ڈالر سے زیادہ کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے ۔بھارت نے اسے لے کر خاصہ اعتراض جتایا ہے جموں وکشمیر کے پہلگام میں گزری 22 اپریل کو بے قصور سیاحوں پر ہوئے حملے کے لئے پاکستان ذمہ دار ہے ۔اس سے پہلے بھی الگ الگ محاذوں پر 2016 میں اری میں ہمارے فوجیوں پر حملہ ،2019 میں پلوامہ ،اور پھر 2008 میں ممبئی کے ہوٹلوں پر حملے یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان ہے ۔ان کی فوج اور خفیہ ایجنسی ان میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ۔آپریشن سندور بھارت کو مجبوری میں کرنا پڑا ۔3-4 دن کی لڑائی کے بعد ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کے ایم پیز کو سات الگ الگ نمائندہ وفد نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ممبر ملکوں کا دورہ کیا ۔پی آئی بی کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق اس دورہ کا مقصد آپریشن سندور اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کی مسلسل لڑائی کے بارے میں ممبر ممالک کو واقف کرانا تھا جہاں ایک طرف اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ممبران کے سامنے سرحد پار سے دہشت گردی کا مدعا اٹھا کر پاکستان کو گھیرنے کی کوشش میں سرکار جٹارہی تھی ۔وہیں پاکستان کو اس اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے دہشت گردی انسداد کمیٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ۔انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر سبھاجیت رائے نے لکھا ہے کہ شاید انہیں اسباب سے بھارت میں عجب بے چینی کے حالات نظر آرہے ہیں ۔راجستھان کے پولیس سیکورٹی اینڈ کریمنل جسٹس کے انٹرنیشنل افیئرس کے اسسٹنٹ پروفیسر ونے کوڈہ کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے دیش کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل جیسے ادارے میں کوئی بھی جگہ یا ذمہ داری دینا صرف ڈپلومیٹک سیاسی حساسیت نہیں بلکہ اس پورے ڈھانچہ کی خامی کو اجاگر کرتا ہے ۔پاکستان کو ان ایجنسیوں کا حصہ بنانا اسی دیش کو دہشت گردی پر نگرانی کی ذمہ داری سونپنے جیسا ہے ۔جس پر خود دہشت گردی کو پناہ دینے اس کو پیدا کرنے اور اسے خارجہ پالیسی کے ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنے کے سنگین الزام ہیں ۔یہ بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ عالمی دہشت گردی انسداد ڈھانچہ کے بھروسہ کے لئے بھی ایک تشویش کا موضوع ہے ۔پاکستان کی دہشت گردی پر دوہری پالیسی کوئی نیا اشو نہیں ہے یہ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی دستاویزوں میں صاف طور سے بھی درج ہے چاہے وہ اقوام متحدہ کے ذریعے ممنوعہ دہشت گردوں کو پناہ دینا ہو جیسے اسامہ بلادین یا حافظ سعید یا پھر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کو کھلی حمایت دینا ہو۔پاکستان نے مسلسل دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کا ایک ہتھیار بنایا ہے ۔خاص طور سے بھارت کیخلاف جے این یو میں اسسٹنٹ پروفیسر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ یہ خبر بھارت کے لئے تشویش پیدا کرنے والی ہے ۔ایسی تقرریاں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل نمائندہ ملکوں کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔اور ہری جھنڈی کا مطلب ہے یہ اعتراف کرنا تھا پاکستان دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ہماری کوشش رہی ہے دہشت گردی پھیلانے میں پاکستان کا بڑا رول رہا ہے لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبر ایسا شاید نہیں مانتے جہاں اقوام متحدہ کے ذریعے پاکستان کو سرٹیفکیٹ دینا اس کا بڑا کارنامہ رہا ہے وہیں یہ بھارت کی بڑی ناکامی مانی جائے گی کہ ہمارے دیش کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر ناکارہ ثابت ہوئی ہے ۔
(انل نریندر)
10 جون 2025
مسک بنام ٹرمپ بنام اڈانی!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج کل بڑے صند کاروں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں ۔پہلے بات کرتے ہیں ایلن مسک کی دنیا کے سب سے بڑے امیر شخص میں سے ایک ایلن مسک اور سب سے طاقتور لیڈروں میں شمار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان زبردست ٹکراﺅ ہو گیا ہے ۔دونوں کے درمیان نہ اتفاقی اب پوری طرح زبانی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔انٹر نیٹ میڈیا پلیٹ فارم پر ان میں آپس میں تلواریں کھنچی ہوئی ہیں ۔مسک کی طرف سے ٹرمپ کے بار بار ٹیکس بل کی تنقید کئے جانے پر ٹرمپ نے بیحد ناراضگی جتائی ۔انہوںنے فیڈرل حکومت کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہونے والے ایلن مسک کے کاروباری صودوں کو لیکر دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر دھمکی دیتے ہوئے لکھا اگر بجٹ میں بچت کرنی ہے تو اس کا سب سے آسان طرےقہ ایلن مسک پر کو ملنے والی عربوں ڈالر کی سبسڈی اور کنٹریکٹ ختم کر دئے جائیں ۔فی الحال تو ٹرمپ اور مسک کے جھگڑے کے بعد مسک کی کمپنی ٹیسلہ کے شئیر جمعرات کو 14 فیصدی تک گر گئے حالانکہ یہ جنگ ایک طرفہ نہیں تھی ۔ٹرمپ کے حملہ کے بعد مسک نے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے تک کی بات کر ڈالی مسک نے پلٹوار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا میں نہ ہوتا تو ٹرمپ چناﺅ ہار جاتے انہوںنے ٹرمپ پر بے وفائی کا الزام بھی لگاہا ۔یہی نہیں ایلن مسک نے کہ اب نئی پارٹی بنانے کا وقت آ گیا ہے جو 80 فیصد لوگوں کی نمائندگی کرے اس ٹکراﺅ کا سیدھا اثر امریکہ کی سیاست اور خلائی پروگراموں اور عالمی تکنیکی دنیا پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ادھر ٹرمپ اور ان کی ایجنسیاں بھارت کے بڑے صنعت کار گوتم اڈانی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہوئی ہیں امریکی اخبار دا وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی تازا رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کی امریکی کمیشن میں جانچ کر رہا ہے کے کیا ہندوستانی کاروباری گوتم اڈانی کی کمپنیوں نے بندرگاہ کے راستے میں ایرانی ایل پی جی گیس کی درآمد کی تھی حلانکہ اڈانی انٹر پراس نے ایک بیان میں اس رپورٹ کو بے بنیاد اور نقصان پہنچانے والی بتایا ہے کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا ہمیں اس معاملے پر امریکی حکام کی جانب سے کی گئی کسی جانچ کے بارے میں جانکاری نہیں ہے ۔میگزین نے بتایا گجرات کے بھدرا بندرگاہ اور خلیج فارس کے درمیان چلنے والے ٹینکروں میں کچھ ایسے عشارے نظر آئے ہیں ،جو ماحرین کے مطابق پابندیوں سے بچنے والے جہازوں میں عام ہوتے ہیں ۔اخبار میں یہ بھی کہا کے امریکہ محکمہ انصاف اڈانی گروپ کی بڑی کمپنی اڈانی انٹر پرائیسز کو مال بھیجنے کے لئے استعمال کئے جا رہے کئی ایل پی جی ٹینکروں کی آمد رفت کا جائزہ لے رہاہے یہ جانچ ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مہا مئی میں ایران سے تیل اور پیٹرو کمیکل سامان کی خرید پوری طرح سے روکنے کا حکم دیا تھا لیکن اڈانی پر امریکہ میں دھوکہ دھٹی اور رشوت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا ۔اخبار میں لکھا ہے بکلن میں امریکی اٹورنی آفس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اڈانی کے لئے مسلہ ثابت ہو سکتی ہے ۔وال اسٹریٹ کے مطابق پچھلے سال کی شروعات میں امریکی ایجنسیوں نے مدرا بندرگاہ سے خرلیچہ فارس جانے والے جہازوں کی آمد وفت کو جانچا تھا اور جہازوں کو پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کے ایسے جہازوں میں دیکھا گیا ہے جو آمد رفت کے دوران اپنی پہنچ کے بارے میں صاف نہیں بتاتے اڈانی گروپ نے ممبئی اسٹاک ایکس جینچ کی جانکاری دی ہے ۔اڈانی گروپ کی کمپنیوں ایرانی ایل پی جی کے درمیان تعلقات کا الزام لگانے والی میگزین وال اسٹریٹ کی رپورٹ کو بے بنیاد اور نقصان پہنچانے والی بتایا ہے ۔اڈانی جان بوجھ کر کسی بھی طرح کی پابندیوں سے بچنے یا ایرانی ایل پی جی سے جڑے کاروبار میں ملوث ہونے سے صاف انکار کرتا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ
مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...