Translater

18 نومبر 2022

رام سیتو پر پیچھے ہٹتے سرکار کے قدم !

سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی عرضی پر جواب داخل کر تے ہوئے مرکزی حکومت کو چا ر ہفتے کا وقت دیا ہے جس میں رام سیتو کو قومی وراثت ڈکلیئر کرنے کیلئے ہدایت دینے کی دوخواست کی گئی ہے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس ہیماکوہلی اور جسٹس جے وی پاردیوال کی بنچ کو سبرامنیم سوامیں نے بتایا کہ یہ ایک چھوٹا سا معاملہ کا جہاں مرکز کو اس معاملے میں ٹال مٹول نہیں کرنی چاہئے تھی ۔ مرکز کے وکیل جواب داخل کر تے ہوئے کہا کہ جواب حلف نامہ تیار ہے اور ہمیں سرکار سے ہدایت لینی ہے ۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے (مرکزی حکومت ) پیر کیوں کھینچ رہے ہیں ۔بنچ نے چار ہفتے کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کئے جانے پر اس کی ایک کاپی عرضی گزار سبرامنیم سوامی کو دی جائے اس کے بعد اگر کوئی جواب دینا ہو تو اس کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے اس سے پہلے سابق چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی ایک بنچ نے 3اگست کو کہا تھا کہ سوامی کی عرضی کی سماعت کیلئے پینل کر دیا جائے گا ۔ رام سیتو کو ایٹمس برج کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔جو تامل ناڈو کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع پمبن جزیرے اور سری لنکا کے بیچ مغربی ساحل بھنجر جزیرے کے بیچ چونے پتھر کی ایک پل ہے ۔ہندوو¿ ں کا خیال ہے کہ یہ سیتو ہنومان جی نے شری رام کی سینا کو سری لنکا جانے کیلئے بنایا تھا۔بھاجپا نیتا سوامی کہا کہ وہ مقدمے کا پہلا مرحلہ جیت چکے ہیں جس میں مرکز نے رام سیتو کے وجود کو مانا ہے ۔اور مرکزی وزیر نے سال2017میں ان کی مانگ پر غور کرنے کیلئے ایک میٹنگ بلائی تھی لیکن اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ یوپی اے کی سرکار کی طرف سے شروع کی گئی متنازعہ سیتو سمندرم چیف چینل پروجیکٹ کے خلاف اپنی مفاد عامہ کی عرضی میں رام سیتو کو قومی وراثت ڈکلیئر کرنے کا اشو اٹھایا تھا ۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا جہاں 2007میں بھی رام سیتو پر پروجیکٹ کے کام پر روک لگا دی گئی تھی۔بعد میں مرکزی سرکا رنے کہا تھا کہ اس نے پروجیکٹ کے سماجی و اقتصادی نقصان پر غور کیا تھا اور رام سیتو کو نقصان پہنچائے بغیر پروجیکٹ کیلئے ایک راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد عدالت نے سرکار سے نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا۔ (انل نریندر)

بڑھتی چینی طاقت سے امریکہ پریشان!

چینی صدر شی جن پنگ کی جاریحانہ خارجہ پالیسی کا سب سے زیادہ اثر وسط مشر ق ایشیا میں صاف دکھائی پڑ رہا ہے لیکن جیسے جیسے بیجنگ کی طاقت بڑھ رہی ہے امریکہ کی بے چینی بھی صاف جھلک رہی ہے ۔کئی برسوں کی ٹال مٹول کے بعد اب امریکہ اس خطے کی طرف آخر توجہ دے رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن سال 2017کے بعد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم یعنی آسیان کی کسی بھی سالانہ میٹنگ میں حصہ لینے والے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں۔حالاںکہ پچھلے سال بھی وہ آسیان کا حصہ تھے،لیکن ویڈیو لنک کے ذریعے انہوںنے شرکت کی تھی آسیان کی میٹنگ میں حصہ لینے کے بعد بائیڈن اس خطے کے ایک اہم ملک انڈونیشیا ،بھارت ہے جہاں وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملیںگے ۔اس کے بعد دونوں نیتا جی 20میں شامل ہوئے لیکن امریکہ اب پہلے سے کہیں وشواس گھاتی ڈپلومیٹک ماحول میں چلا رہا ہے ۔ایک زمانے میں آسیان گروپ کو ایشیائی بحرالکاہل خطے میں ڈپلومیسی کیلئے ایک اہم جگہ مانا جاتا تھا لیکن اب وہ گروپ بندی میں بٹتی جا رہی ہے ۔ دنیا میں اس کا اثر کم ہوا ہے آسیان گروپ اپنی ساکھ امن اور غیر جانبداری والا گروپ بنانا چاہتا ہے ۔گروپ اپنے دس ممبر ملکوں میںایک رائے پر رزور دیتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی نکتہ چینی نہ کی جائے اور سبھی ممبر گروپ سے باہر کسی بھی ملک سے اپنے ڈپلومیسی جاری رکھ پائیں ۔چین کے صدر شی جن پنگ سال 2017میں آسیان اور ایشیائی پیسفک ایکانومک کوآپریشن کی میٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے آسیان میں اپنے فیصلے لاگوں کر نے کی کسی مخصوص کاروائی کی کمی اس نظریہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔یہ رویہ تب تک تو صحیح تھا جب تک دنیا میں امریکہ کا بو ل بالا تھا لیکن سال 2000کے بعد عالمی منڈی میں چین کی بڑھتی دھاک سے اس خطے میں امریکی اثر گھٹا ہے کیوں کہ اس کی اقتصادی کمان وسط مشرق ایشیا کی طرف رہی ہے ۔اس دوران چین اس خطے میں اپنے سابق لیڈر ڈینگ زیاو¿پنگ کے منتر اپنی طاقت چھپا و¿ وقت کاٹتے رہو لیکن کام کر تا رہا ہے ۔شی کے عہد کے دس برسوں میں چین کی طاقت اور اثر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔گزشتہ ایک دہائی میں جنوبی مشرق ایشیا میں مصنوعی جزیروں پر چین کا قبضہ اور فوجی اڈے بنانے کی کوشش نے اسے ویتنام اور فلپائن کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔آسیان نے چین کے اس خطے میں قواعد کی تعمیل کرنے گزارش کی تھی۔لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں چین نے ساو¿تھ چین سمندر میں ایسے کئی مصنوعی ٹاپو بنائے ہیں جن میں چین کے فوجی اڈے ہیں۔چین اقتصادی طور سے کافی اہم ہے ،اور فوجی طور پر بھی اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اسے کھلے عام چنوتی نہیں دے سکتا ۔چین نے آسیان گروپ کی اتحاد کی دھجیا ں اڑا دی ہے ۔اس کی ڈپلومیسی کی چالوں کی وجہ سے چھوٹے آسیان ممبر اب پوری طرح سے اس منحصر ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ یہ خطے میں اب امریکہ کے ساتھ رشتوں کولیکر مایو س ہوتا جا رہاہے ۔ اب یہ دیش امریکہ کو بھروسے کا پاٹنر نہیں مانتے انہیں لگتا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق اور جمہوریتی کی جنگوں میں الجھا رہتا ہے ۔سال1943میں ایشیا میں آئے مالی بحران کے دوران امریکہ نے اس خطے کو سخت اقتصادی قدم اٹھانے کیلئے مجبور کیا تھا اس کے بعد جارج بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جنوب مشرقی ایشیا کی امریکہ میں دلچسپی تقریباً ختم کردی تھی۔ (انل نریندر)

15 نومبر 2022

کیا آئی پی ایل نے ٹی انڈیا کو نقصا ن پہنچایاہے ؟

کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جس طرح سے پوری ٹیم انڈیا ہاری اس سے کروڑوں ان کے فینز کو گہرا صدمہ لگا ہے اور بنا فائٹ کے ہی ہار گئے ۔مسلسل دوسرے سال ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹیم انڈیا دس وکٹ سے ہاری ۔یہاں تک کہ پوری دنیا کی سب سے مہنگی کرکٹ لیگ آئی پی ایل بھی بھارت کو اب تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ونر نہیں بنا پائی ۔آئی پی ایل کی شروعا ت 2008میں ہوئی تھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ 20ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی برانڈ ویلیو اور جدید ترین سہولیات کے باوجود ٹیم انڈیا 14برسوں میں ایک بار بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپیئن نہیں بنی ٹی ٹوئنٹی ور لڈ کپ بھارت نے ضرور جیتا لیکن آئی پی ایل کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔ 2007آئی پی ایل شروع ہونے سے پہلے ایم ایس دھونی کی کپتانی میں چیمپئن بن چکی ہے ۔وہیں کئی دیش اپنے یہاں لیگ شروع کرنے کے بعد ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی پی ایل کا بڑا ہاتھ ہے ۔ اس لیگ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ان کے کھیل کی دھار کند پڑ جاتی ہے جبکہ آئی پی ایل میں کروڑ پتی پلیئر خوب جلوہ بکھیرتے ہیں ۔پاکستان کے نامور گیند باز وسیم اکرم بطور کوچ آئی پی ایل کا حصہ رہ چکے ہیں وہ خود بھی حیران ہیں کہ اتنی بڑی لیگ ہونے کے باوجود ٹیم انڈیا 14برسوں میں ایک بار بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چیمپیئن نہیں بن سکی ؟ آئی پی ایل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ فائدہ ہوا ہے وہ ٹیم انڈیا کے پلیئر س کے انڈیا کے کھلاڑیوں کے اسٹائل و تکنیک سے واقف ہو گئے ہیں ۔ انہیں یہ پتا لگ گیا ہے کہ ٹیم انڈیا کا اسٹرونگ پوائنٹ کیا ہے اور کونسا کمزور پوائنٹ ہے اور نتیجہ صاف ہے ۔سیمی فائنل کی شرمناک ہار بھولائی نہیں جا سکتی جیسے شرمشار پرفارمنس کی قطعی امید نہیں تھی اور کروڑ وں ہندوستانی پرستاروں کا دل ٹوٹ گیا ۔یہاں قسمت نے بھی کام کیا بنگلہ دیش کے خلاف بارش نے ساتھ دیا اور ہم جیت گئے ۔پاکستان باہر ہوکر بھی فائنل میں پہنچ گیا ۔سیمی فائنل سے بہت مایوسی ہوئی۔ (انل نریندر)

سنجے راوت کی ناجائز گرفتاری!

شیو سینا لیڈر و ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کو ممبئی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دے دی ہے ۔لیکن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے ان ضمانت کی مخالفت کی ۔شیو سینا لیڈر کو راحت دیتے ہوئے ممبئی کی سیشن عدالت نے ای ڈی پر کچھ سخت ریمارکس دئے ہیں۔ اور جانچ ایجنسی کے ارادے پر بھی سوال کھڑے کئے ۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سنجے راوت نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں کسی سے ناراض نہیں ہوں ، میں نے 100سے زیادہ دن جیل میں گزارے ہیں میرا آخر گناہ کیاتھا؟ انہوںنے کہا جمہوریت میں الگ الگ لوگوں کی الگ الگ رائے ہو سکتی ہے ۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سنجے راوت نے شیو سینا لیڈ اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی انہوں نے سنجے راوت تعریف کی اور کہا کہ ،دوست مصیبت کے وقت نہ صر ف ساتھ کھڑا ہوتا ہے بلکہ لڑتا بھی ہے ۔سنجے راوت ایسے ہی لڑ رہے ہیں انہوںنے کہا کہ آج تک مرکزی ایجنسیوں کا بےجا استعمال کر انہیں توڑا جا چکاہے ۔اور کئی پارٹیوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،عدالت کی پھٹکار کے بعد بھی سنجے راوت کو دوسرے جھوٹے مقدموں میں پھنسانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ وہیں سنجے راوت نے کہا کہ وہ این سی پی نیتا شرد پوار سے بھی ملیںگے ۔ اورکچھ لوگوں کے کاموں کیلئے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے بھی ملاقات کریںگے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پورے معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ہے کہ دونوں ملزمان کو ناجائز طریقے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ ضروری ہونے پر گرفتاری کی کاروائی کی جا سکتی ہے۔لیکن ای ڈی کی جانب سے پی ایم ایل اے ایکٹ کی دفعہ 19کے تحت کی گئی کاروائی ناجائز ہے ۔ سول معاملوں کو منی لانڈرنگ یا معاشی جرم کا نام دینے سے اسے وہ اسٹیٹس نہیں ملتا ۔گرفتاری سے بے قصور لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے کورٹ کے سامنے کوئی بھی ہو اس کا کام اسے مناسب انصاف دینا ہے ۔کورٹ کے سامنے موجود ریکارڈ اور دلائل سے صاف ہے کہ پروین راوت شیوانی معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اور سنجے راوت کو بے وجہ گرفتار کیا گیا ۔یہ حقیقت حیران کرنے والی ہے اس معاملے میں مہاراشٹر ہاوسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا رول مشتبہ تھا۔ ای ڈی بھی ان کے متفق ہو گئی لیکن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام پر کوئی الزام نہیں لگا یا گیا ۔ سارن اور راکیش وادھاون اہم ملزم تھے لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا لیکن اسی وقت پروین راوت کو دیوانی معاملے میں گرفتار کر لیا گیا اور سنجے راوت کو بنا وجہ گرفتار کیا گیا ۔ یہ دکھاتا ہے کہ ای ڈی نے اپنی سہولت کے حساب سے برتاو کیا ۔ پی ایم ایل اے کورٹ کے جج ایم جی دیش پانڈے نے اپنے حکم میں ای ڈی پر سخت ریمارکس دئے اور پھر سوال بھی اٹھائے ۔پی ایم ایل اے کورٹ کی تشکیل کے بعد سے اب تک کسی بھی معاملے میں ای ڈی ٹھوس ثبوت پیش کر سکی ۔ یہاں تک کہ گزشتہ ایک دہائی میں بھی کورٹ نے کسی بھی معاملے میں فیصلہ سنایا ہے ۔ کیا معاملے کو شروع کرنے اور ختم کرنے کیلئے ای ڈی کا کوئی فرض نہیں ہے؟ (انل نریندر)

10 نومبر 2022

آبروریزی کی پہچان و بیان پر پابندی!

سپریم کورٹ نے دیش کی سبھی ہائی کورٹ عدالتوں کو آبروریزی متاثرہ خواتین کی پہچان اور ان کے بیان راز میں رکھنے کو لیکر اہم صلاح دی ہے ۔چیف جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس بیلا ایم چتروید ی کی بنچ نے ماضی میں دئے گئے بڑی عدالت کے فیصلوں کو ایک بار پھر سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی سی کی دفعہ 164کے تحت آبروریزی کے معاملے میں جب تک چارج شیٹ یا فائنل رپورٹ داخل نہ ہوجائے تب تک متاثرہ کے بیان کا انکشاف کسی کے سامنے نہیں کیا جانا چاہئے ۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی ملک کی ہائی کورٹس کو صلاح دی کہ آبروریز یا جنسی استحصال کے معاملوں میں جرائم عمل کورٹ کی دفعہ 164کے تحت درج اہم ترین بیانوں سے متعلقہ مجرمانہ کاروائی یا ٹرائل کے قواعد میں مناسب ترامیم کی جائیں بنچ نے دو بچوں کی طرف سے دائر ایک توہین عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے یہ صلاح دی جو اپنے ہی والد اور اس کے دوستوں کے ذریعے جنسی زیادتی کا شکار ہے ۔عرضی گزار کی وکیل تمنا اگروال نے اس سلسلے میں تجویز داخل کی اس میں ان کی طرف سے مانگ کی گئی کہ شیوبترا عرف تاکری شیوبترا بنام اترپردیش سرکار و دیگر کے معاملے میں بڑی عدالت کے ذریعے ڈکلیئر قانون کی مختلف تقاضو ں ودیگر عدالتوں کے ذریعے بنائے گئے جرائم مقدمہ قواعد میں شامل کیا جانا چاہئے ۔بنچ نے سینئر وکیل کی دلیل کو صحیح ٹھہرایا اور سبھی ہائی کورٹس کو اسے شامل کرنے کی صلاح دی ۔ اور دفعہ 164کے تحت درج بیان سپریم ہے اور اس میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔جب تک دفعہ 173کے تحت چارج شیٹ یا فائنل رپورٹ دائر نہیں کی جاتی ۔دراصل بڑی عدالت تلنگانہ پولیس کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی اس میں جارج شیٹ داخل نہ ہونے کے باوجود آبروریزی کے الزامات کو دفعہ 164کے تحت درج اہم بیانوں کی تہہ تک پہنچنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ وکیل تانیہ اگروال نے دلیل دی تھی کہ اس معاملے میں بڑی عدالت کے ذریعے طے قانون کی تعمیل نہیں کی گئی ۔اور مطالبے مجسٹریٹ کے ذریعے 164کے تحت درج متاثرہ کے بیانوں پر ملزم کے ذریعے مختلف معاملوں میں وسیع طور سے بھروسہ کیا گیا تھا ۔ عرضی دائر کرنے والے عرضی گزار نے الزام لگا یا تھا کہ 164کے تحت ان کی بیٹی کا بیان آبروریزی کے معاملے میں ملزم کو ہی دے دیا گیا ۔ اس معاملے میں بنچ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ان کو افسوس ناک قرار دیا ۔حالاںکہ اس معاملے میں بنچ نے توہین عدالت کے بارے میں کوئی کاروائی شروع نہیں کی۔ (انل نریندر)

ٹیم انڈیا کو روکنا مشکل ہوگا!

میلبورن کرکٹ میدان کے باہر اتوار کو ایک فین نے یہ دعویٰ پورے بھروسے کے ساتھ کیا کہ ٹیم انڈیا کو ورلڈ کپ جیتنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا جب اس فین کو یاد کرایا گیا کہ ابھی بھی دو میچ کھیلنے باقی ہیں دونوں جیتنے ہوںگے تبھی ورلڈ کپ مل پائے گا تو ان کا جواب تھا کہ بے شک انگلینڈ کی ٹیم مضبوط ہے لیکن ہم کونسے پیچھے ہیں ہم نے انگلینڈ کو کئی بار ہرایا ہے ۔گروپ راو¿نڈ کا یہ پہلا میچ تھا جہاں روہت شرما کاٹیم سے میلودور آگے نظر آئی ۔بھارت نے نیدرلینڈ کے خلاف 56رن کی بڑی جیت حاصل کی تھی لیکن اس میچ میں ٹیم کے کئی کمزور پہلو بھی اجاگر ہوئے تھے پاکستان کے خلاف میچ میں ٹیم انڈیا نے تقریباً ہار کے جبڑے سے جیت چھینی تھی ۔بنگلہ دیش نے بھی ایک وقت سانسیں پھلا دی تھی ۔ بھار ت نے پاکستان کو 4وکٹ اور بنگلہ دیش کو 5رن کے فرق سے مات دی تھی ۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم انڈیا کو ہار کا جھٹکا جھیلنا پڑا ۔ زمبابوے کے خلاف بھی فینز کو بیچ کے کھیل میں وہیں پہلو نظر آئے جو کرکٹ ماہرین نے دیکھے ۔کپتان روہت شرما کی ناکامی ،اسپینر س کے سلیکشن نہ ہونے کی دقت اور فلڈنگ کی کمزوریوں کے شکایت کی وجہ بنی لیکن پھر بھی میچ دیکھنے پہنچے اور سوشل میڈیا پر کمینٹ کر رہے فینز میں سے زیادہ تر دعویٰ کر رہے ہیں کہ اب ٹیم انڈیا کو روکنا مشکل ہے روہت شرما اور ٹیم انڈیا ورلڈ کپ کے ساتھ گھر لوٹے۔ ایسی خواہش تمام سابقہ کھلاڑی بھی ظاہر کر رہے ہیں ان میں کرکٹ کے عظیم بلے بازوں میں شمار سچن تیندولکر بھی شامل ہیں ۔ زمبابوے کے خلاف میچ کے ایک دن پہلے بھار ت کے اسٹار بلے باز ویراٹ کوہلی نے جنم دن منا یا ۔اس مو قع پر سچن تیندولکر نے بھی ٹویٹ کر ویراٹ کو مبارک باد دی اور کہا کہ ڈیئر ویراٹ ورلڈ کپ کے بیچ کیک پر لگی ممبتیاں بجھاتے وقت آپ بھی دعا کر رہے ہوںگے جو کروڑوں ہندوستانی کر رہے ہوںگے ۔ آسٹریلیا می روہت شرما کی کپتانی میں کھیل رہی ٹیم انڈیا کے سب سے بڑے میچ وینر ویراٹ کوہلی ہی بنے ہوئے ہیں ۔ بے جوڑ ویراٹ 5میچوں میں 123رن کے زبردست اوسط کے ساتھ ویراٹ 296رن بنا چکے ہیں ۔ان کے بلے سے 3ہاف سنچری نکل چکی ہیں ٹیم سے امید لگانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ سوریہ کمار یادو کی بے جوڑ پرفارمنس فینز انہیں اسکائی کہتے ہیں اور وہ اس نام کو ثابت بھی کر رہے ہیں۔ سوریہ کمار یادو ٹی ٹوئنٹی کی ریٹنگ میں نمبر 1بلے باز بن چکے ہیں انہیں 360ڈگری کا بلے باز کہا جاتا ہے ۔اور اس کی وجہ کیا ہے اس ٹورنامنٹ میں وہ بخوبی بتا رہے ہیں۔سوریہ ان دنوں ٹورنامنٹ میں 3ہاف سنچری کی مدد سے 225رن بنا چکے ہیں۔ان کا اوسط ہے 75اور پوری دنیا میں ٹیم انڈیا کے کروڑوں فینز کی نظریں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ انگلینڈ کی ٹیم بھی مضبوط اور اسے ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا ہے ۔بیسٹ آف لک ٹیم انڈیا! (انل نریندر)

08 نومبر 2022

دہلی میونسپل چناو ¿کا دلچسپ مہابھارت !

دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناو¿ کا اعلان ہو چکا ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے اس چناو¿ کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھی پتا نہیں کب چناو¿ ہو جائے لیکن بے یقینی کے ماحول کو ختم کرتے ہوئے دہلی چناو¿ کمیشن نے چناو¿ کا اعلان کر دیا ۔اور اسی کے ساتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کے موضوع بحث بنے مہا بھارت کی اب شروعات ہو گئی ہے ۔ یہ لڑائی صرف سیاسی پارٹیوں کی نہیں ہے یہ ایک جنگ ہے دہلی کے مسائل کی یہ جنگ ہے ۔دیش کی راجدھانی سے دنیا کی سب سے آلودہ راجدھانی کا ٹھپا ہٹانے کی ہے ۔ اس لئے دہلی والوں کو اس بار ایسے کونسلروں اور سیاسی پارٹیوں کو جتانا ہے جسے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ذریعے کام ممکن ہے ۔سب سے ضروری ہے کہ امیدوار کا کردار ووٹر کو ووٹ دینے سے پہلے اس کے بارے میں جاننا ضرور چاہئے ۔ اچھے لوگ جیتیںگے تو کچھ بہتری ممکن ہے ۔ایم سی ڈی میں کرپشن کے قصے آئے دن سننے کو ملتے ہیں دیکھیں نئی ایم سی ڈی میں کرپشن کم ہوتا ہے یا نہیں ؟ دہلی میونسپل چناو¿ کے اعلان کے بعد بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہی کانگریس نے اپنی جیت کا بھروسہ جتایا ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ تینوں ہی پارٹیوں کیلئے یہ چناو¿ بیحد چیلنج بھرا ہے ۔تین مرتبہ سے مسلسل ایم سی ڈی میں قابض بی جے پی تو اسے پھر سے حاصل کرنے کی کوشش میں ہے لیکن اس مرتبہ اسے عام آدمی پارٹی سے زبردست چنوتی مل رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار گجرات اور ہماچل پر دیش اسمبلی چناو¿ کے درمیان ایم سی ڈی کے چناو¿ کے اعلان کو بھی ایک بڑے سیاسی داو¿ کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ۔ دہلی میں 1997کے بعد سے اب پانچ مرتبہ چناو¿ میں ایک مرتبہ کو چھوڑ کر بی جے پی نے ہی چار بار کامیابی حاصل کی ہے اورکانگریس صرف 2002میں کامیاب ہوئی تھی اس کے بعد سے مسلسل تین بار بی جے پی ایم سی ڈی میں جیت حاصل کرتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ بی جے پی کو بڑی چنوتی کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ ہے15برس کے پارٹی مخالف ماحول ہے ۔ عام آدمی پارٹی اسے لیکر لگاتار حملہ آور ہے اور کوڑے کے پہاڑ کو لیکر وہ مسلسل اشو بناکر بھاجپا پر الزام لگاتی رہی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی ایم سی ڈی کے کاموں سے زیادہ مرکزی سرکار کے کام کاج کو بنیا د بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔دہلی کی سیاست کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی اس لڑائی میں بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے درمیان زبردست ٹکر نظر آ رہی ہے لیکن تیسر پارٹی کانگریس کا کیریکٹر ابھی بھی بر قرار ہے ۔ دراصل کانگریس چنوتی اور چناو¿ میں اس طرح کی پرفارمنس دیتی ہے اس کا عآپ اور بی جے پی کی جیت پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ 2017میں ایم سی ڈی چناو¿ ہوئے تھے اس سے پہلے 2015میں عام آدمی پارٹی کلین سویپ کر چکی تھی ۔لیکن ایم سی ڈی چناو¿ میں وہ بی جے پی کو اس لئے مات نہیں دے سکی کیوں کہ کانگریس بہت کمزور نہیں تھی ۔اس وقت عام آدمی پارٹی نے 26فیصد ووٹ حاصل کیا تھا جبکہ کانگریس 21فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی ۔بی جے پی اکیلے ہی 36فیصد ووٹ لے گئی اس لئے اس نے تینوں کارپوریشنوں میں 181سیٹیں جیت لی تھی ۔ابھی ایم سی ڈی کے چناو¿ کمپین زور پکڑے گی دیکھیں تینوں پارٹیاں کیسے آگے بڑھتی ہیں ۔ میونسپل چناو¿ کی مقبول ترین مہا بھارت کا آ غاز ہو چکا ہے۔ (انل نریندر)

صدر ٹرمپ کی ساکھ دائو پر!

امریکہ میں تین نومبر کو وسط مدتی چنائوہوئے ہیں۔ یہ چنائو ایک طرف ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت دائو پر ہے وہیں ڈیموکریٹک پارٹی کی ساکھ ب...