Translater

20 اکتوبر 2026

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم یعنی اقتدار تبدیلی چاہتے ہیں۔اس کے بعد ہنگامہ ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ پرشانت بھوشن نے دیویندر یادو کے انڈین ایکسپریس میں لکھے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا’ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، ہم چنائو پروسیس میں سدھار چاہتے ہیں۔‘یادو کے بیان پر مظاہرین کو بہت برا لگا اور اپنی پوزیشن صاف کرنے کے مقصد سے پرشانت بھوشن نے اقتدار تبدیلی کی بات کہی۔ اس سے پہلے کہ  بی جے پی کا اس پر کیا جواب آیا میں بتانا چاہتا ہوں کہ رجیم چینج کا مطلب کیا ہوتا ہے اور کیوںوہ جمہوریت کی ایک اہم ترین کارروائی ہے۔ میں نے الگ مطلب : حکومت تبدیلی یا اقتدار تبدیلی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کسی دیش کی موجودہ حکمرانی نظام، سرکار یا لیڈر شپ کو ہٹا کر اس کی جگہ نئی قیادت لانا ہے۔ اس کا مطلب قطعی تختہ پلٹنا نہیں ہوتا۔ تختہ پلٹنے کا عام طور پر مطلب ہوتا ہے جب فوج منتخب سرکار کو زبردستی ہٹا کر خود حکمرانی سنبھال لیتی ہے۔ یہ ہم نے کئی بار پاکستان میں دیکھا ہے۔افریقہ کے کئی ملکوں میں بھی دیکھا ہے۔ جمہوریت میں سرکار یا اقتدار تبدیلی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ انا آندولن کے بعد جنتا نے اقتدار بدلہ تھا اور بی جے پی کو بعد میں حکومت ملی۔ جب رجیم چینج کی بات کرتے ہیں تو موجودہ سرکار کو چنائو میں ہراکر اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو ایک ہی سرکار بغیر چنائو جیتے اقتدار میں سالوں سال بنی رہے تو وہ تانا شاہی ہوجائے گی۔اس لئے یہ کہنا کے رجیم میں چینج کا مطلب تختہ پلٹنا نہیںہے خیر اس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد بد امنی پھیلانا ہے۔ وہیں بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ پریس کانفرنس سے صاف ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی منشا ہے دیش میں تختہ پلٹ کرنا اور بغیر چنائو لڑے سرکار بنانا۔ اپوزیشن کا آندولن چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے، بلکہ اقتدار تبدیلی کے لئے بنگلہ دیش کی طرز پر دیش میں تشدد اور بدامنی پھیلاناہے۔ اس پر کانگریس نے راجناتھ سنگھ کے بیان پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی حقیقت صاف ہےاور ہم چنائو کے ذریعے سرکار کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ کانگریس ایم پی پون کھیڑا بدامنی کے سہارے اقتدار تبدیلی کے راجناتھ کے الزام کو بھاجپا کا پاکھنڈ بتایا۔پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے وزیر دفاع کے بیان پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرکار کو ہٹانا ہے اور اس نظام کو بدلنا ہے۔ کھیڑا نے مزید کہا چنائو کے ذریعے سے سرکار بدلنا جمہوریت کاایک عام پروسیس ہے۔ کھیڑا نے 1977 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ رجیم بدلنا ہے۔1977 میں کیاہوا تھا؟ ہر بار جب اپوزیشن سڑک پر آتی ہے اور کوئی بھی آندولن ہوتا ہے تو اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔ چنائو کے ذریعے ہی رجیم چینج ہوتا ہے۔ کھیڑا نے کہا بھاجپا جمہوریت کی تعمیل کرنے کی عادت بھول چکی ہے۔پرشانت بھوشن نے کہا کہ اب سرکار کہہ رہی ہے کہ یہ تو اپوزیشن کا رجیم چینج کاآپریشن ہے۔ہم تو ابھی چنائو، جمہوریت ٹھیک کرنے کی اپیل کررہے تھے لیکن سرکار اس بربریت سے چلے گی تو ضرور رجیم چینج ہوگا۔رجیم چینج کے الزامات پر انہوں نے کہا : ہاں ہم رجیم چینج کرنا چاہتے ہیں، اس میں کیا غلطی ہے؟ بی جے پی رجیم چینج کے لئے بار بار الزامات لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ لوگ رجیم چینج کے نام پر سازش رچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا رجیم چینج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ہمارے آئین میں سرکار کے خلاف احتجاج کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ 
(انل نریندر)

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم ی...