اپوزیشن انڈیا اتحاد کے نمائندہ وفد نے جمعہ کی رات مہامہم صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ہے۔ محترمہ صدر دروپتی مرمو سے ملنے والوں میں کانگرسی صدر ملیکا ارجن کھڑگے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی،ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی، جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ ، این سی پی (شرد پوار) ایم پی سپریہ سلے، آر جےڈی ایم پی منوج جھاو دیگر اپوزیشن لیڈر شامل تھے۔اپوزیشن نمائندہ وفد کی یہ اہم مانگیں تھیں جو انہوں نے صدر جمہوریہ کے سامنے رکھیں ۔پہلی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ،سی ای سی کو تاحیات قانونی چھوٹ دینے والے 2023 کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔ دوسرا، ایس آئی آر پر فوراً روک لگے اور ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پرہٹائے گئے 3.30 کروڑ ووٹروں کے نام بحال کئے جائیں۔تیسرا، سبھی چنائو میں بیلٹ پیپر استعمال کا نظام واپس لایا جائے۔ چوتھا، پچھلے دو برسوں میں ہوئے ان سبھی انتخابات (اسمبلی) کو منسوخ کیا جائے، جس میں اپوزیشن کے مطابق ووٹ چوری کے فیصلہ کن ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے صدرسے ملاقات کو تسلی بخش بتایا۔ اس سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈرمارچ نکالتے ہوئے راشٹرپتی بھون کی طرف بڑھے توپولیس نے صرف 10 لوگوں کی اجازت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں وجے چوک پر ہی روک دیا۔ اپوزیشن کے 158 ایم پیز کے ساتھ وفد ملنا چاہتا تھا۔اپوزیشن لیڈر مطالبات منوانے کےلئے دھرنے پربیٹھ گئے۔ بعد میں ایک نمائندہ وفد کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیجنے پر راضی ہوگئے۔ صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مخاطب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ کو سونپے گئے میمورنڈم میں ایس آئی آر کو ملتوی کرنے اور 3.30کروڑ ووٹروں کے ناجائز طریقے سے کاٹے گئے ناموں کو پھر سےبحال کرنے کی مانگ کی۔ صدر کو سونپے گئے میمورنڈم میں صاف طور پر الزام ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ہندوستانی جمہوریت کو برباد کرنے کی سازش رچی ہے۔راہل نے بعد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ صدر جمہوریہ نے ہماری بات کی بالکل تردید نہیں کی۔ انہوں نے (راہل کے مطابق)چنائو میں دھاندلی کے ثبوت مانگے، جو انہیں سونپ دئے جائیںگے۔ووٹ چوری کی گئی ہے انہوں نے کہا ہریانہ ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہارو دہلی اور مغربی بنگال اسمبلی چنائو میں دھاندلی کرکے جیت حاصل کی اور اب تک 24 چنائو چوری ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا مجھے امید تھی کہ صدر جمہوریہ اس بات سے انکار کریںگی کہ ووٹ چوری ہورہی ہے لیکن میں حیران رہ گیا کہ انہوں نے ہماری بات مان لی۔ بتادیں کہ یہ نیتا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے ،راشٹرپتی بھون سے ایسی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔دیکھنا اب یہ ہوگاصدر جمہوریہ دروپتی مرمو کا اس پر کیا رد عمل ہوتا ہے؟ بتادیں کہ آئین کے مطابق چنائو کمیشن صدر جمہوریہ کو رپورٹ کرتا ہے۔ ممکن ہے صدر یہ میمورنڈم چنائو کمیشن کو بھیجیں اور ان سے جواب طلب کریں۔
(انل نریندر)