Translater

05 نومبر 2026

صدر ٹرمپ کی ساکھ دائو پر!

امریکہ میں تین نومبر کو وسط مدتی چنائوہوئے ہیں۔ یہ چنائو ایک طرف ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت دائو پر ہے وہیں ڈیموکریٹک پارٹی کی ساکھ بھی دائو پر لگی ہے۔ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی شکل میں کافی کم ہے۔دوسری طرف پیٹرول ،ڈیزل،کھانے پینے کی چیزوں کی بڑھتی قیمتوں سے امریکی عوام ناراض ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے آرہےپول سروے بھی ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی حریف جماعت ڈیموکریٹس کے مطابق ہیں جو ان کے لئے اچھی خبرکا اشارہ ہیں۔ سروے کے مطابق امریکی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرنے کےلئے 218 سیٹوں سے کہیں زیادہ سیٹوں پر ڈیموکریٹس کے امیدوار بڑھت بنائے ہوئے ہیں۔حال ہی میں آئےنیویارک ٹائمس کے ایک سروے میں کیرولائپا ریاست کی سینٹ سیٹ پر مقابلہ برابر کا دکھایا گیا ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 میں 18 فیصد نمبروں کے فرق سے جیت حاصل کی تھی۔ ویسے حالیہ برسوں میں ایسی کئی مثال دیکھنے کو ملی ہیں جب پبلک سروے چنائو نتیجوں کا پختہ اندازہ نہیں لگا سکے۔ یہ وسط مدتی چنائو ڈونلڈ ٹرمپ کےلئے اگنی پریکشا ہیں۔ ان کا نتیجہ طے کرے گا کہ ٹرمپ کو اپنی میعاد کے اگلے دو برسوںمیں پارلیمنٹ (کانگریس) کی کتنی حمایت ملے گی۔ امریکہ میں صدارتی چنائو کی طرح وسط مدتی چنائو بھی ہر چار سال میں ہوتے ہیں۔یہ چنائو صدر کی آدھی میعاد کے دوران ہوتے ہیں۔ چنائو بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے امریکہ میں وسط مدتی چنائو کی بہت ہی اہمیت ہوتی ہے۔ امریکہ کے نچلے ایوان کو نمائندہ سبھا (ہائوس آف ریپرزنٹیٹیو) میں دو سال کی میعاد والے ان نمائندوں کے سبھی 435 سیٹوں پر چنائو ہو رہے ہیں۔ آبادی کی بنیاد پر سیٹیں طے کی جاتی ہیں اور ایوان بالا کے ممبران پارلیمنٹ کی میعاد 6 سال ہوتی ہے۔سینیٹ میں 100 سیٹیں ہوتی ہیں۔ ہر صوبے کے لئے دو سیٹیں ہوتی ہیں۔ 50 صوبوں کی کل 100سیٹیں ہوتی ہیں۔ اس چنائو میں سینیٹ کی 35 سیٹوں کے لئے پولنگ ہوئی ہے۔اس مرتبہ چنائو میں ٹرمپ کو کئی مسئلوں پر چنوتیاں ملیں۔ اس میں مہنگائی، بڑھتے پیٹرول۔ ڈیزل کے دام کے علاوہ ایران سے جاری جنگ بڑا اشو ہے۔ وہیں تجارت ،ہیلتھ، امگریشن خدمات، تعلیم اور جمہوریت کا مستقبل اہم اشو ہیں۔ قومی سطح پر ہوئے کئی پبلک سروے میں ڈیموکریٹ کی بڑھت دکھائی گئی ہے۔ امکانی ووٹروں کے درمیان ڈیموکریٹس امیدواروں کو 52 سے53 فیصد تک حمایت ہے جبکہ اس کے پارٹی ریپبلکن امیدوار44 فیصد کے آس پاس مانے جارہے ہیں۔ڈسیجن ڈیسک ایم کیو کے سروے میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا 79 فیصد کا امکان ہے۔ 16سے18 کروڑ رجسٹرڈ ووٹر ووٹ ڈالنے کے لئے اہل ہیں۔ امریکہ میں 4 نومبر کی صبح تقریباً6بجے سے رجحان اور ابتدائی نتیجے آنے شرو ع ہوگئے۔(ہندوستانی وقت کے مطابق) یہ چنائو بھارت کے لئے اس لئے معنی رکھتا ہےکیونکہ امریکی پارلیمنٹ کے فیصلے ہندوستانی ایکسپورٹ، امریکہ میں کام کررہے ہندوستانی پیشہ وروں کو سیدھا متاثر کرسکتے ہیں۔ان چنائو کے نتیجے نہ صرف  امریکی پالیسیوں کو متاثر کرسکتے ہیں بلکہ پوری دنیا پر اس کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

صدر ٹرمپ کی ساکھ دائو پر!

امریکہ میں تین نومبر کو وسط مدتی چنائوہوئے ہیں۔ یہ چنائو ایک طرف ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت دائو پر ہے وہیں ڈیموکریٹک پارٹی کی ساکھ ب...