Translater

18 اپریل 2017

لات،گھونسے برستے رہے، نہیں چھوڑاصبر کا دامن

کشمیر وادی میں سی آر پی ایف جوانوں کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کے تین ویڈیو وائل ہونے کے بعد دیش بھر میں عام لوگوں میں غصے کی لہر دوڑنا فطری ہے۔ پہلے ویڈیو میں ایک کشمیری نوجوان کے سر پر زبردست حملہ کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے تو دوسرے میں ایک لڑکا جوان کے ذریعے ہاتھ میں پکڑے ہیلمٹ کو پیر مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تیسرے ویڈیو میں کچھ لڑکوں کے ذریعے جوانوں کو الٹے سیدھے لفظ کہتے اور ان کا مذاق اڑاتے اور انہیں لات گھونسوں سے مارتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تینوں ویڈیو میں حملہ آور ’بھارت واپس جاؤ ‘ کے نعرے لگا کر بدسلوکی کررہے ہیں لیکن جوان ہاتھوں میں رائفلیں ہونے کے باوجودکوئی جوابی کارروائی کئے بغیر انہیں خاموش کراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان ویڈیو میں نہ صرف جہاں یہ دکھایا گیا کہ گمراہ کشمیری نوجوانوں کے کس حد تک حوصلے بڑھ چکے ہیں، وہیں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہمارے جوان بے عزتی کا گھونٹ پیتے ہوئے کن مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے اس سب کے باوجود عدالتوں سے لیکر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے انہیں ہی صبر سے کام لینے کی نصیحت دینے سے باز نہیں آتیں۔باقی باتیں چھوڑ بھی دیں تو خود حفاظت کا حق تو سب کو ہے۔ عدالت بھی اس اصول کو مانتی ہے۔ اگر آپ پر حملہ ہو تو آپ جوابی حملہ کرسکتے ہیں لیکن ہمارے بیچارے جوانوں سے تو یہ بھی حق چھین لیا گیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر سرکار کی پالیسی کیا ہے؟ کیا اس طرح ہمارے بہادر جوان بے عزت ہوتے رہیں گے ،پٹتے رہیں گے؟ یہ تشفی کی بات ہے کہ کھیل دنیاسے جڑے نام اب کھل کر جوانوں کی سلامتی پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ ہندوستانی کرکٹر ویریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر نے کشمیر وادی میں ضمنی چناؤ کے دوران سی آر پی ایف جوانوں پر حملہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ گمبھیر نے جمعرات کو ٹوئٹ کیا ’ہماری فوج کے جوانوں کو لگے ہر طمانچہ کے بدلے کم سے کم 100جہادیوں کی جانیں جانی چاہئیں جسے آزادی چاہئے وہاں سے فوراً چلا جائے‘۔ سہواگ نے لکھا ہے یہ ناقابل قبول ہے۔ ہمارے سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہئے، اس پرروک لگنی چاہئے۔ بدتمیزی کی حد ہے۔ اولمپک میڈل ونر پہلوان یوگیشور دت نے فوج کی تنقید کرنے والوں پر نشانہ لگاتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ سیلاب سے بچاؤ ، پھر پتھر کھاؤ جب کچھ لوگوں کو پریشانی نہیں ہے اب فوج نے مارا نہیں بس ہاتھ پیرے باندھ دئے تو پریشانی کی حالت ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں فوج کے جوانوں کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کے ذریعے کئے گئے بدتمیزی کے برتاؤ کے خلاف احتجاج میں بالی ووڈ بھی کھڑا ہوگیا ہے۔ فلم اداکار انوپم کھیر، فرحان اختر، کمل ہاسن، رندیپ ہڈا نے سی آر پی ایف جوانوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہوئے بیجا برتاؤ کی سخت مذمت کی ہے۔ فرحان اختر نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے: فٹیج میں دکھائی دے رہا ہے کہ ہمارے جوانوں کو تھپڑ مارا جارہا ہے اور پیٹا جارہا ہے یہ تکلیف دہ ہے۔ ان کا صبر لائق تحسین ہے لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہئے۔ ساؤتھ انڈین سپر سٹار کمل ہاسن نے لکھا ہے :بھارت کو یونیفائڈ کرے اور مرے فوجیوں کی بے عزتی کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ انوپم کھیر نے ویڈیو پوسٹ پر لکھا ہے کہ ایک پرامن شخص کی شکل میں میں فوج کے صبر کی تعریف کرتا ہوں لیکن پھر بھی کہتا ہوں کہ ہمارے فوجیوں سے پنگا نہ لیں۔بلا شبہ ہمارے فوجیوں کو ناگزیں حالات کا سامنا کرنا آنا چاہئے لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔پھر بھی کشمیر وادی میں تعینات جوانوں کو ہر حال میں صبر کا مظاہرہ کرنے کی نصیحت دی جاتی رہی ہے اور اس کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے کہ بھارت مخالف عناصر کا حوصلہ کس طرح اپنی حدیں پار کرگیا ہے تو پھر فوج اور سکیورٹی فورس کا اقبال ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اچھاہوگا کہ کشمیر میں سنگین ہوتے حالات کو لیکر سچ کا سامنا کیا جائے اور وہ بھی پورے عزم کے ساتھ۔
(انل نریندر)

ڈونلڈ ٹرمپ، براک اوبامہ نہیں ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جمعرات کو افغانستان کے اتھن ضلع میں جو بڑا بم گرایا گیا تھا اس کی گونج افغانستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں سنائی پڑی۔ ٹرمپ نے آئی ایس کے ٹھکانوں پر جو بم گرایا اس سے ساری دنیا کو یہ پیغام بھی دے دیا گیا کہ براک اوبامہ عہد کے کم سے کم مداخلت کی پالیسی اب ختم کردی گئی ہے۔ ٹرمپ نے اوبامہ انتظامیہ کی کچھ پالیسیوں میں تبدیلی کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ مثلاً انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ایک بار پھر دہشت گرد گروپوں کے خلاف ڈرون حملوں کا اختیار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے یہ اختیار امریکہ کے ڈیفنس محکمے کے پاس تھا اور سی آئی اے صرف خفیہ جانکاریاں اکٹھا کرنے کے لئے ڈرون کا استعمال کرتی تھی۔ اب سی آئی اے پینٹاگان یا وائٹ ہاؤس کی اجازت کے بغیر بھی ڈرون حملہ کرسکتی ہے ۔قابل غور ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کے آخری 8 مہینوں میں ڈرون حملے بند تھے۔ امریکہ اب پھر سے خارجہ پالیسی کو جارحانہ انداز میں واپس لے آیا ہے۔ افغانستان کی سطح پر دیکھیں تو یہ پیغام ساری دنیا میں پہنچ ہی گیا ہوگا کہ ناظرین تک جنگ سے لڑتے رہے اس سندیش کو امریکہ نے اپنے حال پر نہیں چھوڑدیا۔ پچھلے کافی عرصے سے یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ جلد ہی طالبان اور اسلامک اسٹیٹ جیسی تنظیم افغانستان پر قابض ہوجائیں گی۔ امریکہ نے بتادیا ہے کہ ایسی حالت میں وہ تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گا۔ ساتھ ہی شام اور روس کو بھی یہ سندیش بھیج دیا ہے کہ آئی ایس سے لڑائی صرف انہی کے بھروسے نہیں چھوڑی گئی ہے۔ امریکہ اس سے اپنے ڈھنگ سے نپٹے گا۔ اسی کے ساتھ ایک اور سندیش چین اور نارتھ کوریا کے لئے بھی ہے۔ خبر ہے کہ نارتھ کوریا ایک اور نیوکلیائی تجربہ کرنے جارہا ہے۔ امریکہ نے جہاں یہ پیغام دیا ہے کہ اس بار وہ معاملے میں چین کے بھروسے چھوڑ کر خاموش نہیں بیٹھے گا ادھر نارتھ کوریائی فوج کے سی ایم نے جمعہ کو کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی بھڑکاؤ کارروائی کی تو وہ نڈر ہوکر جواب دے گی۔ فوج نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی اور بلیک میل کے راستے پر اتر آئے ہیں۔چین کے وزیر خارجہ وانگ چی نے بھی جمعہ کو کہا کہ نارتھ کوریا کو لیکر کسی بھی لمحہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے امریکہ کو بھی وارننگ دی ہے کہ کسی جنگ میں کوئی ونر نہیں ہوتا۔ چین نے نارتھ کوریا کو بھی نیوکلیائی تجربہ کرنے کو لیکر آگاہ کیا ہے۔ اتنا تو طے ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ براک اوبامہ نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

15 اپریل 2017

راجوری گارڈن ضمنی چناؤ کے نتیجہ کا مطلب کیا ہے

دہلی کی راجوری گارڈن اسمبلی سیٹ کیلئے ہوئے ضمنی چناؤ کا نتیجہ بی جے پی کے حق میں آنا تو اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم عام آدمی پارٹی کا اس بری طرح ہارنازیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ پچھلے چناؤ میں ساڑھے دس ہزار سے زیادہ ووٹ کے فرق سے یہ سیٹ جیتنے والی عام آدمی پارٹی کا امیدوار اس بات اپنی ضمانت تک نہیں بچا سکا۔ انہیں صرف 10243 ووٹ ملے۔ اس جیت سے اسمبلی میں ا ب بھاجپا ممبران کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ عاپ امیدوار ہرجیت سنگھ تیسرے نمبر پر رہے۔ کل جائز ووٹ کے چھٹے حصے سے کم ووٹ ملنے کے سبب ان کی ضمانت ضبط ہوگئی ہے۔ انہیں کل 13.11 فیصد ووٹ ملے۔ 2015 کے چناؤ میں یہیں سے کانگریس امیدوار کی ضمانت ضبط ہوئی تھی۔ بھاجپا ۔ اکالی دل کے امیدوار منجندر سنگھ سرسہ 10 ہزار ووٹ سے ہارے تھے۔ پنجاب میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں یہاں کے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی جرنیل سنگھ نے استعفیٰ دیا تھا جس وجہ سے یہاں ضمنی چناؤ ہوا۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس بار کانگریس کو 25950 ووٹ ملے اور عام آدمی پارٹی کو 102431 ووٹ ملے۔ اگر ان دونوں کے ووٹ جوڑ بھی دئے جائیں تب بھی بھاجپا امیدوار کے ووٹ زیادہ ہے۔ جیت کے بعد بی جے پی ۔ اکالی دل کے امیدوار منجندر سنگھ سرسہ نے کہا کہ جنتا نے عاپ کو مسترد کردیا ہے۔ یہ عاپ پارٹی کی سرکار کا زوال ہے۔ کیجریوال کرسی چھوڑ کر پھر سے چناؤ کرائیں۔ عام آدمی پارٹی کی ہار پر سوراج انڈیا کے قومی ترجمان انوپم نے کہا کہ عاپ نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ وہ جنتا کے من سے بہت جلد اتر گئی ہے۔ عاپ دیش میں تبدیلی کی سیاست کے مقصد سے آئی تھی لیکن خود بدل گئی۔ انہوں نے کہا پنجاب میں اکالیوں کو جنتا نے 10 سال بعد اپنے دلوں سے نکال دیا تو وہیں دہلی کی جنتا نے محض 2 سال کے بعد ہی عاپ کے تئیں یہ رخ دکھا دیا ہے۔انہوں نے کہا راجوری گارڈن ضمنی چناؤ کا نتیجہ صرف ایک سیٹ کیلئے نہیں بلکہ پوری دہلی کی جنتا کے دل کا رجحان ہے۔ بی جے پی۔ اکالی امیدوار کی جیت نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ یہاں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کا جلوہ برقرار ہے۔ چناؤ میں کانگریس دوسرے نمبر پر رہی۔ ہار کے بعد بھی یہ سوچ کر خوش ہوسکتی ہے کہ اس کا ووٹ بینک واپس لوٹنے لگا ہے۔ ضمنی چناؤ کے نتیجہ نے عام آدمی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اس ہار کا سیدھا اثر دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پر پڑے گا۔ کانگریس نے اپنا ووٹ فیصد بڑھایا ہے جو ووٹ پچھلے چناؤ میں کانگریس سے نکل کر عاپ کی طرف آگیا تھا وہ واپس چلا آیا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایم سی ڈی چناؤ میں لڑائی بھاجپا۔ کانگریس کے درمیان ہوگی۔عام آدمی پارٹی امیدوارہرجیت سنگھ کی بری طرح ہوئی ہار بتاتی ہے لوگوں کو پارٹی نیتاؤں کے ذریعے مودی و سرکاری اداروں و دیگر پارٹیوں پر لگائے گئے الزامات راس نہیں آئے اور انہوں نے عاپ کو سبق سکھانے کی ٹھان لی ہے۔ کیا ایک طرح سے یہ نتیجہ عام آدمی پارٹی کے دو سال کی میعاد پر ریفرنڈم مانا جائے؟ اروند کیجریوال کو اس ہار کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ وعدہ کر کے نہ پورا کرنا ، بھاگ جانا، الٹے سیدھے الزام لگانا، دہلی کی جنتا کو راس نہیں آرہا ہے۔ اس ضمنی چناؤ کا اثر ایم سی ڈی چناؤ پر پڑنا طے ہے۔ بھاجپا پچھلے 10 سالوں سے ایم سی ڈی میں اقتدار میں ہے۔ تمام طرح کے کرپشن کے الزامات سے گھرنے کے بعد بھی مودی لہرکی بدولت وہ پھر سے اقتدار میں لوٹ سکتی ہے لیکن اگر بھاجپا اقتدار میں آئی تو اس بار وزیر اعظم کی ذمہ داری ہوگی کہ ایم سی ڈی میں کرپشن سے پاک صاف ستھرا انتظامیہ دیں۔ فی الحال تو عام آدمی پارٹی بری طرح سے بے نقاب ہوگئی ہے۔ پانی۔ بجلی معاف کرنے کا اثر اگر راجوری گارڈن کے ووٹروں پر نہیں پڑا تو کس اشو پر پارٹی ایم سی ڈی چناؤ لڑے گا؟ہاں ای وی ایم کا اشو تو ہے ہی۔
(انل نریندر)

کلبھوشن جادھو کو ابھی بھی بچایا جاسکتا ہے

ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کا اشو منگل کے روز لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اٹھا۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں کہا کہ جادھو کے پاس جائز پاسپورٹ کا ملنا اس بات کا ثبوت کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہندوستانی جاسوس ہیں۔ یہ واقعہ پاکستان کو بے نقاب کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا جادھو بھارتیہ بحریہ کے سابق افسر رہے ہیں جو ایران کے چابہار میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔ اس میں ایک مقامی ایرانی شہری ان کا سانجھے دار بھی تھا۔ کاروبار کے سلسلہ میں ان کا چابہار میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ابھی بھی کلبھوشن جادھو کی جان بچائی جاسکتی ہے۔اگر تاوقت پاکستانی فوج چاہے تو پاکستان کے آرمی ایجنٹ 1952 کے تقاضہ 7.2.3 کے مطابق فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف شہری عدالتوں میں اپیل نہیں کی جاسکتی لہٰذا جادھو کو اعلی فوجی ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خاں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ جادھو کی پھانسی کی سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے دی ہے لہٰذا اس کے پاس پہلا متبادل میجر جنرل کی آرمی ٹریبونل میں پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔ اگر یہ ٹریبونل سزا برقرار رکھتی ہے تو جادھو کے پاس فوج کے سربراہ کے سامنے اپیل کرنے کا موقعہ ہوگا۔ اگر وہ چاہیں تو معاملے میں آخری فیصلہ دے سکتے ہیں۔ اب فوجی کورٹ کے خلاف پاک سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ پھانسی کی سزا پائے 16 لوگوں نے سال2016ء میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی یہ کیس ابھی التوا میں ہے۔ فوج کے سربراہ سے اپیل خارج ہونے کے بعد جادھو پاک صدر کے سامنے رحم کی اپیل داخل کرسکتے ہیں یہ ان کے لئے آخری متبادل ہوگا۔ بھارت اقوام متحدہ کے ذریعے کلبھوشن جادھو کااشو بین الاقوامی عدالت میں اٹھا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ممبر ہونے کے ناطے پاکستان کو بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرنے کو کہا جاسکتا ہے۔ یہ ممبر ملکوں کے درمیان کسی تنازعہ کے حل کا ذریعہ ہے۔ بین الاقوامی عدالت میں پھانسی کی سزا کو لیکر تین معاملوں میں متاثرہ دیشوں کو راحت دی ہے۔پہلا گووا، جرمنی اور میکسیکو نے امریکہ میں پھانسی کی سزا پائے اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے عرضیاں داخل کی تھیں۔1998ء میں پہلا گووا،1999ء میں جرمنی اور 2003ء میں میکسیکو کے شہریوں کو پھانسی کی سزا سے راحت ملی۔ویانا معاہدہ کسی شہری کو دوسرے دیش میں حراست میں لئے جانے پر اپنے سفارتخانے یا دوسرے شہریوں کو رابطہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ملزم کو قانونی مدد پانے کا بھی حق ہے۔ کلبھوشن کو بچانے کیلئے کئی متبادل کھلے ہیں۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2017

سرینگرمیں اب تک سب سے کم ووٹنگ

دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کے چلتے ایتوار کو سرینگر میں ہوئے ضمنی چناؤ میں اب تک کی سب سے کم 7.14 فیصد ووٹنگ سبھی کیلئے باعث تشویش ہے۔تشدد کے واقعات میں 8 لوگوں کی جان جانا اور محض 7.14 فیصدی پولنگ ہونا ہماری کئی ناکامیوں کی طرف ایک ساتھ اشارہ کرتا ہے۔ یہ وہی لوک سبھا سیٹ کی بات ہے جہاں پچھلی بار تقریباً 60 فیصدی ووٹ پڑے تھے۔ چناؤ بائیکاٹ کا تو تب بھی علیحدگی پسندوں نے اعلان کیا تھا خطرہ تب بھی تھا۔ جو لوگ بائیکاٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ووٹ ڈالیں گے انہیں دہشت گردوں کی زیادتیوں کا شکار بننا پڑسکتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے تھے اور ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ 2014ء اسمبلی چناؤ میں تو ریکارڈ پولنگ ہوئی تھی۔ 2004ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھی جموں و کشمیر میں قریب 50 فیصد زیادہ ووٹ پڑے تھے۔ سرینگر میں بھی تمام شرپسندوں کی کرتوت کے باوجود 26 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخرضمنی چناؤ میں ایسا کیا ہوا کہ پولنگ فیصد بڑھنے کے بجائے اتنے نیچے چلا گیا جسے پولنگ کہنے میں بھی قباحت ہورہی ہے۔ حقیقت میں پوری حالت خوف پیدا کرنے والی ہے۔ جگہ جگہ پتھر بازوں کا دستہ پولنگ روکنے کے لئے دنگا پھیلا رہاتھا۔ سکیورٹی فورس پر حملے کئے گئے، کہیں پولنگ مرکز میں ای وی ایم توڑی گئی تو کہیں پولنگ مرکز کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس بار جس طرح سے پتھراؤ اور تشدد ہوا اور لوگوں کی جان گئی اس نے بتایاکہ ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نہ نکلنے والوں کو یہ احساس شاید پہلے ہی سے تھا یا پھر جو ماحول تھا اس نے انہیں سکیورٹی فورس کی کوئی یقین دہانی نہیں دکھائی دی۔ حریفوں کے لئے یہ کہنا آسان ہے کہ یہ ریاستی سرکار و چناؤ کمیشن دونوں کی ناکامی ہے لیکن جب فاروق عبداللہ جیسے سرکردہ نیتا پتھر بازوں کو وطن پرست کہہ رہے تھے یا یہ بتا رہے تھے کہ وہ بھوکے رہ جائیں گے لیکن پتھر چلائیں گے کیونکہ وہ کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے ایسا کررہے ہیں تب فاروق کو احساس نہیں تھا کہ اس سے شرپسندوں کو حوصلہ اور بڑھے گا۔ تھوڑی غلطی چناؤ کمیشن نے بھی کی۔ وزارت داخلہ کے سینئر افسر کے مطابق وزارت کی طرف سے 10 مارچ کو ضمنی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے کے فوراً بعد سخت الفاظ میں چناؤ کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں صلاح دی گئی تھی کہ کشمیر وادی میں ماحول ٹھیک نہیں ہے اس لئے ووٹنگ ٹالی جانی چاہئے۔ چناؤ کمیشن نے اب اننت ناگ لوک سبھا سیٹ پر 12 اپریل کو ہونے والے چناؤ کو 25 مارچ تک ٹال دیا ہے لیکن نقصان تو ہوچکا ہے۔
(انل نریندر)

ایک چپڑاسی کا بیٹا25 سال میں 500کروڑ کا مالک بن گیا

راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو اور ان کے کنبے کا تنازعوں سے پرانا رشتہ رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً ان پر گھوٹالوں کے الزام لگتے رہتے ہیں۔ تازہ الزام ہے کہ ایک نئی کمپنی اور زمین کو لیکر الزام لگایا گیا ہے۔ اس بار زمین بیئر فیکٹری سے جڑی ہے جس کا مالکانہ حق فوری خاندان کی آئس برگ پرائیویٹ لمیٹڈ کا ہے۔ بی جے پی نیتا اور سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے منگلوار کو آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو پر الزام لگایا ہے آئس برگ فیکٹری لگوانے کے بدلے اس کے مالک سے پٹنہ میں 60 کروڑ کی زمین لے لی۔ اسے اپنے خاندان کے نام کروا لیا۔ دراصل لالو جی کی باقاعدہ پالیسی رہی ہے ’تم مجھے زمین دو میں تمہارا کام کروں گا‘ سشیل مودی نے آگے کہا کہ وہ لگاتار ایسے خلاصے کرتے رہیں گے۔ مودی کے مطابق رابڑی دیوی کے وزیر اعلی کے عہد 2000-2005 کے دوران اوم پرکاش کتیال و امت کتیال کی کمپنی آئس برگ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کو بھی وہیٹا میں بیئر فیکٹری کھلوانے کے بدلے کتیال بھائیوں کی زمین لالو نے اپنے کنبے کے نام کروا لی۔28 ستمبر 2006ء کو اے ۔ کے انفوسسٹم کمپنی میں امت کتیال، راجیش کتیال و دیگر ڈائریکٹر تھے۔ جون2014ء میں اس کمپنی میں تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، چندرا یادو اور راگنی لالو کو ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ امت کتیال نے اپنے سارے شیئر تیجسوی یادو و رابڑی دیوی کو دے دئے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ کے نتیجوں کے بعد لالو یادو کی بیٹی کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹ گئی اور اب ان کی دوسری بیٹی چندا اور راگنی یادو اس کی ڈائریکٹر ہیں۔ بی جے پی نیتا سشیل مودی کا الزام ہے کہ اس سے صاف ہے کہ یہ پوری طرح سے کرپشن کا معاملہ ہے۔ لالو جی نے سشیل مودی کے ذریعے لگائے گئے مٹی و زمین گھوٹالے کے سبھی الزامات کو من گھڑت بتایا اور اپنی ساکھ کو خراب کرنے کی سازش قراردیا۔ لالو نے یہ ضرور مانا مال کی زمین انہی کی ہے۔جہاں میریڈین کمپنی پارٹنر شپ میں مال بنا رہی ہے۔ ایتوار کو پریس کانفرنس کر آر جے ڈی چیف نے کہا اور الزام لگانے والے خود گھوٹالے باز ہیں۔ لالو نے کہا میرے بچوں و بیوی کو بدنام کیا جارہا ہے۔ لالو یادو کی وضاحت کے بعد سشیل مودی نے کہا پانچ دن کی خاموشی کے بعد آخر کار لالو نے اعتراف کرلیا کہ 500 کروڑ کا مال انہی کا ہے۔ مودی نے کہا کہ بغیر ٹنڈر کے اپنے مال سے وہ90 لاکھ روپے کی مٹی سنجے گاندھی جیوک پارک کو دینے کا معاملہ اس کے آگے اب چھوٹاپڑ گیا ہے۔ سشیل مودی نے ایتوار کو لالو یادو کو مبارکباد دی کہ ایک چپڑاسی کا بیٹا 25 سال میں 500 کروڑ روپے کا مالک بن گیا۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2017

انصاف کے عالمی تاثر کو درکنار کر کلبھوش کو موت کی سزا

160پاکستان کی فوج عدالت نے پیر کو بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوش جادھو کو جاسوسی اور بدامنی پھیلانے میں موت کی سزا دے کر دونوں ملک میں نہ صرف ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا ہے بلکہ پاک بھارت تعلقات میں بہت بھاری کشیدگی پیدا کر دیا ہے. بھارت میں اس کے خلاف غم و غصہ فطری ہے. ہمارے کسی معصوم شہری کو کوئی ملک اغوا کر موت کی سزا سنا دے تو پھر ملک کے پرسکون رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے. پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کلبھوش جادھو کو موت کی سزا سنا کر یہ صاف کر دیا ہے کہ اس ملک میں مہذب زندگی اقدار کی آج بھی کوئی قدر نہیں ہے. انصاف کی عالمی تاثر کو درکنار کر بغیر کسی ثبوت کے بند کمرے میں کسی کو اس طرح سزا سنانے کا تو یہی مطلب نکلتا ہے. پاکستان کی فوجی عدالت نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ کس طرح اس نے بین الاقوامی معیار کے مذاق اڑایا ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوجی عدالت کے فیصلے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھایا ہے. ایمنسٹی کے ساؤتھ ایشیا ڈائریکٹر پٹنائک نے کہا کہ کلبھوش جادھو کو موت کی سزا دینا عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پاکستان کی فوجی عدالت نے بین الاقوامی معیار کی دھجیاں اڑائی ہے. انہوں نے بیان جاری کر کہا کہ عرضی گذار کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اور خطرناک خفیہ طریقے سے کام کر فوجی عدالتیں انصاف نہیں کرتی بلکہ اس کا مذاق اڑاتی ہیں. ان غلط کافی بندوبست جنہیں صرف فوجی نظم و ضبط کے مسائل سے نمٹنا چاہئے نہ کہ دوسرے جرائم سے. معاملہ کچھ یوں ہیں ۔ پاکستان نے پیر کو کہا کہ را کے ایجنٹ اور نیوی افسر کمانڈر کلبھوش جادھو ارف حسین مبارک پٹیل کو موت کی سزا سنائی گئی ہے. ان پر پاکستان کے خلاف ناپسندیدہ سرگرمیاں چلانے کی اور جاسوسی کرنے کا الزام ہے. گزشتہ سال کلبھوش کی گرفتاری کے بعد ہی حکومت ہند چھ بار وہاں کے وزارت خارجہ کو لکھ کر دے چکی ہے کہ وہ فوج کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور ایران سے اپنا کاروبار کرتے تھے. را سے ان کا کوئی کنکشن نہیں ہے، انہیں چھوڑ دیا جائے. منگل کو پارلیمنٹ میں بھی تمام ممبران پارلیمنٹ کی یہ رائے تھی. اتنا ہی نہیں، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ جادھو کے ہندوستانی جاسوس ثابت کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت ان کی حکومت کے پاس نہیں ہے. بھارت جب ثبوت مانگتا ہے تو پاکستان جادھو کی چند منٹو کی ایک ریکارڈنگ دکھاتا ہے، جسے کم سے کم پچاس جگہوں پر ایڈٹ کیا گیا ہے. اس ڈھیلاپن کے باوجود پاکستان کی فوجی عدالت کو جادھو کے لئے سزائے موت ہی مناسب لگا تو اس کی نیت کو سمجھنا ہوگا. پاکستانی سپریم کورٹ میں اس عدالت کے خلاف پہلے ہی مقدمہ چل رہا ہے. جنوبی ایشیا میں پاکستان اکلوتا ملک ہے جس کی فوج سڑک چلتے لوگوں کو اٹھا کر بند کمرے میں ان پر مقدمہ چلاتی ہے. مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں منتخب حکومت کی عما اتنی نہیں ہے کہ وہ فوج کے کسی فیصلے کو روک سکے یا اسے فیصلہ تبدیل کرنے کو کہے. وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت اس وقت ایک ساتھ کئی قسم کے دباؤ سے گھری ہوئی ہے اور وہ فوج کی ہاں میں ہاں ملانے کی حالت میں ہے. ویسے بھی نواز شریف کہتے ہیں کہ ہر صورت سے نمٹنے کے لیے پاکستان تیار ہے. لیکن اس معاملے میں پاکستان کو دنیا کے کسی ملک کا شاید ہی حمایت ملے. ساری دنیا جانتی ہے کلبھوش کیس انصاف کے کم از کم جو فالو بھی پاکستان نے نہیں کیا. ویانا معاہدے کے مطابق کسی غیر ملکی شہری کو پکڑ کر وہاں کے ہائی کمیشن یا سفارت خانے کو باضابطہ اس کی اطلاع دی جاتی ہے. پھر ہائی کمیشن یا سفارت خانے اپنے شہری پر مشتمل اس قانونی امداد پہنچانا چاہتا ہے تو اس کی اجازت اس ملتی ہے. پاکستان سے 13 بار زور دیا گیا کہ بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوش سے ملنے دیا جائے پر اجازت نہیں ملی. یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس پر کہاں اور کس جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے. دوسری طرف بھارت میں تو ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد اجمل قصاب پر دو سال مقدمہ چلا، سارے ثبوت کھلی عدالت میں پیش ہوئے اور پاکستان کو ان میں سے ایک پر بھی اعتراض نہیں ہوا. اتنا ہی نہیں، پاک بھارت تقسیم کے بعد سے ہندوستان نے جتنے بھی پاک جاسوس پکڑے، ایک کو بھی سزائے موت نہیں دی. پاکستان کو سوچنا ہوگا کہ بے بنیاد الزام کے تحت ایک بھارتی کو سب سے بڑی سزا سنا کر وہ وہ دونوں ملک کے رشتوں کو اتنا خراب کر لے گا کہ وہاں سے واپسی بہت مشکل ہو جائے گی.
 ( انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...