Translater

30 اپریل 2014

آج کا چناؤ وی آئی پی مرحلہ کہا جاسکتا ہے!

16ویں لوک سبھا کے لئے پولنگ کے ساتویں مرحلے میں ووٹ تو89 سیٹوں پر پڑرہے ہیں لیکن یہ کئی معنوں میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس مرحلے میں کانگریس صدرسونیا گاندھی، بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی، پارٹی صدر راجناتھ سنگھ،سابق پردھان لال کرشن اڈوانی، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، جنتادل (یو) کے شرد یادو، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، جیسی مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مستقبل داؤ پر ہے۔ان 89 سیٹوں میں سے سب سے زیادہ سیٹیں کانگریس کے قبضے میں ہیں۔بھاجپا کے پاس اس وقت 19 سیٹیں ہیں جن میں سے15 سیٹیں تو گجرات کی ہیں اس طرح بھاجپا کے پاس گجرات کو چھوڑ کر کل 4 سیٹیں ہیں۔ یہیں سے بھاجپا کو اچھی امید ہے اور اپنے مقررہ نشانے تک پہنچنے کے لئے یہ مرحلہ اس لحاظ سے بھاجپا کے لئے اہم ہے۔ اس مرحلے میں گجرات کی سبھی 26 سیٹوں پر ایک ساتھ پولنگ ہورہی ہے۔ جس سیٹ پر سب کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں وہ ہے ودودرہ،جہاں سے نریندر مودی میدان میں ہیں۔ یہاں ان کا مقابلہ کانگریس کے لیڈر مدھو سودن مستری سے ہے۔ اس مرحلے میں جن دیگر سیٹوں پر ووٹ پڑرہے ہیں وہ 9 ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس میں آندھرا پردیش کی17 سیٹیں بھی شامل ہیں۔یہ سبھی سیٹیں آندھر کا بٹوارہ کر بنائے گئے تلنگانہ ریاست میں آتی ہیں۔ اسی دن تلنگانہ کے لوگ اپنی نئی ریاست کے ممبران اسمبلی کو بھی چنیں گے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ سے کانگریس کو بہت امیدیں ہیں۔ اترپردیش کی14 سیٹوں پر جہاں کانپور سے بھاجپاکے لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کا سخت مقابلہ مرکزی وزیر کوئلہ سری پرکاش جیسوال سے ہے تو وہیں رائے بریلی سے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اپنی جیت کے ووٹ کے فرق کو بڑھانے کی چنوتی ہے۔ پنجاب کی سبھی13 سیٹوں پر پولنگ ہے۔ امرتسر میں کانگریس نے سابق وزیر اعلی امرندر سنگھ کو بھاجپا کے سرکردہ لیڈر ارون جیٹلی کو اتارا ہے۔ کیپٹن کی بیوی اور مرکزی وزیر پرنیت کور، محترمہ امبیکا سونی کی قسمت داؤ پر ہے۔ مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی اور فلم اداکارہ ونود کھنہ ، پریش راول کی قسمت کا فیصلہ بھی30 اپریل کو ہوگا۔ ادھر بہارمیں سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی، جنتا دل (یو) پردھان شرد یادو اور لوک جن شکتی پارٹی کے پردھان رام ولاس پاسوان کی بھی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ بہار کی ان9 سیٹوں سے ریاست کے لوگوں کا موڈ بھی پتہ چلے گا۔ نتیش کمار بنام نریندر مودی کے اثر کا بھی ٹیسٹ ہوگا اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ آر جے ڈی چیف لالو یادو کا سیاسی اثر اس ریاست میں اب بھی ہے یا نہیں۔ ہاں وہیں مغربی بنگال کی 9 سیٹوں میں شری رامپور سیٹ پر مشہور موسیقار بپی لہری کا مقابلہ ترنمول کانگریس کے کلیان بینرجی سے ہے۔ ان کے علاوہ صحافی پائنیر کے مدیر چندن مترا بھی ہاوڑہ سے چناؤ میدان میں ہیں۔ دیکھنا یہاں یہ بھی ہوگا کہ لیفٹ پارٹیوں کا رخ کیا ہوتا ہے۔ حال ہی میں سابق وزیر اعلی بدھ دیب بھٹاچاریہ بھی ہیں کیا ان کا اپنے ووٹروں کو یہ اشارہ تھا کہ آپ بھاجپا امیدوار کو ووٹ سے دے سکتے ہیں جہاں آپ کو لگے کیالیفٹ امیدوار ترنمول کانگریس کو ہرا نہیں سکتے۔ حالیہ دنوں میں ترنمول لیڈر ممتا بنرجی اور نریندر مودی کے درمیان تلخ بیان بازی کا دور چلا۔ اس کا پولنگ پر کتنا اثر پڑتا ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ کل ملا کر بیشک 543 میں سے89 سیٹوں پر آج ووٹ پڑ رہے ہیں یہ سبھی کے لئے اہم ہیں جن میں کئی سیاسی سرکردہ ہستیوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔
(انل نریندر)

سرینگر، لداخ اور بہار میں سخت مقابلہ ہے!

جموں و کشمیر کی وقاری لوک سبھا سیٹ پر آج یعنی30 اپریل کو ووٹ پڑیں گے۔ میدان میں ہیں مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے یہاں سے حامد کارا کو بھاجپا نے فیاض احمد بٹ اور عام آدمی پارٹی نے ڈاکٹر رضا مظفر کو میدان میں اتارا ہے۔یہاں سے کل 14 امیدوار میدان میں ہیں ان میں سے8 آزاد ہیں۔کبھی کوئی چناؤ نہیں ہارنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ جو صبح پانچ بجے اٹھ کراپنے کشمیری لباس اور(فیرن) پہن کر پورا دن کشمیری زبان میں تقریریں کرتے ہیں، چناوی ریلیوں کے دوران فاروق عبداللہ دفعہ370 کے حق میں نعرہ ضرور لگاتے ہیں۔اپنی ہر ریلی میں پی ڈی پی کے چیف مفتی محمد سعیداور بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی پرتنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔ بھاجپا کی جانب سے پہلے عارف امیدوار تھے لیکن پارٹی کے چناؤ منشور میں370 کو ختم کرنے کے تذکرے کے بعدرضا نے اپنا ٹکٹ واپس کردیا۔ حالانکہ رضا نے اپنا پرچہ بھی داخل کردیا تھا لیکن کچھ ہی گھنٹوں کے بعد پارٹی نے اپنا امیدوار بدل دیا۔ جموں کشمیر کے اس لوک سبھا چناؤ میں نوجوانوں کا کردار اہم رہے گا۔ صوبے میں کل69 لاکھ33 ہزار 118 ووٹوں میں سے 56.1 فیصد 18 سے39 برس کے ووٹر ہیں۔ سرینگر عبداللہ خاندان کا مضبوط قلعہ ہے۔ فاروق صاحب کو یہاں سے ہرانا مشکل ہے ۔ جموں و کشمیر میں دیش کی سب سے بڑی سیٹ لداخ ہے جہاں 1.73 مربع میٹر علاقے والے اس پارلیمانی حلقے میں بہت کم امیدوار ہیں ۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا یہاں اتحاد ہے۔ کانگریس کے ٹی سریش سیفل چناؤ لڑ رہے ہیں۔ ان کا اہم مقابلہ بھاجپا کے تھپسن بھیوانگ سے ہے ان دونوں کے علاوہ سید محمد کاظم ، غلام رضاآزاد امیدوار چناؤ لڑرہے ہیں۔ لداخ میں7 مئی کو چناؤ ہونا ہے۔6-7 پولنگ بوتھ لداخ میں ایسے ہیں جہاں پولنگ پارٹی کو ہیلی کاپٹر سے پہنچنا پڑتا ہے۔ جموں و کشمیر سے اب رخ کرتے ہیں بہار کا جہاں چناوی حکمت عملی بدلی ہوئی ہے۔ آج یعنی 30 اپریل کو چناؤ ہونے جارہے ہیں۔ چناؤ کچھ ان پرانے بڑے یودھاؤں کی جنگ دلچسپی کا گواہ بننے جارہی ہیں۔ بہار لوک سبھا پارلیمانی چناؤ کے دنگل میں پرانے یودھا ایک دوسرے کی کم از کم نبض پکڑ کر نتیجے کو اپنے حق میں کرنے کوجگت میں لگے ہوئے ہیں۔ ریاست میں دربھنگہ، جھانجھر پور، سمستی پور،یودھاؤں کی کڑی ٹکر ہے۔مدھو بنی لوک سبھا سیٹ پر اس بار بھاجپا کے سابق مرکزی وزیر حکم دیو نارائن یادو اور آر جے ڈی امیدوار عبدالباری صدیقی سے مقابلہ ہے۔ جے ڈی یو نے آر جے ڈی کے ودھان پریشد میں نیتا رہے غلام غوث کو امیدوار بنایا ہے۔ مگر جے ڈی یو کے ووٹوں کی بھرپائی بھاجپا، ایل جے پی، سپا، سے اتحاد کرنے میں لگے ہیں تو دوسری طرف آر جے ڈی کے امیدوار کو کانگریس کا ساتھ ہے۔ مدھو بنی سے کانگریس کے ڈاکٹر شہزاداحمد چناؤ لڑ رہے ہیں۔ دربھنگہ لوک سبھا چناؤ میدان میں بھاجپا کے کیرتی آزاد کا آر جے ڈی کے علی اشرف فاطمی کے درمیان جنگ دلچسپ گواہ بنی ہے۔1999ء کی چناوی جنگ میں کیرتی آزاد نے علی اشرف کو پٹخنی تو دی لیکن2004ء میں لوک سبھا چناؤ میں علی اشرف فاطمی نے کیرتی آزاد کودھول چٹا دی۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر پربھات رنجن داس بھی اس سیٹ کے لئے زور لگا رہے ہیں۔ اتحاد سے الگ ہونے کے بعد جنتادل (یو) کے ٹکٹ پر سنجے جھا کی موجودگی اور نئے تجزیئے بنا سکتی ہے اور یہ چناؤ فیصلہ کن رہنے والے ووٹوں میں سیند کی وجہ سے اس سیٹ پر مقابلہ سہ رخی بن گیا ہے۔نتیش کمار اور نریندر مودی دونوں کی ہی کچھ حد تک ساکھ داؤ پر لگی ہے۔
(انل نریندر)

29 اپریل 2014

پھر مسلم خوش آمدی! ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

عام چناؤکے چھ مرحلے پورے ہوجانے کے بعد اچانک کانگریس کو مسلمانوں کی یاد آئی ہے۔چناؤ میں پیچھے چھوٹ چکی پارٹی کو اب ان کو4.5 فیصد ریزرویشن کا وعدہ ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کے برابر ہے اور سنجیونی کی تلاش کے برابر ہے اسے اتنے دن گزر جانے کے بعد مسلم فرقے کو یہ بتانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟چناؤ منشور جاری کرنے کے قریب مہینے بھر بعد اس ضمنی اعلان کی منشا کیا ہے۔مسلم ووٹوں کو متاثر کرنا۔ بنیادی چناؤ منشور میں پارٹی نے پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کافائدہ دینے کی بات کہی ہے لیکن ضمنی چناؤ منشور میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو دیگر پسماندہ طبقات کے تحت دئے جانے والے ریزرویشن میں پسماندہ مسلمانوں کو چار فیصدی کا کوٹا ملے گا۔ اس اعلان سے کچھ سوال ضرور اٹھیں گے۔ پہلی بات یہ ہے کہ آخر اب جب کچھ مرحلوں کی پولنگ باقی ہے کانگریس کو پسماندہ مسلمانوں کی یاد کیوں آئی؟دوسرا بڑاسوال یہ ہے اگر پسماندہ مسلمانوں کے مفادات کی اتنی ہی فکرتھی تو پچھلے دس سالوں میں اقتدار میں رہنے کے دوران کانگریس نے اس کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔ اگرچہ اس بارے میں کانگریس کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی اس کی سہولت تو تجویز کی تھی لیکن عمل نہیں کیا جاسکا۔ کانگریس ترجمان اور وزیر قانون کپل سبل نے کہا کہ پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کامعاملہ سپریم کورٹ میں التوا میں ہے جب تک بڑی عدالت میں اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں آجاتا پارٹی کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں سمیت سبھی اقلیتوں کو ترقی ملے اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن مشکل یہ ہے کانگریس کا یہ کارڈ چناوی فائدے کیلئے ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔ چناؤ سے پہلے بھی سونیا گاندھی کی شاہی امام سے ملاقات، مسلم فرقے کو کانگریس کے لئے ووٹ کرنے کی اپیل یہ دیش سن چکا ہے۔مسلم خوش آمدی کی سیاست صرف کانگریس کرتی ہے ایسا بھی نہیں ہے کہ چناوی دور میں اروند کیجریوال کی توقیر رضا سے اور بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ کی کلب صادق سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ریزرویشن کے اندر ریزویشن کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہ معاملہ عدلیہ کے سامنے زیر سماعت ہے ایسے میں وعدہ کئے جانے کے باوجود فی الحال اس پر عمل کرپانا مشکل ہے۔ ایسے میں اس ضمنی وعدے کایہ ہی مطلب ہے کہ اگر پسماندہ مسلمانوں کو اس وعدے پر بھروسہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ کانگریس کو اس کا کچھ فائدہ ہو پائے گا لیکن ریزرویشن کی امید کافی کم لگ رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ نہ صرف بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کی جانب سے سخت احتجاج کیا جارہا ہے بلکہ پسماندہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا ردعمل بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان اب کانگریس کے حسین سپنے دکھانے کے جھانسے میں آئے گا۔ مرکز میں دس سال سے اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ان کی بہتری کے لئے تمام قدم اٹھانے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا۔ اب جب پولنگ کے چھ مرحلے پورے ہوچکے ہیں اور کچھ ہی باقی ہیں ہمیں شبہ ہے مسلم فرقہ کانگریس کے اس وعدے کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔جیسا کہ میں نے کہا ’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ کے برابر ہے یہ ضمنی اعلان نامہ۔
(انل نریندر)

کانپور اور سنگم نگری الہ آباد میں زبردست مقابلہ!

اترپردیش کی صنعتی راجدھانی کی شکل میں مشہور کانپور لگتا ہے اپنی پہچان کھوتا جارہا ہے۔بند ہوتی ملیں، مزدوروں کی ہجرت روکنے کی کوشش کسی نے نہیں کی۔لال املی،ایلیگن مل، جے کے جوٹ مل جیسی کئی نامی گرامی کپڑا ملیں ہیں جن میں تیا کپڑے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی کوالٹی کا لوہا منواتی رہی ہیں۔ اب یہ سب بند ہو چکی ہیں۔کانپور سے اس بارچناؤ میں بی جے پی نے اپنے سرکرد ہ لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو میدان میں اتارا ہے۔ مقابلے میں ہیں کانگریس کے مرکزی وزیر سری پرکاش جیسوال جو بڑے قد والے لیڈر ہیں اور حکومت کے کوئلہ منتری ہیں، وہ دعوی کرتے ہیں جتنی ترقی پچھلے 15 برسوں میں کانپور میں ہوئی ہے اتنی کبھی نہیں ہو پائی۔ امید ظاہرکرتے ہیں کہ چوتھی بار یہاں کی جنتا انہیں ایم پی چنے گی اور بھاجپا کے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے امیدوار بنائے جانے سے کانپور کا چناؤ کافی دلچسپ بن گیا ہے اور کانٹے کا مقابلہ ہے۔ بسپا نے سلیم احمد کو میدان میں اتارا ہے۔ حالانکہ پچھلی باربھی پارٹی نے انہیں امیدوار بنایا تھالیکن بعد میں ٹکٹ سکھدا مشرا کو دے دیا گیا۔عام آدمی پارٹی نے مسلم ووٹ میں سیند لگانے کے لئے ڈاکٹر محمود حسین رحمانی کو میدان میں اتارا ہے حالانکہ ڈاکٹر رحمانی پہلی مرتبہ لوک سبھا کا چناؤ لڑ رہے ہیں۔ سپا نے پہلے کمیڈین راجو شریواستو کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا لیکن مقامی پارٹی یونٹ کا ساتھ نہ ملنے کی بات کر انہوں نے میدان چھوڑدیا تھااس کے بعد پارٹی نے سرندر موہن اگروال کو میدان میں اتارا۔ پچھلے چناؤ میں وہ چوتھے مقام پر تھے۔ڈاکٹر جوشی کی ایک بڑی مشکل ان کی اکھڑ مزاجی ہے۔ یہاں پارٹی ورکروں کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ان کا قد کتنا بڑا ہے۔ وہ یہ بتانا بھی نہیں بھولتے کہ وہ اٹل جی اور اڈوانی جی کو بھی کیسے صلاح دیتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر جوشی کو یہ پسند نہیں کہ بغیر اجازت لئے پارٹی کے لیڈر ٹھیٹ کانپوریہ انداز میں ان کے کمرے میں گھس آئیں۔ سری پرکاش جیسوال کے لئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ ملائم سنگھ کے اثر کے چلتے یہاں مسلم ووٹ بینک کا ایک بڑا حصہ سپا میں جانے سے روکنا ہے۔ عام آدمی پارٹی امیدوار ڈاکٹر محمود رحمانی جانے مانے آنکھوں کے ماہر ہیں لیکن وہ کسی بھی ووٹ بینک میں سیند نہیں لگا پارہے ہیں۔ ڈاکٹر جوشی کو جہاں مودی لہر کا فائدہ ملے گا وہیں جیسوال کو ناراضگی و کوئلہ گھوٹالے سے پیداحالات کا مقابلہ کرنا ہے لڑائی ان دونوں کے درمیان ہے۔ اب بات کرتے ہیں سنگم نگری الہ آباد کی۔ آزادی کی لڑائی کے دوران سیاست کا مرکز رہا آنند بھون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ الہ آباد دیش کو مسلسل سیاسی طاقت دیتا رہا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ ہی لال بہادر شاستری، سورگیہ وشواناتھ پرتاپ سنگھ، سورگیہ ہیموتی نند بہوگنا ،چھوٹے لوہیا، جنیشور مشرا اور بھاجپائی لیڈرڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی ساکھ اسی شہر سے بڑھی ہے۔ صدی کے مہا نائک امیتابھ بچن نے بھی اسی علاقے سے سیاست کا سبق سیکھا ہے۔ ایسے میں دھورندروں کے سبب ہی الہ آباد پارلیمانی سیٹ برسوں تک وی آئی پی سیٹ رہی۔برسوں پہلے یہ درجہ چھن گیا۔ اس بار چناؤ مقابلہ سپا کے ریپتی رمن سنگھ، بھاجپا کے شیام چرن گپتا، کانگریس کے نند شیو پال اور عام آدمی پارٹی کے آدرش شاستری اور الہ آباد سے دو بار ایم پی رہے ریپتی رمن سنگھ کی پارٹی میں مضبوط پکڑ ہے اور انتظامیہ کے حلقوں میں کافی دھاک رہی ہے۔حلقے کا کوئی بھی ایسا گاؤں نہیں جہاں کے لوگ انہیں پہچانتے نہ ہوں۔ ریپتی کا دعوی ہے کہ انہوں نے پچھلے دس برسوں میں الہ آباد میں کئی ترقیاتی کام کئے ہیں اور ووٹر انہیں سرپر بٹھاتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سے وہ مسلسل تین چناؤ جیتنے کا ریکارڈ بھاجپا نیتا ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ہی بنا پائے۔ ان کی وجہ سے ہی یہ سیٹ بھاجپا کا گڑھ بنی رہی لیکن ریپتی رمن سنگھ نے ’’انڈیا شائننگ‘‘ کے دور میں انہیں ہرایا۔ ریپتی بھی لگاتار دو چناؤ جیت چکے ہیں اور یہاں سے اب ان کے تیسری بار جیتنے کا امکان ہے۔ بھاجپا امیدوار شیام چرن گپتا کو دومہینے پہلے تک جو سپا میں تھے،مودی لہر اور پرانے روابط پر انہیں بھروسہ ہے۔ دعوی تو یہ بھی کرتے ہیں کہ ریپتی رمن سنگھ کے تمام سپہ سالاروں کے رابطے ان سے اب بھی ہیں۔ بسپا کی کراری دیوی پٹیل سابق ضلع پنچایت پردھان رہی ہیں اور بسپا کیڈر کی مضبوط لیڈر ہیں۔ 2004ء میں پھولپور سے امیدوار تھیں اور نمبر دو پر رہیں۔ کانگریس کے نند گوپال گپتابسپا سرکار میں مایاوتی کے قریبی رہے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ وہ کسی کے لئے بھی پریشانی کھڑی کرسکتے ہیں لیکن مرکز میں ناراضگی فیکٹر اور پارٹی کی حالت اتنی مضبوط نہیں سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے اور کانگریسی لیڈر انل شاستری عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ان کے نا م پرکیجریوال کوووٹ ملنے کا سہارا ہے۔کائستھ ووٹروں سے بھی حمایت کی امید ہے۔ کل ملا کر الہ آباد میں کانٹے کے مقابلے میں ریپتی رمن سنگھ کو ہرانا مشکل لگ رہا ہے۔
(انل نریندر)

27 اپریل 2014

مودی کے نامی نیشن روڈ شو سے بوکھلائی ’آپ‘ و کانگریس پارٹی!

بھاجپا کے پردھان منتری پد کے امیدوار نریندر مودی کے جمعرات کو وارانسی میں ہوئے روڈ شو سے کانگریس اور ’آپ‘ پارٹیاں بوکھلا گئی ہیں۔انہیں یقین ہی نہیں ہورہا کہ اتنا عظیم شو کیسے ہوا؟مودی کے نامی نیشن بھرنے کے وقت میں مانو سارا وارانسی ہی امڑ پڑا ہو۔بھاری جن سیلاب کے چلتے الدہیا چوک سے ضلع مجسٹریٹ آفس پہنچنے میں مودی کو قریب دو گھنٹے لگے۔دو گھنٹے کی دیری سے شروع ہوئے اس روڈ شو میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے۔ سڑکوں پر مکان ،دوکان کی چھتوں پر بھاری جن سیلاب مودی کے سمرتھن میں نعرے لگاتا نظر آیا۔ مودی 2:15 منٹ پرنامی نیشن آفس سے نکلے۔ اس سے پہلے نامی نیشن داخل کرنے کے لئے مودی کو مجسٹریٹ کے یہاں قریب آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔ان سے پہلے معراج خالدنور نام کے آزاد امیدوار کھڑے تھے۔اصول کے مطابق انہیں پہلے موقعہ دیا گیا۔اپنا نامی نیشن بھرنے والا معراج وہی شخص ہے جو ماضی میںآتنکی لادن جیسا چہرہ مہرہ بنا کرلالو یادو و پاسوان کے ساتھ چناؤ پرچار کر چکا ہے اور اپنے آ پ کو اوسامہ کہتا ہے۔ مودی نے روڈ شو سے پہلے کوئی بھاشن نہیں دیا جس سے وہاں گھنٹوں سے انتظار کررہی بھیڑ کو تھوڑی مایوسی ہوئی۔ اس سے ایک دن پہلے یعنی بدھوار کو عام آدمی پارٹی کے کنوینراروند کیجریوال نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنا نامی نیشن پتربھرا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کیجریوال کے روڈ شو میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور مودی کے شو میں لاکھوں میں۔ اس سے آپ پارٹی بوکھلا گئی اور دونوں کانگریس اور ’آپ‘پارٹی بیک فٹ پر آگئیں۔پہلے بات کرتے ہیں ’آپ‘ پارٹی کی۔’آپ‘ ذرائع کی مانیں تو کیجریوال کے روڈ شو کے بعد مودی کے روڈ شو سے پارٹی کے والنٹیروں جوش کی بھاری کمی آئی ہے۔ اپنے کنوینر اروند کیجریوال کے روڈ شو کے ذریعے بھاجپا پر دباؤ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن مودی کے روڈ شو میں امڈی لاکھوں کی بھیڑ نے کیجریوال کیمپ پر چوطرفہ دباؤ بڑھا دیا ہے۔’آپ‘کے حکمت سازوں کو فکر اس بات کو لیکر ستانے لگی ہے کہ اگر مودی کے روڈ شو کا اثر جلد ہی ختم نہیں ہوا تو کیجریوال کے لئے بڑی مشکل ہوسکتی ہے۔ یہی بات کانگریس پارٹی کے سپوکس مین آنند شرما نے مودی کے روڈ شو کو کوڈ آف کنڈیکٹ کی کھلی خلاف ورزی بتاتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جن117 لوک سبھا سیٹوں پر چناؤ ہورہا تھا ان میں ووٹروں کو متاثر کرنے کی بھاجپا نے کوشش کی اور اس روڈ شو کا انعقاد کیا۔کانگریس کے ایک پرتندھی منڈل نے باقاعدہ چناؤ کمیشن سے اس کی شکایت بھی کی۔ہمیں دکھ ہوا کہ کانگریس ایسی بے تکی حرکتیں کررہی ہے۔ پہلی بات تو ہر امیدوار اپنے نامی نیشن کے وقت لاؤ لشکر کے ساتھ ہی جاتا ہے چاہے چناؤ ایم پی کا ہو یا سرپنچ کا یا ودھایک کا۔ دوسری بات ایک دن پہلے اروند کیجریوال کا روڈشو ہوا۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دن جمعرات کو جس وقت مودی اپنا روڈ شو کررہے تھے اسی وقت لکھنؤ میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی لکھنؤ سے کانگریس امیدوار ریتا بہوگنا جوشی کے لئے روڈ شو کر پرچار کررہے تھے۔اگر مودی دو شی ہیں توکیجریوال اور راہل بھی کم دوشی نہیں ہیں۔دوشی صحیح معنوں میں اگر کوئی ہے تو وہ چناؤ کمیشن ہے۔ اس بار چناؤ پرکریا لگ بھگ سوا مہینے لمبی ہے۔نامی نیشن بھرنے کی تاریخیں چناؤ کمیشن طے کی ہیں نہ تو اسے کسی پارٹی نے کیا ہے اور نہ ہی کسی امیدوار نے۔ چناؤ کمیشن کو اچھی طرح معلوم تھاکہ ووٹنگ کے دنوں میں نامی نیشن کی تاریخیں بھی ہیں اس سے پارٹیاں یا امیدواروں کا کیا دوش ہے کہ ادھر نامی نیشن کا روڈ شو چل رہا ہے تو ادھر ووٹنگ ہورہی ہے۔کانگریس اسی دن لکھنؤ میں راہل گاندھی کے روڈ شو کو کیوں نہیں دیکھتی۔ چناؤ کمیشن کو چاہئے کہ مستقبل میں وہ چناؤ سرگرمیوں اور تاریخوں میں ترمیم کرے۔ مستقبل میں وہ یہ کرسکتی ہے کہ جس دن ووٹنگ ہوگی اس د ن نامی نیشن نہ بھراجائے۔ نامی نیشن بھرنے کی تاریخ اور ووٹنگ کی تاریخ ایک دن نہیں ہونی چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا چناؤ کمیشن ایسا کرے گا۔ اسے ایسا کرنے میں کوئی مشکل ہوگی؟ لیکن اگر مستقبل میں اس کا دھیان رکھا جائے تو ایسے تنازعوں سے بچا جاسکے گا۔ ویسے آخر میں چلتے چلتے قارئین کو بتا دیں کہ سٹہ بازار لوک سبھا چناؤ 2014ء کے بارے میں کیا داؤ لگا رہا ہے۔ سٹہ بازار میں سب سے زیادہ فائدے میں بھاجپا چل رہی ہے۔ سٹوریئے مان کر چل رہے ہیں کہ ان چناؤ میں بی جے پی کو 240 سیٹیں مل جائیں گی اور وہ کچھ علاقائی پارٹیوں کی مدد سے این ڈی اے کی سرکاربنا لے گی۔ سب سے خراب حالت ’آپ‘ پارٹی کی ہے۔ اسے سٹے باز صرف4-5 سیٹیں دے رہے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ جس دن کیجریوال دہلی میں سی ایم بنے تھے اس دن سٹے باز مان رہے تھے کہ وہ لوک سبھا میں30 سیٹیں جیت سکتے ہیں۔دہلی کی صرف ایک سیٹ پر ہی آپ کی بڑھت مانی جارہی ہے باقی سبھی سیٹوں پر بی جے پی جیت رہی ہے۔ہریانہ میں 10 میں 6 سے7 سیٹیں بی جے پی کو دے رہے ہیں۔سینٹر فار میڈیا کے ذریعے کرائے گئے ایک دیگر سروے میں گذشتہ پانچ سالوں میں ہندوستان میں مختلف چناوؤں کے دوران 150000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔
(انل نریندر)

پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا بنام کانگریس بنام ’آپ‘ پارٹی! پنجاب کی امرتسر لوک سبھا سیٹ اس وقت پنجاب کی سب سے ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے۔ امرتسر سیٹ پروقار کی لڑائی ہے جہاں ایک جنگی ہیرو اور سینئر سیاستداں اپنی سیاسی زندگی کے لئے میدان میں ہے تو دوسری جانب ایک رسوخ دار نیتا اس دگج کوشکست دینے کے لئے کمر کسے ہوئے ہے۔پنجاب کی اس سیٹ پر سبھی کی نگاہیں ہیں جہاں 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ گورو کی اس نگری میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ بادل صاحب کے ذریعے آشواسن دینے کے بعد بھی بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کو خود پسینہ بہانا پڑ رہا ہے۔ 61 سالہ ارون جیٹلی کے لئے یہ پہلا چناؤ ہے جس میں وہ سیدھے چناؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھاجپاکی لیڈرشپ میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے پر انہیں دہلی میں بڑا کردار مل سکتا ہے۔ شاید جیٹلی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ شرومنی اکالی دل۔ بھاجپا سرکار کے سات سال کے اقتدار اور موجودہ سانسد نوجوت سنگھ سدھو کی کارکردگی کو لیکر اقتدار مخالف لہر کے پس منظر میں انہیں امرتسر سیٹ پراتنے بڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ان کے مقابلے میں اپنے پنجاب کے سب سے بڑے طاقتور امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ کو اتارا ہے۔کانگریس نے کیپٹن کے روپ میں اپنا ترپ کا پتا کھیل کر یہاں مقابلہ کڑا بنادیا ہے۔ امرتسر میں کہیں کہیں آپ پارٹی کا اثر بھی دکھ رہا ہے۔ پچھڑی جاتیوں کا ووٹ جو کبھی کانگریس اور بسپا کے درمیان بٹتا تھااس بار اس کا جھکاؤعام آدمی پارٹی کی جانب لگ رہا ہے۔ویسے اس علاقے میں 23 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں بسپا کے پردیپ بلیا ایک ہیں۔ لیکن اہم مقابلہ جیٹلی و کیپٹن میں ہی ہے۔ بادل خاندان کے دو سورماؤں کے درمیان بھٹنڈہ میں کڑا مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ ایک موجودہ ممبر پارلیمنٹ میں میدان میں خم ٹھوک رہا ہے تو بادل پریوار سے الگ ہوئے کنبے کے ایک دیگرممبر بھی بھٹنڈہ کی ہائی پروفائل سیٹ پر اپنی قسمت آزمانے اترے ہیں۔یہ سیٹ برسر اقتدار اکالی دل کا مضبوط قلعہ مانی جاتی ہے جہاں ایک امیدوار کے داخلے نے چناوی جنگ کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس سیٹ سے موجودہ ممبر پارلیمنٹ اکالی دل کی ہر سمرن کور اور ان کے دیور منپریت سنگھ بادل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ سابق فائننس منسٹر اور پیپلز پارٹی آف پنجاب کے سنستھاپک منپریت کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ میدان میں ہیں۔ منپریت ماکپا اور شرومنی اکالی دل (برنالہ) کے سمرتھن سے اپنے چچیرے بھائی اور پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل کی پتنی ہرسمرن کور پر حملہ کرنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے لگا گورداس پور پارلیمانی علاقہ فلم اور سیاست کے زبردست گھال میل کی وجہ سے ہاٹ سیٹ بن گیا ہے۔ فلمی دنیا میں لمبی وقت تک بادشاہت چلانے والے فلم اسٹار ونود کھنہ ایک بار پھر سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا پنجاب پردیش کانگریس کے ادھیکش اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوا سے ہے۔ ان کے درمیان کئیدلوں میں رہ چکے سچا سنگھ چھوٹے پور عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر میدان میں ہیں۔ ونود کھنہ اور پرتاپ سنگھ باجوا دونوں کو لیکرسب سے زیادہ غیر یقینی کی بات یہ ہے کہ وہ جیتنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ علاقے سے دوری بنانے اور اسے چھوڑ دینے کا الزام جھیل رہے ونود کھنہ نے کچھ دنوں پہلے پٹھان کوٹ میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ ان کی چناوی مہم اسی کوٹھی سے چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے پرتشٹھا کا سوال بن گئی ہے آنند پور صاحب کی سیٹ۔پانچواں تخت ہونے کی وجہ سے آنند پور صاحب سکھوں کااہم مذہبی مقام ہے۔ کانگریس نے پارٹی میں اہم رول نبھانے والی امبیکاسونی کو اکالی دل کے پریم سنگھ مجوماجرا کے مقابلے کھڑا کرکے دلچسپ نوعیت بنادی ہے۔ اس سیٹ پرگذشتہ چناؤ میں کانگریس کے رنجیت سنگھ نے اکالی دل کے سکریٹری دلجیت چیما کو ہرایا تھا۔سورگیہ سنجے گاندھی سے لیکر اب تک گاندھی پریوار کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک شریمتی سونی کے لئے نہ صرف اس بار مقابلہ تگڑا ہے بلکہ کچھ حد تک ان کی اور ان کی پارٹی کے لئے پرتشٹھا کا سوال بھی بن گیا ہے۔پنجاب کی سنگرور سیٹ پر کامیڈین کلاکار بھگونت مان کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ اور تکونا ہوگیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس اور اکالی دل۔ بھاجپا گٹھ بندھن کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہتی تھی۔ کانگریس کے راہل گاند ھی برگیڈ کے وجے اندر سنگلا کومیدان میں اترا ہے تو شرومنی اکالی دل نے اپنے سینئر نیتا سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا کوسنگلا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنگرور لوک سبھا سیٹ دو ضلعوں سنگرور اور برنالہ میں بٹی ہوئی ہے۔30 اپریل کو پنجاب کی 13 سیٹوں گورداس پور، امرتسر، کھدور صاحب، جالندھر، ہوشیارپور، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتحپور صاحب ، فرید کوٹ، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور و پٹیالہ میں ووٹ پڑیں گے۔مشن مودی272+ کے لئے پنجاب کے یہ چناؤ اہم ہیں۔ (انل نریندر)

پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا بنام کانگریس بنام ’آپ‘ پارٹی!
پنجاب کی امرتسر لوک سبھا سیٹ اس وقت پنجاب کی سب سے ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے۔ امرتسر سیٹ پروقار کی لڑائی ہے جہاں ایک جنگی ہیرو اور سینئر سیاستداں اپنی سیاسی زندگی کے لئے میدان میں ہے تو دوسری جانب ایک رسوخ دار نیتا اس دگج کوشکست دینے کے لئے کمر کسے ہوئے ہے۔پنجاب کی اس سیٹ پر سبھی کی نگاہیں ہیں جہاں 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ گورو کی اس نگری میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ بادل صاحب کے ذریعے آشواسن دینے کے بعد بھی بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کو خود پسینہ بہانا پڑ رہا ہے۔ 61 سالہ ارون جیٹلی کے لئے یہ پہلا چناؤ ہے جس میں وہ سیدھے چناؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھاجپاکی لیڈرشپ میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے پر انہیں دہلی میں بڑا کردار مل سکتا ہے۔ شاید جیٹلی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ شرومنی اکالی دل۔ بھاجپا سرکار کے سات سال کے اقتدار اور موجودہ سانسد نوجوت سنگھ سدھو کی کارکردگی کو لیکر اقتدار مخالف لہر کے پس منظر میں انہیں امرتسر سیٹ پراتنے بڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ان کے مقابلے میں اپنے پنجاب کے سب سے بڑے طاقتور امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ کو اتارا ہے۔کانگریس نے کیپٹن کے روپ میں اپنا ترپ کا پتا کھیل کر یہاں مقابلہ کڑا بنادیا ہے۔ امرتسر میں کہیں کہیں آپ پارٹی کا اثر بھی دکھ رہا ہے۔ پچھڑی جاتیوں کا ووٹ جو کبھی کانگریس اور بسپا کے درمیان بٹتا تھااس بار اس کا جھکاؤعام آدمی پارٹی کی جانب لگ رہا ہے۔ویسے اس علاقے میں 23 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں بسپا کے پردیپ بلیا ایک ہیں۔ لیکن اہم مقابلہ جیٹلی و کیپٹن میں ہی ہے۔ بادل خاندان کے دو سورماؤں کے درمیان بھٹنڈہ میں کڑا مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ ایک موجودہ ممبر پارلیمنٹ میں میدان میں خم ٹھوک رہا ہے تو بادل پریوار سے الگ ہوئے کنبے کے ایک دیگرممبر بھی بھٹنڈہ کی ہائی پروفائل سیٹ پر اپنی قسمت آزمانے اترے ہیں۔یہ سیٹ برسر اقتدار اکالی دل کا مضبوط قلعہ مانی جاتی ہے جہاں ایک امیدوار کے داخلے نے چناوی جنگ کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس سیٹ سے موجودہ ممبر پارلیمنٹ اکالی دل کی ہر سمرن کور اور ان کے دیور منپریت سنگھ بادل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ سابق فائننس منسٹر اور پیپلز پارٹی آف پنجاب کے سنستھاپک منپریت کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ میدان میں ہیں۔ منپریت ماکپا اور شرومنی اکالی دل (برنالہ) کے سمرتھن سے اپنے چچیرے بھائی اور پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل کی پتنی ہرسمرن کور پر حملہ کرنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے لگا گورداس پور پارلیمانی علاقہ فلم اور سیاست کے زبردست گھال میل کی وجہ سے ہاٹ سیٹ بن گیا ہے۔ فلمی دنیا میں لمبی وقت تک بادشاہت چلانے والے فلم اسٹار ونود کھنہ ایک بار پھر سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا پنجاب پردیش کانگریس کے ادھیکش اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوا سے ہے۔ ان کے درمیان کئیدلوں میں رہ چکے سچا سنگھ چھوٹے پور عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر میدان میں ہیں۔ ونود کھنہ اور پرتاپ سنگھ باجوا دونوں کو لیکرسب سے زیادہ غیر یقینی کی بات یہ ہے کہ وہ جیتنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ علاقے سے دوری بنانے اور اسے چھوڑ دینے کا الزام جھیل رہے ونود کھنہ نے کچھ دنوں پہلے پٹھان کوٹ میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ ان کی چناوی مہم اسی کوٹھی سے چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے پرتشٹھا کا سوال بن گئی ہے آنند پور صاحب کی سیٹ۔پانچواں تخت ہونے کی وجہ سے آنند پور صاحب سکھوں کااہم مذہبی مقام ہے۔ کانگریس نے پارٹی میں اہم رول نبھانے والی امبیکاسونی کو اکالی دل کے پریم سنگھ مجوماجرا کے مقابلے کھڑا کرکے دلچسپ نوعیت بنادی ہے۔ اس سیٹ پرگذشتہ چناؤ میں کانگریس کے رنجیت سنگھ نے اکالی دل کے سکریٹری دلجیت چیما کو ہرایا تھا۔سورگیہ سنجے گاندھی سے لیکر اب تک گاندھی پریوار کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک شریمتی سونی کے لئے نہ صرف اس بار مقابلہ تگڑا ہے بلکہ کچھ حد تک ان کی اور ان کی پارٹی کے لئے پرتشٹھا کا سوال بھی بن گیا ہے۔پنجاب کی سنگرور سیٹ پر کامیڈین کلاکار بھگونت مان کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ اور تکونا ہوگیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس اور اکالی دل۔ بھاجپا گٹھ بندھن کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہتی تھی۔ کانگریس کے راہل گاند ھی برگیڈ کے وجے اندر سنگلا کومیدان میں اترا ہے تو شرومنی اکالی دل نے اپنے سینئر نیتا سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا کوسنگلا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنگرور لوک سبھا سیٹ دو ضلعوں سنگرور اور برنالہ میں بٹی ہوئی ہے۔30 اپریل کو پنجاب کی 13 سیٹوں گورداس پور، امرتسر، کھدور صاحب، جالندھر، ہوشیارپور، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتحپور صاحب ، فرید کوٹ، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور و پٹیالہ میں ووٹ پڑیں گے۔مشن مودی272+ کے لئے پنجاب کے یہ چناؤ اہم ہیں۔
(انل نریندر)پنجاب کی امرتسر لوک سبھا سیٹ اس وقت پنجاب کی سب سے ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے۔ امرتسر سیٹ پروقار کی لڑائی ہے جہاں ایک جنگی ہیرو اور سینئر سیاستداں اپنی سیاسی زندگی کے لئے میدان میں ہے تو دوسری جانب ایک رسوخ دار نیتا اس دگج کوشکست دینے کے لئے کمر کسے ہوئے ہے۔پنجاب کی اس سیٹ پر سبھی کی نگاہیں ہیں جہاں 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ گورو کی اس نگری میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ بادل صاحب کے ذریعے آشواسن دینے کے بعد بھی بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کو خود پسینہ بہانا پڑ رہا ہے۔ 61 سالہ ارون جیٹلی کے لئے یہ پہلا چناؤ ہے جس میں وہ سیدھے چناؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھاجپاکی لیڈرشپ میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے پر انہیں دہلی میں بڑا کردار مل سکتا ہے۔ شاید جیٹلی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ شرومنی اکالی دل۔ بھاجپا سرکار کے سات سال کے اقتدار اور موجودہ سانسد نوجوت سنگھ سدھو کی کارکردگی کو لیکر اقتدار مخالف لہر کے پس منظر میں انہیں امرتسر سیٹ پراتنے بڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ان کے مقابلے میں اپنے پنجاب کے سب سے بڑے طاقتور امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ کو اتارا ہے۔کانگریس نے کیپٹن کے روپ میں اپنا ترپ کا پتا کھیل کر یہاں مقابلہ کڑا بنادیا ہے۔ امرتسر میں کہیں کہیں آپ پارٹی کا اثر بھی دکھ رہا ہے۔ پچھڑی جاتیوں کا ووٹ جو کبھی کانگریس اور بسپا کے درمیان بٹتا تھااس بار اس کا جھکاؤعام آدمی پارٹی کی جانب لگ رہا ہے۔ویسے اس علاقے میں 23 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں بسپا کے پردیپ بلیا ایک ہیں۔ لیکن اہم مقابلہ جیٹلی و کیپٹن میں ہی ہے۔ بادل خاندان کے دو سورماؤں کے درمیان بھٹنڈہ میں کڑا مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ ایک موجودہ ممبر پارلیمنٹ میں میدان میں خم ٹھوک رہا ہے تو بادل پریوار سے الگ ہوئے کنبے کے ایک دیگرممبر بھی بھٹنڈہ کی ہائی پروفائل سیٹ پر اپنی قسمت آزمانے اترے ہیں۔یہ سیٹ برسر اقتدار اکالی دل کا مضبوط قلعہ مانی جاتی ہے جہاں ایک امیدوار کے داخلے نے چناوی جنگ کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس سیٹ سے موجودہ ممبر پارلیمنٹ اکالی دل کی ہر سمرن کور اور ان کے دیور منپریت سنگھ بادل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ سابق فائننس منسٹر اور پیپلز پارٹی آف پنجاب کے سنستھاپک منپریت کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ میدان میں ہیں۔ منپریت ماکپا اور شرومنی اکالی دل (برنالہ) کے سمرتھن سے اپنے چچیرے بھائی اور پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل کی پتنی ہرسمرن کور پر حملہ کرنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے لگا گورداس پور پارلیمانی علاقہ فلم اور سیاست کے زبردست گھال میل کی وجہ سے ہاٹ سیٹ بن گیا ہے۔ فلمی دنیا میں لمبی وقت تک بادشاہت چلانے والے فلم اسٹار ونود کھنہ ایک بار پھر سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا پنجاب پردیش کانگریس کے ادھیکش اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوا سے ہے۔ ان کے درمیان کئیدلوں میں رہ چکے سچا سنگھ چھوٹے پور عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر میدان میں ہیں۔ ونود کھنہ اور پرتاپ سنگھ باجوا دونوں کو لیکرسب سے زیادہ غیر یقینی کی بات یہ ہے کہ وہ جیتنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ علاقے سے دوری بنانے اور اسے چھوڑ دینے کا الزام جھیل رہے ونود کھنہ نے کچھ دنوں پہلے پٹھان کوٹ میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ ان کی چناوی مہم اسی کوٹھی سے چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے پرتشٹھا کا سوال بن گئی ہے آنند پور صاحب کی سیٹ۔پانچواں تخت ہونے کی وجہ سے آنند پور صاحب سکھوں کااہم مذہبی مقام ہے۔ کانگریس نے پارٹی میں اہم رول نبھانے والی امبیکاسونی کو اکالی دل کے پریم سنگھ مجوماجرا کے مقابلے کھڑا کرکے دلچسپ نوعیت بنادی ہے۔ اس سیٹ پرگذشتہ چناؤ میں کانگریس کے رنجیت سنگھ نے اکالی دل کے سکریٹری دلجیت چیما کو ہرایا تھا۔سورگیہ سنجے گاندھی سے لیکر اب تک گاندھی پریوار کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک شریمتی سونی کے لئے نہ صرف اس بار مقابلہ تگڑا ہے بلکہ کچھ حد تک ان کی اور ان کی پارٹی کے لئے پرتشٹھا کا سوال بھی بن گیا ہے۔پنجاب کی سنگرور سیٹ پر کامیڈین کلاکار بھگونت مان کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ اور تکونا ہوگیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس اور اکالی دل۔ بھاجپا گٹھ بندھن کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہتی تھی۔ کانگریس کے راہل گاند ھی برگیڈ کے وجے اندر سنگلا کومیدان میں اترا ہے تو شرومنی اکالی دل نے اپنے سینئر نیتا سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا کوسنگلا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنگرور لوک سبھا سیٹ دو ضلعوں سنگرور اور برنالہ میں بٹی ہوئی ہے۔30 اپریل کو پنجاب کی 13 سیٹوں گورداس پور، امرتسر، کھدور صاحب، جالندھر، ہوشیارپور، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتحپور صاحب ، فرید کوٹ، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور و پٹیالہ میں ووٹ پڑیں گے۔مشن مودی272+ کے لئے پنجاب کے یہ چناؤ اہم ہیں۔
(انل نریندر)

26 اپریل 2014

ایک داماد ہیں رابرٹ واڈرا اورایک داماد تھے فیروز جہانگیر گاندھی!

کانگریس صدر اور اپنی ماں سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں چناؤ کمپین کے دوران پرینکا گاندھی نے شاید پہلی بار اپنے شوہر رابرٹ واڈرا پر لگ رہے الزامات کا بچاؤ کیا۔ انہوں نے ایک نکڑ ریلی میں کہا میرے خاندان (واڈرا پریوار) کو ذلیل کیا جارہا ہے لیکن میں نے دادی اندرا گاندھی سے سیکھا ہے کہ جب دل سے سچائی نکلتی ہے ارادے مضبوط ہوتے ہیں تو وہ ڈھال بن جاتے ہیں۔ مجھے جتنا ذلیل کیا جائے گا اتنی مضبوطی سے لڑوں گی۔ یہ صرف ایک بیوی کاجذباتی درد نہیں ہوسکتا بلکہ ایک سیاسی جوابدہی بھی لگتی ہے۔ ووٹ بینک کی خاطر ہر مخالف پارٹی ایک دوسرے پر الزام درالزام لگاتی ہے لیکن قطعی فیصلہ تو عوام کی عدالت میں ہوتا ہے۔ پرینکا جنتا کی عدالت میں اپنے شوہر کو پاک صاف بتانے کی جو کوشش کررہی ہیں اس کے پیچھے ان منشا صاف ہے کہ وہ اب نہ تو اس اشو پر خاموش بیٹھیں گی اور نہ ہی اسے برداشت کریں گی۔ ہم پرینکا کا دکھ سمجھ سکتے ہیں اورمحسوس بھی کرتے ہیں۔پرینکا کس سے شادی کرتی ہیں یہ ان کا سونیا گاندھی خاندان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس میں کسی کو کچھ کہنے کا یا انگلی اٹھانے کا حق نہیں ہے لیکن جب ان کے شوہر اور سونیا گاندھی کے داماد پر الزام لگیں کہ انہوں نے اپنے سیاسی دبدبے کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد بنا لی ہے تو معاملہ سنگین ہوجاتا ہے اور کرپشن کا ہوجاتا ہے۔ یہ الزام ہم نہیں لگا رہے ہیں دنیا کی نامور اور بھروسے مند مانی جانے والے امریکہ کے ایک روز نامہ ’دی وال اسٹریٹ امپائر‘ نے اپنی شائع ایک رپورٹ میں لگائے ہیں۔ اس کے مطابق 2012ء میں واڈ را کے پاس قریب 252 کروڑ روپے کی زمین جائیدادتھی اسی سال واڈرا نے 72 کروڑ روپے کی زمین بیچی تھی یعنی واڈرا کے پاس قریب324 کروڑ روپے کی جائیداد تھی۔ اخبار نے کمپنی کی اکاؤنٹ رپورٹ اور دیگردستاویزات اور پراپرٹی کے واقف کاروں کے حوالے سے رابرٹ واڈرا کی املاک کی پوری تفصیل شائع کی ہے۔ رپورٹ میں واڈرا کے زمین سودے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ انہوں نے اتنی ترقی اپنے روابط سے کی ہے۔ ایک داماد فیروز جہانگیر گاندھی بھی تھے(راجیو گاندھی کے والد) اس دور میں ترقی پذیر ملکوں کے ایک لیڈر اور بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے داماد تھے۔ فیروز گاندھی کانگریس کے ایم پی تھے اور اپنی سرکار کو پریشان کیا۔ اپوزیشن کو اشو دے دیا لیکن ان پر کبھی انگلی نہیں اٹھ سکی۔ فیروز جہانگیر گاندھی نے بھائی بھتیجوں کو سیاست میں لانے کا کام کبھی نہیں کیا۔ زمینوں کی انہیں نہ تو بھوک تھی اور نہ ہی کروڑوں اربوں روپے کے مالک بننے کی چاہ۔ فیروز گاندھی نے تمام کام کئے۔رائے بریلی کے کالج سے لیکر دہلی میں پریس کلب آف انڈیا تک ان کی دین ہے لیکن ایک داماد ہیں کاروباری رابرٹ واڈرا۔ اس اکیلے شخص نے کانگریس جیسی پارٹی کو جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ راہل گاندھی کو ایک دہائی کی سیاست اور کارناموں، سونیا گاندھی کی قربانی سے کہیں زیادہ ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے اس معاملے پر اپنے اپنے طریقے پر رائے زنی کی ہے۔ امرتسر سے ارون جیٹلی نے پرینکا اور کانگریس نیتاؤں کے مودی پر ذاتی حملے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی ازدواجی زندگی کے بارے میں کیوں بحث جاری ہے؟ بغیر کسی ثبوت کے گجرات کی لڑکی کی جاسوسی کرانے کے الزام کیوں لگائے جارہے ہیں؟ رابرٹ واڈ را کے خلاف مقدمے درج کرائے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جیٹلی نے کہا یہ بھی ہوگا16 مئی کو آنے دو ۔ ابھی تو کانگریس پارٹی نے جانچ ایجنسیوں کو ان معاملوں میں روکاہوا ہے۔16 مئی کے بعد قانون آزاد ہوکر اپنا کام کرے گا۔ ادھر ان سب تنازعات کے بیچ ایک سرکاری وکیل ایم ایل شرما نے دہلی ہائیکورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ اسے ہائی کورٹ نے سماعت کے لئے منظور بھی کرلیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا سمیت دیگرریئل اسٹریٹ ڈولپرس کو ہریانہ میں قواعد کی خلاف ورزی کر لائسنس دینے کے لئے دائر عرضی پر سماعت کی تاریخ 30 اپریل مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس پردیپ نندرا جوگی کی بنچ اس پر غور کرے گی۔مسٹر شرما نے اپنی عرضی میں دلیل دی کہ ہریانہ میں21366 ایکڑ زرعی زمین پر رہائشی کالونی بنانے اور عمارتیں کھڑی کرنے کے لئے مختلف بلڈروں کو آئینی تقاضوں کی تعمیل کئے بغیر ہی لائسنس دے دیا گیا۔اس فیصلے سے ریاست کو 3.9 لاکھ کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ شرما کا الزام یہ ہے کہ کالونیاں بنانے کے لئے لائسنس کا الاٹمنٹ ہریانہ وکاس و شہری حلقوں کے لئے مقرر قواعد 1975 کی خلاف ورزی کر منظوری دی گئی ہے۔ عرضی میں آڈیٹر کمپٹرولر جنرل( کیگ) ششی کانت شرما کے ذریعے 3 جون 2013 ء کو سونپے گئے خط کو بھی مسترد کرنے کی مانگ کی گئی ہے جس میں واڈرا سے متعلق اسکائی لائٹ ہاسپٹلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کو دئے گئے لائسنس کی جان چ کو واپس لینے کا الزام ہے۔ ہم امید کرتے ہیں ہائی کورٹ اس معاملے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی سامنے لائے گی۔ جو لوگ الزام لگا رہے ہیں انہیں عدالت میں کرپشن کو ثابت کرنا ہوگا۔ دوسری طرف رابرٹ واڈرا کو بھی اپنی صفائی دینے کے لئے پورا موقعہ ملے گا اور شایدپرینکا کا درددور ہوجائے؟
  1. (انل نریندر)

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ...