Translater
28 ستمبر 2023
برج بھوشن کے خلاف کافی ثبوت !
لیڈی پہلوان جنسی اذیت معاملے میں ملزم ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے موجودہ صدر و بھاجپا کے ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف الزام طے کرنے کو لیکر سنیچر کو راو¿ز اونیو کورٹ میں سماعت ہوئی ۔سماعت کے دوران دہلی پولیس نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کیس چلانے کیلئے کافی ثبوت ہیں ۔ جانچ میں ملے ثبوتوں کی بنیاد پر دہلی پولیس نے سنیچر کو کورٹ میں سماعت کے دوران کہا کہ معاملے میں ملزم پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے ۔ کورٹ میں دہلی پولیس نے کہا کہ برج بھوشن شرن سنگھ کو جب بھی موقع ملتا تھا وہ لیڈی پہلوانوں کے ساتھ حرکت کرتا تھا۔ ایسے میں ان پر مقدمہ چلنا چاہئے اور اس پر مقدمہ چلانے کیلئے کافی ثبوت نے لیڈی پہلوان اذیت معاملے کی جانچ میں پایا کہ برج بھوشن کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور جب بھی اسے موقع ملتا وہ لیڈی پہلوان کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کرتے تھے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ متاثر لڑکی نے کوئی رد عمل ظاہر کیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس کے ساتھ غلط کیا گیا ۔ جو ثبوت اور دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ الزام طے کرنے کیلئے کافی ہیں۔ معاملے کی سماعت کے دوران شکایت کنندگان کے ساتھ ورلڈ کشتی فیڈریشن کے دفتر میں ہوئے واقعے کا ذکر کیا اور ان شکایتوں کا دائرہ اختیار دہلی بنتا ہے ۔ایک خاتون پہلوان کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں ہوئے ایک ایونٹ کے دوران برج بھوشن نے شکایت کنندہ کو بلایا اور اس کو زبردستی گلے لگایا جب اس کی مخالفت کی تو برج بھوشن نے کہا کہ وہ ٹیچر کی طرح اسے گلے لگارہا تھا۔ اس سے صا ف پتا چلتا ہے کہ برج بھوشن کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریت ہردیپ سنگھ جسپال نے تفصیل سے پولیس کی دلیلیں سنیں اور آگے کی کاروائی کیلئے 7اکتوبر تاریخ طے کردی ۔ پولیس نے اپنی دلیل کی حمایت میں تین فیصلوں کی کاپی رکھی ۔ جنوری 2023جب برج بھوشن شرن سنگھ پر پہلی بار جنسی استحصال کا الزام لگا تو ان کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ ویڈیومیں وہ کہتے ہیں کہ میرے ہاتھ سے ایک قتل ہوا تھا۔ لوگ کچھ بھی کہیں میں نے ایک قتل کیا ہے۔ اتوار کو جس آدمی نے مارا ہے میں نے ہاتھ چھڑا کر اس کو فوراً رائفل سے اس کی پیٹھ پر رکھ پر مار ڈالا تھا اور وہ مارا گیا۔ سورج سنگھ سپا نیتا ہیں اس کے چاچا پنڈت سنگھ اکھلیش یادو سرکارمیں منتری رہ چکے ہیں۔ جس آدمی کو قتل کرنے کی بات برج بھوشن شرن سنگھ کیمرے پر کہہ رہے ہیں کہ وہ رویندر سورج سنگھ کے پیتا ہیں ۔برج بھوشن سنگھ پر 1997میں داو¿د ابراہیم کے چار ساتھیوں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگا تھا۔ 1997میں بر ج بھوشن شرن سنگھ چھ مہینے دہلی کے تہاڑ جیل میں بھی گئے تھے ان پر ٹاڈا کے تحت مقدمہ چلاتھا۔
(انل نریندر)
بیرون ملک میں ٹارگیٹ کلنگ کا سوال!
پچھلے دنوںکینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے دعویٰ کیا کہ خالصتانی جنگجوں ہر دیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔اس سنگین الزام کے بعد بھارت اور کینیڈا کے رشتوںمیں دراڑ پڑ گئی ہے ۔ بھارت نے ٹروڈو کے اس دعوے کو سرے سے خارج کردیا ہے ۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے 18ستمبر کو کینیڈا کی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ زمین پر کینیڈا ئی شہری کے قتل میں کسی بھی غیر ملکی حکومت کی کسی بھی طرح کا کردار ہماری سرداری کی ایسی خلاف ورزی ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ پچھلے دوہفتے پہلے دہلی میں میں نے خود وزیراعظم مودی کو اس بارے میں شخصی طور پر سیدھے الفاظ میں معلومات دی تھی۔ خالصتانی علیحدی پسند لیڈر کوئی دھارمک اور سماجی شخص نہیں تھا۔ بلکہ وہ ایک آتنک وادی تھا۔ وہ آتنکی کیمپ چلانے اور آتنکی سرگرمیوںکی فنڈ نگ میں شامل تھا۔ ہتھیاروں اور گولہ بارود بنانے میں مہارت حاسل کرنے کیلئے نجر 2012میں پاکستا ن بھی گیا تھا۔ اس پر 10لاکھ روپے کا نقد انعام رکھا گیا تھا۔ نجر بھارت میں پولیس کے ذریعے گرفتاری کے ڈر سے 1996 کینیڈا بھاگ گیا تھا۔ اس لئے یہ تو ثابٹ جو چکا ہے کہ ہر دیپ سنگھ نجر ایک دہشت گرد تھا جو بھارت کے خلاف جنگ میں شامل تھا۔ رہی بات بیرن ملک میں دہشت گروں کے قتل کاتو امریکہ انگلینڈ اور اسرائل میں ایسی درجنوں مثالیں ہیں جہاں انہوںنے دیش کے دشمنوں اوردہشت گردوں کو مارا ہے ۔ امریکہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجسی سی آئی اے اس کام میں ماہر ہے ۔ پوری دنیامیں اس ایجنسی نے درجنوں قتل کرائے ہیں اور وہ بھی دوسرے ملکوںمیں امریکہ ،اسرائل ،روس ،انگلینڈ کی جا نب سے اپنے مبینہ دشمنوں کو غیر ملکی زمین پر مار گرانے کے واقعات کے بعد سوال پوچھا جا رہا ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں،کیا وہ جائز ہے ؟ بین الاقوامی قانون کیا ایسے قتلوںمیں اجازت دیتا ہے؟ ان قوانین کے حساب سے کسی دیش میں غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب سے جان لینے کیلئے ٹارگیٹ کلینگ اس ملک کی سالمیت کے خلاف ہے ہی مانی جا ئے گی۔ 2011میں امریکہ نے پاکستا ن القاعدہ کے چیف اسامہ بن لادین پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مار گرایا تھا۔ اس کے دس بعد امریکہ نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مار گرایا تھا۔ اسرائل کا بھی خیا ل ہے کہ اس نے ٹارگیٹ کلنگ کے تحت کئی فلسطینیوں کو مار گرایا ہے ۔اسرائل ایران کے کچھ نیو کلیائی سائنسدانوں کو مارنے کا بھی الزام ہے ۔ کیا ایسے قتلوں کو یہ کہہ کر حمایت کی جاسکتی ہے کہ کسی دیش کو اپنے دشمنوں یا شدت پسند حملہ آوروں کو مارنے کا حق ہے ؟ امریکہ نے اسامہ بن لادین سلیمانی دونوں کو قتل کے وقت یہ دلیل دی گئی تھی کہ یہ اس کیلئے خطرہ تھا۔ انہوںنے اپنی حفاظت میں ان کا قتل کیا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔امریکہ نے پاکستان ،سومالیہ ،یمن ،کیوبا اور دوسری جگہوں پر اس طرح کی ٹارگیٹ کلنگ کو انجام دیا ہے۔
(انل نریندر)
26 ستمبر 2023
نئی دہلی پارلیمنٹ کی پوترتا بھنگ کر دی !
دیش کی سڑکیں جب گونگی یا سنسان ہو جاتی ہیں تو اس دیش کی پارلیمنٹ آوارہ اور بے اثر ہو جاتی ہیں ۔ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے سڑک اور پارلیمنٹ کے مسلسل رشتوں پر یہ بات اس دور میں کہی تھی جب دیش کی سڑکوں پر سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے جھنڈے تلے ہونے والے کانگریس مخالف آندولن کی چہل پہل بنی رہتی تھی ۔اور دیش کی پارلیمنٹ میں بھی عوام کے توقعات گونجتی تھیں ۔چھ دہائی پہلے دی گئی لوہیا کی یہ آگاہی پچھلے کچھ برسوں سے مسلسل تعبیر ہوتی نظر آرہی ہے ۔پارلیمانی جمہوریت کے امرت کال میں 21د سمبر کوپارلیمنٹ کے اسپیشل سیشن کے دوران تو یہ بات نئے وسیع شکل میں ظاہر ہوئی ۔پارلیمانی کاروائی کے دوران ممبران کے درمیان تلخ لہجے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی ہونا عام بات ہے ۔اور کبھی کبھی بے ہودہ زبان کا استعمال بھی ہوتا ہے جس پر اسپیکر وارننگ دیتے ہیں،قابل اعتراض الفاظ کو ایوان کی کاروائی سے نکلوا دیتے ہیں تو کبھی کبھی متعلقہ ممبر کو ایوان سے معطل بھی کردیتے ہیں ۔لیکن 21 ستمبرکو لوک سبھامیں جو کچھ ہوا وہ ہندوستانی پارلیمنٹ نے اور دیش نے پہلی بار دیکھا ۔مون مشن 3- کی کامیابی پر بحث کے دوران جنوبی دہلی سے چنے گئے بھاجپا ایم پی رمیش بدھوڑی نے امروہہ کے بہوجن سماج وادی پارٹی سے چن کر ایم پی کنور دانش علی کے لئے جیسے بے ہودہ اور دیش کے سب سے بڑے اقلیتی فرقہ کے تئیں فرقہ وارنہ نفرت سے بھرے الفاظ کا استعمال کیا ۔انہیں ایوان سے باہر نکل کر دیکھ لینے تک کی دھمکی بھی دی ۔ایوان میں موجود وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بدھوڑی کے قابل اعتراض پر الفاظ ایوان سے معافی تو مانگی لیکن سوال یہ ہے کہ بدھوڑی کی اتنی ہمت کیسے ہوئی؟ بدھوڑی کے منھ سے نکلے جو بے ہودہ الفاظ پورے دیش نے سنے اور اب اس کا ویڈیو پوری دنیا میں وائرل ہو گیا اس کے بارے میں راجناتھ سنگھ نے کہا بدھوڑی کے منھ سے نکلے جو الفاظ انہیں میں ٹھیک سے نہیں سن پایا، پھر بھی اگر اپوزیشن ان کی باتوں سے اپنے آپ کو ٹھیس محسوس کرتی ہے تو میں افسوس ظاہر کرتاہوں ۔دراصل بدھوڑی بھاجپا کے ایک عام ایم پی نہیں ہیں بلکہ وہ دہلی کے سب سے پڑھے لکھے اور سوجھ بوجھ والے اور دبدبہ والے علاقے ساو¿تھ دہلی پارلیمانی حلقہ سے مسلسل دوبار چنے گئے ہیں اور تین بار دلی اسمبلی کے ممبر بھی رہے ہیں ۔مودی جی جب غیر ملکی دورہ سے لوٹتے ہیں تو دہلی ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کیلئے رمیش بدھوڑی ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ دہلی میں مودی کی کوئی ریلی اور روڈ شو کیلئے بھیڑ کا انتظام کا ذمہ بدھوڑی اٹھاتے ہیں اس ناطے وہ وزیراعظم کے چہیتے ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک ہیں ۔حالانکہ بدھوڑی کے بے ہودہ الفاظ پر ابھی تک نا تو وزیراعظم اور نہ ہی آر ایس ایس کا کوئی رد عمل سامنے آیا ہے ۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھوڑی کے قابل اعتراض الفاظ کو ایوان کی کاروائی سے ہٹانے کا حکم دیا ہے ۔حالانکہ پارلیمنٹ کی کاروائی کا سیدھا ٹیلی کاشٹ کے دور میں ایسی کاروائی کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے ۔بدھوڑی نے ایم پی دانش علی کے خلاف جس قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے وہ پورے دیش میں چھایہ ہوا ہے ۔اور یہ تاریخ میں درج ہو کر پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہو گئے ہیں ۔ویڈیو کلپ کے ذریعے پوری دنیا میں یہ بے ہودہ الفاظ پھیل چلے ہیں ۔چھوٹی موٹی باتوں پر اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کو پورے اجلاس کے لئے معطل کر دینے والے اسپیکر اوم برلا اس معاملے میں بدھوڑی کو صرف وارننگ دی ہے ۔اگر انہوں نے ایوان میں ایسا برتاو¿ کیا تو ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔غور طلب ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور اجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ جب منی پور کے معاملے میں وزیراعظم سے بیان دینے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی شیٹ سے اٹھ کر اسپیکر کے پاس بنی ویل میں پہونچ گئے تھے تو دونوں ممبران کو پورے سیشن کے لئے معطل کر دیا گیا تھا ۔اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے ایسے کئی معاملے راجیہ سبھا اور اس 17 ویں لوک سبھا میںدیکھے گئے ہیں جبکہ بدھوڑی کا معاملہ ان سب معاملے کے سامنے بے حد سنگین ہے۔یہ صحیح ہے کہ آئین کے سیکشن 105 (2 ) کے مطابق ایوان میں کہی بات یا کسی برتاو¿ کیلئے کوئی بھی ایم پی کسی بھی عدالت کے تئیں جواب دہ نہیں ہوتا ۔اس کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہو سکتا ہے ۔اور نا ہی کسی طرح کی کاروائی ہوسکتی ہے ایسے معاملوں لوک سبھا کی ردعمل اور کام چلانے کیلئے قواعد کے تحت اسپیکر کو ہی کاروائی کرنے کا اختیار ہے ۔ایسے میں سوال ہے کہ کیا کوئی ایم پی اپنے استحقاق حق کے تحت کسی دیگر ایم پی کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال یا گالی گلوج بھی کر سکتا ہے ؟ اس بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر اور سابق لوک سبھا اسپیکر کا رد عمل بھی کم حیران کرنے والا نہیں ہے جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اسپیکر کو کیا کرنا چاہیے ۔اگر ان کے وقت میں یہ معاملہ ہوا ہوتا تو کیا کرتی ۔تو انہوںنے اول تو اس پورے معاملے میں ہی بولنے میں معذوری ظاہر کی یہی نہیں انہوںنے رمیش بدھوڑی اور دانش علی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں۔جب کہ بدھوڑی تو ان کے لوک سبھا اسپیکر رہتے ہوئے پانچ سال تک لوک سبھا کے ایم پی رہے ہیں ۔بہر حال بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدھوڑی کو وجہ بتاو¿ نوٹس دے کر ان سے 15 دنوں میں جواب دینے کو کہا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسے نوٹس کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بدھوڑی نوٹس کے جواب میں محض معذرت ہی ظاہر کردیں گے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے گا۔دراصل بدھوڑی بھاجپا کے پہلے ایسے نیتا نہیں ہیں ۔جنہوں نے اقلیتی فرقہ کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی لیڈرشپ اپنے ایم پی رمیش بدھوڑی کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھا پائے گی جس سے پارٹی لائن کراس کرنے والے دوسرے لیڈروں کو سبق ملے ؟
(انل نریندر)
21 ستمبر 2023
40فیصد ممبران پارلیمنٹ پر مجرمانہ مقدمے !
جمہوریت میں پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر کہا جاتا ہے جہاں سے پورے دیش کیلئے قانون بنانا ہوتا ہے ۔اور اگر پارلیمنٹ میں ایسے ایم پی بیٹھے ہوں جن کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہوں تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری جمہوریت کتنی مضبوط ہوگی؟ دیش قریب 40فیصد موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں ۔ان میں 25فیصدی پر قتل ،اقدام قتل ،اغوا اور خواتین پر زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں ۔چناو¿ حق نکام (اے ڈی آر ) نے اس کی جانکاری دی ہے ۔ اے ڈی آر کہا کہ لوک سبھا اورراجیہ سبھا کے ہر ایم پی کی پروپرٹی اوسطاً 38.33کروڑ روپے ہے جبکہ 53ارب پتی ہیں۔ ایوسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم ( اے ڈی آر ) اور نیشنل الیکشن واچ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی 776سیٹوںمیں سے 763موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ۔ اور یہ اعداد وشمار ممبران پارلیمنٹ سے اپنے پچھلے چناو¿ یا اس کے بعد کا کوئی بھی ضمنی چناو¿ لڑنے سے پہلے دائر کئے گئے حلف ناموں سے نکالے گئے ہیں۔ لوک سبھا کی چارسیٹوں اور راجیہ سبھا کی ایک سیٹ خالی ہے ۔ جبکہ جموں وکشمیر یا راجیہ سبھا سیٹیںابھی عمل نہیں ہیں۔ ایک لوک سبھا ایم پی اور تین راجیہ سبھا ایم پی کے حلف ناموں کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا کیوں کہ دستاویز دستیاب نہیں ہیں ۔ تجزیہ کے مطابق 763موجودہ ایم پی میں سے 316( 40فیصد) پر مجرمانہ معاملے جبکہ 194( 25فیصد) موجودہ ایم پی نے اپنے خلاف سنگین مجرمانہ کیسیز کی جانکاری دی ہے ۔ ان میں قتل ،قدام قتل اور خواتین کے خلاف مجرمانہ معاملے ہیں ۔ بھاجپا کے 385ممبران پارلیمنٹ میں سے 139( 36فیصد) کانگریس 85ممبران میں سے 43(53فیصد) ترنمول کانگریس 36ممبران پارلیمنٹ میں سے 14( 39فیصد) آر جے ڈی کے 6ممبران پارلیمنٹ میں سے 5( 85فیصد) بھاجپا کے 8ایم پی میں سے 6(75فیصد ) عام آدمی پارٹی کے 11 ممبران پارلیمنٹ میں سے 3( 27فیصد) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 31ممبران میں سے 13(42فیصد) اور این سی پی کے 8ایم پی میں سے 3( 38فیصد) ممبران پارلیمنٹ نے حلف ناموںمیں ان کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہونے کی جانکاری دی ہے ۔ تلنگانا کے ایم پی سب سے امیر ہیں ۔ ہر ایم پی کافی اوسطاً پروپرٹی والا راجیہ تلنگانا ( 24ایم پی ) جن اوسطاً پروپرٹی 262.26کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد آندھرا پردیش ( 36ایم پی ) ہیں۔جن کی اوسطاً پروپرٹی 150.76کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد پنجاب (20ایم پی ) آتا ہے جہاں اوسط پروپرٹی 28.94کروڑ روپے ہے۔
(انل نریندر)
چھ گارنٹی پر داو ¿ لگایا !
کرناٹک کی چناوی کامیابی سے گد گد کانگریس پارٹی نے اتوار کو تلنگانا میں ایک بڑی ریلی کی اس کا ویڈیودیکھا ۔ اس ریلی میں ناقابل یقین عوامی سیلاب امڑا ،ایک اندازے کے مطابق 10لاکھ لوگ اس ریلی میں آئے ۔ جہاں تک نظر جاتی تھی بھیڑ ہی بھیڑ دکھائی دیتی ہے ۔ چاروں طرف یہ نظارہ تھا کہ راہل گاندھی تقریرشروع کی اتنے نعرے لگے انہیں دو تین مرتبہ اپنی تقریر روکنی پڑی ۔پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی دو روزہ میٹنگ کے اختتام کے بعد حید ر آبا دکے قریب تنکو گوڑا میں منعقدہ کانگریس کی ریلی میں کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے ،سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے ان چھ گارنٹیوں کا ذکر کیا ۔اور کہا کہ پارٹی کی سرکار بننے کے بعد انہیں پورا کیا جائےگا ۔ راہل گاندھی نے ان چھ گارنٹیوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگا نا میں کانگریس کی سرکار بنتے ہی کیبنیٹ کی پہلی میٹنگ میں اس پر مہر لگے گی ۔ تلنگا نا میں اس سال کے آخر میں اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں۔ تلنگا ناکی حکمراں بھارت راشٹر کمیٹی (بی آر ایس) کو بی جے پی رشتہ دار کمیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو¿ واور اے آئی ایم آر کے لیڈروں کے خلاف ای ڈی ،سی بی آئی اور انکم ٹیکس کی کاروائی نہیں ہوتی۔ چوںکہ وزیراعظم مودی انہیں اپنا مانتے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر نے بھاجپا ،بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان ساجھےداری ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ کانگریس تلنگا نا میں ان تینوںپارٹیوں سے لڑ رہی ہے ۔ ریلی کے دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور پارٹی کے حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے ۔ سونیا گاندھی نے یہاں گاندھی نالج اینڈ ٹریننگ سینٹر کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ انہوںنے ریلی سے خطاب میں کہا کہ ان کا خواب ہے کہ تلنگا نا میں ان کی پارٹی کی سرکار بنے جو سماج کے سبھی طبقوں کیلئے کام کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہم ہر گارنٹی کو پورا کرنے کیلئے پابند ہیں۔ کانگریس کی پہلی گارنٹی ہے مہا لکشمی یوجنا ؛جس کے تحت خواتین کو ہر ماہ ڈھائی ڈھائی ہزار روپے دینے ،پانچ سو روپے میں گیس سلینڈر دینے اور ریاستی بسوںمیںمفت سفر دوسرا؛ کسانوں کو 15ہزار روپے فی ایکڑ معاوضہ ،کھیتی مزدوروں کو12ہزارروپے سالانہ ،دھان کیلئے 15سو روپے بونس ،تیسرے ؛ ہر گھر کو 200یونٹ بجلی مفت ،اور بے گھر لوگوں کو گھر بنانے کیلئے 5ہزار روپے کی مدد ملے گی،بزرگوں کو 4ہزارروپے ماہانہ پینشن اور 10لاکھ روپے کا راجیو آروکیہ شیر بیمہ کا وعدہ ۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ جتنی بھیڑ ریلی میں اکٹھا ہوئی اس میں سے زیادہ تر ووٹ میں بدلے گی۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ کانگریس کی ریلی اتنی بھیڑ پارٹی کی طاقت کا مظاہر ہ تھا۔
(انل نریندر)
19 ستمبر 2023
بہادری کی مثال جے ہند پاپا!
کرنل من پریت سنگھ کے چھ سالہ بچے کبیر نے فوج کی وردی پہن کر والد کو آخری ودائی دی اور کہا کہ جے ہند پاپا !کشمیر وادی میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں اہم قربانی دینے والے کرنل من پریت سنگھ کا جمعہ کے روز پنجاب کے موہالی ضلع کے ان کے آبائی گاو¿ںمیں انتم سنسکار کر دیا گیا ۔ ان کے ساتھ ہی دہشت گردوں سے لوہا لیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دینے والے شہید میجر آشیش ڈھوچک کو مکمل فوجی احترام کے ساتھ ہر یانہ ،پانی پت کے ان کے آبائی گاو¿ںمیں ہزاروں لوگوںنے نم آنکھوں کے ساتھ آخری ودائی دی۔ کرنل من پریت سنگھ بہادری کی ایک مثال تھے ۔ 2021میں بھی اندھادھندھ فائرنگ کے دوران دہشت گردوں کو مار گرانے والے اس بہارد کوملٹری میڈل سے نوازا گیا تھا۔ کئی موقعوں پر قابل قدر ہمت نے دشمنوں کے چھکے چھڑائے تھے۔ موہالی کے ہلہ پور کے گاو¿ں کے من پریت سندھ 2003میں فوج کے لیفٹیننٹ کرنل بنے 2005میں انہیں کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔ وہ پریوا ر کی تیسری پیڑھی سے تھے جنہیں فوج میں رہ کر ملک کی خدمت کو اپنا خواب بنایا ۔ کرنل من پریت سال2019سے 2021تک سیکنڈ ان کمان کے طور پر تعینات ہوئے بعد میں انہوںنے کمانڈنگ افسر کی شکل میں کام کیا ان کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ خاندان والوں نے بتایا کہ اگلے ماہ ان کے بیٹے کا جنم دن تھا اور وہ اگلے ماہ چھٹی لیکر گھر آنے والے تھے ۔لیکن اس سے پہلے ہی ان کی شہادت کی خبر آ گئی۔شہید ڈی ایس پی مایوبھٹ کی ترنگے میں لپٹے جسد خاکی کو دیکھ کر پورا گاو¿ں رو پڑا ۔ دہشت گردوں کیلئے دل میں غصہ ہے لوگوں کا کہنا تھا کہ جانبازوں کی قربانی زائع نہیں جائے گی۔ ہمایوں بھٹ 2019بیچ کے افسر تھے ان کے والد غلام حسن بھٹ ڈی آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں ۔ ہمایوں کی شادی ایک سال پہلے ہی ہوئی تھی۔ 29دن پہلے وہ پیتا بنے تھے ۔ٹھیک سے وہ اپنے بچے کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پائے ۔ دیش سیوا کرتے ہوئے وہ شہید ہو گئے ۔ اننت ناگ میں شہید ہوئے پانی پت کے باشندے میجرآشیش بچپن سے ہی ہمت والے تھے ۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی ہمت سے آتنک وادیوں سے سیدھے بھڑ گئے ۔ انہوںنے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کی ۔ گھر والوں کو جہاں ان کی موت کا غم ہے وہیں ان کی شہادت پر فخر بھی ہے ۔ چاچارمیش کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ دشمنوں کو مٹانا ہی اصلی زندگی ہے اسی سال ان کو قابل قدم بہادری کیلئے سروس میڈل سے نوازا گیا تھا۔ اکتوبر کو جنم دن پر گھر کے لوگ نئے گھر میں جانے کی تیاری میں تھے انہیں تبھی چھٹی پر گھر آنا تھا۔ اور سبھی کو نئے گھر میں پرویش کرنا تھا۔ لیکن خواب ادھورا رہ گیا۔ہم تینوں شہیدوں کواپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریواروں کو اس بھاری مشکل کا سامنا کرنے کی ہمت دے ،جے ہند!!!
(انل نریندر)
14ٹی وی اینکروں کا بائیکاٹ !
اپوزیشن اتحاد انڈیانے 14ٹی وی اینکروں کے پروگراموں کا مختلف اسٹیجیز ڈیبیٹ پر بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔اتحاد کی میڈیا کمیٹی نے ان صحافیوں کے پروگراموں کو بائیکاٹ کرنے اور ایسے ٹی وی چینلوں یا پلیٹ فارموں پر ان کی بحث میں اپنے نمائندوں کو بھی نہ بھیجنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ نفرت بھرے مباحثے سماج کو کمزور کر رہے ہیں۔ انڈیا اتحاد کے اس فیصلے پر بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ نیوز اینکروں کی اس طرح لسٹ جاری کرنا نازیوں کے کام کرنے کا طریقہ ہے جس میں یہ طے کیا جا تا ہے کہ کس کو نشانہ بنانا ہے ۔ اب بھی ان پارٹیوں کے اندر ایمرجنسی کے وقت کی ذہنیت بنی ہوئی ہے ۔ نیوز چینل آج تک اور انڈیا ٹوڈے اور جی این ٹی کے نیوز ڈائریکٹر سپریا پرساد نے ایکس پر اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے: میں اس بندشی قدم کی سخت مذمت کرتا ہوں اس ایک طرفہ قدم کو فوراً واپس لیا جانا چاہئے ۔ وہیں این ڈی ٹی وی کے سابق اینکر رویش کمار نے بھی ایکس (ٹویٹر ) پر لکھا ہے کہ سات سال سے میں بائیکاٹ جھیلتا رہا ہوں ،ساتھ گھنٹے بھی نہیں ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ پہلی بار نوسال میں وزیر اعظم پہلی بار پریس کانگریس کر ہی دیںگے ۔ پریس کی آزادی کی حفاظت کیلئے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کاروائی کو مناسب بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ چینلوںنے پچھلے نو برسوں سے نفرت کا بازار لگا رکھا ہے ۔ اتحاد نے اس نفرت سے بھری کہانی کو جائز نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے سماج کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ بڑے بے دلی سے لیا ہے ۔ اگر آگے چل کر یہ اینکر سدھر جاتے ہیں تو ہم پھر سے ان کے پروگراموں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ہم نے ان کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ عدم تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر کوئی اینکر نفرت پھیلانے والی بات کرتا ہے جیساکہ آئی این ڈی اے کا الزام ہے تو ان کے شو میں اپوزیشن کے لیڈروں کے شامل نہ ہونے سے کیا حاصل ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں سینئر صحافی این کے سنگھ کہتے ہیں کہ اینکر کے بائیکاٹ سے چینلوں کی ساکھ پر ایک طرح کا حملہ کیا گیا ہے ۔کہا گیا ہے کہ تم طرف داری ہو اور جو کچھ نو سال سے ہو رہا تھا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ اینکر کا بائیکاٹ کرنا احتجاج جتانے کا ایک طریقہ ہے ۔وہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ جو کررہے ہیں وہ صحیح نہیں ہو رہا ہے ۔ بہت سے اینکر کسی ایک نیت یا سابقہ رنجش کو لیکر چل رہے ہیں اور ڈیبیٹ کر رہے ہیں ۔ وہ اس میں ایک فریق کی کھال ادھیڑ رہے ہیں اور دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہیں یا انہیں کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ اینکر کا کام ڈیبیٹ کو چلانا ہوتا ہے کسی فریق کی طرف داری کرنا نہیں ہوتا ۔ ادھر کرناٹک کے ہائی کورٹ نے نیوز چینل آج تک کے مشیر ،مدیر و اینکر سدھیر چودھری کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کہا کہ پہلی نظرمیں معاملہ بنتا ہے اور اس کی جانچ ہونی چاہئے ۔ حالاںکہ عدالت نے پولیس کو فوری کاروائی نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے اگلی کاروائی 20ستمبر کو ہوگی۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
صدر ٹرمپ کی ساکھ دائو پر!
امریکہ میں تین نومبر کو وسط مدتی چنائوہوئے ہیں۔ یہ چنائو ایک طرف ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت دائو پر ہے وہیں ڈیموکریٹک پارٹی کی ساکھ ب...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
اکثر بچوں کو اس جنک فوڈ سے بچانے کیلئے سخت قدم اٹھانے کی مانگ اٹھتی رہتی ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کرتا۔ میں نے بھی اسی کالم میں اس بڑھتے مسئل...