Translater

28 جولائی 2013

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر : دلائل اور انصاف پر مبنی فیصلہ

سرخیوں میں چھائے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی اصلیت سامنے آگئی ہے۔ ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج راجندر کمار شاستری نے اس مقدمے کو لیکر ایک ایسا اہم فیصلہ دیا ہے جس کا تذکرہ بہت دنوں تک چھایا رہے گا۔ ایک مشکل اور سیاسی اغرازپر مبنی مقدمے میں کسی طرح کا فیصلہ دینا آسان کام نہیں تھالیکن ماننا پڑے گا جج محترم نے ایک متوازن اور انصاف پر مبنی فیصلہ سونا ہے۔ اس پر سیاست تو ہوگی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کے حقائق اور غیر جانبداری پر کوئی تنازعہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو بتائیں کے بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑکیاتھی؟13 ستمبر 2008ء کو دہلی کے قرولباغ،کناٹ پلیس، انڈیا گیٹ، گریٹر کیلاش میں ایک ساتھ سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں 26 لوگ مارے گئے تھے جبکہ13 زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے جانچ میں پایا کے بمدھماکے ہو دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین نے انجام دیاتھا۔ واردات کے 6 دن بعد19 ستمبر کو دہلی پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ انڈین مجاہدین کے 5 آتنک وادی بٹلہ ہاؤس میں واقعہ مکان نمبرایل۔18 میں روپوش ہیں۔ اس اطلاع کی بنیادپر انسپکٹر موہن چند شرما کی رہنمائی میں 7 نفری ٹیم جب چھاپہ مارنے پہنچی تومکان کی پہلی منزل پر بنے فلیٹ میں موجود 5 آتنکیوں نے پولیس ملازمین کو گولیاں چلانی شروع کردیں۔ انکاؤنٹر میں انسپکٹر موہن چند شرما سمیت دو پولیس والے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ جوابی فائرننگ میں پولیس نے دو آتنک وادی عتیق امین اور محمد ساجد کو مار گرایاتھا جبکہ دو آتنکی محمدسیف اور ذیشان کو گرفتار کیاگیا۔ لیکن ایک دہشت گرد بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ زخمی موہن چندشرما کو ہولی فیملی لے جایاگیا یہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس کے منظم انکاؤنٹر کے بعد شہزاد اس فلیٹ سے بچ کر بھاگ گیا تھا۔ پولیس کو شہزاد کا پتہ ایک آتنکی محمد سیف سے چلا اور اسے گرفتار کر لیاگیا ۔ اس معاملے میں ایک اور ملزم جنید کو پکڑا نہیں جاسکا ۔ اسے بھگوڑا ملزم اعلان کردیا گیا۔ شہزاد کو یکم جنوری 2010ء کو اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع سے گرفتار کیا گیا اور یہیں سے شروع ہوئی اس مقدمے میں سیاست۔ کیونکہ معاملہ اقلیتی فرقے سے جڑا تھا ایک بار پھر اعظم گڑھ کا نام اس معاملے سے جڑ گیا اس لئے دگوجے سنگھ سمیت کانگریسی لیڈروں نے ریلیوں میں اس انکاؤنٹر کو فرضی قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہاں تک کہہ دیا انسپکٹر موہن چند شرما کو ان کے ساتھیوں نے ہی مار ڈالا ہے۔ چناوی ریلیوں میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے ایک موجودہ وزیر سلمان خورشید نے تو ایک ریلی میں یہا ں تک کہا کہ اس فرضی مڈ بھیڑ کی تصویریں دیکھ کر سونیا گاندھی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ محترم جج شاستری نے اپنے فیصلے میں ایک طرح سے بغیر کہے اس پر سیاست کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے 2009ء کے لوک سبھا اور 2012ء کے اترپردیش اسمبلی چناؤ سے پہلے مڈ بھیڑ کو فرضی قراردیا تھا۔ سپا کے سابق لیڈر امر سنگھ اور پارٹی کے موجودہ جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کے ساتھ بٹلہ ہاؤس گئے ۔ انہوں نے مڈ بھیڑ کو بھی فرضی بتایا۔ بٹلہ ہاؤس پر پارٹی لیڈروں کی سیاست سے کانگریس کنارہ تو کرتی ہے کبھی بھی اس کے منہ پر تالہ لگانے کی کوشش نہیں کرتی۔ دگوجے سنگھ تو فیصلے کے بعد بھی کہہ رہے ہیں کہ میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یو پی اے سرکار کے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے فیصلے کے بعد کہا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر فرضی نہیں تھا۔ بطور وزیرداخلہ اس معاملے کا جائزہ لینے والے چدمبرم کے مطابق انکاؤنٹر کی اصلیت پر سوال نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ جج شاستری نے صاف کہا کہ انکاؤنٹر فرضی نہیں تھا۔ سیریل بلاسٹ کے بعد19 ستمبر2008ء کو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں جج صاحب نے صحیح بتایا ہے کہ قریب70 گواہوں اور ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے کورٹ نے انڈین مجاہدین کے آتنکی شہزاد عرف پپو کو انسپکٹر موہن چندر شرما کے قتل کا قصوروار مانا ہے۔ اب29 جولائی کو سزا پر بحث ہوگی۔ عدالت نے آئی پی سی کی دفعہ302,307 اور 186,120B کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہزاد نے گولی مار کر انسپکٹر موہن شرما کو مارا ہے۔ یہی نہیں اس نے باقی پولیس والوں پر بھی گولیاں چلائیں اور ہیڈ کانسٹیبل بلونت سنگھ کے بھی قتل کی کوشش کی تھی۔ شہزاد کو قصوروارمانتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ انڈین مجاہدین کا ممبر تھا یا نہیں اس سے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس معاملے کا قصوروار ہے اور یہ ہی حقیقت ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ عدالت کے سامنے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پرکہا جاسکتا ہے کہ وہ آئی ایم کا ممبر ہے۔ جج صاحب نے دہلی پولیس کو بھی نہیں بخشا اور فیصلے میں عدالت نے کہا انسپکٹر موہن چند شرما نے چھاپہ مارنے کے وقت بلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہن رکھی تھی؟ یہ حیرت کا موضوع ہے ۔ انہیں اس کا انجام پتہ تھا پھر ایسی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے سکیورٹی جیکٹ نہیں پہنی۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ غیر پیشہ ور رویہ تھا۔ جج شاستری نے کہا کہ پولیس کے پاس پہلے سے اطلاع تھی کہ ایک خاص جگہ پر کچھ آتنکی چھپے ہوئے ہیں ایسے میں وہاں جانے سے پہلے اسکیم بنائی گئی ہوگی۔ اور یہ کیسی اسکیم بنی کے 7 پولیس کی ٹیم میں 2 کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ حالانکہ عدالت نے کہا پولیس ہتھیار کے ساتھ جائے یا خالی ہاتھ جائے لوگوں کو انہیں مدد کرنی چاہئے لیکن یہاں پر گولی چلا دی گئی۔ اسے کبھی بھی صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ایسے مقبول سیاسی بنائے گئے کیس میں ایسا کوئی فیصلہ دینا جو انصاف اور دلائل پر مبنی ہو، سبھی فریقین کو قبول ہو، یہ آسان کام نہیں تھا لیکن جج شاستری کے فیصلے سے جہاں دہلی پولیس نے راحت کی سانس لی وہیں شہزادکے گاؤں والی دکھی تو نظر آئے لیکن کسی نے فیصلے پر کوئی رائے زنی نہیں کی۔ گاؤں والوں نے عام طور پر کورٹ پر بھروسہ جتایا۔ جہاں تک مسلم فرقے کی رائے کی بات ہے اس میں بھی ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ جامعہ علاقے خاص طور سے بٹلہ ہاؤس کے آس پاس لوگ صبح سے ہی ٹی وی سے چپکے رہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے ٹیچر اور مذہبی پیشواؤں نے جہاں اس فیصلے میں دہلی پولیس کی من گھڑت دلیل کو خیالی قراردیا وہیں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے کیونکہ کسی شخص کو اگر نچلی عدالت سے انصاف نہیں ملا تو اوپری عدالتوں میں جا سکتا ہے۔ کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پھر دہشت گردی اور اعظم گڑھ کانام جڑ گیا ہے۔ ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج راجندرکمار شاستری میری رائے میں تو مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اتنے مشکل کیس میں انہوں نے سبھی سے انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

27 جولائی 2013

کیا راہل کی جی توڑ محنت ان کانگریسیوں کو سدھار پائے گی؟

اس میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی کہ کانگریس کے قومی نائب صدر راہل گاندھی آج کل جی جان سے دن رات پارٹی کو منظم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ راہل نے اپنے نیتاؤں کو جو نصیحت دی ہے وہ بہت ضروری ہے۔ آئے دن پارٹی کے بڑے نیتا اپنی ہی سرکار اور پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف بیان بازی کرکے فالتو کے تنازعے کھڑے کرتے ہیں۔ اعلی کمان کو الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان یہ کہہ کراپنی جان چھڑا لیتا ہے کہ یہ بیان اس نیتا کا اپنا بیان ہے۔ راہل نے بدھوار کو پارٹی عہدیداران کو ٹیم جذبے سے کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ گروپ بندی سے تنظیم کمزور ہوتی ہے اس لئے کانگریس عہدیدار اور ورکر ٹیم کے جذبے سے کام کریں۔ راہل نے کہا کہ ہمیں وقت کے ساتھ چلنا پڑے گا کیونکہ ہم اپنی تیاری میں دیری کرتے ہیں تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ راہل نے دو دن پہلے یوپی کے ورکروں اور لیڈروں کو خبردار کیا کہ یوپی میں ہم گروپ بندی کے سبب ہارے۔ لیکن دکھ کا باعث تویہ ہے کہ راہل کی اتنی سخت محنت کا جتنا فائدہ پارٹی کو ہونا چاہئے وہ شایدنہیں ہوپارہا ہے۔ مشن2014ء کی تیاری میں لگے راہل گاندھی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ کانگریس کی ہی اپنی ایک خفیہ رپورٹ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یوپی کوٹے کے مرکزی وزیر دراصل ہیرو نہیں زیرو ہیں۔ اترپردیش کے انچارج جنرل سکریٹری مدھوسودن مستری نے پردیش کا وسیع دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں کئی انکشاف ہوئے ہیں۔ مستری نے پیر کو پارٹی ہائی کمان کو یہ رپورٹ سونپی ہے۔ جن وزرا کے کام کاج پر انگلیاں اٹھائی گئی ہیں وہ سبھی راہل کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ان وزراء کا عام آدمی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ بھلے ہی پارٹی کی اندرونی رپورٹ کی بنیاد پر وزراء کی کرسی خطرے میں نہیں ہے لیکن رپورٹ میں اٹھے سوال کے بعد راہل گاندھی کا ناراض ہونا فطری ہے۔ مستری نے تو اپنی رپورٹ میں منتریوں کے آنے والے چناؤ میں جیتنے پر بھی سوالیہ نشان لگا دئے ہیں۔ یوپی سے مرکزمیں تین کیبنٹ منتری کے طور پر سلمان خورشید، بینی پرسادورما، سری پرکاش جیسوال ہیں جبکہ راجیہ منتری کے طور پر آر پی این سنگھ، جتن پرساد اور پردیپ جین ہیں۔ مستری نے اپنی رپورٹ تیار کرنے سے پہلے دو بار ریاست کا دورہ کیا اور اس دوران وہ پردیش ضلع بلاک کمیٹی کے ممبروں اور ورکروں سے ملے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سورج کنڈ مباحثہ میٹنگ ہو یا جے پور کی چنتن میٹنگ ورکروں سے وزرا تک سیدھے پہنچ کا جو سسٹم بنانے کی بات تھی وہ اترپردیش میں ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ورکر ہی نہیں بلکہ پردیش کانگریس یونٹ کے عہدیداران تک بھی وزراء کی بے رخی سے پریشان ہیں۔ وزیر اپنی من مرضی سے علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔ راہل نے حالانکہ سبھی وزراء کو دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ چناؤ کا ایک سال بھی نہیں بچا اس لئے انہیں دہلی چھوڑ کر اپنے حلقے میں کام کرنا ہوگا۔ راہل نے یہ بھی کہا کہ سبھی وزراء کو پردیش کانگریس یونٹ کو ساتھ لیکر چلنا پڑے گا لیکن کچھ کانگریسی ایسی ہیکڑی جماتے ہیں کہ وہ کسی کی بھی نہیں سنتے۔ راہل اکیلے تو چناؤ نہیں جتا سکتے۔ سرکار اور تنظیم دونوں کو مل کر لیڈر شپ کا ساتھ دینا ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

گردش میں کچھ اداکاروں کے ستارے: سنجے کے بعد اب سلمان

بالی ووڈ کے بڑے اداکاروں کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ پہلے سنجے دت جیل گئے اب سلمان مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ 11 سال پرانے ایک کار حادثے کے مقدمے میں ممبئی کے سیشن جج یو بی جند نے انہیں ’ہٹ اینڈ رن‘ کے مقدمے میں غیر ارادتاً قتل کا قصوروار مانا ہے۔ 28 ستمبر 2002ء کو سلمان نے اپنی لینڈ کروزر کار سے باندرہ امریکن ایکسپریس بیکری کے سامنے فٹ پاتھ پر سو رہے چار لوگوں پر گاڑی چڑھا دی تھی۔ اس میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور دیگر چار زخمی ہوگئے تھے۔ واردات والے دن سلمان کے خون میں شراب کی مقدار پائی گئی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اداکار کے خون میں 62 ملی گرام الکوحل تھا جو مطلوب حد سے زیادہ ہے۔ اداکار کے باڈی گارڈ روندر پاٹل نے کورٹ میں کہا تھا کہ حادثے کے وقت سلمان ہی گاڑی چلا رہے تھے۔ پاٹل کی 2007ء میں موت ہوچکی ہے مگر اس کا یہ ریکارڈ بیان اہم کردار نبھا رہا ہے۔ اگر یہ غیرارادتاً قتل کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو سلمان کو زیادہ سے زیادہ10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ الزام طے کرنے کے بعد جج نے سلمان سے پوچھا کیا آپ کو الزام قبو ل ہے؟ تو سلمان نے کہا میں الزام قبول نہیں کرتا۔ عدالت نے اگلی سماعت کے لئے19 اگست کی تاریخ طے کی ہے۔ اب ان پر مقدمہ چلے گا۔ گواہوں کے بیان درج ہوں گے، وکیل بیانوں پر بحث کریں گے۔ آخر میں 313 کا بیان ہوگا۔ اس میں کورٹ سیدھے سلمان سے پوچھے گی کے وہ اس کیس میں کوئی اور ثبوت یا جانکاری دینا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ قصور ثابت ہوا تو سزا ۔ ویسے سلمان کے پاس ابھی بچاؤ کے راستے ہیں۔ کیس میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔ ہٹ اینڈ رن کے کئی اور قصے اخباروں کی سرخیاں بن چکے ہیں۔ 2011ء میں اداکار رونت رائے نے اپنی مرسڈیز کار کو ٹکر ماردی جس میں تین لوگ زخمی ہوئے۔ تیز گاڑی چلانے کے الزام میں اداکار جان ابراہم 15 دن کی سزا کاٹ چکے ہیں۔1999 ء میں مشہور اداکارسنجیو نندا کی کہانی تو بچہ بچہ جانتا ہے۔ نندا کی بی ایم ڈبلیو کار نے تین پولیس والوں سمیت 6 لوگوں کو کچل دیا تھا۔ انہیں 2 سال کی سزا ہوئی تھی۔ دہلی میں پچھلے 15 سالوں میں 340 ہٹ اینڈ رن معاملوں میں 347 لوگوں کی جان گئی۔ فلم اداکار سلمان خاں پر الزام لگنے سے بالی ووڈ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ سلمان خاں پر بالی ووڈ کے تقریباً 700 کروڑ روپے لگے ہیں۔ فی الحال تو وہ اپنے بھائی سہیل خاں کی 130 کروڑ کی لاگت سے بن رہی فلم ’مینٹل‘ پوری کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فلم ڈائریکٹر کے ۔ بی ۔شومین ، سبھاش گھئی کی فلم پروڈیوسر بونی کپور کی فلم ’اینٹری‘ میں کام کرنے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ لیلا بھنسالی کے فلم ’گبر‘ کے علاوہ فلم’پھٹا پوسٹر نکلا ہیرو‘ اور فلم ’او ہ تیری‘ میں بھی بطور مہمان اداکار کام کررہے ہیں۔ کلرس چینل کے رئلٹی شو بگ باس کے نئے سیزن میں بھی وہ نظر آنے والے ہیں۔ اس شو کی فی قسط کے لئے وہ تقریباً8 کروڑ روپے لیتے ہیں۔انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک پروڈکٹ کے اشتہار کے لئے کم سے کم 7 کروڑ روپے لیتے ہیں۔ بھورے رنگ کی شرٹ اور کالی پینٹ فورمل ڈریس میں سلمان بدھوار کی صبح کالا گھوڑا کی سیشن کورٹ کمپلیکس میں وقت سے کافی پہلے پہنچ گئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی دونوں بہنیں اور ان کے وکیلوں کی ٹیم بھی تھی۔
(انل نریندر)

26 جولائی 2013

ملائم پر سی بی آئی کا پھندہ ہٹانے کی سرکاری تیاری!

کانگریس کے لئے غذائی گارنٹی قانون اتنا اہم بن گیا ہے کہ اسے پاس کروانے کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کوتیار ہے ۔چاہے اس چکر میں کیوں نہ معاملے سے پہلے ہی سی بی آئی پر سرکاری طوطے ہونے کا الزام ثابت ہوجائے؟ اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ یوپی اے سرکار سماجوادی پارٹی چیف ملائم سنگھ پر مہربانی کی تیاری کررہی ہے اور ان کے خاندان کے خلاف اثاثے سے زیادہ جائیداد کی سی بی آئی جانچ بند کی جاسکتی ہے۔ یہ ہی نہیں ڈی ایم کے راجیہ سبھا ممبر اور ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ملزمہ کنی موجھی کے خلاف بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کی پکڑ ڈھیلی ہونے جارہی ہے۔ دراصل غذائی گارنٹی جیسے اہم آرڈیننس کو مانسون کے اجلاس میں پاس کرانے کے لئے سرکار کو سپا اور ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کی ضرورت ہوگی۔ ایسے میں جانچ ایجنسیوں کے ان دونوں کے خلاف ڈھیلے ہوتے شکنجے کو اسی سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو ملائم سنگھ یادو اور ان کے خاندان کو آمدنی سے زیادہ پراپرٹی کے معاملے میں مانسون اجلاس سے پہلے ہی کلین چٹ مل سکتی ہے۔ دسمبر میں سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو یہ فیصلہ لینے کے لئے آزادکردیا تھا کہ ملائم کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے یا نہیں۔ ساتھ ہی عدالتنے ملائم کی بہو اور اترپردیش وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کی پراپرٹی کو اس سے جوڑنے سے منع کردیا تھا۔ سی بی آئی کے ایک افسر نے بتایا ڈمپل یادو کی پراپرٹی کو مقدمے سے باہر نکالنے کے بعد سپا چیف کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے کا معاملہ نہیں بنتا۔ ٹھوس ثبوت نہ ملنے کے چلتے سی بی آئی ملائم و ان کے خاندان کے خلاف جانچ کی فائل بند کرنے کی تیاری میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ابتدائی رپورٹ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملائم اور اکھلیش یادو کی پراپرٹی میں اضافہ رشتے داروں سے لئے گئے لون کے چلتے ہوا ، جسے بعد میں تحفے کی شکل میں دکھا دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایجنسی نے باپ بیٹے کی پراپرٹیوں میں کوئی ایسا اضافہ نہیں پایا جس کی سرکاری وضاحت ہوسکے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 1993ء سے 2005ء کے دوران ملائم اور اکھلیش کی سرمایہ کاری میں کئی گنا اضافہ ہوا جس سے مبینہ طور پر آمدنی سے زیادہ پراپرٹی کا تعین کرنا مشکل ہوگیا۔ معلوم ہو کہ سپریم کورٹ نے مارچ2007ء میں سرکاری وکیل وشوناتھ چترویدی کی مفاد عامہ کی عرضی پر ملائم اور اکھلیش یادو کے خلاف معاملے کی جانچ کے احکامات دئے تھے۔ اسی درمیان عرضی گذار وشوناتھ چترویدی نے الزام لگایا ہے کہ یوپی اے سرکار غذائی سکیورٹی بل پر حمایت حاصل کرنے کے لئے جان بوجھ کر سپا چیف کو بچا رہی ہے۔ انہوں نے بغیر نام لئے ایک وزیر پر دھمکی دینے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے کیس کی فائل بندکرنے کے لئے احتجاج کیا تو ایک وزیر نے مجھے فون کیا اور دھمکی دی کہ جو کام میں نے 2008 ء میں کیا تھا وہ دوبارہ نہ کریں۔ چترویدی نے کہا کانگریس کی ملائم سے ڈیل ہوگئی ہے اور ایجنسی سرکار کے کہنے پر کام کررہی ہے۔ ملائم سے ہوئی ڈیل کسی بھی طرح سے میڈیا میں لیک ہوگئی اور اس سے سی بی آئی میں کھلبلی مچ گئی۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹررنجیت سنہا نے اس سنسنی خیز جانچ کی جانکاری میڈیا میں لیک کرنے والے اپنے افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے افسر کو تفتیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور ایک اندرونی جانچ ٹیم بھی بنا دی ہے۔ سنہا کا کہنا ہے قصوروار پائے جانے پر افسر کو فوراً معطل کردیا جائے گا۔ سنہا کے مطابق اکھلیش۔ ملائم ڈی اے کیس میں انہوں نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ ان کے خلاف اکٹھے ثبوتوں کا جائزہ لینا باقی ہے لیکن اخباروں میں غلط خبر دے کر جانچ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے پچھلے حکم کے مطابق اکھلیش کی بیوی ڈمپل یادو کا نام مقدمے سے ہٹانے لینے کے بعد جانچ کا ٹرینڈ بدل گیا۔ ڈمپل یادو کا نام اس لئے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک غیر سرکاری شخص ہے۔ سنہا کے مطابق اس خاندان کی زیادہ تر پراپرٹی ڈمپل یادو کے نام پر ہے لہٰذا ان کے ہٹنے کے بعد باپ بیٹوں کے خلاف ثبوتوں میں فرق آگیا۔
(انل نریندر)

خطرناک ابوغریب جیل پر القاعدہ کا بڑا حملہ!

عراق میں واقع ابو غریب جیل دنیا کی بدنام ترین جیلوں میں ہے۔ جب امریکہ کی فوج عراق میں تھی تو بغداد کے مغرب میں واقع ابو غریب جیل میں مبینہ آتنکیوں کو اس طرح سے ٹارچر کیا جاتا تھا کہ ساری دنیا میںیہ جیل اور افسر بدنام ہوگئے تھے۔ بغداد سے 12 کلو میٹر دور ایک اور جیل ہے وہاں بھی دہشت گردبند ہیں۔ ایتوار کو ان دونوں جیلوں پر زبردست حملہ کیاگیا اور بندوقچی سنی دہشت گردوں اور سکیورٹی گارڈ میں 10 گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی۔آخر میں حملہ آور دونوں جیلوں سے500 قیدیوں کو چھڑا کر لے جانے میں کامیاب رہے۔ رات بھر چلی مڈبھیڑ میں کم سے کم41 لوگ مارے گئے۔ پولیس کے کرنل کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران ابو غریب جیل سے7 قیدی بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے لیکن بعد میں سبھی کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری طرف جہادیوں نے انٹرنیٹ پر دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ہزاروں قیدیوں کو چھڑالیا ہے۔
افسروں نے بتایا جھڑپ میں سکیورٹی فورس کے کم سے کم20 لوگ مارے گئے اور40 زخمی ہوگئے۔ تاہم سرکاری ترجمان نے کہا کہ دونوں جیلوں میں جھڑپوں میں 21 قیدی بھی مرے اور 25 زخمی ہوئے اس سلسلے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی کے مارے گئے قیدی جھڑپ میں شامل تھے یا نہیں۔ ابھی یہ بھی صاف نہیں ہے کہ جیلوں پر حملہ کرنے والے بندوقچیوں میں سے کتنے زخمی ہوئے۔ پولیس کے کرنل نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ایتوار کی رات ساڑھے نو بجے جیلوں پر مارٹروں سے حملہ کردیا۔ جیلوں کے بڑے دروازوں کے پاس 4 کاربم لگا کر کھڑی کی گئی تھیں جبکہ تاجی جیل پر تین فدائی حملے ہوئے۔جیل کے پاس سڑک کے کنارے پانچ بم برآمد ہوئے۔ پوری رات چلی مڈبھیڑ میں سکیورٹی فورس نے ہیلی کاپٹروں اور فوجیوں کا بھی استعمال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے فدائی حملوں سے مغربی جانب واقع جیل کے دروازے کوپہلے دھماکوں سامان سے لدی گاڑیوں سے اڑاگیا۔ پھر وہ جیل کے احاطے کی سکیورٹی توڑ کر اندرگھس گئے اور مارٹراور راکٹ اور دستی بموں کی مددسے جیل سکیورٹی ملازمین کو قتل کردیا گیا۔ ان کے ساتھ آئے دوسرے دہشت گردوں نے بڑی سڑک پر مورچہ جما لیا اور بغداد سے روانہ کئے گئے سکیورٹی ملازمین کو جیل تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس درمیان دھماکوں سامان سے لیس جیکٹ پہنے کئی آتنکی جیل کے اندرگھس گئے اور اپنے ساتھیوں کو چھڑا لے گئے۔ فرار ہوئے قیدیوں میں زیادہ تر القاعدہ کے سینئر ممبر ہیں۔ سنی مسلم دہشت گردوں کے ذریعے جیل توڑنے سے شیعہ قیادت والی عراق کی حکومت کی کرکری ہوئی ہے۔ ایک سکیورٹی افسر نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر ایک ایجنسی کوبتایا کہ یہ سزا یافتہ القاعدہ کے آتنکیوں کو چھوڑانے کے لئے اس تنظیم نے کیا۔ عراق میں شیعہ سرکار اور سنی بندوقیوں میں ہر روز جھڑپیں چل رہی ہیں ، آئے دن دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ صرف اسی مہینے تقریباً600 عراقی مارے جاچکے ہیں۔ رمضان میں بھی روزہ کھولنے کے بعد اکھٹے ہوئے لوگوں اور مسجدوں اور شوقیہ فٹ بال میچوں و بازاروں ،کیفے کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بلا شبہ جیل توڑنا تاریخ میں یہ ایک سب سے بڑا حملہ ہوگا۔ یہ حملہ عراق و افغانستان دونوں پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔ رہا ہوئے شیعہ اور سینئر القاعدہ قیدی امن سے تو بیٹھنے سے رہے۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2013

وجے بہوگنانے کیدارناتھ دھام میں پوجا ارچنا و جل ابھیشیک کیا!

دیش کے مختلف شیو مندروں میں بھگوان شیو کے بھکتوں کا سیلاب امڑنے لگا۔شیو بھکتوں کے حوصلے سے مندرشلوکوں سے گونج رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں کانوڑ یاترا شروع ہوچکی ہے۔پورے ماہ چلنے والی اس یاترا کے لئے مختلف مقامات پر سکیورٹی کا سخت انتظام کیا گیا ہے۔ ہری دوار میں اس ماہ 3 سے5 کروڑ لوگوں کے پہنچنے کا امکان ہے جو وہاں سے گنگا جل لے کر شیو مندر میں چڑھائیں گے۔ دیش کے سبھی12 جوتی لنگوں کے درشن کے لئے بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ کیدارناتھ دھام کا بھلے ہی ابھی شدھی کرن نہیں ہوا، سینکڑوں لاشیں ابھی بھی ملبے کے نیچے دبی ہوں اور ماحول غمگین ہو اور جہاں تہاں آواز سنائی دے رہی ہو لیکن نیتا ہیں کے وہ ساون کے پہلی پیر کو کیدارناتھ دھام پہنچے۔ وزیر اعلی وجے بہوگنا، بھاجپا نیتا اوما بھارتی نے بھگوان کیدارناتھ کی پوجا ارچنا کے ساتھ جوتی لنگم کا جل ابھیشیک کیا۔ کیدارناتھ مندر کمپلیکس میں پڑے ملبے کی صفائی کا کام شروع ہونے کے بعد وزیر اعلی وجے گہوگنا پہنچے۔ ان کے ہمراہ چیف سکریٹری سبھاش کمار ،انجینئرس انڈیا پروجیکٹس لمیٹڈ کے ماہرین کے ساتھ ساتھ وزیراعلی نے مندر کا دورہ کیا۔ ای آئی پی ایل کے 500 لوگوں کی ٹیم مندر سے ملبہ ہٹانے کے کام میں لگی ہوئی ہے۔ ملبے کے نیچے سے لاشیں بھی نکل رہی ہیں۔ ٹیم کو امیدہے جلد ہی اس کی صفائی کراکر یہاں حسب معمول پوجا ارچنا شروع کی جاسکے گی۔ مندر کے آس پاس کم سے کم چھوٹی بڑی عمارتیں تباہ ہیں۔ انہیں ہٹانے اور مرمت کا کام چیلنج بھرا ہے۔ اس سے پہلے سی ایم نے یہ اعلان کیا کے مندر کے 500 میٹر کے دائرے میں کسی بھی طرح کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہاں تباہ ہوئی باقی املاک کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ اور نمبرنگ کی جائے گی تاکہ یہاں دوبارہ بسنے میں لوگوں کو ترجیح دی جاسکے۔ کیدارناتھ میں مندر کا ملبہ ہٹانے کے کام میں تیزی آگئی ہے اور مندر کے گربھ گرہ کو پوری طرح صاف کردیا گیا ہے۔ منڈپ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ اس میں دوچار دن لگ سکتے ہیں۔ کیدارناتھ پہنچے وزیر اعلی وجے بہوگنا نے مندر میں پوجا ارچنا کے بعد صفائی کے کام میں ہاتھ بٹایا۔ انہوں نے کہا مندر کے تقدس کو بنائے رکھتے ہوئے یہاں قدرتی آفت کی زد میں آئے لوگوں کی یاد میں ایک یادگار بنائی جائے گی۔جس پتھر سے مندر کی حفاظت ہوئی وہ پوجنیے ہے۔ اس شیلا کو بچائے رکھنے کے لئے آثار قدیمہ ہند کے حکام نے اسکیم بنانے کو بھی کہا ہے۔ قدرتی آفت کے بعد پہلی بار کیدارناتھ آئے وزیر اعلی نے راحت رسانی کے کام کا بھی جائزہ لیا اور پورے کیدارناتھ علاق میں پینے کے پانی، بجلی سپلائی وغیرہ بحال کرنے کے احکامات دئے۔ وزیر اعلی کی کیدارناتھ یاترا دھام کے پروہتوں کو پسند نہیں آئی۔ سری نواس پوستی جو کیدارناتھ دھام کے بڑے پروہت ہیں نے کہا جب سرکار مندر کے شدھی کرن کی بات کررہی ہے تو پھر وہاں پوجا ارچنا کیسے کردی گئی، یہ غلط ہے۔ وہیں دوسرے پروہت مہیش باگواڑی نے کہا بغیر شدھی کرن کے مندر میں پوجا ارچنا کیسے کی جاسکتی ہے؟ جو کچھ ہوا اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جے بابا کیدارناتھ۔
(انل نریندر)

آئی پی ایل کی طرز پر آئی بی ایل ایک لائق تحسین کوشش!

یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ بھارت میں اب کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں پر بھی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ کرکٹ کے بعد ہاکی کا نمبر آیا ہے اور بیٹ منٹن کا وقت بھی آگیا ہے۔ بیٹ منٹن میں بھی لیگ شروع ہونے کی بات ہورہی ہے۔ آئی پی ایل کی طرز پر ہونے والی بھارتیہ بیٹ منٹن فیڈریشن کی مقبول انڈیا بیٹ منٹن لیگ (آئی بی ایل) کی پیرکو ہوئی نیلامی میں کھلاڑیوں پر جم کر پیسہ برسا۔ سب سے مہنگے غیر ملکی کھلاڑی لی چیونگ وئی رہے جبکہ ہندوستانی کھلاڑیوں میں پیسہ کمانے کے معاملے میں سائنہ نہوال اول رہیں۔ دنیا کے نمبرون کھلاڑی وئی کو ممبئی ماسٹرز سے دگنے سے بھی زیادہ قیمت پر خریدہ گیا۔ قریب80.29 لاکھ روپے میں جبکہ سائنہ کے لئے ان کی گھریلو ٹیم حیدر آبا د نے سب سے زیادہ بولی لگائی اور 71 لاکھ میں وہ بکی۔ حیدر آبادکھلاڑی پی وی سندھو کے لئے لکھنؤ کی اودویریرس نے اچھی رقم لگائی۔ بھارت کے واحد مرد آئیکون کھلاڑی اور مہاراشٹر کھیلوں میں تانبے کا میڈیل جیتنے والے پی کمپے کو بینگلور کی بنگا بیٹس نے قریب45 لاکھ روپے میں خریدہ۔ اس نیلامی میں چھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ چین کا کوئی بھی کھلاڑی اس نیلا می میں شامل نہیں ہوا تھا۔ دو آئیکون کھلاڑی جوالا گٹا اور اشونی پونپا کا کوئی خریدار نہیں ملا جس کے بعد منتظمین کو مجبوراً قانون میں ترمیم کرتے ہوئے بھارت کی اسٹار ڈبلز ماہرین کھلاڑیوں کی بنیاد پر قیمت ویز پرائز آدھاکرنا پڑا۔ دراصل آئی بی ایل میں مہلا ڈبلز میچ نہیں ہونے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے ویز پرائز دینے کو کوئی تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد جوالا کو دہلی اسمیچرز نے قریب18 لاکھ 41 ہزار روپے میں خرید لیاجبکہ پونپا کو پنے پکسن نے قریب14لاکھ 87 ہزار میں خریدہ۔آئی پی ایل کی طرز پر ہونے جارہی آئی بی ایل 14 سے 31 اگست کے درمیان دیش کے 6 الگ الگ شہروں میں کھیلی جائے گی۔ اس لیگ میں کل 6 ٹیمیں ہوں گی۔ ہر ٹیم میں6 دیشی، 4 ودیشی اور ایک جونیئرکھلاڑی ہوگا۔حیدرآباد، بنگلور ،پنے ، دہلی، لکھنؤ کے علاوہ ممبئی کی ٹیمیں آئی بی ایل کے پہلے سیزن میں حصہ لیں گی۔ نیلامی کے بعد دیکھنا ہوگا کہ شائقین میں بیٹ منٹن کے تئیں کتنی دلچسپی بڑھتی ہے،اسی پر منحصر ہوگی اس لیگ کی کامیابی۔ ناظرین کی دلچسپی بڑھانے کے لئے عالمی کھیل کے قواعد میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے۔ دہلی میں کھلاڑیوں کی بولی کے دوران ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا ، اولمپک کانسہ میڈلسٹ گگن نارائن کی موجودی بتاتی ہے کہ منتظمین نے دوسرے کھیلوں کے کھلاڑیوں کے اسٹار کی ویلیو کو بھی استعمال کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔ سنیل گواسکر جیسے کرکٹ اور ساؤتھ انڈیا کے اسٹار ناگ ارجن کا ٹیم کے مالکوں میں شامل ہونا بھی ان کی اسٹار ویلیو کو استعمال کرنے میں شمار ہے۔ دراصل اب ہر کھیل کے اسٹار کھلاڑی کو برانڈ بنا کر مارکیٹ میں پیش کرنے کا رواج شروع ہوچکا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیٹ منٹن کو بڑھاوا دینے میں ثانیہ کا لندن اولمپکس میں میڈل جیتنے نے اہم رول نبھایا۔ اب دیکھنا ہے کہ کرکٹ ، ہاکی کی طرز پر دیش میں بیٹ منٹن کھیل کتنا مقبول ہوسکتا ہے۔ بیشک اس میں وقت لگے گا لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ دیگر کھیلوں میں بھی توجہ بڑھے گی اور ایسے ہی کھلاڑیوں اور کھیل دونوں کو حوصلہ ملے گا۔

 (انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...