Translater

03 ستمبر 2026

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آفس کے مطابق نیپال کی فوج نے اب تک 883 لوگوں کو محفوظ طور پر بچایا ۔لاپتہ لوگوں میں 517 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔نیپال میں چین کے رویہ کو لے کر بھاری ناراضگی ہے اور سوال اٹھنے لگے ہیں بدھوار کو تبت میں بنی بیریئر لیک ٹوٹنے کے بعد چین نے نیپال سے اطلاع شیئر کرنے میں لاپرواہی برتی جس سے نیپالی شہریوں میں ناراضگی پھیل گئ ہے ۔تبت میں 20 لاکھ گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔لیکن الرٹ تب بھیجا گیا جب جھیل پھوٹ چکی تھی ۔شہر رسوا کے چیف ضلع افسر نریندر پریار نے بتایا کہ انہیں جھیل ٹوٹنے کی جانکاری نیپالی میڈیا کے ذریعے سے ملی ۔چین کے وزارت آب نے کوئی اطلاع شیئر نہیں کی ۔جھیل بننے کے بعد اوور فلو شروع ہوا اور شام کو چین نے تبت میں بچاؤ کاروائی شروع کی ۔بدھوار کی صبح 8.40بجے بوٹو کوشی ندی میں آبی سطح کا نمبر بھیجا گیا اسی درمیان تبت میں آیا تیزی سے بہاؤ نیپال میں داخل ہوگیا ۔نیپال کو اس کی جانکاری 16 منٹ بعد اس وقت ملی جب سیلاب تباہی مچانے لگا۔ الزام لگائے جارہے ہیں کہ چین کی جانب سے نیپال میں جان و مال کے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے حالانکہ نیپال میں واقع چینی سفارت خانہ نے الزامات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی خبروں کی تردید کی ۔اس درمیان بین الاقوامی میڈیامیں بھی چین کے رول کو لے کر بحث جاری ہے ۔نیپالی نیوز آؤٹ لیٹس سے لے کرچینی میڈیا نے اس مسئلے کو شائع کیا ہے ۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی میں ہی چین سےگلیشیئر اور پانی کی سطح و دیگر امکانی خطروں کی جانکاری وقت سے پہلے ہی شیئر کرتے ہوئے اپیل کی تھی ۔ان کا خیال ہے سرحد پار سے ملنے والی مسلسل وارننگ کئی زون بچانے میں مدد کر سکتی تھی ۔اس سال 27 مئی کو کاٹھمانڈو میں نیپال اور چین کے ماحولیاتی ماہرین کی میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کرنے اور پہلے وارننگ سسٹم مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔حالانکہ نیپالی حکام کے مطابق میٹنگ کے بعد انہیں چین سے متوقع طور پر گلیشیئر اور آبی سطح سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ۔چینی ورلڈ ویدر سائنس سنٹر  نے قدرتی آفت آنے سے پہلے نیپالی حکام کو ای میل سے 14 اور 19 اگست کے بیچ بھاری بارش اور چٹانیں کھسکنے کا اندیشہ بتایا تھا ۔لیکن نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وارننگ گلیشیئر ٹوٹنے جیسے اشارے نہیں دیتی ۔نیپال کے لوگوں کا کہنا ہے موت کا یہ سیلاب چین سے آیا جہاں گلیشیئر پھٹا وہ حصہ نیپال سے 50 کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔باڑ کے پانی کو نیپال تک پہنچنے میں 30 سے 40 منٹ لگے اگر چین یہ اطلاع وقت رہتے نیپال کو دے دیتا تو ہزاروں لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔لوگوں کو محفوظ مکامات تک پہنچائے جانے کے لئے آدھا گھنٹہ کافی تھا ۔لیکن چین نے یہ اطلاع شیئر نہیں کی ۔پانی کے بہاؤ کا نتیجہ اور پانی کے ساتھ آیا ملبہ اتنا خطرناک تھا کہ راستے میں جو کچھ بھی آیا عمارتیں ، پُل ، سڑکیں سب کچھ بہا کر لے گیا ۔لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے اگر چین کا ڈیم ٹوٹا تو وہاں سے دوسرا فلیش فلڈ آسکتا ہے ۔چین سے بھیجی گئی اس تباہی کو نیپالی کبھی نہیں بھولیں گے ۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آف...