Translater

18 مئی 2020

شراب کے ٹھیکے کھل سکتے ہیں تو مذہبی مقامات کیوں نہیں؟

ہندوستان کی خوبصورتی میں خوبی ہے کہ یہاں الگ الگ مذاہب اور برادریاں ہونے کے باوجود سب آپسی بھائی چارے سے رہتے ہیں۔ مذہبی مقامات سے جب آرتی ، اذان، گربانی، بائبل کی آوازیں آتی ہیں تو ایشور میں عقیدت رکھنے والوں کا حوصلہ مضبوط ہوتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران لوگوں کا حوصلہ گررہا ہے۔ کیونکہ تمام مذہبی عبادت گاہیں بند ہیں۔ اس لئے مذہبی پیشواؤں کا کہنا ہے کہ شراب کے ٹھیکے کھلے ہیں اور ان پر بھیڑ دیکھ کر مذہب میں عقیدت رکھنے والے مذہبی مقامات مندروں ، گردواروں، مساجد اور چرچ کو بند دیکھ کر مایوس ہیں۔ ان پیشواؤں کا کہنا ہے کہ پرارتھنا اور دعاؤں میں اثر ہوتا ہے اور پرارتھنا اور دعائیں ہوں گی تو دیش میں آئی مشکل گھڑی کے بادل بھارت اور دنیا سے ہٹیں گے۔ اکھل بھارتیہ سنت سمیتی اور کالکامندر کے مہنت سریندر ناتھ اودھوت مہاراج کہتے ہیں کہ دھارمک مقامات میں آکر پوجا ارچنا سے شخص میں ایک ایشوریے طاقت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور مثبت سوچ بڑھتی ہے۔ ایسے ہی دلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے منجندر سنگھ سرسا کا خیال ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنی عبادت گاہوں میں آنے سے طاقت اور حوصلہ ملتا ہے اورایسے ہی فتح پوری مسجد کے مفتی مکرم کہتے ہیں کہ کچھ ضروری شرطوں کے ساتھ مذہبی عبادت گاہیں کھلنی 
چاہئے۔ ہم بھی ان سے متفق ہیں ۔ جب شراب کے ٹھیکے کھل سکتے ہیں تو مذہبی مقامات کیوں نہیں؟  (انل نریندر)ر


چین جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے !

کورونا وائرس کے ایشو پر امریکہ مسلسل چین پر حملے کررہا ہے ، اب امریکہ کے قومی سلامتی مشیر رابرٹ ابدرین نے کہا کہ پچھلے 20سال میں یہ چین سے وبا آئی ہے۔ اس سلسلے کو روکا جانا چاہئے ۔ انہوں نے دنیا بھر میں ڈھائی لاکھ لوگوں سے زیادہ جان لینے والی کورونا وبا کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ برین نے کہاکہ دنیا بھر کے لوگ کھڑے ہوں گے اور چین سرکار سے کہیں گے کہ ہم چین سے نکل رہی ان وبا ؤں کو برداشت نہیں کریں گے چاہے وہ جانور بازاروں سے یا پھر وہان کی لیب سے نکلی ہے۔ لیکن ثبوت بتاتے ہیں یہ لیباریٹری پشو بازار سے نکلی ہے۔ امریکہ کے نو با اثر ممبران پارلیمنٹ کے گروپ نے ایک بل پیش کیا ہے اس بل میں کہاگیا ہے کہ اگر چین کورونا وائرس انفیکشن پھیلنے کی وجوہات کی معلومات دستیاب نہیں کراتا اور اسے قابو کرنے میں تعاون نہیں دیتا تو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو چین پر پابندی لگانے کی منظوری دی جانی چاہئے۔ صدر 60دن میں کانگریس میں یہ ثابت کریں گے کہ چین نے امریکہ اور اس کے ساتھیوں یا عالمی صحت تنظیم وغیرہ سے جیسی اقوام متحدہ سے وابستہ تنظیموں کی قیادت والی کووڈ 19سے متعلق جانچ کے لئے پوری جانکاری مہیاکرائے۔ اس درمیان امریکی نیوز ویب سائٹ فارن پالیسی کے ہاتھ چونکانے والے دستاویز ہاتھ لگے ہیں۔ لیک ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کے سبب چھ لاکھ چالیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس وائرس نے دوسوتیس شہروں کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ چینی فوج کی انجینئرنگ اکیڈمی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی سے لیک ہوئے ڈاٹا میں اسپتالوں کے ساتھ متاثروں سے ملنے والے مقامات جیسے ہوٹل ، سوپر مارکیٹ، ریلوے اسٹیشن اور اسکولوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اس ڈاٹا میں اس کی جانکاری نہیںہے کہ وائرس سے متاثر مریض ٹھیک ہوا یا اس کی موت ہوگئی جبکہ چین دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کے دیش میں صرف ہوڈ ہی ایک صوبہ جو وائرس سے متاثر نہیں ہے۔ دیش میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 83ہزار سے زیادہ پہنچی ہے۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق چھ لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ ہے۔ پچھلے 20سال میں جو پانچ وبائیں آئی ہیں وہ ہیں۔ سارس ، ایویمن ، فلو، سوائن فلو اور اب کووڈ 19برین نے پانچویں بیماری کا نام نہیں بتایا ہے۔ ایسا ثابت ہوتا ہے کہ کووڈ 19کو لے کر ہمیشہ جھوٹ بولتا آرہا ہے اور اس کی دھیرے دھیرے پول کھل رہی ہے۔ 
(انل نریندر)

گھر لوٹ رہے مزدوروں کی موت کا ذمہ دار کون؟

اپنے گھروں کو لوٹ رہے مزدوروں کے ساتھ روزانہ حادثے ہورہے ہیں اب تک 139مزدوروں کی موت ہوچکی ہے۔ مختلف حادثوںمیں یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ حادثہ اترپردیش کے اوریا میں ڈی سی ایم اور ٹرک کی ٹکر کی شکل میں ہوا ۔ جس میں اب تک 26پرواسی مزدوروں کی موت ہوچکی ہے۔ ادھر مدھیہ پردیش کے ساگر میں ٹرک پلٹنے سے 8مزدوروں کی جان چلی گئی۔ اوریا میں حادثہ کتنا خطرناک تھا کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہائی وے پر ڈی سی ایم گاڑی کھڑی تھی تبھی ٹرک ڈرائیور چائے پینے کے لئے رکا تھا، تبھی ٹرک نے ٹکر ماردی۔ بنگال کے باشندے گڈو نے بتایا کہ کھانے کی پریشانی ہونے لگی تھی تبھی مزدوروں نے گھر لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ صبح شاید تین بجے طے ہوا کہ آگے جو ڈھابہ ملے گا وہاں رک کر روٹیاں لے لیں گے ، کچھ ڈھابے پر اترے باقی لوگ ڈی سی ایم منی ٹرک میں سوئے ہوئے تھے تبھی سے پیچھے سے ایک زور دار ٹکر ماری گئی۔ گاڑی میں سے اچھل کر دور جاگرے۔ کچھ اس کے نیچے دب گئے لوگ مدد کے لئے چلا رہے تھے لیکن رات کے اندھیرے میں کوئی سننے والا نہیں تھا۔ ڈھابہ پر محفوظ لوگوں کو باہر نکال رہے تھے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ جانچ میں ٹرولا کے ڈرائیور کے نیند میں آنے سے حادثہ ہوگیا۔ پولیس کے مطابق اگر صبح ہونے سے پہلے وہ جاگ جاتے تو زندگی اور موت کے بیچ فاصلہ کم ہوتا اور مزدوروں کی واپسی کے لئے مناسب انتظامات بھی ہوتے۔ اس خطرناک حادثے میں ان کی جان بچ سکتی تھی۔ قاعدے سے تو مرکز اور ریاستی حکومتوں کو تبھی ہوشیار ہوجانا چاہئے تھا جب مہاراشٹر میں ٹرین کی پٹریوں پر سورہے مزدور مال گاڑی سے کٹ مرے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ، محض خانہ پری کی ہمدردی جتاکر مالی مدد دینے کا اعلان ہوگیا ۔ نتیجہ یہ ہوا مزدوروں کے پیدل یا سائیکل سے جانے کا معاملہ تیز ہوگیا جو شرمک ٹرینیں چل رہی ہیں وہ ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ یہ صاف ہے کہ مزدور اپنے گھر لوٹنا چاہ رہے ہیں لیکن حکومت ٹرینوں کی سہولت نہیں دے پارہی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ نہ تو پیدل جانے والے مجبورمزدوروں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی ٹھیک ڈھنگ سے گھر بھیجنے کا انتظام کیاجارہا ہے بلکہ ان پر سرکاریں لاٹھیاں برسارہی ہیں۔ چاہے مرکزی سرکار ہو یا ریاستی حکومتیں ہوں کوئی بہتر انتظام نہیں ہے۔ آج پورے دیش کی سڑکوں پر لاکھوں مزدور گھروں کو پیدل چل پڑے ہیں ۔ ریاستوں کو اپنی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا اور تال میل قائم ہو تاکہ اس قسم کے حادثے سے بچا جاسکے۔ 
(انل نریندر)

17 مئی 2020

وجے مالیہ کو وطن لانے کا راستہ صاف

بھگوڑے کاروباری وجے مالیہ کا کھیل ختم ہونے والا ہے ۔قانونی داو ¿ پیج کے چلتے وجے مالیہ بھارت حوالگی سے اب تک کوئی نا کوئی قانونی جگا ڑ لگا کر بچتا رہا ہے لیکن اب اس کی قانونی متبادل ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔وجے مالیہ کو بھارت کو سونپے جانے کے خلاف عرضی کو برطانیہ کی سپریم کور ٹ نے خارج کر دیا ہے اب برطانیہ میں اس کے تمام جو قانونی پہلو تھے وہ ختم ہو چکے ہیں اب اس کو 28دنوں میں بھارت کو سونپا جا سکتا ہے حالانکہ اس پر قطعی فیصلہ برطانیہ کے وزیر داخلہ پرتی پٹیل کو کرنا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق کورٹ سے ملے جھٹکے کے بعد مالیہ اب یوپروپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں درخواست دے سکتا ہے اگر ایساہو سکتا ہے تو اس کے فیصلے تک بھارت کو روانگی لٹک سکتی ہے ۔واضح ہو کہ مالیہ پر الزام ہے کہ اس نے ہندوستانی بینکوں سے دس ہزار کروڑ روپئے کا قرض لیا اور بنا واپس کئے بنا بھارت سے فرار ہو گیا ۔اس پر بھارت نے جعل سازی اور منی لانڈرنگ کے مقدمہ درج ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے مالیہ نے کورونا سنکٹ پر مالی راحت پیکج کے اعلان کے لئے وزیراعظم کو بدھائی دی اور سرکار کا قرض سرکار کو قرض واپس کرنے کی بات بھی کہی تھی انہوں نے کہا انہیں میرے جیسے چھوٹے سے تعاون کنندہ کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے ۔جو اسٹیٹ بینک کا سارا پیسہ لوٹانا چاہتا ہے ۔مجھ سے یہ پیسہ بنا شرط لے لیجئے اور میرا معاملہ ختم کیجئے ۔وجے مالیہ پہلے بھی قرض چکانے کی بات کرتا رہا ہے اور درخواست بھی کی جس کو مودی سرکار نطر انداز کررہی ہے اب دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ برطانیہ کی طرف سے اس کی درخواست خارج ہونے پر اس کی ہوالگی کب ہوگی ۔
(انل نریندر)

کیجریوال کی اپیل پر 5لاکھ لوگوں نے دی رائے

راجدھانی کے لوگوں سے 17مئی کے بعد لا ک ڈاو ¿ن4-کے خاکے پر وزیر اعلیٰ کیجریوال نے رائے مانگی تھی اس کے 24گھنٹے کے اندر 5لاکھ 48ہزار لوگوں نے اپنی اپنی رائے رکھی اس کے علاوہ 4لاکھ 76ہزار واٹس ایپ پر اور ای میل دس ہزار سات سو اور فون پر انتالیس ہزار اور چنج اوور جی پر بائیس ہزار سات سو ملی تجاویز شامل ہیں اب سرکار نے ان تجاویز پر ماہرین سے رائے لے کر دہلی سرکار نے ایک پرستاو بنا کر مرکزی حکومت کو 15مئی کو بھیج دیا انہوں نے یہ اعلان ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں کیا تھا ۔دہلی کے لو گ کن کن سیکٹروں میں کتنی نرمی چاہتے ہیں اس پر انہوں نے 13مئی کی شام 5بجے تک اپنی تجاویز بھیجنے کا ٹائم مقرر کیا تھا اس کے بعد لوگوں نے اپنی اپنی رائے رکھی تھی زیادہ تر لوگوں کی رائے تھی مارکیٹ پارک اور پبلک مقامات پر ڈبلیو ایچ او سے منظور سیناٹائزیشن ٹرنل قائم کریں اس کے علاوہ ورک فرام ہوم اور 50فیصد ملازمین کے لئے آڈ ایون کے حساب سے چھوٹ دی جائے ۔مال اور شاپنگ کمپلیکس کو آڈ ایونگ رجسٹریشن و سینی ٹائزیشن پروٹوکول کے حساب سے کھولنا چاہیے ۔ایسے ہی بازاروں میں ایک دن چھوڑ کر ایک دن کھولنے کی چھوٹ ہونی چاہیے اور رہائشی علاقوں میں حالات ٹھیک ناہونے تک تعمیراتی کاموں کی چھوٹ نا دی جائے ۔کوچنگ کلاسوں میں آن لائن کلاسز کی چھوٹ دی جائے ۔جم ،اسپا ،سیلون ،لگزری سامان اور تفریقی چھوٹ نا ہو اور ریستورانت میں بیٹھ کر کھانا کھانے اور بیٹھ کر کھانے کی منائی ہو زیادہ تر لوگوں نے ٹرانسپورٹ ،بجنس ،اسکول ،کالج انڈسٹری کو پٹری پر لانے کی مشورے دئیے ہیں لوگوں نے میٹرو بس ،ٹیکسی چلانے پر بھی رائے دی ہے اس کے علاوہ معیشت کو بحال کرنے کے لئے چھوٹی اور بڑے کارخانوں وغیرہ پر بھی کئی اہم مشورے دئیے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ آج آنے والا لاک ڈاو ¿ن 4-کا خاکہ کیا ہوگا ۔
(انل نریندر)

دوسرے شہر میں بھوکے مرنے سے اچھاہے اپنے گھر چل دیں

کورونا وائرس وبا کے درمیان دیش میں لاک ڈاو ¿ن نافذ ہے اور اس کی سب سے بڑی مار دیش کے کروڑوں مزدوروں پرپڑرہی ہے ۔لاک ڈاو ¿ن کا وقت بڑھتا دیکھ کر پرواسی مزدوروں کاصبر جواب دے گیا ہے وہ اب بس کسی طرح اپنے گاو ¿ں گھر پہونچنا چاہتے ہیں اس کے لئے سفرسہولت کی کمی کی پرواہ کئے بغیرکئی سوکلو میٹر پیدل چلنے کے لئے بھی تیار ہیں ۔کام بند ہونے اور پیسہ ختم ہونے سے دووقت کی روٹی اور مکان کا چڑھتا کرایہ انہیں شہر چھوڑنے پر مجبور کررہا ہے اسیے میں اب وہ کسی طر ح اپنے گھرجانا چاہتے ہیں ایک شخص گڈو پرساد اپنے کنبے اور گورکھپور جانے والے تقریباً نو ساتھیوں کے ساتھ دہلی کے آنند وہار بس اڈے پررکے تھے انہیں لگ رہا تھا کہ یہاں سے آگے جانے کے لئے کوئی بس وغیرہ مل جائےگی کسی سماج سیوی نے ان کے پریوار کو کھانا دے دیا تھا وہ لوگ کھانا کھ ارہے تھے گڈو روہتک سے بدھوار کی صبح 6بجے پیدل چلے تھے ایک بوری و کھانے کا سامان دو بیٹے بیوی کے علاوہ ساتھ میں کچھ مزدور ساتھی بھی تھے وہ روہتک میں مزدوری کاکام کرتے تھے ۔انہوں نے جو کام کیا تھا ٹھیکیدار نے جو کھانا دیاتھا اس کے پیسے کاٹ لئے اب ان کے پاس گزر بسر کے لئے کوئی پیسہ نہیں ہے اس لئے انہوں نے کہا کہ بھوکے مرنے سے تو اچھا ہے اپنے گھر چلے جائیں ۔اس لئے گھر کے لئے نکل پڑے ہیں رکتے ہوئے کسی نا کسی طرح پیدل گورکھپور چلے جائیں گے ایک ایسے ہی مزدور جو مدھیہ پردیش کے کنڈے مہو گاو ¿ں کے باشندے رامو کے چھوٹے بھائی اور ان کی بیوی دھنمنت بائی حیدرآباد میں مزدوری کرتے تھے ۔لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے ٹھیکدار نے کام بند کردیا اور یہ مزدور پریوار روزی روٹی سے محتاج ہو گیا اور وہ بھی اپنی حاملہ بیوی اور دوسال کی بیٹی کے ساتھ پیدل ہی 8سو کلو میٹر پیدل سفر پر نکل پڑے اور پیدل کچھ دور بیٹی کو گود میں رکھا جب بیوی اور بیٹی کی ہمت جواب دینے لگی تو رامو نے بانس سے ہاتھ گاڑی بنائی اور اس پر بیوی کو بٹھا دیا اور ہاتھ سے کھینچتے ہوئے بالا گھاٹ سے چل پڑے اس کے بعد جب وہ بالاگھاٹ کی لانجی سرحد پر پہونچے جہاں وہاں اعلیٰ افسر نتن بھارگو نے انہیں گاڑی سے گھر بھجوایا ایسے ہی ناجانے بہت سے پرواسی مزدوروں کو پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے ممبئی میں تومزدوروں کا تو ایک بار غصہ پھر بھڑک اٹھا ۔ناگواڑا علاقے میں سینکڑوں مزدور سڑکوں پر اتر آئے اور انہیں اپنے گھر یوپی بھیجنے کی مانگ کرنے لگے ایسے ہی گجرات کے کچ علاقے میں بھی مزدوروں کا مقامی انتظامیہ کے خلاف مظاہر ہ ہوا اور روڈ بلا ک کردیا اورپولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا یہی حال صور ت میں ہوا جب ڈھیل دی گئی تو مزدور گھروں کے لئے نکل پڑے اور لاک ڈاو ¿ن 4-میں یہ نرمی اور بڑھ سکتی ہے لیکن پرواسی مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ پتہ نہیں کہ کتنی مزدوری ملے گی اور کتنے دن میں پھر یہاں کورونا کو لیکر ڈر لگتا ہے اس لئے ہم اپنے گاو ¿ں میں ہی رہنا بہت سمجھتے ہیں ۔
(انل نریندر)

16 مئی 2020

دعوے روز لیکن پتہ نہیں کب نصیب ہوگی دوا؟

کورونا وائرس انفکشن کو روکنے کے لئے دنیا بھر کے سائنس داں دوا تیار کرنے کے لئے سخت محنت میں لگے ہیں تاکہ اس وبا کو روکا جا سکتے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے سائنسداں کورونا وائرس کے ٹیکے کی ریسرچ کررہے ہیں وہ معمولی بات نہیں ہے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کسی بھی دوا کی ایجاد میں سالوں لگ جاتے ہیں اور کبھی کبھی دہائیاں بھی لگ جاتی ہیں مثال کے طور پر جس ایبولا ویکسین کو منظوری ملی ہے اس کی تیاری میں 16سال لگ گئے یہ بہت عام بات ہے کہ دو اکی ایجاد کئی مراحل سے ہوکر گزرتی ہے پہلا فیز لو برائٹی میں ہوتا ہے اس کے بعد جانوروں پر تجربہ ہوتا ہے اگر تجربہ کے دوران یہ لگتا ہے کہ دوا کا استعمال ٹھیک ہے تو ریسرچ کی صلاحیت دکھائی دینے لگتی ہے اور اس پر انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے اور ان پر تجربے کی کاروائی تین مرحلوں میں پوری ہوتی ہے پہلے مرحلے میں حصہ لینے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے وہ تندرست ہوتے ہیں دوسرے مرحلے میں تجربے کے لئے حصہ لینے والے لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور کنٹرول گروپ ہوتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دو اکتنی ٹھیک ہے ؟کنٹرول گروپ کا مطلب ایسے گروپ سے ہوتا ہے جو تجربہ میں حصہ لینے والے باقی لوگوں سے الگ رکھے جاتے ہیں تجربہ کے تیسرے مرحلے میں پتہ لگایا جاتا کہ ویکیسن کی خراک کتنی اثر دار ہوگی ۔فی الحال اچھی بات یہ ہے کہ محض تین مہینے کے اندر کوڈ19-کی ویکسین پر کام کررہی 90ریسرچ ٹیموں میں سے 6اس نتیجے پر پہونچ گئی ہیں جسے بہت بڑا پہلو مانا جاتا ہے وہی انسانوں پر تجربہ موڈرن تھیرو پیٹکس ایک امریکی وایو ٹیکنولوجی کمپنی کووڈ کی دوا کی ایجاد کے لئے نئی ریسرچ حکمت عملی پرکام کررہی ہے سائنسدانوں نے لیب میں کورونا وائرس کا جینٹک کوڈ تیار کیا ہے اس کے چھوٹے سے حصے کو شخص کے جسم میں ڈالے جانے کی ضرورت ہوگئی انہیں امید ہے ایسا کرنے سے شخص کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت انفکشن کے خلاف لڑنے کے لئے ایک ایکش کرے گی امریکی کمپنی نئی حکمت عملی پر کام کررہی ہے اس سے ایسی دوا تیار کی جارہی ہے جس سے مریض کے جسم میںانفکشن سے لڑنے کے لئے اینٹی واڈی ڈولپ ہونے کی امید ہے ۔چین میں اس وقت تین ویکسین پروڈکٹ ایسے ہیں جن میں انسانوں پر تجربہ چل رہا ہے ووہان میں بن رہی ہے ایک اور ویکسین چین کے جس تیسری ویکسین پر کام کر رہا ہے اس میں بیکاروائرس کی دوائی دئیے جانے کی تجویز ہے اس پر ووہان کی وایو ٹیکنیکل پروڈکس انسٹی ٹیوٹ میں کام چل رہا ہے ۔برطانیہ کے اکسفورڈ یونیورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ میں میڈوکس 1-ویکسین کی ایجاد پر کام چل رہا ہے ۔13اپریل کو یوروپ میں اس کا پہلا کلینیکل ٹریل شروع ہوگیا ہے بھلے ہی کووڈ19-کی بیماری کا علاج جنگی سطح پر تلاش کیاجارہا ہو لیکن جانکاروں کا کہنا ہے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ان میں سے کوئی ٹیکا اس وائر س کو روکنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں ایک با اثر ویکسین تیار کرنا اسے منظوری ملنا محض پہلا قدم ہوگا اس کے بعد اصلی چنوتی اربوں لوگوں کے لئے اس ویکسین کی پیداوار اورضرورت مند وں تک پہوچانے کی ہوگی۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...