Translater

02 فروری 2016

اومن چانڈی کے گھوٹالے کو لیکر بری پھنسی کانگریس: ادھر کنواں ادھر کھائی

ہماچل پردیش میں کانگریس سرکار کے وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ پر کرپشن کا معاملہ ابھی رکا نہیں تھا کہ کیرل کے ایک اور کانگریسی وزیر اعلی اومن چانڈی پر گھوٹالے کا الزام سامنے آگیا ہے۔ ریاست کے شمسی توانائی گھوٹالے میں وزیر اعلی پر 1 کروڑ90 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام ہے۔ اس معاملے کی اہم ملزمہ سریتا ایس نائر نے چانڈی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے متعلقہ جانچ کمیشن سے کہا ہے کہ وزیر اعلی کو اس نے 1 کروڑ 90 لاکھ روپے کی رشوت دی ہے۔ ملزماں نے تو ریاست کے وزیر توانائی اور سینئر کانگریسی لیڈر آریہ دھن موہاید کو بھی 40 لاکھ روپے رشوت دینے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ دونوں لیڈروں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے لیکن اس سے سارے دیش میں کرپشن کے خلاف ڈنکا بجانے والی کانگریس پارٹی کی کرکری تو ہورہی ہے چانڈی کو اس گھوٹالے میں ہائی کورٹ سے فوری طور پر بھلے ہی راحت مل گئی ہو لیکن حقائق اور ثبوتوں کے آئینے میں انہیں اپنے عہدے پر ایک منٹ بھی بنے رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ بیشک شمسی توانائی گھوٹالے کی دوسری ملزمہ سریتا ایس نائر کی ساکھ کوئی کم دمدار نہیں ہے۔ بیجو رادھا کرشنن کے ساتھ مل کر کروڑوں کا کرپشن کرنے کے بعد وہ اس معاملے میں وہسل بلور کی طرح دکھانا چاہتی ہے لیکن شمسی گھوٹالے کی جانچ کیلئے قائم جسٹس شیوراجن کمیٹی کے سامنے جو چونکانے والے انکشاف کئے ہیں انہیں نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن جیسا کہ چانڈی پہلے کہہ رہے تھے عدالت کے حکم کے بعد بھی انہوں نے یہی دوہرایا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن وہ حقیقت میں قصوروار ہیں یا بے قصور یہ تو جانچ کے بعد ہی طے ہوگا اور اس کا فیصلہ عدالت کرے گی لیکن ایسے کئی اسباب ہیں کہ انہیں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹ جانا چاہئے۔ ایک تو اس لئے کہ یہ اخلاقیت کا تقاضہ ہے دوسرا یہ تقاضہ صرف ان تک محدود نہیں ہے۔ وہ ایک ریاستی حکومت کے سربراہ ہیں اور جب تک وہ کرپشن کے سنگین الزام سے گھرے ہوئے ہیں اس سرکار کی بھی ساکھ کٹہرے میں رہے گی۔ تیسرا دباؤ سے پوری طرح آزاد اور ہر طرح کی غیر جانبدارانہ جانچ یقینی بنانے کے مقصد سے بھی چانڈی کا وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹ جانا ٹھیک ہوگا۔ کانگریس پارٹی کے بڑے نیتا مانتے ہیں کہ چانڈی کے خلاف کیس درج کرنے کے کورٹ کے حکم سے پارٹی کیلئے ڈبل پریشانی کھڑی ہوگئی ہے۔ پارٹی اگر اس وقت چانڈی کو استعفیٰ دینے کے لئے کہہ دیتی تو اس کا سیدھا مطلب ہوتا کہ غلط کیا ہے اور پارٹی نے ہی انہیں قصوروار مان لیا ہے؟ پارٹی اگر چانڈی کو ہٹنے کے لئے نہیں کہتی ہے تو تین مہینے بعد ہونے جارہے اسمبلی انتخابات میں اسے کافی نقصان جھیلنا پڑ سکتا ہے۔ بری پھنسی کانگریس ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

اور اب دہلی سرکارکی اپنے افسروں سے ٹھنی

دہلی سرکار کی مرکزی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر میونسپل کارپوریشنوں اور دہلی پولیس کے بعد اب اپنے ہی افسروں سے ٹھن گئی ہے۔دہلی سرکار تو لگتا ہے کہ صرف لڑائی اور تنازعوں کی سیاست ہی جانتی ہے۔ اب اس کا افسروں سے تنازع بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت نے اپنے دو اعلی افسروں کو معطل مانتے ہوئے ان کی تنخواہ آدھی کردی ہے تو ریاستی وزیر داخلہ ستندر جین کے ذریعے تنخواہ کی جگہ گزارہ بھتہ دینے کے احکامات سے دونوں معطل افسروں نے کرارا جواب دیا ہے۔ دہلی کے وزیر داخلہ ستیندر جین نے جن سکریٹریوں کو معطل کیا تھا ، انہوں نے اپنے حق کو لیکر پہلی بار وزیر پر پلٹ وار کرتے ہوئے تنخواہ کٹوتی اور معطلی کے حکم کو غلط ٹھہرایا۔ معطل کئے گئے اسپیشل سکریٹری یشپال گرگ اور سبھاش چندر وزیر کے فیصلے کو بے وجہ بتا رہے ہیں۔ 27 جنوری کو وزیر کے ذریعے جاری اس حکم میں لکھا ہے کہ اسپیشل ہوم سکریٹری یشپال گرگ اور سبھاش چندر معطل ہیں۔ لہٰذا چھٹی پر رہنے کے دوران سرکاری ملازم کو صرف گزارہ بھتہ ملنے کا ہی حق ہے ۔ معطل کے دوران چھٹی میں تنخواہ 50 فیصدی اور مہنگائی بھتہ ہی معطلی کی واپسی تک دیا جائے گا۔ دونوں ڈینکس افسران کا دوسری طرف کہنا ہے کہ وہ صرف وزارت داخلہ (مرکز) کے ماتحت آتے ہیں۔ وزیر کے حکم کے بعد دونوں ڈینکس افسران نے وزیر پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ معطل نہیں ہیں پھر ان کی سیلری کاٹنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ وہ تو کام پر ہیں۔ ہوم منسٹر ستیندر جین کی طرف سے محکمہ داخلہ کے دونوں اسپیشل سکریٹری یشپال گرگ ، سبھاش چند کی معطلی قائم رکھ کر تنخواہ کاٹنے کے حکم کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے ناجائز قراردیا ہے۔ ایک بار پھر لیفٹیننٹ گورنر اور عام آدمی پارٹی کی سرکار کے درمیان ٹکرار بڑھنا طے ہے۔ چیف سکریٹری کے ۔کے۔ شرما کو بھیجے گئے خط میں لیفٹیننٹ گورنر آفس نے کہا کہ ستیندر جین نے دونوں اسپیشل سکریٹریوں کے گزارہ بھتہ دینے کا جو حکم دیا ہے اس کا کوئی قانونی جواب نہیں ہے کیونکہ ستیندر جین کی طرف سے 20 دسمبر 2015ء کو جاری معطلی کے حکم کو وزارت داخلہ بغیر اختیار کے لاگو کیاگیا فیصلہ قراردے چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف سکریٹری کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جب داخلہ وزارت ستیندر جین کی طرف سے جاری حکم کو 31 دسمبر کو ہی غیر آئینی قرار دے چکی ہے تو ایسے میں ان افسروں کے خلاف اب ایکشن کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ دہلی سرکار کی طرف سے یہ کوشش اعلی افسروں کے پر کترنے کے لئے کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دہلی سرکار زیادہ سے زیادہ تنازعہ پیدا کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ وزیر اعظم، لیفٹیننٹ گورنر، میونسپل کارپوریشنوں و صفائی کرمچاریوں و دہلی پولیس کے خلاف مہم سے یہ صاف ہوجاتا ہے۔
(انل نریند)

31 جنوری 2016

سوال شنی شنگنا پور مندر چبوترے پر خواتین کے داخلہ کا

بھارت کی خواتین میں نئی توانائی دیکھنے کو مل رہی ہے او ر اب بھارت کی خواتین مردوں سے ہر میدان میں برابری کی مانگ کررہی ہیں۔ ہمارے سامنے شنی شنگناپور مندر کے متبرک چبوترے میں پوجا کررہی خواتین کا کیس ہے۔ خواتین کا شنی شنگناپور کے مندر کے چبوترے میں داخلہ پر پابندی صدیوں پرانی ہے۔ ہمارے آئین نے صدیوں سے پہلے سے ہمارے دیش میں خواتین کو مذہب اور درجے میں مساوی اختیارات دئے ہیں لیکن پجاری اس کو ماننے کوتیار نہیں ہیں۔دراصل گذشتہ دنوں یو ماتا برگیڈ کی قریب 400 خواتین نے متبرک چبوترے پر پوجا کیلئے جانے کیلئے پونہ سے احمدنگر کیلئے کوچ کیا تھا لیکن مندر سے 45 کلو میٹر دور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ شنی شنگناپور مندر کا سنچالن ٹرسٹ بورڈ کرتا ہے۔ بورڈ کے وکیل سایا رام بانکر کے مطابق مندر کا سنچالن پبلک ٹرسٹ 1950 کے رول 53 کے تحت ہوتا ہے۔کیونکہ مہاراشٹر کا قانون و انصاف محکمہ وزیر اعلی فڑنویس کے پاس ہے ایسے میں اگر وہ چاہیں تو خصوصی ایکٹ پاس کراکر مندر کے رول کو بدل سکتے ہیں۔ دوسری طرف جیوتش و دوارکا شاردہ پیٹھ کے جگت گورو شنکر آچاریہ سوامی سروپا نند سرسوتی کا کہنا ہے کہ شنی پوجا سے خواتین کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ شنی شنگناپور میں درشن کیلئے خواتین کے درشن کے سلسلے میں کہا کہ خواتین کو سماج میں مساوی حق ملنا چاہئے لیکن شنی کی پوجا کرنے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلی دیویندرفڑنویس نے پونہ میں بدھوار کو آندولن کاری خواتین سے مل کر ان کی مانگوں کی طرفداری کی ہے۔ وزیر اعلی کی پہل کو دیکھتے ہوئے مندر کے ٹرسٹ بورڈ میں آندولن کاریوں سے بات چیت کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ آر ایس ایس کے نیتا ایم جی وید نے بھی کہا کہ مندر میں شنی بھگوان کی پوجا کرنے سے خواتین کو نہیں روکا جانا چاہئے۔ حالانکہ شیو سینا کی خواتین برانچ نے مندر میں خواتین کے پوجا کرنے پر روایتی پابندی کا سمرتھن کیا ہے۔ کانگریسی نیتا سنجے نروپم نے بھی خواتین کے ساتھ ہورہے بھید بھاؤ کو غلط بتایا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جناردن دویدی نے کہا کہ شنی شنگناپور مندر میں خواتین کے پوجا کے حق کے لئے ایک مہلا تنظیم کی پہل کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں پہلے سے ہمارے دیش میں خواتین کوہر میدان میں مساوی درجہ ملا ہوا ہے تو پوجا میں کیوں نہیں؟اگر یہ تنازعہ جلد نہیں سلجھتا تو وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور ان کی بھاجپا سرکار کو اس کا حل نکالنے کے لئے مداخلت کرنا پڑے گی۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ 
(انل نریندر)

اور اب حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلہ کا سوال

ایک طرف جہاں خواتین کے مہاراشٹر کے شنی شنگناپور میں چبوترے پر جانے کے لئے آندولن کررہی ہیں وہیں اب مسلم خواتین نے بھی حاجی علی کی درگاہ میں اجازت کے لئے مظاہرے کرنا شروع کردئے ہیں۔ جمعرات کو خواتین کے کئی گروپوں نے اس معاملے کے ممبئی میں مظاہرے کئے۔مظاہرے میں حصہ لے رہی اسلامی اسٹڈیز کی پروفیسر زینت شوکت علی نے کہا کہ خواتین پر پابندی کوئی مذہب نہیں بلکہ مذہب کے ٹھیکیدار لگاتے ہیں۔ میں اسلام کی جانکاری رکھتی ہوں اور اسلام میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ خواتین کو مزاروں پر جانے سے روکا جائے۔ جب اسلام نے ہمیں ہمارے دائرہ اختیار سے باہر نہیں رکھا تو مرد ہم پر اپنی کیوں چلائیں گے؟ ہندوؤں اور مسلم دونوں طبقوں میں مردوں کی فوقیت قائم ہے۔ خواتین کیساتھ بھید بھاؤ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ آئین نے ہمیں برابری کا درجہ و حق دیا ہے اور اسلام آئین کا پالن کرتا ہے۔ مسلم خواتین کے حق کے لئے لڑنے والی تنظیم حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی کے ساتھ قانونی لڑائی بھی لڑ رہی ہے۔ درگاہ کے ٹرسٹیوں نے ہی یہاں عورتوں کے داخلے پر روک لگا دی تھی۔ وہیں حاجی علی درگاہ ٹرسٹ نے اس بارے میں صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ یہ صوفی سنت کی قبر ہے اس لئے یہاں خواتین کو داخلہ دینا سنگین گناہ ہوگا۔ 
ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ اسلام کے قانون کے مطابق خواتین کو مرد سنتوں کے قریب نہیں جانا چاہئے۔ بھارتیہ مسلم مہلا آندولن نے درگاہ میں خواتین کے داخلہ کے لئے ممبئی ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کی ہے۔ممبئی کے ورلی علاقے میں سمندر کے بیچ واقع مشہور حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلہ کے حق کو لیکر خواتین کا ایک گروپ 2011ء سے قانونی لڑائی لڑتا آرہا ہے۔ حاجی علی درگاہ ٹرسٹ یہ کہہ کر خواتین کو درگاہ کے اندر داخلہ نہیں دیتا کہ کسی مسلم سنت کی درگاہ کے نزدیک خواتین کا جانا گناہ ہوتا ہے۔ اب ایک بار پھر یہ معاملہ اچھلا ہے۔ ایسے وقت جب ہندو خواتین کا ایک گروپ مہاراشٹر کے ہی شنی دیو کے مندر کے چبوترے پر جانے کا حق مانگ رہا ہے۔ دیکھیں کہ مولوی و درگاہ کے افسران اس مسئلے کو کیسے سلجھاتے ہیں۔ ویسے کیونکہ یہ معاملہ ممبئی ہائی کورٹ میں چل رہا ہے ممکن ہے کہ عدالت کوئی فیصلہ دے لیکن اس میں شک ہے کہ ایسے مذہبی معاملوں میں عدالت کسی بھی قسم کی دخل اندازی کرے۔
(انل نریندر)

30 جنوری 2016

کوڑے کا پہاڑبنتی ہماری دہلی

راجدھانی دہلی میں کیجریوال سرکاراور دہلی میونسپل کارپوریشن میں رسہ کشی کے درمیان دہلی کوڑے کا پہاڑ بنتی جارہی ہے۔ جمعرات کو قریب ڈیڑھ لاکھ صفائی ملازمین ہڑتال پر رہے۔ اس سے نہ تو اسکولوں میں پڑھائی ہو پا رہی ہے اور نہ سڑکوں پر صفائی۔ اب ایم سی ڈی ملازمین نے دہلی سرکار کے وزرا کے گھروں کے سامنے کوڑا ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس کی ابتدا جمعرات کو دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے گھر کے باہر کوڑا پھینک کر کی۔ منیش سسودیا ، اروند کیجریوال ہائے ہائے کے نعرے ، بچے مر گئے ہائے ہائے کے نعرے بھی لگائے۔ مودی ۔ بی جے پی ہائے ہائے کے نعرے بھی لگے۔ صفائی کرمچاری، نرس و ٹیچر تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتال پر ہیں۔بڑھتی گندگی کو لیکر دہلی ہائی کورٹ میں بدھوار کو بیحد سخت رخ اختیار کرتے ہوئے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کو پھٹکار لگا کر پوچھا کہ کیا وہ دہلی کو کوڑے کا پہاڑ بنانا چاہتے ہیں؟ ہائی کورٹ نے یہ سخت ریمارکس دہلی میں کوڑا نپٹانے کے لئے لینڈ فل سائٹوں کے انتظام پربھی کی۔ عدالت نے کہا طے پیمانوں کے مطابق لینڈفل سائٹوں کی زیادہ اونچائی 70فٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے جبکہ موجودہ وقت میں جہاں کوڑا اکٹھا کیا جارہا ہے ان جگہوں کی اونچائی 150 سے170 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ تنخواہ نہ ملنے سے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے صفائی ملازمین کی ہڑتال پر بھی ہائی کورٹ نے سخت موقف اپنایا۔ اس معاملے میں مرکز اور دہلی سرکار کے علاوہ تینوں کارپوریشنوں کو نوٹس جاری کیا۔ صفائی ملازمین کی ہڑتال پر عدالت نے پوچھا کہ دہلی سرکار اس بات کا جواب دے کہ ’سوچ بھارت‘ مہم کے تحت مرکز سے ملا پیسہ کہا گیا؟ ہائی کورٹ نے کہا صفائی کے نام پر جب لوگوں سے ٹیکس وصولہ جارہا ہے تو دہلی کو صاف کیوں نہیں رکھا جارہا ہے۔عدالت نے کارپوریشن کے ملازمین کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صفائی نہ ہونے پر کوئی بہانا نہیں چلے گا۔ دراصل دہلی کی عام آدمی حکومت و مرکز کے درمیان آپسی لڑائی کا خمیازہ دہلی کے باشندے بھگت رہے ہیں۔ صفائی ملازمین کی مانگ ہے کہ انہیں تنخواہ کی ادائیگی مہینے کی پہلی تاریخ کو 2003 ء سے ایریئر نہیں دیا گیا، اس کی فوراً ادائیگی ہو۔ اقتصادی بدحالی کو دور کرنے کے لئے تینوں کارپوریشنوں کو ایک کیا جائے۔ دہلی سرکار اور دہلی میونسپل کارپوریشن کے ٹکراؤ میں پچھلے چار مہینے سے تنخواہ کے لئے بری طرح پس رہے کارپوریشن ملازمین نے اب انتظامیہ سے آر پار کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ادھر دہلی سرکار دعوی کررہی ہے کہ ایم سی ڈی کو پوری رقم دی جاچکی ہے۔ اپنا مالی حساب کتاب نہیں دے رہی ہیں۔ تینوں میونسپل کارپوریشن کا 1576 کروڑ روپے ڈی ڈی اے پر پراپرٹی ٹیکس کی شکل میں بقایا ہے اسے کیوں نہیں وصولہ جارہا ہے؟ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود اروند کیجریوال سرکار کارپوریشنوں کو تیسرے مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق 3 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کیوں نہیں کررہی ہے؟ پردیش کانگریس کی چیف ترجمان شرمشٹھا مکرجی نے کہا کہ دہلی سرکار اپنی پبلسٹی اور ممبران اسمبلی کی تنخواہ بڑھانے پر تو خرچ کررہی ہے لیکن کارپوریشنوں کو فنڈ نہیں دے رہی ہے۔ اسی طرح سے مرکزی سرکار نے ’سوچ بھارت مہم‘‘ اور’ یوگ دوس‘ پر کروڑوں روپے خرچ کردئے لیکن کارپوریشنوں کو مالی بحران سے نکالنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔دہل میونسپل کارپوریشن کے مالی بحران سے لیکر تنخواہ کی دقت کی بنیادی وجہ کارپوریشن کا بٹوارہ ہونا تھا۔ سرکار سے الاٹمنٹ و آمدنی تو جوں کے توں رہی لیکن کارپوریشن کے بٹوارے کے بعد ایک ایم سی ڈی کے 105 محکمے بن گئے ہیں۔ ایک محکمے میں 30 کمیٹیوں کی جگہ90 کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ ایم سی ڈی کے تین کمشنر ، ایک درجن سے زائد ایڈیشنل کمشنر، تین میئر ، تین ڈپٹی میئر اور تین لیڈر آف دی ہاؤس اور تین اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور پھر تین وائس چیئرمین کے ساتھ 272 وارڈوں اور کارپوریشنوں کے کونسلر بھی بن گئے۔ تینوں کی ایم سی ڈی میں 75 محکموں کے شعبہ جاتی صدور سے لیکر افسران و ملازمین کی تنخواہ کا بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کارپوریشن کے بٹوارے کے بعد ماہانہ 500 کروڑ روپے خرچ ہونے لگا ہے۔ یونیفائڈ ایم سی ڈی کا بجٹ 6699 کروڑ کا ہوتا تھا وہیں تینوں کو اپنا بڑھا خرچ چلانے کے لئے 2016-17 میں مجوزہ بجٹ 14347.31 کروڑ روپے رکھنا پڑا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پورے مسئلے کو کیسے سلجھایا جائے۔
(انل نریندر)

آخر ہم کیوں نہیں سمجھ پاتے پاکستان کی فطرت

پاکستان سے پتہ نہیں کیوں بھارت کے حکمراں اس بات کی امید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے اشو پر وہ بھارت سے تعاون کریں گے؟ بار بار پاکستان کی طرف سے منفی برتاؤ ہی سامنے آتا ہے۔ ہم بار بار اس بات پر زور ڈالتے ہیں کہ پٹھانکوٹ۔ ممبئی حملوں کے قصوروار پر سخت کارروائی ہو اور پاکستان ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے ان کو ٹال دیتا ہے۔تازہ مثال ہے پاکستان کی ایک عدالت نے اس عرضی کو مسترد کردیا جس میں ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ زکی الرحمان لکھوی اور دیگر مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے مانگے گئے تھے۔ اس سے 26/11 حملوں کی سماعت کو جھٹکا لگا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ سال 2008ء میں ہوئے ممبئی حملے کو لیکر ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں نے مشتبہ اور دہشت گردوں کے درمیان بات چیت ریکارڈ کی تھی۔ اس میں مشتبہ آقا دہشت گردوں کو ہدایت دے رہے ہیں۔ سرکاری فریق اس کی تصدیق کے لئے مشتبہ افراد کی آواز کا سیمپل لینا چاہتا تھا تاکہ اسے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔ عدالت کی دلیل تھی کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ملزمان کی آواز کے سیمپل لینے کی اجازت دے۔وزیر خارجہ سشما سوراج پچھلے مہینے پاکستان گئیں تھیں، تب پاکستان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ26/11 ممبئی حملے کے مقدمے کا نتیجہ جلد نکلے اس کے لئے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ بھارت قدم اٹھائے جانے کی لگاتار مانگ کرتا آرہا ہے۔ تازہ خبر راجستھان کے باڑھ میر علاقے سے آئی ہے پاکستان نے اب ایک نیا سلسلہ غباروں کا شروع کیا ہے۔ راجستھان کے باڑھ میر میں جس غبارے کو انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں نے منگلوار کو مار گرایا تھا وہ پاکستان سے آیا تھا۔ امریکہ میں بنے تین میٹر دائرے والے اس غبارے پر ہیپی برتھ ڈے لکھا تھا جو 25 ہزار فٹ کی اونچائی پر اڑ رہا تھا۔ ممکن ہے کہ پاکستان نے ٹرائل کی شکل میں یہ بیلون حملے کی اسکیم بنائی ہو اور بھارت کو چکمہ دینے کے لئے برتھ ڈے بیلون بھیجا ہو۔ بھارت پٹھانکوٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے چیف مولانا مسعود اظہر اور 26/11 کے ماسٹر مائنڈ جماعت الدعوی کے چیف حافظ سعید پر سخت کارروائی کا مانگ کرتا رہا ہے۔ کارروائی کرنا تو دور رہا حافظ پاک میں پھل پھول رہا ہے اور کھلے عام بھارت کو دھمکا رہا ہے۔ لاہور میں جماعت الدعوی کے ہیڈ کوارٹر میں کچھ دن پہلے ایک مجلس میں حافظ سعید نے بھارت پر نیوکلیائی حملے تک کی دھمکی دے دی۔ ہم دوستی کا ہاتھ جب بھی بڑھاتے ہیں پاکستان کو یہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہمیں تازہ حملہ کر کے کرارا جواب دیتے ہیں۔ پھر بھی نہ ہی ہم انہیں سمجھتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی فطرت کو۔
(انل نریندر)

29 جنوری 2016

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کامیاب دورۂ بھارت

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا سہ روزہ بھارت دورہ کامیاب رہا۔ یوم جمہوریہ پر مہمانی خصوصی کی حیثیت سے جہاں یوم جمہوریہ پریڈ کو دیکھ کر لطف اٹھایاوہیں انہیں ہندوستان کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ لگا۔ پیرس حملے کے بعد اولاند کے اس دورہ کی خاص اہمیت تھی۔ اس بار تو باقاعدہ فرانس کی ایک فوجی ٹکری نے بھی راج پتھ پر پریڈ میں حصہ لیا اور فرانسیسی بینڈ نے بھی پریڈ میں شرکت کی۔ فرانس کے صدر کا یہ دورہ کئی سیکٹرز میں اہم رہا۔ فرانسوا اولاند نے دہشت گردی کے مسئلے پر مودی حکومت کے موقف کی پر زور حمایت کی۔ اسی ماہ کے شروع میں پٹھانکوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کے تار پاکستان سے وابستہ ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اولاند نے کہا فرانس پٹھانکوٹ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو سخت سندیش دیتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے بھارت کی طرف سے اٹھائے گئے قدم پوری طرح سے جائز ہیں، دلائل پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا بھارت اور فرانس پر ایک ہی طرح کا خطرہ ہے ہتیارے حملہ کرتے ہیں، لیکن وہ ایسی حرکت کے لئے مذہبی آڑ لیتے ہیں۔ ان کا اصلی مقصد نفرت پھیلانا ہے۔ اولاند نے کہا کہ ان کے دورہ کے دو مقصد ہیں۔ فرانس 1998ء میں بھارت کے ساتھ اپنی سانجھے داری میں تبدیلی چاہتا تھا مگر یہ اب ممکن ہوپایا ہے۔ دونوں دیش بڑی جمہوریت ہیں اس لئے سانجھے داری کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ دونوں دیش توانائی میں دنیا میں اونچے مقام پر ہوسکتے ہیں۔ بھارت اپنی توانائی کی 40 فیصدی ضرورتیں اپنے ذرائع سے ہی پوری کرے۔ فرانس اس سیکٹر میں اپنی ٹکنالوجی بھارت سے شیئر کرنا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا میں ایک سال میں پانچ بار اولاند سے ملا ہوں اور الگ الگ اسٹیج پر ہوئی ان ملاقاتوں میں کئی اشوز پر بات ہوئی۔ ہماری 125 کروڑ کی آبادی ہے، 2022ء تک 50 لاکھ غریب لوگوں کو گھر دینا ہے۔ ان کاموں میں فرانس ہماری بڑی مدد کرسکتا ہے کیونکہ وہ ٹکنالوجی میں ماہر ہے۔ بھارت کے چیمبرس آف انڈسٹریز (فکی) کے ذریعے منعقدہ ہند۔ فرانس تجارت سیشن میں فرانس کے وزیر مالیات و پبلک اکاؤنٹس مائیکل ساون نے کہا کہ فرانسیسی کمپنیوں نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں یہ کمپنیاں 10 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کریں گی۔ ساون نے کہا کہ بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ فرانس تیسرا بڑا غیر ملکی سرمایہ کار دیش بن گیا ہے۔ یہاں400 سے زیادہ فرانسیسی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ جن کا مشترکہ کاروبار 20 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ایک انتہائی اہم اشو تھا فرانس کے جنگی رافیل جہازوں کا۔ یہ خوشی کی بات ہے 25 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانسیسی صدر اولاند کے درمیان قیمت کو چھوڑ کر جہازوں کی خرید پر رضامندی بن گئی ہے۔ ابھی قیمتوں پر تھوڑا اختلاف ضرور ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یوپی اے عہد کے ٹنڈر کے مطابق 36 رافیل جنگی جہازوں کی قیمت قریب 66 ہزار کروڑ ہوتی ہے اس میں قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے دام کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔ بھارت کی مانگ پر جہاز میں تبدیلی پر ہوئے خرچ بھی اس میں شامل ہیں۔بھارت کی کوشش ہے کہ قیمت گھٹا کر قریب59 ہزار کروڑ کی جائے۔ اس معاملے میں ایک دوسرا اشو ایڈوانس ادائیگی کا بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق کم سے کم 50 فیصدی ایڈوانس رقم دینی ہوگی۔ اس میں 15 فیصدی فوری ادا کرنا ہوگا۔ ابتدا میں فرانس کچھ شرائط کو ماننے پر راضی نہیں تھا لیکن وزیر اعظم مودی نے کافی حد تک رکاوٹیں دور کرلی ہیں۔ کل ملا کر فرانسیسی صدر کا سہ روزہ دورۂ بھارت کامیاب رہا۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...