Translater

23 نومبر 2011

مسلم پرسنل لاء قانون میں اصلاح کی مانگ




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
ملک میں مسلم فیملی قانون میں اصلاح اور مسلم نجی قانون سیکشن میں دئے جانے کی مانگ اب زور پکڑ رہی ہے اس لئے بھارتیہ مسلم مہلا تحریک سے جڑی مسلم مہلا شکشا ، سلامتی، روزگار، قانون و صحت کے اشوز پر بیداری لانے و سیاسی چیتنا قائم کرنے میں لگی ہے۔ اب اترپردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ مسلم مہلا آندولن و پرچیہ سنستھا مشترکہ طور سے خواتین کے درمیان جا کر انہیں بااختیار بننے کی راہ دکھارہی ہے دیش میں مسلم خواتین کی حالت ہمیشہ سے بحث کاموضوع رہی ہے۔ مسلم خواتین کی حالت اور مسلم کنبہ قانون میں اصلاح کے امکان پچھلے کافی عرصہ سے مسلم آندولن وپرچیہ سنستھا چلارہی ہے۔ لکھنؤ ، سہارنپور، مظفر نگر سمیت اترپردیش کے کئی مختلف شہروں میں اس منچ کی طرف سے جو اشوز اٹھائے جارہے ہیں ان میں مسلم مہلا اب کافی دلچسپی لینے لگی ہے اب وہ خود چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی کے فیصلے خاندانی اشو پر انہیں بھی سہارا ملے تاکہ اپنے فیصلے وہ خود کرسکے۔ بھارتیہ مسلم آندولن اب دیش کے پندرہ راجیوں میں سرگرم ہے اس آندولن سے وابستہ نائش حسن نے بتایا کہ وہ اس مسئلے کو ہرجگہ جا کر مسلم خواتین میں بیداری پیدا کررہی ہے۔ اس تحریک کو گاؤں تک لے جایا گیا ہے۔ قومی سطح پر وہ ایم پی پر دباؤ بنانے کے لئے بیداری وسیاسی چیتنا قائم کرنے کاکام کررہا ہے۔ وہ مانتی ہے کہ کوئی بھی سماج پسماندہ نہیں رہناچاہئے۔ آندولن بھارتیہ آئین کے دائرے میں اپنے اختیارات اور ترقی کی مانگ کو آگے بڑھانے میں بھروسہ رکھتا ہے۔ حسن نے بتایا کہ ایک طرفہ بھارتیہ آئین کی دفعہ 14,14,21,26,29,30 اور350اے ہندوستان کے سبھی شہریوں کے لئے یکساں مواقعوں کا اعلان کرتی ہے۔ ایک طرف قانونی برابری کی بات کرتی ہے تووہی دوسری طرف دیکھاجائے تو ان دفعات کو غیرضروری طورپر عمل میں نہیں لایاجارہا ہے۔ کسی بھی مذہب کے نجی قانون خواتین کو سیکورٹی نہیں دیتے جہاں تک مسلم پرسنل لاء کاسوال ہے وہ ایک آئینی عہد بند نہیں ہے۔ یہ قانون عورتوں کو سیکورٹی نہیں دیتا۔ تین طلاق کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں مسلم شادی سیکشن ایکٹ 1939 میں مسلم خواتین کو اختیار تو دیا لیکن مردوں کوایک طرف زبانی تین طلاق کے حق پر پابندی نہیں لگائی۔ جہاں مسلم مرد ثالثی کی کوئی کوشش کئے بغیر اپنی بیوی کو ایک طرفہ طلاق دے سکتا ہے شریعت میں کیا انتظامات کئے گئے ہیں اس سے وابستہ تشریحات کئی بہت سی جانی مانی قانونی ہستیوں نے بھی کی ہے لیکن کوئی آئینی قانون نہیں ہے۔ قانون کی تشریح کب تک قانون نہیں بنتا جب تک اسے پارلیمنٹ پاس نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ صرف 1937,1939 و1986 کے قانون کو پاس کیا ہے۔نائش حسن نے بتایا کہ الجرائز میں خاندانی کورٹ 1984 ، مصرمیں یہ شخصی حالات ( ترمیم )قانون 1985 عراق میں شخصی حالات کا قانون (ترمیم) 1987 میں اردن میں شخصی حالات کاقانون 1976 کویت میں 1984 لیبیا میں بھی 1984 وغیرہ کئی ممالک میں نئی ترمیمات ہوئی ہے۔ لیکن بھارت میں ایسانہیں ہوا۔ ملکی مسلم فرقے اور مسلم خواتین کی خراب حالات کو دور کرنے میں بھروسہ کررہی ہے۔ لیکن مسلم پرسنل لاء پر بحث مسلم سماج کے سبھی طبقے دور بھاگتے ہیں اب دیش میں مسلم پرائیویٹ قانون کی دفعہ بنائے جانے کی ہر سطح پر مانگ اٹھائی جائے گی۔ سرکار مسلم خواتین کے لئے بات نہیں کرناچاہتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

جن چیتنا یاترا کا شاندار اختتام




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
بھاجپا کے سینئر لیڈر شری لال کرشن اڈوانی میں ماننا پڑے گا غضب کا جذبہ ہے۔ اتنی عمر ہونے پر بھی وہ نوجوانوں سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ ایتوار کے روز اڈوانی نے اپنی سات ہزار کلو میٹر 22 ریاستوں،5 مرکزی ریاستوں سے ہوتی ہوئی جن چیتنا یاترا پوری کی۔ دہلی میں ان کاشاندار خیر مقدم ہوا۔رام لیلا میدان یا تو اتنا انا کی تحریک کے وقت بھرا تھا یا پھر جن چیتنا یاترا کے اختتام پر۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اڈوانی جی کا خیر مقدم کرنے کیلئے آئے تھے۔ ایم سی ڈی چناؤ سے پہلے شری اڈوانی کی جن چیتنا یاترا کے اختتام کو راجدھانی کی بھاجپا سیاست میں طاقت کی آزمائش کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور اس پروگرام پر سبھی کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں کیونکہ یہاں کا پیغام دور تک جانا تھا۔ دہلی بھاجپا پردھان وجیندر گپتا نے لگتا ہے کہ ایتوار کو یاترا کے اختتام کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ اس کامیاب پروگرام سے ان کا نجی قد بھی بڑھا ہے۔ بہت کم جذباتی شری اڈوانی یہ کہنے سے اپنے آپ کو نہیں روک پائے کہ دہلی میں اتنا بڑا عوامی سیلاب دیکھ کر میں بہت حیرت زدہ ہوں اور دہلی سرحد سے رام لیلا میدان تک 30 کلو میٹر کے راستے میں جو قابل قدر خیر مقدم ہوا ہے اسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اڈوانی جی کا یہ کہنا اپنے آپ میں کئی معنوں میں اور بھی اہم ہے کیونکہ وہ اس وقت پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور دہلی کے لئے انجام نہیں ہیں۔ ان کی پوزیشن یہاں تک ہے کہ دہلی بھاجپا ہی نہیں منڈل سے لیکر مورچے کے عہدیداران تک کے نام جانتے ہیں۔ کس علاقے میں پوزیشن کیا ہے انہیں آج بھی پتہ ہے۔ اس لئے اگر تیاریوں کو سراہتے ہیں تو وہ صحیح ہیں۔ اڈوانی کی اس طویل یاترا نے تمام دیش میں بھاجپا کے ورکروں کو جگانے میں مدد کی ہے۔ جس طریقے سے دیش کے مختلف حصوں میں جنتا کا سیلاب امڑا ہے مقامی ورکروں اور نیتاؤں نے بہت محنت کی ہے۔ جو لاکھوں ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئے تھے وہ ایک بار پھر سرگرم ہوئے اور سڑکوں پر اتر آئے۔ اڈوانی جی سے میں نے راجستھان کے چورو کے سجان گڑھ ریلی کے بعد پوچھا کہ آپ اتنے ہجوم کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا آج پورے دیش میں اس منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کے خلاف بھاری ناراضگی ہے غصہ ہے۔ اس غصے کو وہ ظاہر کرنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے تاملناڈو، آندھرا پردیش کے فوٹو دکھائے۔ ان ریاستوں میں تو بھاجپا کی زیادہ سے زیادہ سیاسی موجودگی نہیں ہے لیکن یہاں بھی دیکھ کر میں بھی حیران ہوگیا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ سیاسی طور سے اس یاترا کا بھاجپا کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔ تو ان کا کہنا تھا یہ بھیڑ ضروری نہیں ہمیں سب ووٹ دے ، یہ ایک ماحول دکھاتی ہے۔ باقی چناؤ میں ابھی وقت ہے ہم کوشش کریں گے کہ چناؤ تک یہ اثر بنا رہے۔ اس یاترا سے بھاجپا کی این ڈی اے اتحادیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش رنگ لاتی نظر آنے لگی ہے۔ اڈوانی اپنی یاترا کے لئے این ڈی اے کی پارٹیوں کو ساتھ لانے میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہے۔ شرد یادو، نتیش کمار، بادل پریوار تو یاترا میں ساتھ ہی تھا۔ ایتوار کو اختتامی ریلی میں جے للتا نے اپنے نمائندے کو بھیج کر سیاسی اشارہ دے دیا ہے۔ دہلی میں اپنی تقریر میں اڈوانی جی نے کہا یہ یاترا ختم ہوئی ہے لیکن کرپشن کے خلاف جنگ پوری نہیں ہوئی ہے۔ دیش کو تسلی ملنے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ صبح جب میں غازی آباد سے چلا تھا تو کہرا تھا جو خوشگوار موسم کے سبب چھٹ بھی گیا لیکن جو کہرا آج بھارت کی سیاست پر دیش کی اب تک کی سب سے کرپٹ سرکار کی وجہ سے چھایا ہوا ہے وہ موسم کے سبب نہیں ہٹے گا بلکہ وہ جن چیتنا اور عوامی ریفرنڈم سے ہی دور ہوگا۔ کرپشن کے معاملے میں گھری مرکزی سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت انہوں نے بھاجپا اتحاد کے سبھی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ این ڈی اے کے سبھی ایم پی لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین کو یہ لکھ کر دیں کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ بھارت کے باہر کسی بھی بینک میں ان کا کوئی ناجائز کھاتا نہیں ہے نہ ہی کوئی ناجائز پیسہ ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ ایک ہفتے کے اندر اس طرح کا خط سونپ دیا جائے۔
ایتوار کو رام لیلا میدان میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے بھی سما باندھ دیا۔ اپنی تقریر میں سشما نے کہا جب پردھان منتری منموہن سنگھ کو کسی بھی معاملے میں کوئی جانکاری نہیں ہے تو وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اور ایسے وزیر اعظم کی رہبری پر ہمیں ملال ہے۔ سبھی معاملوں میں وزیر اعظم اپنے ساتھیوں پر معاملہ ٹال کر بری ہونا چاہتے ہیں۔ گھوٹالہ ہونے پر وہ کہتے ہیں کہ راجہ سے پوچھو اور مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار سے پوچھو۔ جب وزیر اعظم کو کچھ پتہ ہی نہیں تو آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ سشما سوراج نے کہا میں نے لوک سبھا میں وزیر اعظم سے ایک نوٹ کے ذریعے سوال کیا تھا کہ ''تو ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔ مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تیری رہبری کا سوال ہے'' اس پر وزیر اعظم نے ایک غیر رسمی شعر کے ذریعے جواب دیا انہوں نے کہا ''لیکن اپنے شعر کا ہی میںآج پردھان نتری کو یہ کہہ کر جواب دیتی ہوں میں بتاؤں کہ قافلہ کیوں لٹا، تیرا رہزنوں سے واسطہ تھااو ر اسی کا ہمیں ملال ہے''۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

22 نومبر 2011

ونود کامبلی کے میچ فکسنگ الزام میں کتنا دم ہے؟




Published On 22th November 2011
انل نریندر
کرکٹ میں میچ فکسنگ ایک ایسا مکڑ جال ہے جس میں پھنسنے سے نہ تو کھلاڑی بچ پا رہے ہیں اور نہ ہی آئی سی سی اس پر لگام کس رہی ہے۔ سال2002ء میں جب جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہینسی کرونئے سمیت چار ہندوستانی کرکٹروں پر میچ فکسنگ کا الزام لگا تھا تو کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے پر بھی انہیں بین الاقوامی کرکٹ سے ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ کچھ چونکانے والے حقائق ابھر کر سامنے آتے کہ اس سے پہلے ہی کرونئے کی ایک طیارہ حادثے میں پراسرار ڈھنگ سے موت ہوگئی۔میچ فکسنگ میں حال ہی میں تین پاکستانی کرکٹر پھنس گئے اور آج کل وہ انگلینڈ کی جیل میں ہیں۔ اب15 سال بعد ونود کامبلی نے الزام لگایا ہے کہ 1996ء کا ورلڈ کپ سیمی فائنل میچ بھار ت اور سری لنکا کے درمیان تھا وہ فکس تھا۔ کامبلی نے اس وقت کے کپتان محمد اظہر الدین سمیت اس ٹیم کے دیگر بلے بازوں اور منیجر کے اس فکسنگ میں شامل ہونے کی بات کہی ہے۔ کامبلی نے کہا کہ جب اظہر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ساری ٹیم چونک گئی کیونکہ ہم نے فیصلہ کررکھا تھا کہ اگر ہم ٹاس جیتتے ہیں تو ہم پہلے بیٹنگ کریں گے۔ اس ارادے سے ہمارے تین چار بلے بازوں نے پیڈس بھی پہنے ہوئے تھے لیکن اظہر کا یہ فیصلہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا اور ہم جیتا ہوا میچ ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے۔ صرف ونود کامبلی نے ہی نہیں بلکہ اس وقت کے کیوریٹر کلیان مشرا کے بعد اس وقت کے بھارتیہ ٹیم کے منیجر سبرن بنرجی اور سری لنکائی ٹیم کے سابق لوکل منیجر سمیرداس گپتا کے سوال سے شک اور گہرا ہوگیا ہے۔ سمیر داس نے کہا کہ میں نے سری لنکا ٹیم کے ساتھ چار پانچ دن بتائے۔ سری لنکا ٹیم بھی ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنا چاہتی تھی اور انہیں لگا کہ بھارتیہ ٹیم بھی ایسا ہی کرے گی لیکن جب اظہر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو سری لنکائی ٹیم حیران رہ گئی۔ اور اس کے بعد سبھی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب سری لنکا کے جیتنے کا موقعہ اور بڑھ گیا۔ وہیں بنرجی نے کہا کہ یہ بھی اظہر کے فیصلے پر حیران تھے جبکہ کیوریٹر مشراکا کہنا ہے کہ پچ میں کوئی گڑ بڑی نہیں تھی۔ اروند ڈیسلوانے سنچری جبکہ سچن نے یہاں 50 رن بنائے تھے۔ ٹاس کے وقت سنیل گواسکر ، روی شاستری ،ٹانی گریگ بھی پچ پر موجود تھے۔ ٹاس جیتنے کے بعد سنی نے پوچھا کہ کیا ہوا اظہر ۔ اس نے کہا فیلڈنگ اس پر سبھی حیران رہ گئے۔

ونود کامبلی کے بیان کے بعد شک کے دائرے میںآئے محمد اظہر الدین نے اس الزام کو بکواس قراردیا ہے اور کامبلی سے سوال کیا کہ وہ15 سال بعد یہ الزام کیوں لگا رہے ہیں؟ تنازعے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے حکومت ہند کے وزارت کھیل نے اس کی سی بی آئی جانچ کرنے کو کہا لیکن آئی سی سی کے افسر اس کو تیار نہیں۔ وہیں سابق کپتان سورو گانگولی نے اظہر سے خود کو بے داغ ثابت کرنے کو کہا۔ اس سے ایک دن پہلے اظہر الدین نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کامبلی کے اس بیان کو بکواس قراردیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کامبلی کو اپنا منہ بند رکھنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو 15 سال بعد اٹھانے کا کیا مطلب ہے۔ لیکن اظہر شاید بھول گئے کہ1996ء کے ورلڈ کپ کے بعد ہی سال2000ء میں ان پر میچ فکسنگ کا الزام لگا تھا۔ جنوبی افریقہ کے اس وقت کے کپتان ہینسی کرونئے نے جانچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں کا نام لیا تھا۔ اس معاملے میں بی سی سی آئی جانچ کمیٹی کے سربراہ اے مادھون نے ان پر تاحیات پابندی اور اجے جڈیجہ پر چار سال کی پابندی لگائی تھی۔ لیکن 2006ء میں اظہر الدین پر سے پابندی ہٹا لی گئی یہاں تک کہ چمپئن ٹرافی کے دوران انہیں سنمانت بھی کیا گیا۔ یہ معاملہ آج بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔ ونود کامبلی نے روتے روتے یہ بھی کہا کہ اس میچ کے بعد نہ صرف میرا کیریئر ختم ہوگیا بلکہ میرے اوپر کئی الزام لگے۔ کہا گیا کہ اس نے کلائیولوائڈ کو گالیاں دیں۔یہ برابر پارٹیوں میں جاتا تھا اور لیٹ نائٹ آتا تھا۔ آئی سی سی کے چیئرمین شردپوار نے کامبلی کے الزام کو سرے سے خارج کردیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ان الزامات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ سچن اور کامبلی نے ایک ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں داخلہ کیا تھا لیکن کامبلی نے کھیل پر توجہ نہیں دی اگر توجہ دی ہوتی تو آج ہمارے پاس ایک نہیں دو سچن ہوتے۔ وہیں سابق کرکٹر سید کرمانی بولے کہ اگر انہیں معلوم تھا تو 15 سال پہلے کیوں شکایت نہیں کی؟یہ قابل غور سوال ہے کہ کیا واقعی کامبلی کے پاس میچ کو فکس کہنے کی پختہ بنیادہے؟ اب تک کامبلی نے ایک ہی بات کہی ہے کہ کپتان اظہر الدین نے ٹاس جیتنے کے بعد اچانک ٹیم کے فیصلے کو پلٹ دیا لیکن اظہر نے ایسا نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ انہوں نے وہی کیا جو ٹیم میٹنگ میں طے ہوا تھا۔ ٹیم کے کئی ممبران اور منیجر اجیت واڈیکر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس بنیاد پر کامبلی کی دلیل خارج ہوجاتی ہے۔ اگر کامبلی کے پاس شک کی کوئی اوروجہ ہے تو وہ اس طرف صاف اشارہ کیوں نہیں کرتے؟ کامبلی کیوں نہیں بتاتے کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ میچ فکس تھا؟ اگر وہ اتنے سمجھدار ہیں تو انہیں ان لوگوں کے نام کھل کر بتانے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات سچن کے ساتھ شیئرکی تھی کیا؟ ونود کامبلی کچھ برسوں پہلے تک ہمیشہ دعوی کرتے تھے کہ وہ اپنی ہر بات سچن سے بتاتے ہیں لیکن اتنی بڑی بات انہوں نے سچن کو کیوں نہیں بتائی۔ اتنے دنوں تک بی سی سی آئی سے بھی کیوں چھپائی؟ فکسنگ کی جانچ کرنے والی سی بی آئی یا مادھون کمیٹی کے سامنے اسے کیوں نہیں رکھا؟ سال1999ء میں بی سی سی آئی نے اس کی جانچ کی تھی پھر مادھون کمیٹی نے اس کو آگے بڑھایا۔ اس نے ان تمام لوگوں سے بات کی اس میں کرکٹر بھی شامل تھے۔ اس دور کے ہر کرکٹر سے ان دونوں نے اپیل کی تھی کہ اگر انہیں میچ فکسنگ کے بارے میں ذرا سی بھی کچھ بات معلوم ہو تو اسے بتائیں۔ تب کامبلی چپ کیوں بیٹھے رہے؟ جس ٹیم کی کامبلی بات کررہے ہیں اس ٹیم میں سچن تندولکر، سنجے منجریکر، نوجوت سنگھ سدھو، اجے جڈیجہ، نین مونگیا، اظہرالدین، سری ناتھ، انل کمبلے، ونکٹیش پرساد اور آشش کپور شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی کرکٹر کیوں ان کے ساتھ نہیں آرہا ہے؟ سنجے منجریکر نے تو صاف کہہ دیا کہ کامبلی جھوٹ بول رہے ہیں۔ سچن تو ان کے خاص دوست ہیں لیکن وہ بھی ایک باربھی نہیں بولے؟ اس دن ونود کامبلی نے خراب کھیل کیوں دکھایا؟ کامبلی اس دن پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے۔ ان کی امیج ونڈے میں ہٹر کی تھی انہوں نے 29 گیندیں کھیلیں اور 49 منٹ کریز پر رہے۔ایک بھی چوکا نہیں لگایا۔ انہیں کھلنے میں دقت کیوں ہورہی تھی کیا وہ بتائیں گے ؟انہوں نے اتنی خراب بیٹنگ کیوں کی؟ دوسری طرف سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایسی پچ پر جب سبھی مان رہے ہیں کہ بیٹنگ پہلے کرنی چاہئے تھی پھر بھی پہلے بالنگ کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ نشانے کا پیچھا کرتے ہوئے ہندوستان نے محض22 رن پر اپنے6 وکٹ کیسے گنوائے؟ میچ سے پہلے کوچ اجیت واڈیکر سے کوئی ان بن ہوئی تھی اور ہوئی تھی تو کیوں ہوئی۔ واڈیکر ہوٹل چھوڑ کر گھر واپس کیوں جارہے تھے۔ کونسا ایسا ضروری کام آگیا تھا جس کے چلتے میچ سے پہلے پریکٹس روک دی گئی۔ کیا ٹیم میٹنگ میں نوجوت سنگھ سدھو نے پہلے بلے بازی کرنے کی صلاح دی تھی؟ ٹاس کے وقت بھارتیہ اوپنر پیڈس باندھ کر کیوں تیار تھے۔ کل ملاکر معاملے کی جانچ ضروری ہے۔ دونوں طرف سے سوالوں کے جواب آئے بغیر کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے اور معاملے کی گہرائی سے جانچ اس لئے بھی ضروری ہے کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے تو مستقبل میں ایسا کوئی نہ کرسکے۔
Anil Narendra, Azharudding, Cricket Match, Daily Pratap, Match Fixing, Vinod Kamble, Vir Arjun

20 نومبر 2011

نیتاؤں کے دباؤ کے سبب جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بٹّہ



Published On 20th November 2011
انل نریندر
ہماری جانچ ایجنسیوں کی جانب سے مختلف معاملوں میں کی گئی جانچ عدالتوں میں ٹک نہیں پارہی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاستداں جانچ ایجنسیوں کے معاملوں کی جانچ کو متاثر کرتے ہیں؟ سیاستداں دباؤ کے چلتے چاہے وہ دہلی پولیس ہو یا قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے) یا پھر سی بی آئی ہی کیوں نہ ہو۔ پچھلے 15 روز میں کم سے کم چار ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے ان ایجنسیوں کو پھٹکار لگائی ہے۔ اور ان کے جانچ کرنے کے طریقے اور نتیجوں دونوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ پہلا معاملہ مالیگاؤں بم دھماکے کا ہے۔ ایک عدالت نے سال2006ء میں مالیگاؤں بم دھماکے کے معاملے میں9 ملزمان میں سے 7 کورہا کردیا ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ سلمان فارسی، شبیر محمد، زاہد اور فاروق گوئی انصاری کو ممبئی کی آرتھر جیل سے رہا کردیا گیا۔ خانہ پوری ہونے کے بعد ایک دیگر ملزم ابرار احمد کو بھی واچکولہ جیل سے چھوڑاگیا۔ معاملے کے دو دیگر ملزمان آصف خان اور محمد علی کو بھی ضمانت مل گئی لیکن انہیں چھوڑا نہیں گیا کیونکہ وہ 2006ء کے ممبئی ٹرین سلسلہ وار دھماکوں میں بھی ملزم ہیں۔ معاملے کی جانچ کررہی قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے ) نے رہائی کی مخالفت بھی نہیں کی۔ این آئی اے نے دلیل دی کہ مکہ مسجد بم دھماکے معاملے میں گرفتار سوامی اسیمانند کے انکشاف کے بعد اس نے تازہ ثبوتوں کے علاوہ سابقہ کی جانچ ایجنسی اے ٹی ایس اور سی بی آئی کے ذریعے اکٹھے کئے گئے ثبوتوں کا جائزہ لیا تھا۔ این آئی اے نے کہا کہ ''حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد سبھی9 ملزمان کی ضمانت عرضیوں کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنہیں ماضی گذشتہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم بنایا گیا تھا۔''
دوسرا معاملہ سہراب الدین شیخ مد بھیڑ سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ فرضی مد بھیڑ معاملے میں گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے مبینہ کردار پر سی بی آئی کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سی بی آئی نے کئی گمنام دستاویزات کو شاہ کی پھروتی ریکٹ میں مبینہ کردار سے جڑی شکایتوں کے طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے اس قدم کو عدالت نے کسی کو خوش کرنے کا قدم بتایا۔ جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی ڈویژن بنچ نے کہا ''یہ سچائی ہے کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے جو بالکل غلط ہے۔'' سی بی آئی نے امت شاہ کے خلاف ایسی تقریباً 200 شکایتیں پیش کی تھیں جنہیں دیکھنے کے بعد بنچ نے کہا ''آپ نے (سی بی آئی نے) ہم سے کہا ہے کہ پردیش سرکار نے ان شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان دستاویزات پر عدالت کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شکایتیں پوری طرح سے بکواس لگ رہی ہیں۔'' سی بی آئی نے گجرات اور دیگر عدالتوں کی جانب سے شاہ کو ضمانت دئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا ''آپ کو ہمارا سب سے اچھا سراغ رساں مانا جاتا ہے اور اب آپ کو ان خامیوں کا جواب دینا ہوگا۔'' سماعت کے دوران شاہ نے الزام لگایا کہ وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی نے انہیں اس معاملے میں غلط پھنسایا ہے۔ شاہ کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ شاہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ تیسرا کیس بھی سی بی آئی سے متعلق ہے ۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کی سماعت کررہی خصوصی جج اوپی سینی کی عدالت میں عزت مآب جج موصوفہ نے سی بی آئی سے ثبوتوں کو مٹانے کے لگ رہے الزامات پر جانکاری مانگی ہے۔ سی بی آئی کو23 نومبر تک جواب دینا ہے۔ سی بی آئی کو ملزمان نے یہ کہتے ہوئے کہ الزامات طے کرنے کے حکم میں جو غلطیاں اور تضاد ہیں ،غیر جانبدار سماعت کے لئے ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ملزم ونود گوئنکا نے سی بی آئی پر الزام لگایا ہے گواہ کو غیر قانونی طور پر بلا کر ثبوت متاثر کئے جارہے ہیں۔ بدھوار کو گواہی دے رہے ریلائنس افسر اے این سنتھورین نے بتایا تھا کہ اس کے بیان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ گواہ نے دعوی کیا کہ اس نے ہری نائر کے دستخط کی کبھی پہچان نہیں کی تھی۔اس کے باوجود سی بی آئی نے اسے پیش کردیا ہے۔ گوئنکا کے وکیل مجید مینن نے کہا کہ گواہ کی یادداشت تازہ کرنے کے نام پر سی بی آئی کے ذریعے اپنائی گئی کارروائی کے معاملے کو متاثر کرنے کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو حکم دیا جائے کہ یادداشت تازہ کرنے کے نام پر گواہ یا ثبوتوں کو متاثر نہ کرے۔ چوتھا معاملہ ہماری دہلی پولیس سے متعلق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھوار کو صاف کیا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملہ کرپشن نہیں بلکہ محض ایک اسٹنگ آپریشن تھا۔ عدالت نے کہا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ معاملے کے ملزم تینوں ملزمان نے رشوت مانگی یا لی۔ اتنا ہی نہیں اگر وہ رشوت لیتے تو چپ چاپ لیتے نہ کہ ٹی وی چینل کے سامنے لے کر اسے اس طرح سے پارلیمنٹ میں پیش کرتے۔ وہیں ہماری پارلیمنٹ بالاتر ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے بھی ثبوت نہ ہونے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے یہ رائے زنی بھاجپا کے موجودہ ایم پی اشوک ارگل اور دو سابق ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگورا سمیت سبھی چھ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کی تھی۔جسٹس ایم ایل مہتہ نے اپنے فیصلے میں کہا ایف آئی آر اور چارج شیٹ کا جائزہ لینے سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ ممبران پارلیمنٹ و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس کے علاوہ سی ایف ایس ایل کی رپورٹ سے بھی صاف ہے کہ ٹی وی چینل کی جانب سے اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی و آڈیو میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے کسی بھی ایم پی اور دیگر نے مبینہ طور پر رشوت کی رقم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہیں دوسری طرف بچاؤ فریق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس ممبر پارلیمنٹ و دیگر ملزمان کا مقصد محض کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی ملی بھگت کا پردہ فاش کرنا تھا۔
مندرجہ ذیل معاملوں سے صاف ہے کہ سیاستدانوں کے دباؤ کے سبب ہماری جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بھی دھبہ لگ رہاہے۔ سیاستداں زبردستی اپنے سیاسی مفاد کے لئے جانچ ایجنسیوں پر ناجائز دباؤ ڈلواکر جھوٹے معاملے بنواتے ہیں جو عدالتوں میں جاکر ٹھہر نہیں پاتے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گااور جلد ایک بھی ایجنسی نہیں ہوگی جس کی جانچ پر عوام بھروسہ کرسکے۔
2G, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, CBI, Daily Pratap, delhi Police, NIA, Vir Arjun

دو دھاری تلوار کے درمیان لٹکے آصف زرداری



Published On 20th November 2011
انل نریندر
پاکستان میں عدم استحکام کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف کٹر پسندوں کا بڑھتا دباؤ تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام۔ صدر آصف علی زرداری بہت چیلنج بھرے دور سے گذر رہے ہیں۔ امریکہ۔ بھارت اور مغربی ملکوں کا الگ دباؤ ہے۔ امریکہ کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائک مولن نے آصف زرداری کے ذریعے بھیجی گئے سکریٹ لیٹر کی تصدیق کی ہے۔ بتایا جاتا ہے زرداری نے یہ خط پاکستانی فوج کے ذریعے تختہ پلٹ کے اندیشے میں امریکہ کو بھیج کر مدد مانگی تھی۔ مولن کا کہنا ہے مجھے ایسا میموضرور ملا تھا لیکن میں نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ ادھر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے استعفے کی پیشکش کردی ہے۔ ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے کہ زرداری نے فوجی تختہ پلٹ کے اندیشے سے اوبامہ انتظامیہ کو خفیہ سندیش بھیجا تھا جس میں حقانی کا مبینہ کردار تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پیغام میں زرداری نے پاکستانی فوج کی اس کارروائی کو روکنے کیلئے امریکہ کی مدد مانگی تھی۔ بدھوار دیر رات جنرل اشفاق کیانی آصف زرداری سے دو بار ملے۔ منگلوار کو بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی حال ہی میں زرداری کی ضیافت میں پاکستانی فوج کا کوئی چیف شامل نہیں ہوا تھا اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی کہ حکومت اور فوج کے درمیان رشتے ٹھیک نہیں ہیں۔ بدھوار کی رات صدر کی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے میٹنگ کے بارے میں مفصل جانکاری دینے سے انکار کردیا ۔ محض اتنا کہا تینوں لیڈروں نے دیش کے سلامتی حالات پر تبادلہ خیالات کئے ہیں۔
کٹر پسندوں کی بڑھتی طاقت نہایت خطرناک منصوبوں سے بھی پاکستان حکومت کی تشویشات بڑھ گئی ہیں۔ خبر آئی ہے لشکر طیبہ اب نیوکلیئر جہاد کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس کے لئے اس نے ایک طویل حکمت عملی پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ لشکر کی اسکیم پاکستانی نیوکلیائی ادارے پر جہادی مزاج کی ٹریننگ پائے نیوکلیائی سائنسدانوں کے ذریعے قبضہ کرنے کی ہے۔ اس مقصد کے لئے لشکر اپنے اسکولوں میں اب انگلش کے ساتھ ساتھ سائنس کی تعلیم بھی دلوا رہے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہی لشکر کے ایسے 175 اسکول چل رہے ہیں۔ آتنکواد کے معاملوں کے ماہر آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سینئر فیلو ولسن جان کی تازہ کتاب 'کیلی فیٹس سولجرس:دی لشکر اے تیواز لانگ وار' میں پاکستانی آتنکی تنظیم لشکر کے خطرناک ارادوں کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ولسن جان کے مطابق پاکستانی فوج میں اب جہادی ذہنیت والے زیادہ تر افسر اعلی عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ اسی طرح سے لشکر نے انگلش پڑھے لکھے جہادی طلبا کو پاکستان کے نیوکلیائی اداروں میں بھرتی کرانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی پر عمل شروع کردیا ہے۔ جان کے اس خلاصے سے ساری دنیا کو چوکس ہوجانا چاہئے اور لشکر کے ناپاک منصوبے صرف جموں و کشمیر یا بھارت۔ پاک تک محدود نہیں ہیں یہ پوری دنیا کے لئے القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ بننے جارہا ہے۔ پاک حکومت پتہ نہیں اس عدم استحکام کا کامیاب مقابلہ کیسے کرے گی؟ 
26/11, America, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, USA, Vir Arjun

19 نومبر 2011

پیٹرول کے دام پر سرکاری دلیلوں کا پردہ فاش



Published On 19th November 2011
انل نریندر
محض 15 دن میں پیٹرول کی بڑھی قیمتیں واپس ہونا اگر معجزہ نہیں تو حیرت انگیز ضرور ہے۔ پچھلے33 مہینوں میں یہ صرف دوسرا موقعہ ہے جب پیٹرول کی خوردہ قیمتوں میں کٹوتی کی گئی ہے اور پیٹرو مصنوعات پر آخر کنٹرول کس کا ہے؟ کانگریس پارٹی اس کا پورا فائدہ لینے کے چکر میں ہے۔ کیا اترپردیش میں چناوی مہم کا آغاز کرکے کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو مرکزی سرکار ہر طرح سے حمایت دے رہی ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل کی مہم شروع کرنے کے ایک دن بعد ہی حکومت کو تیل کمپنیوں نے راحت دیتے ہوئے پیٹرول کی خوردہ قیمت میں 2.25 روپے تک کی کٹوتی کردی ہے۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے شاید سرکار نے سوچا ہوگا کہ دباؤ کم کیا جائے پھر پبلک کی ناراضگی بھی سرکار کے لئے بھاری پڑ رہی تھی۔ جنتا کے ساتھ سرکار کی اتحادی پارٹیاں خاص کر ترنمول کانگریس کا دباؤ بھی ایک وجہ ضرور رہی۔سوال یہ ہے کہ آخر پیٹرول کے داموں پر کنٹرول کس کا ہے؟ یوپی اے سرکار سے جب قیمت بڑھانے کی وضاحت مانگی گئی تو اس کے نمائندے کی شکل میں وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ پچھلے سال جون میں ہوئے ڈی ریگولیشن کے بعد پیٹرول کی قیمتیں طے کرنے کا حق پوری طرح سے تیل مارکٹنگ کمپنیوں کے پاس چلا گیا ہے۔ خود وزیر اعظم نے بیرون ملک سے اس بارے میں رائے زنی کی تھی۔ پیٹرول تو پیٹرول ہے آہستہ آہستہ ساری چیزوں کی قیمتیں طے کرنے کا کام بھی پوری طرح سے بازار پر چھوڑنا ان کی حکومت کی ترجیح ہے۔ یہ ہی نہیں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہاں تک کہا تھا کہ بڑھے ہوئے پیٹرول کے دام کم نہیں ہوں گے؟ ایسے میں یہ معجزہ آخر کیسے ہوگیا۔ تیل مارکٹنگ کمپنیاں پیٹرول کے دام حالیہ اضافے کی سطح سے تھوڑا نیچے لانے کو تیار ہوگئیں؟ ان کمپنیوں کے علاوہ اعلی افسروں کا کہنا ہے کہ ایسا انہوں نے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے روپے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔ ان دونوں رجحانات کو غور سے دیکھیں تو لگے گا کہ اس فیصلے کے حق میں اس سے زیادہ لچر دلیل اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ فی الحال پچھلے33 مہینوں میں سب سے نچلی سطح پر چل رہا ہے لہٰذا او ایم سی منیجروں کے لئے اس مورچے پر کچھ کرنے کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔ کچے تیل کی قیمتیں روزانہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں۔لیکن اس بازار کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پچھلے 15 روز میں ہندوستان کے لئے اس کی اوسط قیمت108 سے بڑھ کر110 فی بیرل ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے پیٹرول کی قیمتیں بازار کے کسی رجحان کے تحت نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے چلتے نیچے آئی ہیں اور سرکار نے ایسا کرکے اپنے آپ کو بے نقاب کردیا ہے۔ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی دلیل بے جواز لگتی ہے۔جون2010 میں پیٹرول قیمت ڈی کنٹرول کئے جانے کے بعد سے قیمتوں میں تقریباً 23 روپے کا اضافہ ہوا ہے اس لئے یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہی لگتی ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو پچھلے ڈیڑھ سال میں پیٹرول کی قیمتوں میں 13 بار اضافہ کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چوطرفہ دباؤ کو دیکھتے ہوئے یوپی اے سرکار بوکھلا گئی ہے۔ اس دباؤ کو دیکھ کر کانگریس اعلی کمان اور سرکار نے دیر سے ہی آتم منتھن تو کیا لیکن مہنگائی کے مسئلے پر پہلے ہی پارٹی کی کرکری ہوچکی ہے۔ ایسے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اسے اسمبلی چناؤ میں کہیں نقصان نہ پہنچادے، ان حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکار حرکت میں آگئی ہے اور اس نے پیٹرول کمپنیوں پر قیمت کم کرنے کا دباؤ بنایا۔ ویسے یہ سب ناٹک تھا کیونکہ انڈین آئل کے چیئرمین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر سرکار کہے گی تو ہم قیمتیں کم کرنے کو تیار ہیں۔ کل ملا کر سرکار کی دلیل کی ایک جھٹکے میں ہوا نکل گئی ہے کہ سرکار کا پیٹرو مصنوعات کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ سرکار نے پیٹرول کی قیمتوں میں یہ کمی صرف ووٹروں کو خوش کرنے کے خاطر کی ہے اور چناؤ ختم ہوتے ہی تیل کمپنیوں کو خوش کرنے کے لئے قیمتوں میں دوگنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Petrol Price, Prime Minister, Trinamool congress, UPA, Vir Arjun

ایک غلطی کی اتنی بڑی قیمت؟



Published On 19th November 2011
انل نریندر
ٹائمس ناؤ ٹی وی چینل کو کبھی یہ اندازہ نہ رہا ہوگا ایک چھوٹی سی غلطی کا اتنا بڑا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔ ہوا یوں کہ ٹی وی چینل ٹائمس ناؤ نے ایک خبر کے ساتھ غلطی سے کسی دوسرے جسٹس کے نام کے ساتھ پریس کونسل کے سابق چیئرمین پی بی ساونت کی فوٹو دکھا دی۔ لہٰذاپی بی ساونت نے چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے چینل کو ہدایت دی کہ وہ100 کروڑ کا ہرجانہ ادا کرے۔ 20 کروڑ روپے نقد جمع کرانے اور 80 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی دینے کو کہا گیا ہے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کردیا۔ممبئی ہائی کورٹ کے حالیہ حکم میں ٹائمس ناؤ چینل سے کہا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پی بی ساونت کو100 کروڑ روپے کا ہرجانہ دئے جانے کے نچلی عدالت پر سماعت سے پہلے 20 کروڑ روپے نقد اور 80 کروڑ روپے بینک گارنٹی جمع کرے۔ پریس کونسل کے چیئرمین مارکنڈے کاٹجو نے ٹائمس ناؤ چینل کے معاملے میں ہائی کورٹ اور ممبئی ہائی کورٹ کے احکامات کوسخت قراردیا اور ان پر پھر سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ قومی پریس دوس پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ٹائمس ناؤ چینل کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کے سلسلے میں میرا ایک بیان ہے ان احکامات کے تئیں پورے احترام کے ساتھ میرا خیال ہے کہ وہ غلط ہے اور اس پر دوبارہ غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ چینل کی غلطی کو بھول اور انسانی غلطی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا اس میں کوئی غلط نیت ظاہر نہیں ہوتی اور غلطی تکنیکی گڑ بڑی کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’ہم سبھی انسان ہیں‘‘ اور ہم سب غلطی کرتے ہیں۔ میرے خیال میں مناسب حکم یہ ہوتا کہ ٹی وی چینل کو مستقبل میں ہوشیار رہنے کی سخت وارننگ دے دی جاتی۔ کاٹجو نے کہا ان کا بااحترام نظریہ یہ ہے کہ 100 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا جانا غلطی کے حساب سے بہت زیادہ ہے۔ قانونی کتاب میں تناسب کے اصول اچھی طرح سے واضح ہیں۔ کوی رحیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ایک بار بھگوان وشنو سو رہے تھے تو رشی بھرگو وہاں آئے اور انہوں نے وشنو کے سینے پر زور سے لات ماردی۔ وہ (بھگوان) جاگے اور اس کا جواب دینے کے بجائے انہوں نے بھرگو سے پیار سے پوچھا کہ کہیں ان کے پیر میں چوٹ تو نہیں لگ گئی۔ کاٹجو نے کہا ’’بھگوان وشنو سرو شکتی مان تھے پھر بھی انہوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ میں بھارت میں سبھی ججوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مہان کوی کے دوہے کو یاد رکھیں‘‘۔
ہم جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے نظریات سے متفق ہیں اور ان کی رائے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ ٹائمس ناؤ سے غلطی ہوئی ہے جان بوجھ کر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں ہونی چاہئے تاکہ ادارہ ہی بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ٹائمس ناؤ تو شاید اس جھٹکے کو جھیل جائے لیکن درجنوں چینل ایسے ہوں گے جو اتنا بھاری بھرکم جرمانہ نہیں سہہ پائیں گے۔ کل کواخباروں کا بھی نمبر آسکتا ہے۔ کیا ایک طریقے سے یہ پریس کا گلا گھونٹا تو نہیں ہے؟
Anil Narendra, Bombay High Court, Daily Pratap, Justice Katju, Supreme Court, Times Now, Vir Arjun

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...