Translater

24 اکتوبر 2026

جلتا فرانس!

فرانس میں پچھلے کئی دنوں سے تشدد آمیزآندولن ہورہا ہے۔ دیش بھر میں ہوئے مظاہروں کے دوران 2300 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو نوجوانوں ہیں۔ آندولن میں قریب ایک ہزار سکیورٹی جوان زخمی ہوئے ہیں۔ کئی شہروں میں دوکانوں کی لوٹ پاٹ ،آگزنی، پبلک عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔مہنگائی سے شروع ہوا یہ آندولن قریب چار ہفتے پہلے اس وقت شروع ہوا جب اسکولوں کی بدتر حالت کے خلاف طلبا نے مظاہرے شروع کئے۔یعنی فرانس میں بھی جین زی کے ذریعے آندولن شروع کیا گیابعد میں مہنگائی، ایندھن اور غذائی اجناس کے بڑھتے داموں کے خلاف جنتا کی ناراضگی بھی اس میں جڑ گئی۔سنیچر کے روز قریب پانچ لاکھ لوگ سڑکوں پر اترے تھے۔ اس درمیان مظاہرین نے پیرس کے مشہورلبرو میوزیم کے اینٹری گیٹ کو بند کردیاجس کے چلتے میوزیم نہیں کھل سکا۔ فرانس کے پیرس،مسیم اور لائوچ سمیت کئی شہروں میں رات کے کرفیو سے حالات کچھ نرم پڑے۔رات میں پولیس ہیلی کاپٹر سے گشت کرتی رہی۔ پیرس کے آندولن میںسب سے زیادہ متاثرہ پیرس۔ڈی لاریپبلکن علاقہ میں عملہ کی مددسے لگی مورتی سے پیلی جیکٹ ہٹائی گئی۔اس آندولن میں مظاہرین نے جم کر لوٹ مار کی۔لوئی ویتان، ایپل اسٹور سمیت کئی بین الاقوامی برانڈ کے شوروم لوٹ لئے گئے۔ اس سیاسی بحران سے صدر میکرو نے قریب ایک دہائی پہلے کے سیاسی سسٹم بدلنےاور مالی اصلاحات کو تیزی سے لاگو کرنے اور دیش میں انتظام ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن عہد کے صرف چھ مہینے باقی رہتے، مظاہرین نے انہیں کمزور صدر ثابت کردیا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے تشدد دکھاتا ہے کہ اب سرکاری مشینری کا اثر کتنا کم رہ گیا ہے۔ایک ایسے لیڈر کی لاچاری کھل کر سامنے آئی ہے جو نہ تو جنتا کے غصے کو روک پا رہا ہے ، جس کے پاس خرچ کرنے کے لئے پیسہ نہیں بچا ہے۔سیاسی حمایت کمزور ہوچکی ہےاور قانون و نظام پر گرفت لگاتار ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ فرانس کے بڑھتے تشددکے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر امینول میکرو کی نکتہ چینی کی ہے۔ٹرمپ نے دعوی کیا کہ پیرس جلدہی ایک مسلم شہر بن جائے گا۔انہوں نے فرانس میں جاری تشدد کے لئے مہاجرین کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ میکرو کو کافی پہلے ہی دیش کی سرحدی بند کردینی چاہئے تھیں۔ میں نے ان سے ایسا کرنے کوکہا بھی تھا۔ نیوہسوے سینٹررپورٹ کے مطابق فرانس میں 46 فیصدی لوگ عیسائی ہیں اور قریب43 فیصدی لوگ کسی مذہب کو نہیں مانتے۔مسلم آبادی قریب9 فیصد ہے۔فوکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمیونسٹ، سماجوادی، مسلم، طلبعلم اور فلسطین حمایتی سمیت کئی گروپوں نے  مظاہروں کو بڑھاوا دیا ہے۔رپورٹ کے مطا بق ان 54 انجمنوں نے میں 16 طلبعلم یا نوجوان گروپ ہیں۔باقی میں کٹر پنتھ سیاسی پارٹی مزدور فیڈریشن ،کسان انجم، شہری حقوق گروپ اور بین الاقوامی میڈیا گروپ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ نے مظاہروں میں حصہ لیا جبکہ دیگر نے انٹرنیٹ میڈیا یا نیوز کوریج کے ذریعے آندولن کی حمایت کی۔28 کمیونسٹ، سماجوادی، یوتھ اتحاد12 یوروپی ملکوں میں مظاہروں کی تیاری کررہے ہیں۔ فرانس کے علاوہ اٹلی و دیگر ملکوں میں بھی آندولن ہورہے ہیں۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

جلتا فرانس!

فرانس میں پچھلے کئی دنوں سے تشدد آمیزآندولن ہورہا ہے۔ دیش بھر میں ہوئے مظاہروں کے دوران 2300 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو نوجوانو...