Translater

02 جون 2012

جذباتی جواب دیکر منموہن سنگھ اپنی ذمہ داری ٹال نہیں سکتے


ٹیم انا کے الزامات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا جواب شاید کسی کو تسلی بخش نہ لگے۔ وزیر اعظم کا یہ جذباتی قول کے اگر ان کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرسکتا ہے تو وہ سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ یہ بیان ہمارے گلے سے نہیں اترتا نظر آرہا۔ ہمیں تو وزیر اعظم کا جواب خاص اشو سے ہٹ کر اپنے سارے داغی ساتھیوں کو بچانے کا لگتا ہے۔ ٹیم انا نے وزیر اعظم اور ان کے 15 وزرا کی فہرست جاری کی ہے۔ انہوں نے بس یہ ہی تو کہا ہے کہ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ کو لیکر سی اے جی کی ایک رپورٹ میں کچھ کرپشن کی بو آرہی ہے اور کیونکہ یہ وزارت وزیر اعظم کے ماتحت ہے اس لہٰذا سے وہ ذمہ دار ہیں۔ اگر وزیر اعظم بے قصور ہیں تو وہ جانچ کیوں نہیں کروالیتے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس دیش کے وزیر اعظم بھی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ سانجھہ ذمہ داری کی بنیاد پر سربراہ ہونے کے ناطے وہ اپنی کیبنٹ ساتھیوں کے برتاؤ کے لئے بھی ذمہ دار ہیں۔ ٹیم انا نے ان کی کیبنٹ کے 15 افراد پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ اگر سرکار کا سربراہ اپنی ٹیم کے لئے ذمہ دار نہیں توکون ذمہ دار ہے۔ یہ وقت جذباتی بیان دینے اور خود کو ٹیم انا سے دکھی دکھانے کا نہیں بلکہ دیش کے سامنے وضاحت کرنے کا ہے۔ آپ پچھلے آٹھ برسوں سے وزیر اعظم چلے آرہے ہیں۔ اس دوران آپ گھوٹالوں پر روک لگانے میں ناکام کیوں ہیں؟غبنو گھوٹالوں کا سلسلہ پچ نہیں رہا ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں کی تیاری کے نام پر بے قاعدگیوں کے ساتھ ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ سامنے آیا۔ اس کے بعد تو ایک کے بعد ایک گھپلوں کی لائن سی لگ گئی۔ کبھی 16 آنے ایماندار مانے جانے والے منموہن سنگھ اس سودے میں شامل ہوں گے یہ آج بھی کسی کو یقین آنے والا نہیں لیکن وہ سب کچھ جان بوجھ کر آنکھ بند کئے ہوئے ہیں یا اتحاد کی مجبوری یا پھر صرف راج کرنے کے لالچ میں خاموش ہیں۔ اس بات پر شک ضرور ہونے لگا ہے آخر سربراہ ہونے کے ناطے منموہن جی نے کوئی بھی گھوٹالہ روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی اور یہ جانتے ہوئے گھوٹالے پر گھوٹالہ ہورہا ہے وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے، کا مطلب صاف ہے کہ انہیں نہ تو اس کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ اسے روکنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ تو بس وزیر اعظم بنے رہنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اب اگر وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹ گئے تو اور کوئی دوسرا راستہ ان کے لئے نہیں ہوگا۔ جب تک ممکن ہو کرسی سے چپکے رہو۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچاتے بچاتے خودشکھنڈی کا خطاب دینے والے پرشانت بھوشن کو بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ الٹا جذبات سے بھرے بیانات سے سارے معاملے کو دبانا چاہ رہے ہیں۔ ٹیم انا کے اہم مشیر اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم کسی جانچ کے بغیر اپنے آپ کو پاک صاف کیسے ثابت کررہے ہیں؟ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ معاملے کی جانچ کروالو ۔ لیکن وزیر اعظم کی ذمہ داری سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ اس یو پی اےII- سرکار کی جوابدہی جو نظر نہیں آتی اور نہ ہی وہ ایسا قدم اٹھانے کو تیار ہیں جس سے دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہوجائے۔
(انل نریندر)

عامر کے ’ستیہ مے جیتے ‘ شوسے بوکھلائے ڈاکٹر


عامر خاں کے تازہ ’ستیہ مے جیتے‘ پروگرام سے ڈاکٹر برادری کا بوکھلانا فطری ہے۔ عامر نے وہ کڑوی سچائی دکھائی ہے جو آج کل ہورہی ہے۔ پیسوں کی خاطر زبردستی ٹیسٹ کروانا۔ ضرورت نہ ہونے پر بھی آپریشن کرنا، غلط سرجری کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب دھاندلیاں جاری ہیں۔ ڈاکٹروں کی جوابدہی کچھ بھی نہیں ہے۔ عامر خاں نے اپنے بیحد مقبول پروگرام ’ستیہ مے جیتے‘ میں ڈاکٹر برادری کی دکھتی رکھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ وہ تلملا اٹھے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارا بھی بہت خراب تجربہ ہے۔ ہمیں اپنے والد سورگیہ شری کے ۔نریندر کو مشرقی دہلی کے ایک نامور ہسپتال میں بھرتی کروانا پڑا۔ انہیں زکام کی شکایت تھی جس سے انہیں نمونیہ ہوگیا تھا اور اس کے علاج کے لئے بھرتی کرایا لیکن واپس ان کا مردہ جسم ہی ہسپتال سے لیکر آئے۔ اس چکر میں لاکھوں روپیہ کا بل بن گیا۔ بہت ناراضگی تھی۔ پہلے ہسپتال پر کیس کرنے کی سوچی، پھر ہمیں بتایا گیا کہ ہر بڑا ہسپتال کورٹ معاملوں کے لئے تیار رہتا ہے اور اس کام کے لئے انہوں نے وکیلوں کی فوج بھی رکھی ہوئی ہے۔ جہاں تک ریکارڈ کا سوال ہے وہ اتنا پکا بنا کر رکھتے ہیں کہ عدالت میں اسے غلط ثابت کرنا آسان نہیں ہے۔ ہار کر ہم چپ بیٹھ گئے۔ ہم نے ہسپتال میں دیکھا کہ کس طرح مریض کو بھرتی نہیں کیا جاتا اگر وہ ہزاروں روپے ایڈوانس نہیں دیتا۔ڈاکٹر برادری عامر خاں پر پروگرام کے بعد الٹے الزام لگا رہی ہے۔ ڈاکٹر برادری ان کے پروگرام کو سچائی سے دور مانتی ہے۔ وہ یہ الزام لگا رہی ہے کہ انہیں مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد کی شے ملی ہوئی ہے۔ آزاد اور ڈاکٹروں کی سب سے بڑی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے درمیان طویل عرصے سے جھگڑا چل رہا ہے جو دنیا جانتی ہے۔ ڈاکٹر اتنے غصے میں ہیں کہ عامر خاں پر جوابی حملہ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کے غصے کو دیکھ کر عامر خاں کو یہ اندیشہ لازمی ہے کہ ابھی انہیں کچھ ہوجائے تو اس کا علاج ملنا مشکل ہوجائے گا۔ کبھی بھگوان کا روپ مانے جانے والے ڈاکٹروں کی عام لوگوں میں پہلے ہی سے ساکھ خراب تھی۔ پروگرام کے بعد اپنے لئے شیطان جیسا لفظ انہیں پگھلے سیسے کی طرح لگ رہا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ذرائع کی مانیں تو ان ڈاکٹروں کی برادری کو ویژن پینٹ کرنا اچھا نہیں لگا جس کے اچھے کاموں پر پروگرام میں تالیاں بجی تھیں۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری بنسل کلی ڈاکٹروں کے خلاف طویل عرصے سے چل رہی مہم کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں بھی عامر خاں کے پروگرام پر اعتراض ہے۔ کہتے ہیں کہ عامر اپنے پروگرام ’ستیہ مے جیتے‘ میں جو دکھا رہے ہیں اس کا حقیقت سے دور کا بھی واستہ نہیں۔ انہوں نے اپنی سستی مقبولیت کے لئے صرف ڈگری یافتہ ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دیش میں لوگوں کی جانچ سے ہرسیکنڈ کھلواڑ کررہے جھولہ چھاپہ ڈاکٹروں و ایک دوا کی دوکان میں علاج کررہے کیمسٹوں کو کیوں نہیں بحث کا موضوع بنایا اور انہیں کیوں بخش دیا؟ دیش میں اگر آٹھ لاکھ ڈگری یافتہ ڈاکٹر ہیں تو15 لاکھ فرضی ڈاکٹر ہیں۔ وہ بتائیں کہ ان کی ڈگری کیسے چھنوائیں گے؟ عامر خاں بتائیں کے وہ کسے ڈاکٹر مانتے ہیں؟ کیا یووراج سنگھ کو غلط دوا دینے والے ان کے خود ساختہ فیزیو ڈاکٹر جتند چودھری کو وہ ڈاکٹر مانتے ہیںیا نہیں؟ انل بنسل کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ ڈاکٹر ایمانداری سے اپنا کام کررہے ہیں۔10 فیصد اگر گڑ بڑی کررہے ہیں تو انہیں سزا دینے سے کون روک رہا ہے۔ عامر خاں پہلے لاکھوں نقلی ڈاکٹروں سے دیش کو نجات دلائیں جو لوگوں کے ڈاکٹر کے نام پر لوٹ رہے ہیں ان کی جان بھی لے رہے ہیں۔ ہارٹ کیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کے۔ کے اگروال نے کہا عامر خاں کو ڈاکٹروں کی جگہ سسٹم کو نشانے پر لینا چاہئے تھا انہوں نے سرکار کو کیوں بخش دیا؟ ہیلتھ سروس کو بہتر بنانے میں کیا سرکار کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے؟ ڈاکٹر اگروال بتاتے ہیں کہ میں نے آج10 مریضوں کو جینیٹک دوا لکھی ہے۔ سب واپس آگئے انہیں وہ دوائیں کہیں نہیں ملیں۔ جینیٹک دوا کی دوکانیں سرکار کیوں نہیں کھولتی؟ مجھے تو لگتا ہے کہ پورا ’ستیہ مے جیتے‘ پروگرام ہی ڈاکٹروں کو نشانے پر لینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ابھی تک پروگرام گمراہ کن ہے اور ان چار میں سے تین ڈاکٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
(انل نریندر)

01 جون 2012

لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید


پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)

ریزرویشن کے نام پر اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش


مرکزی سرکار کو یہ معلوم تھا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے اس نے جو کانگریس پارٹی کو اقلیتی ووٹ دلانے کی امید سے اقلیتوں کے لئے جو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیا ہے اسے عدالت منسوخ کرسکتی ہے ۔ لیکن پھر بھی مرکز نے ایسا کیا جیسا کے امید تھی اور ویسا ہی ہوا۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے انکار کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ کے دوران مرکز نے او بی سی کے 27 فیصد کوٹے سے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ریزرویشن سبھی اقلیتی طبقوں کے لئے تھا۔ حالانکہ مانا جارہا تھا کہ اس اعلان کے پیچھے مسلم ووٹ بینک کو لبھانا تھا۔ عین وقت پر کئے گئے اعلان پر چناؤ کمیشن نے اسمبلی چناؤ تک عمل کرنے پر روک لگا دی تھی۔ سرکار نے نتیجہ اعلان ہونے کے ساتھ ہی اس کو نافذ کردیا۔ مرکزی حکومت نے ایک شگوفہ چھوڑا تھا جو اب عدالت نے منسوخ کردیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں بھارت کے آئین میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار کا یوپی اسمبلی سے ٹھیک پہلے اٹھایا گیا یہ قدم مفادی سیاست پر مبنی تھا اور اقلیتوں کو خاص طور سے یوپی کے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش تھی۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ محض مذہبی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہائی کورٹ نے اس اشو پر لاپروائی سے کام کرنے کیلئے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مرکز کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ یہ فیصلہ سچر کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر لیا گیا اور ایسا کرکے اس نے 2009ء کے چناؤ منشور میں درج اپنے وعدے کو پورا کیا ہے۔ باوجود اس سب کے یہ نہیں بتا سکی کہ جو وعدہ 2009 ء میں کیا گیا تھا اسے پورا کرنے میں 2012 ء تک اتنا عرصہ کیوں لگا۔ جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے والا تھا تب یہ کیوں اعلان کیا گیا؟ شاید یہ ہی وجہ رہی ہو کہ چناؤ کمیشن نے چناؤ ہونے تک اس فیصلے پر عمل کیلئے روک لگادی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے اس پر روک لگانے سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ چناوی فائدے کے لئے لیا گیا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔اب سرکار اور کانگریس دونوں اقلیتی ریزرویشن پر ہائی کورٹ کی اس چابک کی مار سے نکلنے کا راستہ تلاشنے میں لگ گئے ہیں۔ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ سرکار آندھرا ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ دلیل یہ دی جائے گی کہ یہ فیصلہ مذہبی نہیں زبان کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔ سرکار اپنی پارٹی کانگریس کو دلاسہ دے رہی ہے کہ سپریم کورٹ میں صحیح سے اپنا موقف رکھنے سے اقلیتی ریزرویشن کا معاملہ سلجھ جائے گا۔ سرکار اپنی ہار کو وکیلوں کے ذریعے ٹھیک طرح سے پیش نہ کرپانے کی وجہ مان رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں پچھڑوں کے لئے کوٹے کے اندر مسلمانوں کے لئے ایک یقینی کوٹے ہی بات رکھنے کی مضبوط دلیل دینی ہوگی۔ ہائی کورٹ چاہے گی کہ سرکار بتائے کہ اقلیتوں کو جو پسماندہ ہیں حقیقت میں کتنے پچھڑے ہوئے ہیں؟ وزیر قانون سلمان خورشید سے جب یہ ہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اٹارنی جنرل کے لئے عدالت کو سمجھانے کی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ سرکار اقلیتی پسماندوں کے لئے الگ سے فہرست نہیں بنانے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا پسماندوں کے لئے ریزرویشن طے کرنے والے منڈل کمیشن نے جو خاکہ دیا سرکار اس کے دائرے کے اندر ہی کورٹ میں بات رکھے گی۔ وزیر قانون نے تسلیم کیاکہ سرکار آئین سے باہر نہیں جارہی ہے۔ سپریم کورٹ اس مسئلے پر کیا رخ اختیار کرتی ہے وقت ہی بتائے گا۔ اس سے انکار نہیں کہ اقلیتوں اور خاص طور پر مسلم سماج کی سماجی، اقتصادی سلامتی کے لئے مزید قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ایسا صرف چناوی فائدے یا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔ مسلم سماج اب سیاسی چال بازیوں میں پھنسنے والا نہیں۔ اس نے دیکھ لیا ہے کہ پچھلی چھ دہائیوں سے ان سیاسی پارٹیوں نے انہیں کیسے گمراہ کر محض ووٹ بینک کی خاطر استعمال کیا ہے۔
(انل نریندر)

31 مئی 2012

مارکسوادی اپنے حریفوں کو مارنے سے بھی نہیں کتراتے


مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اکثر مارکسوادیوں پر الزام لگاتی رہتی ہیں کہ یہ اپنے سیاسی حریفوں کو قتل کرنے تک سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب خود مارکسوادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کیرل کی ایک ریلی میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایسے موقعے آئے تھے جب مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے مخالفین کو قتل کرنے سے کوئی پرہیز نہیں کیا۔ کیرل کے سینئر مارکسوادی لیڈر ایم ایم منی جو مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے اڈوکی ضلع کے سکریٹری ہیں، انہوں نے کاڈوپاجا میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ متنازعہ بیان دیا ہے۔ سنیچر کی رات ایک پبلک ریلی میں کہا کہ پارٹی کی جانب سے اپنے سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کی مثالیں رہی ہیں۔ منی نے یہ بیان اس وقت دیا جب پارٹی کو کوکیورڈ اور کنور ضلع کے کچھ ورکروں کی گرفتاری کے دوران دفاع کی شکل میں آئی ہے۔ ورکروں کو مارکسوادی پارٹی لیڈر ٹی پی چندر شیکھرن کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ منی نے حالانکہ یہ کھلے طور پر یہ وضاحت کرنے کے لئے ریلی بلائی تھی کہ چندر شیکھرن کے قتل میں پارٹی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کا مطلب جسمانی قتل سے نہیں ہے بلکہ تب جھگڑے کے لئے زمین تیار ہوچکی تھی۔ مارکسوادی پارٹی کے ریاستی سکریٹری پنارئی وجین نے کہا کہ منی کی تقریر پارٹی کے نظریئے سے میل نہیں کھاتی اور انہوں نے یہ بات کہہ کر غلطی کی ہے۔ وجین کا کہنا ہے کہ منی کے نظریات پارٹی کے سیاسی نظریئے سے الگ ہیں ان کے بیان پر ریاست میں کانگریس اور بھاجپا نے سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ لیفٹ پارٹیوں کے تشدد پر سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ ایم ایم منی یہ بیان دیکر پھنس گئے ہیں۔ پولیس نے ان کے خلاف قتل اور دیگر معاملوں میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس بیان کے پیش نظر ایڈوکی ضلع میں 1980ء کی دہائی میں سیاسی قتل عام کے پیچھے سی پی آئی ایم کا ہاتھ تھا۔ ریاست کے وزیر داخلہ رادھا کرشن نے کہا کہ سرکار قانون کو اپنا کام کرنے دے گی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اچھوتا نندن نے منی کے تبصرے پر کہا کہ اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔ منی جس وقت ایڈوکی ضلع میں سیاسی قتل عام کا ذکر کررہے تھے اس وقت اچھوتا نندن پارٹی کے ریاستی سکریٹری تھے۔ شری منی نے اپنی پارٹی کے تشدد کے طور طریقوں کا جوخلاصہ کیا ہے وہ سن کر سب کو حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے لیفٹ واد کے خاتمے کی بات کرنے والا لیفٹ اس طرح اپنے مخالفوں کو ہی ختم کرنے میں بھروسہ کرتا ہے۔ یہ معاملہ دراصل مارکسوادی پارٹی کے ایک باغی نیتا ٹی پی چندر شیکھرن کے پچھلے دنوں ہوئے قتل سے وابستہ ہے جس کے سلسلے میں مارکسوادی پارٹی کے کئی ورکر گرفتار کئے گئے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں ہے کہ منی کے سنسنی خیز خلاصے سے کچھ ہی وقت پہلے مغربی بنگال میں مارکسوادی پارٹی کے اس سابق وزیر کو اس لئے گرفتار کیا گیا کیونکہ ان کے گھر کے سامنے ایک جانور کا ڈھانچہ برآمد ہوا تھا۔ کیرل سرکار نے منی کے خلاصے کی بنیاد پر جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ لازمی ہے کہ بند ہوچکے پرانے سبھی معاملے کھل جائیں گے اور کتنے ڈھانچے اور ملیں گے، ہمارے کامریڈ اپنے حریفوں کی آواز کو بند کرنے کے لئے قتل کا ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کریں۔
(انل نریندر)

کانگریس کے ہاتھ سے پھسلتا آندھرا پردیش: گرفتاری کی سیاست


مدھیہ پردیش کے سابق مقبول وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی کے ممبر پارلیمنٹ بیٹے جگموہن ریڈی کی کرپشن کے الزامات میں گرفتاری پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا یہ ہونا ہی تھا۔ جگموہن ریڈی بہت دنوں سے کانگریس لیڈر شپ کی آنکھ کی کرکری بنے ہوئے تھے۔ تین دن کی گہری پوچھ تاچھ کے بعد سی بی آئی نے آمدنی سے زائد اثاثہ کمانے کے الزام میں انہیں گرفتار کرلیا۔ ا س سیپہلے آندھرا ہائی کورٹ نے بھی جگن کو پیشگی ضمانت دینے سے انکارکردیا تھا۔ جگن سے وابستہ کرپشن کے معاملوں میں ریاست کے بہت سے لیڈر، افسر، صنعتکار اور بچولئے پہلے ہی سی بی آئی کے شکنجے میں آچکے تھے اس لئے جگن کی پوچھ تاچھ اور گرفتاری کی پیشگوئی پہلے سے ہی چل رہی تھی۔ بحث تو یہ تھی کہ والد کی کرسی کی طاقت پر راتوں رات ارب پتی بنے اس نوجوان لیڈر کو سی بی آئی پہلے ہی دن سلاخوں کے پیچھے ڈال دے گی لیکن سی بی آئی نے یہ کام تیسرے دن کیا۔ اس تاخیر کے پیچھے کہیں اس نظریئے کو دور کرنا تو نہیں تھا کہ جگن کو سلاخوں میں ڈالنے کے سبب کے پیچھے کرپشن سے زیادہ سیاست چھپی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ راج شیکھر ریڈی کی حادثے میں موت کے بعد بیٹے جگن نے کانگریس کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر حادثے سے موت کے باعد راج شیکھر ریڈی کا انتم سنسکار بھی نہیں ہوا تھا کہ وہاں غم ظاہر کرنے گئے کانگریس کے اعلی نیتاؤں کے آگے جگن نے خود کو والد کی کرسی کا وارث بننے کی خواہش ظاہر کردی۔ پارٹی اعلی کمان کو یہ گوارہ نہیں تھا کیونکہ والد کی طاقت پر وسیع دولت کے مالک بن بیٹھے جگن کے کرپشن کے قصوں سے زیادہ اسے جگن کی آسمانی توقعات کا ڈر تھا۔ یہ جب ہے کہ گرفتاری سے جگن کو ہمدردی کا فائدہ ملنے اور کانگریس کو سیاسی نقصان ہونے کے آثار ظاہر کئے جارہے ہیں۔ اس تضاد کے لئے کسی حد تک خود کانگریس ذمہ دار ہے۔ اس نے کبھی یہ نہیں ظاہر ہونے دیا کہ جگن موہن ریڈی کو ناجائز کمائی اس کیلئے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسے پریشانی تب محسوس ہوئی جب جگن بڑی توقعات کے خواب دیکھنے لگے۔ وہ اپنے والد کے سیاسی جانشین ہونے کا دعوی کر بیٹھے یہ محض اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔ جگن موہن ریڈی کے خلاف سی بی آئی جانچ اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے کانگریس سے الگ ہوکر وائی ایس آر کانگریس کے نام سے الگ پارٹی بنا لی۔ آندھرا پردیش کانگریس کا گڑھ رہا ہے۔ 2004ء اور پچھلے انتخابات میں بھی اسے سب سے زیادہ سیٹیں اسی ریاست سے ملی تھیں لیکن راج شیکھر ریڈی کے مرنے کے بعد ریاست میں جتنے بھی ضمنی چناؤ ہوئے ان سب میں کانگریس کو بری طرح منہ کی کھانی پڑی۔ تلنگانہ میں ٹی ایس آر کی بڑی طاقت اس کے لئے الگ درد سر بنی ہوئی ہے۔ 12 جون کو ریاست میں لوک سبھا کی 1 اور اسمبلی کی 18 سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ضمنی چناؤ میں بھی کانگریس کی جھولی خالی رہ سکتی ہے۔ اگلے لوک سبھا چناؤ میں بھی اب کانگریس وہ امید نہیں کرسکتی۔ اسے پچھلے چناؤ میں کامیابی ملی تھی۔ کل ملاکر کانگریس کے آندھرا پردیش ایک چنوتی بنتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

30 مئی 2012

ڈنر ڈپلومیسی سے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش


جوڑ توڑ کی سیاست میں ماہر کانگریس نے ایک بار پھر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ یوپی اے II- کے تین برس پورے ہونے کے موقعہ پر منعقدہ تقریب میں ملائم سنگھ یادو کو دئے احترام کی فوراًاہمیت بھلے ہی نہ ہو لیکن اس سے کانگریس کی حکمت عملی صاف جھلکتی ملی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ نوجوان راہل گاندھی نے جس سماجوادی پارٹی کا حال میں ہوئے یوپی چناؤ میں چناؤ منشور پھاڑا تھا ،اسی ملائم سنگھ یادو نے صرف یوپی اے سرکار کی کارناموں کی رپورٹ کارڈ ہی جاری کی بلکہ ڈنر ٹیبل پر انہیں سونیا گاندھی نے اپنی ٹیبل پر جگہ دی۔ یوپی اے خاص طور سے کانگریس اور سپا کے رشتوں کو 1999 ء کی نظر سے دیکھنا چاہئے جب ملائم سنگھ یادو نے این ڈی اے سرکار کے ایک ووٹ سے گرنے کے بعد عین موقعہ پر سونیا گاندھی کو حمایت دینے کا خط دینے سے انکار کردیا تھا۔ اگر اس وقت سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں تو اس کی ایک وجہ ملائم کی مخالفت تھی ۔ اس کے بعد2004ء کو دوسرا موڑ آیا۔ جب ملائم اور اترپردیش میں تاریخی جیت حاصل کرنے کے بعد بھی یوپی اے سرکار کے بلاوے کا انتظار کرتے رہ گئے۔ اب یہ تیسرا دور شروع ہوا ہے۔ سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی دوست۔اس لئے ہمیں تعجب نہیں ہوا جس سماجوادی پارٹی کا چناؤ منشور راہل گاندھی نے پھاڑا تھا آج اسی کے چیف کو عزت وہی پارٹی دے رہی ہے۔ کانگریس نے ملائم سنگھ کا اعزاز کرکے سیدھا سندیش ممتا بنرجی کو دینے کی کوشش کی ہے۔ بات بات پر یوپی اے سرکار کو آنکھیں دکھانے والی ممتا کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر وہ کسی بات پر سرکار سے حمایت واپس لیتی ہے تو سپا کی ٹھنڈی چھاؤں میں سرکار کو سہارا مل سکتا ہے۔ ملائم کے سہارے سے کانگریس نے اتحادی پارٹی ترنمول کانگریس کو یہ احساس کرادیا ہے کہ اس نے بات بات پر مرکزی سرکار پر زیادہ دباؤ بنایا تو سپا سرکار کا حصہ بن سکتی ہے۔ مگر اسکے باوجود آج ملائم کا پلڑا بھاری دکھائی پڑتا ہے۔ یوپی اسمبلی چناؤ میں 225 سیٹیں جیتنے کے بعد اگر ان کی پارٹی انہیں پردھان منتری کے عہدے کے دعویدار کے طور پر دیکھ رہی ہے تو اس میں آنے والی سیاست کی کنجی بھی چھپی ہے۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا کہ ملائم سنگھ جیسا سیاست کا ماہر کھلاڑی کانگریسیوں کی چال بازی میں اتنی آسانی سے پھنس جائے گا۔ اترپردیش میں مرکز کی مدد کے لئے یوپی اے کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا ہمیشہ کی مجبوری ہے لیکن اگر وہ یوپی اے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ان کے لئے ایک طرح سے خودکشی کے مترادف ہوسکتا ہے۔ یہ ہی بات ممتا بہن جی پر لاگو ہوتی ہے جن کی قیمت پر ملائم کے ساتھ آنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ ممتا بھی جانتی ہیں کہ آج یوپی میں بنے رہنا ہی ان کے لئے فائدے مند ہے کیونکہ سرکار میں رہ کر مغربی بنگال کے لئے وہ جوابدہ بن سکتی ہیں اور وہ سرکار سے باہر نکلنے پر نہیں بن سکیں گی۔ کانگریس کا ملائم کو اعزاز دینے کے پیچھے ایک اور وجہ یہ ہی ہوسکتی ہے کہ صدارتی چناؤ سر پر ہیں بغیرسپا کی حمایت سے کانگریس اپنا امیدوار چنوانے میں دقت محسوس کرسکتی ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...