Translater

27 جون 2023

ٹائٹن کی سواری جان لیوا ثابت ہوئی !

دنیا کے سب سے مشہور جہاز ٹائٹنک کا ملبہ دکھانے گئی آبدوز ٹائٹن کے تباہ ہونے کی معلومات سامنے آئی ہے ۔ یہ پنڈبی گزشتہ اتوار کو لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی تلاش کیلئے بین الاقوامی سطح پر تلاش و بچاو¿ آپریشن کیا گیا اور جمعرات کو اس آبدوز کا ملبہ سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا ہونے کی جانکاری سامنے آئی ۔ امریکی ساحلی فورس نے بتایا ہے کہ ٹائٹن کے پاس تفتیش رسانوں کو لاپتہ آبدوز ٹائٹن کا ملبہ ملا ہے ۔ ایک پریس ملاقات میں امریکی ساحلی گارڈ ایڈمیرل جان ماو¿زر نے بتایا کہ رموٹ سے چلنے والی آر او وی پنڈبی آبدوز نے سمندری سطح پر ٹائٹنک سے تقریباً آدھا کلو میٹر دور ٹائٹن آبدوز کے تیل کی تلاش کی اور اسی کی جانچ کرتے کرتے آبدوز آر او وی کا ملبہ پڑا ملا ۔ انہوںنے کہا کہ آبدوز میں سوا ر متاثر ہ کے کنبوں کے تئیں اپنی دلی تازیت پیش کرتا ہوں ۔ یہ امریکی کمپنی کے زیر کنٹرول کمپنی اوشن گیٹ اکسپیڈیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کو خیال ہے کہ ان کو پکا یقین ہے کہ ٹائٹنک میں سوار پانچوں مسافروں کی موت ہو گئی ہے ۔ ان میں ارب پتی ہاکنگ ہاتش ہارڈنگ اور ایک پاکستانی پریوا ر کے ارب پتی شہزاد دوو¿د اور اس کا بیٹا سلیمان داو¿د اس اشن ایکسپیڈیشن کے سی ای او اور ٹائٹن پائلٹ اسکوائڈرن رش شامل ہیں ۔ سماچار ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مابق اتوار کی صبح نارتھ اٹلانٹک میں ٹائٹن کے ملبے کا پتا لگانے کے دوران پنڈبی مشرقی کنارہ میں نیوکاہل لینڈ کے ساحل سے چھ کلومیٹر سے زیادہ دور لاپتہ ہوگئی ہے ۔اور اس کا پتہ لگانے کیلئے بین الاقوامی تلاش ٹیم نے زبردست محنت کی اور اندازہ لگایا کہ ابدوزمیں 96گھنٹے کی آکسیجن ہے اور اس کے جمعرات کی صبح تک ختم ہوجانے کی امید تھی۔ جس علاقے میں یہ آبدوز غائب ہوگئی تھی۔ پانی کے اندر گھس جانے سے اس کی مشینری میں دھماکے کی آوزیں سنی گئیں ۔ اور سمندر کے ساحل پر ڈوبنے کی جگہ کے بیچ کوئی اس کے ہونے کا پتہ نہیں لگ پایا تھا ۔ لیکن اوشن گیٹ آپریشن سے سمند ر کی سطرح سے 3800میٹر نیچے ملبے تک پہینچنے کیلئے دوسری آبدوز کا استعمال کیا گیا ابتک جو بات معلوم ہوئی ہے تباکن دھماکے سے ملتی جلتی ہے۔ کیوں کہ ملبے کے دو ڈھیر ملے ہیں ایک ڈھیرمیں ٹائٹن کا پچھلا حصہ ملا ہے تو وہیں دوسرے ڈھیرمیں ٹائٹن کا لینڈنگ فریم دکھائی دیا ہے یہ اس بات کو اشارہ ہے کہ دھماکہ ہوا ہوگا ۔ اس آبدوزمیں بلیک باکس نہیں تھا۔ ایسے میں آخری وقت کی کوئی جانکاری دستیاب نہیں ہو سکی ۔ (انل نریندر)

امریکہ میڈیا کی نظروں میں مودی کا دورہ !

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ دورے کا تذکرہ دنیا بھر کے میڈیا میں ہو رہا ہے ۔ امریکہ میڈیا میں بھی اس دورے کو خاص توجہ ملی ہے کیوںکہ وزیر اعظم نریندر پہلی مرتبہ امریکی مہمان بن کر گئے تھے ۔ یعنی دوسری الفاظ میں کہیں تو مودی پہلی بار امریکہ اسٹیٹ ویزٹ پر گئے ۔ انہوںنے امریکہ کانگریس کو بھی خطاب کیا اور یہ ان کا دوسرے مرتبہ خطاب تھا۔ امریکی کانگریس کی شکل میں دو مرتبہ خطاب کرنے والے مودی بھارت کے پہلے وزیر اعظم بن گئے ۔ امریکی میڈیا میں مودی کے دورے پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے ۔ کئی ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے امریکی کانگریس میں مودی کی تقریر کے بائیکاٹ کرنے کی بھی خبر کو امریکی میڈیا نے خاص اہمیت سے چھاپہ ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق ،جمہوریت اور پریس پر مبینہ حملے سے وابسطہ سوال بھی پی ایم مودی کے دورے میں پوچھے گئے ۔ ان سوالوں کو کبھی امریکی میڈیا میں اہمیت کے ساتھ شائع کیا گیا۔ قریب آدھا درجن ڈیموکریٹس ممبران نے امریکی کانگریس میں پی ایم مودی کی تقریر کا بائیکاٹ کیا ان میں مشیگن سے راشد طالب وغیر ممبران نے اڈریس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مشترکہ بیان دیا۔ اس بیان کو نیو یارک ٹائمس نے خاص جگہ دی۔ اس ڈیموکریٹس ممبران نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی کانگریس کا اسٹیج دیکر مذہبی طور سے اقلیتوں اورصحافیوں کی آواز کمزور کی گئی ہے۔ نیو یارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے مودی کی خیر مقدم میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔ بائیڈن چاہتے ہیں کہ روس اور چین کے ساتھ جب امریکہ کا ٹکراو¿ چل رہا ہے ایسے میں بھارت اس کے ساتھ کھڑا رہے۔ مودی کے اس دورے میں سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ بائیڈن نے اس جوائنٹ پریس کانفرنس میں بھی رپورٹروں سے سوال لینے کیلئے تیار کیا ۔ پچھلی ایک دہائی میں وزیر اعظم مودی کیلئے یہ عجب تھا کہ انہوںنے رپورٹروں کا سیدھا سوال سن لیا ۔مودی سے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کو لیکر پوچھے گئے سوال کے جواب میں مودی نے کہا کہ بھارت کے ڈی این اے میں جمہوریت ہے اور مذہب کی بنیاد پر کسی سے امتیاز نہیں ہو رہا ہے ۔ نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ بائیڈن نے مودی کے عہد میں بھارت میں نااتفاقی کی آواز دبانے اور پریس کی آزادی کمزور ہونے کے الزامات کو توجہ نہیں دی ۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ صدر بائیڈن نے بھارت کی جمہوریت کو لیکر اٹھے سوالوں کے باوجود بچاو¿ کیا۔ امریکی نیوز چینل سی این این نے بھی مودی کے دورے کو وسیع طور سے کوریج دیا ۔ سی این این اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ مودی کی مقبولیت بھارت میں زبردست ہے لیکن ان کا ادھینائک واد کی طرف ان کا جھکاو¿ مغرب کیلئے تشویش پیدا کرتا ہے ۔اخباری صحافیوں کو انہوں نے عدم اتفاقی کے الزامات کےلئے پوچھے گئے سوالوں پر نشانے پر لیا ہے ۔ اور کہا کہ جن پالیسیوں کو انہوںنے آگے بڑھایا ہے اسے انسانی حقوق گروپ مسلمانوں کے خلاف امتیازی بتاتے ہیں۔ (انل نریندر)

22 جون 2023

کیدارناتھ گربھ گرہ میں سونے کا معاملہ !

کیدارناتھ مند ر کے گربھ گرہ میں سونے کی جگہ پیتل لگائے جانے کے الزامات کو سازش کا حصہ بتائے ہوئے شری بدری ناتھ کیدارناتھ مندر کمیٹی نے اتوار کو کہا کہ شدر سیاسی عناصر یاترا کو متاثر کرنے اور دھام کی ساکھ کو ملیا میٹ کرنے کیلئے غلط فہمی پھیلا رہے ہیں۔ مندر کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک ٹویٹ کرتے وہئے سوشل میڈیا پر غلط فہمی اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی وارننگ بھی دی ہے ۔ کیدار ناتھ گربھ گرہ میں لگے سونے کے پتل میں بڑھپیل ہونے کے الزام لگاتے ہوئے مندر کے ترتھ پروہت آچاریہ سنتوش تریویدی نے ویڈیون سوشل میڈیا پرپوسٹ کیا ۔انہوںنے الزام لگایا کہ گربھ گرہ میں میں سونے کے بجائے پیتل لگایا گیا ہے۔ کیدار ناتھ دھام میں لگا یا گیا 230کلو سونا چرا لیا گیا ہے ۔ اور اصلی سونی کی جگہ پیتل لگایا گیا ہے۔اس سے گربھ گرہ سونے کے بجائے پیتل کی طرح نظر آنے لگا ہے ۔بدری ناتھ کیدارناتھ کمیٹی نے کیدارناتھ مندر کے گربھ گرہ کو سونے سے جڑا کرنے کو لیکر سوشل میڈیا میں پھیلائی جا رہی باتوں کو سازش کا حصہ بتایا ہے ۔ مندر کمیٹی کے مطابق بو رڈ کی میٹنگ میں ایک دان داتا کا پرستاو¿ رکھ کر منظوری لی گئی تھی۔ ریاستی انتظامیہ سے بھی اجازت لی گئی تھی کہ یہ کام آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کی نگرانی میں ہوا ۔ مندر کمیٹی کا اس میں کوئی رول نہیں تھا۔ کمیٹی کے ایگزیکٹیو افسر کے مطابق کیدارناتھ گربھ گرہ میں 23,777.800گرام سونا لگایا گیا ہے ۔ اس کی موجودہ قیمت تقریبا 14.38کروڑ روپے ہے۔ کاپر پلیٹوں کی قیمت 32لاکھ روپے ہے دان کنندہ نے جوہری کے ذریعے گربھ گرہ میں لگائی گئی سونے اور تانبے کی پلیٹوں اور باقاعدہ بل اور واو¿چر کمیٹی کو دئے تھے ۔ مندر کمیٹی کے چیئرمین گجیندر نے صفائی دی ہے کہ پچھلے برس مہاراشٹر کے ایک دانی نے وشوناتھ مندر کے گربھ گرہ کو سونے سے سجاوت کرنے کی خواہش جتائی تھی۔ اس پر مندر کمیٹی نے بورڈ کی میٹنگ میں پرستاو¿ پاس کر عطیہ کنند ہ کو گربھ گرہ کی دیواروں کو سونے سے آراستہ کرنے کی اجازت دی تھی۔کیدارناتھ مندر کے گربھ گرہ میں مہاراشٹر کے اس دانی کے ذریعے قریب 23کلو گرام سونا لگایا گیا ہے ۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ کہیں سے بھی کوئی شکایت نہیں آئی ہے لیکن ایک پارٹی خاص کے کہنے پر تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کانگریسیوں کے ساتھ ہی سپا چیف اکھلیش کی طرف سے معاملے کو طول دینے پر سوال کھڑا کیا کہ کیا انہوںنے دیش میں کبھی مسجدوں اور مدرسوں کو ملے عطیہ کے بارے میں بھی جانکاری لی ہے۔ (انل نریندر)

کانگریس سرکار نے پلٹے بی جے پی کے فیصلے !

کرناٹک کی کانگریس سرکار نے چناوی وعدوں کو پورا کرنے کیلئے قدم اٹھانے شروع کردیئے ہیں اور اس کڑی میں حکومت نے سابق بی جے پی حکومت کے کئی فیصلوں کو پلٹنا شروع کردیا ہے ۔ اور ان میں دو بڑے فیصلے شامل ہیں جس میں تبدیلی مذہب انسداد قانون واپس لیا جائے گااور ساتھ ہی موجودہ تعلیمی برس کیلئے ریاست میں درجہ 6سے 10تک میں کنڑ اور سوشل سائنس کی نصابی کتابوںمیں ترمیم کو منظوری دے دی ہے اور آر ایس ایس کے بانی کیشو بلیرام ہیڈ گوار اور ہندتوا کے مبلغ ویر ساورکر سمیت دیگر لوگوں کی زندگی پر اسباق کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیبنٹ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا ۔ساوتری بائی ،اندرا گاندھی کے لکھے گئے نہرو کے خطوط اور بی آر امبیڈکر پر کویتا کو نصاب میں شامل کیا جائے گا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی پچھلی سرکار کے ذریعے کی گئی ترامیم کو ہٹایا جا ئے گا۔ کانگریس نے اپنی چناوی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اسکولی نصابی کتابوں میں بھاجپا سرکار کے ذریعے کی گئی تبدیلیوں کو ہٹا دے گی۔ کانگریس نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ قانون و پارلیمانی وزیر این کے پاٹل نے کیبنٹ کی میٹنگ کے بعد کہا کہ نصابی کتابوںمیں ترمیم کے سلسلے میں کیبنٹ نے محکمے کے ذریعے لائے گئے پرستاو¿ پر غور کیا اور اسے اپنی منظوری دے دی۔ کیبنٹ سے ریاست کی سبھی تعلیمی اداروں کیلئے یومیہ آئین کی بنیادی اصولوں کا پڑھنا ضروری کر دیا ہے ۔ ایک دوسرے فیصلے میں کنڑ زبا ن کی فلم مصتفیٰ کو ٹیکس فری کردیا ہے ۔ریاستی سرکار 3جولائی سے شروع ہونے والے اسمبلی سیشن میں اس سلسلے میں بل لائے گی۔ وزیر قانون اور پارلیمانی امور ایم کے پاٹل نے بتایا کہ کیبنٹ میں تبدیلی مذہب انسداد بل پر غور کیا ۔ہم نے 2022میں اس وقت کی بھاجپا سرکار کے کیلئے کی گئی ترامیم کو منظوری دے دی ہے ۔ اسے 3جولائی سے شروع ہو رہے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ادھر بھاجپا نے ددعویٰ کیا کہ کانگریس کے ریوڑی کلچر سے کرناٹک کی دور دشا ہو رہی ہے۔ ریاست کے محکمہ مالیا کے خط کی کاپی ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے بھاجپا کے آئی ٹی سیل کے چیف امت مالویہ نے کہا کہ کرناٹک کے محکمہ ماحولیات نے کرناٹک ریاست روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن و بینگلورو سٹی ٹرانسپور ٹ کارپوریش کو مطلع کیاہے کہ بسوں کو روکنے کیلئے ٹھیک ٹھاک چلانے کیلئے اندھن کیلئے فاضل رقم مہیا نہیں کرائے جانچ نہیں کرائی جاس سکتی ۔ مفت وعدے کیلئے اپنی جیب سے رقم خرچ کرئے گی۔ (انل نریندر)

20 جون 2023

سندھیا کو بڑا جھٹکا!

مدھیہ پردیش میں لگتا ہے کانگریس کے حق میں ہوا چل رہی ہے ،کچھ ٹی وی چینلوں کے سروے میں بھی کانگریس کو اسمبلی چناو¿ میں اکثریت دکھائی جا رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے خلاف زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے اس لئے حیرانی نہیں ہوگی جب مدھیہ پردیش میں مرکزی وزیر جیوترآدتیہ سندھیا کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔سندھیوں کے کٹر حمایتی بیج ناتھ یادو بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں ۔یادو چار سو گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ بھوپال پہنچے ۔بتادیں کہ ایک دن پہلے ہی منگلوار کو سندھیا حمایتی بیج ناتھ یادو نے بی جے پی میں پردیش ورکنگ کمیٹی ممبر سمیت سبھی عہدوں سے استعفیٰ دینے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اب بھاجپا میں نہیں رہیںگے ۔ ایک دن میں ہی بدھوار کو انہوںنے کانگریس کا دامن تھام لیا۔ اس دل بدل کے دوران بیج ناتھ یادو نے اپنی طاقت کا بھی احساس کرایا۔چوںکہ وہ چار سو گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ اپنے حمایتوں کو لیکر راجدھانی بھوپال میں پی سی سی دفتر پہنچے ۔اور کانگریس کی ممبر شپ حاصل کرلی ۔مدھیہ پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی چناو¿ کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے دونو ں ہی بڑی پارٹیاں بھاجپا اور کانگریس میں سیندھ ماری کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے ۔اب کانگریس نے بھاجپا میں سیندھ لگائی ہے ۔مرکزی وزیر جیوتر آدتیہ سندھیا کے حمایتی بیج ناتھ یادو کو پی سی سی چیف کملناتھ نے کانگریس کی ممبر شپ دلائی ہے ۔جیوتر آدتیہ سندھیا کانگریس چھوڑ کر بھاجپا میں شامل ہوئے تھے اور تب ان کے ساتھ بیج ناتھ یادو بھی بھاجپا میں آگئے تھے لیکن اب بیگ ناتھ یادو حکمراں بھاتیہ جنتا پارٹی سے بیزار ہوگئے ہیں۔ انہوںنے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ اور سابق مرکزی وزیر ارون یادو اور ممبر اسمبلی جے وردھن سنگھ اور باغی بھی کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ کمل ناتھ نے انہیں ممبری کا حلف دلایا۔ بتادیں کہ بیج ناتھ بنیادی طور پر کانگریس نیتا ہیں ۔لیکن سال 2020میں تبدیلی اقتدار کے دوران بیج ناتھ یادو بھی اس وقت کے کانگریس لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے ۔ واقف کاروں کا خیال ہے کہ یہ تو شروعات ہے خاص کر ان کانگریسیوں کے لئے جو آدتیہ سندھیا کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوئے تھے ۔ ان کو بی جے پی ٹکٹ دیتی ہے یا نہیں یہ بھی دیکھنا باقی ہے یا پھر اپنے پرانے ورکروں کو ہی ترجیح دیتی ہے ؟ (انل نریندر)

منی پور میں تشدد کیوں نہیں رک رہا؟

منی پور میں 49دن سے جاری تشدد میں 100سے زیادہ لوگوں کی موت 50ہزار سے زیادہ بے گھر ہوگئے ، لوگوں کے گھر جلائے جار ہے ہیں،دکانیں جلائی جا رہی ہیں ،چرچ جلائے جا رہے ہیں۔منی پور میں اس تشدد کو ڈیڑھ مہینے سے زیاد ہ گزر چکا ہے ۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ کا دورہ ہونا ،تشد د کی جوڈیشل انکوائری کے اعلان ،امن کمیٹی بنائے جانے کے باوجود تشددد رکنے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جو انتہائی تشویش ناک ہے ۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت وشو سرما کومیتئی اور کوکی فرقے کے درمیان خلیج بھرنے کی ذمہ داری دی گئی لیکن منی پور میں تشدد جاری ہے ۔ تازہ وقعے میں جمعرات کو امپھال کے کونگبا میں واقع مرکزی وزیر آر کے رنجن سنگھ کے گھر کو آگ لگادی گئی ۔ اس سے پہلے بدھوار کو ایک گاو¿ں میں مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں کم سے کم نو لوگ مارے گئے ۔ مرکز میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار اور ریاست میں بھی اسی پارٹی کی سرکار ہے لیکن پھر بھی تشدد جاری ہے ۔کیا وجہ ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومت ایک مہینے سے بھی زیادہ سے جاری کشیدگی اور تشدد پر قابو نہیں کر پائی ؟ کیا وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ منی پور کے محاذ پر ناکام ہو چکے ہیں۔وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے دورے کے دوران سبھی فرقین سے بات کر 15دنوںمیں حالا ت بحال ہونے کی بات کی تھی لیکن حالات اور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات بحال کرنے کیلئے جس طرح کے قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے وہ قدم نہ تو مرکزی سرکار نے اٹھائے اور نہ ہی ریاستی سرکار نے اٹھائے۔ اور حکومت نے لوگوں کوان کے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔کوکی اور میتئی دونوں ہی فرقے کے لوگوں کو لگ رہا ہے کہ انہیں اپنی حفاظت خود کرنی پڑے گی ۔کیوں کہ سرکار ان کیلئے کچھ نہیں کر رہی ہے۔اور اسی وجہ سے حالات بگڑتے چلے گئے کیوںکہ لگو تشدد سے نمنٹے کیلئے خود تشدد کا سہا را لے رہے ہیں ۔ حالیہ دنوںمیں منی پور کے الگ الگ علاقوںسے کافی تعدا دمیں ہتھیا برآمد کئے گئے ۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ دونوں افراد کے بیچ لمبے عرصے سے اختلافات ہونے کے باوجود ریاست میں کوکی اور میتئی فرقے کے لوگ بھائی چارے سے رہتے چلے آئے ہیں یہاںتک کہ دونوں کے درمیان کاروباری رشتے بھی ہیں۔ لیکن اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اب ایک دوسرے سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔منی پور میں جاری تشدد کے دور نے سابق فوجی حکام کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔سابق فوج کے چیف ویدپرکاش ملک نے مرکزی سرکار سے منی پور کے حالات پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ وہیں ایک ریٹائرڈ افسر نے بھی منی پور کے موجودہ حالات موازنہ شام اور لیبیا جیسے تشدد زدہ دیشوں سے کردیا ہے ۔اب تو ہتھیار وہاں باغیوںنے سیکورٹی فورسیز پر بھی حملے شروع کردئے ہیں۔ (انل نریندر)

15 جون 2023

اب کانگریس کی نظریں مدھیہ پردیش پر لگیں!

کرناٹک میں شاندار جیت حاصل کرنے کے بعد اب کانگریس پارٹی کی نظریں مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات جیتنے پر ہیں ۔کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے پیر کو کہا کہ مدھیہ پردیش کے جبل پور سے پارٹی کا چناوی بگل پھونک دیا ہے ۔پرینکا نے وزیراعلیٰ شیوراج چوہان سرکار پر کرپشن اور نوکریاں دینے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا ۔انہوں نے راشن بانٹنے میں وشیع مبینہ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی سرکار کے 220 مہینے کی حکمرانی میں 225گھوٹالے ہوئے ہیں پرینکا نے کہا پچھلے تین برسوں میں بی جے پی سرکار نے ریاست میں صرف 21 سرکاری نوکریاں دی ہیں ۔میں نے اپنے دفتر سے تین بار اس کی جانچ کرانے کو کہا اور پایا کہ یہ صحیح ہے اگر ہم مدھیہ پردیش میں اقتدار میں آئے تو عورتوں کو 1500 روپے ہر مہینے 500 روپے میں رسوئی گیس سلینڈرا ور 100یونٹ مفت بجلی دیں گے ۔اور پرانی پنشن اسکیم لائیں گے اور کسانوں کا قرض معاف کریں گے ۔ہم نے کرناٹک میں پانچوں گارنٹیوں کو پورا کر دیا ہے ۔ڈبل انجن کی سرکار کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ہم نے ڈبل اور ترپل انجن والی سرکاریں دیکھیں ہیں لیکن ہماچل اور کرناٹک میں لوگوں نے اس کا کرارہ جواب دیا ہے ۔ادھر کانگریس نے کرناٹک میں جیت کے پیروکار جی کے شیو کمار کو مدھیہ پردیش میں چناو¿ کمپین کی کمان سنبھالنے کے لئے میدان میں اتار دیا ہے ۔کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ شیو کمار اتوار کی صبح مدھیہ پردیش کے اجین میں واقع مہا کالیشور مندر میں بھسم آرتی میں شامل ہوئے ۔اور پھر کال بھیرو مندر میں پوجا ارچنا کی شیو کمار نے کہا ہندوتو مندر اور دیوتا بھارتیہ جنتا پارٹی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا مدھیہ پردیش چناو¿ کے لئے کانگریس کی حکمت عملی تیار ہے لیکن انہوں نے تفصیل بتانے سے انکار کر دیا ۔خیال کیا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش کانگریس کے لئے آنے والے اسمبلی چناو¿ میں وہ اہم حکمت عملی ساز ہوں گے ۔کانگریس نیتا نے کہا کہ تیسری اور چوتھی بار ہے جب وہ مہاکالیشور مندر آئے ہیں ۔کرناٹک چناو¿ سے پہلے میں نے اقتدار کے لئے مہا کالیشور اور کال بھیرو سے پرارتھنا کی تھی اب ہمیں کرناٹک میں اقتدار مل گیا ہے ۔شیو کمار نے یقین دلایا ہے کہ کانگریس کو 230 ممبری مدھیہ پردیش اسمبلی میں ان کی پارٹی کے ذریعے کرناٹک میں جیت حاصل ہوئی ہے اور 135 سیٹوں کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں ملیں گی ۔مدھیہ پردیش میں سال کے آخیر میں اندور میں کہا کہ ریاست کے لوگوں نے اقتدار میں تبدیلی کا فیصلہ کر تے ہوئے کر لیا ہے اور وہ واضح اکثریت سے کانگریس کو چننے کا من بنا چکی ہے ۔موجودہ بھاجپا سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی عوام کو ڈبل انجن کی سرکار یا آپریشن لوٹس سے بنی سرکار دیکھی ہے اور یہ سرکار ناکام رہی ہے ۔ (انل نریندر)

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ...