Translater

06 جولائی 2016

وزیر ہو تو سشما جیسا

ہمیں اس سے خوشی ہے کہ ہمارے وزارت خارجہ کا ایک ایسا چہرہ ہے جو سنجیدہ ہے اور سماج کے ایسے طبقے کا زیادہ خیال رکھتا ہے جس کے بارے میں عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ ہماری وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے کئی بار ایسی مثالیں پیش کیں جس سے صاف لگتا ہے کہ انہیں ہندوستانیوں کی فکر رہتی ہے۔تازہ مثال بھارت سے اغوا بچے سونو کو بنگلہ دیش سے واپس لانے کی ہے۔ سونو کو 6 برس کی عمر میں دہلی سے اغوا کیا گیا تھا۔ پاکستان سے گیتا کو لانے کے بعد یہ دوسرا معاملہ ہے جسے کامیابی کے ساتھ ایک ہندوستانی کو وطن واپس لایاگیا ہے۔ سونو کو گزشتہ جمعہ کو ڈھاکہ سے دوپہر دہلی لایاگیاتو اس کے کنبے کے ساتھ محترمہ سشما سوراج بھی انتظار کررہی تھیں لیکن ڈھاکہ کے ایک یتیم خانے میں رہ رہے سونو کا کام اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ اس پورے کام کو انجام دینے کے لئے وزارت خارجہ کی ایک ٹیم کام کررہی تھی۔ ان حکام کی کوشش کی وجہ سے ہی سونو کی پہچان ہونے کے بعدصرف 30 دن کے اندر اس کے والدین کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اس کے بھارت آنے کا راستہ صاف کیا گیا۔ خیال رہے کہ گیتا کے معاملہ میں اسے بھارت لاکر ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا حالانکہ ابھی تک گیتا کے خاندان کا پتہ نہیں چل پایا۔ سونو اقتصادی طور پر بیحد پسماندہ گھرانے کا ہے جبکہ گیتا کے بارے میں بھی ایسا ہی اندازہ ہے۔ وزارت کے ایک افسر کے مطابق بیرونی ملک میں پھنسے کسی بھی ہندوستانی کو وطن لانا آسان کام نہیں ہوتا۔ وہاں کے وزارت خارجہ کے ساتھ روابط قائم کرنے سے لیکر مقامی پولیس و جانچ ایجنسیوں کے ساتھ تال میل بٹھانا اور مقامی قانون کے مطابق راستہ نکالنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے چنگل میں پھنسے فادر پریم ایلکس کو رہا کروانے اور انہیں صحیح سلامت لانے میں ڈپلومیٹک سارے داؤ پیچ آزمانے پڑے تھے۔ جنگ زدہ یمن سے ہندوستانی نرسوں کو محفوظ نکالنے میں کئی ملکوں سے ساتھ مل کر حکمت عملی بنانی پڑی۔ کوئی تعجب نہیں کے پچھلے دنوں وزیر خارجہ سشما سوراج جب اپنی وزارت کے دو برسوں کے کام کاج کی تفصیل دی رہی تھیں تو وزارت خارجہ نے بیرون ملک میں پھنسے ہندوستانیوں کو وطن لانا ان کی ترجیح میں بہت اوپر تھا۔ بنگلہ دیش میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن نے سونو کو پتہ لگانے سے لیکر اس کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے تک کا کام صرف ایک مہینے میں ہی کر دکھایا۔ سشما جی آپ پر ہمیں فخر ہے اور آپ کی وزارت مودی سرکار کا چمکتا ستارہ ہے۔
(انل نریندر)

کیا ریو اولمپک میں بھارت 20 میڈل لا سکتا ہے

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب دیش کے وزیر اعظم نے برازیل کے شہر کے ریو ڈی جنیریو میں ہونے والے آنے والے اولمپک کھیلوں میں بھارت کی نمائندگی کررہے کھلاڑیوں سے ملاقات کی ہے۔ انہیں نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ میں بتا رہا ہوں وزیر اعظم نریندر مودی مانک شاہ سینٹر پر مودی نے کھلاڑیوں سے شخصی طور پر بات چیت کی اور 5 سے21 اگست تک ہونے والے کھیلوں کے لئے انہیں شبھ کامنائیں دی ہیں۔5 اگست سے دنیا کا واحد کھیل مہاکنبھ اولمپک ریو ڈی جنیرو میں شروع ہونے والا ہے۔ یہاں جانے کے لئے بھارت کی طرف سے (اب تک سب سے زیادہ) 103 کھلاڑیوں کو چن لیا گیا ہے۔ ان پر دیش کی توقعات کا بوجھ ہے۔ اس درمیان وزارت کھیل کے مشن اولمپک سیل کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ مشن اولمپک سیل نے پیشگوئی کی ہے کہ ریو میں بھارت کو صرف20 ہی میڈل مل سکتے ہیں۔ مشن اولمپک سیل کی اس پیشگوئی نے ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کو نئی مشکلوں میں ڈال دیا ہے۔ ایک بار دبی زبان سے اولمپک ایسوسی ایشن نے سیل کی رپورٹ عام کردی ہے۔ 
وہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ نے جانے والے کھلاڑیوں کو مایوس کردیا ہے۔ رپورٹ میں پہلی بار اولمپک کا سفر طے کرنے والوں پر میڈل جیتنے کا بھروسہ نہیں جتایا ہے۔ انہی کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں کھیل وزارت اب تک کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے۔ کھیل سرکردہ شخصیتوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی دیش کو پہلی بار اولمپک میں اتنے میڈل ملنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں پر میڈل جیتنے کا بھروسہ نہیں ہے آخر ان پر لاکھوں روپے کیوں خرچ کئے گئے؟ بتادیں کہ 250 صفحات کی اس رپورٹ میں سیل نے کشتی و شوٹنگ کھلاڑیوں سے زیادہ میڈل مل پانے کا بھروسہ جتایا گیا ہے، جوڈو، ویٹ لفٹنگ، ٹیبل ٹینس اور تیز اندازی جیسے کھیلوں کو لیکر سیل نے مایوسی جتائی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مشن اولمپک سیل کی یہ پیشگوئی کہاں تک سچ ثابت ہوگی۔ بتادیں 2016,2020 اور 2024 کے اولمپک کھیلوں کے لئے ہندوستانی پارٹیوں کو تیار کرنے کے مقصد سے مشن اولمپک سیل کی تشکیل 8 اپریل کو پہلی بار کی گئی تھی۔ کھیل وزارت نے بھارت کی کھیل تاریخ میں پہلی بار اس سیل کا قیام کرنے کے ساتھ ساتھ سبھی ایتھلیٹس کی مانیٹرنگ کرنے اور ان کا ڈٹا تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ امید کی ٹیلی کچھ اس طرح ہے۔ ویٹ لفٹنگ0، کشتی 3، ٹینس2، ٹیبل ٹینس 0، شوٹنگ 4 نوکایان 0، جوڈو0، فیلڈ ہاکی1، جمناسٹک 1، گولف 1، باکسنگ 2، بیٹ منٹن 2 ، تیر اندازی 2، ایتھلیٹکس21۔ بتا دیں کہ 2008 اولمپک میں بھارت نے کل3 میڈل ہی جیتے تھے۔ اس سے پہلے تمام اولمپک میں صرف 1-1 میڈل جیتا تھا۔ بہرحال 2012ء میں یہ تعداد 6 ہوا کرتی تھی۔
(انل نریندر)

05 جولائی 2016

اسلامی کٹر پسندوں کی زد میں بنگلہ دیش

بنگلہ دیش میں ہندو شہریوں سمیت اقلیتوں پر حملہ مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ راجدھانی ڈھاکہ میں گلشن ڈپلومیٹک زون میں واقع ہولی آرٹیشن بیکری ریستوراں میں 8سے10 مسلح حملہ آوروں نے حملہ کردیا اور 20 سے زائد غیر ملکیوں و کئی سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ ڈھاکہ کے جس ڈپلومیٹک علاقے میں یہ حملہ ہوا وہ کافی محفوظ مانا جاتا ہے۔ اس گلشن۔2 علاقہ میں 34 ملکوں کے سفارتخانے قائم ہیں۔ چشم دید گواہوں کے مطابق قریب پونے نو بجے کئی ہتھیار لئے لوگ ’اللہ اکبر‘ بولتے ہوئے گھسے اور کئی بیٹھے گراہکوں و ملازمین کو یرغمال بنا لیا۔ اس حملہ کے دوران جان بچا کر بھاگے ہولی آرٹیشن بیکری کے ملازم سمون راجہ نے میڈیا کو بتایا کہ جب حملہ ہواتھا تو ریستوراں میں زیادہ تر لوگ اٹلی اور ارجنٹینا کے شہری موجود تھے۔ ریستوراں پر قبضے کے بعد حملہ آوروں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کردی۔ اس دوران ٹی وی چینلوں نے واقعہ کا سیدھا ٹیلی کاسٹ شروع کردیا لیکن بعد میں افسروں کی درخواست پر اسے روک دیا گیا۔ حملے میں ایک غیر ملکی کے مارے جانے کی خبر ہے اور کم سے کم60 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس نے اس حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ آتنکی تنظیم کی نیوز ایجنسی ’اماف‘ نے حملہ میں 20 لوگوں کے مارے جانے کا دعوی کیا ہے۔ یہ حملہ تقریباً اسی انداز سے کیا گیا جیسے 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں کئی جگہ لشکر نے کیا تھا۔ دہشت گردوں نے اسی طرح کئی لوگوں کو یرغمال بنایا تھا حالانکہ ان حملوں میں 166 لوگ مارے گئے تھے ۔ ادھر جمعہ کو صبح3 بجے مشتبہ حملہ آوروں نے 50 سالہ ہندو پجاری شیاما نند داس کو چاقو مار کر ہلاک کردیا۔ اس سال اب تک 5 پجاریوں کی جان جاچکی ہے جن میں سے دو حملے تو پچھلے مہینے میں ہوئے ۔ جمعہ کی صبح قریب6 بجے شیامانند پوجا کے لئے پھول اکھٹے کررہے تھے اسی وقت موٹر سائیکل پر آئے 3 لوگوں نے ان کی گردن پر دھار دار ہتھیارسے حملہ کردیا۔ بنگلہ دیش میں مسلسل ہندوؤں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ 1941 ء میں یہاں 28 فیصد ہندو آبادی تھی جو گھٹ کر 2011ء میں محض 8.5 فیصد رہ گئی۔ 2001ء میں یہ تعداد 9.2 فیصدی تھی حال ہی میں بڑھ رہے حملوں کے واقعات سے ہندو آبادی خوف کے سائے میں جینے کو مجبور ہے۔ ہندوستانی سرحد سے لگے بنگلہ دیش میں اسلامک آتنک واد کا بڑھنا بھارت کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔ ہندوستانی سرحد کے ایک محاذ پر پاکستان اور چین سے پہلے ہی خطرہ ہے۔ ہندوؤں اور سیکولر رضاکاروں کا مسلسل قتل کے درمیان بنگلہ دیش نے بھارت کو باآور کیا ہے کہ وہ ہندوؤں کے اختیارات کی سلامتی کو لیکر پوری طرح عہد بند ہے۔ ساتھ ہی کہا زیادہ تر ایسے واقعات فرقہ وارانہ نہیں ہیں بلکہ بنگلہ دیش میں آئی ایس، آئی ایس آئی و دیگر اسلامی تنظیموں کے بڑھتا اثر پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزماں خاں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں کسی اسلامک اسٹیٹ یا القاعدہ کا وجود نہیں ہے۔ یرغمال بنانے والے آتنکوادی بنگلہ دیش کے ہی ہیں اور جماعت المجاہدین جیسی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ کے سیاسی مشیر حسین توفیق امام نے بتایا کہ جس طریقے سے یرغمالوں کو قتل کیا گیا اس سے لگتا ہے کہ اس سے ممنوعہ تنظیم جماعت المجاہدین کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی آئی ایس آئی اور جماعت کا رشتہ دنیا جانتی ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آئی کہ جب دہشت گردوں کے پاس اسلحہ اور آٹومیٹک بندوق ہونے کے باوجود یرغمالوں کو دھار دار ہتھیار سے گلا کیوں کاٹاگیا؟سکیورٹی ایجنسیوں کاتو یہی خیال ہے کہ گلا کاٹنے کے آئی ایس کے خطرناک طریقے کا استعمال بھارت سمیت پورے برصغیر کے لئے ایک وارننگ ہے۔ غور طلب ہے کہ پچھلے کچھ مہینے سے ہندو پجاریوں اور دانشوروں کے قتل کے سبب ہندوستانی ایجنسی بنگلہ دیش کے حالات پر گہری نظر رکھ رہی ہیں۔ اعلی ترین خفیہ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش میں کچھ مہینوں سے تمیم چودھری نام کا کینڈا کا شہری تشدد آمیز سرگرمیوں میں سرگرم ہے ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے بھی کہی تمیم چودھری کا ہاتھ تو نہیں ہے۔ اس حملہ کے ایک چشم دید گواہ رضوان الکریم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بنگلہ دیشی یرغمالوں کو ڈنر کرایا اور پھر سبھی یرغمالوں سے قرآن کی آیتیں سنانے کوکہا، جو نہیں سنا پائے ان کا گلا کاٹ دیاگیا۔انسٹی ٹیوٹ آف ورناٹیکل مینجمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اجے ساہنے نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں تقریباً سبھی بڑی دہشت گرد تنظیموں کو ختم کیا جاچکا ہے ان تنظیموں کے بچے لوگ آئی ایس اور القاعدہ کے نام پر واقعات کو انجام دے رہے ہیں تاکہ انہیں پہچان مل سکے۔ بنگلہ دیش میں غم کا ماحول ہے حکومت نے دو دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ ڈھاکہ میں ہوئے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اداکارہ عرفان خاں نے کہا کہ حادثہ ایک جگہ ہوتا ہے اور بدنام پوری دنیا کے مسلمان ہوتے ہیں۔ ایتوار کو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا قرآن کی آیتیں نہ جاننے کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں لوگوں کو قتل کردیا گیا۔حادثہ ایک جگہ ہوتا ہے اور بدنام اور اسلام پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے آگے لکھا وہ اسلام جس کی بنیاد ہی امن اور رحم اور دوسروں کا درد محسوس کرنے پر ہے، ایسے میں کیا مسلمان چپ بیٹھے رہیں اور مذہب کو بدنام ہونے دیں؟ یا وہ خود اسلام کے صحیح معنوں کو سمجھیں اور دوسروں کو بتائیں کے ظلم اور قتل عام کرنا اسلام نہیں ہے۔
(انل نریندر)

سوتے لوگوں پرٹوٹتی آفت، بادل پھٹا

یہ صحیح ہے کہ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جاسکتالیکن پرانے حادثات سے سبق لے کر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کو تو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے دیش کے کئی حصوں میں کم بارش ہونے سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے تو کئی ریاستوں میں بادل پھٹنے ،تیز بارش سے تباہی مچی ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ، چمولی میں جمعہ کو بادل پھٹنے سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ ان اضلاع میں 17 لوگوں کی جان گئی ہے 18 افراد لاپتہ ہیں۔ مقامی لوگوں کے ساتھ تیرتھ یاتری بھی جگہ جگہ پھنسے ہوئے ہیں ۔فوج اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں مورچہ سنبھال کر انہیں محفوظ مقامات پر پہنچا رہی ہیں۔ چٹانیں کھسکنے اور بھاری بارش کے سبب آئے سیلاب کی وجہ سے پتھوڑا گڑھ کے گاؤں بستڑی نولڑا گاؤں کا نام و نشان مٹ گیا ہے۔ یہاں دو گھنٹے میں 100 ملی میٹر بارش کے سبب50 مربع کلو میٹر کے علاقہ میں وسیع تباہی ہوئی ہے۔ چمولی میں بھی یہ ہی حال ہے ۔ کئی جگہ ہائی وے بند ہیں اور کئی جگہ ہزاروں مسافر راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کیدارناتھ میں پیدل یاترا تو جاری ہے لیکن ہیلی کاپٹر سروس بند ہے۔ گنگوتری ،یمنوتری یاترا جاری ہے۔10 ندیا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ان میں الکھنندا، سرجو، منداکنی قابل ذکر ہیں۔ خیال رہے کہ تین سال پہلے بادل پھٹنے کے سبب کیدار ناتھ میں پانچ ہزار یاتری مارے گئے تھے۔ بتادیں بادل پھٹنا جسے انگریزی میں ’کلاؤڈ برشٹ‘ کہتے ہیں ایک چھوٹے سے دائرے میں کافی بڑی مقدار میں اچانک بارش ہونا۔ ایسا تب ہوتا ہے جب ماحول میں دباؤ بیحد بڑھ جاتا ہے۔ عام طور پر بادل اچانک ایک دوسرے سے یا پھرکسی پہاڑی سے ٹکڑاتے ہیں تب اچانک بھاری مقدار میں پانی برستا ہے۔ یہ عمل زیادہ اونچائی پر نہیں ہوتا اس میں 100 کلو میٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ تیز رفتار سے بارش ہوتی ہے جس سے سیلاب کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھی میدانی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے کے واقعات ہوتے ہیں۔ 2005 میں 26 جولائی کو ممبئی میں گرم ہوا سے ٹکرانے سے بادل پھٹنے کاواقعہ ہوا تھا لیکن عام طور پر میدانی علاقے میں ایسے واقعات کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اب یہ چلن عام ہوگیا ہے کہ اس موسم میں بارش شروع ہوتی ہے اتراکھنڈ میں تریجڈیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ایسی ٹریجڈیوں میں اتراکھنڈ جیسے حساس ترین ریاستوں میں حادثوں سے سبق نہ لینے کی سرکاری اور افسر شاہی کی ذہنیت بار بار پتہ چلتی ہے۔ یہ اتفاق نہیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ دہائی میں جب سے اتراکھنڈ میں اندھا دھند تعمیراتی کام اور قاعدے ضوابط کو طاق پررکھنے کی کارروائی بڑھی ہے تبھی سے ریاست میں ایسی ٹریجڈیو ں کی بربریت بھی بڑھی ہے۔ ہم ماحولیات کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کی بہت بھاری قیمت جان مال کی شکل میں اٹھا رہے ہیں۔پتہ نہیں اس پر کب روک لگے گی؟
(انل نریندر)

03 جولائی 2016

رابرٹ واڈرا۔ڈی ایل ایف ڈیل اور ڈھینگڑا کمیشن

ہریانہ میں سونیاگاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا۔ ڈی ایل ایف لینڈ ڈیل کی جانچ کرنے کے لئے جسٹس ایس ۔ ایم۔ ڈھینگڑا کمیشن کا قیام 7 مئی 2015 ء کو ہوا تھا۔ کمیشن نے اپنا کام جون 2015 کے آخر میں شروع کیا ۔ ابھی تک آیوگ کی میعاد تین بار بڑھ چکی ہے یہ چوتھی بار ہے جب کمیشن نے وقت بڑھانے کی مانگ کی ہے۔ ہریانہ حکومت نے شروع میں گوڑ گاؤں کے سیکٹر83 میں کمرشل کالونیوں کے ڈیولپمنٹ کے لئے جاری لائسنس کی جانچ کے لئے کمیشن بنایا تھا بعد میں کمیشن کو گوڑ گاؤں کے چار گاؤں سٹی، شکوہ پور کھیڑی، دولا اور سکندر پور بڑا میں سبھی طرح کی کالونیوں کے لئے جاری لائسنس کی جانچ بھی سونپ دی ہے۔ کمیشن نے 250 فائلوں کی اب تک جانچ کی ہے۔ یہ فائلیں زمین کے کمرشل لائسنس کی منظوری سے منسلک ہیں۔ 26 سرکاری افسران سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ کمیشن نے جانچ کے دوران تو رابرٹ واڈرا اور نہ ہی ان کی فرم اسکائی لائٹ کے کسی نمائندے کو پوچھ تاچھ کے لئے بلایا۔ ہریانہ سرکار نے ڈھینگڑا کمیشن کو چوتھی بار توسیع دیتے ہوئے رپورٹ داخل کرنے کے لئے 31 اگست 2016 تک کا وقت دیا ہے۔ سرکار کو لکھے خط میں جسٹس ڈھینگڑا نے کہا کہ انہیں معاملے سے وابستہ کچھ اور دستاویزات ملے ہیں جو کسی شخص نے ان تک پہنچائے ہیں۔ اس میں زمین سودوں کو لیکر نئی جانکاری ہے۔ جانچ میں انہیں شامل کرنا ضروری ہے اس لئے وقت دیا جانا چاہئے۔ادھر وزیر اعلی کے میڈیا مشیر امت آریہ نے بتایا حکومت ڈھینگڑا کمیشن کو ایک اور توسیع دے رہی ہے۔ ادھر رابرٹ واڈرا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ پچھلے ایک دہائی سے انہیں جھوٹے اور بے بنیاد سوالوں میں گھیر کر نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن الزام لگانے والوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کا ہمیشہ سے ہی سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے باوجود اس کے میں اپنی سچائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوں۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا جس نے کمیشن کا وقت ختم ہوا اسی دن وقت کیوں مانگا گیا اس کے پیچھے دو دلیلیں دی جارہی ہیں ایک تو یہ ہے کہ سابق وزیر اعلی ہڈا نے بدھوار کو گورنر کو خط لکھ کر ڈھینگڑا کمیشن پر سوال کھڑا کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ کمیشن نے جو کچھ اطلاع آؤٹ کی ہے اس کے ساتھ ہی جانچ کا جو دائرہ بنایا گیا اس سے ثابت ہورہا ہے کہ سرکار انہیں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔کیا واڈرا اور کانگریسی لیڈروں کا حملہ آور رخ ان کے جرائم کی تصویر کو ہی ظاہر کررہا ہے؟ یہ عجب ہے کہ پہلے کانگریسی نیتا سونیا گاندھی کے داماد کو کانگریس سے الگ ایک نجی شخص بتاتے تھے ، پھر وہ اس بہانے ان کے بچاؤ میں اترنے لگے کے ان کے ذریعے گاندھی خاندان کو نشانے پر لیا جارہا ہے۔ اب وہ ڈھینگڑا کمیشن کی جانچ کوہی مسترد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

جب جج ہی ہڑتال پر چلے جائیں

ہمارے دیش میں آئے دن کچھ عجب ہوتا رہتا ہے۔ دیش میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جج ہی ہڑتال پر چلے گئے۔ دو سال پہلے بنے ریاست تلنگانہ کے 200 جج صرف اس لئے 15 دن کی چھٹی پر چلے گئے کیونکہ عدم رواداری کے الزام میں حیدر آباد ہائی کورٹ نے 11 ججوں کو معطل کردیا۔ دراصل تازہ تنازعہ آندھرا پردیش میں پیدا ہوئے 130 ججوں کو تلنگانہ میں مقرر کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پچھلے دنوں دو ججوں کو معطل کیا تھا۔ اب تک 11 ججوں کو معطل کیا جاچکا ہے۔ تلنگانہ جج ایسوسی ایشن کے بینر تلے گذشتہ دنوں 100 سے زیادہ جج صاحبان نے جلوس نکالا اور گورنر کو آندھرا کے ججوں کی تلنگانہ میں تقرری کے خلاف میمورنڈم بھی سونپا۔مظاہرین ریاست بھر میں احتجاج کررہے ہیں،بنگال میں تو مظاہرین نے کورٹ ہال اور فرنیچرکو بھی نقصان پہنچایا وہیں ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ ججوں کے مظاہرے میں شامل ہونے اور ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے قطعی برداشت نہیں کرے گا۔ نچلی عدالت کے جج آندھراپردیش اور تلنگانہ کے درمیان ججوں کے بٹوارے کی کارروائی سے ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش سے کئی ججوں کو تلنگانہ بھیجنے سے ان کے پرموشن پر اثر پڑے گا۔ دونوں ریاستوں میں فی الحال ایک ہی ہائی کورٹ ہے اوردونوں ریاستوں کے بیچ پانی اور حیدر آباد میں زمین وغیرہ کو لیکر جھگڑا ہوتا رہا ہے۔بتادیں کہ تلنگانہ کو2 جون2014ء کو آندھرا پردیش سے الگ کرکے ریاست بنائی گئی تھی۔ تلنگانہ میں 11 ضلع ہیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ 8 سال تک یعنی2024 ء تک حیدرآباد دونوں ریاستوں کی راجدھانی رہے گی۔ 
تلنگانہ کے جوڈیشیل افسر اور وکیل آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے بیچ جو ججوں کے عارضی الاٹمنٹ کے خلاف6 جون سے تحریک چلا ہرے ہیں۔ جوڈیشیل افسروں کی تحریک کے درمیان تلنگانہ میں ہائی کورٹ قائم نہ ہوپانے کے لئے پی آر ایس نے مرکزی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پی آر ایس ایم پی کے کویتا نے بتایا کہ اس اشو پر ان کے والد اور تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرشیکھرراؤ دہلی میں واقعہ کو لیکر احتجاج جتائیں گے۔ ہڑتالی ججوں کے دو اہم الزام ہیں پہلا حیدر آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں تلنگانہ کی عدالتوں میں 130 ججوں کی بھرتی کی ہے۔ ان کی پیدائش آندھرا پردیش میں ہوئی ہے۔ بھرتی کے وقت تلنگانہ اور آندھرا میں پیدا لوگوں کے لئے ضروری تناسب (40 ،60 ) کی تعمیل نہیں کی گئی اس لئے یہ بھرتیاں غیر قانونی ہیں۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں کل21 ججوں میں سے صرف3 تلنگانہ کے ہیں باقی آندھرا کے ہیں۔ اس تحریک کے چلتے ریاست میں عدلیہ نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ ایک عجب صورتحال ہے۔ ججوں کی ناراضگی پر بلا تاخیرغور ہونا چاہئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے سنجیدہ کوشش بھی ہونی چاہئے۔ سمجھداری اسی میں ہے کہ مرکز اور سپریم کورٹ معاملے میں فوراً مداخلت کریں اور تنازعے کا مناسب اور قابل قبول حل نکالیں۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2016

ترکی میں اس سال کا 14 واں آتنکی حملہ

یوروپ اب پوری طرح سے دہشت گردی کی زد میں ہوچکا ہے۔ منگلوار کی شام ترکی کی راجدھانی استنبول میں کمال اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے پرآٹومیٹک رائفلوں سے مسلح فدائی حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 41 لوگوں کی جان لے لی جس میں غیر ملکی شہری بھی تھے۔ خبروں کے مطابق یہ فدائین حملہ تھا۔ تین حملہ آور ٹیکسی میں آئے اور مسافروں پر تابڑتوڑ گولیاں چلانا شروع کردیں۔ پولیس نے جب فائرنگ کی تو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ ترکی میں آتنکی حملوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں کم سے کم 14 آتنکی حملے ہوچکے ہیں ان میں 200 لوگوں سے زیادہ کی موت ہوچکی ہے۔ ان حملوں میں کم سے کم 8حملے کرد لڑاکو نے کئے۔ اس کے علاوہ بھیڑ بھاڑ والے مشہور علاقوں میں حملوں کے پیچھے داعش کا ہاتھ رہا ہے۔ یوروپ کے کئی بڑے شہروں میں آئی ایس نے آتنکی حملے کئے ہیں۔ پچھلے دنوں بلجیم کے بروسیلس میں ہوئے آتنکی حملے اور استنبول میں حملے میں کئی یکسانیتیں ہیں جنہیں ایک ہی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہونے کا ثبوت مانا جاسکتا ہے۔ دونوں ہی حملوں میں تین آتنکی شامل تھے۔ دونوں ہی حملوں میں آتنک وادیوں نے ہوائی اڈے میں پہلے اندھا دھند فائرنگ کی پھر خود کو اڑالیا۔ بروسیلس میں تیسرے آتنکی نے جہاں پاس کے میٹرو اسٹیشن میں فدائی دھماکہ کیا وہیں استنبول میں تیسرے آتنکی نے پارکنگ لاٹ میں اپنے آپ کو اڑایا۔ جہاں یوروپ ہی آتنک وادی حملوں کے اندیشے کے نتیجوں سے لڑ رہا ہے وہاں ترکی خاص طور سے غیر محفوظ ہے۔ ترکی ۔ یوروپ اور ایشیا کی سرحد پر ہے ۔ وہ دونوں کے درمیان آمدورفت کا مرکز ہے۔ ان کی سرحدیں عراق اور شام سے ملتی ہیں جہاں کافی حصے میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کا راج ہے ۔شام اور عراق سے یوروپ جانے والے مہاجرین بھی ترکی کے راستے ہی جاتے ہیں اور ان مہاجروں کے درمیان ممکن ہے کچھ آتنک وادی بھی ہوں اس وجہ سے بھی ترکی میں پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ترکی کا سب سے بڑا اور یوروپ کا تیسراسب سے مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ اس ہوائی اڈہ کی ویب سائٹ کے مطابق پچھلے سال4 کروڑ10 لاکھ مسافر یہاں سے گزرے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ استنبول میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب رمضان کا مقدس مہینہ چل رہا ہے جو مسلم فرقے کے لئے سب سے پاک مہینہ مانا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں افغانستان میں طالبان نے بھی قہر برپایا وہ بھی رمضان کے مہینے میں ہوا۔ دراصل طالبان اور آئی ایس جیسی تنظیموں کے لئے اسلام کو صرف اپنی گروہ بندی و اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کے اصولوں اور مسلم فرقے کی مذہبی عقیدتوں سے ان کا کوئی میل نہیں ہے۔ ترکی میں آتنکی حملے کے بعد حیدر آباد میں آئی ایس کے 11 مشتبہ آتنک وادیوں کی گرفتاری سے ظاہر ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتے حملوں کے بعد جہاں آتنکی جواہی کارروائی تیز کررہے ہیں وہیں ان کی سرگرمیوں کا دائرہ بھی پھیل رہا ہے۔ حالانکہ استنبول میں حملے کی ذمہ داری کسی آتنکی تنظیم نے نہیں لی ہے لیکن وہاں کے وزیر اعظم طیب نے اس میں آئی ایس کا ہاتھ ہونے کا دعوی کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے یہ حملہ آتنک کے خلاف لڑائی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہونے والا ہے۔ صاف ہے کہ شام پر ہونے والے حملے میں روس کی سانجھیداری پر اعتراض رکھنے اور روسی جہاز کو مار گرانے والا ترکی حملہ کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور ہوگا اور ترکی کو اپنا نظریہ اور حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ یہ اچھے اور برے آتنک وادی کا فرق ختم کرنا ہوگا۔ پچھلے دنوں جب آئی ایس کا سرغنہ ابو بکر البغدادی کو مار گرانے کی خبر مغربی میڈیا میں آئی تھی جس کا سہرہ لیتے ہوئے امریکی صدر براک اوبامہ نے گروپ کی اعلی لیڈر شپ کو ختم کرنے کا دعوی کیا تھا، تو لگا تھا کہ آئی ایس کمزور ہوا ہے۔ لیکن تازہ حملے نے یہ جتا دیا کہ کچھ اقتصادی اور لیڈر شپ سے متعلق نقصان کے باوجود حملہ کرنے کی اس کی صلاحیت برقرار ہے۔ حملے کا مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ آئی ایس کی طاقت الٹے بڑھ رہی ہے ۔
بیشک عراق اور شام میں اس کا تیزی سے صفایا ہورہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا آئی ایس کو کم کرکے دیکھنا شروع کردے۔ دنیا کے کئی دیشوں میں اسلامک اسٹیٹ کے حمایتی موجود ہیں اور بوکھلاہٹ میں وہ خطرناک حملے کرسکتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کے سبھی دیش اپنی سلامتی پر زیادہ دھیان دیں اور دہشت گردی کے خلاف آپسی تعاون بڑھائیں۔ آنے والے دن زیادہ چیلنج بھرے ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...