Translater

09 جولائی 2014

ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جائے رنگا راجن کمیٹی کی بیہودہ رپورٹ!

سابقہ یوپی اے سرکار کی فضیحت کرانے والا غریبی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ اس مرتبہ رنگا راجن کمیٹی کی رپورٹ میں آیا ہے کہ2011-12ء میں دیش میں 36.3 کروڑ غریب تھے۔ بھارت میں غریبی کے تجزیہ ہمیشہ تنازغے کا موضوع رہا ہے۔ جائزے کا طریقہ اور نتائج پر بہت سے ماہر اقتصادیات بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ خط افلاس کی نئی پہچان کو لیکر آنے والی اس رنگا راجن رپورٹ میں کئی ایسے مسئلے اٹھائے ہیں جن پر فکرمند ہونا فطری ہے۔ غریبی ناپنے کے اس نئے پیمانے پر رنگا راجن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شہروں میں روزانہ 47 روپے اور گاؤں میں 32 روپے سے کم خرچ کرنے والوں کو غریب مانا جائے۔ اس سے پہلے سریش تندولکر کمیٹی نے غریبوں کا پیمانہ شہروں میں 33 روپے اور دیہات میں27 روپے طے کیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد دیش میں غریبوں کی تعداد بڑھ کر36.3 کروڑ یعنی کل آبادی کا 29.3 فیصدی ہوگئی ہے جبکہ سریش تندولکر کمیٹی میںیہ تعداد 26.98 کروڑ روپے یعنی 21.9 فیصدی تھی۔ غور طلب ہے کہ ستمبر 2011ء میں یوپی اے سرکار نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ شہروں میں یومیہ 35 اور دیہات میں 27 روپے سے زیادہ خرچ کرنے والے کو مرکز اور ریاستی سرکار وں کی طرف سے غریبوں کے لئے چلائی جارہی اسکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر سی رنگا راجن کو خط افلاس کے تعین کی ذمہ داری سابق منموہن سنگھ سرکار کے زمانے میں دی گئی تھی جبکہ ان کی رپورٹ نریندر مودی سرکار کے زمانے میں ٹھیک بجٹ سے پہلے آئی ہے۔ عام بجٹ سے پہلے آئی اس سفارش نے مودی سرکار کے سامنے ایک مشکل چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ وہ بجٹ میں اس سے کیسے نمٹتی ہے۔ غریبی کے پیمانے طے کرنے کے طریقے کو لیکر کبھی عام رائے نہیں بن پائی اور ہمیشہ بحث چلتی رہی۔ ورلڈ بینک نے 2008ء میں سوا ڈالر کی ایک گلوبل پاورٹی لائن طے کی تھی۔ اس بنیادپر بھارت میں غریبی کا پیمانہ75 روپے کے آس پاس ہونا چاہئے۔کئی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں خوردہ مہنگائی شرح 9 فیصدی کے قریب ہو وہاں ایک مہینے میں 14 روپے سے کچھ زیادہ خرچ کرنے والے کو خوشحال کیسے مانا جاسکتا ہے؟ عام تصور یہ ہے کہ سرکار ہمیشہ خط افلاس کی زندگی سے نیچے رکھنا چاہتی ہے تاکہ رعایتی اسکیموں کے دائرے میں کم لوگ آئیں اور اس پر کم بوجھ پڑے۔ حالانکہ اس رپورٹ کی ایک کڑوی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آزادی کے قریب70 برسوں کے بعد آج بھی ہر تین شہریوں میں سے ایک غریبی کی مار جھیلنے کیلئے مجبور ہے۔ ہمیں پتہ نہیں کہ یہ افسر شاہ کبھی بھی اپنے ایئر کنڈیشن کمروں سے نکل کر عام آدمی کی حالت کو دیکھتے ہوں۔ آج مہنگائی سے سبھی پریشان ہیں روز مرہ کا 100 روپے کمانے والے آدمی کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ جہاں دودھ 50 روپے لیٹر ہو وہاں 47 روپے کانمبر افسوسناک نہیں ہے تو کیا؟ آج کسانوں ،بنکروں، قرض میں دبے دیگر لوگوں کے خودکشی کرنے کی خبریں اور چوطرفہ بے روزگاروں کی بڑھتی قطار سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دیش کے زیادہ تر لوگ کس حالت میں جینے کو مجبور ہیں۔ مسلسل مہنگائی کی مار انہیں اور بھی بے حال کررہی ہے۔ غریبی کے تجزیئے میں اب بھی بہت سے ضروری خرچے نہیں جوڑے جاتے۔ علاج اور تعلیم پر آنے والا خرچ بہت سے لوگوں کو قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر اس طرح کی مد بھی شامل کئے جائیں تو کیسی تصویر ابھرے گی؟ کیونکہ اس رپورٹ کی بنیاد خاص کر شخص کی خرید وسعت پر منحصر ہوتا ہے اس لئے مہنگائی اور افراط شر غریبوں کی تعداد بڑھانے میں سب سے اثردار ہوتے ہیں۔ مودی سرکار نے مہنگائی کے خلاف جنگی سطح پر کارروائی کا ارادہ بنایا ہے اور جمع خوروں اور خالی بازی پر سخت قانون بنانے کی بات کی ہے۔ لیکن اس کا کتنا اثر پڑتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مانسون کا روٹھنا بھی آخر غریبوں کے پیٹ پر اثر ڈالتا دکھائی دے گا کیونکہ ایک کمزور طبقے کی بڑی آبادی زرعی سیکٹر پر منحصر رہتی ہے۔ رہی بات اس رنگاراجن رپورٹ کی تو مودی سرکار بہتر ہو کہ اسے وہ ردی کی ٹوکری میں ڈال کر بنیادی اعدادو شمار کا نئے سرے سے تجزیہ کرے۔
(انل نریندر)

عدلیہ اور سرکار کے دائرۂ اختیارات کا مسئلہ!

سابق سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم کی سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری کے معاملے میں مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں ایک طرح سے ٹکراؤ کاماحول بنا ہوا ہے اس سے بچنا چاہئے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کے دائرہ اختیار کو لیکر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بیچ میں گوپال سبرامنیم کی بطور سپریم کورٹ جج کی تقرری۔ دراصل سپریم کورٹ کے چار ججوں کی تقرری کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی والی منڈل (کولیجیم)نے کولکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ارون مکشا اڑیسہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آدرش کمارگوئل ،سینئر وکیل روہنٹن نریمن اور گوپال سبرامنیم کے نام سرکار کے پاس بھیجے تھے۔ سبرامنیم کو چھوڑ کر سرکار نے باقی تین ناموں پر اپنی مہر لگادی ہے۔ لیکن گوپال سبرامنیم کے نام پر مرکزی سرکار نے اعتراض جتایا ہے اور دوبارہ سے نظرثانی کے لئے اسے کولیجیم کے پاس بھیج دیا ہے۔ سرکار کے رسمی فیصلے کے پہلے ہی میڈیا نے اس بارے میں خبریں عام ہوگئی تھیں کہ مودی سرکار نہیں چاہتی ہے کہ سبرامنیم کی تقرری سپریم کورٹ کے جج کی شکل میں ہو اس لئے حکومت نے کولیجیم کے ذریعے بھیجے گئے چار ناموں میں سے تین پر اپنی تصدیق کردی لیکن سبرامنیم کے نام کو روک لیا۔ چیف جسٹس آر ایم لوڈھا اس وقت بیرون ملک تھے وطن لوٹتے ہوئے وکیلوں کے ایک پروگرام میں سابق چیف جسٹس نے اسے اس معاملے میں سرکار کے رویئے کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کردی تھی۔ انہوں نے اس بات پر خاصی حیرانی جتائے کے سرکار نے اس معاملے میں ان سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔فیصلہ اتنی جلد بازی میں کیا گیا کہ ان کے وطن لوٹنے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ اس سے وہ بہت خفا ہیں جبکہ طے قواعد کے مطابق سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی والی کولیجیم کا ہی فیصلہ آخری ہوتا ہے لیکن حکومت نے اس کی مریادہ نہیں رکھی انہوں نے سرکار کو آگاہ کیا کہ اگر عدلیہ کی آزادی سے کھلواڑ ہوا تو سب سے پہلے میں کرسی چھوڑوں گا۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد سنگھ نے چیف جسٹس لوڈھا کی رائے زنی پر سیدھے طور پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ سرکار نے صرف آئین کے ذریعے ملے اختیارات کا استعمال کیا ہے اور طے قواعد کے مطابق سرکار کسی مسئلے پر نظرثانی کیلئے کوئی معاملہ صرف ایک بار کولیجیم کے پاس بھیج سکتی ہے۔شری پرساد نے کہا کہ سرکار کے پاس یہ اختیار ہے کہ اس بارے میں اس کی رائے لی جائے۔ سرکار کے من میں عدلیہ،سپریم کورٹ اور بھارت کے چیف جسٹس کے لئے سب سے زیادہ احترام ہے۔ پرساد نے کہا میں دوہرانا چاہتاہوں کہ نریندر مودی سرکار عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور سرکار عدلیہ کی آزادی کی حمایتی ہے۔ صاف ہے سرکار اس معاملے کو اس طرح رکھنے کی کوشش کررہی ہے کہ یہاں کسی کے دائرہ اختیار کی خلاف ورزی نہ ہو لیکن یہاں سوال کسی دائرہ اختیار کا نہیں بلکہ ضمیر کے استعمال کا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ججوں کی تقرری کے عمل میں سرکار کی بھی رائے اہم ہوتی ہے۔ کسی خاص معاملے میں اس کے اعتراض کے بعد عام طور پر اسے لسٹ سے ہٹا دیا جاتا ہے لیکن جو مقرر قواعد ہیں کے مطابق سرکار ایسا کرنے سے پہلے عدلیہ کو بھروسے میں لیتی ہے۔ موجودہ معاملے میں تو اس خیر سگالی پر تعمیل نہیں ہوئی۔ دوسرے گوپال سبرامنیم کو لیکر مودی سرکار کا پہلے ہی نظریہ مختلف تھا کہ اس کے فیصلے کوقبل از وقت مانا جاسکتا ہے۔ گوپال سبرامنیم کے تئیں مودی سرکار کی رائے گجرات کے ایک فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں بطورمخالف وکیل ان کے رول کو لیکر بنی تھی۔ ان کی کوششوں سے ہی گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ اور اس وقت کے گجرات سرکارکو ناگزیں حالات سے گزرنا پڑاتھا۔ مودی سرکار کے پاس گوپال سبرامنیم کے خلاف خفیہ جانچ پر مبنی کوئی سنسنی خیز اطلاع تھی تو کم سے کم اسے چیف جسٹس کے ساتھ ضرور شیئرکرنا چاہئے تھا۔ حالانکہ اس معاملے میں گوپال سبرامنیم نے بھی جلد بازی کی۔ انہیں جسٹس لودھا کے وطن لوٹنے کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ میڈیا میں جانے کی اتنی جلدی نہیں دکھانی چاہئے تھی۔ بہرحال سبھی فریقین کی رائے جاننے کے بعد اس معاملے کو ختم مانا جانا چاہئے۔ ہم بس اتنا کہیں گے کہ مودی سرکار کو تھوڑی ذمہ داری سے کام لینا چاہئے تھا۔ ایسے چھوٹے موٹے قصوں سے ہی سرکار کی ساکھ بنتی اور بگرتی ہے اور عدلیہ کی آ زادی اور دائرہ اختیار سے کسی طرح کے تنازعے سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

08 جولائی 2014

بجٹ سیشن ٹھیک ٹھاک چلانا سرکار کیلئے بڑی چنوتی!

سارے دیش کی نظریں پیر سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس پر لگی ہوئی ہیں ایک ماہ سے زیادہ چلنے والے اس سیشن میں دونوں ریل بجٹ اور 2014-15 کے لئے عام بجٹ پیش کئے جانا ہے دیش کو اس اجلاس کاانتظار کئی وجہوں سے ہے یہ نریندر مودی کی سرکار کا پہلا بجٹ اور سالانہ عام بجٹ ہوگا ایک ماہ پرانی مودی سرکار کو اپوزیشن مہنگائی اشو سے لے کر اور لیڈر اپوزیشن جیسے اشو کو اٹھنے کاامکان ہے۔ اپوزیشن مودی سرکار کو مہنگائی کے اشو پر جارحانہ تیور اپنانے کی تیاری میں ہے کانگریس بھاجپا کو گھیرنے کے لئے مہنگائی کو سب سے بڑا اشو مان رہی ہے کانگریس میں تو یہاں تک تذکرہ ہے کہ اگر اسے اپوزیشن کے لیڈر کادرجہ لوک سبھا میں نہیں ملتا تو پارٹی مہنگائی کے اشو پر اپنے سخت تیور اپنا سکتی ہے یہ صحیح ہے کہ حال ہی میں کچھ غذائی اجناس کے دام بڑھے ہے لیکن اس کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ اپنی سطحوں پر قیمتوں پر لگام لگانے کے لئے ہرسطح پر ہرممکن کوشش میں لگی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کم اہم نہیں کہ پارلیمنٹ ٹھیک ٹھاک چلے۔ اس کو چلانے کے لئے لوک سبھا اسپیکر محترمہ سمترامہاجن نے کل جماعتی میٹنگ بلائی تھی اس میں اپوزیشن پارٹیوں نے جو بھی اشو اٹھائے اس پر خاص طور پر مہنگائی کااشو تھا حکومت اس پر بحث کرانے کے لئے تیار دکھائی پڑتی ہے بدلتے سیاسی ماحول میں پارلیمنٹ میں نئے تجزیہ بھی نظر آئیں گے۔ مثال کے طور پر کانگریس اور لیفٹ پارٹیاں جنتا دل یو اور آر جے ڈی کئی اشو پر ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ مہنگائی پر کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں نے مودی سرکار کو گھیرنے کے لئے کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں دونوں نے ہاتھ ملایا ہے دونوں نے ایک آواز میں منریگا غذائی سیکورٹی بل اور آراضی تحویل بل پر مودی سرکار کے رویہ پر سخت مذمت کی ہے کانگریس سیکریٹری جنرل شکیل احمد نے کہا ہے کہ لوگوں کو اچھے دن کا خواب دکھانے والی مانتی ہے کہ لوگوں کو کھانے پینے کے بجائے بہتر ہونے کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے ان کا کہناہے کہ منریگا سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملا ہے مگر مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ اس پر زیادہ خرچ ہونے کی وجہ سے دیش میں ضروری اشیاء کے دام بڑھ رہے ہیں۔ مودی سرکار کے سامنے اپنے پہلے بجٹ سیشن کو ٹھیک ٹھاک اور پرامن طریقے سے چلانے کا چیلنج ہے مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں جب اقتدار میں ہوتی ہے تو تب ان کا برتاؤ کچھ اور ہوتا ہے اور جب اپوزیشن میں ہوتی ہے ان کا برتاؤ بالکل بدل جاتا ہے کبھی کبھی الٹا بھی ہوجاتا ہے ریل کرایہ کے اضافے پر بھی سرکار کو گھیرا جائے گا کم تعداد ہونے کے سبب کانگریس پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر سرکار کو چنوتی دے گی۔ دیش کو مودی سرکار کے پہلے بجٹ سے بہت امیدیں ہے انتہائی خراب معیشت نئے سرے سے رفتار دینے کی سخت ضرورت ہے اس لئے بھی تین دہائی بعد اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی حکمراں اور حاشیہ پر لگی اپوزیشن کے درمیان کیسا تال میل دیکھنے کو ملتا ہے اس پر بھی بہت کچھ منحصر کرے گا حکومت نے کہا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلناچاہتی ہے لیکن اپوزیشن کے تیور اور یہ اشارہ دے رہے ہیں دیکھیں یہ پارلیمنٹ سیشن کیسا چلتا ہے؟

 (انل نریندر)

بھارتیہ ریل کا شاندار کارنامہ جے ماتا دی!

پچھلے ہفتے بھارتیہ ریل نے دوکارنامے اپنے نام کئے ہے پہلا برسوں سے فائلوں میں اٹکا اہم ترین بلٹ ٹرین پروجیکٹ کو زمین پر اتارنا وہی دوسری طرف دہائیوں سے یقین دہانیوں اور وعدوں میں چل رہی ہے جموں کٹرہ ریل پروجیکٹ کو پورا کرکے کشمیر کے عوام کے علاوہ دیش دنیا سے آنے والے ماں وشنو دیوی کے کروڑوں بھکتوں کی تمناؤں کو پورا کرکے تحفہ دینا وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کی صبح اہم ترین کٹرہ ادھم پور ریل لائن کاافتتاح کیا وشنو دیوی تیرتھ استھل کی بنیاد شیور کٹرہ سے نئی ٹرین کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے وزیراعظم نے اس ٹرین کا نام شری شکتی ایکسپریس رکھنے کی تجویز بھی رکھی۔ مودی نے ٹرین روانہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ماتا وشنو دیوی کے کروڑوں بھکتوں کو مبارک باد دیتا ہوں وہ لوگ جو دیش بھر سے یہاں تیرتھ یاترا کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ اب ان کے لئے یہ سفر آسان ہوجائیگا۔ یہ نیا ریل لنگ جموں کشمیر میں ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا۔ مودی نے اٹل بہاری واجپئی کے ذریعے شروع کردہ یہ یاترا جاری رہے گی ہماری ترجیح ترقی کے ذریعے اس ریاست کے ہرشہری کا دل جیتنا ہے 132.75 کلو میٹر لمبی ا ودھم پور کٹرہ لائن کا فی طویل انتظار کے بعد شروع ہوئی۔ یہ لائن (25کلومیٹر) میں ساتھ سرنگوں اور تیس سے زیادہ چھوٹے بڑے پل بنے ہے 53کلو میٹر لمبی اودھم پور ریلوے لائن پہلے ہی چالو ہوچکی ہے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کٹرہ سے اودھم پور ہری جھنڈی دکھانے کے ساتھ وشنو دیوی کے بھکتوں کا ماں کے دربار میں ٹرین سے پہنچنے کا برسوں پرانا خواب پورا ہوگیا ہے۔ کروڑوں تیرتھ یاتری اب کسی بھی دیش کے کونے سے اب سیدھے کٹرہ پہنچ سکتے ہیں ۔ کٹرہ ریلوے اسٹیشن میں چار نئے پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں جہاں 26بوگیوں کی ٹرین کھڑی ہوسکتی ہے۔ 8 ریٹائرین روم ہے پوری طرح سے ائر کنڈیشن ہوٹل اور شاپنگ لانچ کا انتظام ہے تین جوڑی ٹرینیں جموں توی اور کٹر ہ کے درمیان چلے گی۔1898میں مہارانا پرتاپ سنگھ نے پہلی بار سری نگر کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کا خواب دیکھا تھا 1905میں برطانیہ نے راولپنڈی کے راستے سری نگر کو جوڑنے کی اسکیم بنائی تھی 2002میں اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے جموں اودھم پور لائن کو منظوری دی تھی اور قومی پروجیکٹ قرار دیا تھا 2010 تک جموں سری نگر ریل پروجیکٹ کو پورا کرنے کا نشانہ ہے دہلی آگرہ ے درمیان بلٹ ٹرین کا کامیاب تجربہ بھی ٹورزم ترقی کے نکتہ نظر سے قابل قدر ہے تاج محل دنیا میں سیاحوں کے نظریہ سے تیسرا سب سے بڑا پسندیدہ مقام ہے اور اترپردیش جیسی ریاست کی 25% سیاحت سے آمدنی میں صرف تاج کے چلتے آگرہ سے آتی ہے ایسی سہولت سے آراستہ ٹرینوں سے ملکی اور غیرملکی سیاحوں کا اثر بڑھے گا ہم ہندوستانی ریل کو ان دونوں شاندار کارناموں پر مبارک باد دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے افتتاحی تقریب میں کہا ہے کہ ترقی کا مطلب دور سے دور بیٹھے آخری آدمی تک روشنی کافروغ ہے اور یہی مقصد دراصل ریلوے کا بھی ہوناچاہئے۔

 (انل نریندر)

06 جولائی 2014

دہلی میں بھاجپا کا تیزی سے گرتا گراف!

راجدھانی دہلی میں بھاجپا نیتا و کاریہ کرتاجنتا سے آج کل نظریں بچائے گھوم رہے ہیں۔ریل کرائے میں بے موسم کئے گئے اضافے اور غذائی اشیاء کی بڑھی قیمتوں پر جنتا کا جواب کسی بھی بھاجپائی کے پاس نہیں ہے۔ صرف سوا مہینے پہلے جن نیتاؤں سے ملنے کی لوگوں میں دلچسپی تھی مودی سرکار میں بڑھی مہنگائی نے نکتہ چینی کا کردار بنا دیا ہے۔یہ اس دہلی کا حال ہے جہاں پر بھاجپا ساتوں کی سات لوک سبھا سیٹیں جیتی تھی۔ لوک سبھا چناؤپرچار کے دوران بھاجپا کے اسٹار پرچارک نریندر مودی کے ذریعے بار بار یہ دوہرانا کہ ’’اچھے دن آنے والے ہیں‘‘ آج کل اس جملے کا مخالف زبردست پرچار کررہے ہیں۔ کل ملاکر یہ جملہ لگاتار بھاجپا پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اگر بھاجپا حکمت عملی سازوں نے اس کی کاٹ نہیں ڈھونڈی تو لوگوں کے اچھے دن آئیں یا نہیں آئیں لیکن آنے والے مہینوں میں اسمبلی چناؤ کے دوران شاید بھاجپا کے اچھے دن پلٹ جائیں۔حال میں سب سے زیادہ ووٹ پانے کے بعد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری بھاجپا کے ممبران اسمبلی کو فوری چناؤ میں اترنا پڑے تو ان کے ہاتھ سے کرسی کھس سکتی ہے۔ کیندر میں سرکار بننے کے بعد بھی دہلی میں سرکار بنانے کے معاملے میں اب تک سیاسی دلوں نے پتتے نہیں کھولے ہیں لیکن حال میں آئے ایک سروے میں بھاجپا کی حالت دہلی میں پتلی ہوئی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ہر اسمبلی کے حساب سے حال ہی میں قریب40 ہزار لوگوں پر سروے کیا گیا ہے اس میں بھاجپا کا گراف ایک دم نیچے گرا ہے۔اس کی بڑی وجہ صارفین کو ملنے والی بجلی چھوٹ کا ختم ہونا، مہنگائی بڑھنا،ڈیزل پیٹرول کی قیمتیں بڑھنا اور ریلوے میں ہوئے اضافے شامل ہیں۔ اگر اس حالت میں بھاجپا کو چناؤ میں جانا پڑتا ہے تو اس کا سیدھا فائدہ عام آدمی پارٹی کو ملے گا کیونکہ کانگریس کو بھی مہنگائی کی وجہ سے ہی اقتدار گنوانا پڑا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھاجپاممبر اسمبلی نہیں چاہتے ہیں کہ جلد اسمبلی چناؤ ہوں۔جنتا میں اس بات کا بھی غصہ پھیل رہا ہے کہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے مہنگائی کولیکر یوپی اے سرکارکی دلیلوں کی کھلی اڑانے والی بھاجپا سرکار بھی انہیں دلیلوں کو دوہرا رہی ہے۔ مہنگائی روکنے کے اپائے تلاشنے کے لئے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جارہی۔ جمع خوری، مانسون کی کمی وغیرہ وہی دلیلیں دی جارہی ہیں جو منموہن سرکار دیتی تھی۔ سیاسی حالات کو بھانپتے ہوئے اروند کیجریوال ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔
لوک سبھا چناؤ میں اپنی سیاسی چمک دکھانے میں ناکام ثابت ہوئے ریاست کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال دہلی میں اپنی کھوئی طاقت کو واپس پانے کی کوشش میں مستعدی سے جٹ گئے ہیں۔ وہ راشٹرپتی، لیفٹیننٹ گورنر سے مل کر جلد سے جلد اسمبلی چناؤ کروانے کی مانگ کررہے ہیں۔ راشٹرپتی پرنب مکھرجی سے جمعرات کو کی گئی ملاقات بھی ان کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ پہلے سرکار بنانے کی پہل کرنے والی عام آدمی پارٹی اب چناؤ کیوں کرانا چاہتی ہے؟ سیاسی گلیارے میں چرچا یہ ہورہی ہے کہ اگر بھاجپا شاست مرکزی سرکار نے عام چناؤ کے فوراً بعد دہلی کی ودھان سبھا بھنگ کر چناؤ کرانے کا اعلان کردیا ہوتا تو اس کا زبردست فائدہ ملتا لیکن دہلی کے سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ گرمی کے مہینے میں بجلی، پانی کی زبردست قلت کے بعد اب شہر میں مہنگائی کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پیٹرول ، ڈیزل اور گیس سیلنڈر کی مہنگائی کے علاوہ آلو ،پیاز جیسی کھانے پینے کے سامان کی قیمت بھی سرکار کے لئے مصیبت بن رہی ہے۔ کل ملا کر دھیرے دھیرے ایسا ماحول بن رہا ہے جو بھاجپا کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔ سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی پانی کو لیکر کانگریس نے شہر میں بھلے ہی دھرنا پردرشن کر سیاسی ماحول کر گرمایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہلی والوں نے کچھ ہی مہینے پہلے اسی مہنگائی ، بجلی ، پانی کی قلت و گھوٹالوں کولیکر کانگریس کو نکارا ہے۔ پہلے اسمبلی میں اور پھر لوک سبھا چناؤمیں۔ ایسے میں موجودہ سیاسی حالات کا فائدہ کانگریس کو ملنے کی امید نہیں دکھتی۔چرچہ اس بات کی ہورہی ہے کہ اگر مرکزی و دہلی سرکار کہ آئندہ بجٹ سے دہلی کے لوگوں کو کچھ ٹھوس حاصل نہیں ہوا تو کیجریوال اور ان کی ’آپ‘ پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اروند کیجریوال عام چناؤ کی بات کرنے لگے ہیں۔
(انل نریندر)

جہیزہراسانی قانون کا غلط استعمال روکنے کیلئے حوصلہ افزا پہل!

سپریم کورٹ نے عام شہری کی دکھتی رگ کو پکڑا ہے۔ جہیز جیسی لعنت کو روکنے کے لئے بنایاگیا قانون کیسے کئی بار معصوموں کو ہراساں کرنے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس پر عدالت کی نظر گئی ہے۔ جہیز مخالف قانون ان چنندہ قانونوں میں سے ایک ہے جس کا سب سے زیادہ غلط استعمال کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیکر اس اہم قانونی کمی کو ہی دورکیا ہے۔ اس میں کئی دورائے نہیں کہ جہیز کا معاملہ بیحد حساس ہے اورجہیز کیلئے ہراساں کرنیاور پریشان کرنے سے متعلق اور غیر ضمانتی قانون کے باوجود ایسے معاملے کم نہیں ہورہے ہیں لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی گمبھیر ہے کہ اس کی آڑ میں اکثر پتی اور سسرال والوں کو جبراً پھنسادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے برسوں برس انہیں جیل میں رہنا پڑتا ہے۔ حقیقت میں جہیز مخالف اس قانون کے غلط استعمال کا حال یہ ہے کہ پولیس 93 فیصد معاملوں میں توچارج شیٹ کر پاتی ہے لیکن صرف15 فیصد معاملوں میں ہی سزا ہوپاتی ہے اور باقی معاملوں میں ملزم بری ہوجاتے ہیں۔انڈین پینل کورٹ کی دفعہ498A میں درج اس قانون کی گنجائشات اتنی کڑی ہیں کہ ذکر آتے ہی متاثرہ لوگوں کی روح کانپ جاتی ہے۔اس میں رپورٹ درج ہوتے ہی پتی اور اس کے خاندان کی گرفتاری کی گنجائش ہے۔ایسے معاملوں میں ضمانت کا طریقہ بھی بیحد مشکل اورسخت ہے۔ قانون کو اتنا سخت بنانے کا مقصد جہیز جیسی لعنت کو مٹانا اور اس کی خاطر ہونے والے قتل جیسے سنگین جرم پر روک لگانا تھا۔نئی شادی شدہ خواتین کو اس ظلم سے راحت ملنا سوبھاوک تھا لیکن زیادہ تر معاملوں میں یہ دیکھا گیا کہ خودغرض عناصر نے اسے ہی ظلم کا اوزار بنا لیا۔ معمولی گھریلو جھگڑوں سے لیکر دیگر چھوٹی بڑی وجوہات سے اس کے غلط استعمال کے قصے سامنے آنے لگے اور متاثرہ پریوار کی عورتوں اور بچیاں تک اس کا شکار ہوکر جیل میں سالوں رہنے پر مجبور ہوئے۔ سپریم کورٹ کی دو ممبری بینچ نے اس قانون کے غلط استعمال پر فکر کرتے ہوئے سبھی ریاستی سرکاروں کو ہدایت دی ہے کہ ایسے معاملوں میں پولیس انڈین پینل کورٹ کی دفعہ298A کے تحت گرفتاری سے پہلے حقائق اچھی طرح جان لے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جہیز ہتیا کے معاملے میں کسی شخص پر مقدمہ چلانے کے لئے اسے اس وقت تک رشتہ دار نہیں مانا جاسکتا جب تک کہ شوہر سے اس کاخونی ؍شادی یا گود لئے جانے کا رشتہ نہیں ہو۔ بدھوار کو جسٹس چندر مولی کے پرساد و جسٹس پی۔ سی۔ گھوش کی بنچ نے کہا کہ ناراض بیویوں کے ذریعے شوہر اور سسرال کے لوگوں کے خلاف جہیز مخالف قانون کے غلط استعمال پر فکر جتاتے ہوئے کہا کہ پولیس ایسے معاملوں میںیکدم ملزمین کو گرفتار نہیں کرسکتی۔ پولیس کو ایسا کرنے کیلئے وجہ بتانی ہوگی جس کی قانونی جانچ کی جائے گی۔ اس کیلئے سبھی ریاستی سرکاروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جہیز مخالف سمیت 7 سال کی سزا والے سبھی جرم میں گرفتاری کا سہارا نہ لیا جائے۔ جہیز اگر ایک سماجی برائی ہے تو بدلتے سماج کی سچائیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ سماجک دباؤ رہن سہن کے طریقوں میں بدلاؤ اور مالی طور پر بہتر ہونے کی چاہت نے میاں بیوی کے رشتوں کو بھی بدلہ ہے جس کا نتیجہ جہیز کے جھوٹے معاملوں کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہمت والا تو ہے ہی لیکن اس نے ایک بڑی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 8 ہزار اموات ہر سال جہیز ہراسانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہیز کے خلاف لڑائی صرف قانون سے نہیں لڑی جاسکتی اس کے لئے بڑے پیمانے پر سماجی بدلاؤ کی بھی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اس سے اچھے قانون کا غلط استعمال رک سکے گا۔
(انل نریندر)

05 جولائی 2014

جب منتری جاوڑیکر نے تاخیر سے آئے ملازمین کو چھٹی پر بھیجا!

وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر پرکاش جاوڑیکر نے پیر کے روز اچانک اپنی وزارت میں چھاپہ مارا اوردفتر میں پایا کہ بہت سے افسران غائب ہیں۔ تاخیرسے دفتر پہنچنے والے بابوؤں کے پسینے چھوٹ گئے۔ انہیں پتہ چلا کہ حاضری رجسٹر وزیر موصوف اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ کچھ دیر بعد چپڑاسی نے انہیں چھٹی کی درخواست تھمادی اور دیکھتے ہی دیکھتے وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر پرکاش جاوڑیکر کے کمرے کے باہر چھٹی کی درخواست لے کر کھڑے بابوؤں کی لائن لگ گئی۔ قریب200 ملازمین کو زبردستی ایک دن کی چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ دراصل جاوڑیکر صاحب مسلسل شعبہ جاتی ملازمین کو وقت پر دفترآنے کی ہدایت دے رہے تھے لیکن کسی نے ان کی نہ سنی۔ پیر کے روز وہ خود صبح9 بجے دفتر پہنچ گئے اور 9:30 بجے انہوں نے وزارت کے ہر کمرے کا معائنہ کیا اور دیکھا کہ ملازمین کی برائے نام حاضری ہے اور وہ اپنے کمرے میں پہنچے اور حاضری رجسٹر منگالیا۔ ملازمین دیر سے دفتر پہنچے تو انہیں چپڑاسیوں نے چھٹی کا فارم تھمادیا۔ یہ بھی کہا کہ اسے بھر کر منتری جی سے چھٹی لینی ہوگی۔ دیر سے آنے والے بابوؤں کو وزیر موصوف نے پہلے جھاڑ پلائی اور پھر ایک دن کی چھٹی پر بھیج دیا۔ جاوڑیکر کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ہے کام وقت پر ہو، بابو گیری کم ہو کام زیادہ اور کم از کم گورمنٹ اور زیادہ گورننس محکمے میں لاگو ہو۔ مسٹر جاوڑیکر نے200 لیٹ لطیف بابوؤں کو ایک دن کی علامتی چھٹی پر بھیج کر صحیح پیغام دیا ہے۔ پیر کو وقت سے پہلے وزارت پہنچے منتری جی جب اپنے کمرے میں جانے کے بجائے دفتروں کے چمبروں کی طرف مڑے تو انہیں 200 کرسیاں خالی پڑی ملیں۔وزیر موصوف نے خالی کرسیوں کی اپنی موبائل سے تصویریں کھینچی پھر آنے والے لیٹ لطیف بابوؤں کو اپنے پاس بھیجنے کو کہا۔ سب کو شخصی وارننگ دی گئی۔وزیر شہری ترقی وینکیا نائیڈو نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی وزارت کا اچانک معائنہ کیا تو انہیں بھی اپنی وزارت میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے محض وارننگ دے کر سب کو سدھرنے اور اپنا رویہ بدلنے کی ہدایت دی۔ یہ حکومت بدلاؤ کو لیکر مینڈیڈ لیکر آئی ہے اور وزیر اعظم سے لیکر وزیر تک بدلے ہوئے رویئے اور محنت اور لگن اور عوام کی توقعات کی تکمیل اور انصاف کی تکمیل کے لئے 100فیصد خود کو وقف کرنے کی مثال قائم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ تبدیلی اکیلے وزیر اعظم اور وزرا کے بدلے جانے سے آجائے گی جبکہ ان کی وزارت میں چراغ تلے اندھیرا ہی بنا رہے۔ اس لئے وزیر اعظم نے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بڑے محکموں کے سکریٹریوں کے ساتھ سیدھے رابطہ قائم کیا۔ بتایا جاتا ہے افسر شاہی اشاروں کو جلد ہی اپناتی ہے لیکن دو محکموں کے اچانک معائنے سے تو لگتا ہے کہ تبدیلی کا پیغام ٹھیک سے نیچے تک نہیں پہنچا ہے۔ سکریٹریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نیچے کی مشینری پر شکنجہ کسیں اور سرکار کی منشا کے مطابق 100 فیصدی ڈلیوری یقینی کریں۔ ہم پرکاش جاوڑیکر اور وینکیا نائیڈو کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...