Translater

24 جولائی 2013

میڈیکل کے مشترکہ امتحان پر سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ!

ڈاکٹر بننے کی چاہت رکھنے والے لڑکوں کو سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے زبردست جھٹکا لگنا فطری ہے۔ اب انہیں پھر سے دیش میں گھوم گھوم کر مختلف میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان دینے پڑیں گے۔ کالجوں کے مہنگے پروسپیکٹس خریدنے میں ان کو اپنی جیبیں خالی کرنی پڑیں گے اور لاکھوں کروڑوں روپے کے ڈونیشن بازار پھرسے گرم ہوجائیں گے۔ سپریم کورٹ نے میڈیکل اور ڈینٹل کورسز میں داخلے کے لئے نیٹ یعنی قومی اہلیت ایڈمیشن ٹیسٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا ہے۔ غور طلب ہے کہ معاملے کی سماعت کررہی تین نفری بنچ کے ایک جج نے اس سے نا اتفاقی ظاہر کی ہے لیکن اکثریت سے آئے فیصلے کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ این سی آئی یعنی بھارتیہ میڈیکل کونسل کو یہ امتحان کرانے کااختیار نہیں ہے۔ اس کا کام میڈیکل کاروبار سے متعلق گائڈلائنس اور پیمانے طے کرنے تک محدود ہے۔ عدالت کا کہنا ہے بھارتیہ میڈیکل یا ڈینٹل کونسل کو ایسا ٹیسٹ لینے کا اختیار ہی نہیں ہے جس سے ریاستوں کے پرائیویٹ یا اقلیتی اداروں کے ذریعے چلائے جانے والے میڈیکل کالجوں کے اختیارات کی عدولی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے میڈیکل تعلیم اور غیر برابری کے اس چوراہے پر لاکر کھڑا کردیا ہے جہاں سے چار سال پہلے عدالت عظمیٰ نے ایک امتحان لینے کی راہ دکھائی تھی اور داخلے کے لئے 40-40 لاکھ روپے لیکر 1 کروڑ روپے تک وصولے جاتے تھے جس سے غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لئے میڈیکل تعلیم کا حصول مشکل ہوگیا تھا۔ نیٹ سسٹم لاگو ہونے سے ایسے نجی میڈیکل کالجوں پر روک لگی تھی مگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب وہ پھر سے اپنے یہاں داخلے شروع کرسکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدالت نے یہ فیصلہ نفع نقصان کو ذہن میں رکھ کر کیا ہے؟ این آئی ٹی کی ضرورت اس لئے پڑی کے میڈیکل اور ڈینٹل کورسز میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کو نجی میڈیکل کالجوں سے لیکر سینٹرل اور ریاستی سطح کے اداروں تک الگ الگ درجنوں امتحانات میں بیٹھنا پڑتا تھا اس سے وہ برابر الجھن اور کشیدگی میں رہتے تھے۔ اور بہت سارے امتحانات کے لئے تیاری اور دوروں کے سلسلے میں ان کا کافی پیسہ بھی خرچ ہوتا تھا۔پرائیویٹ کالجوں کے علاوہ بہت سی ریاستوں نے بھی مشترکہ داخلہ ٹیسٹ پر اعتراض جتایا تھا۔ ان کی پریشانی اس بات کو لیکر تھی کہ ریاستیں اپنے کوٹے کو کیسے نافذ کر پائیں گی۔ مگر چاہے سرکاری اداروں میں ریزرویشن کا سوال ہو یا پرائیویٹ کالجوں میں مینجمنٹ کے کوٹے کا ،یہ سوال سلجھا لئے گئے تھے۔ اس طرح این ای ٹی نے ساری رکاوٹیں ختم کردی تھیں جنہیں اس کی ایک عام مشکل کہا جاتا تھا۔سال کے لئے مشترکہ ایڈمیشن ٹیسٹ منعقد ہوچکا تھا۔ایسے مقام پر پہنچ کر اس پر روک لگانا مایوس کن ہے۔ اس فیصلے سے بہت سے سوال بے جواب رہ گئے ہیں جن کی طرف سے فیصلے پر نااتفاقی ظاہر کرنے والے جسٹس اے ۔ آر۔دوے نے اشارہ دیا ہے کہ نیٹ سسٹم ختم ہونے پر مختلف کالجوں میں داخلے سے متعلق داخلہ امتحانات کے سبب غریب اور ٹیلنٹڈ طلبہ کو جسمانی اور اقتصادی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جسٹس التمش کبیر اور ان کے ساتھ اتفاق جتانے والے جسٹس وکرم جیت سین نے اپنے فیصلے میں اس کو منسوخ کردیا ہے لیکن اس بات پر روشنی نہیں ڈالی کہ آخر چار برس پہلے اسی عدالت کی ایک دو نفری بنچ نے سبھی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا یکساں نظام رائج کرنے کا قدم کیوں اٹھایا تھا؟ این سی آئی کا جواز تو اپنی جگہ پر ہے لیکن پرانا سسٹم لاگو ہونے کے بعد دیش بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں اب 50 سے زیادہ ایڈمیشن امتحانات میں بیٹھنا ہوگا ،جس میں وہ ہی طالبعلم شامل ہوسکیں گے جن کے پاس پیسہ اور وسائل ہوں گے۔ اس راستے سے کن کن کو داخلہ ملے گا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس سال دیش کے 271 میڈیکل ڈینٹل کالجوں کے 30 ہزار گریجویٹ اور 11 ہزار پوسٹ گریجویٹ سیٹوں کے لئے ہوئے امتحان میں 7 لاکھ سے زیادہ لڑکے بیٹھے تھے۔ شکر ہے کے عدالت نے اس امتحان کو منسوخ نہیں کیا۔ پورا امکان ہے کے مرکزی سرکار اوروزارت صحت اس فیصلے کے خلاف نظرثانی عرضی کی مانگ کو لیکر سپریم کورٹ پہنچیں۔ بنیادی اصول ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں بلکہ انصاف ہوتا دکھائی بھی دینا چاہئے۔
(انل نریندر)

سی جی ایم کی بیوی گیتانجلی کا قتل یا خودکشی؟

گوڑ گاؤں کے سی جی ایم رونیت گرگ کی اہلیہ گیتانجلی کی موت کا معاملہ الجھتا جارہا ہے۔ وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو سخت کارروائی کے احکامات دئے ہیں لیکن گیتانجلی کے رشتے دار اسے لیکرمطمئن نہیں لگتے اور وہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کررہے ہیں۔ سی جی ایم کی بیوی گیتانجلی کی لاش 16 جولائی کو ان کے گھر کے پاس ملی تھی۔ پنچکولہ کے باشندے گیتانجلی کے والد اوم پرکاش اگروال اور ماں شیلاوتی، بہن گارگی نے گیتانجلی کے قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔ اوم پرکاش اگروال نے بھی الزام لگایا کے چنڈی گڑھ کے ریٹائرڈ سیشن جج و گیتانجلی کے سسر کے ۔کے۔ گرگ نے سب سے زیادہ ان کی بیٹی کو پریشان کیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے تقریباً ساڑھے تین بجے گیتانجلی سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔ تب ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے لگے کے وہ خودکشی کر لے گی۔ اگروال کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسے خودکشی کا معاملہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن دباؤکے چلتے قتل کا کیس درج کرلیا گیا۔انہوں نے کہا رونیت گرگ و اس کے خاندان کے لوگ بااثر ہیں اور وہ مقامی پولیس کی جانچ کومتاثر کرسکتے ہیں۔ ایک رشتے دار نے بتایا گیتانجلی نے واردات والے دن شام 7 بجے گھر فون کیاتھا۔ رونیت گرگ کی چچیری بہن نے فون اٹھا کر کہا تھا کہ مامی ابھی مارکیٹ گئی ہے جبکہ اس سے کافی پہلے گیتانجلی کی موت ہوچکی تھی۔ گیتانجلی کی ماں شیلا وتی ، مامی سریتا اگروال کا کہنا ہے گیتانجلی کی موت سے پہلے جس طرح گڑ گاؤں والے گھر میں نوکروں کو چھٹی پر بھیجا گیا ، وہ بھی شک پیدا کرتا ہے۔ گیتانجلی کے پھوپھی زاد بھائی راکیش گرگ نے میڈیا کو بتایا کہ سی جی ایم رونیت گرگ کے کسی لڑکی کے ساتھ ناجائز رشتے تھے اسی کے چلتے گیتانجلی کو پریشان کیا جارہا تھا۔ ادھر سنیچر کی شام سوا سات بجے سے رات سوا گیارہ بجے تک سی جی ایم سے ایس آئی ٹی نے پالم وہار میں واقع دفتر میں پوچھ تاچھ کی۔ اس دوران اسے اپنے 20 سوالوں کے پختہ جواب نہیں مل پائے۔ سی جی ایم نے واردات کے وقت کورٹ میں ہونے کی بات کہی ہے۔ بیوی سے کسی طرح کی لڑائی سے رونیت نے صاف انکارکیا ہے ساتھ ہی گیتانجلی کے رشتے داروں کے الزامات کو سرے سے مسترد کردیا۔ ایس آئی ٹی نے سی جی ایم کے ڈرائیور اوربندوقچی سے الگ الگ بات چیت کی ہے۔ بدھوار کی شام پانچ بجے پولیس لائن میں گیتانجلی کی لاش ملی تھی جس کی شناخت کافی دیر بعد سی جی ایم رونیت گرگ نے اپنی بیوی گیتانجلی کی شکل میں کی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گیتانجلی کو تین گولیاں لگنے اور سر کے پیچھے زخم ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایس آئی ٹی کو ریوالور سے فائر کی گئی گولی کے خول ابھی تک نہیں ملے ہیں حالانکہ پولیس نے تین لیپ ٹاپ ریوالور کا لائسنس اور گیتانجلی کا موبائل قبضے میں لے لیا ہے۔ رشتے داروں اور سی جی ایم کی ماں سے بھی پولیس نے پوچھ تاچھ کی ہے۔تازہ خبر کے مطابق پولیس کو شبہ ہے جانچ رونیت گرگ کی چچیری بہن حنا کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے اس نے بیان میں غلط جانکاری دی تھی اس سے لگتا ہے کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ گیتانجلی کے رشتے داروں کے ساتھ چنڈی گڑھ کے سیکٹر 25 میں واقع 63 نمبر کی کوٹھی میں رہتی تھی۔ واردات کے تین دن پہلے ہی وہ گوڑ گاؤں آئی تھی۔ رونیت پر اس کی زیادتیوں کے الزام گیتانجلی کے رشتے دار پہلے ہی لگا چکے ہیں۔ معاملہ قتل کا ہے یا خودکشی کا یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2013

ان علیحدگی پسندوں کا مقصد صاف ہے امرناتھ یاترا میں رکاوٹ ڈالنا!

کشمیر میں حالات پھر سے بگاڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ایک چھوٹے سے واقعہ کا بہانہ بنا کر حالات کو 1990ء کی دہائی میں پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔معمولی بات پر ہوئے جھگڑے کے بعد رام بن کے گل علاقے میں بی ایس ایف پر مشتعل بھیڑ نے حملہ بول دیا۔ اس پر قابو پانے کے لئے سکیورٹی فورسز نے فائرننگ کی جس میں کم سے کم 4 لوگوں کی موت ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ بی ایس ایف نے اپنی حفاظت میں مجبوری میں اٹھایاگیا قدم بتایا۔ پورے واقعے پر اپنا پہلو رکھتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ جب بے قابو ہوکر کیمپ میں گھسنے لگی تب اس کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ سمجھانے اور معاملے کو خاموش کرنے کی سبھی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ہی مشتعل بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے اس کے جوانوں کو مجبوری میں گولیاں چلانی پڑیں۔ بیان میں بی ایس ایف نے واقعہ کے اسباب کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ بتایا کہ جمعرات کی صبح سویرے تقریباً5 بجے بی ایس ایف کی ایک گشتی ٹیم نے 25 سالہ محمد لطیف کو روکا اور اس سے شناختی کارڈ دکھانے کے لئے کہا۔ لطیف واپس چلاگیا اور اس نے15-20 لوگوں کو اکٹھا کر گشتی ٹیم کو روک لیا۔اس دوران انہوں نے لڑکوں نے گشتی ٹیم کے ممبروں پربدتمیزی کرنے کا الزام لگایا ۔ اسی درمیان مقامی مسجد سے اعلان کرکے گشتی ٹیم پرالزام لگایا کے قرآن شریف کی بے حرمتی کی گئی۔ بس پھر کیا تھا مقامی لوگوں نے بی ایس ایف لوگوں کو گھیر کر پتھر بازی شروع کردی۔ جب بھیڑ نے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو بی ایس ایف نے اپنی حفاظت کے لئے فائرننگ کی جس میں6 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اس واقعے سے کشمیر کٹرپنتھی علیحدگی پسندوں کو حالات خراب کرنے کا موقعہ مل گیا۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ کٹرپسند لیڈر علی شاہ گیلانی نے اپنے ہڑتال کے کلینڈرکو تھیلے سے باہر نکالنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ دراصل وہ اپنے حریف علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ عمر فاروق سے کچھ قدم آگے نکل پڑے اور اپنا الگ پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔یہ ہی وجہ تھی کہ دیگر علیحدگی پسندوں نے وادی میں تین دن کی ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہاسکیورٹی فورسز کشمیریوں کو ختم کرنا چاہتی ہے اور ان کے اعلان کا خاتمہ یہیں نہیں ہوتا بلکہ کہتے ہیں کہ تین دنوں میں ہڑتال اور مظاہروں کے بعد ایتوار کو آگے کی حکمت عملی بتائی جائے گی۔ ایسے وقت میں جب کشمیر میں سیاحوں کی آمد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور امرناتھ یاترا کے سبب عام کشمیری اپنی روزی روٹی پیدا کرنے میں لگا ہوا ہے، سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کئی سالوں کے بعد ان موتوں کو بھنانے کی علیحدگی پسندکوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ حقیقت میں کشمیر کو 1990ء کی دہائی میں اس واقعے نے پہنچادیا ہے۔ ان علیحدگی پسندوں اور کٹرپسندوں کا ایک پوشیدہ مقصد نظر آرہا ہے یہ ہے امرناتھ یاترا میں رکاوٹ ڈالنا۔ اس مظاہرے اور واقعے کے پیچھے کٹرپسندوں کی سازش کی بو آرہی ہے۔ یہ جان بوجھ کر فائرننگ پر دہشت پھیلا رہے ہیں تاکہ کسی طرح امرناتھ یاترا میں رکاوٹ کھڑی ہوسکے۔ ہر برس کروڑوں ہندوؤں کی شردھا کا مرکز برفانی بابا کے درشن کے لئے یاترا شروع ہوتی ہے۔ ہر برس دہشت گرد اور علیحدگی پسند طاقتیں یاترا میں رکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہیں۔ آتنک وادیوں کے ذریعے ہندوؤں کی عقیدت سے کھلواڑ کا یہ سلسلہ 1993ء سے شروع ہوا ہے۔ 1992ء میں بابری مسجد مسماری کے بعد یاترا روکنے کے لئے حملہ کیا گیاتھا، جس میں تین لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد1994ء میں پھر سے حرکت الانصار نے یاترا پر حملہ کیا جس میں2 شردھالوؤں کی موت ہوگئی تھی۔ اسی طرح 1995ء میں اسی تنظیم نے پھر حملہ کیا لیکن اس بار وہ کسی کی جان نہیں لے پائے۔ سال2000ء میں آتنکیوں نے پھر بڑا حملہ کر پہلگام میں 32 شردھالوؤں سمیت35 لوگوں کو موت کی نیندسلا دیا تھا۔ 2001ء میں 3 پولیس افسران سمیت 12 شردھالوؤں کو نشانہ بنایاگیا۔ 2002 ء میں بھی الگ الگ حملوں میں کل 10 شردھالو مارے گئے تھے۔ دہشت گردوں کے ذریعے مسلسل شرمناک وارداتوں کے بعد بھی ہندوؤں کا حوصلہ امرناتھ یاترا کے لئے بڑھ رہا ہے اور ہر برس امرناتھ یاترا کے لئے رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہر ہر مہادیو ،برفانی بابا کی جے۔
(انل نریندر)

ایک بار پھر اٹھا تہاڑ جیل میں سکیورٹی کا معاملہ!

اگر دیش کی راجدھانی میں بدمعاشوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں تو دیش کے دیگر شہروں میں کیا حال ہوگا، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ دہلی کے ایک بزنس مین اور اس کا خاندان کافی عرصے سے دہشت کے سائے میں جینے کومجبور ہے۔ قتل کے معاملے میں تہاڑ جیل میں بندایک قیدی بزنس مین پر منتھلی دینے کا دباؤ بنا رہا ہے اور مانگ پوری نہ ہونے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے سنگم وہار کے باشندے بجندر سنگھ اپنی ماں، بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا کیبل کا کاروبار ہے۔ کچھ سال پہلے بجندر نے قتل کے معامل میں شامل چندرپرکاش کو جیل پہنچانے میں اہم رول نبھایا تھا یہ ہی بات اس قیدی کو ناگوار گزری۔ اس کے بعد شروع ہوا تہاڑ جیل سے بزنس مین کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ۔ بجندر کا الزام ہے کے چندر پرکاش تہاڑ جیل سے ہی فون کرکے اس پر منتھلی دینے کا مسلسل دباؤ بنائے ہوئے ہے۔ بار بار مل رہی دھمکیوں سے پریشان شخص نے ملزم سے موبائل پر ہوئی بات چیت کی ریکارڈنگ بھی کر رکھی ہے۔ اس کے پاس دھمکی بھرے ٹیلی فون 2009ء سے آرہے ہیں۔ دو بار جان لیوا حملہ بھی ہوچکا ہے۔ حالانکہ بجندر سنگھ سبھی پولیس افسروں سے مل چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بیشک ایشیا کی سب سے بڑی تہاڑ ماڈل جیل میں شمار ہوتی ہے لیکن انتظامی طورپر یہاں حالات بیحد تشویش کا باعث ہیں۔ تہاڑ جیل میں خودکشی، مارپیٹ اور چاقو ماری ،منشیات کی اسمگلنگ، موبائل فون کی برآمدگی نے سکیورٹی سسٹم پر سوالیہ نشان کھڑے کردئے ہیں۔ تہاڑ میں صلاحیت سے زیادہ دو گنا قیدی ہیں اور ضرورت سے کم ایک تہائی جیل ملازم ہیں۔ وہ تنخواہ دیرسے ملنے اور اپنی ترقی کو لیکر لاچار دکھائی پڑتے ہیں۔ ملازم ہرسال نوکری چھوڑکر جارہے ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ کے اندر تہاڑ جیل میں 2 قیدیوں نے خودکشی کرلی اور ایک قیدی کو دوسرے قیدی نے مارکر موت کی نیند سلا دیا۔ چھوٹے موٹے واقعات تو اس جیل میں عام ہیں۔ جیل میں قیدیوں کی تعداد 6250 ہونی چاہئے لیکن یہاں 12113 قیدی رکھے ہوئے ہیں۔ جیل مینول کے حساب سے یہاں پر 6250 قیدیوں کے لئے 1300 جیل سکیورٹی گارڈ منظور ہیں۔قاعدے کے مطابق یہ منظور عہدوں سے 10 فیصدی زیادہ بھرتی ہونی چاہئے لیکن ہنگامی حالات میں ملازمین کی کمی محسوس نہ ہو لیکن اس میں تقریباً900 سکیورٹی جوان تعینات ہیں۔ موجودہ قیدیوں کی تعداد کے حساب سے 3 ہزار جوانوں کو تعینات کیا جانا چاہئے۔ اس سال 50 جیل کرمچاری نوکری چھوڑ چکے ہیں۔ 2007ء بیج کے کل 18 معاون سپرنٹنڈنٹ میں سے12 نے نوکری چھوڑدی ہے۔ تنخواہ میں دیری اور ترقی میں امتیاز کو لیکر تہاڑ جیل کے ملازمین میں کامی کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چوتھے تنخواہ کمیشن کی رپورٹ سے پہلے تہاڑ جیل کے سکیورٹی جوان اور پولیس کی تنخواہ یکساں ہوا کرتی تھی لیکن پانچویں اور چھٹے ویج کمیشن میں پولیس کی تنخواہ بڑھادی گئی اور جیل کرمچاریوں کی جوں کی توں رہ گئی۔ تہاڑ جیل کی سابق انسپکٹرجنرل کرن بیدی ، اجے کمار، بی کے گپتا، نیرج کمار سبھی نے اپنی اپنی میعاد میں سفارش بنا کر پیسہ بڑھانے کیلئے محکمہ داخلہ سے سفارش کی ہے لیکن ابھی تک ان پر کچھ نہیں ہوا۔ تہاڑ جیل میں سکیورٹی کا معاملہ یوں ہی چلتا رہے گا جب تک اس معاملے کے پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور نہیں ہوتاایسی خبریں آتی رہیں گی۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2013

کیا ممبئی کے ڈانس بار اب پھر گلزار ہوں گے؟

اگر ممبئی بلڈروں ،زمین مافیہ، سیاسی دبنگوں اور بالی ووڈ اور جھونپڑپٹیوں کا شہر بنا تو ممبئی بار بالاؤں کے لئے بھی مشہور ہوا۔ کئی فلموں میں بار ڈانسر کے سین دکھائے گئے۔اس ڈانس بار کی غضب کی کشش تھی۔ دنیا بھر میں یہ مقبول تھا۔ بار میں گھومنے آنے والے لوگوں کے لئے بار میں جانا شان مانا جاتا تھا اور یہ ٹورازم صنعت ہوا کرتی تھی۔ یہاں کی فلموں میں ڈانس بار کا سیٹ لگا کر فلمایا جاتا رہا ہے لیکن مدھر بھنڈارکر کے لئے یہ ایک موضوع بن گیا۔ اس میں بار کی اصلیت اور کشش دونوں کو اجاگر کیاگیا۔ ایک لڑکی تبو کیسے بار ڈانسر بنتی ہے ، اس کی کہانی دکھائی گئی جو کافی حساس ترین تھی۔ فلم اپنے محدود دائرے میں ہٹ ہوئی۔ بار ڈانسر شگفتہ رفیق ایک مثال ہے، جس نے ممبئی اور دوبئی کے باروں میں کام کرنے سے لیکر فلمیں لکھنے تک کا سفر طے کیا۔ شگفتہ اس وقت مہیش بھٹ کی خصوصی فلم کہانی رائٹر ہے۔ شگفتہ ’وہ لمحے‘ 2004 ء سے لیکر حال ہی میں آئی ’عاشقی 2-‘ تک ایک درجن فلموں کی کہانی لکھ چکی ہے۔ کئی بار ڈانسروں کی کہانی مافیہ ڈان تک سے جڑی ہوئی ہے۔ دراصل ڈان ان کی خوبصورتی پر فدا ہوجاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ سپنا نام کی ایک ڈانسر پر داؤد فدا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد پولیس کی ڈائریری میں آرزو نام کی ڈانسر کا بھی ریکارڈ تیار ہوا مگر سب سے زیادہ نام ترنم کا ہوا ۔جوہو کے دیپا بار میں ڈانسر کرنے والی ترنم کو دیکھنے کے لئے ملک و بیرون ملک سے لوگ آیا کرتے تھے۔2005ء میں پولیس نے اسے کرکٹ سٹے بازی کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے پاس سے کافی پراپرٹی پائی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ڈانس بار ایک منظم صنعت بن چکا تھا۔ اس میں کالا اور سفید دونوں پیسے آیا کرتے تھے۔ ان باروں کا استعمال اپنے مفادات کے لئے کرتاتھا۔ ممبئی میں قریب 43 سال پہلے ڈانسر بار کا چلن شروع ہوا۔1976ء کے قریب مہاراشٹر کے غریب کھیتی ہار علاقوں سے آنے والی لڑکیوں پر بار مالکوں کی نظر پڑی ۔ انہوں نے ان لڑکیوں کو بار میں شراب پلانے کے لئے رکھ لیا۔ بعد میں سنگیت بھی جڑ گیا اور ڈانس بھی۔ 1984ء میں ماراشٹر میں رجسٹرڈ بار کی تعداد 24 ہوا کرتی تھی۔ 2005ء میں جب مہاراشٹر میں ڈانس بار پرروک لگی تو پردیش میں 2500 ڈانس باروں میں ایک لاکھ لڑکیاں کام کررہی تھیں۔ پابندی لگنے سے یہ 1 لاکھ ڈانسر بے روزگار ہوگئیں۔ مہاراشٹر سرکار کا کہنا ہے کہ ڈانس بار کی آر میں جسم فروشی کی شکایتیں بڑھیں۔ پورے پردیش میں فحاشیت کا ماحول بن گیا۔ اس کا نوجوانوں پر خاص طور سے برا اثر پڑ رہا تھا۔ محض347 ڈانسر باروں کے لائسنس تھے جبکہ چل رہے تھے 2500 ۔ ان ڈانس باروں کی وجہ سے قانون و نظام ٹھپ ہورہا تھا۔ دوسری طرف ڈانسروں کا کہنا ہے کہ تفریح کے لئے رقص کرنا جرم نہیں ہے۔ رقص ایک طرح سے اظہار آزادی ہے اس سے کسی طرح کا شک کرنا غیر قانونی ہے۔ اپنے طریقے سے زندگی گزر بسر کرنے کا اختیار سب کو ہے۔ اگر ڈانس باروں سے فحاشیت پھیل رہی تھی تو پابندی کے بعد صوبے میں فحاشیت اور دیگر جرائم میں کمی کیوں نہیں آئی؟ قریب68 فیصدی بار بالائیں ایسی تھیں جو پورے خاندان کے گزر بسر کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھیں۔ بے روزگاری کے سبب کئی بار بالاؤں نے خودکشی تک کر لی ہے۔ ریاست میں 1 لاکھ کے قریب بار ڈانسروں اور ان کی باز آبادکاری کے لئے کوئی متبادل حل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے ڈانس باروں پر پابندی ہٹاتے ہوئے اپنے فیصلے میں یہ اہم رائے زنی کی جو معنی رکھتی ہے ،بھلا آپ کسی کی روزی روٹی کا حق کیسے چھین سکتے ہیں؟ اگر بار ڈانسر غلط ہے تو انہیں فائیو اسٹارہوٹلوں میں چلانے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔ آئین نے تو سب کو برابر کا حق دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے پولیس قانون میں تبدیلی کرڈانس بار پر روک سرکار کا فیصلہ غلط تھا۔ بہتر ہو کے سرکار قانون و نظام کی صورتحال ٹھیک کرنے کے قدم اٹھائے۔ فحاشیت پر روک کے لئے سرکارہر سیکٹر میں الگ سے پہل کرے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے باروں کی بالاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ جشن منا رہی ہیں، مٹھائیاں بانٹ رہی ہیں لیکن مہاراشٹر سرکار سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی سوچ رہی ہے۔ دیکھیں ممبئی کے ڈانس بار کیا پھرسے گلزار ہوں گے؟
(انل نریندر)

لکشمی کی مہم رنگ لائی: تیزاب کی کھلی فروخت پر پابندی

کچھ دن پہلے مجھے فیس بک پر ایک انتہائی دکھی والد کی ایک پٹیشن آئی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے منہ پر کسی بدمعاش کے ذریعے تیزاب پھینکنے کی داستان بیان کی تھی۔ اور انہوں نے مجھے ان کی پٹیشن پر دستخط کرنے کو کہا تھا کہ تیزاب کی یوں کھلی بکری پر پابندی لگنی چاہئے۔ میں نے اس پٹیشن پر نہ صرف دستخط کردئے بلکہ اپنے درجنوں دوستوں سے بھی فیس بک پر اس پٹیشن پر دستخط کرنے کوکہا۔ لڑکی کے والد کی جیت ہوئی۔ ہم سب کی جیت ہوئی۔ اس پٹیشن پر ہزاروں دستخط ہوئے اور وہ بدقسمت لڑکی کے والد نے صدر کو بھیج دی اور صدر محترم نے سرکار کو اس پٹیشن اور درجنوں ایسے معاملوں کے سبب سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنا تاریخی فیصلہ سنایا۔ اس نے اپنے انترم حکم میں تیزاب بیچنے اور خریدنے سے وابستہ سبھی قاعدے قوانین جمعرات سے ہی لاگو کردئے۔ عورتوں پر تیزابی حملے کی بڑھتی واردات کے پیش نظر واضح اور سخت قانون بنانے کی مانگ کئی بار پہلے بھی ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی سرکار کو اس بارے میں ہدایت دی تھی۔ مگر ٹال مٹول کا عالم یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر سرکارکو پھٹکارلگاتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ تیزاب کی کھلی فروخت روکنے کے معاملے میں کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ دیش بھر میں روزانہ لڑکیوں پر تیزابی حملے ہورہے ہیں اور وہ مررہی ہیں۔ مگر مرکزی حکومت نے اب اس سلسلے میں کارگر قدم نہیں اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا اگر بغیر شناختی کارڈ دیکھنے تیزاب بکا تو زہر ایکٹ 1919ء کے تحت مقدمہ چلے گا، سزا ہوگی۔ اب کھلے بازار میں وہ ہی تیزاب بیچا جائے گا جو جسم پر بے اثر ہو۔ دراصل ہو یہ رہا کہ لیباریٹریوں اور صنعتی کارخانوں میں کیمیکل کے طورپر استعمال ہونے والا تیزاب کافی عرصے سے عورتوں پر حملے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ کسی لڑکی یا عورت کے چہرے کوبگاڑنے اور اس کی زندگی برباد ہوجائے اسی منشا سے اس پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے کسی عورت پرتیزاب ڈالنا آبروریزی جیسا سنگین جرم ہے اور اسے روکنے کے لئے سخت قانون بنانا ضروری ہے۔ آسانی سے دستیابی کے چلتے تیزاب پی کر خودکشی کرنے کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ مگر اتنے خطرناک اثر کے باوجود اس کی پیداوار اور تقسیم پر نگرانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ جسٹس آئی ایم لودھا اور جسٹس فقیر محمد کی بنچ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تیزابی حملوں کو غیر ضمانتی جرم بنائیں۔ کورٹ نے سرکاروں کو تین مہینے کے اندر اس بارے میں واضح پالیسی لانے کی ہدایت دی۔ عرضی پر اگلی سماعت چار مہینے بعد ہونی ہے۔ جب ریاستی سرکاریں تیزاب پر کنٹرول اور متاثرین کی بازآبادکاری کو لیکر پوری پالیسی لاکر کورٹ میں رکھیں گی۔ تیزابی حملے کی شکار لکشمی کی 2006ء میں دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انترم حکم ایک ہفتے کے اندر سبھی ریاستوں تک پہنچایا جائے جہاں ہمیں خوشی ہے کہ ہم سب کی مہم رنگ لائی ہے اور سرکاریں اب تیزاب کی کھلی بکری پر روک لگانے کی غرض سے قدم اٹھائیں گی وہیں یہ بھی کہنا چاہیں گے کے بہت کچھ ان پابندیوں کی تعمیل پر منحصرہوگا۔ دیکھنا یہ ہوگاکہ سرکاریں کتنی ایمانداری سے پابندیا ں نافذ کرتی ہیں اور سرکاری مشینری کتنے موثر ڈھنگ سے پابندیوں پر عمل کراتی ہیں۔
(انل نریندر)

20 جولائی 2013

غریب کی تھالی سے غائب ہوتی سبزیاں، بچوں کیلئے دودھ سب مہنگا

پچھلے دنوں کچھ تابڑ توڑ اقتصادی فیصلے لیکر بیشک مرکزی سرکار نے 2014 ء عام چناؤ میں ووٹوں کی سیاست شروع کردی ہو لیکن ان قدموں سے پہلے ہی بیچاری جنتا پر مہنگائی کا نئی بوجھ پڑنا طے ہے۔ مہنگائی کی نئی سونامی کا آغاز ہوچکا ہے۔ پیٹرول کے دام 1.55 فی لیٹر بڑھ چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتے میں پیٹرول کے دام میں چوتھی بار اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تیل کمپنیوں نے 1 جون کو75 پیسے، 16 جون کو2 روپے، 29 جون کو 1.82 پیسے فی لیٹر بڑھائے تھے۔ پورا اندیشہ ہے کہ بجلی ،کھاد، فولاد، سیمنٹ، سی این جی، پی این جی، ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کافی اضافہ ہوگا۔ ان سب کی سب سے زیادہ مار پہلے سے ہی مہنگائی سے لڑرہی جنتا کو جھیلنی ہوگی۔ کچھ دن پہلے سرکار نے بجلی کے سامان پر درآمد کوئلے سے بڑھی لاگت کو بھی صارفین سے وصولنے کی اجازت دی تھی۔ یہ فیصلہ عام جنتا کو آنے والے وقت میں زبردست جھٹکا دینے والا ہے۔ کہنے کو سرکار نے جی ڈی پی میں اضافہ کرکے کسان ہتیشی دکھانے کی کوشش کی ہے۔لیکن بجلی اورکھادکی قیمتوں میں یقینی اضافہ اور مسلسل مہنگے ہوتے ڈیزل کے چلتے یہ کسانوں کو ہاتھوں ہاتھ رکھنے اور دوسرے ہاتھ سے لینے کی سازش لگتی ہے۔ ساتھ ہی اسے غذائی سامان بھی کافی بڑھیں گے۔ راجدھانی میں ضروری چیزوں کے مہنگی ہونے سے عام آدمی کابجٹ تو چرمرا ہی گیا ہے جس خاندان کا ماہانہ بجٹ پہلے ہی 10 ہزار ہوگیا تھا وہ اب15 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اب صارفین سبزی اور پرچون کے پاس جاکر سب سے پہلے کم دام والی چیزوں کی جانکاری لیتا ہے اور پھر کم سے کم دام والا سامان خریدتا ہے۔ عام لوگ میں دودھ کا زیادہ استعما ل ہوتا ہے ۔ اگر خاندان میں چار پانچ لوگ ہوں تو عموماً2 کلو دودھ خریدا جاتا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں دودھ کے دام چار بار بڑھے ہیں۔ قریب تین سال پہلے دودھ کے دام 20 روپے لیٹر ہوا کرتے تھے۔ اب تھیلی والا دودھ 42 روپے لیٹر اور مدر ڈیری والا دودھ 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ناشتے میں استعمال ہونے والی ڈبل روٹی جو پہلے16 روپے پیکٹ ہوا کرتی تھی اب وہ22 روپے پیکٹ ہوگئی ہے۔ چینی قریب چار سال پہلے 12 سے14 روپے ہوا کرتی تھی اب قریب42 روپے کھلی اور پیکٹ والی52 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ بازار میں دالوں کے دام آسمان چھو رہے ہیں۔ درمیانے طبقے کے زیادہ تر خاندانوں میں روزانہ اسی پر بحث ہوتی ہے کہ دال بنائیں یا سبزی۔ جن گھروں میں بچے ہیں وہاں پر راجما کی کھپت زیادہ ہے اس کی قیمت اب120 روپے کلو سے کم نہیں ہے۔ ارہر کی دال80 روپے سے کم نہیں ہے ۔اوڑد کی بھی دام اتنے ہی ہیں۔ موم کی دال85 ، مسور 75 روپے اور مٹر کے دام 50 روپے فی کلو ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہورہی روپیہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ کمزور ہوتے روپے کی قیمت عام آدمی کو چوکانی پڑے گی۔ مہنگائی اور بڑھ سکتی ہے۔ صاف ہے معیشت کے لئے آگے اور مشکل وقت آنے والا ہے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار اقتصادی بد انتظامی ہے۔ اس سرکار اور بھارتیہ ریزرو بینک سے زیادہ امید نہیں ہے۔ عام جنتا پر اور بوجھ بڑھے گا اور وہ اس کے تلے اور زیادہ دبے گی۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...