Translater

22 اگست 2026

امریکہ ایران جنگ کا نیوکلیئر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیا ن کشیدگی اب نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملکوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔دراصل امریکہ کی سابق کانگریس ویمن گارجیری ٹریلر گرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نیوکلیئر حملے کا پلان بنا رہے ہیں اس کے بعد ایرانی ایم پی فداحسین ملیکی نے سخت وارننگ جاری کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے نیوکلیائی حملہ کیا تو ایران بھی اسی ہتھیار اور اسی پیمانہ میں پلٹوار کرے گا ۔امریکہ کی سابق کانگریس ویمن ٹریلر گرین نے ٹرمپ کی نیوکلیئر اٹیک والی پلاننگ کو افشاکردیا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران پر نیوکلیائی بم چھوڑنے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ اس درمیان ایران نے بھی ایسا ہی اعلان کر دیا ہے ۔کیا ہم یہ مانیں اس درمیان ایران نے بھی ایسا اعلان کر دیا کہ کیا ہم یہ مانیں کہ ایران نے بھی کوئی نیوکلیئر ہتھیار بنا لیا ہے جس زبان کا ایران استعمال کررہا ہے اس کا مطلب تو صاف ہے کہ اگر تم نے ہم پر نیوکلیائی حملہ کیا تو ہم بھی نیوکلیائی حملے سے ہی جواب دیں گے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق گرین نے بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ان تجزیوں کو نہیں مان رہا ہے جن کے مطابق ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے موہانے پر نہیں ہے ۔وائٹ ہاؤس نے سابق وزیر گرین کے اس دعوے پر کوئی فی الحال رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے ۔امریکی حکومت یا سیکورٹی حکام نے بھی پبلک طور سے ایسا کوئی پلان کی توثیق نہیں کی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اس ڈراؤنے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں نیوکلیائی حملے کی دھمکیاں کےکھلے عام دی جانے لگی ہیں اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایٹم بم چھوڑنے کی بے وقوفی کی تو کیا ہوگا؟ اس سوال نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران میں بلکہ پورے خلیجی ممالک میں بھی کھلبلی مچا دی ہے ۔سعودی عرب، یو اے ای اور قطر جیسے دیش اب بار بار کہہ رہے ہیں کیوں کہ ایران نے صاف کر دیا ہے کہ اگر کسی بھی خلیجی دیش نے امریکہ کی مدد کی تو اسے بھی بھسم ہونے سے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ممبر فدا حسین ملیکی سے سیدھا سوال پوچھا گیا کہ اگر ٹرمپ نے سچ میں نیوکلیائی بم چھوڑ دیا تو ایران کیا کرے گااس پر ملیکی نے بلا زجھک کہا کہ اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایران بھی اسی زبان اور اسی ہتھیار سے جواب دے گا ۔حالانکہ ملیکی نے کھل کر یہ نہیں مانا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت نیوکلیائی بم تیار ہے یا نہیں ، لیکن ان کے اس بیان نے امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک کے پسینے چھڑ ا دیے ہیں ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کئی ایسے ہتھیار ہیں جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ انتہائی جدید ہیں جو ابھی دنیا کے سامنے آئے ہی نہیں ہیں ۔اگر جنگ چھڑی تو وہ صرف مشرقی وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی وہ پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لے گی ۔ایران نے اب صرف اپنا بچاؤ کرنے کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنا لی ہے اگر امریکہ نیوکلیائی بم جیسا فدائی قدم اٹھاتا ہے یا خلیجی دیش امریکہ کو ایسا کرنے میں مدد کرتے ہیں تو یہ جنگ صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں رہے گی ۔خلیجی ممالک کو تباہ ہونے سے پوری دنیا میں کچے تیل کی سپلائی ٹھپ ہو جائے گی ۔پیٹرول ڈیزل کے دام آسمان چھونے لگیں گے اور عالمی معیشت پوری طرح تباہ ہو جائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے نیوکلیائی بم اور ایران کے جوابی پلٹوار کی خبروں نے دنیا بھر کے لیڈروں کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں کھینچ دی ہیں ۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

امریکہ ایران جنگ کا نیوکلیئر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیا ن کشیدگی اب نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملکوں میں کھ...