Translater

20 اگست 2026

زندہ پکڑو یا مار و :30000 ڈالر ملیں گے !

ایران کی حکومت نے اب اپنی عوام کو زمینی لڑائی کے لئے لگتا ہے تیار کرنا شروع کر دیا ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدے (پیس ڈیل ) اب تقریباً ختم ہو گئی ہے اور پھر سے پوری جنگ کی تیاری شروع ہو گئی ہے تبھی تو ایران کو اب لگتا ہے کہ امریکہ اسرائیل اگلا حملہ زمین پر ہی ہوگا۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے ایرانی حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے پر 30000 ڈالر ملیں گے ۔ خواتین کے لئے انعام دوگنا ہوگا ۔ایران کی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے کے عوض 30000 ڈالر کے برابر انعام دے گی ۔فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر یہ کام کوئی خاتون کرتی ہے تو اسے دوگنا انعام دیا جائے گا ۔یہ اعلان مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل کشیدگی کے درمیان ہوا ہے ۔جہاں دونوں ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے ہیں ۔28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہرمز اسٹریٹ کو پھر سے کھولنا کسی بھی امن معاہدے کو لگاتا ر رکوا رہا ہے ۔ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق دیش کی فوجی کے سربراہ عامر ہتامی نے کہا کہ مالی مدد میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں درخواستیں ملنے کے بعد یہ پلان بنایا گیا تھا ۔انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ امریکی فوجیوں کو کہاں اور کب مارا یا پکڑا جائے گا ۔مغربی ایشیائی جنگ کے دوران ایران میں امریکی زمینی فورس کی فی الحال کوئی چنوتی نہیں ہے۔ سوائے اپریل میں ایک مارے گئے امریکی پائلٹ کو برآمد مشن کے ایجنسی ارنا نے ہتامی کے حوالے سے بتایاجو کوئی حملہ آور امریکی ملیٹری کے کسی بھی آدمی کو مارے گا یاپکڑ کر سونپے گا اسے اسلامک رپبلک جمہوریہ ایران کی فوج کی طرف سے 30000 ڈالر یا پانچ ملین تومن کے برابر انعام ملے گا ۔انہوں نے 10 ہزار ایرانی ریال کے برابر ایک انفارچوئل یونٹ کا بھی استعمال کیا ۔اس اعلان کو ٹرمپ کی اس وارننگ سے جوڑ کر دیکھاجارہا ہے جس میں انہوں نے امریکی فوجیوں کو ایران میں اتارنے کا امکان جتایا تھا ۔یروشلم پوسٹ کے مطابق انعام پانے والے کو صرف اتنا ہی نہیں ملے گا بلکہ ہاتمی نے کہا کہ امریکی فوجی کو مارنے کے لئے استعمال کئے گئے ہتھیار کو دوگنی قیمت پر خریدجائے گا اور اسے ایک خاص میوزیم میں بھی رکھاجائے گا ۔یہی نہیں ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بے تاب ہے ۔ایران نے ایک ٹارگیٹ لسٹ بھی بنائی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو اور ایک ٹارگیٹ لسٹ وغیرہ شامل ہیں اور امریکہ کے ساتھی ملکوں کے سربراہان مملکت کے نام بھی اس میں شامل ہیں ۔ایران پر حملے کے لئے امریکہ نے سب سے زیادہ عرب ملکوں کی زمین اور ایئر اسپیس کا استعمال کیا ۔اب مانگ اٹھ رہی ہے کہ عرب دیشوں کے سربراہان مملکت کو بھی ہٹ لسٹ میں شامل کیاجائے کیوں کہ امریکہ کے مددگار بھی سابق سپریم لیڈر کے قتل میں برابر کے گناہگار ہیں ۔ایران نے اب اپنی پالیسی بدلی ہے ۔پڑوسی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو تو نشانہ بنایاہی گیا لیکن اب ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کرنے کی قسم لے رہا ہے ۔ایران کے ایم پی عامر حسین سوبتی نے سرکار سے مانگ کی ہے ہٹ لسٹ میں خلیجی ملکوں کے حکمرانوں کو بھی جوڑاجائے ۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

زندہ پکڑو یا مار و :30000 ڈالر ملیں گے !

ایران کی حکومت نے اب اپنی عوام کو زمینی لڑائی کے لئے لگتا ہے تیار کرنا شروع کر دیا ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدے (پیس ڈیل )...