پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی جس میں ایک 14 ماہ کی بچی بھی شامل تھی کہا جارہا تھا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای یا تو مارے گئے ہیں یا بری طرح زخمی ہوئے ہیں ۔یہ بھی کہاگیا کہ وہ ماسکو میں آئی سی یو میں ہیں ۔28 فروری کے حملے کے بعد مجتبیٰ کبھی بھی عوام کے سامنے بھی نہیں آئے تھے ۔لیکن کچھ دن پہلے ان کا ایک ویڈیو سامنے آیا ۔حال ہی میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حالت بے حد نازک ہے اور ان کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔وہاں کہا گیا کہ ان کی موت کی خبر سامنے آئے تو حیرانی نہیں ہوگی ۔ان دعوؤں کے بیچ ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے مجتبیٰ خامنی ای کا 12 سکنڈ کا ویڈیو جاری کیا ہے اس میں وہ لوگوں سے بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں حالانکہ یہ نہیں پتہ یہ ویڈیو کب کا ہے لیکن صاف نہیں کیا گیا ہے ۔اس لئے یہ سوال ابھی بھی برقرار ہے ۔ویڈیو میں بیماری کی خبروں پر اٹھائے سوال مہر نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای لوگوں کے درمیان گاہے بگاہے ملتے نظر آرہے ہیں۔ اور باتیں کررہے ہیں ۔پہلی نظر میں یہ ویڈیو ان کی نازک بیماری سے وابستہ خبروں کا جواب ماناجارہا ہے ۔حالانکہ ایک بڑا سوال اس کی تاریخ کو بھی لے کر ہے ۔ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ویڈیو کب بنایا گیا تھا ایسے میں صرف 12 سکنڈ کے اس ویڈیو کی بنیاد پر ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں کوئی پختہ نتیجہ نکالنا مشکل ہے فروری میں سپریم لیڈر کی ذمہ داری سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کے بعد سے ان کی پبلک موجودگی بے حد محدود رہی ۔ان کی طرف سے زیادہ تر تحریری بیان سامنے آئے ہیں اس وجہ سے ان کی صحت اور ان کی سرگرمیوں کو لے کر مسلسل قیاس آرائیاں لگتی رہی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کو لے کر بھلے ہی افواہوں کے درمیان ایران کے صدر پزشکیان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے سیدھے بات کرنا بے حد مشکل ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ سے مل چکے ہیں ۔موصولہ معلومات کے مطابق ان سے ملاقات مئی کے ماہ میں ہوئی تھی ۔صدر پزشکیان نے تجارت فیڈریشن کے نمائندوں سے ایک ملاقات کے دوران یہ انکشاف کیا تھا اور وہ مجتبیٰ خامنہ ای ساتھ تھے ۔اور یہ ملاقات کافی اچھی رہی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو خامنہ ای سے ملنے کا سنہرا موقع ایک رعایت کے طور پر ملا تھا ۔کہاجارہا ہے کہ پزشکیان با ر بار مجتبیٰ سے ملنے کی گزارش کر رہے تھے اور یہاں تک کہ دھمکی دے رہے تھے اگر ان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے ۔خامنہ ای کے دفتر کو آخر میں اس ملاقات کے لئے حامی بھرنی پڑی لیکن یہ ملاقات کے بارے میں کہا جارہا ہے یہ معمولی نہیں تھی۔ امریکہ اسرائیل نے مسلسل یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مجتبیٰ زبردست چوٹیں آئیں ہیں اور وہ بری طرح زخمی ہوئے ہیں ان کا چہرا جل گیا ہے اور پیروں میں بھی بھاری زخم ہیں جس کے بعدان کے پیر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔ اب یہ نیا ویڈیو آیا ہے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں