Translater
05 دسمبر 2023
موت کی سزا پانے والے سابق ہندوستانی فوجیوں کو راحت !
قطر کی ایک عدالت میں ہندوستانی بحریہ کے ۸سابق بحری حکام کو جس طرح موت کی سزا سنائی گئی تھی وہ پہلے ہی سوالوں کے گھیرے میں تھی ۔اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ بھارت سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس پہل قدمی کی جائے ۔یا ڈپلومیٹک قدم اٹھائے جائیں گے اسی سلسلے میں بھارت نے قطر کی عدالت میں فیصلے کے خلاف باقاعدہ طور سے اپیل کی تھی اور اس سلسلے میں آئی خبر کے مطابق اب قطر کی عدالت نے بھارت کی اس عرضی کو منظور کر لیا ہے اور اس پر جائزہ لے کر جلد سماعت شروع کی جائے گی ۔جمعرات کو ہوئی سماعت کے دوران قطر کی عدالت میں معاملے میں غور کرنے کیلئے جلد ہی سماعت شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔وزارت خارجہ نے ۹نومبر کو بتایا تھا کہ فیصلہ راز میں بنا ہوا ہے اور اس معاملے میں اپیل دائر کی گئی ہے ۔وزارت خارجہ نے معاملے کی حساسی نوعیت کے سبب سبھی سے قیاس آرائیوں سے بچنے کی درخواست کی تھی ۔وزارت خارجہ کے ترجمان اروندم باغچی نے پہلے کہا تھا کہ قطر کی عدالت نے الدارة کمپنی کے ۸ملازمین سے وابسطہ معاملے میں ۶۲اکتوبر کو فیصلہ سنایا تھا اس کے اگلے ہی دن بھارت نے اپیل دائر کر دی تھی ۔محکمہ خارجہ کے ترجمان باغچی کا کہنا ہے کہ سابق بحری حکام کو قطر کی ایک عدالت نے ان الزاموں میں موت کی سزا سنائی تھی جنہیں ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں لایا جا سکا ۔فیصلہ راز میں ہے اور اسے صرف قانونی ٹیم کے ساتھ ہی شیئر کیا گیا ہے ۔ہم اس معاملے میں قطر کے سینئر حکام سے بات چیت کررہے ہیں ۔قطر حکومت نے ابھی تک ۸ہندوستانیوں پر لگے الزامات کو افشاءنہیں کیا ہے ۔حالانکہ ایسا اندیشہ سیکورٹی سے متعلق الزام میں یہ گرفتاریاں ہوئی ہیں ۔بتا دیں ہندوستانی بحریہ کے ۸سابق افسر قطر میں دہرہ گلوبل ٹیکنالوجی اینڈ کنسلٹینسی سروسز نامی کمپنی کے لئے کام کررہے تھے ۔اگست ۲۲۰۲میں ان سبھی کو گرفتار کیا گیا ۔قطر کی حکومت نے بحریہ کی سابق افسروں پر لگائے گئے الزامات کی جانکاری نہیں دی ہے ۔گزشتہ ۶۲اکتوبر ۳۲۰۲کو قطر کی عدالت نے ان سابق افسروں کو موت کی سزا سنائی تھی ۔ادھر ہندوستانی بحریہ کے چیف ایڈمرل آر ہری کمار نے جمعہ کو بتایا کہ حکومت ہند قطر سے ان ۸سابق بحری افسروںکو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے جنہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔ایڈمرل آر ہری کمار نے اخبار نویشوں سے کہا کہ بھارت سرکار ان کی صحیح سلامت واپسی یقینی کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے اس بیچ ۸سابق ہندوستانی بحری فوجیوں کے خاندان جلد راحت کی امید کررہے ہیں ۔قطر میں مقدمہ پر کسی ٹھوس جانکاری میں کمی ہے ۔پریوار والوں کو لگتا ہے کہ اس مسئلے پر مغربی ایشیائی میڈیا میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا آٹھوں ریٹائرڈ بحری فوجیوں نے اعلیٰ ترین ایمانداری اور احترام کے ساتھ دیش کی خدمت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس بات نے انہیں زیادہ ٹھیس پہونچائی ہے کہ حراست کے حالات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں