Translater
07 جنوری 2022
ایئر انڈیا میں روز تھا بیس کروڑ کاخسارہ!
مرکزی سرکار نے منگلوار کو دہلی ہائی کورٹ میںایئر انڈیا کی سرمایہ کاری کاروائی منسوخ کرنے سے وابسطہ راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر سبرا منیم سوامی کی عرضی کو غلط دفعات پر مبنی بتاتے ہوئے اس کی سخت نکتہ چینی کی سرکار نے دلیل دی کہ کمپنی روزانہ بیس کروڑ روپے کاخسارہ اٹھا رہی تھی اور آگے اس سے جنتا کے پیسہ کی بربادی کرنے نہیں دی جاسکتی تھی ۔ساتھ ہی ٹاٹا گروپ نے سرمایہ کاری سسٹم میں کرپشن کے الزامات پر کہا کہ اسے ثابت کرنے کے لئے سبرا منیم سوامی کے پاس کچھ نہیں ہے معاملے میں سوامی اور مرکزی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے سولی شیٹر جنرل تشار مہتا اور ورٹیلیٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کی طرف سے سینئر وکیل ہریش شالوے کی دلیل سننے کے بعد چیف جسٹس ڈی این پیٹل اور جسٹس جوتی سنگھ کی بنچ نے چھ جنوری تک کے لئے محفوظ رکھا تھا ۔تازہ خبر ہے کہ عدالت نے سبرا منیم سوامی کی عرضی کر خارج کر دیا ہے اس کے ساتھ ہی مرکزی سرکار کی ٹاٹا گروپ میں سرمایہ کاری کا راستہ صاف ہو گیا ہے ۔بتا دیں سبرا منیم سوا می نے اپنی دائر عرضی میں سرمایہ کاری کے لئے اپنائے گئے طریقہ کو منوانا اور غیر قانونی و کرپٹ قرار دیتے ہوئے اس سرمایہ کاری سودہ کو منسوخ کرنے اور اس معاملے میں حکام کے رول و کام کاج کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی تھی ۔پچھلے سال اکتوبرمیں ٹاٹا گروپ نے 18ہزارکروڑ روپے میں ایئر انڈیا کی سب سے بڑی بولی لگائی تھی ۔جس کو سرکار نے منظورکر لیاتھا ۔لیکن راجیہ سبھا ایم پی سوامی کاالزام تھا کہ اسپائی جیٹ کی قیادت والا سنگھ بھی بولی لگانے والا فریق تھا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں