Translater

01 جون 2023

اپوزیشن اتحاد کا راستہ !

آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کے خلاف اپوزیشن اتحاد ممکن ہوگا یانہیں یہ کانگریس کے رویہ پر منحصر کرے گا۔ ممتا بنرجی ،شردپوار اور نتیش کمار چاہتے ہیں کہ یکساں نظریہ والی پارٹیاں لوک سبھا کی 543میں 474سیٹوں پر اکیلا امید وار کھڑا کریں۔ تلنگانا ،آندھراپردیش ،کیرل کو چھوڑ کر اس فارمولے کے مطابق کانگریس کے حصے میں 249سیٹیں آتیں ہیں۔ ایسے میں کانگریس اگر دل بڑا نہیں کرے گی تو اپوزیشن اتحاد ناممکن ہے ۔ دراصل اپوزیشن اتحاد کو لیکر 12جون کو نتیش کی رہنمائی میں پٹنہ میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہے جس میں راہل گاندھی بھی شامل ہوںگے ۔جے ڈی یو ، ٹی ایم سی چاہتی ہے کہ آنے والے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے کانگریس لچیلا رویہ دکھاتے ہوئے تلنگانا،دہلی ،آندھراپردیش اور کیرل کو چھوڑکر انہیں سیٹوں پر دعویٰ کرے جہاں پارٹی پچھلے چناو¿میں پہلے یا دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس فارمولے کو چھوڑ کر کانگریس کے ہاتھ 244سیٹیں ہی آئیں گی۔ اور پچھلی چناو¿ میں پارٹی کو چار ریاستوں کو چھوڑ کر بھاجپا سے سیدھے مقابلے پر چناو¿ لڑی اور دوسرے مقام پر رہی جبکہ پارٹی کو 52سیٹوںپر ہی کامیابی ملی تھی۔ اپوزیشن اتحاد کے بہانے سے بڑا داو¿ نتیش کمار چل رہے ہیں۔اوروزیر اعظم بننے کی خواہش ہے اس لئے نتیش اپوزیشن اتحاد کے ساتھ جنتا دل پریوار کو بھی متحد کرنا چاہتے ہیں۔ بہار میں بھاجپا سے دوری بنانے کے بعد اتحاد کیلئے نتیش کی آر ایل ڈی ،سپا ،جی ڈی ایس ،لوک دل اور آر جے ڈی سے کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے ۔ نتیش کو لگتا ہے کہ اگر اتحاد ہو جاتا ہے تو اس کااثر اترپردیش ،بہار ،ہریانہ اور کرناٹک میں بڑھے گا۔ جنتا دل پریوار میں اب پی ایم عہدے کے دعویدار نہیں ہیں۔ مولائم سنگھ اب نہیں ہیں،لالو پرساد یادو بیمار ہیں اور دیو گوڑا عمر دراز ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دوسری پیڑھی کا سارا پلان ریاست کی سیاست پر ہے۔ کرناٹک چناو¿ سے پہلے کانگریس سرینڈر کی پوزیشن میں تھی۔ اس سے پہلے اپوزیشن اتحاد کیلئے ہوئی ملاقات میں اس کا موقف بہت نرم رہا حالاںکہ کرناٹک کے نتیجے کے بعد پارٹی اتحا د کیلئے شرط رکھ رہی ہے ۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ اس کا عآپ ،ڈی آر ایس ،کیرل کی لیفٹ پارٹیوں سے سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ اسی شرط کے پیش نظر نتیش ممتا ،پوار نے سمجھوتے کیلئے 474سیٹوں کا فارمولہ پیش کیا ہے ۔جنتا دل یوکے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پٹنہ کی ریلی میں بات نہیں بنیں تو اپوزیشن اتحاد مشکل ہو جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ 12جون کی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بہت اہم ہے ۔ ممتا ،نتیش اور شرد پوار چاہتے ہیں کہ کانگریس اس میٹنگ میں 474سیٹوں میں سے 274سیٹوں پر لڑنے کیلئے راضی ہوجائے ۔ اگر کانگریس اس کیلئے تیار نہیں تو اپوزیشن اتحا د کی کوشش بیکار ہو جائے گی۔ جنتا دل یوکے ذرایع کا کہنا ہے کہ مرکز میں اقتدار بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت کانگریس کو ہے ایسے میں کانگریس کو ہی اپنی بڑی فراخدلی دکھانی چاہیے۔ (انل نریندر)

مشن 2024:450سیٹوں کا ٹارگیٹ !

آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں اقتدار کی ہیٹرک لگانے کیلئے بھاجپا نے میگا پلان تیار کیا ہے۔ پارٹی کا پلان لوک سبھا کی 3-5سیٹوں کا گروپ بناکر چناو¿ تک اس کی تین سطحی نگرانی اور ذمہ داری طے کرنے کی ہے۔ چناو¿ ہونے تک اے بی سی تین زمروں کے لیڈر خود سے جڑے گروپ کی سیٹوں پر طے کی گئی ذمہ داری نبھائیںگے ۔ اس سلسلے میں اتر پردیش ،اتراکھنڈ کی 85سیٹوں کو 3-5لوک سبھا گروپ میں بانٹنے اور ذمہ داری طے کرنے کا کام پورا ہو چکاہے ۔ ان میں ایک کٹیگری میں مرکزی وزراءاور قومی عہدیداران کوبی کٹیگری میں سینئر لیڈروں اور دوسرے ریاستوں کے ممبران پارلیمنٹ شامل ہوں گے ۔اور سی کٹیگری میں مقامی لیڈروں کو رکھا گیا ہے۔ اگلے سال30جنوری کو پارٹی کا مہا سمپرک ابھیان کے ساتھ ہی تینوں کٹیگری کے نیتا 8ماہ تک اپنے کلسٹر یعنی گروپ سے جڑے رہیںگے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق ان میں اے کٹیگری کے نیتا اقتدار مخالف لہر کو پہچاننے اور اسے درست کریںگے۔ ساتھ ہی ان پر تنظیمی کاموں کو بھی پورا کرنے اور ریلیاں کرنے اور مقامی لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے کی کوشش کریںگے ۔ سی کٹیگری میں شامل نیتا زمین پر کام کرنے کے ساتھ پارٹی کے پروگرام کا انعقاد کریںگے ۔ جبکہ بی جے پی کے نیتا ان پروگراموں کی نگرانی کریںگے ۔ آنے والے چناو¿میں پارٹی کے پاس تلنگانا کوچھوڑ کرآگے بڑے راجیہ نہیں ہیں ۔ایسے میں پارٹی کی چنوتی جیتی ہوئی 303سیٹیں بر قرار رکھنے اور یہاں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے ان 144سیٹوں سے پوری کرنے سے کی ہے جہاں پارٹی دوسرے یا تیسرے نمبرپر رہی تھی ۔پارٹی نے ان سیٹوں کو کلسٹر بنانے میں نشان دہی کی ہے ۔ 29مئی 2019کو وزیر اعظم کی حلف برداری بھی تھی اس لئے 9برس مکمل ہونے پر 30مئی کو تقریب منائی جائے گی ۔ اور اس دن بھاجپا کے بڑے نیتا مرکزی وزراءدیش بھر میں پریس کانفرنس کریںگے۔ اور 31مئی کو وزیر اعظم نے اجمیر میں ریلی کی ہے بھاجپا اپنے میگا پلان کا اعلان کرے گی۔ بھاجپا ذرائع کے مطابق میگا پلان تاریخی ہوگالیکن پارٹی کے قیام سے اب تک کا سب سے بڑا جن سمپرک کا پروگرام بڑے سطح کا ہوگا۔ اس پلان میں آنے والے ایک مہینے میں دیش بھر کے ووٹروں تک پہنچا جائے گا۔ اس لئے 543لوک سبھا سیٹوں کیلئے بوتھ لیول ،پردھان اور ضلع پرمکھ اور لوک سبھا ایم پی راجیہ سبھا ایم پی اور پردیش صدور جنتا کے درمیان جائیں گے۔ در اصل سرکار کے 9سال پورے ہونے کے مو قع کو 2024کے عام چناو¿ کی تیاری سے جوڑا گیا ہے ۔ 28مئی کو نئے سنسد بھون کا افتتاح پر آنے والی دسمبر میں ایودھیا میں رام مندر گربھ گرہ میں موجود رام للا کی مورتی لگانے کی یوجنا اسی تیاری کا حصہ ہے ۔ بھاجپا کو لگتا ہے کہ شمالی بھارت میں اس کی پوزیشن سینچری پوائنٹ یعنی زیادہ حد سے اوپر پہنچ چکی ہے ۔ اب اسے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرق کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔ کرناٹک چناو¿ ہارنے سے سائیکلوجیکل طور پر مانا جا رہا ہے کہ بھاجپا کی سیٹیں کم ہوں گی ۔لیکن وزیر داخلہ امت شاہ نے مثال دی ہے کہ پچھلی بار بھی کرناٹک ،راجستھا ن ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ چناو¿ ہارنے کے بعد بھی بھاجپا نے 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں چاروں ریاستوںمیں اچھی کامیابی حاصل کی تھی۔اس لئے کرناٹک کی ہار کا اثر لوک سبھا چناو¿ پر نہیں پڑے گا۔ (انل نریندر)

30 مئی 2023

جوڈیشل افسران کی ترقی پر روک !

سپریم کورٹ نے گجرات کی نچلی عدالت کے 68جوڈیشری حکام کی ترقی پر روک لگا دی ہے ۔ جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس روی کمار پر مشتمل بنچ نے کہا کہ جن جوڈیشل حکام کو ترقی دی گئی فی الحال انہیں ان کے پرانے عہدے پر ہی واپس بھیجا جائے جن کی ترقی پر روک لگی ہے ۔ان کی ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو قصوروار ٹھہرانے اور سزا سنانے والے جج ہری ہسمکھ بھائی ورما بھی شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ مختلف ضلع عدالتوںمیں ترقی کیلئے گجرات ہائی کورٹ نے سفارش کی تھی۔ اسے نافذ کرنے کیلئے گجرات حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا۔ اسی پر بنچ نے روک لگائی ہے اور بنچ نے مدعہ لین کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے ۔اور کہا کہ ہائی کورٹ کیلئے جاری نوٹس اور ضلع جوڈیشری کے حکام کو ترقی دینے کیلئے ریاستی حکومت کا حکم غیر قانونی ہے اور اس عدالت کے فیصلے کے بر عکس ہے اس لئے اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم ترقی لسٹ پر عمل کیلئے روک لگاتے ہیں اور ترقی پانے والے متعلقہ ججوں کو ان کے عہدے پر ہی واپس بھیجا جاتا ہے ۔ بنچ نے یہ بھی صاف کیا کہ موجودہ التویٰ حکم ان اسامیوں پر بھی لاگو ہوگا جن کے نام میرٹ لسٹ میں پہلے 68امیدواروں میں نہیں ہے ۔ اب اس معاملے کی سماعت وہ بنچ کرے گی ۔ جسے چیف جسٹس سونپیں گے ۔ کیوں کہ جسٹس شاہ 15مئی کو ریٹائر ہوگئے۔ جج صاحبان گجرات میں 68ضلع ججوں میں ترقی کو چنوتی دی گئی تھی۔ دراصل ان ججوں کی ترقی 65فیصد کوٹہ قائدے کے مطابق کی گئی تھی۔ جسے سینئر سول جج کیڈر کے دو حکام نے چنوتی دی تھی ۔عرضی گزاروں نے کہا کہ بھرتی قواعد کے مطابق ضلع جج کا عہدہ اہلیت اور سینئرٹی کے اصول اور اہلیت امتحان پاس کرنے کی بنیاد پر 65فیصد ریزرویشن رکھتے ہوئے بھرا جاتا ہے ۔اور سینئرٹی کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوںنے جوڈیشل حکام نے 200میں سے 135.5اور 140.5نمبر حاصل کئے تھے اس کے باوجود کم نمبر لانے والے امید وارں کو جج مقرر کردیاگیا ۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نوٹس جاری کرنے سے پہلے ہی ہائی کورٹ نے ضلع ججوں کی ترقی کردی تھی اور نوٹس جاری ہونے کے وقت یہ فائل گجرات کے پاس لٹکی ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایک ہفتے اندر ہی ریاستی حکومت نے مختلف ججوں کو ترقی دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیاتھا ۔ اعتراض کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی ہے۔ (انل نریندر)

چیتا پروجیکٹ پر سوال؟

محکمہ جنگلات کونو نیشنل پارک میں مادہ چیتا دکشا کی موت کو قدرتی بے شک مان رہے ہیں لیکن مادہ چیتا جوالہ کے تین بچوں کی موت نے جہاں وائلڈ لائف شائقین کو مایوس کیا ہے وہیں ساو¿تھ افریقہ سے چیتے لاکر بھارت کے جنگلوں کوآباد کرنے کے اس پروجیکٹ کو سوالوں کے گھیرے میں ضرور لا دیا ہے ۔ اس سے پہلے 23مئی کو ایک چیتا بچے کی موت کے بعد میڈیکل جانچ میں تینوں بیمار ملے تھے ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ چیتے کی بچوں کی موت اسی شام ہو گئی تھی اور اس کی باقاعدہ جانکار ی محکمہ جنگلات کے حکام نے جمعرات کو ہی ظاہر کردی تھی۔ اس اہم پروجیکٹ کے تحت نامیبیا سے 20لائے گئے تھے۔ اور یہاں آنے کے بعد 27مارچ کو مادہ چیتا جوالہ نے چار بچوں کو جنم دیا حالاںکہ پچھلے چھ مہینوںمیں پہلے تین کی موت ہوئی اور پھر تین بھی زندہ نہیں بچے ۔کونو چڑیاں گھر منیجمنٹ کے مطابق زبردست گرمی کے سبب چیتے کی بچوں کی موت ہوئی ہے جس دن ان کی طبیعت بگڑی اس دن درجہ حرارت 47ڈگری تھا۔ساو¿تھ افریقہ کے وائلڈ لائف ماہرین کا کہنا ہے کہ چیتوں کی موت تکلیف دہ ہے اور یہ معمولی بات نہیں ہے ۔ پرنسپل چیف وائلڈ لائف نگہبان جے اے چوہان کے مطابق 23مئی کو ایک بچے کی موت کے بعد باقی تین بچوں اور ان کی ماں جوالہ کی پال پور میںماہرین جنگلات ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے مسلسل نظر رکھی گئی ۔ جوالہ کو سپلیمنٹ فوڈ بھی دیا گیا ۔ دوپہر بعد تین بچوں کی حالت ٹھیک نہیں ہوئی اور اسی دن درجہ حرارت 47ڈگری تک چلا گیا جس وجہ سے سب سے زیادہ گرم ہوا چلتی رہی کونو پارک کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے تین بچوں کا علاج شروع کیا لیکن طبیعت اتنی بگڑگئی کہ انہیں بچایا نہیں جا سکا ایک بچے کو آئی سی یو میں رکھا گیا۔ نامیبیا اور ساو¿تھ افریقہ کے معاون ڈاکٹروں اور ماہرین سے بھی مسلسل صلاح لی گئی ۔ مدھیہ پریش کے محکمہ جنگلا ت کے حکام نے ڈکلیئر کیا کہ ان بچوں کی موت شدید گرمی اور کھانا نہ کھانے اور علاج کی کوششوں پر ان کی طبیعت میں کوئی سدھار نہیں آیا کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چیتوں اور ان کے بچوں کیلئے یہاں کا موسم اور ماحول زیادہ راس نہیں ؟ جانکاری کے مطابق عام طور پر ریزو علاقوں میں چیتوں کے بچنے کی امید بہت کم ہوتی ہے ۔ اس عمر میں بچوں کیلئے سب سے زیادہ اچھی غذا ماں کا دودھ ہوتا ہے ۔قریب دو مہینے کے عمر کے یہ ننھے چیتے اس گرمی کے ماحول میں بڑوں کیلئے بھی پریشانی ہوتی ہے۔اگریہ بچے کمزور تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ماں کا دودھ درکار مقدارمیں نہیں مل پایا ۔ اور اگر یہ سچ ہے تو یہ صورت حال باعث تشویش ہے ۔ اتنے قیمتی چیتوں کی دیکھ بھال اور ان کے رکھ رکھاو¿ میں لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے کہ پروجیکٹ چیتا غلط تھا جس کی صحیح جانچ چیتوں کو لانے سے پہلے ٹھیک سے نہیں گئی ۔ (انل نریندر)

23 مئی 2023

نریندرمودی کیلئے اپوزیشن کی چنوتی !

کرناٹک میں سدارمیاں اور ان کی حکومت کے وزراءکی حلف برداری تقریب میں اپوزیشن کے کئی بڑے نیتا نظر آئے اور ان کی یہاں موجودگی درج کراکر اپوزیشن اتحا د کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسٹیج پر ایک ساتھ 16پارٹیوں کے لیڈر موجو دتھے۔ اور سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کامیابی کے انداز میں ہاٹھ اٹھاکر اپنے اتحاد کی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ حلف برداری تقریب میں کانگریس ملکارجن کھڑگے ،راہلی گاندھی ،پارٹی جنرل سیکریٹری پرینکا واڈرا اور تین مکھیہ منتیر اشوک گہلوت ،بھوپیش بگھیل ،سکھوندرسنگھ کانگریس کے کئی سینئر لیڈ شامل تھے ان کے علاوہ این سی پی چیف شردپوار ،بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بہار کے نائب وزیر علیٰ و آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو ،تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اسٹالن اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین وغیرہ موجود رہے ۔ واضح ہو کہ نتیش کمار پچھلے کئی ماہ سے اپوزیشن کے ان لیڈروں سے ملتے رہے ہیں۔ کچھ خاص معنیٰ ہیں۔ تلنگا نا ،دہلی ،مغربی بنگال ک،اتر دیش ، اڑیشہ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر سمیت 20لوک سبھا سیٹو ں میں اکیلئے بی جے پی کے پاس 133سیٹیں ہیں۔یہاں اپوزیشن اتحاد کامیاب ہوتا ہے کہ بی جے پی کو بڑا نقصان ممکن ہے۔ 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کی بڑی نے مرکز سیاست میں حریف پارٹیوںمیں حیثیت کم ہوئی ہے اس لئے حالیہ وقت میںاپوزیشن اتحاد کولیکر مسلسل بات چیت چل رہی ہے۔ 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کو قریب 38فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کی وبنیاد پر وہ 303سیٹیں لانے میں کامیاب رہی تھی۔ اور دوسرے نمبر پر کانگریس کو صرف 20سیٹیں ملی تھی ۔ اور 20فی صد ووٹ ملے تھے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہار میں یہ سبھی تجزیہ پوری طرح مہا گٹھ بندھن کے حق میں ہے ۔ دیش بھر میں اگر اپوزیشن اتحاد بن بھی جائے تو یہ بی جے پی کو ہرانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔کیوںکہ اپویزشن اتحاد کے باوجود بھی بی پی کو 210سیٹیں ملنا یقنی ہے ۔ بی جے پی اس صورت میں نمبر و ن ہوگی۔ کانگریس اوراس صورت نمبر دو پر رہے گی۔ اور اسے 80سے 90سیٹیں ممل سکتی ہیں۔کئی سیٹوں پر بی جے پی کانگریس کا سیدھا مقاملہ ہے اس مرتبہ عام اڈمی پارٹی بھی لاک سبھا چناو¿ میں اپنی موجودگی درج کرا سکتی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش کی محنت کتنا رکنگ لاتی ہے یہ ابھی کہنا مشکل ہے ۔اس سال ریاستومیں ہونے والے چناو¿ اپوزیشن اتحاد کی ایک طرح سے پریکشا ہے اس پر بہت کچھ منحصر کرے گا۔ (انل نریندر)

آرڈیننس کو بھی چنوتی دی جاسکتی ہے؟

مرکزی سرکار کی طرف سے دہلی حکومت کے اختیارات معاملوںمیں آرڈیننس لایا گیا ہے جس سے ایل جی کے پاس وہ سبھی اختیارات ہوںگے جو سپریم کورٹ سے تاریخی فیصلے کے بعد دہلی حکومت کو ملے تھے ۔ اب آگے کیا ہوگا کیوں کہ دہلی حکومت نے مرکز کی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے ۔اب معاملہ آگے کس شکل میں بڑھے گا فی الحال کہانہیں جا سکتا ۔ لیکن کچھ پرانے معاملوںپر نظر دالیں تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے ٹکراو¿ کے حالات میں کیا ہو سکتا ہے ۔سرخیوںمیں چھائے ایس سی ایس تی ایکٹ معاملے کے تحت درج معاملے میں پیشگی ضمانت کی سہولت کو ختم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کے قانون کو سپریم کورٹ نے 10فروری 2020کو بحال رکھا تھا۔ اس ترمیمی ایکٹ کو ایکٹ 2018کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کو اس نے جائز ٹھہرا یا تھا۔ دراصل 20مارچ 2018کو سپریم کورٹ نے ایس سی ایس ٹی کے گرفتار ی سہولت کو ختم کردیا تھا۔ اور پیشگی ضمانت کی سہولت دے دی تھی۔ ساتھ ہی ایف آئی آر سے پہلی شروعاتی جانچ کی سہولت رائج کردی تھی اس فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے تبدیلی کردی اور پہلے کے قانونی تقاضوں کو بحال کردیا ۔اس قانونی ترمیم کے تحت مرکزی حکومت نے پیشگی ضمانت کی سہولت کو ختم کر دیا تھا۔اس کے لئے مرکزی سرکار کے قانون ترمیم کو چنوتی دی گئی تھی۔ جس پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا اور مرکز کے قانون کو بر قرا ر رکھا ۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایم ایل لاہوٹھی بتاتے ہیں کہ دہلی سرکار کو آرڈیننس کو چیلنج دینے کا حق ہے کوئی بھی آر ڈیننس یا قانون جوڈیشل اسکروٹنی کے دائرے میں ہے ۔ جب بھی کوئی آر ڈیننس یا قانون ایوان میں بنتا ہے تو اسے سپریم کورٹ دیکھتی ہے کہ وہ قانون یا آرڈیننس آئین کے تقاضوں کے دائرے میں ہیں یانہیں؟ تما م ایس مثالیں ہیں جب مرکزی حکومت کے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے ۔کئی بارہ جوڈیشل اسکروٹنی میں ٹکا ہے اور کئی بار نہیں ٹک پایا۔ سپریم کورٹ کے وکیل جیاننت سنگھ بتاتے ہیں سپریم کورٹ جب بھی کوئی فیصلہ دیتے ہیں تو وہ آئین کی تشریح کرتی ہے آئین میں کو آرٹیکل یا سہولت ہے اس کے مطابق ہی سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سناتی ہے ۔ موجودہ معاملے میں بھی دفعہ 239AAکے تحت جو آئینی سہولت ہے اس کو سپریم کورٹ کے ان جج صاحبا ن کی بنچ نے تشریح کی اور مفصل غور خوض کے بعد ہی فیصلہ دیا ہے کہ ایل جی کو تین امور کو چھوڑ کر باقی معاملوںمیں وہ دہلی سرکار کی صلاح کوماننے کیلئے پابند ہیں ۔ اب دیکھتے ہیں کہ مرکزی حکومت اس نئے آر ڈیننس میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ (انل نریندر)

18 مئی 2023

کانگریس کیوں جیتی،بھاجپا کیسے ہاری!

اپوزیشن کے کئی لیڈروں نے کرناٹک اسمبلی چناو¿ میں جیت کے بعد کانگریس کی تعریف کی اور کہا کہ یہ نتیجہ دکھاتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی میجک نہیں ہےںمودی کو بھی ہرایا جا سکتاہے ۔اتراکھنڈ کے بعد کرناٹک میں بی جے پی ہار گئی ۔ مودی شاہ ہار گئے اور کانگریس جیت گئی ۔کانگریس کیوں جیتی اور بھاجپا کیوں ہاری اس پر طرح طرح کے تجزیہ ہو رہے ہیں۔ میرے مطابق کانگریس کی جیت کی ایک بڑی وجہ راہل گاندھی اور ان کی بھارت جوڑا یاترا کا جذباتی اثر رہا ۔پارٹی کے مطابق بھارت جوڑو یاترا 20اسمبلی حلقوں سے گزری تھی جن میں سے 15سیٹوں پر کانگریس نے جیت درج کی یہ یاترا سب سے زیادہ 21دن کرناٹک میں رہی اس کے ساتھ راہل گاندھی کی لوک سبھا ممبرشپ منسوخ ہونے کا بھی جنتا پر اثر ہوا۔ اس سے بھی کانگریس کو ہمدردی ملی ۔پھر وقت سے پہلے چناوی حکمت عملی تیار کرنا اور اس پر عمل شروع کرنا کانگریس پارٹی کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ پارٹی نے زمینی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے نئی چناوی حکمت عملی بنائی ۔بی جے پی نریٹیو کا مقابلہ کیا اور حکمراں پارٹی کے خلا ف اپنے اہم چناوی اشو کی شکل میں کرپشن کو ترجیح دی۔ اس کی تیاری پارٹی نے پہلے سے ہی کرلی تھی ۔ مہینوں پہلے باسو راو¿ بومئی نے بھی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس نے چناوی تیار ی ہم سے پہلے شروع کردی تھی۔ اس حکمت عملی پہل کا فائدہ کانگریس کو ملا ۔ کانگریس پارٹی بومئی سرکار کے خلاف جنتا کی ناراضگی کو اچھی طرح سے اپنے فائدے کیلئے استعمال کیااور اشتہارات سب سے بڑے اخبار وجے کرناٹک ہیڈ لائن ہے کہ جنتا کی ناراضگی نے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کردیا ۔ وزیر اعظم نے کرناٹک میں قریب ایک درجن ریلیاں کیں ۔ 26کلو میٹر لمبا روڈ شوز کیا لیکن کہیں بھی لوکل اشوز پر ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔ کرناٹک میں بی جے پی سرکار کے کارناموں کے بجائے مرکزی حکومت کے کارنامے زیادہ گنائے۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی نے نہ صرف مقامی لیڈوں کو اہمیت دی بلکہ لوکل اشوز کو چناوی اشو بنا یا ۔ ابھی نندی دودھ بنام امول دودھ کے معاملے کو ہی لے لیا جائے کہ جیسی ہی امول نے اعلان کیا کہ وہ ریاست میں آن لائن سیل کرنے کیلئے میدان میں آرہے ہیں اسے کانگریس لوکل بنام باہرے گجرات کے معاملے کو پیش کیا اور وہ کامیاب رہی۔ اب بات کرتے ہیں کہ بی جے پی کرناٹک میں کیوں ہاری؟ سب سے پہلے بتادیں کہ کرناٹک اسمبلی چناو¿ میں چناو¿ کمیشن کے مطابق بی جے پی کے 30امید واروں کی ضمانت ضبط ہو گئی ۔ بی جے پی وہ چھ غلطیاں جس کی وجہ سے انہیں ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اقتدار مخالف لہر کی کاٹ نہیں کرپائی ،کرناٹک میں بھاجپا کی ہار کی بڑی وجہ اقتدار مخالف لہر تھی جس کی کاٹ کیلئے مناسب قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے ۔ ایک طے میعاد تک اقتدار میں رہنے کے بعد ووٹر اکثر حکمراں پارٹی کی پر فارمنس سے غیر مطئن ہو جاتے ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ بی جے پی2019سے قتدار میں تھی ،کو بے روزگاری اور آسمان چھوتی مہنگائی جیسے مسئلوں کو سامنا کرنا چاہئے تھا۔ کانگریس نے انہیں مسئلوں کو اٹھایا لیکن ماہرین کے مطابق بھاجپا اس پر کوئی ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہی وزیر اعظم ،وزیر داخلہ و بی جے پی قومی صدر ،وزراءوغیر ہ کسی نے بھی ان برننگ اشوز پر ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔ اسٹار کمپینر نریندر مودی اور پارٹی کے دوسرے مرکزی لیڈروںپر زیادہ انحصار اور مقامی لیڈروں کو چناو¿ میں مہم میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ۔اور مرکزی لیڈروںپر ضرورت سے زیادہ انحصار تھا۔ برانڈ مودی کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی کام نہیں آیا۔ بی جے پی کا خیال تھاکہ پی ایم مودی کی ریلیوں اور روڈ شوز سے کم سے کم 20سیٹوں سے زیادہ بھاجپا کی جھولی میں آجائیںگی ، ایسا نہیں ہوا۔ چناو¿ کمپن کے آخری مرحلے میں پی ایم مودی نے چناو¿ کمپین کو تیزی دینے کی کوشش کی اور اپنے ڈیڑھ ہفتے کے قیام کے دوران وہ اوسطاً ہر دن تین سے چار ریلیاں اور روڈ شوز کرتے تھے ۔ خیر لوگوں نے پولرائزیشن کی سیاست کو سرے سے مسترد کردیا ۔ ہر طرح سے کوشش ہوئی کہ لڑائی فرقہ ورانہ ہو جائے ۔یہاںتک کہ بجرنگ بلی کو بھی کمپن کے دوران لے آئے ۔ صاف ہے کہ بی جے پی کی نفرت کی ہار ہوئی ہے ۔ مودی نے جتنا ہوسکے ووٹروں کا پولرائزیشن کرتے رہے ۔امت شاہ اور ہیمنٹ وسوا سرما نے کمپین کے آخری دنوںمیں اقلیتوں کے خلاف اور بھی زیادہ بری باتیں کہیں لیکن وہ سب ناکام رہی ۔ ساو¿تھ پنتھی نظریہ اور سیاسی ماہرین نے چناوی مہم کے وقت کرناٹک کا دورہ کیا تھا وہ کہتے تھے کہ پارٹی میں جو بغاوت ہوئی اور جس طرح سے رسہ کشی ہوئی خاص طور سے سینٹرل اور لنگایت والا علاقہ اور مہاراشٹر سے لگے کرناٹک کے علاقوںنے ان نیتاو¿ ں کی منفی چناوی کمپین نے پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا یا ۔ ساتھ ہی جگدیش شٹار کی مانگوں کو نظر انداز کیا گیا ۔ اس کا خمیازہ پارٹی کو سینٹرل اور نارتھ کرناٹک میں بھگتنا پڑا ۔ پارٹی میں آپسی رسہ کشی اور گروپ بندے نے بھی پارٹی کو کمزور کیا ۔ اورپارٹی کے قد آور لیڈ یدی یورپا کو نظر انداز کرنے کی بھاری غلطی کی ۔ بھاجپا نے اقتدار میں کئی وعدے کئے تھے لیکن انہیں پورا کرنے میں ناکام رہے اس سے ووٹروں کے بھروسے اور حمایت پر اثر پڑا ۔ کانگریس کے سی ایم مہم کو صحیح طریقے سے کاو¿نٹر نہیں کیا گیا۔ کرناٹک ریاست ٹھیکیدار فیڈریشن کی شکایت تھی کہ ہر ایک ٹنڈر کو پاس کرانے کیلئے 40فیصد کمیشن کی مانگ کی جاتی ہے ۔ جسے کانگریس پارٹی نے اپنے چناوی فائدے کیلئے بھر پور استعمال کیا اور بومئی سرکار کو مسٹر 40فیصد کمیشن سرکار کا نام دے دیا گیا۔ حالاںکہ اس کرپشن کے الزام کوثابت نہیں کیا جا سکا ہے ۔ لیکن کانگریس نے زبردست ہوا بنائی جس سے اسے چناو¿ میں کامیابی ملی ۔ (انل نریندر)

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...