Translater

19 اکتوبر 2019

صرف کسانوں کو کوسنے سے آلودگی دور نہیں ہوگی ہم بھی ذمہ دار!

دہلی کے لوگ پچھلے کچھ دنوں سے آلودہ ہوا میں سانس لے رہے ہیں ۔9اکتوبر کے بعد سے آب وہوا کی کوالٹی کی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے ۔اور یہ بیحد آلودہ زمرے میں شامل ہو گئی ہے ۔کئی برسوں بعد اس مرتبہ دسہرے کی اگلی صبح دھویں سے بھری نہیں تھی لیکن اگلے دن 9اکتوبر کو ہوائی کوالٹی کا انڈیکس 173.یعنی درمیانی سطح کا تھا آتش بازی اور پٹاخوں میں کمی کے چلتے پانچ برسوں میں آلودگی کی سطح سب سے کم تھی لیکن اگلے دن سے ہی آلودگی کی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے ۔تب سے مسلسل دہلی کی ہوا میں آلودگی کے زرات کی مقدار بڑھ رہی ہے ۔یہ سیزن میں سب سے خراب سطح پر یعنی 3سے 4کے پوائنٹ تک پہنچ گئی ہے ۔موسمیات کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ آب و ہوا کوالٹی اگلے کچھ دنوں میں مزید خراب ہو سکتی ہے ۔دہلی این سی آر میں اکتوبر نومبر کے درمیان آلودگی کے بڑھتے ہی ٹھیکرا پرالی جلانے والے کسانوں پر پھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ اس کا اپکا نے صاف کیا ہے کہ پرالی کا اشتراک دس فیصد سے بھی کم ہے ۔آلودگی کےلئے 90فیصد ذمہ دار مقامی زرائع ہوتے ہیں ۔مقامی اسباب کچھ اسطرح ہیں دہلی میں قریب دو ہزار غیر منظور کالونیاںہیں ہائی کورٹ نے ان میں تعمیراتی کام پر روک لگائی ہوئی ہے ۔پھر بھی یہاں چوری چھپے فلیٹ اور مکان بنائے جا رہے ہیں ۔تعمیراتی جگہوں پر ریت اور بدرپور کھلے میں پڑا رہتا ہے جو گاڑیوں کے آنے جانے سے ہوا سے اُڑتا ہے ۔اورہوا میں دھول مل جاتی ہے پولس کا کام ہے کہ ناجائز تعمیرات کی اطلاعات کارپوریشن کو دے تاکہ وہ کارروائی کر سکے اور پولس بھی تعمیراتی سامان لے جا رہی گاڑیوں پر نظر رکھے دہلی ٹریفک پولس اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر دن میں اوسطاًپندرہ مرتبہ ان علاقوں کی جانکاری دیتی ہے جہاں جام لگتا ہے اس کے پیچھے بہت سی گاڑیاں خراب ہونا واقعہ ہونا یا سڑکوں پر تعمیراتی کام کرنے والی ان تمام ایجنسیوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے تمام رات میں اس پر دھیان دیا جائے لینڈ فل سائٹ خالی پلاٹ اورکالونیوں کے اندر آس پاس اکثر کوڑے میں آگ لگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہوا میں زہریلیا پن ہوتا ہے گھروں میں کوڑے اُٹھانے کی ذمہ داری ایم سی ڈی کی ہے ۔سڑکوں پر کوئی کچرا نہ جلائے اس کا بھی دھیان ایم سی ڈی کرمچاریوں کو رکھنا ہوتا ہے ۔خراب اور ٹوٹی سڑکوں کے سبب بھی دہلی کی ہوا خراب ہو رہی ہے ۔دہلی سرکار نے حال ہی میں سڑکوں کے گڈھے بھرنے کی مہم چلائی ہوئی ہے پی ڈبلیو ڈی ایم سی ڈی کے حصے سے سب سے خراب سڑکیں آتی ہیں ۔کون کتنا ذمہ دار ہے ؟ٹرانسپورٹ 39.1فیصدی صنعتیں 22.3اور رہائشی 5.7دھول کے زرات 18.1اور دیگر 19.1فیصدی ذمہ دار ہیں ۔آلودگی اس لئے صرف پرالی کو اکیلے آلودگی کے لئے قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہم سبھی کہیں نہ کہیں دہلی میں آلودگی کے لئے ذمہ دار ہیں ۔

(انل نریندر)

کیا وادی میں بلا ک کونسل چناﺅ آزادانہ اورمنصفانہ مانیں جائیں گے؟

وادی کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے تقریبا دو مہینے ہونے والے ہیں اور ریاست میں حالات نارمل نہیں ہو پا رہے ہیں ایک طرف جہاں کشمیر وادی میں سیاسی پارٹیوں سے وابسطہ بڑے چھوٹے نیتا نظر بند ہیں وہیں جموں و کشمیر میں بلاک ڈبلوپمینٹ کاﺅنسل کے چناﺅ کی تیاری جاری ہے ۔جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد وہاں یہ پہلے چناﺅ ہوں گے یہ 24اکتوبر تک ہونے ہیں ۔بلاک ڈبلپ مینٹ کونسل پنچایتی راج سسٹم کا دوسرا نظام ہے ۔اس میں پنچ اور سرپنچ ووٹ ڈالتے ہیں ۔اس وقت جموں وکشمیر میں 316بلاک ہیں جن میں چناﺅ ہونا ہے ۔انٹر نیٹ اور موبائل سروس پوری طرح بحال نہیں ہوئی ایک طرف وادی میں سیاسی نیتا نظر بند ہیں اپوزیشن لیڈر ان بلاک کونسل کے انتخابات کو جمہوریت کا مذاق بتا رہے ہیں ۔تنقید کرنے والوں کے مطابق مرکزی حکومت کے اقدام کے سبب وادی میں سیاسی خلا پیدا ہو جائے گا جس سے لوگوں میں سسٹم میں بھروسہ کم ہوگا ۔جموں وکشمیر کانگریس کے نیتا رویندر شرما کو شکایت ہے کہ ہم کیسے امیدوار کھڑے کریں اور ان کو کیسے چنیں ؟جب تک ان سے ہم کوئی رابطہ قائم نہیں کر سکتے ؟وادی میں ہمارے سارے نیتا نظر بند ہیں ۔اگست میں رویندر شرما کو پریس کانفرنس کرنے سے روکا گیا تھا اور انہیں حراست میں لیا گیا تھا اس لئے کانگریس نے ان بلاک کونسل کا چناﺅ کا بائیکاٹ کیا ہے ۔پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نیتاﺅں سے رابطہ قائم نہیں کر پا رہے ہیں ۔جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے نیتا ہرش دیو کا کہنا ہے کہ ہم اپنے امیدواروں کو چناﺅ لڑنے کے لئے اتھارٹی لیٹر نہیں دے پا رہے ہیں تاکہ وہ چناﺅ ہمارے الیکشن سمبل پر لڑ پائیں ۔یہ کس طرح کے چناﺅ ہیں ؟ہرش دیو سنگھ کو جموں میں 58دن کی نظر بندی کے رہا کیا گیا تھا ۔جمہوریت کا مطلب ہے کہ سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو برابر کے موقع ملیں یہ تو جمہوریت کا مذاق ہے ۔نیشنل کانفرنس کے نیتا دویندر رانا کا کہنا تھا کہ جب سب کچھ لاک ڈاﺅن میں ہے تو ایسے وقت سیاست کے بارے میں بات کرنا مناسب نہیں ہوگا ایسی صورت میں سیاسی سرگرمیا ں کیسے چلیں گی؟سیاسی سرگرمیو ں کے لئے مثبت ماحول چاہیے ۔جب تک سیاسی ورکرلوگوں سے نہیں ملیں گے اور وہ ان کے جذبات اور توقعات کو سمجھ کر نیتاﺅں تک جانکاری نہیں پہنچائیں گے تب تک سسٹم کیسے چلے گا ؟وہیں جموں وکشمیر بھاجپا کے رویندر رینا مانتے ہیں نیتاﺅں کی گرفتاری سے وادی کی سیاسی حالات پر برا اثر پڑا ہے ۔اور وادی میں قومی دھارا کی سیاسی پارٹیوں کے نیتاﺅں پر کوئی مقدمے درج نہیں کئے گئے ہیں ۔صرف فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ہے اور وہ بھی خفیہ ایجنسوں کو ڈر تھا کہ وہ بیان بازی کر کے حالات بگاڑ سکتے ہیں اس کے علاوہ باق سب نیتا نظر بندی میں ہیں ان کے خلاف سرکار میں ایف آئی آر درج کر انہیں اندر نہیں کیا جسے کہ کیا جاتا ہے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر جموں و کشمیر میں نورمل سیاسی سرگرمیاں نہیں ہے تو آزادانہ اور منصفانہ چناﺅ کیسے مانے جا سکتے ہیں ویسے بھی اگر ایک سیاسی پارٹی اکیلے اپنے امیدوار کھڑے کرئے گی اور باقی بائکاٹ تو یہ جمہوری چناﺅ کیسے مانا جائے گا؟

(انل نریندر)

18 اکتوبر 2019

ایودھیا تنازعہ:مقدمہ کےساتھ اہم اشو اور ان پر دی دلیلیں!

ایودھیا تنازعہ پر چالیس دن چلی سماعت کے دوران ہندو اور مسلم فریق نے زوردار دلیلیں پیش کیں ۔ہندو فریق نے زمانہ قدیم سے لے کر اے ایس آئی اور تقاضوں پر زود راد دلیلیں دیں ۔سماعت کے دوران ہندو فریق نے کہا کہ سال 1526میں مندر ڈھا کر مسجد بنائی گئی تھی۔ایسا کر کے بابر نے خود کو سبھی قاعدہ قانون سے بالا تر رکھ لیا ۔اس کی حرکت کو قانونی نہیں بتایا جا سکتا بابر کی تاریخی غلطی کو درست کرنے کا وقت آگیا ہے ۔سپریم کورٹ میں چلی سماعت کے بارے میں ہم نے سینر وکیلوں کی مدد سے ان سات اہم اشوز کو چنا جو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہے ۔ان پر دونوں فریقوں کے ذریعہ زوردار دلیلیں ہوئیں ۔آئیے جانتے ہیں یہ اہم اشو کون سے ہیں اور اس پر دونوں فریقین کی طرف سے کون سی دلیلیں دی گئیں ۔ہندو فریق:رام للا براجمان سے کہا 2.77ایکٹر متنازعہ زمین پر مندر تھا جس کی جگہ بابر نے مسجد بنائی 185کھمبے اور ان پر نقاشی اور اے ایس آئی کی رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے ۔بھلے ہی مسجد بن گئی لیکن اس پر مالکانہ حق ہندوﺅں کا رہا ۔نرموہی اکھاڑے نے کہا کہ متنازعہ جگہ پر ہم شروع سے دیوتا کے سیوک رہے ہیں ۔مالکانہ حق ہمارا ہے ۔سنی وقف بورڈ:مسجد چار سو سال سے تھی برطانیوی گرانٹ بی دیا کرتے تھے انگریزوں نے صرف عبادت کا حق دیا تھا ۔زمین پر قابض کون:ہندو فریق:سال 1934کے بعد اس مقام پر مسلمانوں نے نماز ادا کرنا بند کر دی ۔نرموہی اکھاڑانے کہا کہ مسلم فریقین نے بھی مانا ہے کہ ہم سال 1855سے سیوک کے کردار میں ہیں ۔مسلم فریق:اس میں نماز سے زبردستی روکا گیا ۔سال 1934کے بعد سے باقاعدہ نماز بند ہو گی ۔گواہوں نے تصدیق کی ہے کہ جب نماز کی کوشش کی تو جیل میں ڈال دیا گیا ۔بھلے ہی نماز بند ہوئی ہو لیکن قبضہ ہمارا رہا ۔رام کی صحیح پیدائشی مقام:ہندو فریق:مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے والا مقام ہی بھگوان رام کا صحیح جنم استھان ہے ۔وہیں مسلم فریق کا کہنا ہے کہ یہ جو دعوی کر رہے ہیں وہ اس پہلو پر مبنی ہے کہ پجاری نے کہا کہ انہیں بھگوان رام نے سپنے میں آکر اس جگہ کی جانکاری دی ۔ایسے دعوے کو مانا نہیں جا سکتا ۔متنازعہ جگہ کے قریب جنم استھان کے نام سے ایک مندر ہے کچھ لوگ اسے رام کا جنم استھان مانتے ہیں وہیں کچھ لوگ رام چبوترے کو بھگوان رام کا جنم استھان بتاتے ہیں تو دعوی صحیح کیسے ؟:اے ایس آئی رپورٹ کا دعوی :ہندو فریق متنازعہ مقام پر کھدائی کے بعد اے ایس آئی رپورٹ میں صاف ہے کہ وہاں سے ملی چیزیں اور کھمبے کسی مندر کے ہیں ۔یعنی وہاں پہلے مندر تھا ۔قرآن شریف کے مطابق مندر پر کسی بھی طرح کی کشیدہ کاری مناہی ہوتی ہے ۔مسلم فریق :وہ رپورٹ محض ماہرین کے نظریات ہیں سماعت کے وقت اے ایس آئی بھاجپا کے ایک وزیر کے اشارے پر کام کر رہی تھی ۔کئی ایسی مسجدیں ہیں جن پر پھول پتیاں بنی ہوئی ہیں ۔متنازعہ مقام پر ملے باقیات عیدگاہ کے تو ہو سکتے ہیں ۔اگر مندر کے نہیں ۔مندر کی جگہ مسجد کیسے بنی؟لیکن ہندو فریق :بابری مسجد تعمیر کے لئے مغل بادشاہ بابر نے توڑوایا تھا ۔یا اورنگ زیب نے ۔اس کا ثبوت یا دستاویز نہیں ہے ۔اصل میں متنازعہ ڈھانچہ مندر تھا جسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔وہاں مسجد کا نئے سرے سے تعمیر ہوئی نہیں تھی ۔مسلم فریق:متنازعہ جگہ پر کوئی مندر نہیں تھا ۔سال 1527میں بابر کے کہنے پر اس کے کمانڈر میر باقی نے ایک چٹیل میدان زمین پر مسجد بنوائی تھی اس کا ذکر اسلامی کتابوں میں بھی ہے ۔ہندو فریق :رام اور اس کی جنم بھومی آستھا کا مرکز ہے لو گ اسے بھگوان کی طرح پوجتے ہیں اس لئے رام للا جوڈیشل فریق ہیں ۔مسلم فریق:متنازعہ جگہ کو جوڈیشل شخص نہیں مانا جا سکتا ۔کورٹ ایسا کرتی ہے تو پھر مسجد بھی جوڈیشل شخص ہے ایودھیا میں اس وقت 55سے 56مساجد ہیں جہاں مسلمان نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن ہندو بھگوان رام کا جنم استھان نہیں بدل سکتا ۔اس پر سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ پٹواری بتایں گے کہ ایودھیا میں کتنے مندر ہیں ؟پٹواری نے کہا کہ بڑی تعداد میں مندر ہونا جنم استھان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور آبادی کے تناسب کو بھی دیکھنا چاہیے ۔وہیں کورٹ نے پٹواری سے حدبندی کے قانون ،مناسب قبضے اصول سمیت تمام قانونی معاملوں پر سوال اُٹھاتے ہوئے پوچھا کہ 2.77ایکڑ متنازعہ زمین سے مسلمانوں کا قبضہ کیسے ہٹایا جائے ؟بدھ کے روزسپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت شروع ہوتے ہی چیف جسٹس رنجن گگوئی نے بحث کی ڈیٹ لائن طے کر دی ۔اورکہا کہ اب کوئی بیچ میں ٹوکا ٹاکی نہیں کرئے گا اور بحث شام پانچ بجے ختم ہو جائے گی ۔

(انل نریندر)

ہمیں توڑنے کی کوئی کوشش ہوئی تو وہ ہڈی پسلی توڑدے گا!

بھارت سے نیپا ل دورے پر پہنچے چینی صدر شی جنگ پنگ نے اتوار کے روز سخت آگاہی کرتے ہوئے بڑے تلخ الفاظ کا استعمال کیا ان کا کہنا تھا کہ کوئی چین کو توڑنے کی کوئی شکایت ملی تو وہ اس کی ہڈی پسلی توڑ دے گا نیپالی وزیر اعطم پی کے شرما اولی کے ساتھ ہوئی بات چیت میں یہ خطرناک دھمکی بھری بات سامنے آئی جنگ پنگ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایسی کوشش کرنے والوں کا ساتھ دینے والی باہری طاقتوں کو بھی چینی لوگ چکنا چور کر دیں گے ۔بہر حال شی کی اس وارنگ کا کیا مطلب نکالا جائے وہ کس کی طرف اشارہ کر رہے تھے ؟ایک جواب تو یہ لگتا ہے کہ بے شک انہوںنے کسی دیش کا نام نہیں لیا لیکن انہوںنے اپنے اس بیان سے بھارت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔جس نے بڑے تبتی دھرم گرو دلائی لاما کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے اور تبت کی ضلع وطن سرکار کو تسلیم کیا ہوا ہے ۔نیپال میں تبت کی آزادی کی ہمایت میں کچھ تبتی رضا کار صدر جنگ پنگ کے دورے پر احتجاج کر رہے تھے نیپال حکومت نے ان مظاہرین پر سخت کارروائی کی ہے شی جنگ پنگ کے اس بیان کو اس سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے اس کے ساتھ ہی ہانگ کانگ میں پچھلے چار مہینوں سے جاری مظاہروں سے بھی ایک طرح سے جوڑا جا رہا ہے ۔وہیں ہانگ کانگ میں کئی پر امن ریلیاں نکالی گئیں اس دوران ان کو ناکام بنانے کے لئے پولس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں ۔ریلیوں کی وجہ سے ہانگ کانگ میں میڑو کے متعدد اسٹیشن بند رہے ۔ہانگ کانگ کی موجودہ حالت کافی سنگین ہے شی کی یہ وارنگ امریکہ اور ان سبھی ملکوں کے لئے ہے جو در پردہ طور پر ہانگ کانگ میں جاری مظاہرین کے ساتھ تشدد میں کھڑے ہیں ۔جنگ پنگ نے نہ صرف چین کا موقف صاف کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ امریکہ کو بھی خبر دار کیا ہے کہ وہ چین کے اندرونی معاملوں میں مداخلت سے دور رہے ۔حال ہی میں ریپبلیکن پارٹی کے سنیٹر ٹیڈ کروز نے ہانگ کانگ میں چین کے موقوف کی تنقید کی تھی ۔اور چین کو علاقائی امن کے خطرہ بتایا تھا ۔چین ،نیپال میں کئی ڈھانچہ بندی کے پروجکٹوں پر کام کرئے گا نیپا ل اور چین کے ساجھا بیان میں کہا گیا ہے کہ نیپا ل اور چین کے باہمی رشتے اب نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں ۔نیپال نے چین کی اہم ترین پروجکٹ ون بیلٹ ون روڈ کی بھی ہمایت کی حالانکہ بھارت اس پروجکٹ کے خلاف ہے ۔نیپال چین کو ایک حکمت عملی ساجھیدار بتایا گیا ہے ۔چین اور نیپال کے درمیان کل 20سمجھوتے پر دستحط ہوئے ہیں ۔نیپال کے وزیر اعظم اولی نے کہا کہ ان کا دیش ایک چین پالیسی کے حق میں ہے ۔تائیوان کو نیپال نے چین کا اٹوٹ حصہ مانتا ہے ۔تبت مسئلے میں بھی کہتا ہے کہ یہ چین کا اندرونی مسئلہ ہونے کا حمایتی ہے ۔

(انل نریندر)

17 اکتوبر 2019

ابھجیت بینرجی کو نوبل پرائز

ہندوستانی نزاد ابھجیت بنرجی و ان کی اہلیہ اسٹیپ ڈلوں اور مائکل فریر کو 2019کا معاشیات کے لئے نوبل پرائز دیا جائے گا۔ابھجیت مغربی بنگال کے ہیں ۔ممبئی میں پیدا اور دہلی کے جے این یو میں پوسٹ گریجویٹ کرنے کے بعد 1983میں امریکہ چلے گئے ابھجیت دوسرے ہندوستانی ہیں جنہیں معاشیات کا دوسرا نوبل پرائز ملے گا اس سے پہلے 1998میں امرتسین کو یہی ایوارڈ ملا تھا ۔کولکاتہ یونیورسٹی سے بے ایس سی اور اس کے بعد دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کرنے کے بعد ابھجیت نے ہاورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی ۔ابھی وہ ایم آئی ٹی میں کام کرتے ہیں ۔اور کیر ہارورڈ میں ماہر اقتصادیات ہیں ۔ان کی اسٹڈی کی بنیاد پر ہی بھارت نے غریب معزور بچوں کی اسکولی تعلیم کے سسٹم کو بہتر بنایا گیا ۔جس سے قریب پچاس لاکھ بچے اس سے فیضیاب ہوئے نوبل کمیٹی نے کہا کہ ابھجیت کی رسرچ کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت کے لاکھوں بچوں کو اسکولوں کو میں مزید کلاسوں کا فائدہ ملا ہے ۔خود دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بینرجی کو یہ کہہ کر مبارکباد دی ہے کہ ان کے بنائے ماڈل سے ترغیب پا کر ہی ان کی حکومت نے راجدھانی کے اسکولوں کی حالت بدلی ہے ۔58سالہ ابھجیت نے غریبی ہٹانے کےلئے ریسرچ کی ہے ان کی کتاب پﺅر اکنامکس کو گولڈ مین سکسیز بجنس بک آف دی ایئر کا خطاب ملا تھا وہ مودی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے پر نا اتفاقی ظاہر کر چکے ہیں ۔ابھجیت نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے سبب ہونے والی تکلیف اندازے سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ہاوڈ یونیورسٹی کی نرم گوئی کے ساتھ مشترکہ طورپر لکھے گئے پیپر میں کہا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان غیر منظم سیکٹر کو ہوگا جہاں ہندوستانی مزدوروں کو 85فیصد یا اس سے زیادہ حصہ روزگار پاتا ہے ۔ابھجیت کی لکھی باتیں صحیح ثابت ہو رہی ہیں ۔مراکش جیسے درجن بھر ملکوں نے ان کے اصولوں کو اپنایا جس کے اچھے نتیجے سامنے آئے اسی کامیابی کے لئے انہیں نوبل سے نوازہ جا رہا ہے ۔نوبل کمیٹی نے عالمی سطح پر غریبی کو ختم کرنے سے متعلق ان ماہر اقتصادیات کے تجرباتی نظریہ کو خاص طور سے پیش کیا گیا ہے ۔حقیقت میں بینرجی اور ان کے ساتھ ایوارڈ حاصل کرنے والے دیگر ماہر اقتصادیات کے کام کی اہمیت کو اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے نقطہ نظر پر تعمیل کرتے ہوئے مختلف ملکوں نے غریبی کی چنوتیوں سے نمٹنے کےلئے عام آدمی سے جڑے تعلیم ،ہیلتھ اور رہائش جیسے بنیادی سوالوں پر کام کرنا شروع کیا تو اس کے اچھے نتیجے سامنے آئے 2019کے لوک سبھا چناﺅ کے دوران کانگریس نے خط افلاس کی زندگی بسرکرنے والے لوگوں کو انصاف یوجنا کے تحت 72ہزار روپئے دینے کا وعدہ کیا تھا اس اسیکم کی شروعاتی خاکہ کئی ماہر اقتصادیات کی مدد سے بنانے کے بعد راہل گاندھی نے ابھجیت سے رائے لی تھی اور انہوںنے کئی تبدیلیاں کیں ۔ابھجیت نے کہا تھا کہ بیسک کم از کم انکم سے لوگوں کے پاس پیسہ آئے گا تو غریبی ہٹے گی دیش کی معیشت بھی مضبوط ہوگی ۔حالانکہ بھارت میں 2005-6سے لے کر 2015-16کے دوران ایک دہائی میں 27کروڑ لوگوں کو زبردست غریبی سے نکالا ہے اگر ورلڈ بینک کے مطابق ابھی بھی 22فیصدی لوگ خط افلاس کی زندگی جیتے ہیں ہم ابھجیت کو بدھائی دیتے ہیں انہوںنے ایک مرتبہ پھر بھارت کا نام روشن کیا ہے ۔

(انل نریندر)

اگر فلمیں کروڑوں کا کاروبار کر رہی ہیں تو دیش میںمندی کیسے؟

مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے حال ہی میں ایک حیرت انگیز بیان دے دیا جس پر تین فلموں کی باکس آفس پر ایک دن میں ہوئی 120کروڑروپئے کی کمائی کے بارے میں مثال دی گئی تھی اور کہا تھا کہ دیش میں مندی کہاں ہے ؟حالانکہ بعد میں اپنے بیان سے پلٹ گئے ۔واضح ہو کہ وزیر موصوف نے پریس کانفرنس میں بے روزگاری اور ملک کی معیشت میں سستی کو بری طرح مسترد کر دیا تھا ۔انہوںنے معاشی نظام میں مندی سے انکار کیا ۔وہیں فلمی صنعت کے ماہر نے کہا کہ نیشنل ہالی ڈے 2اکتوبر کو تین فلمیں ریلیز ہوئی تھیں ان تین فلموںنے اس روز 120کروڑ روپئے کا کاروبار کیا تھا روی شنکر پرساد نے دلیل دی کہ اب جب دیش میں اکنامک تھوڑی اچھی ہے تبھی تو 120کروڑ روپئے کا ریٹرن ایک دن میں آیا ہر دلائل پر صحیح ہے ۔ممبئی فلموں کی راجدھانی ہے اور میں نے وہیں یہ بات کہی تھی ۔ہمیں اپنی فلم صنعت پر بہت فخر ہے جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے اور ٹیکس کلیکشن میں بھی اس صنعت کا بڑا تعاون ہے ۔این ایس او (نیشنل سروے آفس )کے بے روزگاری سے جڑے اعداد وشمار پوری طرح غلط ہیں ۔ممبئی میں اخبار نویسوں سے بات چیت کے دوران انہوںنے یہ بات کہی کہ اگر فلمیں کروڑوں کا کاروبار کر رہی ہیں تو پھر دیش میں مندی کیسے ہے؟کیا فلموں کے دھندھے سے پتہ چل سکتا ہے کہ ہمارے دیش کی معیشت کا کیا حال ہے؟سوشل میڈیا پر رد عمل روی شنکر پرساد کے بیان پر خاصا دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ان کے اس بیان پر چٹکلے بھی اور نکتہ چینی بھی ہو رہی ہے ۔ایک ٹوئٹر یوزر نے لکھا کہ سر کومل نہاٹا کو وزیر خزانہ بنا دیتے کیا کہتے ہیں ؟سول آف انڈیا نام کے ایک ٹوئٹر ہینڈل سے یہ ٹوئٹ کیا گیا ہے آج یہ لوگ باکس آفس کے اعداد و شمار کا حوالہ دے رہے ہیں کل بولیں گے تھیٹر کے باہرٹکٹ بلیک کرنا بھی روزگار ہے ۔ایک دیگر یوزر نے بولا کہ ای گولا یا اب نہیں رہنا اس سال فروری میں این ایس او کے افشاں ہوئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2017-18میں بے روزگاری شرح 6.1فیصدی تھی جو پچھلے سال 45سال میں سب سے زیادہ تھی یہ اعداد و شمار باہر آنے کے بعد سرکار کی کرکری ہوئی حالیہ دنوں میں بے روزگاری اور اقتصادی مندی کے سوالوں کو لے کر سرکار کو سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔کچھ وقت پہلے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا تھا کہ ہندوستانی نوجوان گاڑیاں خریدنے کے بجائے اولا ابر سے جانا پسند کرتے ہیں اس لئے آٹو سیکٹر میں گراوٹ آئی ہے ان کے اس بیان کی سخت نکتہ چینی ہوئی تھی روی شنکر پرساد نے اس اقتصادی مندی سے وابسطہ اپنے بیان پر تنازعہ کھڑا ہونے کے بعد اتوار کو اسے واپس لے لیا ۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت لوگوں کے احساسات کا ہمیشہ خیال رکھتی ہے اور ان کے بیان کے ایک حصے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ۔ایک سنجیدہ انسان ہونے کے ناطے وہ اپنا بیان واپس لے رہے ہیں ۔

(انل نریندر)   

16 اکتوبر 2019

ڈرون کے نئے مسئلے کا فی الحال ہمارے پاس کوئی توڑ نہیں

پچھلے مہینے پنجاب میں ڈرون کے ذریعہ قریب دس ہتھیار گرائے جانے کے واقعہ کے پیچھے پاکستان نان ایسٹریٹ ایکٹر ہی نہیں بلکہ پاک فوج اور آئی ایس آئی جیسے اداروں کا ہاتھ ہے یہ ہمیشہ محکمہ خفیہ نے شروعاتی جانچ رپورٹ وزارت داخلہ کو دی گئی ہے میں کیا ہے ۔ساتھ ہی رپورٹ میں یہ سوال بھی کھڑا کیا گیا ہے کہ سرحد پار سے بھیجے گئے ڈرون حرکت کو انڈین ائیرفورس بی ایس ایف آخر کیوں نہیں پکڑ پائی ؟نیشنل ٹیکنکل ریسرچ آرگنائزیشن نے شروعاتی جانچ میں اس فریکوینسی کا بھی پتہ لگایا ہے کہ جس میں ان ڈرون کو پاکستان میں بیس اسٹیشن سے کنٹرول کیا جا رہا تھا ۔وزارت داخلہ نے این آئی اے کو ان اسٹیٹ ایکٹر کی جانچ کرنے کی ذمہ داری سنوپی ہے جانچ کے مطابق یہ ڈرون چین میں تیار شدہ ہے ۔پاکستانی رینجر ایسی چینی تکینک کا خوف استعمال کرتے ہیں ۔وزارت داخلہ کے مطابق پچھلے قریب ڈیڑھ مہینے میں سرحد پار سے ڈرون بھیجے جانے کے آٹھ واقعات سامنے آئے تھے اس کے ساتھ دس اے کے 47اور دستی گولے گرائے گئے تھے ان کا استعمال جموں و کشمیر میں دنگا بڑھکانے کے لئے ہونا تھا بی ایس ایف نے وزارت داخلہ سے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ اس کے پاس ہوا میں کسی ہلچل کا پتہ لگانے کی کوئی تکینک نہیں ہے ڈرون اکثر رات میں بھیجے جا رہے ہیں ۔لہذا اسے کھلی آنکھوں کو نہیں دیکھا جا رہا ہے ۔اُدھر ائیر فورس نے بھی ڈرون کو راڈار کے ذریعہ پکڑنے میں اپنی لاچاری جتائی ہے ۔وزارت نے سبھی سیکورٹی اداروں کوا س نئے مسئلے کے حل کے لئے قدم بتانے کو کہا ہے ۔آتنکی حملہ کے انپٹ کے بعد سے پٹھان کوٹ ریڈ الرٹ پر ہے ۔جمعرات کو پنجاب اور ہماچل پولس نے دونوں ریاستوں کو پنجاب میں واقع ٹمٹال کی پہاڑیوں کے جنگل میں سرچ آپریشن چلایا تھا پنجاب کی طرف سے پٹھان کوٹ کے سٹی ڈی ایس پی راجیندر منہاس اور ہماچل پردیش سے نور پور ڈی ایس پی ڈاکٹر ساحل اروڈا کی قیادت میں پولس اور کمانڈو کی ٹیم نے جنگل کے بیچ میں تلاشی کارروائی شروع کر رکھی ہے ۔ڈرون کے اس مسئلے کا ہمیں جلد کوئی توڑ تلاشنا ہوگا پاکستان نے چین کی مدد سے یہ ہتھیار گولا بارود گرانے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے ۔اس میں ان کا کوئی فوجی زخمی بھی نہیں ہوتا ویسے آج کل تو ڈرون اتنے خطرناک بن چکے ہیں کہ وہ چنے ہوئے ٹارگیٹ پر ٹھیک بمباری کرنے میں بھی اہل ہیں ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...