Translater

28 جون 2014

کیا ویاپم گھوٹالے میں بھاجپا کے باغیوں کا ہاتھ ہے؟

نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان پر ویاپم (کمرشل ایڈمیشن ٹیسٹ منڈل) بھرتی گھوٹالے کا الزام لگنا اشوکیا کسی طے شدہ سیاست کے تحت لایا گیا ہے۔کیا یہ بھاجپا کی اندرونی سیاست و وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کے خلاف انہی کی پارٹی اور آر ایس ایس کے لیڈر کے آپسی ٹکراؤ کا نتیجہ ہے؟مدھیہ پردیش پروفیشنل ایگزامینشن بورڈ میں بھرتی گھوٹالے کا پچھلے سال پتہ چلا ۔ یہ انکشاف ہوا کہ انجینئرنگ میڈیکل اور دوسرے کمرشل امتحانات میں ریاست میں باہر سے آئے لوگ امتحان مرکز میں بیٹھ کر وہاں کے امتحان دینے والوں کو نقل کروا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ او ایم آئی شیٹ خالی چھوڑ دی جاتی تھی جسے بعد میں بھر کر لوگوں کو پاس کیا جارہا تھا۔ اندور پولیس نے2013ء میں یہ معاملہ پکڑا۔ اب یہ معاملہ ہائی کورٹ کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ قریب 400 لوگ اس معاملے میں اب تک گرفتار ہوچکے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد پچھلی سرکار میں اعلی و تکنیکی وزیر رہے لکشمی کانت شرما کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ آر ایس ایس کے چہیتے رہے ہیں۔ ہر بھاجپا سرکار میں منتری بنے، انہیں معدنیات سے لیکر اعلی تعلیم جیسی ملائی دار وزارتیں دلانے میں آر ایس ایس کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے ایک آر ایس ایس کے استاد رہے سدھیر شرما کو اپنا او ایس ڈی مقرر کیا ، جو بعد میں خود معدنیات کا دھندہ کرتے ہوئے ارب پتی بن گیا۔ اب وہ فرار چل رہا ہے۔ کانگریس لیڈر اس گھوٹالے میں شیو راج سنگھ چوہان کے خاندان کے افراد و رشتے داروں کا نام ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ شیو راج سنگھ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے جوابی کارروائی کانگریس کے ترجمان کے کے مشرا کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کردیا ہے۔ حالانکہ یہ کیس شیو راج سنگھ نے خود نہیں بلکہ مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سرکاری وکیل کے ذریعے بھوپال کے ضلع و سیشن جج کی عدالت میں دائر مقدمے کی اگلی سماعت26 جون تھی۔ شیو راج نے اس معاملے میں صرف اتنا کہا کہ سارے الزامات بے بنیاد ہیں۔ اب معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے اس لئے وہیں بات ہوگی۔ مجھے جب نوٹس ملے گا تو میں عدالت میں اس کا جواب دوں گا۔ اس وقت بھوپال میں واقع بلب بھون دو خیموں میں بٹ گیا ہے۔ وہاں شیو راج حمایتی اور مخالف دونوں ہی سرگرم ہیں۔ جہاں حمایتی ان کا بچاؤ کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو ناراض انہیں نپٹانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپوزیشن خیمہ کانگریس کو تمام دستاویز دستیاب کرا رہا ہے اور باغیوں کا لمبا منصوبہ ہے۔ ان کا خیال ہے نریندر مودی وزیر اعلی پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ انہیں لال کرشن اڈوانی اور سشما سوراج کے گروپ کا مانتے ہیں۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ سب سے پہلے شیو راج نے اڈوانی کو بھوپال سے چناؤ لڑنے کی دعوت دی تھی جو مودی کو ناگوار گزری۔ اس سے پہلے پبلک اسٹیج پر اڈوانی، شیو راج کی کھل کر تعریف کرتے نظر آئے تھے اور انہیں مودی کے برابر اہل مانتے تھے۔ اس انکشاف سے پہلے وزیر اعلی و نگراں سریش سونی کے تعلقات بگڑ چکے تھے۔ لکشمی کانت شرما و سونی کافی قریب تھے۔ انہیں بہت طاقتور وزیر مانا جاتا تھا۔ بعد میں ان کے وزیر اعلی سے تعلقات خراب ہوگئے۔ اس گھوٹالے میں سنگھ کے قریبی و اس سے جڑے لوگوں کے نام بھی آرہے ہیں۔ شیو راج سنگھ مخالف لیڈروں کی کوشش ہے کہ حالات اتنے بگڑ جائیں کہ معاملہ سی بی آئی تک پہنچ جائے جس سے وزیر اعلی کا مستقبل وزیر اعظم کے رحم و کرم پر ٹک جائے۔ شیو راج سنگھ چوہان نے دہلی آکر مودی اور راجناتھ سنگھ سے ملنے کی کوشش کی لیکن دونوں نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ بعد میں شیو راج نے دونوں نیتاؤں سے فون پر بات کی اور اپنی پوزیشن صاف کی۔ بیشک سامنے کانگریسی نیتا ہیں لیکن ان کے پیچھے شیو راج کی اپنی پارٹی کا ایک گروپ ان معاملوں کو اچھال رہا ہے۔
(انل نریندر)

اکھلیش یادو کو’’دشمن‘‘ گورنر آنے کا خوف ستانے لگا!

بڑھتے جرائم کے سبب اترپردیش حکومت کو برخاست کئے جانے کی مانگ کے درمیان گورنر بی ایل جوشی کے رخصت ہونے سے سپا حکومت کی پریشانی پر پریشانی اور لکیریں کھینچتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پہلے سے ہی چنوتیوں کے بوجھ تلے اکھلیش یادو سرکار کیلئے جوشی کا استعفیٰ کوڑھ میں کھان والی کہاوت ثابت کرنے کی کوشش ثابت ہورہی ہے۔ حکومت کو اس بات کا ڈر ہے کہیں جوشی کا جانشین ان کی سماجوادی سرکار کے ساتھ دوستی نہ نبھائے تو کیا ہوگا؟ بی ۔ایل۔ جوشی78 سال پولیس کے افسر رہے ہیں۔ ان کا تقرر سابقہ کانگریس سرکار کے زمانے میں ہوا تھا اور وہ مختلف نظریوں والے دو وزرائے اعلی مایاوتی اور اکھلیش یادو کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ لکھنؤ میں پانچ برسوں کے اپنے عہد کے دوران جوشی درحقیقت سیاست سے دور رہے۔ انہوں نے تبھی سرکار کو ٹوکاجب حالات بالکل پٹری سے اترتے دکھائی دئے۔ راج بھون نے نہ سرکار سے وابستہ اپنے نظریات کو میڈیا کے سامنے ظاہر کیا اور جن وزرائے اعلی کے ساتھ جوشی نے کام کیا ان سے سیدھی بات چیت رکھی۔ سماجوادی پارٹی کی سرکار کو اس بات کا اندیشہ ہے کہیں ریاست میں قانون و نظم سمیت تمام اشو کو بنیاد بنا کر نئے گورنر آئے دن سوال جواب نہ کریں۔ راج بھون کی طرف سے اگر ایسا ہوا تو اکھلیش یادو کے لئے نئی پریشانی کھڑی ہوجائے گی جس سے نمٹنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش میں اتحادی اپنا دل کے ساتھ 73 سیٹیں جیتنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں سرکار بنانے کے بعد سے مسلسل اکھلیش یادو سرکار کی برخاستگی کی مانگ کرتی آرہی ہے۔ اب تک آدھا درجن سے زیادہ بار پارٹی کے پردیش پردھان لکشمی کانت باجپئی اور دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ اترپردیش کا لچر قانون و نظام اور بجلی کٹوتی کو بنیاد بنا کر سابق گورنر بی ایل جوشی سے ملاقات کر سرکار کو برخاست کرنے کے لئے میمورنڈم دے چکی ہے۔ سپا سرکار کو اس بات کا بھی ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں سماجوادی پارٹی پردھان ملائم سنگھ یادو کے وزیر اعلی رہتے ہوئے گورنر رہے ٹی وی راجیشور جیسا حال اس کا دوبارہ نہ ہو۔ اس دور میں ریاستی حکومت اور راج بھون کئی مرتبہ آمنے سامنے آگئے تھے اور دونوں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات پیدا ہوگئے تھے۔ اب اکھلیش سرکار کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ریاست میں تقریباً روز ہو رہی سنسنی خیز وارداتیں پہلے ہی وزیر اعلی کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہیں۔ 15 روز کے اندر پردیش کے دو چیف سکریٹریوں ، داخلہ سکریٹری ڈاکٹر اے ۔ کے گپتا اور دیپنت سنگھل کا تبادلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قانون و نظم کو پٹری پر لانے کے لئے سرکار کس طرح سے پریشان ہے۔ حال ہی میں بڑی تعداد میں ضلع حکام اور پولیس افسران کے تبادلے کرکے وزیر اعلی نے قانون و سسٹم کو پٹری پر لانے کی چال چلی ہے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے حالات سے نمٹنے میں نئے گورنر کونسا رول ادا کرتے ہیں؟اب جوشی کے رخصت ہونے پر ریاستی سرکار کو ’’دشمن‘‘ گورنر کے آنے کا ڈر ستا رہا ہے۔
(انل نریندر)

27 جون 2014

عراق میں شیعہ۔سنی لڑائی کی تاریخ پرانی ہے!

کٹر پسند تنظیم آئی ایس آئی ایس جیسے جیسے عراق کیلئے خطرہ بنتی جارہی ہے ویسے ویسے عراق کے ساتھ ساتھ دیگر دیشوں کے شیعہ مسلمانوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ عراق کے موجودہ حالات شیعہ۔ سنیوں کے درمیان کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ آخر شیعہ۔سنی لڑائی کیوں؟دنیا کے مسلمانوں میں خاص کر دو فرقہ بڑے ہیں اور ان فرقوں میں بٹے ہیں شیعہ اور سنی۔ پیغمبر حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد ان دونوں فرقوں نے اپنے اپنے راستے الگ کرلئے۔ ان کا ابتدائی تنازعہ اس بات کو لیکر تھا کہ اب کون مسلمانوں کی رہنمائی کرے گا۔ان دونوں کے درمیان632 عیسویں میں حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد سے ہی ان کی جا نشینی کو لیکر اختلافات ابھرے تھے جو اب تک قائم ہیں۔ حالانکہ دونوں فرقوں میں بہت کچھ تہذیبی طور پر مشترکہ ہے لیکن وہ کچھ اسلامی احادیث اور اصولوں کی تشریح الگ الگ طریقے سے کرتے ہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کی کل آبادی میں شیعہ کے مقابلے سنی مسلمان زیادہ ہیں۔ کچھ عرصے پہلے 2011-12 میں امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹرکی جانب سے 200 ملکوں میں کرائے گئے سروے کے مطابق سال 2009 ء میں کل مسلم آبادی 1 ارب57 کروڑ تھی۔ یہ کل آبادی 6 ارب 800 کروڑ کی 23 فیصدی ہوتی تھی۔ کچھ مسلمان ادارے اس سے زیادہ آبادی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ ویسے اس میں دورائے نہیں کہ عیسائیوں کے بعد مسلم دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ مسلمانوں میں زیادہ تعداد میں متفرق فرقے ہیں جو کل مسلم آبادی کا 85 سے90 فیصد مانے جاتے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دونوں فرقے صدیوں تک مل جل کر ایک ساتھ رہتے تھے اور کافی حد تک ان کے مذہبی عقیدے اور رسم و رواج ایک جیسے ہیں ابھی تک عراق میں شیعہ۔ سنیوں کے درمیان شادیاں عام ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اختلافات ، اصول اور قوانین اور مذہبی عقائد اور مذہبی انجمنوں کو لیکر رہے لیکن حال کے کچھ برسوں میں لبنان اور شام سے لیکر عراق اور پاکستان تک کئی ملکوں میں دونوں فرقوں کے درمیان لڑائی دیکھنے کو ملی ہے اور اس میں اختلافات کی خلیج بڑھی ہے۔ سنی کون ہیں؟ سنی مسلمان خود کو اسلام کو کی قدیمی روایت کو ماننے والا کہتے ہیں اور ان کی روایت پر عمل کرتے ہیں۔ سنی روایت والے لوگوں سے مراد ہے پیغمبر حضرت ؐ یا ان کی امت کے لوگوں کی جانب سے قائم کردہ اصولوں اور شرعی ہدایت کے مطابق کام کرنا۔ قرآن پاک میں جن سبھی نبیوں کا ذکر ہے سنی ان سب کو مانتے ہیں لیکن ان کے لئے حضرت محمدؐ آخری نبی تھے۔ ان کے بعد جو بھی مسلمان پیشوایا رہنما آیا انہیں دنیاوی ہستی مانا جاتا ہے۔ سنی روایت شرعی قانون اور احادیث کے عمل پر زور دیتے ہیں۔شیعہ کون ہیں؟ اسلامی تاریخ کے آغاز میں شیعہ ایک سیاسی شاخ تھے۔لفظ’شیانِ علی‘ یعنی حضرت علی کے دوست شیعہ مانتے ہیں کہ پیغمبر حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد ان کے داماد حضرت علیؓ کو ہی مسلم فرقے کی قیادت کرنے کا حق تھا۔ طالبان سنی گروپ ہے۔ طالبان کٹر پسند کئی بات شیعہ مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ آئے دن ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں شیعوں پر طالبان نے حملہ کیا اور بسوں سے اتار کر ان کو موت کی نیند سلا دیا۔ عراقی وزیر اعظم نور المالکی پر سنیوں کونظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اقتدا ر میں رہتے ہوئے بھی حضرت علی کو ماننے والے لوگ مارے جارہے ہیں۔ ان کے صاحبزادے حضرت حسین اور حسن نے بھی خلافت کا دعوی کیا تھا۔حضرت حسین میدان جنگ میں شہید ہوگئے جبکہ حسن کے بارے میں مانا جاتا ہے انہیں زہر دیا گیا تھا۔ ان واقعات میں شیعہ فرقے میں شہادت کی اہمیت کو بڑھادیا اور وہیں سے ماتم کی روایت چلی آرہی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ دنیا میں 12 سے17 کروڑ شیعہ فرقے کے لوگ رہتے ہیں جو کل مسلمانوں کی آبادی کا 10 فیصدی ہیں۔ زیادہ تر شیعہ مسلمان ایران، عراق، بحرین، آزر بائیجان اور کچھ اور ملکوں می یعنی یمن میں بھی رہتے ہیں۔ افغانستان ، بھارت، کویت، لبنان، پاکستان، قطر، شام، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات میں بھی ان کی آبادی اچھی خاصی ہے۔ تشدد کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ جن ملکوں میں سنیوں کے ہاتھوں میں اقتدار ہے وہاں شیعہ عام طور پر سماج کا سب سے غریب طبقہ ہیں۔ وہ خود کو امتیاز اور ذیادتیوں کا شکار مانتے ہیں۔ کئی سنی کٹر پسند اصولی طور پر شیعوں کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
ایران میں1979ء کے انقلاب کے بعد ایک کٹر پسند اسلامی ایجنڈے کو آگے بڑھایاگیا جس میں خاص طور سے خلیجی ملکوں کی سنی حکومتوں کے لئے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا گیا۔ عراق میں سابق حکمراں مرحوم صدام حسین سنی تھے اور اسی لئے ان کے وقت میں ایران ۔عراق میں ٹکراؤ چلتا رہا۔ ایک بار جنگ بھی چھڑی۔2011ء میں عراق کے 14فیصد سنیوں نے کہا کہ وہ شیعوں کو مسلمان نہیں مانتے۔ مصر کے53 فیصد سنیوں نے بھی کہا کہ شیعہ مسلمان نہیں ہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے سرغنہ ابوبکر بغدادی بھی شیعوں کو مسلمان ماننے سے انکارکرتے رہتے ہیں۔ عراق میں حالیہ جنگ کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سنی آئی ایس آئی ایس عراق شیعہ حکومت کو پلٹنا چاہتا ہے۔ ایران حکومت نے اپنی سرحدوں سے باہر شیعہ لڑاکو اور پارٹیوں کو حمایت دی ہے جبکہ خلیجی ملکوں نے بھی اسی طرح سنیوں کو بڑھاوا دیا۔ اس سے دنیا میں سنی حکومتوں اور تحریکوں کے ساتھ ان کے روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ کی فوجی سرگرمیوں کے سبب شیعوں کی سیاسی آواز مضبوطی سے دنیا کو سنائی۔ پاکستان اور افغانستان میں طالبان جیسے کٹر پسند سنی تنظیم اکثر شیعوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔ شام اور عراق میں بھاری بحران میں شیعہ اور سنی تنازعے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ان دونوں ہی ملکوں میں نوجوان سنی باغی گروپوں میں شامل ہورہے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ القاعدہ کے کٹر پسندانہ نظریئے کو مانتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدام کے امپیریل گارڈ کی تکڑیاں حملے کے بعد روپوش ہوگئی تھیں۔ وہ اب بھی باغیوں سے مل گئی ہیں اور حال ہی میں چھڑی خانہ جنگی میں وہ کھل کر سرکار کے خلاف لڑائی لڑ رہی ہیں۔ دونوں ملکوں عراق اور شام میں نوجوان سنی باغی گروپوں میں شامل ہورہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف شیعہ فرقے کے کئی لوگ سرکار کی طرف سے یا سرکاری فوجوں کے ساتھ مل کر لڑائی لڑ رہے ہیں۔ عراق میں جو خانہ جنگی جاری ہے اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں ایک بہت بڑی وجہ صدیوں سے شیعہ سنی لڑائی بھی ہے۔
(انل نریندر)

26 جون 2014

یوجی سی بنام وی سی صحیح کون؟

چار سالہ ڈگری کورس کو لے کریوجی سی اور دہلی یونیورسٹی کی لڑائی لگتا ہے کہ فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی ہے یوجی سی کا دعوی ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے 64کالجوں میں سے 57کالج تین سال کے کورس میں داخلہ دینے کو تیار ہوگئے ہیں یوجی سی نے منگل کی رات ان کالجوں کی لسٹ بھی جاری کردی ہے۔ اس سے پہلے دن بھر یوجی سی اوروی سی دینش سنگھ اس مسئلے پر آر پار کی لڑائی کے موڈ میں نظر آئے وی سی کے استعفی کااعلان تک ہوگیا جس میں بعد میں اس سے انکار کردیا گیا۔ دہلی یونیورسٹی میں چار سالہ کورس کو لے کر گھمسان مچا ہوا ہے۔اس میں صحیح اور غلط کافیصلہ کرنا مشکل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم کے سیکٹر اتنی بدامنی اور سیاست ہوگئی ہے سارے اشو کاحل سیاسی سہولت کے حساب سے اور اپنے ذاتی مفادات کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں وزارت تعلیم یہ کہہ رہی ہے کہ دہلی یونیورسٹی اور یو جی سی کے درمیان کچھ نہیں بدلے گا یوجی سی نے دہلی یونیورسٹی کو چار سالہ ڈگری کورس ختم کرنے کاحکم دیا تھا وزارت تعلیم یہ جتانے کی کوشش کررہی ہے کہ یوجی سی نے اپنی مختاری کی بنیاد پر یہ کورس ختم کرنے کافیصلہ کیاہے جب کہ حقیقت سب ہی جانتے ہیں کہ یوجی سی نے وزارت انسانی وسائل ترقی کی خواہش سے یہ حکم جاری کیا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ وعدہ کیاتھا کہ اگر اس کی سرکار بنے گی کو چار سالہ ڈگری کورس کو پہلے کی طرح تین سالہ کردیا جائے گا۔ اس لئے بھاجپاکی سرکار نے یوجی سی نے یہ حکم جاری کردیا ہے۔ اگر یوجی سی اس کورس کے خلاف تھی تو اسے پچھلے سال ہی ایسا کرناچاہئے تھا۔ جب بھاری تنازعوں کے درمیان دہلی یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کیاتھا صاف طور پر یہ مرکز میں پارٹی اقتدار کی تبدیلی کا اثر ہے اس میں کوئی ہرج نہیں 1986 کی قومی پالیسی میں مقرر 10+2+3کے پیٹرن کو درکنارے کر چار سالہ کورس شروع کرنے کافیصلے کی نظرثانی ہو اس میں تبدیلی ہو لیکن محض حکومت بدلنے سے اگر یوجی سی کا پورا نظریہ بدل گیا ہے تو اسے اس کے نظریے کی مختاری اور ضمیر پر سوال اٹھتا ہے اسے میں طلبہ کا مستقبل اور داخلے کا عمل ادھر میں لٹک گیا ہے یوجی سی اس کے لئے دہلی یونیورسٹی سے کم ذمے دار نہیں ہے بہرحال بڑا سوال دہلی یونیورسٹی کے فیصلے پر بھی ہے جس نے اپنی مختاری کی آڑ میں پارلیمنٹ کی طرف سے پاس قومی تعلیمی پالیسی کو نظر انداز کیا ہے۔ جو لوگ آج چار سالہ کورس کو بند کرنے کے لئے یوجی سی کے فرمان کو دہلی یونیورسٹی کے مختاری پر حملہ قرار دے رہے ہیں انہیں اس بات کا بھی جواب دینا ہوگا کیا مختاری کی آڑ میں پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس پالیسی کی خلاف ورزی کی جاسکتی ہے۔ بہرحال تین سالہ ڈگری کورس کی بحالی کے ساتھ چار سالہ کورس کے تحت پڑھ رہے ہیں طلبا کا ہے مناسب ہوگا اس تعلیم علموں کی پڑھائی ان کے نصاب کے حساب سے پوری ہو۔ دہلی یونیورسٹی ان کچھ یونیورسٹیوں میں ہے جس کی ساکھ بچی ہوئی ہے۔ لیکن حالیہ تنازعہ سے اس کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔
(انل نریندر)

مودی سرکار رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرے!

وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کو بھگوان رام کے بنائے سیتو کو توڑنے والی یوپی اے سرکار کی سیتو سمندرم پروجیکٹ کو جلد مسترد کرنا ہوگا۔ وزارت جہاز رانی کو قانون وزارت سے مشورہ لے کر اور آگے قدم بڑھانے چاہئے ہندو مذہب کی اقدار کے پیش نظر ہم امید کرتے ہیں کہ مودی سرکار سپریم کورٹ میں التوااس اشو پر پروجیکٹ کو رام سیتو کے راستے سے ہٹائے گی ساتھ ہی اسے قومی وراثت اعلان کردیے گی نتین گڈ گری کی رہنمائی والی وزارت جہاز رانی نے وزیراعظم سے تاملناڈو کی وزیراعلی جے للیتا سے ملاقات کے بعد رام سیتو کو توڑنے کے پروجیکٹ کو روکنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ حالانکہ یہ اشو سپریم کورٹ التوا میں ہے اس وجہ سے حکومت سیدھے طور پر پروجیکٹ کو بند کرنے کافیصلہ لینے سے کترا رہی ہے اسی وجہ سے عدالت میں جب جواب داخل کرنے سے پہلے وزارت قانون سے رائے لی جائے گی یوپی اے سرکار کی یہ اہم اسکیم سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر ہونے کے بعد قانونی تنازعے میں الجھ گئی تھی اس دوران بھی بھاجپا نے پروجیکٹ کی مخالفت کی تھی تاملناڈو کی سرکار بھی عدالت میں اس پروجیکٹ کی اس کی مسلسل مخالفت کرتی رہے۔ وزارت جہاز رانی کے ایک افسر کے مطابق پروجیکٹ کو بند کرنے یا رام سیتو سے اس راستے سے پورا کرنے پر ماہرین سے رائے لی جائے گی اس کے بعد وزارت قانون سے مشورہ لیا جائے گا ساتھ ہی رام سیتو کو قومی وراثت کا اعلان کرنے پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پروجیکٹ کو ختم کرنے پر بھاجپا سرکار کو تاملناڈو سرکارسے حمایت ملے گی اور اس سے سیاسی نزدیکیاں بڑھے گی اور ساتھ ہی اس قدم کا فائدہ مودی سرکار کو پارلیمنٹ لے جانے والے سخت فیصلوں پر راجیہ سبھا میں مل سکتا ہے سیتو سمندرم اور زمانہ قدیم کے پل رام سیتو کو توڑ کر ہندوستان کے جنوبی حصے کے ارد گرد سمندر میں ایک آبی راستہ بھی بنائے جانے پر مرکوز ہے سیتو سمندرم پروجیکٹ کے تحت 30 میٹر جوڑا 12میٹر گہرا اور 167 میٹر لمبا بحری چینل بنائے جانے کی تجویز ہے سپریم کورٹ نے 3جولائی 2008 کو سیتو سمندرم شپ چینل پروجیکٹ کے کثیر المقاصد راستے کا امکان تلاشنے کے لئے ماہر ماحولیات ڈاکٹر آر کے پچوری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔ کروڑوں ہندوؤں کی عقیدت سے جڑا رام سیتو ہرحال میں محفوظ رہنا چاہئے ۔نریندر مودی سے ہماری یہی امید ہے کہ ہمارے لئے کوئی ایسا راستہ نکالیں گے جس سے یہ قدیمی وراثت کو کوئی نقصان نہ پہنچیں۔
(انل نریندر)

25 جون 2014

ہر کھلاڑی کیلئے سبق میسی، نیمار اور رونالڈو!

دنیا کے تین الگ الگ کونوں میں پیدا تین بچے ایک دم معمولی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ تینوں میں یکسانیت فٹبال کے تئیں جنون لیکن چیلنج بڑے بڑے۔ ایک خوفناک بیمار، دوسرا غریبی سے لاچار تو تیسرا سہولیات سے دور لیکن تینوں ڈٹے رہے ، خوب پریکٹس کی، کھیل کو نکھارا، بڑے بڑے دھرندروں کو مجبور کیا وہ انہیں اپنی ٹیم میں لے لیں۔ آج یہ تین نوجوان دنیا کے سب سے مشہور فٹبال ستارے ہیں۔ یہ ہیں ارجنٹینا کے لیانون میسی، پرتگال کے کرستیانو رونالڈو اور برازیل کے نیمار۔ 1986ء میں جس ورلڈ کپ نے میرا ڈونا کو شہرت دلائی اس کے ایک سال بعد یعنی1987ء میں ارجنٹینا کے ہی روجوریو شہر میں لیانول میسی کی پیدائش ہوئی تھی۔ اپنے کسی بھی ہم عمر بچے کی طرح میسی بھی میرا ڈونا کی طرح ہی بننا چاہتا تھا۔ 9 سال کی عمر میں میسی 15-15 منٹ تک فٹبال ان سے دوسرے بچے نہیں چھین پاتے تھے۔ جب میسی 11 سال کے تھے تو انہیں پتہ چلا کہ وہ گروتھ ہارمون کی ایسی کمی کا شکار ہیں جس کا جلد علاج نہیں کیا گیا تو ان کے جسم کی نشو نما رک جائے گی۔ علاج بیحد تکلیف دہ تھا لیکن وہ ڈٹے تھے۔ وہ روز خود اپنی زانوں پر ہارمون کا انجکشن لگا تے تھے ۔7 دن ایک پیر میں تو اگلے7 دن دوسرے پیر میں۔ میسی کے خاندان کے لئے اس علاج کا خرچ تقریباً ڈیڑھ ہزار ڈالر تھا جو ان کے لئے برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔ میسی کے والد جارج کو ان کے ایک دوست نے بتایا کہ اسپین کے وارثی لونا کلب نوجوان فٹبال کھلاڑیوں کے علاج کا خرچ دیتا ہے۔ وہ میسی کولیکر کنبے کے ساتھ اسپین آگئے۔ کلب نے ان کا علاج کروایا ۔ اب میسی کو طے کرنا تھا کہ وہ اسپین میں رہیں گے یا ارجنٹینا لوٹ جائیں گے۔ 14 سالہ میسی نے فیصلہ سنایا کہ میں اسپین میں ہی رہوں گا اور پیشہ ور فٹبال کھلاڑی بنوں گا۔ اس کلب نے میسی کے لئے اتنا کیا کہ اب مجھے لوٹانا ہے۔ آج لیونول میسی دنیا کے نمبر 1 کھلاڑی بن گئے ہیں اور کروڑوں نوجوانوں کے آئیڈل بن گئے ہیں۔ رونالڈو 14 سال کے تھے جب انہیں اسکول سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنی ٹیچر پر کرسی پھینک ماری تھی۔ اس واقعے کے بعد ان کی ماں نے کہا کہ اب اس کے سامنے یہ ہی راستہ بچا ہے کہ وہ پوری توجہ اپنی فٹبال کھیل پر دیں۔ رونالڈو اپنے گھر اور کنبے سے دور لسبن اسپورٹنگ اکادمی میں آگئے۔ یہیں ان کی ٹریننگ شروع ہوئی۔ چار سال بعد2003ء میں مینچسٹر یونائیٹڈ نے اکاڈمی کی ٹیم میں ایک دوستانہ میچ کھیلا ۔ نتیجہ تو مینچسٹر یونائیٹڈ کے حق میں رہا لیکن ونر ٹیم کے ریوفرڈیناڈ ، ریان گپس نے اپنے کوچ سر الیکس فرگ سن سے کہا کہ رونالڈو کو اپنی ٹیم میں لے لیں۔ رونالڈو ایک ٹریننگ اکادمی سے نکل کر سیدھے دنیا کے جانے مانے کلب میں شامل ہوگئے۔ کلب نے اس معجزاتی بچے کو حاصل کرنے کے لئے 17 ملین ڈالر چکائے۔ رونالڈو ایک ہارڈ ورکر شخص ہیں جو ہمیشہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک قابل دید مشین ہیں یہ ثابت کرتا ہے ان کا کیریئر ریکارڈ ۔2009ء سے ریئل میڈریڈ کی طرف سے کھیل رہے رونالڈو کہتے ہیں میرا خواب ہے میں اپنے دیش پرتگال کو ایک ورلڈ کپ جتا کر دوں۔ برازیل کے شہر سوپاؤلو کے قریب ایک مقام مونگی داکروز میں نیمارکی پرورش ہوئی۔ پہاڑی ایک ایسے سرکاری اسکول میں ہوئی جہاں نہ ٹھیک سے پڑھنے کی سہولت تھی اور نہ کھیلنے کی۔ برازیل میں فٹبال سے ہی ملتا جلتا ایک کھیل فٹسال ہے جو بہت مقبول ہے۔ جو باسکٹ بال کوٹ میں کھیلا جاتا ہے۔اس میں سارا دم خم اسی بات پر لگانا ہوتا ہے کہ ایک کوٹ سے دوسرے کوٹ میں کم اچھال والی بھاری فٹبال پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول کیسے رکھا جائے۔ ایسے ہی گیند کوتاکتے تاکتے نیمار 9 سال کی عمر تک غیر معمولی فٹبال کھلاڑی بن گئے اور اچھی فٹبال کھیلنے کی وجہ سے انہیں ساؤپاؤلو کے ایک پرائیویٹ اسکول نے وظیفہ بھی دیا۔ 16 سال کی عمر میں نیمار کو سانتوس فٹبال کلب نے پروفیشنل کھلاڑی کی شکل میں تسلیم کیا۔ دنیا کے عظیم فٹبال کھلاڑیوں میں شمار کئے جانے لگے۔ انہیں فیفا پلیئر آف ساؤتھ امریکہ چنا گیا۔ اب تک یہ مقام میراڈونا اور پلے ہی حاصل کر پائے تھے۔ نیمار کے اس کارنے کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے ایسا بغیر یوروپ میں کھیلے ہی حاصل کیا تھا۔ ان کی جینیس کو ٹی وی دیکھ دیکھ کر مینچسٹر یونائیٹڈ، میتاسی، ریال، میڈریڈ اور بارسلونا جیسے کلبوں میں ان کولینے کے لئے دوڑ دھوپ شروع ہوگئی۔ انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرلیا۔ پچھلے7 مئی کو 190 ملین یورو کی بھاری بھرکم رقم ادا کرکے بارسلونا کلب نے انہیں اپنی ٹیم میں لیا۔ محض 22 سال کے نیمار کو آج میسی اور رونالڈو کے برابر درجہ دیا جاتا ہے۔ ان تین مہان فٹبال کھلاڑیوں کی سوانح عمری یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر آپ میں لگن ہے اور ہنر ہے اور قورت عظم ہے تو آپ کچھ بھی حاصل کرسکتے ہو۔
(انل نریندر)

عراق میں پھنسے ہندوستانیوں کو کیسے محفوظ نکالا جائے؟

چھاؤنی کلاں گاؤں کا ایک شخص پرمندر بھگوان کا شکریہ ادا کررہا ہے کہ عراق میں اسلامی اسٹیٹ آف عراق الشام کے انتہا پسندوں کے ذریعے اغواکئے جانے سے بال بال بچ گیا۔تحریک نور الخدا نام کی تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والا یہ شخص پرمندر چھٹی پر آیا ہوا تھا اور کسی وجہ سے وہ واپس نہیں جاپایا۔ عراق میں کام کررہے 17 ہزار ہندوستانیوں میں سے زیادہ تر پنجاب کے باشندے ہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے قبضے میں چنگل میں پھنسے ہندوستانیوں کی تعداد 300 کے قریب ہے۔ انہیں بندوق کی نوک پر یرغمال بنالیا گیا ہے۔ایک دوسرے اندازے کے مطابق پنجاب اور ہریانہ کے قریب700 لوگ عراق میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ معلومات دونوں ریاستوں نے دی ہے۔پنجاب حکومت نے 514 لوگوں کی فہرست سونپی ہے جبکہ ہریانہ کے حکام نے بتایا عراق میں پھنسے 147 لوگوں کے بارے میں ان کے رشتے داروں نے تفصیل رکھی ہے۔ عراق میں پھنسے ہندوستانیوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ موصل میں پھنسے 40ہندوستانیوں میں سے ایک بھلے ہی انتہا پسندوں کے چنگل سے نکل آیا لیکن وہ اب بھی عراق میں ہے۔ اس درمیان ایک دو لوگوں کے عراق سے لوٹ کر آنے کی اچھی خبریں مل رہی ہیں لیکن ان کے بارے میں ابھی صرف امید ہی کی جاسکتی ہے جو وطن لوٹنے کے لئے بے چین ہیں لیکن فی الحال ان کے لوٹنے کی کوئی صورت نہیں بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ عراق کے شہر میں یرغمال 39 ہندوستانیوں کی سانسیں ابھی بھی اٹکی ہوئی ہیں۔ انہیں چھڑانے کے لئے پردے کے پیچھے سے کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان حملے کی صورت میں آتنک وادی تنظیم آئی ایس آئی ایل کے ذریعے یرغمال ہندوستانیوں کو ڈھال بنائے جانے کی خبروں نے ہندوستانی خیمے میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ امیدجتائی جارہی ہے کہ امریکہ کے ذریعے ہوائی حملے شروع کرنے پر یہ آتنکی ہندوستانیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ تشدد متاثرہ علاقے میں کیرل کی 46 نرسوں سمیت لوگوں کو محفوظ نکالنے کی اسکیم بھی فی الحال پروان نہیں چڑھ پا رہی ہے۔ اس درمیان عراق چھوڑ کر واپس آنے والوں کو پاسپورٹ نہ دے کر مقامی کمپنیوں نے سرکار کے لئے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ وزارت خارجہ نے معلومات دینے کے لئے 24 گھنٹے کنٹرول روم بنا دیا ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ مقامی کمپنیوں کے ذریعے ملک واپسی کے لئے سپورٹ نہ دینے کی شکایت کررہے ہیں۔ عراق کے شہر موصل پر قبضے کے لئے عراقی باغیوں کو دو ہفتے کا وقت دیا جاچکا ہے۔ وہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ باغی سماج کو ایک صدی پرانے کٹھ ملا پن کے ماحول میں جھونک رہے ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے فون پر بتایا کہ شہرپر قبضے کے دن سے ہی جہادیوں نے یہاں اسلامی قانون کواپنے ڈھنگ سے نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔ شہر پر کنٹرول کے فوراً بعد باغیوں نے اسے اسلامی ملک کا حصہ اعلان کرتے ہوئے یہاں نئے قانون نافذ کرنے والے فرمان جاری کردئے تھے۔16 صفحات والے ان فرمانوں کے مطابق شراب، نشے کی دوا، سگریٹ کی بکری کے ساتھ گروپ میں اکٹھا نہ ہونے، ہتھیار رکھنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔ عورتوں کو پورا جسم ڈھکنے والے کپڑے پہننے ،گھر کے اندر رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ موصل کے ایک عیسائی پیشوا نے بتایا کہ باغیوں نے گرجا گھر کے سامنے لگی ورزن میری کی مورتی بھی توڑ دی ہے۔عراق میں چھڑی جنگ میں شامل ہونے کے لئے بھارت کے شیعہ فرقے کی جانب سے بھی مہم چھیڑدی گئی ہے۔آل انڈیا شیعہ حسینی فنڈ کی جانب سے شہادت کے لئے فارم بھروائے جارہے ہیں۔ اس کے لئے نوجوانوں کو 40 لاکھ تک کے پیکیج کی بات کہی گئی ہے۔ زون کے 8 ضلعوں می اس طرح کی سرگرمیوں کی خبر ملنے پر پولیس اور ایل آئی یو کی نظر ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ الہ آباد ، اوراوی، فتحپور، پرتاپ گڑھ، حمیر پور وغیرہ سمیت ضلعوں میں شہادت کے لئے فارم بھروائے جارہے ہیں۔ہاسٹلوں اورمسلم لڑکوں میں فارم بانٹے جارہے ہیں۔ کل ملاکر عراق کی حالت بہت کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ بھارت کی ترجیح عراق میں پھنسے ہندوستانیوں کو محفوظ نکالنے کی ہے۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...