Translater

25 جنوری 2014

نقلی نوٹ و کالی کمائی کو روکنے کیلئے ریزرو بینک کا تازہ حکم!

ریزرو بینک آف انڈیا نے 31 مارچ 2005 ء سے پہلے کے چھپے سبھی نوٹوں کو واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ بدھوار کو جاری بیان میں آر بی آئی نے کہا کہ 31 مارچ2014ء تک بینک سبھی پرانے نوٹوں کا چلن بند کردے گی۔ اگر آپ نے اپنی گاڑھے پسینے کی کمائی گھر یا بینک کے لاکروں میں نوٹوں کی گدی کی شکل میں رکھی ہوئی ہے تو ہوشیار ہوجائیے۔ فوراً جانچ کیجئے کہ یہ نوٹ کس سال میں چھپے ہیں۔ اگر یہ سال2005 سے پہلے کے ہیں تو ان کی قیمت آنے والے دنوں میں کوڑے کی رہ جائے گی۔ نوٹ کے پچھلے حصے میں سب سے نیچے اشاعت کا برس لکھا ہوتا ہے۔ جن نوٹوں پر اشاعت کا برس نہیں ملتا اس کا مطلب ہے کہ وہ نوٹ سال2005ء سے پہلے کا چھپا ہوا ہے۔ سرکار کا خیال ہے کہ اس قدم سے کالی کمائی کے استعمال پر روک لگ سکے گی۔ اس قدم کو آنے والے لوک سبھا چناؤ سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ بازار میں بڑے پیمانے پر موجود کالے پیسے پر لگام لگ سکے گی۔ شناختی کارڈ دکھانے کے سبب بڑے نوٹوں میں نقدی کا انکشاف ہوگا۔ اپریل ۔ مئی میں امکانی طور پر لوک سبھا چناؤ میں کالی کمائی کے استعمال پر روک لگ سکے گی۔ 2009ء لوک سبھا چناؤ میں سی ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق 2500 کروڑ روپے کی کالی کمائی کا پیسہ چناؤ میں لگا تھا۔ ویسے 1978ء میں جنتا پارٹی کے وقت میں 1000,5000 اور 10000 نوٹ ریزرو بینک نے واپس لے لئے تھے لیکن اس بار سبھی طرح کے نوٹوں پر شرط لاگو ہوگئی ہے۔ بی جے پی اسے چناؤ سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ کالی کمائی کے معاملے میں سرکار کا یہ محض دکھاوٹی قدم ہے۔ جن کے گھر پر بے تحاشہ غیر اعلانیہ پیسہ ہے وہ اس رقم کو ٹکڑوں میں بینک میں جاکر بدل لیں گے اور پھر نئے نوٹ لاکر میں رکھ دیں گے۔ 65 فیصدی لوگوں کے پاس کھاتے نہیں۔ کسی نے مکان کے لئے پیسے جوڑے ہیں، کسی نے لڑکی کی شادی کے لئے، کسی نے لڑکے کی پڑھائی کے لئے توکسی نے بیماری کی صورت میں مشکل حالات کیلئے۔ ایسے لوگوں کو نوٹ بدلنے میں کافی دقت ہوگی۔ ویسے آر بی آئی نے یہ تو صاف نہیں کیا کہ بازار میں 2005 سے پہلے کے کتنے نوٹ ہیں لیکن واقف کاروں کا خیال ہے کہ یہ 5.7 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔ دہلی کے تھوک بازار سے خوردہ بازار تک اس نئے فرمان سے کھلبلی مچنا فطری ہے۔ جیولری کو بیش قیمتی اور نقدی پر بیچنے والے تاجروں اور امپورٹرس نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ لوگوں کے پاس وسیع پیمانے پر نقدی بھری پڑی ہے جو اسے بدلنے اور کھپانے کی پریشانی میں ڈوب گئے ہیں لیکن ہر آدمی کو اب نوٹ لینے پر اس کی جانچ کرنی ہوگی جو ایک نیا درد سر بن جائے گا۔ دیش میں نقلی نوٹوں کی بھرمار اور کالی کمائی پر مچے ہنگامے کے بعد یہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ریزرو بینک اس سلسلے میں کارروائی ضرور کرے گا۔ پچھلے دنوں واویلا مچا تھا نوٹوں پر اگر کچھ لکھ کر اسے گندا کردیا گیا تو ایسے نوٹ بینک میں چل نہیں پائیں گے۔ اس افواہ سے پورا دیش تشویش میں مبتلا ہوگیا کیونکہ شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو جب لوگوں کے پاس ایسے نوٹ نہ آتے ہوں۔ بعد میں ریزرو بینک نے اس افواہ کی تردید کردی۔ ریزرو بینک کے تازہ فرمان سے لوگوں میں کھلبلی مچ سکتی ہے۔ جس نے نوٹ بدلنے کی میعاد طے کی ہے۔ جولائی 2014 تک اپنے نوٹ بدل لیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن جو کسی وجہ سے رہ جاتے ہیں تو اسے 500 یا 1000 کے 10 سے زیادہ ایسے نوٹوں کو بدلوانے کے لئے اپنی پہچان ،پتہ بینک کو بتانا ہوگا یا پین کارڈ دکھانا ہوگا۔ واقف کاروں کا کہنا ہے جعلی نوٹوں کے سیلاب اور کالی کمائی پر قابوپانے کے لئے یہ نئی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ مارچ2012 تک ایک اندازے کے مطابق دیش میں قریب پانچ لاکھ جعلی نوٹ پکڑے گئے تھے۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس میں31 فیصدی اچھال دکھائی دیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ 2005 کے پہلے والے نوٹوں کی سیریز میں سب سے زیادہ جعلی نوٹ چلائے جارہے ہیں کیونکہ اس کے بعد سے نوٹوں کا دیزائن اور سکیورٹی اقدامات کو پختہ بنانے کی کوشش ہوگئی تھی۔ سب سے زیادہ دقت تو سیاستدانوں ،افسروں کو ہوگی کیونکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ ان کے پاس سب سے زیادہ کالی کمائی کا پیسہ ہے۔ لیکن انہوں نے آر بی آئی کے اس فرمان کے جاری ہونے سے پہلے اپنا پختہ انتظام کرلیا ہوگا۔ اصل مصیبت تو چھوٹے دوکانداروں، نوکری پیشہ مزدوروں کی ہوگی جس نے ضروری کاموں کے لئے ایک ایک روپیہ جوڑا ہے وہ کہاں بینکوں کی لائن میں لگیں گے۔ روٹی کمائے گا یا گھنٹوں میں لائن میں لگے گا؟ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2005 میں مارچ مہینے تک دیش میں پونے چار لاکھ روپے کرنسی بازار میں تھی جو اگلے 8 برسوں میں تین گنا بڑھ کر ساڑھے گیارہ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ پہنچ گئی ہے۔

(انل نریندر)

کانگریس کے حکمت عملی سازو ں کا چالاک راستہ: سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو حمایت دینے پر تنازعہ جس طریقے سے ختم ہوا اس کے دو پہلو ہیں پہلا یہ کہ آپ پارٹی اور کانگریس کی ملی بھگت کی یہ ایک اور مثال ہے۔ دوسری طرف کانگریس حمایتی کہہ رہے ہیں کہ مرکزی سرکار اور خاص کر وزارت داخلہ کے سخت رویئے کی وجہ سے یہ ڈرامہ ختم ہوا ہے۔ پہلے نظر ڈالتے ہیں ’آپ‘ پارٹی اور کانگریس کی ملی بھگت پر۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ عام آدمی پارٹی اور ان کے ذریعے پیدا کئے جارہے بدامنی جیسے حالات میں کانگریس بھی برابر کی حصے دار ہے۔ اس کے حکمت عملی ساز سمجھتے ہیں کہ کانگریس کے خاص حریف نریندر مودی کو ٹی وی کے پردے اور عام بحث سے ہٹانا ہے تو ’آپ‘ کے ہائے ہلا کو جتنا بڑھا وا ملے گا بھاجپا کو اتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا۔ بھلے ہی کانگریس کا فائدہ ہو یا نہ ہو۔ کانگریس ہائی کمان کی جانب سے شندے کو صاف ہدایت دی گئی تھی کہ وزیر اعلی کیجریوال کی مانگ کو کسی بھی حال میں نہ مانا جائے جس سے کہ ان کو آندولن کرنے کا بھر پور موقعہ ملے۔ اور جب تک 26 جنوری بالکل پاس نہ آجائے تب تک انہیں دھرے کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش بھی نہ کی جائے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کانگریس کی یوتھ ونگ این یو ایس آئی کے لوگ بھی کیجریوال کے حمایتیوں کے بھیس میں بھیج دئے گئے تھے جو تحریک کو ہڑدنگ بنانے میں کافی اہم کردار نبھا رہے تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ راشٹرپتی بھون اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تحریک کی آڑ میں اپنے قبضے میں لے چکے بدامنی پسند عناصر کے خلاف مرکزی سرکار کسی طرح کی سختی نہیں برت رہی تھی۔ دوسری طرف کیجریوال نہ صرف وزیر داخلہ شندے کو بے عزت کررہے تھے بلکہ پورے راج پتھ کو لوگوں سے بھرنے کی دھمکی دے رہے تھے اور ان کے حمایتی مرکزی وزراء سے ہاتھا پائی بھی کررہے تھے۔ کانگریس لیڈر شپ ہاتھ پر ہاتھ رکھے تماشہ دیکھ رہی تھی۔ کیجریوال کی زبان اور تمیز پر تعجب ہوتا ہے کہ جب وہ کہتے ہیں شندے کون ہے؟ کیا شندے ہمیں بتائے گا کہ ہم کہاں بیٹھیں؟باقی ساری باتیں چھوڑ بھی دیں تو ایک وزیر اعلی کو دیش کے وزیر داخلہ سے اس طرح سے برتاؤ نہیں کرنا چاہئے۔ ان سب کے باوجود اگر کانگریس لیڈر شپ تماشہ دیکھ بھی رہی تو اس کا مطلب کیا ہوا؟ کانگریس لیڈر سرکاری طور پر تو کیجریوال کو برا بھلا کہہ رہے ہوں لیکن اندر خانے خوب چٹخارے لے رہے تھے۔ وہ صرف اس بات سے خوش ہیں کہ پچھلے کئی دنوں سے نریندر مودی ٹی وی سے غائب رہے۔ کانگریس کے ایک بڑے نیتا کا کہنا ہے کہ دہلی کی طرح مرکز میں بھی کیجریوال بھاجپا کا کھیل بگاڑنے والے ہیں۔ ان کا تو یہاں تک کہنا ہے اگر چناؤ بعد کسی تیسرے مورچے کی سرکار بننے کی نوبت آئی تو کانگریس بھاجپا اور نریندر مودی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے اپنی باہری حمایت اسے دے سکتی ہے۔ سیاسی داؤ پیچ اور چالوں میں ماہر کانگریسیوں کو یہ معلوم ہے کے کب ڈھیل دینی ہے کب سختی دکھانی ہے۔ جیسے جیسے 26 جنوری کی پریڈ قریب آتی گئی پارٹی کے حکمت عملی سازوں نے کہا کہ اب سختی کرنے کا وقت آگیا ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ ایک مضبوط منتظم ہیں اور ان کے سخت رخ کی حمایت پی ایم نے بھی کی ہے اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی۔ انہوں نے ایسا راستہ تلاشنے کے لئے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے کہا کہ ایسا راستہ نکالیں جس سے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ وزارت داخلہ نے جیب جنگ سے رابطہ قائم کیا اور تب جاکر مسٹر جنگ نے کوشش شروع کی۔ انہوں نے دو پولیس ملازمین کو چھٹی پر بھیج کر کیجریوال کو منہ چھپانے کا راستہ دے دیا اور کیجریوال سے یوم جمہوریہ کے وقار کو دیکھتے ہوئے ان کی جزوی مانگ کو مان لیا اور دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔جس کو کیجریوال فوراً مان گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیجریوال کا دھرنا ختم کرنے سے پہلے پولیس کو لاٹھی چارج کرنے کا بھی حکم دے دیا تاکہ کیجریوال کو ڈنڈے کی زبان بھی سمجھ میں آجائے۔ اس ملی بھگت سے دونوں مرکزی سرکار و وزارت داخلہ یہ ظاہر کرنے میں کامیاب رہے کہ مرکزی سرکار نے تو دہلی سرکار کو پولیس دے گی اور نہ ہی ’آپ‘ سرکار کو بد امنی پھیلانے کی اجازت۔ کیجریوال کو بھی منہ چھپانے اور کھسکنے کا بہانہ مل گیا۔ کیجریوال کو تو اپنی صحت کی بھی فکر نہیں تھی۔ اگر وہ کھانسی کی حالت میں ایک دن رات کھلے میں پڑے رہتے تو یقیناًانہیں نمونیا ہوسکتا تھا۔ کیوں ہے یا نہیں یہ ملی بھگت؟
(انل نریندر)

24 جنوری 2014

جس آئین نے کیجریوال کووزیر اعلی بنایا اسی کی دھجیاں اڑائیں!

دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور ان کے وزرا کا دھرنا ختم ہوگیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کیجریوال کا یہ دھرنا کامیاب رہا؟ ان کے حمایتیوں کی نظر میں تو یہ کامیاب رہا۔ انہوں نے یہ پیغام دینے میں کامیابی پائی کے دہلی پولیس کے طریق�ۂ کار میں اصلاح ہونی چاہئے اور دہلی کی جنتا دہلی پولیس کی گھوٹالے بازی سے کتنی ناراض ہے ان کے حمایتی کہہ رہے ہیں کہ دیکھا آپ نے کیجریوال خود رات بھر اتنی ٹھنڈ میں سڑک پر رہے ،وہ بھی جنتا کی خاطر۔ کچھ ہندی چینل سروے دکھا رہے ہیں کیجریوال کے دھرنے کو 80 فیصدی سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنا ووٹ بینک برقرار رکھا ہے۔ ایسا بھی دعوی کیا جارہا ہے دہلی پولیس کو دہلی سرکار کے ماتحت لانے کی مانگ کی بھی جنتا نے پر زور حمایت کی ہے لیکن ایسا ان کے حمایتیوں کا خیال ہے۔ ہم معافی چاہتے ہیں کہ ہماری نظر میں تو وزیر اعلی کا دھرنا نہ صرف غلط تھا بلکہ انہوں نے ایسا کرکے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ جو اشو لیا تھا وہ غلط تھا۔ سارا جھگڑا دہلی سرکار کے وزیر قانون سومناتھ بھارتی کے ساتھ مالویہ نگر کے ایس ایچ او اور اے سی پی کے برتاؤ کو لیکر تھا۔ جس ڈھنگ سے سومناتھ بھارتی جو پیش سے وکیل بھی ہیں، قانون کے واقف کار ہوتے ہوئے بھی آدھی رات کو کھڑکی ایکسٹینشن میں افریقی عورتوں کو گرفتار کرکے کارروائی کی مانگ کررہے تھے وہ غلط تھی۔ بیشک وہ جو الزام لگا رہے تھے وہ ٹھیک ہوں لیکن رات12 بجے کسی بھی عورت کو اس طرح پولیس نہ گرفتار کر سکتی ہے نہ ہی ہمیں پولیس کو ایسی چھوٹ دینی چاہئے۔ سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس بھی ہیں اور پھر ایک طرف تو ہم اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ بے قصور لڑکوں کو آتنک وادی ہونے کے الزام میں پولیس جب چاہے اٹھا لیتی ہے۔دوسری طرف ہم خود ایسی حرکتوں کو بڑھاوا دیں کہاں تک صحیح ہے۔ کسی کو بھی گرفتار کرنے کے لئے پولیس کو صحیح طریقہ ، وقت اور ٹھوس ثبوت چاہئیں۔ ان کے تحت ہی وہ کارروائی کر سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیجریوال صاحب نے غلط جگہ کا انتخاب کیا۔یومیہ جمہوریہ کی پریڈ ہر برس لاجپت سے گزرتی ہے اور آس پاس کے علاقے کو سیل کردیا جاتا ہے۔ یہ پریڈ ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے۔ ایسے میں پولیس کی آتنک وادیوں پر نگاہ رہتی ہے ۔
مکھیہ منتری اروند کیجریوال اور ان کے حمایتیوں کی وجہ سے سارا دھیان ان پر لگانا پڑا۔ چھوٹے چھوٹے بچے اتنی سردی میں ریہرسل کرنے آتے ہیں وہ بھی لاجپت تک نہیں پہنچ پاتے۔ دو دن تک میٹرو اسٹیشن بند رہے ،لاکھوں لوگوں کو پریشانی جھیلنی پڑی۔ اروند کیجریوال کے دھرنے کے دوسرے دن مشکل سے 100-200 ان کے کٹر حمایتی ہی ریل بھون پہنچے۔ جنتا کی حمایت ان کے ساتھ نہیں تھی۔ جس آئین کا حلف لے کر اروند کیجریوال وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھے اس کی ہی دھجیاں انہوں نے اڑادیں۔ جس سسٹم سے کیجریوال وزیر اعلی بنے اسی سسٹم کی بے عزتی کی۔ کیا کبھی یہ تصور کیا جاسکتا تھا کہ دیش کی راجدھانی دہلی کا وزیر اعلی دہلی پولیس کے ملازمین سے کہے کہ وردی اتار کر میرے ساتھ شامل ہوجاؤ۔ کیا یہ ملک کی بغاوت کا معاملہ نہیں بنتا؟ کیجریوال نے خود کہا میں اگر آپ کی نظروں میں بدامنی پسند ہوں تو ہاں ہوں اور اسی پر یقینی کرتا ہوں۔ خود انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کئی بار کہا ہم اس سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں۔ اس میں سدھار نہیں بلکہ اسے پلٹنا ہے۔ یہ تو بغاوت ہے کیا وہ دیش میں اسی طرح کی خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیں جیسے پچھلے سال مشرقی وسطیٰ کے کچھ ملکوں میں ہوا اور آخر میں کیجریوال اینڈ کمپنی کو کیا حاصل ہوا؟ دو پولیس افسر چھٹی پر بھیج دئے گئے۔ پولیس افسر نہ تو معطل ہوئے نہ ہی برخاست اور نہ ہی لائن حاضر۔ منھ چھپانے کے لئے دو افسروں کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی پر بھیج دیاگیا ۔ کیونکہ یوم جمہوریہ پر عام طور پر پولیس والوں کو چھٹی نہیں ملتی اور نہ ہی یہ پیغام جاتا کہ ایک داروغہ نے وزیر اعلی کو جھکا دیا۔ خاص بات یہ رہی کہ وزیر سومناتھ بھارتی سے ٹکرائے اے سی پی بھرت سنگھ کو چھٹی پر نہیں بھیجا گیا اور پٹ پڑ گنج کے پی سی آر انچارج کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا جنہیں ہٹانے کی مانگ نہیں کی جارہی تھی۔ اب کیجریوال اور خاص طور سے سومناتھ بھارتی کو اپنی کرنی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔مالویہ نگر کے کھڑکی ایکسٹینشن کی وہ افریقی نژاد عورت نے مجسٹریٹ کے سامنے164 کے تحت اپنا بیان درج کرایا اور چھاپہ ماری دستے کی رہنمائی کرنے کی شکل میں سومناتھ بھارتی کی پہچان بھی کی گئی ہے۔ ان سے استعفے کی مانگ زور پکڑتی جارہی ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ کیا جن سومناتھ بھارتی کو بچانے کے لئے کیجریوال نے اتنا ڈرامہ کیا کیا انہیں اب بچا پائیں گے؟آخر میں اگر ہم ہندوستانی سفارتکار خاتون دیویانی سے امریکی پولیس کے ذریعے نازیبا برتاؤ پر اتنی ہائے توبہ مچا رہے ہیں تو اپنے گھر میں دہلی سرکار کے قانون منتری کا ایک غیر ملکی خاتون سے اس طرح کا نازیبا برتاؤ قابل قبول ہے؟
(انل نریندر)

بڑے نیتاؤں کے رومانس کے چرچے : پتی پتنی اور وہ۔۔۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے دنیا کے بڑے لیڈروں کے رومانس کی زبردست خبریں آرہی ہیں اور یہ لیڈر خوب سرخیاں بٹور رہے ہیں۔ کم سے کم دو بڑے صدر کے پریم رشتوں کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ پہلے ہیں امریکہ کے صدر براک اوبامہ جو دنیا کے سب سے طاقتور شخصیت مانے جاتے ہیں۔ اوبامہ بیشک امریکہ کے صدر ہوں لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ وہ کسی عورت سے کبھی کبھی عشق بازی نہیں کرسکتے۔ یہ اور بات ہے کہ پہلی بیوی مشیل کو براک اوبامہ کی حرکتیں پسند نہ آرہی ہوں۔ مشیل کی سالگرہ سے ٹھیک پہلے ایک امریکی ویب سائٹ نے دعوی کیا کہ امریکہ کے پہلے جوڑے میاں بیوی کے درمیان کچھ کھٹ پٹ چل رہی ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ مشیل نے طلاق کے لئے وکیلوں تک سے بات کی ہے۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیلسن منڈیلا کی تعزیتی میٹنگ میں اوبامہ اور ڈین مارک کی وزیر اعظم ہلشمر کے سیلفی سے مشیل کافی پریشان ہیں۔ دونوں کے درمیان جھگڑا شمر کے ساتھ تعلقات کو لیکر ہوا تھا لیکن دعوی یہ ہی کیا گیا ہے کہ مشیل کو اس وقت غصہ آگیا جب انہیں پتہ چلا کہ خفیہ سروس نے دو بار اوبامہ کی دھوکے بازی کو چھپایا تھا۔ اس وقت اوبامہ کسی عورت کے ساتھ پکڑے گئے تھے۔
ایک اخبار نے اوول آفس ان سائٹ کے حوالے سے بتایا کے وائٹ ہاؤس میں اوبامہ اور مشیل الگ الگ بیڈ روم میں سوتے ہیں۔ دوسرا قصہ فرانسیسی صدر فرانسیو اولاند کی مبینہ بے وفائی کا ہے۔ ایک انگریزی میگزین ’کلوزر‘نے ان کے معاشقے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ ایک فوٹو گرافر نے ان کی تصویریں تب کھینچ لیں جب وہ اپنے ایک باڈی گارڈ کے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھ کر اپنی محبوبہ سے ملنے پہنچ گئے تھے۔ ان کی زبردست نکتہ چینی ہوئی۔ کچھ ان کے کردار پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں تو کچھ ان کے اس انداز سے جانے پر سوال اٹھ رہے ہیں اور ان کی سکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان لگے ہیں؟ ان کی پارٹنر اور فرانس کی خاتون اول ویلری ٹریچرویلر کو تو اس خبر نے ایسا صدمہ پہنچایا کے انہیں اسپتال میں بھرتی کرانا پڑا۔ ویلری سے حالانکہ اولاند نے شادی نہیں کی ہے وہ لو ان ریلیشن شپ میں ہیں۔ اس پر یہ بھی کہا گیا کہ صدر کی نئی محبوبہ جولیا چار مہینے کی حاملہ بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس انکشاف سے اولاند کافی پریشان بھی ہیں۔ وہ یہ طے نہیں کرپارہے ہیں کہ اب سرکاری طور سے دیش کی خاتون اول کسے کہا جائے۔ فی الحال تو انہوں نے یہ کہہ کر معاملہ ٹال دیا ہے کہ اس بارے میں امریکہ کے 11 فروری کوہونے والے دورے سے پہلے وہ صاف کردیں گے۔ تیسرا معاملہ تو ہمارے دیش میں ہی چل رہا ہے۔ یہ ہے ششی تھرور اور ان کی سورگیہ بیوی سنندا پشکرتھرور اور پاکستانی صحافی مہر ترار کا۔ جب نریندر مودی نے سنندا پشکر کو تھرور کی 50 کروڑ والی گرل فرینڈ کہا تو ششی تھرور نے پلٹ کر کہا تھا کہ سنندا تو پرائس لیس ہیں۔ لیکن تین سال بعد وہ دن بھی آیا جب پرائس لیس سنندا نے تھرور سے طلاق لینے کی دھمکی بھی دے دی تھی۔ ایک شام اچانک ہی ٹوئٹر پر تھرور اور سنندا کے درمیان دو خبریں چھا گئیں اور پھر خبر آئی کے سنندا نے دہلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں خودکشی کرلی ہے۔ یہ خودکشی تھی یا پھر قتل ابھی تک معاملہ صاف نہیں ہوپایا۔ ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کے بعد بس اتنا ہی کہا کہ ’’یہ ایک غیر فطری موت ہے‘‘ یعنی اچانک موت نہیں۔کہا تو بہت کچھ جارہا ہے لیکن یہ الگ سے بتانے کا موضوع ہے فی الحال تو میاں بیوی اور وہ کے چرچے زوروں پر ہیں۔
(انل نریندر)

23 جنوری 2014

سنندا پشکر تھرور کی موت کی وجہ زہرہوسکتی ہے؟

جیسا کہ شبہ تھا ویسا ہی ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر تھرور کی موت زہر لینے سے بھی ہوسکتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنندا کی موت کے پیچھے زہریلی شے لینے کے خاص اسباب بتائے جانے کے بعددہلی پولیس کو ایس ڈی ایم نے حکم دیا ہے کہ وہ اس پر اسرار موت کی جانچ قتل اور اقدام قتل دونوں وجوہات سے کریں۔ سنندا ایک ضدی مزاج کی خاتون تھی۔ وہ یوں ہی اپنی زندگی ختم نہیں کرسکتی تھی۔ پھر وہ اور ششی تھرور ایسی سوسائٹی میں شامل تھے جو پیج تھری کلچر کی تھی۔ وہاں پر شوہر کا کسی اور خاتون سے اور عورت کا کسی اور مرد سے افیئر ہونا بہت بڑی بات نہیں مانی جاتی، پھر وہ اتنا بڑا قدم کیوں اٹھاتی؟ ایسا نہیں کہ شخص جب شورش اور الجھن کا شکار ہوتا ہے تو وہ خود کی زندگی کو ختم نہیں کرسکتا لیکن اس کے لئے صاف اشارے آنے لگتے ہیں۔ یہ مشکل ہے کہ سنندا دوپہر کو ہوٹل کی لابی میں چہل قدمی کرتی نظر آئی اور سگریٹ مانگی اور رات کو نیند کی گولیاں کھا کر زندگی ختم کرلے؟ سنندا بہت امیر خاتون تھی۔ وہ100 کروڑ روپے سے زائد کی پراپرٹی کی مالک تھی۔ 7کروڑ سے زیادہ کے تو سنندا کے بینک ڈپازٹ ،شیئر ،فکسڈ ڈپازٹ وغیرہ تھے۔ کینیڈا میں ایک مکان تھا جس کی قیمت تقریباً1.85 کروڑ روپے ہے۔ جموں میں دو کنال زمین تھی۔ دوبئی میں سنندا کے نام 12 اپارٹمنٹ تھے جن کی قیمت 79.5 کروڑ روپے ہے۔ 5 کروڑ کی تو 25 غیر ملکی گھڑیاں تھیں۔ ان کے پاس 2 کروڑ سے زیادہ کے زیورات تھے۔ شہتوش کی شال اور ہیامون کے وقت کی تلوار وغیرہ30لاکھ روپے سے زیادہ کا سامان تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سنندا پیسے سے بہت مضبوط تھیں ان کے قتل کے پیچھے پیسہ بھی ایک مقصد ہوسکتا ہے۔ سنندا نے اپنے ٹوئٹ میں مہر ترار کو آئی ایس آئی ایجنٹ کہا تھا۔ مرنے سے کچھ گھنٹے پہلے سنندا نے اخبار نویس نلنی سنگھ کو فون کرکے کہا تھا کہ وہ کچھ انکشافات کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ یہ باتیں پولیس کو ہی بتائے گی۔ یہ بات نلنی سنگھ نے میڈیا کو بتائی ہے۔ ایسی کون سی باتیں تھیں جو سنندا محض پولیس کو ہی بتانا چاہتی تھی؟ کیا سنندا کی موت کا داؤد ابراہیم کے انڈر ورلڈ سے کوئی کنکشن ہوسکتا ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ آئی پی ایل میں کوچی ایک ٹیم ہوتی تھی۔ میچ فکسنگ کے الزام لگنے پر ٹیم کو آئی پی ایل سے باہر کردیا گیا تھا۔ یہ ٹیم سنندا اور ششی تھرور کی تھی۔ الزام لگا تھا کہ داؤد اور ان کے گرگوں نے میچ فکسنگ کی تھی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ سنندا نے انڈر ورلڈ اور ہندوستانی کنکشنوں کے نام بتانے کی دھمکی دی تھی اور یہ سارا قصہ پولیس کے سامنے کھولنا چاہتی تھی؟ کیونکہ جب وہ مہرترار کو آئی ایس آئی ایجنٹ کہہ رہی تھی تو اس کا مطلب آئی ایس آئی۔ داؤد انڈر ورلڈ سے بھی ہوسکتا تھا؟ سارا معاملہ دب جاتا کیونکہ پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ ہی آیا تھا کہ نیند کی گولیاں زیادہ لینے سے اس کی موت ہوئی ہے۔ یہ تو ایس ڈی ایم کے ذریعے آلوک شرما کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ معاملے کی چھان بین رپورٹ دیں۔ دراصل آئی پی سی کے دفعہ176 کے تحت پولیس و ایس ڈی ایم کو ہر اس موت کی باریکی سے جانچ کرنی ہوتی ہے جس میں شادی کے 7سال کے اندر پراسرار اسباب سے موت ہوجائے۔ دیکھیں جانچ سے کیا نکلتا ہے؟ کیونکہ معاملہ بہت ہائی پروفائل ہے اس لئے ممکن ہے سارا معاملہ دبا دیا جائے اور سنندا پشکر تھرور کی موت کی اصلیت کبھی سامنے نہ آئے۔ امید کرتے ہیں کہ پولیس باریکی سے چھان بین کرے گی اور یہ نہیں دیکھے گی کہ شوہر ایک رسوخ والا مرکزی وزیر ہے۔
(انل نریندر)

آخر کار پوری ہوئی جین سماج کی پرانی مانگ!

لوک سبھا چناؤ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے جین فرقے کو قومی سطح پر اقلیتی درجہ دے دیا ہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں اقلیتی امور وزارت کی سفارش کو منظوری دے دی ہے۔ اقلیتی درجہ حاصل ہوتے ہی جین سماج کو سرکاری ملازمت میں ریزرویشن اور مرکز کی مختلف اسکیموں کا فائدہ مل سکے گا۔ اس فیصلے سے سرکار نے 2014ء لوک سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے دیش بھر کے 60 لاکھ سے زیادہ جین سماج کے لوگوں کو لبھانے کی کوشش کی ہے۔ راجستھان، دہلی ، مدھیہ پردیش، کرناٹک، اترپردیش میں اس فرقے کے لوگوں کی خاصی تعداد ہے۔ دہلی مدھیہ پردیش راجستھان سمیت تقریباً درجن بھر سے زیادہ ریاستوں میں پہلے ہی جین فرقے کو ریاستی سطح پر اقلیتی درجہ دیا جاچکا ہے۔ جین سماج کا ایک طبقہ قومی سطح پر اقلیتوں کو درجہ دینے کے لئے کئی دہائیوں سے مانگ کرتا آرہا ہے۔ ویسے مرکزی حکومت نے ووٹ بینک سیاست کے چکر میں جین فرقے کو اقلیتی درجے میں شامل کرنے کا سیاسی ارادہ پہلے ہی بنا لیا تھا مگر چناؤ سے پہلے اس کا سہرہ راہل کے سر باندھنے کے لئے ایتوار کو اس کی کہانی لکھی گئی۔ جین فرقے کو اقلیتی درجہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے چناوی موسم میں راہل گاندھی کی ایک اور یقین دہانی پر مہر لگادی۔ یہ فیصلہ نائب صدر راہل گاندھی کی جین نمائندوں سے ملاقات کے بعد آیا ہے۔ مرکز کے اس فیصلے کے بعد جین مذہب مسلمان، سکھ ،عیسائی، پارسی اور بودھ فرقے کے بعد اقلیتی زمرے میں شامل ہوگیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اقلیتی طبقے میں شامل ہونے کے بعد جینیوں کو مرکزی اسکیموں کے بعد الاٹمنٹ کے ساتھ فلاحی اسکیموں، وظیفوں کا بھی فائدہ مل سکے گا۔ اس کے علاوہ انہیں تعلیمی ادارے چلانے کا بھی خاص اختیار مل جائے گا۔ ویسے عام طور پر جین سماج میں زیادہ تر کاروباری ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کے بہت زیادہ جینیوں کو اس درجے میں شامل ہونے میں زیادہ دلچسپی ہوگی۔ جین فرقے کو اقلیتی درجہ دینے کے خلاف لوگوں کا خیال ہے کیونکہ جین سماج ایک مذہبِ خاص ہے اس لحاظ سے اسے خاص درجہ دینا اس سماج کو بانٹنے کے برابر ہے۔ ہندوؤں نے کبھی بھی جین فرقے کو الگ نہیں سمجھا۔ آج چاہے سیاست کا میدان ہو، کاروبار کا سیکٹر ہو،تہوار ہو، زندگی جینے کا طریقہ ہو جین سماج زیادہ تر ہندو سماج سے جڑا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے جیناگم اور تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جین مذہب دنیاکے قدیم ترین مذاہب میں سے ہے۔ یہ ایک آزاد مذہب ہے۔نا کہ ویدک مذہب کی شاخ ہے اور نہ ہی بودھ دھرم کی۔ قدیمی وراثت اور زبان اور سائنس ادب وغیرہ سے صاف ہے کہ ویدک دور سے بھی پہلے بھارت میں ایک بہت باشعور کلچر تھا۔ یہ کلچر آج جین کلچر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جین مذہب اپنے بنیادی اصول اور روایت اور تاریخ گرنتھ ہیں جو اسے دیگر مذاہب سے الگ کرتے ہیں۔ ذات اور مذہب کی بنیاد پر منڈل کمیشن نے بھی جین فرقے کو غیرہندو مذہبی گروپ میں شامل مسلم سکھ ،بودھ، عیسائیوں کے ساتھ رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور منموہن سرکار نے کافی سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ لیا ہوگا۔
(انل نریندر)

22 جنوری 2014

سڑک چھاپ سیاست کے ماہر ہیں اروند کیجریوال!

پیر کے روز دیش کی راجدھانی دہلی میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی شاید کبھی نہیں دیکھا گیا۔ دہلی پولیس کے تین افسروں کو معطل کرنے کے مطالبے پر اڑی کیجریوال کی دہلی حکومت سڑک پر اتر آئی ہے۔ یہ ممکنہ پہلی بار ہی ہے جب کوئی وزیر اعلی اس طرح مرکز کے خلاف دھرنے پر بیٹھا ہو جس طرح21 دن پرانی دہلی سرکار کے وزیر اعلی اروند کیجریوال بیٹھے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ عام آدمی پارٹی اور حکومت کے حمایتی آج کیجروال کو ہیرو مان رہے ہوں اور ان کے اس قدم کی جم کر تعاریف کررہے ہوں لیکن ہمارا خیال ہے کہ ذمہ دار آئینی عہدے پر بیٹھے اروند کیجریوال نے بہت ہی غیر آئینی کام کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف آئین کی دھجیاں اڑائی ہیں بلکہ اپنے حمایتیوں سے بھی دھوکہ کیا ہے۔ جنتا نے انہیں اس لئے نہیں چنا تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے اشو پر مرکزی سرکار سے ہی ٹکرا جائیں؟ 26 جنوری کی یوم جمہوریہ پریڈ میں بھی رکاوٹ پیدا کردیں کیونکہ کیجریوال جنتا کے پیچیدہ مسئلوں کا حل نہیں کرپا رہے ہیں، اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرپا رہے ہیں اس لئے عوام کی توجہ بٹاٹے کے لئے اس طرح کی بدامنی پیدا کررہے ہیں اور یہ انہوں نے خود بھی مانا۔ انہوں نے کہا’’ اگر مجھے انارکسٹ کہتے ہو تو میں انارکسٹ ہوں۔‘‘ ایک وزیر اعلی اگر یہ کہے کہ ہاں میں بدامنی پسند ہوں تو دیش کو وہ کس طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ وہ اور ان کے ساتھی بار بار دوہراتے ہیں کہ ہمیں تو دیش کا سسٹم بدلنا ہے یعنی آپ پارٹی نہ تو بھارت کی جمہوریت میںیقین رکھتی ہے اور نہ ہی جمہوری نظام پر۔ پھر کیجریوال اینڈ کمپنی اور نکسلیوں، ماؤ وادیوں میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ وہ بھی تو یہ ہی بات کہتے ہیں کے ہتھیار سے سسٹم کی تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ پارٹی ووٹ کے بدلے گولی سے کام لینا چاہتی ہے۔ مقصد دونوں کا ایک ہی ہے تین چار معاملے درج نہ کرنے کے لئے پولیس ملازمین کی معطلی یا تبادلے کی مانگ اتنی بڑی نہیں ہے کہ اس کے لئے ایسا قدم اٹھایا جائے۔ عام طور پر ایسی مانگ کے لئے سیاسی پارٹیوں کی ضلع یا محلہ سطح کی یونٹیں تحریک چلاتی ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی جنگ میں ایٹم بم کا استعمال آپ پارٹی کا ہتھیار بن گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ بھارت میں پولیس نظام بہت خراب ہے اور اس میں کرپشن اور نا اہلیت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ موجود ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان اشوز پر آپ کے دو وزرا سومناتھ بھارتی اور راکھی برلا کا پولیس سے ٹکراؤ ہوا تھا ان میں پولیس کی لاپروائی ہو لیکن آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر پولیس کا یہ قصور ہے تو وہ چھاپہ مار لڑائی یا دھرنے سے دور ہونے سے رہا۔ یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جوڈیشیل انکوائری کے احکامات دئے تھے کیا کیجریوال اینڈ کمپنی کو جانچ کے نتائج کا انتظار نہیں کرنا چاہئے تھا؟ اس سے مجھے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی نظر آتی ہے۔ ممکن ہے کہ سومناتھ بھارتی پلاننگ اور حکمت عملی کے تحت مالویہ نگر کے کھڑکی ایکسٹینشن میں گئے اور پولیس ،وزارت داخلہ اور مرکزی سرکار سے ٹکرانے کے لئے اسے بہانا بنایا گیا ہو؟ا یک پیٹنٹ نظر آنے لگا ہے۔ آپ کے تھنک ٹینک کے ایک دوسرے ممبر پرشانت بھوشن کشمیر میں فوج ہٹانے کی بات کررہے ہیں تو کیجریوال پولیس سے ٹکرا رہے ہیں یعنی بھارت کے نظام سے ٹکراؤ۔ فوج اور پولیس کسی بھی سرکار کے دو اہم حصے ہیں ان سے سیدھا ٹکرانا آئین اور جمہوری نظام کو چنوتی دینا ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے۔جس پارٹی کی حمایت پر ٹکی کانگریس بھلے ہی کھلے عام کہتی ہے دیکھنا ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں جنتا کانگریس کو کیسا سبق سکھاتی ہے۔ کانگریس کا اپنا ہی گیم پلان ہے وہ اس سرکار سے حمایت واپس نہیں لے گی۔ کم سے کم لوک سبھا چناؤ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک تو نہیں۔ اور یہ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے ٹھیک پہلے شاید وہ حمایت واپس بھی لے لے لیکن اس میں بھی شبہ ہے کیونکہ کانگریس نے گیم پلان کے تحت ہی ’آپ‘ پارٹی کو کھڑا کیا ہے۔ اسے امید ہے کہ آپ پارٹی لوک سبھا چناؤ میں اتنی سیٹیں لے لے جس سے بی جے پی اور نریندر مودی اس جادوئی نمبر272+ تک نہ پہنچ پائیں۔ اس چکر میں دیکھنا یہ ہوگا ’’آپ‘‘ کانگریس اور اس یوپی اے سرکار کو بھارت کی جمہوریت کو اور بھارت کے آئین کو کتنا نقصان اور پہنچائے گی؟
(انل نریندر)

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں ...