نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں بغیر کسی دیش کا نام لئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید امید بہت کم لوگوں کو تھی اور یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا شروع کردی ہے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں جس پر سبھی متعلقہ ممالک نے اپنی منظوری دی ہےاور جوائنٹ اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں مطلب سب ممالک کی اس میں رضامندی ہے۔ اعلانیہ دستاویز میں دو تین نقطہ ایسے ہیں جو اب تک کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں اسرائیل اور امریکہ کا نام لئے بغیر فلسطین اور لبنان کا ذکرکیا گیاہے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا پر امن حل تلاشنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دلچسپ یہ بھی تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کے برعکس دونوں محاذ میں کھڑے ایران اور یو اے ای بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔برکس اعلانیہ دستاویز میں ٹرمپ امریکی ٹیرف کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن کہا گیا کہ کئی ملکوں کو نا انصافی پر مبنی ، ایک طرفہ منمانے قدموں سے نقصان ہوا ہے ۔ چونکہ اعلانیہ دستاویز میں بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پہلی بار امریکہ اور ٹرمپ کا نام لئے بغیر بھارت ٹیرف کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ اب اسے بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی مانا جائے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کا اس پر کیا اثر اور رد عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اعلانیہ دستاویز میں غزہ اور قبضے والے فسلطینی علاقوں انسانی حالات پر بھی توجہ گئی اور تشویش جتائ گئی۔ اس میں غزہ میں سیز فائر بنائے رکھنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی مدد پہنچانے کی اپیل کی گئی۔اس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون میں ایسے سبھی ذکر کرکے مذمت کی گئی ہے۔اعلانیہ دستاویز میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر معاملہ میں بین الاقوامی انصاف عدالت کے انترم احکامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اعلانیہ میں دو ملک ’ٹو نیشن تھیوری‘کی حمایت کو دوہرایا گیا ہے اس کے تحت 1967 کی سرحدوں کو یقینی بنائے رکھنا شامل ہے۔ اس میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی تعمیل کرنے اور لبنان میں بچے ہوئے علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ برکس اعلانیہ دستاویز میں بیشک اسرائیل کا سیدھے طور پر نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطین اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک سفارتی ماہر نے پوچھا کے بھارت اسرائیل رشتے کتنے مضبوط ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور بھارت کے رشتوں پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے ٹیرف اور دادا گیری پر برکس میں لئے گئے موقف پر بھارت اور امریکہ کے رشتوں پر کیا اثر ہوگا یہ بھی آنے والے دنوںمیں پتہ چلے گا۔ایران ۔ امریکہ جنگ پر صاف طور پر برکس اعلانیہ دستاویز میں ایران کی حمایت کی گئی ہے۔ بیشک اعلانیہ دستاویز میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایک طرفہ اقتصادی پابندیوں اور پرامن نیوکلیائی اداروں پر حملوں کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف لگائی گئی ایک طرفہ پابندیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ ان کا وسیع طور پر اثر ہوتا ہے اور ان میں غریب لوگوں پر عام طور پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ برکس کے وہ دو دلچسپ ممبر ملکوں روس اور ایران پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ٹرمپ کی برکس مخالفت جگ ظاہر ہے ۔ وہ کئی بار برکس کو امریکہ مخالف بتا چکےہیں اور برکس کے ساتھ جڑنے والے ملکوں پر مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بھارت نے بھی اس برکس اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں تو کیا بھارت امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیںاور کیا ہم یہ مانیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اب زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ کیا محض ایک ایوینٹ تھا اور فوٹو اپیل چنی تھی؟
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں