Translater

13 اگست 2013

داؤد اس کی سرزمیں پر ہے پاکستان کا پہلی بار اعتراف

آخر کار پاکستان کا ایک برسوں پرانا جھوٹ کھل کر سامنے آ ہی گیا۔ پہلی بار پاکستان نے ہندوستان کے انتہائی مطلوب دہشت گرد داؤد ابراہیم کی اپنی سرزمیں پر موجودگی کی بات کو قبول کرلیا ہے۔ اب تک اسلام آباد انڈر ورلڈڈان کے اپنے یہاں ہونے سے صاف انکاکرتا رہا ہے اور اب اس بات کا خلاصہ کیا ہے کہ ڈان پاکستان میں ہے بلکہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی مشیر شہر یار خاں نے اس بات کا انکشاف کیا تھا۔ لیکن اس کے24 گھنٹے بعد انہوں نے اپنے بیان سے پلٹی ماری اور کہہ دیا کہ داؤد ابراہیم کو کبھی بھی پاکستان میں نہیں دیکھاگیا۔اوراب وہ متحدہ ارب امارات میں ہوسکتاہے۔ پاکستان میں اقتدار میں لوٹنے کے بعد نواز شریف نے شہریار خاں کو بھارت کے ساتھ بہتر رشتے بنانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ خاں نے کہا کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں تھا لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اسے نکالا جاچکا ہے۔ اگروہ پاکستان میں ہے تو اسے تلاش کرکے گرفتار کیا جانا چاہئے۔ ہم اپنی سرزمیں پر ایسے کسی ڈان کی سرگرمیاں چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے لندن میں ہندوستانی پترکار ایسوسی ایشن کے ذریعے منعقدہ ایک اجراء تقریب سے پہلے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے یہ خلاصہ کیا تھا۔ ویسے بتا دیں کہ شہر یار خاں 1993ء میں پاکستان کے خارجہ سکریٹری تھے جب ممبئی دھماکے کے دوران داؤد نے بھاگ کر پاکستان میں پناہ لی تھی تب سے شہر یار بتائیں کے داؤد پاکستان میں رہ رہا تھا یا نہیں۔ غور طلب ہے کہ 1993ء میں ممبئی میں ہوئے دھماکوں کا ملزم داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میم جیسے ملزم ریڈ کارنر نوٹس کے باوجود دو دہائی سے پاکستان میں روپوش ہے۔ سی بی آئی کے ایک سینئرافسر نے بتایا کہ موجودہ سسٹم میں انٹر پول عام مجرموں اور دہشت گردوں کے لئے ایک ہی ریڈ کارنرنوٹس جاری کرتا ہے۔ اس ریڈ کارنر نوٹس پر کارروائی کے لئے کسی دیش کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ انٹر پول کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر پاکستان دو دہائی سے داؤد ابراہیم کو اپنے یہاں پناہ دئے ہوئے ہے۔ حالت یہ ہے کہ پاکستان داؤد کی اپنے یہاں موجودگی سے ہی انکارکرتا رہا ہے جبکہ بھارت اس کے ٹھکانے کے بارے میں بار بار ٹھوس ثبوت پیش کرتا رہا ہے۔ توجہ دینے کی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ نے بھی داؤد ابراہیم کو بین الاقوامی دہشت گرد اعلان کررکھا ہے۔ تین دن پہلے میں نے ایک ہندی فلم ’ڈی ڈے‘ دیکھی تھی۔ میری رائے میں یہ بہت ہی اچھی فلم بنی ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کس طرح داؤد ابراہیم کو اسامہ بن لادن کی طرز پر کراچی سے اٹھا کر بھارت لایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ ’ڈی ڈے‘ صرف ’را‘ کے ایجنٹوں اور اس کے مشن کو لیکر بنی ہے تو آپ غلط ہیں۔ ڈائریکٹر نکھل اڈوانی نے صاف طور سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ’را‘ کے ایجنٹ حقیقت میں کیا حاصل کرسکتے ہیں۔ ’ڈی ڈے‘ فلم چار ’را‘ ایجنٹوں کی کہانی ہے جو پاکستان میں پناہ لئے گولڈ مین ’’داؤد‘‘ کو پکڑ کر بھارت لانے کے مشن پر ہے۔
پینیٹا کا ایک سابق افسر (ارجن رام پال) سرحد پر اپنی شناخت چھپا کر رہنے والے ولی خان (عرفان خان) زویا (ہما قریشی) مجرم سے خفیہ ایجنٹ بنے عالم(آکاش دہائیہ) کا مقصد اقبال(رشی کپور) جو داؤد کا کردار نبھا رہا ہے، کو زندہ پکڑ کر لانا ہے۔ غیر ملکی سرزمیں پر اپنے مشن پر لگے ایجنٹوں کو کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشن کے دوران رودر پرتاپ سنگھ(ارجن رام پال) ایک طوائف (شروتی حسن) سے جذباتی طور سے جڑ جاتا ہے۔ رودر سے الگ ولی کا اپنا خدان ہے، جسے وہ بہت چاہتا ہے۔ گولڈ مین کے بیٹے کی شادی ایک بڑے ہوٹل میں ہوتی ہے اور وہیں اسے پکڑنے کا پلان بنایا جاتا ہے۔ کاغذ پر صاف نظر آنے والا پلان حقیقت میں بہت دھندلا ہوجاتا ہے، گڑبڑیاں ہوتی ہیں اور کچھ ایسے مسئلے کھڑے ہوجاتے ہیں جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ چاروں جانباز افسر مصیبت کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ پاکستانی پولیس ، گولڈ مین کے گرگے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور بھارت سرکار بھی ان سے پلہ جھاڑ لیتی ہے۔ تمام مشکلوں میں پھنسے چاروں لوگ جان بچا پاتے ہیں یا نہیں؟ گولڈ مین کو بھارت لا پاتے ہیں یا نہیں؟ یہ ایک تھریلر کی شکل میں فلم میں دکھایا گیا ہے۔ اداکاری کی اگر بات کریں تو سبھی کرداروں نے زور دار کام کیا ہے۔ رشی کپور نے اپنی چاکلیٹ اور رومانس والی امیج سے الگ ایک ڈان کے کردار کو خوب نبھایا ہے۔ عرفان خاں نے ایسے شخص کا کردار نبھایا ہے جو فرض اور خاندان کے درمیان محاذ آرا رہتا ہے۔ ارجن رام پال نے کم سے کم ڈائیلاگ بول کر بھی اپنی بات صاف کہہ دی۔ لڑکیوں نے بھی اچھا رول نبھایا ہے۔ فلم کے لئے بہت باریکی سے ریسرچ کی گئی ہے۔ حقیقت میں ایسا ہی کچھ ہوگا۔ کل ملاکر اچھی فلم ہے۔ کلائمکس بچا ہے یہ نہیں بتاؤں گا، آپ خود دیکھیں۔ آپ کو احساس ہوگا کہ ہاں واقعی میں کیا ایسا ہوسکتا ہے؟
(انل نریندر)

سڑکوں پر پانی بھرا تو افسر نپیں گے!

تمام دہلی کے باشندے ہائی کورٹ کے شکر گذار ہیں کہ آخرکسی نے تو مانسون کے دوران پانی بھرنے سے روکنے میں ناکام رہنے کے سبب بلدیاتی ایجنسی کی جم کرکھنچائی کی ہے۔ہائی کورٹ کے کارگذارچیف جسٹس بی ڈی احمد و جسٹس یوبروا کی بنچ نے کہا کہ پچھلی سماعت کے دوران یہ انڈر ٹیکنگ دی گئی تھی کہ اگلی بارش میں پانی نہیں بھرے گا۔ عدالت نے ایم سی ڈی کمشنروں سے کہا کہ وہ ہرایک علاقے کے ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری طے کریں کے پانی بھرنے سے روکنے کے لئے کیا قدم اٹھائیں۔ یہ قدم قلیل المدت بنیاد پرہوں۔ اگر وہ اس میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کے خلاف ڈسپلن کی کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ ایم سی ڈی کمشنر ہر ایک علاقے میں ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری طے کریں گے۔ اگر ڈپٹی کمشنر اپنی ذمہ داری نہیں پوری کرتے تو ایم سی ڈی کمشنر کارروائی کریں گے۔ عدالت نے پی ڈبلیو ڈی کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر پر ذمہ داری طے کرنے کو کہا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ پچھلی سماعت کے دوران دہلی سرکار اور ایم سی ڈی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نالے صاف ہوں گے۔ لیکن حلف نامے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس میں میٹنگ اور ٹاسک فورس کے بارے میں جانکاری دی گئی لیکن نالے کے سسٹم کی صفائی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ برسات کے موسم میں دہلی کی سڑکوں، محلوں، بازاروں میں پانی بھرنا عام بات ہے۔ ہر سال اسے لیکر سرکار ایم سی ڈی کو عدالت کی پھٹکار سننی پڑتی ہے۔ بھروسہ دلایا جاتا ہے کہ جلد ہی حالت پر قابو پالیا جائے گا مگر نتیجہ وہی ’دھاک کے تین پات‘ نکلتا ہے۔ برسات شروع ہوتے ہی جس طرح مختلف علاقوں میں یہاں تک کہ پاش علاقوں میں بھی پانی بھر گیا ہو تو دہلی ہائی کورٹ کو مجبوراً پانی بھرنے کے حالات سے نمٹنے کا حکم دینا پڑا۔ پانی کھڑا ہونے کی سب سے بڑی وجہ نالیوں کی یومیہ صفائی نہ ہونا پانا ہے۔ حالانکہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کے پلاسٹ کے تھیلوں ، پلیٹوں وغیرہ کے نالیوں میں جمع ہونے سے بھی پانی کی نکاسی میں رکاوٹ آتی ہے۔ اگر کچرے کو نپٹانے کا طریقہ اپنانا ایم سی ڈی کی ذمہ داری نہیں ہے تو کس کی ہے؟ امید کرنی چاہئے کہ ایم سی ڈی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگا اور دہلی کا ڈرینج سسٹم صحیح کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے گی۔ جگہ جگہ پانی بھرجانے سے سڑکوں پر گھنٹوں جام لگ جاتے ہیں جس سے دہلی کا ٹریفک بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جب ہر سال مانسون آتا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا مسئلے کے حل کے لئے فوری قدم کیوں نہیں اٹھائے جاتے۔
(انل نریندر)

12 اگست 2013

EDITORIAL FOR 11-08-13

एंटनी पाकिस्तान के रक्षामंत्री? क्यों न हो हाफिज सईद में इतनी हिम्मत


 श्री एके एंटनी भारत के रक्षामंत्री हैं या पाकिस्तान के? जिस तरह के वह बयान देते हैं उससे तो यही लगता है कि वह पाकिस्तान के रक्षामंत्री हैं। यह कहना कि पुंछ सेक्टर में भारतीय जवानों पर घात लगाकर हमला करने वाले आतंकी, जो पाक सेना की वर्दी पहने हुए थे पर हंगामा होना ही था। समझ नहीं आया कि एंटनी जैसे सुलझे व्यक्ति ने ऐसा बकवास बयान दे कैसे दिया। यही नहीं, पाकिस्तान की तरह बार-बार बयान भी बदला। 6 अगस्त को कहा कि भारी हथियारों से लैस 20 आतंकियों ने हमला किया। इनमें से कुछ ने पाकिस्तानी सेना की वर्दी पहनी थी। इससे अगले दिन कहा कि मैंने सदन में जो भी जानकारी दी वह उस दौरान तक उपलब्ध सूचना के आधार पर थी। सेना प्रमुख के लौटने पर सदन को पूरा ब्यौरा दूंगा। 8 अगस्त को कहा कि अब यह स्पष्ट है कि पाकिस्तानी सेना का विशेष सैन्य दल ही इस हमले में शामिल था। हम सभी जानते हैं कि पाकिस्तानी सेना के समर्थन, सहायता और सुविधा मुहैया कराए बिना और उसकी प्रत्यक्ष भागीदारी के बिना पाक की ओर से कुछ भी नहीं होता। एंटनी के पहले बयान का नतीजा यह हुआ कि पाकिस्तान और जेहादी संगठनों को न केवल एक बहाना मिल गया बल्कि उनके हौसले भी बुलंद हो गए। तभी तो 26/11 के मास्टर माइंड हाफिज सईद ने कराची में एक रैली में कहा कि साल 2000 में लाल किले पर किए गए हमले को दोहराया जाए। उसने बका कि भारत में साल 2000 जैसा हमला किया जाना बेहद जरूरी है। सईद ने लाहौर में हजारों लोगों के साथ ईद की नमाज अदा की। पाक के प्रसिद्ध गद्दाफी स्टेडियम में ईद की नमाज की अगुवाई की। इसके कुछ घंटे पहले जमात-उद-दावा प्रमुख ने ट्विट किया था। समय नजदीक है जब कश्मीर, फलस्तीन और बर्मा में कुचले गए लोग आजादी की हवा में ईद मनाएंगे। हजारों लोगों ने सईद के साथ ईद की नमाज अदा की। सईद पर एक करोड़ अमेरिकी डॉलर का इनाम है। सईद के पोस्टर शहर के विभिन्न स्थानों पर लगे थे। हम हाफिज सईद को दोषी नहीं कह सकते क्योंकि हमारे अपने रक्षामंत्री उनकी तरफदारी करने में लगे हुए हैं और जिस सरकार के वह मंत्री हैं उसने चूड़ियां पहन रखी हैं। धीरे-धीरे इस घातक हमले की डिटेल्स सामने आ रही है। पुंछ के सरला गांव के पास चीता पोस्ट पर पाकिस्तान की 801 मुजाहिद रेजीमेंट ने ही हमला किया था। हालांकि इस बारे में सेना मुख्यालय का केवल इतना ही कहना है कि जहां हमला हुआ था उसके उस पार 801 मुजाहिद रेजीमेंट ही तैनात है लेकिन खुफिया सूत्र बताते हैं कि हमले में मुजाहिद रेजीमेंट ही शामिल थी। इस रेजीमेंट में लश्कर-ए-तैयबा के प्रमुख हाफिज मोहम्मद सईद की अच्छी घुसपैठ है। हमारी सरकार तो जो कर रही है वह शर्मनाक है पर हमारी सेना क्या कर रही है? कभी वह हमारे जवानों के सिर काट ले जाते हैं तो कभी घात लगाकर सीमा के अन्दर चार सौ मीटर आकर पांच सैनिकों की हत्या कर देते हैं, क्या हमारी सेना ऐसे हमलों के लिए तैयार नहीं रहती? ताजा हमले के बाद हालात का जायजा लेने पुंछ गए जनरल विक्रम सिंह ने उत्तरी कमान के अधिकारियों की जमकर क्लास ली। उच्चपदस्थ सूत्रों के मुताबिक उन्होंने आधारभूत सवाल उठाया कि एलओसी पर ऐसे कमांडो ऑपरेशन को रोकने के लिए लगे माइंज और रात में भी कारगर तरीके से काम करने वाली एचएमटीआई दूरबीन की सुविधा के बावजूद वह एसएसजी ऑपरेशन को क्यों नहीं रोक पा रहे? जनवरी में भी इसी एसएसजी ने मेंढर इलाके में एलओसी के भीतर घुसकर दो जवानों की हत्या कर दी थी और एक का सिर काटकर अपने साथ ले गए थे। सूत्रों के मुताबिक विक्रम सिंह ने यह सवाल भी उठाया कि जनवरी में जवान के सिर काटने की घटना के बाद तय एमओपी (स्टैंडर्ड ऑपरेशनल प्रोसीजर) का पालन क्यों नहीं किया। देश की इज्जत तो दांव पर है ही पर उससे ज्यादा भारतीय थल सेना की प्रतिष्ठा भी दांव पर है जो बार-बार वही गलती दोहराती चली आ रही है।
-अनिल नरेन्द्र

EDITORIAL FOR 11-08-13

मायावती को सुप्रीम कोर्ट ने दी राजनीतिक संजीवना


आय से अधिक सम्पत्ति मामले में सुप्रीम कोर्ट ने उत्तर प्रदेश की पूर्व मुख्यमंत्री व बहुजन समाज पार्टी अध्यक्ष मायावती को गुरुवार को बड़ी राहत दी। अदालत ने उनके खिलाफ आय से अधिक सम्पत्ति अर्जित करने का मामला निरस्त करने के अपने फैसले पर पुनर्विचार करने से इंकार कर दिया। आय से अधिक सम्पत्ति अर्जित करने से संबंधित मामले में प्राथमिकी निरस्त करने के खिलाफ दायर पुनर्विचार याचिका का निपटारा करते हुए प्रधान न्यायाधीश पी. सदाशिवम और न्यायमूर्ति दीपक मिश्रा की खंडपीठ ने कहा कि पिछले साल जुलाई के उनके फैसले का संबंध सिर्प ताज गलियारा प्रकरण से था। न्यायाधीशों ने कहा कि यह भी स्पष्ट किया जाता है कि हमने ताज धरोहर गलियार परियोजना, जो विवाद हमारे सामने आया था, से संबंधित शीर्ष अदालत के निर्देशों के अलावा सीबीआई के दावे, हस्तक्षेपकर्ता या मायावती के रुख से जुड़े किसी भी पहलू पर विचार नहीं किया है। न्यायालय ने मायावती के खिलाफ नौ साल पुराना आय से अधिक सम्पत्ति अर्जित करने का मामला निरस्त करते हुए कहा था कि सीबीआई ने उसके आदेशों को ठीक से समझे बगैर ही कार्रवाई की जबकि उसका आदेश ताज गलियारा प्रकरण में बगैर मंजूरी के उत्तर प्रदेश सरकार द्वारा 17 करोड़ रुपए के भुगतान संबंधी मामले तक ही सीमित था। इस ताजे फैसले से यहां बहन जी को एक तरह से राजनीतिक संजीवनी मिल गई है वहीं समाजवादी पार्टी बैकफुट पर आ गई है। राहत मिलने के बाद मायावती ने विरोधियों को कड़ा जवाब दिया है। उन्होंने कहा है कि कोर्ट के फैसले से पार्टी कार्यकर्ताओं में उत्साह पैदा होगा और वह जोरशोर से चुनावी तैयारी में जुटेंगे। जिस समय सपा सुप्रीमो मुलायम सिंह यादव की आय से अधिक सम्पत्ति के मामले में केंद्र सरकार से समझौते के आरोप लग रहे हैं उस समय मायावती को सुप्रीम कोर्ट से बड़ी राहत मिली है। मायावती ने भी खुलकर हुंकार भरी है। उन्होंने कहा है कि उन्हें बदनाम करने की साजिश चल रही थी। टीवी, मीडिया में उनके खिलाफ गलत बयानबाजी की जा रही थी। उन्होंने एनडीए सरकार पर आरोप लगाया है कि उसने 2003 में उन्हें गलत मामले में फंसाया था। मायावती ने कहा कि कोर्ट के फैसले से वह बहुत खुश हैं। उनके खिलाफ यह मामला कांशीराम के जीवित रहते दायर किया गया था। मायावती ने कहा कि अगर कांशीराम के जीवित रहते वह बरी हो जातीं तो उन्हें खुशी होती। निश्चित रूप से बहन जी के सिर से भारी बोझ उतर गया होगा और अब वह और खुलकर बिना किसी दबाव के काम कर सकेंगी। हालांकि सपा, भाजपा और कांग्रेस के लिए यह फैसला थोड़ा-सा सेटबैक माना जा सकता है। उनके हाथों से दबाव बनाने का एक मुद्दा हाथ से निकल गया है।
-अनिल नरेन्द्र
एंटनी पाकिस्तान के रक्षामंत्री? क्यों न हो हाफिज सईद में इतनी हिम्मत


श्री एके एंटनी भारत के रक्षामंत्री हैं या पाकिस्तान के? जिस तरह के वह बयान देते हैं उससे तो यही लगता है कि वह पाकिस्तान के रक्षामंत्री हैं। यह कहना कि पुंछ सेक्टर में भारतीय जवानों पर घात लगाकर हमला करने वाले आतंकी, जो पाक सेना की वर्दी पहने हुए थे पर हंगामा होना ही था। समझ नहीं आया कि एंटनी जैसे सुलझे व्यक्ति ने ऐसा बकवास बयान दे कैसे दिया। यही नहीं, पाकिस्तान की तरह बार-बार बयान भी बदला। 6 अगस्त को कहा कि भारी हथियारों से लैस 20 आतंकियों ने हमला किया। इनमें से कुछ ने पाकिस्तानी सेना की वर्दी पहनी थी। इससे अगले दिन कहा कि मैंने सदन में जो भी जानकारी दी वह उस दौरान तक उपलब्ध सूचना के आधार पर थी। सेना प्रमुख के लौटने पर सदन को पूरा ब्यौरा दूंगा। 8 अगस्त को कहा कि अब यह स्पष्ट है कि पाकिस्तानी सेना का विशेष सैन्य दल ही इस हमले में शामिल था। हम सभी जानते हैं कि पाकिस्तानी सेना के समर्थन, सहायता और सुविधा मुहैया कराए बिना और उसकी प्रत्यक्ष भागीदारी के बिना पाक की ओर से कुछ भी नहीं होता। एंटनी के पहले बयान का नतीजा यह हुआ कि पाकिस्तान और जेहादी संगठनों को न केवल एक बहाना मिल गया बल्कि उनके हौसले भी बुलंद हो गए। तभी तो 26/11 के मास्टर माइंड हाफिज सईद ने कराची में एक रैली में कहा कि साल 2000 में लाल किले पर किए गए हमले को दोहराया जाए। उसने बका कि भारत में साल 2000 जैसा हमला किया जाना बेहद जरूरी है। सईद ने लाहौर में हजारों लोगों के साथ ईद की नमाज अदा की। पाक के प्रसिद्ध गद्दाफी स्टेडियम में ईद की नमाज की अगुवाई की। इसके कुछ घंटे पहले जमात-उद-दावा प्रमुख ने ट्विट किया था। समय नजदीक है जब कश्मीर, फलस्तीन और बर्मा में कुचले गए लोग आजादी की हवा में ईद मनाएंगे। हजारों लोगों ने सईद के साथ ईद की नमाज अदा की। सईद पर एक करोड़ अमेरिकी डॉलर का इनाम है। सईद के पोस्टर शहर के विभिन्न स्थानों पर लगे थे। हम हाफिज सईद को दोषी नहीं कह सकते क्योंकि हमारे अपने रक्षामंत्री उनकी तरफदारी करने में लगे हुए हैं और जिस सरकार के वह मंत्री हैं उसने चूड़ियां पहन रखी हैं। धीरे-धीरे इस घातक हमले की डिटेल्स सामने आ रही है। पुंछ के सरला गांव के पास चीता पोस्ट पर पाकिस्तान की 801 मुजाहिद रेजीमेंट ने ही हमला किया था। हालांकि इस बारे में सेना मुख्यालय का केवल इतना ही कहना है कि जहां हमला हुआ था उसके उस पार 801 मुजाहिद रेजीमेंट ही तैनात है लेकिन खुफिया सूत्र बताते हैं कि हमले में मुजाहिद रेजीमेंट ही शामिल थी। इस रेजीमेंट में लश्कर-ए-तैयबा के प्रमुख हाफिज मोहम्मद सईद की अच्छी घुसपैठ है। हमारी सरकार तो जो कर रही है वह शर्मनाक है पर हमारी सेना क्या कर रही है? कभी वह हमारे जवानों के सिर काट ले जाते हैं तो कभी घात लगाकर सीमा के अन्दर चार सौ मीटर आकर पांच सैनिकों की हत्या कर देते हैं, क्या हमारी सेना ऐसे हमलों के लिए तैयार नहीं रहती? ताजा हमले के बाद हालात का जायजा लेने पुंछ गए जनरल विक्रम सिंह ने उत्तरी कमान के अधिकारियों की जमकर क्लास ली। उच्चपदस्थ सूत्रों के मुताबिक उन्होंने आधारभूत सवाल उठाया कि एलओसी पर ऐसे कमांडो ऑपरेशन को रोकने के लिए लगे माइंज और रात में भी कारगर तरीके से काम करने वाली एचएमटीआई दूरबीन की सुविधा के बावजूद वह एसएसजी ऑपरेशन को क्यों नहीं रोक पा रहे? जनवरी में भी इसी एसएसजी ने मेंढर इलाके में एलओसी के भीतर घुसकर दो जवानों की हत्या कर दी थी और एक का सिर काटकर अपने साथ ले गए थे। सूत्रों के मुताबिक विक्रम सिंह ने यह सवाल भी उठाया कि जनवरी में जवान के सिर काटने की घटना के बाद तय एमओपी (स्टैंडर्ड ऑपरेशनल प्रोसीजर) का पालन क्यों नहीं किया। देश की इज्जत तो दांव पर है ही पर उससे ज्यादा भारतीय थल सेना की प्रतिष्ठा भी दांव पर है जो बार-बार वही गलती दोहराती चली आ रही है।
-अनिल नरेन्द्र

11 اگست 2013

انٹونی پاکستان کے وزیر دفاع ؟ کیوں نہ ہو حافظ سعید میں اتنی ہمت

شری اے ۔ کے۔انٹونی بھارت کے وزیر دفاع ہیں یا پاکستان کے؟ جس طرح وہ یہ بیان دیتے ہیں اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے وزیر خارجہ ہیں ان کا یہ کہنا کہ پونچھ سیکٹر میں بھارتیہ جوانوں پر گھات لگاکر حملہ کرنے والے آتنکی تھے جو پونچھ سینا کی وردی پہنے ہوئے تھے۔ اس پر ہنگامہ ہونا فطری ہی تھا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ انٹونی جیسے سلجھے شخص نے ایسا مضحکہ خیز بیان کیسے دے دیا۔ یہ ہی نہیں پاکستان کے طرح بار بار بیان بھی بدلا۔ 6 اگست کوکہا کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس20 آتنکیوں نے حملہ کیا۔ ان میں سے کچھ نے پاکستانی فوج کی وردی پہنی ہوئی تھی۔ اس سے اگلے دن کہا میں نے جو ایوان میں جانکاری دی وہ اس وقت تک دستیاب اطلاع کی بنیاد پر دی تھی۔ فوج کے سربراہ کے لوٹنے پر ایوان کو پوری تفصیل پیش کریں گے۔ پھر اس کے بعد 8 اگست کو کہا کہ اب یہ صاف ہے پاکستانی فوج کی خصوصی فوجی ٹیم ہی اس حملے میں شامل تھی۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج کی حمایت اور مدد اور سہولت مہیا کرائے بغیر اور اس کی درپردہ سانجھے داری کے بغیر پاکستان کی جانب سے کچھ نہیں ہوتا۔ انٹونی کے پہلے بیان کا نتیجہ یہ نکلا کے پاکستان اور جہادی تنظیموں کو نہ صرف بہانا مل گیا بلکہ ان کے حوصلے اور بلند ہوگئے۔ تبھی تو26/11 کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید نے کراچی میں ایک ریلی میں کہا سال2000ء میں لال قلعہ پر ہوئے حملے کو اسی طرح دوہرایا جائے۔ اس نے کہا کہ ایسا حملہ کرنا بہت ضروری ہے۔سعید نے لاہور میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ عید کی نماز ادا کی۔ پاکستان کے مشہور قزافی اسٹیڈیم میں نماز عید پڑھائی بھی۔ اس کے کچھ گھنٹے پہلے جماعت الدعوی کے چیف نے ٹوئٹ کیا تھا کے وقت نزدیک ہے جب کشمیر ،فلسطین اوربرما پسماندہ لوگ آزادی کی ہوا میں عید منائیں گے۔ ہزاروں لوگوں نے سعید کے ساتھ عید کی نماز ادا کی۔ سعید پر ایک کروڑ روپے امریکی ڈالر کا انعام ہے۔ سعید کے پوسٹر شہر کے مختلف مقامات پر لگے تھے۔ ہم حافظ سعید کو قصوروار نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمارے اپنے وزیر دفاع ان کی طرفداری کرنے میں لگے ہیں اور جس سرکار کے وہ وزیر ہیں اس نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ آہستہ آہستہ اس خطرناک حملے کی تفصیلات آرہی ہیں۔ پونچھ کے سرلا گاؤں کے پاس چیک پوسٹ پر پاکستان کی مجاہدین ریجمنٹ نے ہی حملہ کیا تھا۔ حالانکہ اس بارے میں فوج ہیڈ کوارٹر اتنا ہی کہہ رہا ہے کہ جہاں حملہ ہوا تھا اس کے اس پار 801 مجاہدین ریجمنٹ تعینات ہے۔ لیکن خفیہ ذرائع بتاتے ہیں کہ حملے میں مجاہدین ریجمنٹ ہی شامل تھی۔ اس ریجمنٹ میں لشکر طیبہ کے چیف محمد حافظ سعید کی اچھی پکڑ ہے۔ ہماری سرکار جو کررہی ہے وہ شرمناک ہے۔ ہماری فوج کیا کررہی ہے؟ کبھی وہ ہمارے جوانوں کے سر کاٹ کر لے جاتے ہیں تو کبھی گھات لگاکر سرحد کے اندر 400 میٹر آکر 5 فوجیوں کو مار ڈالتے ہیں ۔ کیا ہماری فوج ایسے حملوں کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں رہتی؟تازہ حملے کے بعد حالات کا جائزہ لینے پونچھ گئے جرنل بکرم سنگھ نے نارتھ کمان کے حکام کی جاکر کلاس لی اور انتہائی اعلی ترین ذرائع کے مطابق انہوں نے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھایا کے لائن آف کنٹرول پر ایسے کمانڈو آپریشن کو روکنے کے لئے لگے جوان رات میں بھی ٹھیک ڈھنگ سے کام کرنے والی ایم ایم ٹی آئی دوربین کی سہولت کے باوجود ایس ایس جی آپریشن کو کیوں نہیں روک پا رہے ہیں؟ جنوری میں بھی ایس ایس جی نے میندھر علاقے میں ایل او سی کے اندر گھس کر دو جوانوں کو مار ڈالا تھا اور ایک کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق بکرم سنگھ نے یہ سوال بھی اٹھایا کے جنوری میں جوانوں کے سر کاٹنے کے واقعے کے بعد ایس او پی کی (اسٹینڈر آپریشن پروسیجر) کی تعمیل کیوں نہیں کی گئی۔ دیش کی عزت تو داؤ پر ہے لیکن اس سے زیادہ ہندوستانی بری فوج کا وقار داؤ پر ہے جو بار بار وہی غلطی دوہراتی چلی آرہی ہے۔
(انل نریندر)

مایاوتی کو سپریم کورٹ نے دی سیاسی سنجیونی!

اثاثے سے زیادہ پراپرٹی معاملے میں سپریم کورٹ سے اترپردیش کی سابق وزیر اعلی اور بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی کو اس وقت بڑی راحت ملی جب عدالت نے ان کے خلاف اثاثے سے زیادہ پراپرٹی بنانے کا معاملہ منسوخ کرنے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔چیف جسٹس پی سداشیوم اور جسٹس دیپک مشرا کی ڈویژن بنچ نے کہا پچھلے سال جولائی کے ان کے فیصلے کا تعلق صرف تاج کوریڈور معاملے سے تھا۔ جسٹس نے یہ بھی صاف کیا جاتا ہے کہ ہماری تاج وراثت گلیارہ پروجیکٹ کا جو تنازعہ ہمارے سامنے آیا تھا اس کے متعلق بڑی عدالت کی ہدایتوں کے علاوہ سی بی آئی کے دعوے اور مداخلت کنندہ یا مایاوتی کے موقف سے جڑے کسی بھی پہلوپر غور نہیں کیا۔ عدالت نے مایاوتی کے خلاف 9 سال پرانا اثاثے سے زیادہ پراپرٹی جمع کرنے کا معاملہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کے سی بی آئی نے اس کے احکامات کو ٹھیک طریقے سے سمجھے بغیر ہی کارروائی کی تھی جبکہ اس کا حکم تاج کوریڈور معاملے میں بغیر منظوری کے اترپردیش سرکار کے ذریعے17 کروڑ روپے کی ادائیگی کے معاملے تک ہی محدود تھا۔ تاج فیصلے سے بہن جی کو ایک طرح سے سیاسی سنجیونی مل گئی ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی بیک فٹ پر آگئی ہے۔ راحت ملنے کے بعد مایاوتی نے مخالفین کو سخت جواب دیا ہے اور کہا کہ کورٹ کے فیصلے سے پارٹی ورکروں میں جوش پیداہوگا اور وہ زور شور سے چناوی تیاریوں میں لگ جائیں گے۔ جس وقت سپا چیف ملائم سنگھ یادو کی آمدنی سے زیادہ پراپرٹی معاملے میں مرکزی سرکار سے سمجھوتے کا الزام لگ رہے ہیں اس وقت مایاوتی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ مایاوتی نے بھی کھل کر سانس لی ہے اور کہا کہ انہیں بدنام کرنے کی سازش چل رہی تھی۔ ٹی وی میڈیا میں ان کے خلاف غلط بیان بازی ہورہی تھی۔ انہوں نے این ڈی اے سرکار پر الزام لگایا کے اس نے2003ء میں انہیں غلط معاملے میں پھنسایا تھا۔ مایاوتی نے کہا کورٹ کے فیصلے سے وہ بہت خوش ہیں۔ ان کے خلاف یہ معاملہ کانشی رام کے زندہ رہتے دائر ہوا تھا۔ مایاوتی نے کہا کہ کانشی رام کے زندہ رہتے وہ بری ہوتی تو انہیں بہت خوشی ہوتی۔ یقینی طور سے بہن جی کے سر سے بھاری بوجھ اترگیا ہوگا اور اب وہ کھل کر بغیر کسی دباؤ کے کام کرسکیں گی۔ حالانکہ سپا، بھاجپا اور کانگریس کے لئے یہ فیصلہ تھوڑا دھکا پہنچانے والا مانا جاسکتا ہے۔ ان کے ہاتھوں سے دباؤ بنانے کا ایک اشو نکل گیا ہے۔
(انل نریندر)

10 اگست 2013

रॉडिया टेप प्रकरण को दफनाने का असफल प्रयास

बहुचर्चित रॉडिया टेप मामले में सुप्रीम कोर्ट ने कड़ा स्टेंड ले लिया है। अदालत ने नीरा रॉडिया के औद्योगिक घरानों के प्रमुखों, नेताओं और दूसरे व्यक्तियों की टेप की गई बातचीत से मिली जानकारी के आधार पर पांच साल तक कोई कार्रवाई नहीं करने पर आयकर विभाग और सीबीआई को आड़े हाथों लिया। न्यायमूर्ति जीएस सिंघवी और न्यायमूर्ति वी. गोपाल गौड़ा की खंडपीठ ने कहा कि यह अच्छी स्थिति नहीं है। अदालत ने कहा कि यह बातचीत पांच साल पहले टेप की गई थी लेकिन इस दौरान सरकारी अधिकारी चुप्पी साधे रहे। न्यायाधीश जानना चाहते थे कि क्या वे कार्रवाई के लिए अदालत के आदेश की प्रतीक्षा कर रहे हैं? अदालत ने आयकर विभाग को रॉडिया के टेलीफोन टेप करने के लिए अधिकृत किए जाने से संबंधित सारा रिकार्ड पेश करने का निर्देश दिया। न्यायालय ने आयकर विभाग को यह भी स्पष्ट करने का निर्देश दिया कि टेपिंग की जिम्मेदारी जिन अधिकारियों को सौंपी गई थी क्या उन्होंने रिकार्डिंग के विवरण के बारे में अपने वरिष्ठ अफसरों को सूचित किया और इस बातचीत में जिन आपराधिक मामलों का जिक्र हुआ है क्या उनके बारे में सीबीआई को सूचित किया गया था? वित्तमंत्री को 16 नवम्बर 2007 को मिली एक शिकायत के आधार पर नीरा रॉडिया के फोन की निगरानी के दौरान यह बातचीत रिकार्ड की गई थी। इस शिकायत में आरोप लगाया गया था कि नौ साल के भीतर ही रॉडिया ने तीन सौ करोड़ रुपए का कारोबार उद्योगपतियों और मंत्रियों के सहयोग और पत्रकारों की मदद से खड़ा कर लिया है। सीबीआई ने पिछली तारीख में सुप्रीम कोर्ट से कहा कि वह न्यायालय के निर्देशों पर कुछ मामलों में केस दर्ज कर सकती है क्योंकि नीरा रॉडिया की औद्योगिक घरानों के प्रमुखों, नेताओं और दूसरे व्यक्तियों के साथ रिकार्ड की गई वार्ता से आपराधिकता का पता चलता है। अधिवक्ता केके वेणुगोपाल ने शीर्ष अदालत द्वारा नियुक्त छह सदस्यीय जांच दल की रिपोर्ट से उपजे 10 बिन्दुओं के अंश पढ़ते हुए कहा कि पहली नजर में कुछ पहलुओं पर संदेह होता है जिसके लिए सीबीआई को प्रारम्भिक जांच के लिए मामला दर्ज करना होगा। न्यायालय ने टेलीफोन पर बातचीत के कथित आपत्तिजनक विवरण को लेकर आयकर विभाग तथा दूसरे विभागों की निक्रियता पर भी आश्चर्य व्यक्त किया। न्यायाधीशों ने कहा कि हम यह जानकर आश्चर्यचकित हैं कि यह बातचीत वरिष्ठ अधिकारियों के पास उपलब्ध थी लेकिन विलम्ब ने इस मामले को लगभग निरर्थक बना दिया है। यदि उच्च अधिकारियों के साथ इसे साझा किया गया होता तो आज स्थिति भिन्न होती क्योंकि यह गम्भीर मामले हैं। केंद्र सरकार की ओर से अतिरिक्त सॉलिसिटर जनरल पीपी मल्होत्रा ने कहा कि भारतीय टेलीग्राफिक कानून के तहत रॉडिया के फोन की बातचीत रिकार्ड करने के लिए गृह सचिव से मंजूरी ली गई थी। न्यायाधीशों ने कहा कि अधिकृत किए जाने और मंजूरी को लेकर कोई समस्या नहीं है। आज एएसजी हमें यह बताएं कि क्या जो  अधिकारी बातचीत सुनने के लिए अधिकृत थे ने गृह सचिव के साथ यह सूचना साझा की या नहीं? जिस तरीके से सुप्रीम कोर्ट इस मामले को लेकर गम्भीर है उससे तो नहीं लगता कि अब यह मामला दब जाएगा। हालांकि इस पूरे प्रकरण को दबाने में बहुत लोग दिलचस्पी ले रहे हैं।
                                                                        -अनिल नरेन्द्र


گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...