Translater

08 دسمبر 2012

ہاتھی پر سوار ہوکر آئے گی ایف ڈی آئی

خوردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلے کو اب راجیہ سبھا میں بھی منظوری مل گئی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی تاریخ میں یہ بھی درج ہونے جارہا ہے کہ کسانوں اور دلتوں ، دستکاروں ،کاریگروں اور بنکروں ،مزدوروں و چھوٹا دھندہ کرنے والے کروڑوں ہندوستانیوں کے پیٹ پر لات مارنے والے اس فیصلے کونافذ کروانے میں اترپردیش کی دو پارٹیاں بہوجن سماج پارٹی، سماجوادی پارٹی کا قابل قدر کردار رہا ہے۔ اگر سماجوادی پارٹی نے لوک سبھا میں ووٹنگ کے وقت واک آؤٹ کرکے سرکار کی حمایت کی ہے تو وہیں بسپا نے راجیہ سبھا میں سرکار کے حق میں ووٹ ڈالا ہے اور ایف ڈی آئی لاگو کروانے کے لئے راستہ ہموار کردیا ہے۔ کیا شری ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی بہن بھارت کی عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں؟ کیا جنتا ان کی چال بازیوں کو سمجھ نہیں سکتی؟ ملائم سنگھ نے منگل کو کہا تھا کہ ایف ڈی آئی دیش کے مفاد کے خلاف ہے اور اس کے آنے سے کروروں کسانوں اور چھوٹے و خوردہ دوکانداروں کا روزگار چھن جائے گا مگر اب ریزولیوشن پر ووٹنگ کی باری آئی تو وہ ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ مایاوتی کی پارٹی کے داراسنگھ نے منگل کو کہا تھا کہ ایف ڈی آئی دیش کو دوسری بار غلامی کی طرف لے جائے گی۔ مایاوتی نے احتجاج میں مہا ریلی بھی کی تھی مگر راتوں رات اپنا موقف بدل کر اب بہن مایاوتی کی پارٹی نے اس ریزولیوشن کو سیکولرزم اور فرقہ واریت سے ہی جوڑدیا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو بھاجپا کے اس ریزولیوشن کے حق میں مارکسوادی سمیت دیگر لیفٹ پارٹیوں نے کیسے ووٹ دیا ؟ راجیہ سبھا میں جب مایاوتی کی تقریر کا نمبر آیا تو انہوں نے بحث کا رخ ایف ڈی آئی کی بجائے بھاجپا کی طرف موڑدیا۔ بسپا کے سی بی آئی کے دباؤ میں آنے بارے سشما سوراج کے لوک سبھا میں دئے گئے بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے انہوں نے کہا بھاجپا اس لئے ایسے الزام لگا رہی ہے کیونکہ انگور کھٹے ہیں اور ان کی اسکیم ناکام ہوگئی ہے۔ یہ بھاجپا ہی ہے جس نے مجھے تاج کوریڈو اور آمدنی سے زیادہ پراپرٹی معاملے میں سی بی آئی کے چنگل میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ میری پارٹی بھاجپا کو کوئی موقعہ نہ دیتے ہوئے ایف ڈی آئی پر سرکار کے حق میں ووٹ کرے گی۔ اب سنئے سماجوادی پارٹی کے نریش اگروال راجیہ سبھا میں کیا کہتے ہیں؟ سرکار کے پاس اب بھی وقت ہے سرکار اس فیصلے کو واپس لے۔ ایف ڈی آئی کے دستے قاتل ہیں۔ کسانوں کو مار ڈالیں گے جب سرکار سیاست کے بچولیوں کو ختم نہیں کرپائی تو خوردہ کاروبار میں ایف ڈی آئی کیسے لائے گی؟ 20 کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے تو دیش کا کیا ہوگا؟ تاجروں کے مفاد میں اس کالے قانون کو واپس لیا جائے۔ ہم لیفٹ پارٹیوں کی تعریف کرنا چاہیں گے جنہوں نے سارے طعنوں کے باوجوداپنا موقف نہیں بدلا۔ راجیہ سبھا میں مارکسوادی پارٹی کے لیڈر سیتا رام یچوری نے کہا کہ اس سے دیش کے لوگوں یا معیشت کو تھوڑا بھی فائدہ پہنچتا ہوتا تو ہم اس کی حمایت کرتے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی سمجھوتے کے دوران بھی یہ ہی دلیلیں سنی تھیں کے اس سے لاکھوں گھروں میں بجلی پہنچے گی۔ حقیقت میں ہم نے پچھلی گرمی میں اب تک سب سے سنگین بجلی بحران کو جھیلا ہے۔ آپ فرماتے ہیں روزگار بڑھے گا اس میں کتنی سچائی ہے؟ جس امریکہ کی آپ نقل کرنا چاہتے ہیں وہاں کیا ہوا؟ امریکی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ والمارٹ نے چھوٹے دوکانداروں اور مزدوروں کے لئے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں خوردہ کاروبار میں ایف ڈی آئی آنے سے کسانوں کو فائدہ ملے گا لیکن چاہے کتنا بڑا کسان ہو چاہے لاطینی امریکہ کے کسان ہوں اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ اس پالیسی سے کسانوں سے لیکر صارفین تک کے مفاد کا نقصان ہی ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کے ایف ڈی آئی لانے کا یہ فیصلہ دیش کو نقصان پہنچانے والا ہے۔ ہم اب بھی سرکار سے درخواست کرتے ہیں کے اسے نافذ نہ کرے۔ اس پر نظر ثانی کرے۔ یہ ہمارے دیش کے مفاد میں نہیں ہے۔
(انل نریندر)

بھارتیہ کھیلوں کا کالا دن 4 دسمبر

بھارتیہ کھیلوں کو جھٹکے تو اکثر لگتے ہی رہتے ہیں لیکن اتنا بڑا جھٹکا شاید پہلے کبھی نہیں لگا ہوگا جتنا 4 دسمبر کو لگا تھا۔ ہم اسے ہندوستانی کھیلوں کے لئے کالا دن کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔4 دسمبر کو انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی نے بھارتیہ اولمپک ایسوسی ایشن کے چناؤ میں سرکاری مداخلت کو اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی مانتے ہوئے آئی او اے کو اولمپک تحریک سے معطل کردیا ہے۔ آئی اوسی کے ایگزیکٹو بورڈ کی سوئٹزرلینڈ کے لوسانا میں ہوئی دو روزہ میٹنگ میں آئی او اے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئی او سی نے آئی او اے کے چناؤ کو کھیل قانون کے تحت کرانے پر ہی ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے صاف کردیا تھا کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں بھارت کی معطلی کا ریزولیشن پیش کرے گا اور اسے آخر اب آئی او اے سے معطل کردیا گیا ہے۔ اس معطلی کے فیصلے کے دور رس اثر ہوسکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت کی سپریم کھیل تنظیم کو آئی او سی سے کسی طرح کی مدد نہیں ملے گی اور اس کے حکام اولمپک میٹنگوں میں حصہ لینے اور کھلاڑی اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے سے محروم ہوجائیں گے۔ بھارتیہ ایتھلیٹ اپنے قومی پرچم کے نیچے اولمپک مقابلوں میں حصہ نہ لے سکیں گے۔ دراصل آئی او سی نے آئی او اے کو مطلع کیا تھا کہ اس کے چناؤ صرف اولمپک چارٹر کے مطابق ہی ہوسکتے ہیں اور چناؤ نے سرکاری کھیل ایکٹ کا استعمال کرنے پر اسے معطل کیا جاسکتا ہے۔ باوجود اس کے آئی او اے نے یہ کہتے ہوئے اپنا قدم آگے بڑھایا کے وہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے سے بندھے ہوئے ہیں۔ وزیر کھیل جتیندر سنگھ آئی او اے کے نگراں چیئرمین وجے کمار ملہوترہ اور آئی او اے چناؤ سے پہلے بلامقابلہ چنے گئے ابھے سنگھ چوٹالہ نے فیصلے کو افسوسناک بتایا۔ سارا جھگڑا5 دسمبر کو ہونے والے بھارتیہ اولمپک ایسوسی ایشن کے چناؤ کو لیکر کھڑا ہوا تھا۔ کھیل وزارت کے اسپورٹس کورٹ کے تحت ہورہے چناؤ کو لے کر آئی او سی نے کئی بار خبردار کیا اور معطلی کی دھمکی دی تھی لیکن آئی او اے نے ہائی کورٹ کے اس حکم کی مجبوری بتاتے ہوئے امید کی تھی کہ معاملہ بات چیت سے حل ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب آگے تو یہ ہوسکتا ہے کہ بھارتیہ اولمپک ایسوسی ایشن آئی او سی کی اس معطلی کے فیصلے کے خلاف ذیلی عدالت میں چنوتی دے سکتا ہے۔ آئی او اے چناؤ میں جنرل سکریٹری کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب للت بھنوٹ 2010 کے کامن ویلتھ گھوٹالے کے ملزم ہیں اور11 مہینے جیل میں رہ چکے ہیں۔ آئی او سی کو ایسے داغدار شخص کے تنظیم میں آنے پر اعتراض ہے۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ اس ادارے سے کیسے نپٹا جائے؟ اگر آئی او اے کھیل ضابطے کی باتوں کو صحیح سمجھتی ہے تو اسے اپنے آئین میں شامل کرسکتی ہے۔ ایسا کرنے سے اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ پچھلے لندن اولمپک میں پہلی بار بھارت نے 6 میڈل جیت کر اپنی دھاک جمائی تھی اور اب اس پر پابندی لگ گئی ہے۔ ویسے سب سے پہلے آئی او سی سے منظوری والے کھیلوں میں ایشیائی کھیلوں کا 2014ء میں انعقاد ہونا ہے اور اس وقت تک اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لئے بھارت کے پاس کافی وقت ہے۔ ویسے بھی آئی او سی کے ایگزیکٹو بورڈ کی ایک سال میں چار بار میٹنگیں ہوتی ہیں۔ اگلی میٹنگ اگلے سال فروری میں ہوگی اور اس وقت تک آئی او اے اپنا موقف رکھ کر اس فیصلے کو بدلوا سکتا ہے۔ اگر آئی او اے اولمپک چارٹر اور بھارتیہ کھیل قاعدے کو لیکر پیدا جھگڑے پر اپنا موقف رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو بھی للت بھنوٹ کے چناؤ پر اٹھے سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہوگا۔ اولمپک کھیل ایسوسی ایشن میں گروپ بندی اور بڑھتی جارہی ہے۔ سیاست کا یہ ہی مضر نتیجہ ہے۔ دراصل اولمپک ایسوسی ایشن کو سرکارکے ساتھ ساتھ سیاسی مداخلت سے بھی دور رکھنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

07 دسمبر 2012

بیشک نمبروں کی طاقت میں سرکار جیت گئی لیکن یہ اس کی اخلاقی ہار ہے

بیشک منموہن سنگھ سرکار نے ایف ڈی آئی پر لوک سبھا میں نمبروں کی طاقت کے کھیل میں کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن صحیح معنوں میں یوپی اے سرکار کی لوک سبھا میں ہار ہوئی ہے۔ کہنے کو تو اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کی جانب سے پیش ریزولیوشن کہ سرکار ملٹی برانڈ خوردہ میں51 فیصدی غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے کو واپس لے۔18 کے مقابلے253 ووٹوں سے گر گیا۔ لیکن دو دن کی بحث نے اتنا ضرور صاف کردیا کہ یوپی اے سرکار جیتی لیکن پارلیمنٹ ہاری۔ بحث میں18 پارٹیوں کے 22 ممبران نے حصہ لیا جبکہ کل چار پارٹیوں نے ایف ڈی آئی کی حمایت کی۔ اگر14 پارٹیاں جنہوں نے ایف ڈی آئی کی مخالفت میں تقریر کی ان کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد 282 کے آس پاس بیٹھتی ہے جبکہ جن پارٹیوں نے اس کے خلاف اپنے نظریات رکھے ان کی تعداد224 کے قریب بنتی ہے۔ دو دن کی بحث میں میری نظروں میں ہیرو تو بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج ہی رہیں۔ انہوں نے نہ صرف ایف ڈی آئی کے مثبت پہلو ایک ایک کرکے گنائے بلکہ حکمراں فریق کے مقررین کی دلیلوں کی ہوا نکال دی ہے۔ یوپی اے سرکار کی لاج سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی میں ووٹنگ سے ٹھیک پہلے ایوان سے واک آؤٹ کرکے بچائی۔ دیکھا جائے تو قاعدے کے مطابق ان دونوں پارٹیوں نے بھی ایک طرح سے ایف ڈی آئی کی مخالفت کی۔ اگر حمایت کرنی ہوتی تو پولنگ میں ریزولیوشن کے خلاف حکمراں فریق کے ساتھ ووٹ دیتے اور ان دونوں پارٹیوں کی ایسا کرنے کے پیچھے کیا مجبوری ہے یہ سب کو پتہ ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے تبصرہ کیا یہ سب جوڑ توڑ سے ممکن ہوپایا ہے۔ یہ ایف ڈی آئی کی جیت نہیں بلکہ سی بی آئی کی جیت ہے۔ ممتا نے کہا اکثریت کے لئے ضروری نمبر271 کے بجائے ایوان کی طاقت کی بنیاد پر سرکار کے پاس حمایت صرف 253 ممبروں کی تھی۔ پھر سے ثابت ہوگیا ہے کہ سرکار اقلیت میں ہے۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ سرکار نے جوڑ توڑ سے لوک سبھا میں نمبر جٹا لئے ہیں اب اسے جنتا جواب دے گی۔ تکنیکی طور پر بھلے ہی جیت حاصل کرلی ہو لیکن اخلاقی طور پر یہ سرکار کی ہار ہے۔ سی بی آئی لیڈر گورو داس داس گپتا کا رد عمل والمارٹ کی بہتری کے لئے سرکار دیش کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں کے لئے بھارت کو سب سے پسندیدہ جگہ بنانے کے اشارے ہیں۔ این سی پی لیڈر پروفل پٹیل کا کہنا تھا کہ کوکاکولا نے پارلے برانڈ تھمس اپ کو لے لیااور اسے کوکا سے جوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن آج بھی بھارت میں تھمس اپ کوک سے زیادہ مشہور ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسے سرکار کے فیصلے کو ملی پارلیمنٹ کی منظوری بتایا ہے جبکہ منیش تیواری نے کہا یہ اصلاحات کی جیت ہے اس سے معیشت مضبوط ہوگی۔ لالو جی نے اپنے چٹکی بھرے انداز میں کہا کہ (بھاجپا نیتا) وہ غیر ملکی گاڑیوں میں چلتے ہیں لیکن ایف ڈی آئی پر مخالفت کرتے ہیں۔ شراب پینے والوں اڈوانی جی سے پوچھو کے وہ ٹوئٹر کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟ اب سب کی نظریں راجیہ سبھا پر لگی ہوئی ہیں۔ لوک سبھا میں تو جوڑ توڑ چل گیا، راجیہ سبھا میں یہ فارمولہ کامیاب رہے گا اس میں شبہ ہے۔ راجیہ سبھا کا حساب کتاب ایسا ہے کہ سپا اور بسپا سرکار کے حق میں ووٹنگ کریں گے یا پھر واک آؤٹ کریں گی۔ دوسری سرکار کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گی۔ قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں کہ بسپا (15 ممبران) سرکار کے حق میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی سرکار طاقت کے نمبروں میں کامیاب رہے گی۔ جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیاں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتیں۔ اپوزیشن کو اس بات کی داد دینی ہوگی کہ ان کا کوئی ممبر ٹوٹا نہیں۔ لیفٹ پارٹیوں نے بھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ فرقہ پرست بھاجپا کے ساتھ سرکار کے خلاف ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اب تو فیصلہ جنتا کو کرنا ہے۔ منموہن سرکار ہر حالت میں ایف ڈی آئی لائے گی۔ اس نے تو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رکھا ہے۔
(انل نریندر)

وی آئی پی موومنٹ سے پریشان جنتا سالوے کا کہنا صحیح ہے

وی آئی پی کی آمدورفت کی وجہ سے ٹریفک جام میں گھنٹوں پھنسے رہنا دہلی کے شہریوں کی مجبوری بن گئی ہے۔ آئے دن کسی نہ کسی وی آئی پی کی آمدورفت کی وجہ سے کبھی روڈ بند رہتا ہے تو کبھی راستہ بدل دیا جاتا ہے۔ اگر کسی وی آئی پی کو راشٹرپتی بھون یا وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے رام لیلا میدان جانا ہو تو سارا راستہ بند کردیا جاتا ہے۔ حد تو تب ہوجاتی ہے جب بہادر شاہ ظفر مارگ پر ڈھابوں کی دوکانوں تک کو بند کردیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو گاڑیوں کو کھڑا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ جبکہ وی آئی پی موٹر قافلہ سڑک کے دوسری طرف سے جانا ہوتا ہے۔ پریس والوں کو اپنے دفتر پہنچنے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راج گھاٹ تو پریس ایریا کے پیچھے سے ہی ہوکر جانا پڑتا ہے اور یہاں آئے دن کوئی نہ کوئی غیر ملکی وی آئی پی آتا رہتا ہے یہ تسلی کی بات ہے کہ سینئر وکیل ہریش سالوے کا خیال رہے کہ پولیس کو لا اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کا اختیار ضرور ہے لیکن اس نام پر عام آدمی کو پریشان نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ وی آئی پی شخصیات کی آمد کے نام پر عام آدمی کے بنیادی حقوق میں دخل دے۔ پولیس قانون کو لاگو کرائے لیکن اسے یہ حق نہیں دیا گیا ہے کہ اس کا کسی طرح سے غلط استعمال کیا جائے۔ سالوے کہتے ہیں عام راستہ سب کے لئے ہوتا ہے لیکن ہمارے دیش میں سافٹ آپشن ہوتا ہے کہ وی آئی پی آمدورفت کے دوران راستے کو سب سے پہلے بند کردیا جائے۔ یہ ٹھیک ہے پولیس کو اگر لگتا ہے تو وہ ضروری ہونے پر ٹریفک کو منتقل کرسکتی ہے لیکن عام آدمی کو قطعی پریشان نہیں کیا جاسکتا۔ وی آئی پی آمدورفت کے نام پر عام آدمی کے بنیادی حقوق میں دخل کیسے ہوسکتا ہے؟ بھارت جمہوری ملک ہے لیکن پولیسیا کارروائی سرکاری کلچر کو دکھاتی ہے جس طرح سے وی آئی پی آمدورفت کے نام پر آئے دن ٹریفک میں پھنسے لوگوں کو پریشان ہونا پڑ رہا ہے اسے صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ جام میں پھنسی گاڑیوں کی وجہ سے آلودگی بھی بڑھ رہی ہے اور یہ سب کہیں نہ کہیں ہماری لائف اینڈ لیبرٹی سمیت دوسرے بنیادی حقوق میں دخل ہے۔ سالوے کے مطابق اگر پولیس کارگر قدم نہیں اٹھاتی تو آئین کی دفعہ14,19 اور 21 کی خلاف ورزی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ میں امریکہ وغیرہ ملکوں میں گیا ہوں وہاں کہیں بھی اس طرح سڑکیں بند نہیں ہوتیں۔ سڑکوں سے پارکنگ کو ہٹانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کچھ منٹوں کے لئے اس سڑک پر ٹریفک روک دیا جاتا ہے جہاں سے وی آئی پی موٹر قافلہ آرہا ہے۔ بھارت میں تو حد ہی ہو گئی ہے۔ دہلی میں ایک سال میں 100 سے زیادہ وی آئی پی روٹ لگتے ہیں۔ روٹ لگنے کا مطلب ہوتا ہے کہ اس روٹ پر کم سے کم دو گھنٹے پہلے پولیس فورس تعینات کردینا۔ این ایس جی کی تعیناتی ہوجانا اور ٹریفک کٹ کرلینا۔ امید ہے کہ ایس جی پی اور دہلی پولیس ہریش سالوے کی باتوں پر توجہ دے کر سدھار کرے گی جس سے عام آدمی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
(انل نریندر)

06 دسمبر 2012

عدم استحکام اور کشیدہ حالات کی جانب گامزن مشرقی وسطیٰ

مشرقی وسطیٰ میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ مصر ،اسرائیل اور فلسطین ان تینوں ملکوں میں پھر سے ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ پہلے بات ہم مصر کی کرتے ہیں۔ مصر کی حکومت اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ بڑھ گیا ہے۔ دیش کی سپریم آئینی عدالت نے اسلامی شرعی آئین کے مسودے پر ریفرنڈم کرانے کے صدر محمد موروسی کے فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔ اس نے 15 دسمبر کو مجوزہ ریفرنڈم کا معائنہ کرنے سے انکارکردیا ہے۔ مصر کے سینئر ججوں نے صدر محمد موروسی کے اسلام حمایتیوں کے ذہنی و جغرافیائی دباؤ کے خلاف بے مدت ہڑتال شروع کی جبکہ قریب ایک درجن اخبارات نے بھی اپوزیشن کی حمایت میں اپنے ایڈیشن نہ نکالے کا اعلان کیا ہے۔ موروسی نے پچھلے مہینے اپنے ہمنوا ملکوں کے ذریعے سے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔اس کے بعد اپوزیشن سے سیدھے ان کا ٹکراؤ تیز ہوگیا۔ اسی درمیان بڑی آئینی عدالت نے کہا کہ اسلام پرستوں نے ججوں کو عدالت کمپلیکس میں داخل ہونے سے روکا جس کے خلاف وہ اپنا کام کاج عارضی طور پر ملتوی کررہے ہیں۔ کئی اخبارات میں نئے آئین کے خلاف احتجاج میں اپنے پہلے صفحے پر نعرہ لکھا ہے کہ ’’تانا شاہی نہیں چلے گی‘‘۔
ادھر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ فلسطین کی تاریخ میں اسے ایک شاندار کامیابی ملنے سے اسرائیل بوکھلا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل اجلاس میں ہندوستان سمیت138 ملکوں نے فلسطین کی حمایت میں ووٹ کرکے اس عالمی عدالت نے اس کا قد بڑھادیا۔ عالمی ادارے میں فلسطین کی یہ تاریخی کامیابی ہے۔ اسرائیل کے لئے یہ ایک زبردست جھٹکا مانا جارہا ہے۔ جمعرات کی دیر رات جنرل اجلاس میں کل 193 ممبران میں سے امریکہ اور اسرائیل سمیت محض 9 ملکوں نے فلسطین کے پرستاؤ کے خلاف ووٹ ڈالا جبکہ 41 ملکوں نے پولنگ میں اپنی غیر موجودگی درج کرائی۔ اس بڑی کامیابی کے ساتھ عالمی ادارے میں فلسطین کادرجہ ’’غیر ممبر مبصر‘‘ دیش کا ہوگا۔ جنرل اجلاس میں پولنگ سے پہلے اپنے خطاب میں فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ ووٹنگ دراصل فلسطین ملک کے لئے ایک پیدائشی ثبوت کی طرح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 65 سال پہلے آج ہی کے دن جنرل اجلاس نے ریزولیوشن181 کو منظوری دے کر فلسطین کو دو حصوں میں بانٹا تھا اور اسرائیل کو پیدائشی ثبوت نامہ دے دیا تھا۔ ابھی تک اقوام متحدہ میں فلسطین کو اتھارٹی مبصر کا درجہ حاصل تھا۔ اقوام متحدہ میں ریزولیوشن پاس ہونے کے بعد غذا شہر اور مغربی ساحلی کنارے پر جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی فلسطین نے بین الاقوامی سطح پر ملک کے طور پر منظوری حاصل کرنے کی سمت میں ایک اور مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ریزولیوشن کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل کے سفیر ران پروسول نے پولنگ سے پہلے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ریزولیوشن سے امن کو کوئی فروغ نہیں ملے گا بلکہ اس سے امن کو جھٹکا ہی لگے گا۔ اسرائیلی لوگوں کا اسرائیل سے چار ہزار سال پرانہ رشتہ ہے۔ اقوام متحدہ کے کسی فیصلے سے ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوسان رائس نے پولنگ کے بعد کہا کہ آج یہ ریزولیوشن امن کی راہ میں ایک اور روڑا اٹکانے والا ریزولیوشن ہے۔ برطانیہ اور جرمنی نے اس ریزولیوشن کے لئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا لیکن دونوں ملکوں میں اس ریزولیوشن کو لائے جانے سے خوشی نہیں ہے۔ پچھلے سال فلسطینی اتھارٹی نے مکمل ممبر شپ حاصل کرنے کے لئے اقوام متحدہ میں عرضی دی تھی لیکن سکیورٹی کونسل میں امریکہ نے اس ریزولیوشن کو ویٹو کردیا تھا اور فلسطین کی کوششوں پر پانی پھیردیا تھا۔ عرب دنیا میں اس فیصلے پر خوشی کا ماحول ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ کل ملاکر مشرقی وسطیٰ میں عدم استحکام اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہوتا جارہا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ حالات قابو میں ہی رہیں کیونکہ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا مضر اثر مشرقی وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا۔
(انل نریندر)

دہشت گردی معاملوں میں مسلم لڑکوں کو زبردستی اٹھانے و ستانے کا سوال

پیر کو کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کر ایک میمورنڈم دیا۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے برسوں تک جسمانی اور ذہنی اذیت جھیلنے کے بعد کچھ بے قصور متاثرین کو آزادی مل پائی ہے۔ ان بے گناہوں کے ساتھ ہی ان کے رشتے داروں کے ذریعے برسوں تک جھیلی گئی بدنامی کا ازالہ کیسے کیا جائے گا؟ وزیر اعظم نے دہشت گردی کے الزام ثابت نہ ہونے کے بعد بھی جیل میں بند بے گناہ مسلم لڑکوں کا مسئلہ جلد سلجھانے کا بھروسہ دلایا ہے۔ حال ہی میں اترپردیش میں اکھلیش یادو کی سرکار نے دہشت گردی کے ملزمان کے خلاف مقدمے واپس لینے کی مہم چلائی لیکن ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد انہیں سوچنے پر مجبور ہونا پڑا۔ نمائندہ وفد کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی دھماکہ ہوتا ہے تو پولیس بے قصور مسلمانوں کو مقدموں میں خانہ پوری کرنے کے لئے پھنسا دیتی ہے۔ اس میں سچائی بھی ہے۔ پولیس ٹھیک سے چھان بین تو نہیں کرتی بس خانہ پوری کرنے کے لئے گرفتاریاں دکھا دیتی ہے۔ لیکن عدالتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی بے قصور ہے تو اسے عدالت با عزت بری کرتی ہے اور چھوڑ دیتی ہے۔ ہمارے سامنے دہلی ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ ایک مثال ہے۔ عدالت کے چیف جسٹس ایس روندر بھٹ اور جسٹس جی پی متل کی ڈویژن بنچ نے لاجپت نگر بم دھماکے میں دو ملزمان کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر بری کردیا۔جبکہ ایک کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔ پولیس کے مستعد نہ ہونے سے ہائی کورٹ اس قدر ناراض تھی کہ اس نے جانچ کے دوران ہوئی خامیوں کو ایک طرفہ طور پر گنا دیا۔ ساتھ ہی اپنی ذمہ داری نہ نبھانے پر دہلی پولیس کو کھری کھوٹی سنائی۔ لاجپت نگر کے سینٹرل مارکیٹ میں 21 مئی 1996 ء کو ہوئے دھماکے میں13 لوگ مارے گئے تھے۔ نچلی عدالت میں اپریل2008ء میں اس دھماکے کے تین ملزمان مرزا نثار حسین، محمد علی بھٹ اور نشاد کو پھانسی کی سزا سنائی تھی جبکہ جاوید کو عمر قید کی سزا۔ ہائی کورٹ میں ججوں نے جانچ میں خامیاں گناتے ہوئے کہاں کہ دہلی پولیس نے کم از کم پیمانہ اصول کی تعمیل نہیں کی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دھماکے جیسے معاملے کی جانچ کو بہت ہلکے سے لیا گیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر پولیس نے کیس میں کوتاہی برتی ہوتی تو نچلی عدالت نے کونسی چھان بین کر سزا سنائی ہے؟ اگر ہائی کورٹ کو جانچ میں خامیاں نظر آئیں تو نچلی عدالت کو کیوں نہیں نظر آئیں؟ ہم اس بات سے متفق ہیں کہ برسوں جیل میں رہنے کے بعد اگر کوئی ملزم بے قصور ثابت ہوتا ہے تو اس کا کھوئے وقت کا ہرجانہ کون بھرے گا۔ یا تو یہ ہو کہ ایسے معاملوں میں جتنے برس ملزم جیل میں زبردستی کاٹے اس کا اسے سالانہ ہرجانہ دیا جائے۔ سب سے بہتر ہل تو ہماری رائے میں یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کی طرح آتنک واد سے متعلق معاملوں کا نپٹارا ایک سال میں کردیا جانا چاہئے۔ پاکستان جیسے دیش میں یہ ممکن ہے تو بھارت میں کیوں نہیں؟ اگر ایک مقررہ مدت میں مقدمے کا نپٹارہ ہوجائے تو بہت سے جڑے مسائل ختم ہوجائیں گے اور ملزم قصوروار ہے یا نہیں یہ محض عدالت ہی طے کرسکتی ہے نہ تو پولیس اور نہ ہی کوئی سرکار۔
(انل نریندر)

05 دسمبر 2012

مودی اپنی سیاسی زندگی کا سب سے اہم چناؤ لڑ رہے ہیں

گجرات اسمبلی چناؤ کی جتنی اہمیت اس مرتبہ ہے اتنی شاید کبھی پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔ پورے دیش کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ دراصل بی جے پی خاص کرنریندر مودی حمایتیوں نے اسے اس شکل میں پروجیکٹ کیا ہے کہ گجرات کی سیاست سے زیادہ قومی سیاست کے لئے اہم ہے۔ اس لئے گجرات اسمبلی چناؤ اس مرتبہ کانگریس کے لئے کم نریندر مودی کے لئے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ گجرات میں جیسے مودی کے لئے اپنے وقار کی لڑائی لڑی جارہی تھی ویسی نہیں اس بات کا بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ اور خود پارٹی کو بھی احساس ہوچکا ہے۔ پارٹی کو کانگریس سے اتنا ڈر نہیں جتنا اسے اپنی پارٹی کے اندرسے ہے۔ اسے سابق وزیر اعلی کیشوبھائی پٹیل سے بھی اتنا ڈرنہیں لیکن جب سنگھ کے متوقع آر ایس ایس ورکر کیشو بھائی کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو یہ ضرور مودی کے لئے تشویش کا سبب بن جائے گا۔ اس لئے مرکزی بھاجپا لیڈر شپ نے اب دورخی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک تو گجرات کو جنرل اسمبلی تک محدود نہ کرنا بلکہ اس کی قومی اہمیت کا دعوی کرنا۔ اب تک پارٹی کے لیڈر اور خودنریندر مودی اشارے اشارے میں یہ بات کرتے تھے لیکن اب نیتا کھل کر نریندر مودی کو ہونے والے وزیراعظم کی شکل میں پروجیکٹ کرنے لگے ہیں۔ گجرات اسمبلی چناؤ پر نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کی مانیں تو کیشو بھائی کی پارٹی گجرات پریورتن پارٹی کی جانب سے سب سے زیادہ چیلنج سوراشٹر علاقے میں مل رہا ہے۔ سوراشٹر علاقے میں پڑنے والی 45 سیٹوں میں سے کم سے کم 17-18 سیٹوں پر گجرات پریورتن پارٹی کے امیدواروں کے ذریعے اب تک جس طرح کی چنوتی دی جارہی ہے وہ مودی کے لئے کافی فکرمندی کی بات ہے۔ گجرات چناؤ میں آر ایس ایس کے کردار کو بھی کم کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ قابل ذکر ہے اس مرتبہ سنگھ بھی مودی کی مخالفت کررہی ہے اور کیشو بھائی کی خفیہ مدد کررہی ہے۔ سوراشٹر علاقے کی 17-18 سیٹیں او بی سی، ایس سی؍ایس ٹی بیش قیمت ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق اگر پارٹی کو سوراشٹر علاقے میں جھٹکا لگتا ہے تو یہ نہ صرف مودی بلکہ بھاجپا کے لئے بھی زبردست صدمہ ہوگا۔ نریندر مودی کے حمایتیوں کے ذریعے انہیں امکانی وزیر اعظم پروجیکٹ کرنے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس سے مودی کو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے میں مدد ملے گی۔ اب مقامی اشوز کو درکنار کر اپنے ووٹروں کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ ان کی جیت وزیر اعظم کی کرسی تک لے جائے گی جس سے ریاست کو کافی فائدہ ہوگا۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے سے ریاست میں کانگریس کو بھلے ہی کوئی فائدہ نہ ہو لیکن مرکزی سیاست میں فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ اقلیت ووٹروں کے موڑنے سے اس کے حق میں فائدہ ہونے والا ہے۔گجرات اسمبلی چناؤ میں بھاجپا اپنے بوتے پر 1995 میں برسر اقتدار آئے تھی تب سے وہ مسلسل ریاست میں چناؤ جیت رہی ہے۔ کانگریس گجرات میں اس بات سنبھل کر چل رہی ہے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں سونیا گاندھی نے اپنی ریلیوں میں نریندر مودی کو موت کا سوداگر کہہ دیا تھا۔ جس پر سخت رد عمل سامنے آیا تھا اور مودی کا پرچم پھر لہرایاگیا تھا۔ ویسے اس مرتبہ بھی کانگریس نے ویسی ہی چوک کردی ہے کہ معطل آئی پی ایسافسر سنجیو بھٹ کی بیوی شویتا بھٹ کو پارٹی نے گاندھی نگر میں وزیراعلی مودی کے مقابلے پر اتارا ہے۔ اس کاپوری ریاست میں رد عمل ہورہا ہے۔ شویتا اگر اپنی ضمانت بچا لیں تو بہت بڑی بات ہوگی لیکن انہیں مودی کے مقابلے پر اتارنے سے دوسرے علاقوں میں بھی نقصان کا خطرہ ہے۔ کانگریس کو لگ رہا تھا کہ بھاجپا کی اندرونی پھوٹ کے سبب چناؤمیں نریندر مودی اکیلے پڑ جائیں گے۔ کیشو بھائی پٹیل بھاجپا کے مینڈینٹ میں سیند لگائیں گے۔ اس ناطے بھی کانگریس کو کامیابی ملنے کی امید ہے لیکن گجرات میں اس نے وزیر اعلی کے عہدے پر اپنا کوئی امیدوار نہ اعلان کرکے ایک طرح سے اپنی ہار پہلے ہی مان لی ہے۔ مودی نے اس مسئلے پر کانگریس کی گھیرا بندی کے لئے کہا تھا کہ کانگریس پچھلے دروازے سے سونیا کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو صوبے کا وزیر اعلی بنانے کے چکر میں ہے۔ ایسا کر مودی نے پھر ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ مودی اپنی چناوی ریلیوں میں سیدھے سونیا گاندھی اور مرکزی سرکار کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔مسٹر مودی اپنی سیاسی زندگی کا یہ سب سے اہم چناؤ لڑ رہے ہیں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...