Translater

05 دسمبر 2012

مودی اپنی سیاسی زندگی کا سب سے اہم چناؤ لڑ رہے ہیں

گجرات اسمبلی چناؤ کی جتنی اہمیت اس مرتبہ ہے اتنی شاید کبھی پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔ پورے دیش کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ دراصل بی جے پی خاص کرنریندر مودی حمایتیوں نے اسے اس شکل میں پروجیکٹ کیا ہے کہ گجرات کی سیاست سے زیادہ قومی سیاست کے لئے اہم ہے۔ اس لئے گجرات اسمبلی چناؤ اس مرتبہ کانگریس کے لئے کم نریندر مودی کے لئے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ گجرات میں جیسے مودی کے لئے اپنے وقار کی لڑائی لڑی جارہی تھی ویسی نہیں اس بات کا بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ اور خود پارٹی کو بھی احساس ہوچکا ہے۔ پارٹی کو کانگریس سے اتنا ڈر نہیں جتنا اسے اپنی پارٹی کے اندرسے ہے۔ اسے سابق وزیر اعلی کیشوبھائی پٹیل سے بھی اتنا ڈرنہیں لیکن جب سنگھ کے متوقع آر ایس ایس ورکر کیشو بھائی کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو یہ ضرور مودی کے لئے تشویش کا سبب بن جائے گا۔ اس لئے مرکزی بھاجپا لیڈر شپ نے اب دورخی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک تو گجرات کو جنرل اسمبلی تک محدود نہ کرنا بلکہ اس کی قومی اہمیت کا دعوی کرنا۔ اب تک پارٹی کے لیڈر اور خودنریندر مودی اشارے اشارے میں یہ بات کرتے تھے لیکن اب نیتا کھل کر نریندر مودی کو ہونے والے وزیراعظم کی شکل میں پروجیکٹ کرنے لگے ہیں۔ گجرات اسمبلی چناؤ پر نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کی مانیں تو کیشو بھائی کی پارٹی گجرات پریورتن پارٹی کی جانب سے سب سے زیادہ چیلنج سوراشٹر علاقے میں مل رہا ہے۔ سوراشٹر علاقے میں پڑنے والی 45 سیٹوں میں سے کم سے کم 17-18 سیٹوں پر گجرات پریورتن پارٹی کے امیدواروں کے ذریعے اب تک جس طرح کی چنوتی دی جارہی ہے وہ مودی کے لئے کافی فکرمندی کی بات ہے۔ گجرات چناؤ میں آر ایس ایس کے کردار کو بھی کم کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ قابل ذکر ہے اس مرتبہ سنگھ بھی مودی کی مخالفت کررہی ہے اور کیشو بھائی کی خفیہ مدد کررہی ہے۔ سوراشٹر علاقے کی 17-18 سیٹیں او بی سی، ایس سی؍ایس ٹی بیش قیمت ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق اگر پارٹی کو سوراشٹر علاقے میں جھٹکا لگتا ہے تو یہ نہ صرف مودی بلکہ بھاجپا کے لئے بھی زبردست صدمہ ہوگا۔ نریندر مودی کے حمایتیوں کے ذریعے انہیں امکانی وزیر اعظم پروجیکٹ کرنے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس سے مودی کو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے میں مدد ملے گی۔ اب مقامی اشوز کو درکنار کر اپنے ووٹروں کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ ان کی جیت وزیر اعظم کی کرسی تک لے جائے گی جس سے ریاست کو کافی فائدہ ہوگا۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے سے ریاست میں کانگریس کو بھلے ہی کوئی فائدہ نہ ہو لیکن مرکزی سیاست میں فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ اقلیت ووٹروں کے موڑنے سے اس کے حق میں فائدہ ہونے والا ہے۔گجرات اسمبلی چناؤ میں بھاجپا اپنے بوتے پر 1995 میں برسر اقتدار آئے تھی تب سے وہ مسلسل ریاست میں چناؤ جیت رہی ہے۔ کانگریس گجرات میں اس بات سنبھل کر چل رہی ہے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں سونیا گاندھی نے اپنی ریلیوں میں نریندر مودی کو موت کا سوداگر کہہ دیا تھا۔ جس پر سخت رد عمل سامنے آیا تھا اور مودی کا پرچم پھر لہرایاگیا تھا۔ ویسے اس مرتبہ بھی کانگریس نے ویسی ہی چوک کردی ہے کہ معطل آئی پی ایسافسر سنجیو بھٹ کی بیوی شویتا بھٹ کو پارٹی نے گاندھی نگر میں وزیراعلی مودی کے مقابلے پر اتارا ہے۔ اس کاپوری ریاست میں رد عمل ہورہا ہے۔ شویتا اگر اپنی ضمانت بچا لیں تو بہت بڑی بات ہوگی لیکن انہیں مودی کے مقابلے پر اتارنے سے دوسرے علاقوں میں بھی نقصان کا خطرہ ہے۔ کانگریس کو لگ رہا تھا کہ بھاجپا کی اندرونی پھوٹ کے سبب چناؤمیں نریندر مودی اکیلے پڑ جائیں گے۔ کیشو بھائی پٹیل بھاجپا کے مینڈینٹ میں سیند لگائیں گے۔ اس ناطے بھی کانگریس کو کامیابی ملنے کی امید ہے لیکن گجرات میں اس نے وزیر اعلی کے عہدے پر اپنا کوئی امیدوار نہ اعلان کرکے ایک طرح سے اپنی ہار پہلے ہی مان لی ہے۔ مودی نے اس مسئلے پر کانگریس کی گھیرا بندی کے لئے کہا تھا کہ کانگریس پچھلے دروازے سے سونیا کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو صوبے کا وزیر اعلی بنانے کے چکر میں ہے۔ ایسا کر مودی نے پھر ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ مودی اپنی چناوی ریلیوں میں سیدھے سونیا گاندھی اور مرکزی سرکار کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔مسٹر مودی اپنی سیاسی زندگی کا یہ سب سے اہم چناؤ لڑ رہے ہیں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

دھوکہ،غلط فہمی پھیلانے والے اشتہارات پر کارروائی ہو

آج کل ٹی وی اور اخبارات میں ایسے اشتہارات کی کمی نہیں جن میں دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کے استعمال سے کم سے کم وقت میں موٹاپا،شگر کی بیماریاں یہاں تک کہ دل سے جڑی بیماریوں سے بھی نجات پائی جاسکتی ہے۔ بچوں سے متعلق اشتہارات کا تو سیلاب ہی آگیا ہے۔ مثال کے طور پر دودھ میں ملائے جانے والے پروڈکٹس بنانے والی کمپنیوں کے اشتہارات میں بچوں کی نشو ونما اور یادداشت میں دوگنا رفتار سے اضافہ، جسم کو فوراً تقویت دینے اور لمبائی دوانچ بڑھانے وغیرہ کا دعوی کیا جاتا ہے۔ یہ چیزیں بازار میں خاصی مقبولیت حاصل کرچکی ہوتی ہیں تبھی تو سامان بنانے والی کمپنیاں لاکھوں روپے اشتہارات پر خرچ کرتی ہیں۔ اسی طرح سے کہا جاتا ہے چاکلیٹ ملے مشروبات سے بچے لمبے، طاقتور اور تیز ہوجاتے ہیں لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی بھی حقیقت یا سائنسی مطالعہ سامنے نہیں آیا جو ان دعوؤں کی تصدیق کرتا ہو۔ شاید یہ ہی وجہ ہے ہندوستانی غذائی سکیورٹی و اسٹنڈرڈ اتھارٹی یعنی ایف ایس ایس آئی نے کئی شکایتوں کے پیش نظر ایسے 35 معاملوں میں نوٹس جاری کیا ہے۔ اخبارات ٹی وی چینلوں اور دوسری پبلسٹی ذرائع پر دکھائے جانے والے اشتہارات سے متعلق چیزوں کی خوبیوں کے بارے میں دعوؤں کو جانچے اور پرکھنے کی ضرورت شاید ہی سمجھی جاتی ہے۔ دراصل ہمیں لگتا ہے کھانے پینے سے لیکر خوبصورتی نکھارنے جیسی چیزوں کے اشتہارات میں دعوی کیا جاتا ہے اس میں حقیقت کم ہوتی ہے اور غلط فہمی زیادہ۔ مشکل ایک یہ بھی ہے کہ ایسے دعوؤں کی اصلیت کی جانچ پرکھ کی نہ تو کوئی کسوٹی موجودہے اور نہ ہی ان پر کارگر طریقے سے روک لگانے کے لئے مشینری جبکہ ڈبہ بند فوڈ پروڈکٹس کو لیکر دواؤں یا دوسر ے تمام پروڈکٹس کے اشتہارات میں کئے گئے دعوے لوگوں کے ضمیر پر اثر ڈالتے ہیں اور وہ دوسرے متبادل پر غور کرنا چھوڑدیتے ہیں۔
جسم، صحت اور اس کے رنگ ڈھنگ کو لیکر کئی طرح کی مثبت اور غیر مثبت پہلے سے لوگوں کے دل و دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں اور ان میں من چاہی تبدیلی اور اپنے اندر بھروسہ پیدا کرنے کے امکان کا لالچ پیدا ہوتا ہے اوریہ پیدا کرنا کمپنیوں کے لئے آسان ہوتا ہے۔ گورے پن کی کریم یا موٹاپا گھٹانے کی دواؤں کے بارے میں جو دعوے کئے جاتے ہیں انہیں محض جھوٹ اور دھوکہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ ان کے مضر اثرات کی اکثر خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ صارفین کو راغب کرنے کے لئے جانے مانے فلمی ستاروں، کھلاڑیوں اور مایا ناز ہستیوں کا بھی اشتہارت میں سہارا لیا جاتا ہے۔ جہاں ہم فوڈ اتھارٹی کے ذریعے اٹھائے گئے قدموں کا خیر مقدم کرتے ہیں وہیں یہ سوال بھی واجب ہے کہ جب خود ایف ایس ایس آئی خود یہ کہتا ہے کہ ایسے اشتہارات محض لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں تو یہ سب اتنے برسوں سے کیوں چل رہا ہے؟ کیوں نہیں ان اشتہارات پر روک لگائی گئی اور متعلقہ کمپنیوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے گئے؟
(انل نریندر)

04 دسمبر 2012

رابرٹ واڈرا کو کلین چٹ دینے کا معاملہ

سرخیوں میں چھائے رابرٹ واڈرا زمین گھوٹالے معاملے پر وزیراعظم کے دفتر نے واڈرا کو کلین چٹ دے د ی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ میں چل رہے ایک مقدمے کے سلسلے میں سونیاگاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے خلاف اروند کجریوال کے ذریعے عائد الزامات پر پی ایم او کی طرف سے جواب داخل کیا گیا ہے اس اعتراض نامے میں کہا گیا ہے کہ واڈرا پر لگے الزامات بے بنیاد ہی نہیں بلکہ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ معاملہ رابرٹ واڈرا و ہریانہ کی ڈی ایل ایف کمپنی کے درمیان کا ہے ایسے میں وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جانچ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ خیال رہے کہ نوتن ٹھاکر کی عرضی پر گذشتہ11 اکتوبر کو الہ آبادہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے مرکزی سرکار کو عرضی پر اعتراض پرجواب داخل کرنے کے لئے تین ہفتے کا وقت دیا تھا۔ یہ معاملہ سینئر وکیل جسٹس اوما ناتھ سنگھ اور جسٹس وریندر ناتھ دیکشت کی ڈویژن بنچ کے سامنے چل رہا ہے۔ بحث اس نکتہ پر ہورہی ہے کہ کیا عرضی سماعت کے لائق ہے یا نہیں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل موہن پرکاش پراشن کی دلیل تھی کہ عرضی میڈیا رپورٹ پر مبنی ہے۔ ایسے میں اخباری خبروں سے متعلق حقائق والی یہ عرضی خارج کئے جانے کے لائق ہے کیونکہ یہ سنی سنائی باتوں پر قلمبند کی گئی ہے۔ اس کے جواب میں ٹھوس ثبوت داخل کر نوتن ٹھاکر کے وکیل اشوک مارکنڈے کا کہناتھا کہ جب اس معاملے پر داخل اعتراض میں پی ایم او کی طرف سے اسے دو ذاتی لوگوں کے بیچ کا معاملہ کہا جارہا ہے، پھر اس میں تیزی سے پیروی کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ نوتن ٹھاکر نے اپنی عرضی میں کہا کہ رابرٹ واڈرا کی کمپنی ڈی ایل ایف کی ملی بھگت سے کچھ ہی برسوں میں رابرٹ واڈرا کی املاک 50 لاکھ سے بڑھ کر500 کروڑ رکیسے ہوگئی۔ اسی طرح کے الزام عام آدمی پارٹی کے اروند کجریوال نے بھی واڈرا پر لگائے تھے۔ اس معاملے میں شائع خبروں کی بنیاد پر مفاد عامہ کی عرضی تیار کر مانگی گئی معاملے کی جانچ وزیر اعظم کے دفتر کی نگرانی میں کرائی جائے۔ عرضی میں یہ بھی دلیل دی گئی تھی کہ عرضی گذار نے اس معاملے میں9 اکتوبر کو پی ایم او کو ایک میمو دیا تھا جس میں واڈرا کے خلاف الزامات کی جانچ کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ ایسے میں عرضی گذار کو عرضی دائر کرنے کا پورا حق ملتا ہے۔عرضی گذار کے وزیر کا کہنا ہے کہ معاملے میں ’’سچائی ‘‘ کو سامنے لانے کے لئے الزامات کی جانچ کے بارے میں پی ایم او کو ہدایت دی جانی چاہئے۔ دونوں فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد جسٹس اوما نند سنگھ اور جسٹس وریندر کمار دیکشت کی ڈویژن بنچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اس سے پہلے معاملے میں ایک اور بات ابھر کر سامنے آئی۔ وزیر اعظم کے دفتر اور مرکزی حکومت کی جانب سے متضاد دلیلیں پیش کی گئیں۔ ایک طرف عرضی گذار کو حقائق کی بنیاد پر غیر ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ساتھ ہی کہاگیا کہ معاملہ ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے دائرے سے باہر کا ہے۔ پی ایم او نے کہا کیونکہ معاملہ پرائیویٹ پارٹیوں کا ہے اس لئے اسکی جانچ نہیں کرائی جاسکتی۔ دیکھیں بنچ اپنا کیا فیصلہ سناتی ہے۔
(انل نریندر)

راجہ کولندرعرف رام نرنجن کا رونگٹے کھڑے کرنے والا کیس

یہ کلجگ کا دور ہے اس دور میں بربریت ،ظلم اور غیر انسانی حرکتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ کچھ آدمی تو کہنے کو انسان ہوتے ہیں لیکن برتاؤ میں وہ جانور سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ راجہ کولندر عرف رام نرنجن کا سامنے آیا ہے۔ صحافی دھریندر سنگھ قتل کا راز نہ کھلتا تو رام نرنجن عرف راجہ کولندر کا پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنے لوگوں کو کاٹ کر ان کا بے رحمانی قتل کرکے ان کے سر گھر میں سجاتا ہے۔مگر دھریندر کے قتل کے معاملے میں کیج گنج پولیس پر دباؤ بنا تو پولیس حرکت میں آگئی اور پھر معاملے کی پرتیں کھلنے لگیں اور وہ ایسی کھلیں کہ پولیس افسروں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ راجہ کولندر عام یاشاطر قاتل نہیں بلکہ آدم خور نکلا۔ راجہ کولندر نے دھریندر کا قتل 14 دسمبر2002ء کو کیا تھا ۔ اس کے دل میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ صحافی دھریندر کو اس کے بارے میں کافی کچھ معلوم ہوچکا ہے ، وہ کبھی بھی اس کی کرتوت اخبار میں چھاپ کر اس کا کھیل ختم کرسکتا ہے۔ دھریندر کے قتل کی تفتیش کرنے والے اس وقت کے ایس او سری نارائن تیواری نے دھریندر کے موبائل سے اس کی آخری کال راجہ کولندر کی بیوی پھولن دیوی کے موبائل پر ہوئی تھی۔ پولیس راجہ کولندر کے فارم ہاؤس پہنچی تو دھریندر کا موبائل چارجر اور بائک برآمد ہوگئی۔ پھر پولیس نے کولندر سے سختی سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے جو باتیں اگلیں اس سے سب کی روح کانپ گئی۔ فارم ہاؤس کی پختہ تلاشی لی گئی تو وہاں سے درجن بھر سے زیادہ دھڑ ملے۔ دھریندر کے دھڑ کو اس وقت مدھیہ پردیش کی ایک جھیل میں پھینکا گیا تھا جبکہ اس کے باقی حصے کو فارم ہاؤس میں چھپایا گیا تھا۔ دھریندر کے قتل سے پہلے کولندر نے جو بھی قتل کئے تھے ان میں کہیں اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔ راجہ کولندر نے پولیس کو جو بیان دیا اس کے مطابق وہ انسانی بھیڑیا بن چکا تھا۔ قتل کرنے کے بعد وہ دھڑ کو سر سے الگ کردیتا ، پھر کھوپڑی کو ابال کر پی جاتا۔ خون پینے کی بات تو اس نے سرسری طور پر لیتے ہوئے بتایا جیسے خون نہ ہو کوئی سوپ ہو۔ کسی کی گاڑی بک کراتا اور جنگل میں لے جاکر مار دیتا پھر لاش کو لیکر فارم ہاؤس آتا ۔ فارم ہاؤس پر اطمینان سے دھڑ سے سر کو الگ کرتا اور پھر دھڑ کو جنگل میں کہیں دور پھینک آتا مگر سر کو بڑی حفاظت سے فارم ہاؤس میں اس ڈھنگ سے رکھتا کئی لوگوں کا قتل اس نے صرف اس لئے کیا تھا کیونکہ وہ اس کی عزت کسی راجہ کی طرح نہیں کرتے تھے۔ ان سے اس کی شان میں کوئی گستاخی ہوئی تھی۔سروں کو ابال کر پینے کے بعد کولندر انہیں رنگ دیتا تھا۔ قتل کے بعد ذات کی بنیاد پر انہیں الگ الگ رنگوں سے رنگتا تھا۔کولندر سی او ڈی میں کلاس IV کا ملازم تھا۔جمعہ کو الہ آباد میں اپرسیشن جج محتاب احمد نے کولندر کو صحافی دھریندر کے قتل کے معاملے میں قصوروار پایا اور اسے عمر قید کی سزا کے ساتھ17 سے12 ہزار روپے جرمانہ ٹھونکا ۔ سماعت کے دوران جج صاحب نے وکیل دفاع کی یہ دلیل مسترد کردی کہ یہ قتل ریئر اسٹیٹ یعنی غیر معمولی حالات میں آتا ہے۔ ایسے جانور کو ہماری رائے میں اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسے تو سرے عام چوک پر پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

02 دسمبر 2012

شہید کیپٹن سورو کالیا کو انصاف دلایا جائے

یہ بہت ہی دکھ کی بات ہے کہ کارگل جنگ کے شہید سورو کالیا کے پتا کو اپنے بیٹے پر پاک سینا کے ذریعے کئے گئے غیر انسانی ظلم کی کارروائی کی مانگ کو لے کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا ہے۔ کارگل جنگ میں شہید کیپٹن سورو کالیا اور ان کے پانچ ساتھیوں کی لاش کے ساتھ پاکستانی سینا کے غیر انسانی سلوک کا معاملہ واقعی تکلیف دہ ہے۔ کارگل جنگ ختم ہوئے13 سال ہوگئے ہیں۔ ان 13 سالوں میں کسی بھی بھارتیہ سرکار نے اس معاملے کو اٹھانے کی ہمت نہیں دکھائی۔اس سے صاف ہے کہ ہمارے سرکاری تنتر میں صرف عام لوگوں کو ہی نہیں بلکہ دیش کے لئے جان قربان کرنے والے شہیدوں کے لئے بھی وہ کتنے غیر ذمہ دار ہیں۔ شہید کیپٹن سورو کے پتا ایم کے کالیا محض اتنا چاہتے ہیں کہ پاک سینا کی طرف سے ان کے بندی بیٹے کو جس طرح سے اذیتیں دے کر مار ڈالا گیا اسے بھارت سرکار بین الاقوامی عدالت میں اٹھائے۔ کوئی سمویدن شیل سرکار ہوتی تو ایسا خود بخود کرتی لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ این کے کالیا کے ذریعے بار بار آگاہ کئے جانے کے باوجود بھارت سرکار کے ذریعے اس موضوع پر کچھ ٹھوس قدم نہیں اٹھا نے کی ہمت نہیں دکھا پائی۔حیرانی ہوتی ہے کہ اب تک کسی سرکار نے اس پر کوئی قدم اٹھانی کی کوئی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی؟اس این ڈی اے سرکار نے بھی نہیں جو کارگل فتح کو اپنی ایک کامیابی کے روپ میں پیش کرتی ہے اور نہ ہی یوپی اے نے کارگل میں بھارتیہ سینا کے ابھیمان کو راشٹریہ گورو کی طرح پیش توکیا جاتا ہے پر جن کی وجہ سے یہ حاصل کیا گیا ان کے مان سنمان کی فکر کسی کو نہیں ہے۔ اکثر ایک راشٹریہ کی جیت عموماً نعرے میں بدل کر رہ جاتی ہے۔پچھلے 13 سالوں میں پاکستان کے ساتھ ہمارے رشتے اتار چڑھاؤسے بھرے رہے ہیں۔آتنک واد اور کئی دیگر مدعوں پر بھارت سرکار نے اس کے سامنے کبھی سخت تو کبھی نرم زبان میں اپنا اسٹینڈ رکھا ہے۔ اس نے کئی بار پاکستان کی جیلوں میں بند بھارتیہ قیدیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ اسی طرح یہ مدعا بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ بات کارگل جنگ کے وقت بھی کم چرچا میں نہیں رہی تھی ۔ ویسے پاک فوجیوں نے سورو کالیا اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں رکھ کر اذیتیں دیں۔ ان کی لاشوں کو بیحد خستہ حالت میں بھارت کو سونپا لیکن تب کی این ڈی اے سرکار کو شہیدوں کی قربانی کو چناؤ میں بھنانا تو یاد رہا لیکن ان کے ساتھ ہوئی ذیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانا وہ بھول گئی۔ این ڈی اے کے بعد گذرے8 سالوں سے یوپی اے اقتدار میں ہے لیکن شہید بیٹے کو انصاف دلانے کے لئے ایم کے کالیا کیلئے اس پھیر بدل کے باوجود کچھ نہیں بدلا۔ دیش کے بہادر لڑاکو کے تئیں نیتاؤں اور نوکرشاہوں کی بے رخی کی وجہ سے ہی آج ہماری سینائیں افسروں کی کمی سے جھوجھ رہی ہیں۔بہرحال پہلے ہی سورو کے معاملے میں بہت دیر ہوچکی ہے بہتر ہوگا کہ اب سرکار بنا وقت لگائے پاکستان کے سامنے یہ معاملہ اٹھائے اور ضرورت پڑنے پر اس پورے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائے۔
(انل نریندر)

ہردیپ چڈھا کے قتل کی گتھی سلجھنے کا دعوی

چڈھا برادران قتل کانڈ کے پہلے دن سے جاری تمام شبہات و اٹکلوں سے دھیرے دھیرے پردہ ہٹنے لگا ہے۔ ہم نے تو پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ اس قتل کانڈ کا اصل فگر سکھدیو سنگھ نام دھاری ہیں اور اسی کے ارد گرد ساری واردات گھوم رہی ہے۔ اب یہ قتل کانڈ کی گتھی سلجھانے میں لگی دہلی پولیس کے کرائم برانچ نے سکھدیو سنگھ کو اہم ملزم بنا کر ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق نامدھاری نے ہی پورے شرینتر کے تحت چھوٹے بھائی ہردیپ چڈھا کا قتل کیا تھی۔ جمعرات کو نامدھاری کو پانچ دنوں کی پولیس حراست میں لے کر میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ گورو کی عدالت میں پیش کیا ۔ عدالت نے نامدھاری کو پیش کرتے ہوئے الزام کنندگان کی طرف سے الزام لگایا کہ نامدھاری ہی اس معاملے میں ہردیپ پر گولی چلانے کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے۔ جریح میں کہا گیا کہ سکھدیو سنگھ نے ہی ہردیپ پر اپنی پستول سے گولی چلائی اور یہ بات اس نے اپنے پولیس کو دئے بیان میں کہی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ نامدھاری پونٹی چڈھا کہا فرنٹ مین ہے اور فارم ہاؤس میں غنڈہ گردی، لوٹ پات و ہتیا کے پریاس کے معاملے میں ملزم ہے۔ اس پر نامدھاری کے وکیل نے جریح میں کہا کہ ان کے موکل پر لگے الزام غلط ہیں۔ ان کی دلیل تھی کہ نامدھاری نے ہی ایف آئی آر درج کرائی تھی اسی نے پونٹی کو ہسپتال پہنچایا جہاں پونٹی کو مردہ قرار دیا گیا۔ نامدھاری کے وکیل نے کہا کہ نامدھاری صرف پونٹی کے ساتھ اس کے فارم ہاؤس میں جا رہا تھا جہاں پر پونٹی کے بھائی ہردیپ نے ان کے اوپر کھلے طور پرفائرنگ شروع کردی جس کے بعد اپنی جان بچانے کے چلتے پونٹی کے پی ایس او نے ہردیپ پر گولی چلا دی۔ ابھی تک اس معاملے میں پونٹی کے چار لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ لوگ پونٹی کے ایک دوسرے فارم ہاؤس جو کہ بجواسن میں ہے وہاں کے کیئر ٹیکر بتائے جارہے ہیں۔ سوتروں کے مطابق ہردیپ کو لگی دو گولیوں میں سے ایک نامدھاری کی 30 بور کی پستول جبکہ دوسری اس کے سرکاری پی ایس او سچن تیاگی کو و 9 ایم ایم کی سرکاری کاربائن سے نکلی تھی۔ پولیس کے مطابق 17 نومبر کو چھتر پور فارم ہاؤس نمبر42 پر ہوئے قتل کانڈ کا چشم دید گواہ وخود فائرنگ میں شاملک سچن تیاری سرکاری گواہ بن چکا ہے۔ اس کی گواہی اس معاملے میں اہم ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ جائے واردات کے نزدیک تین جوانوں کے ساتھ پونٹی کی کار کا ڈرائیور اور سکیورٹی منیجر نریندر سنگھ گہلاوت کیس کی مضبوط کڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔ معاملے کی شروعاتی جانچ کرنے والی دکشن ضلع پولیس اور اب معاملے کو دیکھ رہی کرائم برانچ دونوں کی جانچ لگ بھگ ایک اینگل پر ہے۔ پہلے دن سے ہی نامدھاری کا رول مشکوک مانا جارہا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پونٹی قتل کانڈ معاملے میں ایف آئی آر کرانے مہرولی تھانے پہنچے نامدھاری کی گاڑی پر پولیس نے اسی دن گن پاؤڈر کا پتہ لگانے والے کیمیکل سے ہینڈ واش کرا لئے تھے۔ جسکی رپورٹ آنے پر پتہ چلا کہ نامدھاری نے ہی فائرنگ کی تھی۔ ادھیکاری کی مانیں تو ہاتھ میں گن پاؤڈر کی بات سامنے آنے کے بعد ہی نامدھاری کو اتراکھنڈ میں باجپور میں واقع اس کے گھر سے23 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق جو 30 بور کی پستول نامدھاری کے باجپور واقع گھر سے برآمد ہوئی اسے رامپور میں بندوق رپیرنگ کرنے والے جہانگیر کے پاس سے لایا گیا تھا۔ نامدھاری نے پستول کو بدلنے کی کوشش کی تاکہ یہ نہ ثابت ہوسکے کہ ہردیپ کو جو گولی لگی تھی وہ اسی پستول سے چلی تھی۔چلو ایک منٹ کے لئے ہم مان لیں گے پولیس نے ہردیپ کے قتل کی گتھی تو کچھ حدتک سلجھا لی ہے پر پونٹی پر کس نے گولی چلائی اور سب سے اہم سوال وہیں کا وہیں ہے کیونکہ ادھیکاریوں کے مطابق شروعاتی جانچ میں ہردیپ کے ذریعے پونٹی پر گولی چلانے کی بات آئی ہے لیکن ہردیپ پر کی گئی گولی باری کے دوران کہیں پونٹی کو ہی نامدھاری کی گولی نہیں لگی؟ اس پر بیلسٹک جانچ رپورٹ آنے سے پہلے کوئی تبصرہ کرنا یا کسی نتیجے پرپہنچی ٹھیک نہیں ہوگا۔ بیلسٹک رپورٹ سے ہی پتہ چلے گا کہ پونٹی کے جسم میں لگی گولیاں ایک ہی ہتھیار سے چلی تھیں یا انہیں کسی دوسرے ہتھیار سے چلی گولی بھی لگی۔
(انل نریندر)

01 دسمبر 2012

زی نیوز کے مدیروں کی گرفتاری نے کھڑے کئے کئی سوال

زی نیوز کے سینئر مدیر سدھیر چودھری اور زی بزنس کے مدیر ثمیر اہلووالیہ کی گرفتاری کے ساتھ ہی کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ کیا جمہوریت کے دو ستون اپنی اپنی حیثیت اور اختیارات کا بیجا استعمال تو نہیں کررہے ہیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے طویل چھان بین کے بعد یہ گرفتاریاں کی ہیں۔ کاروباری جندل گروپ کے چیئرمین و کانگریسی ایم پی نوین جندل نے الزام لگایا تھا کہ کوئلہ گھوٹالے کی کوریج دبانے کے لئے ان مدیروں نے ان کی کمپنی سے100 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی ۔ اس سے تنگ آکر جندل نے اس بات چیت کا اسٹنگ آپریشن کروالیا تھا۔ اس معاملے میں جانچ پڑتال کرنے والی پولیس ٹیم کا دعوی ہے کہ اس نے سی ڈی کی فورنسک جانچ کرا لی ہے۔ دوسری طرف زی نیوز نے جندل کے الزامات کی تردید کی ہے۔ زی نیوز کے سی ای او آلوک اگروال نے الزام لگایا کہ یوپی اے سرکارII اپنی غلطیوں کے چلتے میڈیا کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ اگروال اور زی گروپ کے وکیل آر کے ہانڈو نے گرفتاری اور اس کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر چھٹی والے دن سے پہلے گرفتاری کی گئی تاکہ انہیں ضمانت نہ مل سکے۔ ہانڈو نے کہا گرفتاری اس دفعہ کے تحت کی گئی ہے جو غیر ضمانتی جرائم پر لاگو ہوتی ہے نہ کے ضمانتی کے لئے۔ آلوک اگروال کا کہنا ہے دیش کی آزادی کے بعد 65 سال میں یہ دوسرا واقعہ ہے جب میڈیا پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ حال ہی میں یہ وزیر نے انڈیا ٹو ڈے گروپ کو جم کر گالیاں دی ہیں اور عدالت میں گھسیٹا ہے۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ کیا کانگریس اور منموہن سنگھ سرکار اپنے کالے کارناموں ک و دبانے کے لئے اب میڈیا کو ڈرا دھمکا رہی ہے یا پھر الیکٹرونک چینلوں سے سودے بازی کرکے کوئی بریکنگ نیوز پر روک لگوانا چاہتی ہے؟ یہ تو کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کچھ کانگریسیوں کو تو اتنا غرور ہے کہ وہ کسی اور کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کچھ الیکٹرونک چینل والے بھی سیاسی پارٹیوں سے سودے بازی کرتے ہیں۔ہم تو یہ بھی دیکھ رہے ہیں کے زی نیوز کے دوسرے چینل ، پرنٹ میڈیا نیشنل براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن و پریس کونسل آف انڈیا ان کی حمایت نہیں کررہے ہیں کیا اس کا مطلب یہ ہے جندل کے الزامات میں دم ہے یا پھر زی چینل سے اتنی نفرت و جلن ہے؟ پریس کونسل آف انڈیا کے چیف جسٹس ایم کاٹجو نے کہا تحقیقات ہونے تک اس کا لائسنس منسوخ کردیا جانا چاہئے کیونکہ اس معاملے سے صحافیوں کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ اس شے مات کے کھیل میں فی الحال پہلا راؤنڈ نوین جندل نے جیت لیا ہے۔ دہلی پولیس نے ساری کارروائی سی ایف ایس ایل کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کی ہے۔ یہ دہلی ہے یہاں صحافی کی حیثیت کو کم کرکے دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ پولیس کو یہ بات اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ کسی گٹکھا یا اس سے متعلقہ کمپنیوں اور ان کے اخبار کے مدیر کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہے وہ ایک خاص چینل کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو اپنے محافظ مدیروں کو بچانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ ویسے بھی جب پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہا ہو اتنے بڑے میڈیا گروپ پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے دس بار سوچے گی۔ گرفتار مدیروں کو اس بات کا یقین ضرور ہوگا کہ زی مالکوں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کے بچاؤ میں لگے ہوئے ہیں۔ بچاؤ کی بات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ زی نیوز نے اپنے بچاؤ میں کیا ثبوت پیش کئے ہیں؟ کیا زی نے جندل کے سینئر افسروں سے بات چیت کو ٹیپ نہیں کیا؟ زی والے دعوی کررہے ہیں کہ گھنٹوں کی بات چیت میں کچھ منٹوں کا ہی ٹیپ جندل گروپ نے پیش کیا ہے باقی ٹیپ کہاں ہے؟ تین چار گھنٹوں میں ہوئی بات چیت میں 12-14 منٹ کا ٹیپ نکال کر پیش کرنے سے پوری کہانی واضح نہیں ہوتی۔ پھر اتنا بھی طے ہے بات چیت میں سودے بازی دونوں فریقوں کے درمیان ہوئی ہوگی۔پولیس نے ایک طرف کارروائی کیوں کی؟ کیا پھر اتنی سخت دفعات لگانا کیا ضروری تھا؟ یہ بھی سوال مناسب ہے کہ پیسے کا کوئی لین دین نہیں ہوا صرف باتیں ہی ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے سے صحافیوں کی ساکھ پر آنچ آئی ہے لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کوئلہ گھوٹالے سے شروع گھوٹالوں کے خلاف سرکار نے اتنی پھرتی کیوں نہیں دکھائی؟ ایسے میں سرکار کی نیت پر سوال کھڑا ہونا فطری ہے۔
(انل نریندر)

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...