مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو جائے گی ۔سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ ایران حمایتی یمن کے حوثی باغیوں نے اسلام کے سب سے مقدس شہر مکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔سعودی عرب نے ایران حمایتی حوثی باغیوں پر مکہ کی طرف ڈرون بھیجنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا ہے ۔سعودی عرب نے مکہ میں حملے کو اپنی ریڈ لائن بتایا ہے ۔لیکن حوثی باغیوں نے حملے سے انکار کیا ہے کہا ہم نے کوئی ایسا حملہ نہیں کیا ہے ۔سعودی عرب وہی پرانا گھسا پٹا الزام لگارہا ہے ۔حوثی باغیوں کی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق تنظیم سے مکہ یا دیگر کسی مقدس مقامات کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ایئر اسپیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ۔سعودی عرب نے منگل کے روز مکہ اور دیش کے دوسرے بڑے شہر جدہ سمیت کئی علاقوں کے لئے سیکورٹی الرٹ جاری کیا ہے ۔مکہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں کے لئے مقدس کعبہ موجود ہے ۔کعبہ کی طرف ہی منہ کرکے دنیا بھرکے مسلمان روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 57سے زیادہ مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی آرگنائزیشن اسلام کوآردڈینیشن نے بھی مقدس مقامات کی پاکیزگی کی خلاف ورزی کی کوشش کی مذمت کی ہے ۔مکہ ڈرون تنازہ کے بیچ حوثی کے فوجی ترجمان یحیٰ ساریا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے یمن کے پانچ صوبوں پر 52 ہوائی حملے کئے ہیں ۔ایف -15 اور ٹاؤفن جنگی جہازوں نے کئی شہروں الزیف ،البیدا ، سادہ اور عمران میں حملے کئے ہیں ۔اسکولوں ، پلوں ، سڑکوں اور دوسرے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ۔حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کی بھی دھمکی دی ہے ۔چونکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے سے انکار کر دیا ہے ۔اس لئے اس واقعہ کی جانچ ضروری ہے ۔امریکہ -ایران لڑائی کے دوران بھی ایسے حالات بن چکے ہیں ۔اس پورے خطہ میں ایسی طاقت موجود ہے جو لڑائی کو بڑھائے رکھنا چاہتی ہے ۔ایسے میں کسی بھی طرح کے غلط تجزیہ کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔خیال رہے کہ یمن کے قریب 20 فیصد علاقہ میں حوثیوں کا قبضہ ہے ان کی تنظیم کا نام انصار اللہ یعنی اللہ کے مددگار ہے اوریہ شیعیٰ اکثیریتی انجمن ہے اور یمن میں اپنا الگ حصہ مانگ رہا ہے ۔امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مانتا ہے لیکن بھارت سمیت زیادہ تر مسلم ممالک بھی اسے آتنکی نہیں مانتے ۔حوثیوں کو فوری طور پر قابو میں کرنے کی صلاحیت سعودی عرب میں نہیں لگتی ۔بہت سوں کو یہ غلط فہمی ہوگی لیکن تذکرہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی مدد اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اطلاعات کے ذریعے کررہی ہیں ۔ہر جنگ کی قیمت آخرکار جنتا کو ہی بھگتنی پڑتی ہے ہمارے سامنے امریکہ ایران ،اسرائیل لبنان ، جنگ ہے ۔ساڑے چھ ماہ بعد بھی کوئی صلح کی راہ نظر نہیں آرہی ہے اس سے پہلے سعودی اور حوثیوں کی جنگ نہایت خطرناک موڑ پر پہنچے اس بیچ بچاؤکرکے رکوانا ضروری ہے ۔اور کسی بھی قیمت پر مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت ہونی چاہیے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں