شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو صفحات کا خط سامنے آیا ہے۔ اس میں انہوں نے مندر تعمیر کیٹی کے صدر نہ پیندر مشرا کے رول کو لیکر کئی دعوے کئے ہیں ۔ چمت رائے نے الزام لگایا کہ مندر تعمیر سے جڑے سخت فیصلے کمیٹی کی میٹنگ میں لئے تو جاتے لیکن بعد میں ان میں ترمیم کرنر پیندر مشرا کے فیصلوں کو ہی ترجیح دی جاتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی معاملوں میں کیٹی کے دوسرے ممبروں کی تجاویز اور فیصلوں کو بحث میں اہمیت نہیں دی گئی ۔ چمت رائے نے اپنے خط میں بتایا کہ رام مندر تعمیر کے لئے بنائے گئے ٹرسٹ میں کل 15 ٹرسٹی تھے اور نر پیندر مشرا کو تعمیراتی کیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق نہ پیندر مشرا کی ہی تجاویز پر ٹسٹوں کو مندر تعمیر کی ذمہ داری دی گئی ۔ مندر اور دیگر عمارتوں کے ڈیزائن سے وابستہ کام کے لئے نوئیڈا کی ڈیزائن ایسوسی ایٹ فرم کا انتخاب کیا گیا۔ حمت رائے نے نہ پیندر مشرا پرسید ھے الزام لگایا کہ تعمیر کمیٹی میں انہوں نے اپنے لوگوں کو ہی شامل کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان میں سے کچھ لوگ 6 برسوں کے دوران میٹنگ میں ایک دو بار ہی ایودھیا آئے ۔ چمت رائے کے مطابق ایم بی سی کے چیئر مین انوپ مثل مسلسل نر پیندر مشرا کے ساتھ تعمیراتی کیٹی کی میٹنگوں میں شامل ہوتے تھے۔ بتادیں کہ چمت رائے نے مندر میں چڑھاوے سے وابستہ مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 26 جون کو جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد 6 جولائی کو ٹرسٹ کی میٹنگ میں ان کا استعفیٰ منظور ہو گیا تھا۔ اسی دن حمت رائے نے ایک خط لکھ کر دوسرے اہل مشرا کے رول پر بھی سنگین الزام لگائے تھے ۔ چمت رائے نے اپنے خط میں صاف طور پر کہا کہ مندر تعمیر کے بھی فیصلوں میں نہ پیندر مشرانے ہمیشہ اپنے کو سب سے اہم رکھا۔ انہوں نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ مندر تعمیر کی سب سے بڑے پاور فل مندرٹرسٹ سے او پر چل کر مندر تعمیر کمیٹی رہی جس کے چیئر مین نہ پیندر مشرا ہیں ۔ چمت رائے جی نے سارا چڑھاوا چوری معاملہ میں اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے اور سارا قصور ائل اور نر پر بندر مشرا پر منڈھنے کی کوشش کی تھی۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری تھے ان کی کیا ڈیوٹی تھی؟ نر پیندر مشرا کے مطابق شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چڑھاوے کی ڈکیتی ہو رہی تھی؟ اور آپ کو پتہ نہیں چلا۔ بیشک آپ بھی اسی پوزیشن اور روابط سے فی الحال بچ جائیں لیکن بھگوان رام کے شراب کبھی بھی معاف نہیں کریں گے ۔ آپ نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے کروڑوں لوگوں کی عقیدت کو ٹھنس پہنچائی ہے اسے کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ رہا سوال نر پیندر مشرا کا تو انہوں نے چمت رائے کے الزامات کے جواب میں کہا میں نے چمت رائے کا کوئی خط نہیں دیکھا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اس میں ان کے خلاف اس طرح کی باتیں نہیں لکھی گئی ہوں گی۔ صاف ہے اب چمت رائے بدلہ لینے کے موڈ میں ہیں اور یہ تنازعہ اور آگے بڑھے گا۔
انل نریندر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں