Translater
18 مارچ 2022
اتراکھنڈ میں بی جے پی نے تاریخ بنائی !
الگ صوبے کے طور پر اپنے وجود میں آنے کے بعد سے ہی دیش کی پہاڑی ریاست اترا کھنڈ جہاں کانگریس اور بی جے پی میں باری باری سے اقتدار بدلتا رہا ہے لیکن اس بار اس ریاست نے اپنے بل پر کانگریس کو ہرا کر وہاں بی جے پی کو دوبارہ مو قع دیکر تاریخ رقم کر دی ہے۔ اترا کھنڈ میںبھاجپا نے جس ریاستی چہرے اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے نام پر چنا و¿ لڑا تھا وہ چناو¿ خود ہی ہار گئے ہیں ۔ بی جے پی کو صاف مینڈٹ کے باوجود دھامی کی ہار کے پیچھلے پارٹی کی آپسی کھینچا تانی مانا جا رہا ہے۔ دھامی کی ہار نے ایک بار پھر اتراکھنڈ کے اسی ریکارڈ کو برقرار رکھا جس میں وزیر اعلیٰ بطور سی ایم امیدوار ہارتے رہے ہیں ۔ دھامی کے علاوہ دو اور بڑے چہرے سابق وزیر اعلیٰ اور سر کردہ کانگریس لیڈر ہریش راو¿ت اور عآپ کے امیدوار کرنل اجے کوٹھیال کو ہار کا سامنا کر نا پڑا ۔ جو اپنی اپنی پارٹیوں سے وزیر اعلیٰ کے دعوے دار مانے جا رہے تھے ۔ کھٹیما میں دھامی اپنی ہیٹ ٹرک لگانے سے چوک گئے وہیں ہریش راوت لال کنواں سے تو کوٹھیال کنگوتری سیٹ سے ہار گئے ۔ بی جے پی کو یہاں تقریبا ً 44فیصدی ووٹ ملے اور کانگریس کو 38فیصدی ملے لیکن دونو ں پارٹیوں میں محض 6فیصد ووٹوں کے فرق نے سیٹوں کی شکل میں دونوں کے فرق کی کھائی کافی چوڑی کردی ۔ وہیں جیت کی گنجائش ہوتے ہوئے بھی اگر کانگریس پہاڑی ریاست کو فتح کرنے سے چوکی تو اس کی بڑی وجہ ریاستی کانگریسی نیتاو¿ں میں آپسی گروپ بند ی اور اپوزیشن کو ہرانے سے زیا دہ اپنوں کو ہرانے کیلئے کوشش رہی ۔ اب بی جے پی دھامی کو ہی وزیر اعلیٰ بناتی ہے یا پھر کوئی نیا چہرہ لاتی ہے اس پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
(انل نریند)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟
پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں