Translater
20 ستمبر 2020
94دن بعد چین نے مانی گلوان وادی میں ہوئی تشدد کی سچائی !
چین میں میڈیا آزا د نہیں ہے جو بھی اخبار یا ٹی وی ہے سب پر وہاں کی کمونسٹ سرکار کا کنٹرول ہے جو کچھ چھپتاہے یا ٹیلی کاسٹ ہو تا ہے اسے سرکار کے اجنڈے کا یا پرو پیگنڈہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ بھار ت اور چین میں جاری کشیدگی کو لیکر ان اخباروں میں مسلسل بھارت کے خلاف دھمکیا ں اور چین کی بڑی طاقت کے بارے میںمواد چھپتا رہتاہے بتا یا جاتا ہے کہ اخبار چین کی کمونسٹ پارٹی کے منھ بالے اخبار ہیں ۔ گلوبل ٹائمس انہیں اخباروں میں سے ایک ہے چین کے فوجی کتنے مرے تھے اس کے بارے میں اخبارات نے سرکاری جانکاری اب تک نہیں دی ہے ۔ گلوبل ٹائمس جیسے اخبار بھی چینی فوجیوں کی موت سے انکار کرتے رہے ہیں ۔لیکن اب پہلی بار اسی اخبار کے ایڈیٹر نے چینی فریق کی طرف سے نقصان کی بات مانی ہے ۔ اخبار کے مدیر ہوریجن نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ جتنا میں جانتا ہوں اس کے حساب سے گلوان وادی میں 15جون کو بھارت کے 20فوجیوں کے موت کے مقابلے میںچینی فوجی بہت کم مرے تھے اور کسی بھی چینی فوجی کو ہندوستا نی فوجیوں نے نہیں پکڑا تھا ۔ مدیر نے اس تبصرہ کے جواب میں انہوں نے لکھا ہے بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 15جون کو گلوان وادی میں چینی فوجیوں کو بڑا نقصان اٹھا نا پڑا تھا پہلا بار چین نے جھڑپ کی بات مانی ہے نہیں تو اب تک انکار کرتا تھا ۔ چینی فوجیوں کی موت پر خاموشی اختیار کرنے والے گلوبل ٹائمس کے مدیر ہوریجن نے دعویٰ کیا تھا کہ اس تشدد میں بھارت سے کم سے کم چھ فوجیوں موت ہوئی تھی لیکن انہوں نے ٹھیک ٹھاک تعداد نہیں بتائی چلو دیر درست آئے ۔ مرنے والوں کی تعداد بھی آہستہ آہستہ ماننی پڑے گی ۔
(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں