Translater

28 دسمبر 2019

!صحافیوں پر سرکاری زیادتی کے بڑھتے واقعات

پیرس میں واقع نگرانی انجمن آر ایس ایف کے مطابق دنیا بھر میں سال 2019میں 49صحافیوں کا قتل ہوا ان میں سے زیادہ تر صحافی یمن ،شام اور افغانستان میں لڑائی کی رپورٹنگ کے دوران مارے گئے یہ ظاہر کرتا ہے صحافت ایک خطرناک پیشہ بنا ہوا ہے انجمن کا کہنا ہے کہ دو دہائی میں اوسطاً ہرسال 80صحافیوں کی جان گئی ۔انجمن کے چیف کرشٹوف ڈیلونئیر نے بتایا جنگ زدہ علاقوں میں اعداد و شمار میں بیشک کمی آئی ہے جو خوشی کی بات لیکن جمہوری ملکوںمیں زیادہ تر ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے جو جمہوریت کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے ۔2019میں قریب389صحافیوں کو جیل بھیجا گیا جو پچھلے سال کے مقابلہ میں 12فیصد زیادہ ہے ان میں سے آدھے چین ،مصر اور سعود ی عرب میں قید ہیں ۔بھارت میں بھی صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں صحافیوں کے سرکاری ٹورچر پر پریس کانسل آف انڈیا بھی فکر مند ہے ۔مرزا پور میں بچوں کو مڈے میل میں نمک روٹی ملائے جانے کی خبر دینے پر صحافی کو سرکاری طور پر اذیت دینے پر پریس کانسل کے چیئرمین جسٹس چندر ماولی کمار پرساد نے کہا کہ صرف سرکار کے ذریعے صحافی پر مقدمہ واپس لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں آگے کیا کاروائی ہو سکتی ہے اس پر بھی غور کرنا چاہیے ۔مسٹر پرساد پریاگ راج (الہ آباد ) کے ایک سرکٹ ہاو ¿ س حال میں میڈیا پر تلخ حملے اور صحافت کے پیمانوں کی خلاف ورزی سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہے تھے ۔واضح ہو مرزا نمک روٹی کانڈ میں صحافی پر مقدمہ درج کئے جانے پر پریس کانسل نے پولس حکام پر ناراضگی جتائی اور کہا اگر ایسے میں وہ آئین کی خلاف ورزی کرتے رہے تو صحافی کیسے اپنی ذمہ داری نبھائے گا ۔چئیرمین نے ایک جج کے ریمارکس یاد دلائے جس میں جج موصوف نے کہاتھا کہ اترپردیش میں پولس دستہ جرائم کا ایک سخصی گروہ ہے ایک اخبار نویس نے مرزا پور کے ایک مہرورہ گاو ¿ں میں واقع پرائمری اسکول کے بچوں کو مڈڈے میل میں روٹی نمک دئے جانے کی خبر شائع کی تھی جس پر انتظامیہ نے صحافی پر مقدمہ درج کرا دیا ۔چئیرمین نے بتایاکہ مرزا پورمیں مڈ ڈے میل آندھرا میں پتر کار صحافی کے قتل کے معاملوں کا نوٹس لیکر سماعت کی اور بتایا کہ 45میں سے 40معاملے اترپردیش کے تھے اسلئے پریاگ راج میں سماعت ہوئی ۔جج نے کہا کہ صحافی کے خلاف سیدھا مقدمہ نا لکھا جائے اسلئے پہلے پریس کانسل میں معاملے کی سماعت ہواور اس کے نتیجہ کی بنیادپر ہی مقدمہ درج کیا جائے دیش میں ریاستی حکومتیں اورمرکزی سرکار آج کسی بھی صحافی کے خلاف مقدمہ درج کر دیتی ہے جو اس کے خلاف کوئی بھی نا پشندیدہ رپورٹنگ کرتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں جمہوریت میں رپوٹر کو ایسی رپورٹ دینے کا پورا حق ہے اسلئے پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)

!بد فعلی کرنے والوں کےخلاف دیش میں غصہ ایوانوں میں بدفعلی کے ملزمان

دیش بھر میں بدفعلی کے بڑھتے واقعات سے غصہ ہے لوگ سڑکوں پر اتر کرمظاہر ہ کر رہے ہیں اور کینڈل مارچ کر رہے ہیں ۔ایسے میں چونکانے والی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ 19ممبرپارلیمنٹ خواتین کے خلاف جرائم میں ملزم ہیں یہ وہی بدفعلی جیسے گھناو ¿نے جرائم کے الزامات 4ایم پی اور6ممبران اسمبلی پر ہیں۔اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) رپورٹ لوک سبھا ،راجیہ سبھا کے 759ایم پی و 4063ممبران اسمبلی کے چناوی حلف ناموں کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی 2009و 2014میں مہیلا جرائم معاملوں میں دو ملزم ایم پی تھے اس بار جو جیتے ہیں ان کی تعداد 19ہے ۔پچھلے 5برس میں سب سے زیادہ 66ملزمان کو بھاجپا کو ٹکٹ دئے جبکہ کانگریس نے 46بسپا نے 40ترنمول کانگریس نے 7ایسے امید وار چنے ان تینوں پارٹیوں کی چیف عورتیں ہیں :کمیونسٹ پارٹی 15سیو سینا 13سپا 13اور دیگر 8پارٹیوں کے ہیں بی جے ڈی 7اور ٹی آر سی 6ملزمان کوٹکٹ دے چکی ہے ۔572ملزمان کو ٹکٹ ملا تھا اور 19ایم پی اور 126ممبر اسمبلی چناو ¿ جیت کر ایوان میں پہونچے ملزمان کے لوک سبھا ٹکٹ پانے والے ملزمان میں 2009سے 2019میں 231فیصد اضافہ ہوا ہے حالیہ جھارکھنڈ اسمبلی چناو ¿ 81ممبران میں سے44جیت کر آئے ہیں یعنی 54فیصد۔ممبرا ن اسمبلی نے اپنے اوپر ملزمانہ مقدمہ کے بارے میں بتایا ہے ان میں آبر ریزی قتل ،اقدام قتل ،اغوا عورتوں کے اوپر مظالم وغیرہ سے متعلق الزامات شامل ہیں ۔یہ رپورٹ جھارکھنڈ الیکشن واچ اور اے ڈی آر نے مل کر سبھی نئے منتخب ممبران اسمبلی کے حلف ناموں پر کا تجزیہ کرکے رپورٹ جاری کی اس لحاظ سے اس بارممبران کی تعداد میں 68فیصدی کمی آئی ہے اس بار دو ممبر اسمبلی ایسے چنے گئے جو کسی نہ کسی جرم میں قصوروار ثابت کئے جا چکے ہیں ان دونوں کے حلف نامہ کے مطابق قتل کے الزامات ہیں جبکہ 7کے خلاف اقدام قتل کے مقدمہ درج ہیں ۔اس طرح 5ممبران اسمبلی نے جو جانکاری دی ہے ان کے خلاف عورتوں پر ظلم کے مقدمہ چل رہے ہیں ان میں سے دو نے بتایا کہ ان کےخلاف آبر و ریزی کامقدمہ بھی چل رہا ہے ۔جب ہمارے ایم پی اور ممبر اسمبلی خود مجرمانہ نظریہ کے ہوں تو ان سے کسی طرح کی کیاامید کی جاسکتی ہے تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس معاملے میںساری پارٹیاں اس حمام میں ننگی ہیں۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2019

!فارمولا ون ،کرکٹ اسٹیڈیم کا پلاٹ الاٹمینٹ کینسل

کریٹر نوئیڈا میں واقع جے پی اسپورٹ سٹی کا الارٹ مینٹ منسوخ کردیا گیا یہ الاٹمینٹ منسوخ کئے جانے کا فیصلہ سنیچر کو یمنا اتھارٹی کے 66ویں بورڈ میٹنگ میں لیا گیا ۔جے پی اسوسی ایٹس پر اتھارٹی سمیت بائرس کا 864کرو ڑ روپیا بقایا ہے جس کے لئے جمنا اتھارٹی نے جے پی اسوسی ایٹس اور اس کی معاون کمپنیوں کو نوٹس دیا تھا ۔جے پی اسپورٹس سٹی میں انٹرنیشنل سرکٹ بھی ہے جس پر گزشتہ تین بار فارمولا ون ریس نکالی گئی تھی اس کے علاوہ یہاں انٹرنیشنل اسٹیڈیم و ہاکی اسٹیڈیم بھی بنانے کی تجویز ہے ۔اتھارٹی نے کمپنی کو ایس ای زیڈ پروجیکٹ کے تحت ایک ہزار پندرہ ایکڑ زمین الاٹ کی تھی جس میں جے پی اور دیگر کمپنیوں کو 1500ایکڑ زمین بیچ چکی ہے ۔کمپنی پر رقم بقایا ہے کئی بار نوٹس جاری کرنے باد بھی کمپنی پیسہ جمع نہیں کر رہی تھی 30جون کو جمنااتھارٹی بورڈ کی میٹنگ میں ایک مہینہ کی مہولت دی گی تھی اور خبر دار کیا گیاتھا ایک ماہ کے اندر پیشہ نا جمع کرنے پر زمین کی الاٹ مینٹ منسوخ کر دی جائے گی اس وارننگ کے باد جے پی گروپ نے 100کروڑ روپئے اتھارٹی میں جمع کرادئے اس کے بعد الاٹ مینٹ منسوخ نہیں کیا گیا تھا ۔ایس ڈی زیڈ کابقایا جمع کرنے کیلئے باقی رقم کیلئے مہولت دی گئی تھی لیکن وہ جمع نہیں کی جس وجہ سے زمین کا الاٹ مینٹ کینسل کر دیا گیا یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ اتنی شاندار اسپورٹس فیسلٹی کا پیشوں کے قلت کے سبب یہ حالت ہو رہی ہے پورے دیش میں ایک ہی فارمولا ون سرکٹ ہے اور یہاں تین بار بین الاقوامی سطح کے ریس فارمولا ون ہو چکی ہے اس بدھ سرکٹ کو میں نے بھی دیکھا ہے امید کی جاتی ہے کہ اس کی دیکھ بھال کا پورا انتظام پروفیشنلی طور پر ہینڈل کیا جائے گا ۔ہمیں ہرحالت میں اسپورٹس کمپلیکس کی اچھے سے دیکھ بھال کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)

!چناو ¿ کا ذکرکئے بغیر دہلی کو بھانپ گئے مودی

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دہلی میں سی بی ایس ای کے امتحان کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی یہ بھی طے ہوجائےگا کہ دہلی کے اسمبلی چناو ¿ 15فروری سے پہلے ہی ہو سکتے ہیں ۔واضح ہو کہ 15فروری سے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان ہونے جارہے ہیں سیاسی گلیاروںمیں قیاس آرائیاںشروع ہو گئی ہیں ۔چناو ¿ کمیشن امتحان کے درمیان میں کبھی بھی کرواسکتی ہے دلیل یہ بھی ہے کہ چناو ¿ کے شور و غل میںبچے پڑھائی سے پریشان ہوتے ہیں ایسے میںطے ہے چناو ¿ امتحان سے پہلے ہی ہوںگے امکان ہے چناو ¿ کمیشن جنوری کے پہلے ہفتہ میں دہلی اسمبلی چناو ¿ کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے بھاجپا نے چناو ¿ مہم شروع کردی ہے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو رام لیلا میدان میں اپنی ریلی میں ایک طرح سے اسمبلی چناو ¿ کیلئے چناو ¿ مہم کا آغاز مانا جارہا ہے مودی نے پارٹی کاایجنڈہ بھی طے کر دیا ہے وہ ہے ناجائز کالونیوں کے پکہ کرنے کا معاملہ دہلی کے چالیس لاکھ لوگوںسے جڑاہے اورپارٹی ان میںووٹ ملنے کی امید لگائے ہوئے ہے اس کے ساتھ ہی شہریت ترمیم قانون اور اسے لیکر مخالف پارٹیوں کے روئیے کو بھی چناوی اشو بنانے کے اشارے ہیں۔ان دونوں اشوز کو رفتار دینے کے ساتھ دہلی میں آلودہ پانی کا مسئلہ بھی پارٹی زور و شور سے اٹھائے گی اور انہوںنے ریلی میں بھی اس کا ذکر کیاتھا اور شہریوں کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی تھی۔شہریت قانون پر بولتے ہوئے مودی نے کئی بار دہلی کے اشوز پر بات کی اور کچی کالونیوں کو مالکانہ حق دینے کے ساتھ دہلی میں آلودگی ،پانی ،میٹرو اور ٹرانسپورٹ پر اپنی بات رکھی ۔وزیر اعظم نے اشاروں اشاروں میں دہلی سرکار اور اروندرکیجریوال پر بغیر نام لئے نکتہ چینی کی انہوں نے دہلی کے اہم اشو ز کو تو اٹھایا لیکن کیجریوال کا نام نہیں لیا دہلی اسمبلی چناو ¿ میں بھاجپا کی امیدیں اپنی مرکزی لیڈر شپ پر منحصر ہیں 21سال سے بھاجپا دہلی کے اقتدار سے باہر ہے لمبا بنواس ختم کرنے کیلئے بھاجپا نے دہلی کی سیاست میں کچی کالونیوں کا داو ¿ چلا ہے ۔انہوں نے اسمبلی چناو ¿ پر کوئی بات نہیں کی صرف پانی ،ٹرانسپورٹ جیسے معاملے اٹھا کر دہلی کے شہریو ں کی نبض پر ہاتھ رکھا انہوں نے دہلی پولس کے جوانوں کی بھی تعریف کی اور جس سے جوانوں کا حوصلہ بڑھ گیا کئی پولس ملازمین نے تقریر کے کچھ حصے واٹسپ کے ڈی پی میں بھی لگادئے ۔بحرحال دہلی میں مودی کی ریلی سے ایک طرح سے دہلی اسمبلی کے چناو ¿ کیلئے بھاجپا کی درپردہ چناو ¿ مہم کا آغاز مانا جاسکتاہے۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2019

ہریانہ میں ڈینٹ ،مہاراشٹر میں ڈیمج اور جھارکھنڈ میں ہار

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبر م نے ضمانت کے باد جھارکھنڈ میں میڈیا سے بات چیت میںدعویٰ کیا تھا ہریانہ میں ہم نے ڈینٹ دیا مہاراشٹر میں ڈیمج کیا اور جھارکھنڈ میں یقینی طور پر بھاجپا کو ہرا دیا اب چناو ¿ نتائج میں چدمبرم کی اس بڑی پیش گوئی کو صحیح ثابت کر دیا ہریانہ میں بھاجپا نے جوڑ توڑ کر سرکار ضرور بنا لی لیکن اس شچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پچھلے دو ماہ میں تین ریاستوں میں ہوئے چناو ¿ نتائج نے بھاجپا کو بڑا جھٹکا دیا ۔جھارکھنڈ کے چناو ¿ نتائج کا جھٹکا دہلی تک صاف محسوس کیا اب مانا جا رہا ہے کہ دہلی میں اگلے برس ہونے والے چناو ¿ پر بھی اس کا سیدھا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے جھارکھنڈ میں بھاجپا نے اپنی پوری طاقت جھونک دی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی متعدد ریلیوں کے ساتھ ساتھ تمام وزراءنے ایک ماہ جھارکھنڈ میں اپنا کیمپ آفس بنایا ہوا تھا لیکن نتائج توقع کے مطابق نہیں آئے پانچ مرحلوں میں ہوئے چناو ¿ میں بھاجپا نے تقریباً ہر اسٹیج پر جموں کشمیر سے 370ہٹانے تین طلاق ایودھیا میں وشال مندر بنانے کی تعمیر کا ذکر کرنے کے ساتھ آخری دو مرحلوں میںشہریت ترمیم قانون کو اشو بنایا لیکن وہ کام نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوا کہ ان بھاری بھرکم اشو نے جھارکھنڈ کے مقامی اشوز کو دبا دیا وکاس کے اجنڈے سے شروع ہوئی لڑائی کا موضوع تبدیل ہونے کا منفی اثر دیکھا گیا ۔جنتا نے تبدیلی کو چنا 2017کے باد سے جھارکھنڈ ساتویں ایسی ریاست ہے جو بھاجپا کے ہاتھو ں سے نکلی ہے ۔دسمبر 2017میں بھاجپا و این ڈی اے کی ان ریاستوںمیں سرکار تھی تب 72سے 75فیصدی ہندوستان پر بھگوا جھنڈا لہرا رہا تھا دسمبر 2019آتے آتے 15ریاستوں میں ہی بھاجپا این ڈی اے کی سرکاریں بچی ہیں حالانکہ کرناٹک میجورم تری پورہ ،میگھالیہ میں حکومت بنائی تھی ان میں کرناٹک بڑی ریاست ہے ۔بھاجپا کا مشن پھیل ہونے کے کئی اسباب رہے ہیں ان میں رگو بھر داس سے لوگوں کی ناراضگی اور غیر قبائلی چہرہ مسترد ہوا ۔سریو رام جیسے نیتاو ¿ں کو نظر انداز کیاگیا اندر کھانے دل بدل لیڈروں پر بھی بھروسہ ۔آجسو سے بیس سال پرانی دوستی ٹوٹنا اپوزیشن کا توڑ نہیںنکال پائے مقامی اشو وکاس کے قومی نعرے پر بھاری پڑے زمین اکیوائر و کاشت کاری قانون پر حکومت کا لچر رویہ ۔رام مندر شہریت قانون کی مخالفت بھاجپا کو بھاری پڑی جے ایم ایم ،آر جے ڈی و کانگریس اتحاد نے متحد ہو کر چناو ¿ لڑا بھاجپا اکیلی پڑ گئی نریندر مودی کا کرشمہ کام نہیں آیا غرور اور زیادہ ہی اعتماد بھاجپا کو لے ڈوبا۔
(انل نریندر)

!ہماری سبھی آندولن کاریوں سے نرم گو اپیل

شہریت قانون و این آرسی کے خلاف احتجاج کی جو شکل دیکھنے کو مل رہی ہے وہ احتجاج تو نہیں ہے جس سے پبلک پراپرٹی کو جلایا جا رہا ہے ،نقصان پہونچایا جا رہا ہے وہ آپ کی اور ہماری گاڑھی کمائی سے ہی نہیں ہے بلکہ ایک اچھا دیش بنانے کیلئے ہے اس لعنت سے باہرنکلنے ،پرا من احتجاج بنائے رکھنے صبر سے کام لینے اور شورش پشند عناصر کے تشدد کے ارادوں کو ہراناہوگا ۔جمہوریت میں اختلافات ظاہر کرنا یا سرکار کے کسی فیصلہ کی مخالفت کرنا عوام کا بنیادی حق مانا جاتا ہے لیکن دیش میں کئی حصوں میں ہو رہے تشدد کے واقعات تو خوف پیدا کرنے والے ہیں ہی لیکن ملکی مفاد اور جمہوری اقدار کےخلاف ہیں جمہوریت میں اگر ہمیں نا اتفاقی ظاہر کرنے کا حق ملاہے تو اس کے ساتھ ذمہ داریوں سے بھی بندھا ہوا ہے بغیر ذمہ داری کے حق خطرناک ہوجاتا ہے ۔آخر یہ کون سی تحریک ہے جس میں پولس چوکیاں جلائی جارہی ہیں اینٹ پتھروں سے حملے ہو رہے ہیں ،پٹرول پمپ پھینکے جارہے ہیں ،گاڑیاں جلائی جارہی ہیں ؟اس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ہمت کرنےوالے کون ہیں ؟اس کے پیچھے کون سازش رچ رہے ہیں؟ان سوالوں کا جواب موٹا موٹا سب کو معلوم ہے لیکن انہیں سامنے لانا سرکاروں کا کام ہے ۔سپریم کورٹ کی گائڈ لائن صاف ہے پبلک پراپرٹی کے نقصان ہونے کی صورت میں ساری ذمہ داری نقصان کرنے والے ملزم کی ہوگی ۔ملز م کو خوداپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے تک کورٹ اس کو ذمہ دار مانے گی ۔نریمن کمیٹی نے کہا تھا کہ ایسے معاملوں میں بلوائیوں سے پبلک پراپرٹی کو نقصان کا ہرجانہ وصولے گی جمہوریت میں انتظامیہ کو ماضی گزشتہ میں غچا دے کر دھرنا مظاہرے سے کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اس کے جواز پر سوال ضرور اٹھے گا لیکن آگ کے شعلے ،آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دھویں ،سڑکوں پر بکھرے اینٹ پتھر ،ٹوٹے ہوئے شیشہ کے ٹکڑے اور گاڑیوں سے کہیں کہیں قابل اعتراض نعرے یہ دوسرے ہی اشارے دے رہے ہیں ۔احمدآ باد میں جس طرح بھیڑ چار پانچ پولس والوں پر اندھا دھند پتھر برسا رہی ہے ۔دہلی کے سیلم پور میں پولس والوں کو بھگا بھگا کر پیٹا گیا وہ کسی مہذب تحریک کی تصویر پیش نہیں کرتی ۔صاف ہے کہ کچھ غیر سماجی عناصر اس کے پیچھے ہیں تشدد کی پوری تیاری پہلے سے ہی کرلی گئی تھی ہوسکتاہے کچھ دیش مخالف عناصر بھی وقت کا فائدہ اٹھانے کی سازش رچ رہے ہوں جو لوگ آندولن کے نام پر آگ زنی اور تشدد کررہے ہیں ان کے ساتھ قانون ویسا ہی برطاو ¿ کرے گا جیسا جرائم پیشہ سے کیا جاتا ہے ۔ہم سبھی آندولن کاریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پر امن مظاہرہ اور دھرنا دیں تشدد کا سہارا نا لیں اپنی بات سنجیدگی سے کہیں تاکہ سرکار آپ کی بات سننے پر مجبور ہوں۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2019

کس کو صحیح مانیں پی ایم یا وزیرداخلہ کو ؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے رام لیلا میدان میں اتوار کے روز ایک بڑی ریلی سے خطاب میں ایک تیر سے کئی نشانے لگائے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لوگوںمیں ڈر پھیلانے اور شہریت ترمیم قانون پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت نے اسکیموں میں کبھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا گیا شہریت قانون اور این آرسی کا ہندوستانی مسلمانوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں ایک ایسی بات کہہ گئے جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے انہوں نے ریلی سے خطاب میں لوگوں سے کہا کہ ان کی سرکار میں این آرسی کو لیکرابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کیو نیٹ میں اس کا کوئی ذکرآیا ہے اورنہ ہی اس کا کوئی خاکہ تیار ہوا ہے اسلئے بھارت میں مسلمانوں کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وزیر اعظم کا یہ بیان وزیر داخلہ کے بیانات سے بالکل الٹ ہے ان کا یہ بیان اسلئے بھی اہم ہے کیونکہ امت شاہ اور کچھ سینئر وزیر کئی موقعوں پر پورے دیش میں این آر سی لاگو کئے جانے کی بات کہہ چکے ہیں ۔یہاں تک کہ صدر خطاب میں بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے یعنی بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی یہ اشو اٹھ چکا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کس کی بات صحیح مانی جائے ۔یا وزیر اعظم کی جو ایک چناو ¿ ریلی میں بھی یہ کہہ چکے ہیں یا پھر وزیر داخلہ کے پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان کو ؟مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے این آر سی کے مجوزہ ملک گیز سطح پر لاگو کرنے پر پبلک طور سے وزیر داخلہ کے موقف سے بالکل برعکس بیان دیا ہے انہوں نے کہا شہریت ترمیم ایکٹ اور این آر سی پر امت شاہ اور مودی کے بیانات سب کے سامنے ہیں اور بھارت کی جنتا طے کرے کون صحیح ہے کون غلط ؟شہریت ترمیم قانون اور شہریت رجسٹریشن (این آر سی ) کے خلاف اتوار کو دئے گئے مودی کے بیان پر سیتا رام یچوری نے این آر سی سے وابستہ پی ایم کے بیان پر سوال کھڑا کیا جب این آر سی کیبنیٹ میں کوئی اشو نہیں ہے تو پھر وزیر داخلہ امت شاہ اسے لاگو کرنے کا بیان کیوں دے رہے ہیں ؟کانگریس نے بھی پی ایم پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان خوف اور بے یقینی کا ماحول بنا رہا ہے۔کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے کہا کہ امت شاہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سی اے اے کے بعد پورے دیش میں این آر سی لاگو کرنے کا بیان دیا تھا اسی طرح بھاجپا کے کئی وزیر اعلیٰ اور سینئر مرکزی وزراءنے این آر سی کو پورے دیش میں لاگو کرنے کی بات کہی انہوں نے کہا پی ایم کانگریس پر الزام لگا رہے ہیں تو پھر سرکار اس کا جواب کیوں نہیں دے رہی آسام سمیت نارتھ ایسٹ کی ریاستوںمیں اتنا خطرناک احتجاج کیوں ہو رہا ہے وہاں تو بھاجپا کی سرکاریں ہیں ؟
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...