Translater

17 فروری 2018

ان جانباز جوانوں پر ہمیں فخر ہے

جموں کے سنجوان آرمی کیمپ پر حملہ کے دوران دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے دیش کے بہادر جوانوں کے ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ قصہ سامنے آرہے ہیں۔ حملہ میں میجر ابھیجیت اس قدر زخمی ہوگئے تھے کہ انہیں تین چار دن تک باہری دنیا کی کوئی خبر نہیں رہی۔ آپریشن کے بعد ہوش میں آتے ہی بھارت کے اس بہادر لال کا پہلا سوال تھا آتنکیوں کا کیا ہوا؟ میجر ابھیجیت کا علاج اودھم پور کے آرمی اسپتال میں چل رہا ہے۔ اسپتال کے کمانڈینٹ میجر جنرل نودیپ نتھانی نے کہا کہ ابھیجیت کا حوصلہ کافی اونچا ہے۔ زخمی میجر واپس ڈیوٹی پر جانے کے لئے بے چین ہے۔ سنجوان حملہ میں شہید ہوئے پانچ فوجیوں میں ایک ایسا جوان بھی تھا جس نے بغیر ہتھیار کے ہی بزدل آتنکوادیوں سے لوہا لیا اور شہید ہونے سے پہلے اپنے خاندان سمیت نہ جانے کتنے لوگوں کی جان بچائی اے کے۔47 رائفل گرینیڈ اور دیگر خطرناک ہتھیاروں سے پوری طرح لیس ہوکر آئے آتنکیوں سے وہ اکیلے اور نہتے ہی بھڑگئے۔ سینہ و جسم کے کئی حصہ آتنک وادیوں کی گولیوں سے چھلنی ہوگئے۔دیش بھکتی میں ڈوبا خون کا ایک ایک قطرہ بہہ گیا لیکن آتنک وادیوں کو آخری سانس تک روکے رکھا۔ اپنے کنبہ کے ساتھ دیگر کئی فوجی خاندانوں کی جان بچا کر وہ جانباز شہید ہوگیا۔ یہ قربانی کی کہانی سنیچر کو فدائین حملہ میں شہید ہوئے جموں و کشمیر کے کٹھوا کے صوبیدار مدن لال (50 سال) کی ہے۔ شہید کا خاندان ملٹری اسٹیشن سنجوان میں واقع ان کے کوارٹر میں آیا تھا۔ مدن لال کے بھتیجے کی شادی کے لئے وہ شاپنگ کرنے کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے تبھی فدائین حملہ ہوا۔ رہائشی علاقہ میں گھسے آتنکی صوبیدار مدن لال کے کوارٹر کی طرف بڑھے تب مدن لال کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ آتنکی آتنکوادیوں نے ان پر اے کے ۔47 سے گولیاں برسانی شروع کردیں۔ شہید ہونے سے پہلے ان کی حتی الامکان کوشش رہی کہ ان کا خاندان پچھلے گیٹ سے باہر نکل جائے حالانکہ اس میں ان کی 20 سالہ بیٹی نیہا کی ٹانگ میں گولی لگ گئی۔ سالی پرمجیت کور کو بھی معمولی چوٹیں آئیں لیکن وہ وہاں سے بچ پانے میں کامیاب ہوگئیں۔ شہیدمدن لال اگر کچھ دیر آتنک وادیوں کو روکے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو کچھ اور لوگوں کی جان چلی جاتی۔ مدن لال کے بھائی سریندر کہتے ہیں کہ مجھے اپنے چھوٹے بھائی پر فخر ہے جو اپنے خاندان کوبچانے کیلئے آخری دم تک آتنک وادیوں سے لوہا لیتا رہا۔ ہم بہادر شہیدوں کو شردھانجلی پیش کرتے ہیں۔ جے ہند۔
(انل نریندر)

ایرانی صدر روحانی کے دورہ ہند کی اہمیت

ایران کے صدر حسن روحانی جمعرات کو سہ روزہ دورہ ہند پر حیدر آباد آئے۔ بیگم پیٹ ایئرپورٹ پر روحانی کا شاندار استقبال کیا گیا۔روحانی حیدر آباد دوسری مرتبہ آئے ہیں لیکن صدر بننے کے بعد وہ پہلی بار تشریف لائے۔ ایران کے صدر کے اس دورہ میں چابہار بندرگاہ، بھارت۔ ایران کے درمیان کھیل کاروبار سمیت کئی دوسرے اقتصادی امور پر بات ہونے کی امید ہے۔ ایران بھارت کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا بڑا دیش ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم سیاسی پس منظر سے دیکھیں تو بھارت اور ایران، افغانستان میں اتحاد ی رول رہا ہے لیکن اب امریکہ نے ایران کے خلاف جو رخ اپنایا ہے تو ایسے میں بھارت کو پھونک پھونک کر قدم بڑھانا ہوگا تاکہ دونوں ملکوں سے بھارت کا توازن بنا رہے ساتھ ہی بھارت کا رخ فلسطین اور ااسرائیل کو لیکر ایران سے الگ رہا ہے وہیں سعودی عرب میں بھارت امریکہ کے قدم کے ساتھ دکھائی پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر خارجہ ڈپلومیسی کو دیکھیں تو دونوں دیشوں کے درمیان بہت سے سوال موجود ہیں اس لئے فی الحال تو اس دورہ سے ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بڑا سیاسی قدم اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ منموہن سنگھ کے عہد میں ایک وقت بھارت اور ایران کے رشتے کافی نازک موڑ پر آگئے تھے۔ اس وقت ایران کو بھارت کی بہت ضرورت تھی لیکن اب مشرقی وسطی میں جو حالات ہیں ان میں ایران بھارت پر بہت زیادہ منحصر نہیں کرتا اس لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ بھارت کو تیل کے علاوہ ایران کی کتنی زیادہ ضرورت ہے ۔ فی الحال تو پچھلے ایک سال سے بھارت کی خارجہ پالیسی امریکہ پرمرکوز ہوگئی ہے۔ ایسے میں ایران کا رول ابھی تک واضح نہیں ہے۔ 1970 سے 1980 کی دہائی میں بھارت اور ایران کے درمیان اپنی ٹھوس خارجہ پالیسی تھی اور ایران ایسا دیش رہا ہے جو کشمیر پر کبھی زیادہ نہیں بولتا تھا یہاں تک کہ جو اسلامی ملک کشمیر کے لئے کوئی ریزولوشن پاس ہوتے تھے تب بھی ایران کا رخ بھارت حمایتی رہتا تھا۔ اس کے بعد منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران بھارت۔ امریکہ کے درمیان قریبی رشتے بننے سے ایران اور بھارت کی دوری بننے لگی۔ بھارت اور ایران دوستی کا سب سے بڑا مضبوط ہے چابہار۔ ایسے میں دیکھیں تو بھارت کو لیکر ایران کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق آیا ہے۔ بھارت کا ایران سے تیل سپلائی کا رشتہ ہے کیونکہ وہ بھارت کو سستا تیل مہیا کرواتا ہے۔ وہیں ایران کو بھارت کی شکل میں ایک جمہوری دیش کی حمایت کی ضرورت ہے۔ صدر روحانی کی آمد کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

16 فروری 2018

عام آدمی پارٹی کا تین سالہ عہد

عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت کو تین سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان تین برسوں میں دہلی سرکار کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی بھی کئی اتار چڑھاؤ کے دور سے گزری ہے۔ سرکار کے تین سال پورے ہونے کے موقعہ پر حکمراں فریق اور اپوزیشن دونوں نے تگڑی سیاسی مورچہ بندی کی ہے۔ سرکار کے کام کاج کو لیکر اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینے کے لئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے خود ہی مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ 2015 میں عاپ نے تاریخی اکثریت کے ساتھ دہلی کا اقتدار حاصل کیا تھا۔ ایک طرف جہاں عام آدمی پارٹی ایک کے بعد ایک ٹوئٹ کر اپنے کارنامے گنا رہی ہے وہیں بھاجپا اور کانگریس بھی ٹوئٹ سے سرکار کوگھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ٹوئٹ کر اپنی حصولیابیاں گناتے ہوئے کہا کہ ہم نے بجلی کمپنیوں کی سی اے جی جانچ کرائے ، جس سے کمپنیوں میں کھلبلی مچ گئی ساتھ ہی کہا کہ ہم نے بل میں 50 فیصدی کی کٹوتی کی۔ بجلی گھنٹوں کٹوتی کو بند کردیا اور بجلی کمپنیوں پر جرمانہ لگایا گیا۔ تین سال میں بجلی کے داموں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ 750 لیٹر پانی مفت کر منشور میں دیا گیا وعدہ پورا کیا۔ تعلیم میں تبدیلی کی گئی۔ پرائیویٹ اسکولوں پر شکنجہ کسا گیا۔ ہیلتھ اسکیم لاگو کی۔ عام آدمی ہیلتھ کارڈ بھی بنے گا۔ ڈور اسٹیپ یوجنا کو منظوری ملی۔ 40 یوجناؤں میں فائدہ واقف کاروں کا کہنا ہے ابتدائی دو سال میں دہلی کی سرکار اور عاپ کی ساکھ کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا تیسرے سال میں ہوا، خاص طور پر پنجاب اور گووا چناؤ کے بعد۔ پنجاب سے پہلے عام آدمی پارٹی دہلی کو لیکر بے فکر تھی یہ فکری کہیں نہ کہیں ایم سی ڈی چناؤ میں بھاری پڑتی دکھائی دی۔ چناؤ آتے آتے پارٹی کے اندر اندرونی رسہ کشی بڑھ گئی اور پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کو اس کا احساس ہوگیا ۔ جس کے بعد کیجریوال نے خود دہلی کے میدان میں اتر کر مورچہ سنبھالا۔ لیکن توقع کے حساب سے نتیجہ حاصل نہیں کرپائے۔ ایم سی ڈی چناؤ میں ہوئی ہار کے بعد سے پارٹی کے اندر جو اتھل پتھل شروع ہوئی تھی وہ ابھی تک بھی خاموش نہیں ہوسکی۔ پارٹی دو خیموں میں بٹتی دکھائی دی۔ کمار وشواس اور کچھ دیگر نیتاؤں کے درمیان جو اختلافات تھے وہ ابھر کر سامنے آگئے۔ ان تین برسوں میں کیجریوال حکومت کئی تنازعوں میں پھنسی رہی۔ تین برس سے لگاتار سرکار اور دہلی کے ایل جی کے درمیان ٹکراؤ رہا۔ ٹیچروں کی بھرتی کا معاملہ ہو یا ہیلتھ سروسز کا معاملہ ہو سرکار بننے کے ساتھ ہی وزرا کو لیکر تنازعات شروع ہوگئے۔ اسٹنگ آپریشن سے لیکر فرضی ڈگری کے الزام میں منتریوں پر جو الزام لگے اس معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے چار وزرا کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ سرکار میں پارلیمنٹری سکریٹری کے معاملہ میں جم کر تنازع کھڑا ہوا۔ چناؤ کمیشن نے 20 ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دے دیا۔ صدر نے بھی اس پر اپنی مہر لگادی۔ اب معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں چل رہاہے۔ کئی معاملوں میں سرکار اور افسروں کے درمیان تنازع سطح پر آگیا ہے۔ اسے لیکر وزیراعلی کئی بار اپنے اعتراض جتا چکے ہیں۔ تازہ معاملہ وزیر اعلی کے سندیش پر افسروں نے اپنی رضامندی نہیں دی۔ 
عام آدمی سرکار بار بار سی بی آئی کے بیجا استعمال کے الزام لگاتی رہی ہے۔ پچھلے برس ستیندر جین کو لیکر سی بی آئی جانچ ہوئی۔ پہلے ان کے خلاف معاملہ درج ہوا اور پھر جانچ ہوئی۔ پچھلے دنوں سی بی آئی کے ایک چھاپہ میں ستیندر جین سے وابستہ دستاویزات ملنے کا دعوی کیا گیا۔ حالانکہ سرکار اس سے انکار کرتی رہی۔ امید ہے کہ عام آدمی پارٹی کو اتنا تو سمجھ میں آگیا ہے کہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ اندازہ تھا کہ پارٹی کے معیار میں تھوڑی گرواٹ آئے گی جو اینٹی کمبینسی کی وجہ سے فطری مانی جارہی تھی لیکن کمار وشواس، کپل مشرا اور ستیندر جین معاملہ جس طرح سے سرخیوں میں رہا اس سے پارٹی کی مقبولیت کو کچھ زیادہ نقصان ہوا ہے۔ پارٹی کو یہ بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ اپنی ساکھ بچانے کے لئے اسے دہلی پر ہی پورا زور لگانا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے ابھی سے آنے والے چناؤ کی تیاری شروع کرتے ہوئے رابطہ اور تنظیم کو مضبوط کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار کی مخالفت میں دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کا میدان میں اترنا بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ لمبے عرصے کے بعد شیلا جی پردیش پردھان اجے ماکن کے ساتھ میڈیا سے روبرو ہوئیں ان کے ساتھ ان کی سرکار میں وزیر رہے تمام نیتاؤں کے علاوہ دہلی کانگریس کے تمام بڑے لیڈر موجود تھے۔ سمجھا جارہا ہے کہ متحد ہوکر عام آدمی پارٹی سے نمٹنے کی حکمت عملی کے تحت کانگریس کے کئی نیتا ایک اسٹیج پر اکھٹے ہورہے ہیں۔ ادھر بھاجپا نیتا وجیندر گپتا کا کہنا ہے تین برسوں میں 67 سیٹوں کا ریکارڈ اکثریت سمٹ کر 42 سیٹوں کا رہ گیا ہے۔ اسکول ، اسپتالو سڑک خدمات میں بہتری نہیں آئی۔ سرکار کے چار وزرا کو مختلف الزامات کی وجہ سے ان کے عہدوں سے ہٹنا پڑا ہے۔ پارٹی وزیر ستیندر جین جیل جانے کی تیاری میں ہیں۔ دہلی سرکار عورتوں کو سلامتی مہیا کرانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
(انل نریندر)

15 فروری 2018

موہن بھاگوت کے بیان پرسیاسی واویلا

آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کا فوج پر کئے گئے تبصرے سے سیاسی واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ بھاگوت نے مظفر پور میں کہا تھا کہ ہماری ملٹری تنظیم نہیں ہے۔ ملٹری جیسا ڈسپلن ہمارا ہے۔اگر دیش کو ضرورت پڑے اور دیش کا آئین ۔ قانون کہے تو فوج تیار کرنے کو چھ سات مہینے لگ جائیں گے۔ آر ایس ایس رضاکاروں کو لیں گے اور تین دن میں وہ تیار ہوجائیں گے یہ ہماری صلاحیت ہے لیکن ہم ملٹری سنگٹھن بھی نہیں ہیں، ہم تو ایک کنبہ جاتی تنظیم ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھاگوت کے بیان کو فوج اور ترنگے کی توہین قراردیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ۔وہیں کانگریس نے بھاگوت کی جانب سے دیش اور فوج سے معافی کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں پرائیویٹ ملیشیا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں کانگریس نیتا آنند شرما نے وزیر اعظم نریندر مودی سے پوزیشن صاف کرنے کوکہا ہے۔ بھاگوت کا بیان چونکانے والا ہے۔ ایسے بیان سے ہماری فوج کا حوصلہ کمزور ہوتا ہے۔ بھارت کی فوج دنیا کی سب سے بڑی افواج میں سے ہے جس نے آزادی کے بعد تاریخی جنگیں لڑی ہیں۔ اس میں پاک فوج کا سرنڈر اور بنگلہ دیش کی آزادی شامل ہے۔ فوج نے ہماری سرحدوں کو محفوظ رکھا ہے اور ایسے وقت میں جب ہم بڑی چنوتی اور فوجی اڈوں پر حملوں کا سامنا کررہے ہیں تو بھاگوت نے تو ہماری فوج کی صلاحیت اور بہادری پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ بھاگوت کے بیان پر تنازع ہوتا دیکھ سنگھ کی جانب سے صفائی پیش کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھاگوت نے فوج اور آر ایس ایس رضاکاروں کے درمیان کوئی موازنہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ رضاکار اور عام لوگوں کے درمیان کا موازنہ تھا۔ سنگھ کے آل انڈیا کمپین چیف منموہن وید نے کہا سرسنگھ چالک کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ۔ وید نے کہا کہ یہ فوج کے ساتھ موازنہ نہیں تھا بلکہ عام سماج اور رضاکاروں کے درمیان تھا۔ ادھر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بھاگوت کا اشاروں اشاروں میں بچاؤ کیا۔ انہوں نے کہا اگر کوئی تنظیم یہ کہتی ہے کہ وہ دیش کی سلامتی کرنے کو بے چین ہے تو کیا یہ تنازعہ کا موضوع ہے؟ مرکزی وزیر مملکت داخلہ کرن ریججو نے ٹوئٹ کر کہا کہ ہماری فوج کی شان ہے ایمرجنسی کی دور میں ہر ہندوستانی کو سیکورٹی فورس کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے خود آگے آنا چاہئے۔ بھاگوت نے نہ صرف یہ کہا کہ ایک شخص کو فوجی کے طور پر تیار ہونے میں چھ یا سات مہینے لگتے ہیں اگر آئین اجازت دیتا تو سنگھ کے کاڈر میں تعاون دینے کی صلاحیت ہے۔ سنگھ چیف کے بیان پر یہ پہلا تنازعہ نہیں ہے وہ پہلے بھی ایسے متنازع بیان دیتے رہے ہیں۔ ایسے وقت جب جموں و کشمیر میں جنگ کے حالات بنے ہوئے ہیں موہن بھاگوت کو ایسے بیانوں سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

آئی ایس آئی کا ہنی ٹریپ

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو دیش سے وابستہ خفیہ اطلاعات دینے کے الزام میں انڈین ایئرفورس گروپ کے کیپٹن کی گرفتاری چونکانے والی ہے۔ ویسے تو بھارت۔ پاکستان دونوں ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے رہتے ہیں لیکن جب اپنے ہی دیش کا کوئی شخص دشمن کے لئے جاسوسی کرتا پکڑا جائے تب حالت اور بھی مشکل بھری ہوتی ہے جب پکڑا جانے والا شخص فوج کا ہی کوئی افسر ہو۔ انڈین ائیرفورس گروپ کے کیپٹن ارون ماروا کی گرفتاری اسی لحاظ سے پریشان کن خبر ہے اور چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ ایئرفورس کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات اس افسر کو پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے جس طرح اپنے جال میں پھنسایا اس سے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ فو ج کو لالچ دینے کیلئے حسیناؤں کے استعمال کی کہانیاں ہم سنتے آئے ہیں لیکن اس بار کوئی حسینہ نہیں بلکہ اس بار عورتوں کے نام پر بنی نقلی آئی ڈی تھی۔ عدالت کے سامنے پولیس نے بتایا کہ کچھ مہینے پہلے ایئرفورس کے گروپ کیپٹن ارون ماروا ترویندرم گئے تھے وہیں آئی ایس آئی کے خفیہ ایجنٹ نے لڑکی بن کر فیس بک پر ان سے دوستی کی تھی۔ اس کے بعد دونوں میں لگاتار فون پر چیٹنگ ہونے لگی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو فحاشی میسج بھیجے۔ لڑکی بنے آئی ایس آئی ایجنٹ نے سیکس چیٹ کے ذریعے ماروا کو جال میں پھنسا لیا۔ قریب 10 دن چلی چیٹ کے دوران ایجنٹ نے کیپٹن سے میٹھی میٹھی باتوں میں پوری طرح پھنسا کر اس سے کئی خفیہ دستاویز دینے کی مانگ کی تھی۔
ماروا نے کچھ خفیہ دستاویزوں کو تو مہیا کرادیا لیکن کچھ ہفتے بعد ایئرفورس کے ایک سینئر افسر کو ماروا کی اس حرکت کے بارے میں جانکاری ملی۔ افسر نے اس پر شعبہ جاتی جانچ بٹھا دی۔ جانچ کے دوران ارون ماروا کے جاسوسی میں ملوث پائے جانے کے بعد ایئرفورس کے سینئر افسر نے دہلی کے پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک سے اس کی شکایت کی۔ اور دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جمعرات کو اسے گرفتار کرلیا۔ ماروا نے پوچھ تاچھ کے دوران قبول کیا کہ ا س کا ایک پرانا ساتھی بھی اس میں شامل تھا۔ اس نییہ بھی اعتراف کیا کہ اس کا ساتھی مبینہ دو پاکستانی عورتوں کا سانجھہ دوست تھا جنہیں انہوں نے نئی سائبر جنگ سیکٹر اور خلا و خصوصی آپریشن کے بارے میں خفیہ اطلاعات لیک کی تھیں۔ ماروا نے یہ بھی مانا کہ انہوں نے عورتوں کو فیس بک پر ایئر فورس کی کارروائیوں کے بارے میں جانکاری دی۔ ہیڈ کوارٹر میں تعیناتی کے سبب کئی اہم اور خفیہ دستاویزوں تک ان کی پہنچ تھی۔
(انل نریندر)

14 فروری 2018

ابوظہبی میں پہلا ہندو مندر

یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کسی اسلامی ملک میں ہندو مندر بنے۔ لیکن متحدہ عرب امارات کی راجدھانی ابوظہبی میں مندر بننے جارہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی ایتوار کو ابوظہبی ۔دوبئی قومی شاہراہ پر وویاسنواسی شری اکشرپروشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) مندر کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے گواہ بنے۔ ابوظہبی میں اس پہلے ہندو مندر کے شیلانیاس پروگرام کا دوبئی اوپیرا ہاؤس میں سیدھا ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ یو اے ای حکومت نے ابوظہبی میں مندر بنانے کے لئے 20 ہزار مربع میٹر زمین دی تھی۔ حکومت نے سال2015 میں اس وقت یہ اعلان کیا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی دوروزہ دورہ پر وہاں گئے تھے۔ مندر ابوظہبی میں الوقبہ نام کی جگہ پر 20 ہزار مربع میٹر کی زمین پر بنے گا۔ ہائی وے سے ملحق یہ علاقہ الوقبہ ابوظہبی سے تقریباً 30 منٹ کی دوری پر واقع ہے۔ مندر کو بنانے کی مہم چھیڑنے والے بی آر شیٹی ہیں، جو ابوظہبی کے جانے مانے ہندوستانی کاروباری ہیں۔ وہ یو ایکسچینج نام کی کمپنی کے ایم ڈی اور سی ای او ہیں۔ ویسے تو مندر سال2017 کے آخر تک بن کر تیار ہوجانا تھا لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے تاخیرہوگئی۔ اب پی ایم نریندر مودی کے دورہ اور بھومی پوجن کے بعد مندر کی بنیاد رکھی گئی اور کام شروع ہوگیا۔ مندر میں کرشن ، شیو، ایپا ،وشنو کی مورتیاں ہوں گی۔ ایپّا کو وشنو کااوتار مانا جاتا ہے اور ساؤتھ انڈیا خاص کر کیرل میں ان کی پوجا ہوتی ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ مندر کافی بڑھیا اور بڑا ہوگا۔ اس میں ایک چھوٹا ورنداون یعنی باغیچہ اور فوارہ بھی ہوگا۔ مندر بننے کو لیکر ابوظہبی کے مقامی ہندوؤں میں جوش اور خوشی کا ماحول ہے۔ فی الحال انہیں پوجا یا شادی جیسی تقریب کرنے کے لئے دوبئی جانا پڑتا تھا اور اس میں تقریباً تین گھنٹے کا وقت لگتا تھا۔ دوبئی میں دو مندر (شیو اور کرشنا) کے علاوہ گورودوارہ پہلے سے موجود ہے لیکن ابوظہبی میں کوئی مندر نہیں ہے۔ ہندوستانی سفارتخانہ کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای میں تقریباً 26 لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں جو وہاں کی آبادی کا تقریباً 30 فیصدی حصہ ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ مندر صرف فن ثقافت اور عمدگی میں ہی خاص نہیں ہوگا بلکہ یہ دنیا بھر کے لوگوں کو واسو چھید کٹمبھ کاسندیش بھی دے گا۔ پی ایم نے یو اے ای میں کام کررہے سینکڑوں ہندوستانیوں کو خطاب کرتے ہوئے ہندی میں کہا کہ یو اے ای سے ہمارا تعلق صرف ایک خریدار یاڈیلرکا نہیں ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ واضح ہو کہ متحدہ عرب امارات 33 لاکھ پرواسی ہندوستانیوں کا گھر ہے۔
(انل نریندر)

وادی کے بجائے اب جموں خطہ آتنکی نشانے پر

ہندوستانی فوج کی جوابی کارروائی سے بوکھلائے پاکستان و ان کے آتنک وادیوں نے پچھلے کچھ وقت سے کشمیر وادی کو چھوڑ کر جموں خطے میں حملہ بڑھادئے ہیں۔ خبر ہے کہ پاکستانی آقاؤں کی ہدایت پر ہی وادی کے آتنکی جموں خطہ میں لگاتار حملہ کررہے ہیں۔ جیش محمد کے آتنکیوں نے سنیچر کی صبح سویرے جموں میں واقع سنجوان فوجی کیمپ پر فدائی حملہ کردیا۔ فوجی کیمپ پر حملہ میں شامل چار آتنک وادیوں کو مار گرایا گیا جبکہ ہمارے پانچ جوان سمیت چھ شہید ہوئے۔ سنجوان میں حملہ کرنے والے آتنکی پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ دہشت گردوں کے پاس بھاری مقدار میں گولہ بارود تھا۔ اطلاع کے مطابق گرینیڈ اور آئی ای ڈی جیسے دھماکو بھی تھے۔ سنجوان کیمپ جموں ۔ پٹھانکوٹ نیشنل ہائی وے کے بائی پاس پر واقع ہے۔ یہ شہر کے گھنی آبادی میںآتا ہے۔ یہاں قریب 3 ہزار جوان کنبے ساتھ رہتے ہیں۔ 2006 میں بھی اسی آرمی کیمپ پر آتنکی حملہ ہوا تھا۔ اس میں 12 جوان شہید ہوگئے تھے7 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ لشکر طیبہ نے کیا تھا۔ تب ساڑھے چار گھنٹے تک مڈ بھیڑ چلی تھی۔ آتنکی حملہ کرنے والے جیش محمد کے بتائے جارہے ہیں۔ یہ افضل برگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بار بار ان پٹ مل رہے تھے کہ جیش کے آتنکی فوجی کیمپ پر فدائین حملہ کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں۔ باوجود اس کے حملہ ہونا سیکورٹی میں بھاری چوک مانا جارہا ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے لگاتار ان پٹ جاری ہورہے تھے لیکن ضلع پولیس نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔پولیس کی اپنی خفیہ مشینری بھی کسی کام نہیں آئی۔ جیش کی طرف سے کہا گیا تھا کہ افضل گورو کی برسی یعنی 9 فروری کو وہ آتنکی حملہ کریں گے۔ اکھنور سے لیکر کٹھواہ تک کے نیشنل ہائی وے کے پاس قائم کیمپوں کو نشانہ بنانے کی جانکاری تھی۔ اس سے پہلے جب پلوامہ میں سی آر پی ایف ٹریننگ سینٹر پر حملہ ہوا تھا تو اس ویڈیو میں آتنکی یہ کہتا نظر آیا تھا کہ افضل برگیڈ افضل کی برسی پر حملہ کرے گا۔ آتنکیوں اور ان کے آقاؤں نے اپنی حکمت عملی کو بدلا ہے اور اب زیادہ توجہ جموں خطہ کی طرف دی جارہی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اب آتنکی ہمارے فوجی خاندانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنجوان حملہ میں بھی آتنکیوں نے گھسنے کے بعد سیدھا فیملی کوارٹرس کی طرف رخ کیا۔ کواٹروں میں پہنچتے ہیں آتنکی الگ الگ ہوگئے۔ فوجی کوارٹروں میں رہنے والے میجر اپنی بیٹی کے ساتھ صبح سیرکررہے تھے۔ لڑکی نے فوجی وردی میں آتنکیوں کو بھاگتے دیکھ ان سے پوچھا انکل آپ کیوں بھاگ رہے ہیں؟ اس پر آتنکیوں نے فائر شروع کردیا۔ اس میں میجر اور ان کی بیٹی زخمی ہوگئی۔ آتنکیوں نے گولیاں چلاتے ہوئے بریگیڈ کے اسلحہ ڈپو میں گھسنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں تعینات جوانوں کی جوابی کارروائی میں آتنکی الگ الگ بٹ گئے اور گولہ باری کرتے ہوئے فوجیوں کے رہائشی زون میں گھس گئے۔ پاک فوج کے ذریعے فائرنگ اور دراندازی کی کوشش بھی اب جموں خط میں بین الاقوامی سرحد سے کرائی جانے لگی ہیں۔ ابھی تک ہندوستانی فوج کی پوری توجہ کنٹرول لائن و ساؤتھ کشمیر پر تھی لیکن آتنکیوں اور پاک فوج کے رخ بدلنے سے ہماری فوج کو بھی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...