Translater

11 دسمبر 2012

ابھی لمبی ہے ایف ڈی آئی کی راہ!


والمارٹ نے امریکی سینیٹ کو دی گئی اپنی رپورٹ میں قبول کیا ہے کہ اس نے بھارت میں سرمایہ کاری اور دیگر لابنگ سرگرمیوں پر اس نے2008 ء سے 2.5 کروڑ ڈالر یعنی (تقریباً125 کروڑ روپے) خرچ کئے ہیں۔ اس میں بھارت میں ایف ڈی آئی پر بحث سے متعلق اشو بھی شامل ہے۔ سہ ماہی کے دوران والمارٹ نے امریکی سینیٹ اور امریکی ایوان نمائندگان، امریکی ٹریڈ انجمن اور امریکی محکمہ خارجہ کے سامنے اپنے معاملے میں لابنگ کی ہے۔ امریکہ میں کمپنیوں کو کسی معاملے میں محکموں یا ایجنسیوں کے سامنے لابنگ کی اجازت تو ہے لیکن لابنگ پر ہوئے خرچ کی رپورٹ سہ ماہی کی بنیاد پر سینیٹ میں دینی ہوتی ہے۔ ادھر جیسی امید تھی امریکہ نے ایف ڈی آئی کو منظوری دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اشتراک مزید مضبوط ہوگا۔ موصولہ اشاروں سے لگتا ہے کہ دہلی میں سب سے پہلے والمارٹ اپنے اسٹور کھولے گی۔ دہلی سرکار نے سب سے پہلے ایف ڈی آئی کے لئے اپنا ماڈل ایکٹ تیار کرلیا ہے۔ دہلی کیبنٹ کی منظوری ملتے ہیں اس ماڈل ایکٹ کو مرکزی سرکار کو بھیج دیا جائے گا۔ مرکز کی ہری جھنڈی ملتے ہیں دہلی غیر ملکی خوردہ اسٹور چلانے والی کمپنیوں کے لئے دروازے کھول دے گی۔سب سے پہلے ایف ڈی آئی کو منڈیوں میں لایا جائے گا۔ ادھر والمارٹ کے پریسیڈینٹ اور سی ای او (ایشیا) اسکاٹ پرائس نے امید ظاہر کی ہے والمارٹ ڈیڑھ سال کے اندر بھارت میں اپنی خوردہ دوکانیں کھول سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ بھارت میں کتنے اسٹور کھولے جانیں ہیں۔ پرائس نے یہ بھی کہا کہ کمپنی بھارتیہ انٹرپرائز کے ساتھ چل رہے 17 اسٹورو کی سانجھے داری رکھے گی۔ سرکار نے ملٹی برانڈ خوردہ میں ایف ڈی آئی پر بھلے ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری حاصل کرلی ہو لیکن عام آدمی کو غیر ملکی پرچون کی دوکانوں کے لئے بھی ابھی انتظارکرنا پڑے گا۔ دیش کے کئی شہروں میں تو2014ء کے عام چناؤ کے بعد ہی یہ سہولت حاصل ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکار کے اس فیصلے کو قطعی شکل دینے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ سرکار نے ایک شرط جوڑی ہے جس کے مطابق ایف ڈی آئی کا کم سے کم 50 فیصدی حصہ تین سال کے اندر کولڈ اسٹوریج بنانے جیسی سہولیات پر خرچ ہونا چاہئے۔ خاص بات یہ ہے کہ کولڈ اسٹوریج کے لئے زمین خریدنے یا کرائے پر خرچ نہیں مانا جائے گا۔ اس کے علاوہ2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے چلتے بھی کئی ریاست ایف ڈی آئی لاگو کرنے میں تیزی سے بچ سکتی ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ پارلیمنٹ کی منظوری ملتے ہیں مرکزی وزارت تجارت دنیا کی چار سب سے بڑی خوردہ کمپنیوں کے قریب تین درجن پرستاؤ پر عمل کرنے کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ ان میں سے قریب 10 تجاویز امریکی کمپنی والمارٹ سے آ چکی ہیں۔ قریب اتنی ہی تجاویز سوئڈن کی مشہور فرنیچر کی سب سے بڑی خوردہ کمپنی یین آر نے دی ہیں۔ برطانیہ کے سب سے بڑے ریٹیل برانڈ ٹیسکو سے 8 اور فرانس کی ملٹی نیشنل کمپنی کیئر فور سے 6تجاویز آئی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تجاویز غذائیت، کپڑا، الیکٹرانک سامان اور تکنالوجی کے سامان سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں نے گفٹ آئٹم، کتابیں، کھلونیں اور دوسری قسم کے سامان بیچنے کے لئے بھی تجاویز دی ہیں۔ ریاست میں ان کی پہلی پسند مہاراشٹر۔ہریانہ ہیں۔ ان دونوں ریاستوں میں سب سے زیادہ دوکانیں کھولنے کی تجویزیں آئی ہیں۔
(انل نریندر)

مصر کے تحریر چوک سے شروع ’انقلاب ‘اب بھی جاری ہے

ایک کامیاب انقلاب کے بعد جمہوریت کے قیام اور آئین بنانے کی ڈگر کافی مشکل ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے پڑوسی ملک نیپال کا حال دیکھا ہے۔ نیپال میں اب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکل سکا جس سے دیش کے تحریر چوک سے عرب دنیا میں انقلاب شروع ہوا ، اسی ملک کا اتنے دن گزرنے کے بعد بھی برا حال ہے۔ میں مصر کی بات کررہا ہوں۔ ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو معذول کرنے والی مصری عوام ایک مرتبہ پھر تحریر چوک پر اتر آئی ہے اور اس بار نشانے پر ہیں موجودہ صدر محمد مورسی۔ اس کی وجہ ہے ان کا ایک متنازعہ اعلان۔22 نومبر کو مورسی نے ایک آئینی فرمان جاری کیا۔ اس کے مطابق ان کے کام کاج کو قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ مطلب یہ ہے وہ جو فیصلہ کریں گے کوئی بھی اس میں دخل نہیں دے پائے گا۔ حالانکہ انہوں نے مصر کا نیا آئین بنا رہی آئینی اسمبلی کی سکیورٹی کے سلسلے میں یہ سسٹم بنانے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ حسنی مبارک کے وقت میں جن لوگوں پر مظاہرین میں شامل لوگوں پر ظلم ڈھانے کا الزام تھا ان کے خلاف پھر سے مقدمہ چلانے کی بات کہی گئی ہے۔ مورسی کا کہنا ہے کہ یہ اعلان تب تک نافذالعمل رہے گا جب تک دیش کے نئے آئین پر ریفرنڈم نہیں ہوجاتا۔ مورسی کے اس اعلان کے بعد سے ہی دیش میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ لبرل سمیت دوسری اپوزیشن پارٹیوں نے ان کے اس قدم کی پر زور مخالفت کی ہے۔ ججوں کی برادری اس اعلان کی مخالفت کررہی ہے۔ ججوں کے گروپ کی سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ یہ دیش کی عدلیہ کی آزادی پر زبردست حملہ ہے۔ مورسی پر کھلے عام الزامات لگائے جارہے ہیں کہ وہ تو مبارک سے بھی زیادہ طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دیش میں اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ مصر میں حالات مسلسل کشیدہ ہورہے ہیں۔ اپوزیشن مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو بھی توڑ دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو صدارتی محل پہنچنے سے روکنے کے لئے یہ رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ ہزاروں لوگوں نے راجدھانی قاہرہ میں مارچ نکالا اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی۔ صدر محمد مورسی کی اپیل کو نامنظور کردیا۔ مصر کی چناؤ کمیٹی چیف کا کہنا ہے کہ بیرون ملک میں مقیم مصری شہریوں کے لئے ووٹنگ میں اب دیر ہوگی۔ یہ لوگ ریفرنڈم میں ووٹ کرنے والے تھے۔ ہزاروں لوگ مانگ کررہے ہیں کہ ریفرنڈم ٹال دیا جائے۔ مصر کے نائب صدر محمود مکی نے اشارہ دیا تھا کہ صدر ریفرنڈم ٹالنے پر راضی ہوسکتے ہیں اگر یہ قانونی طور پر قابل قبول طریقے سے کیا جائے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے صدر نے اپنے اختیارات میں توسیع کرنے اور نئے آئین کے مسودے پر کوئی رعایت نہیں دی ہے۔ اس مسودے پر 15 دسمبر کو ریفرنڈم ہونا ہے۔ مصر کے کئی شہروں میں سرکار مخالفین اور حمایتیوں نے مظاہرے کئے ہیں۔ مورسی حمایتیوں نے مصر میں ہوئے تشدد میں مارے گئے لوگوں کی موت کا بدلہ لینے کا عزم دوہرایا ہے اور بھیڑ نعرے لگا رہی تھی کہ’ مصر اسلامی ملک ہے، یہ سیکولرازم یا اصلاح پسند دیش نہیں بنے گا‘۔ کل ملا کر مصر میں حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں۔ تحریر چوک سے شروع ہوا انقلاب ابھی تک جاری ہے۔ مصر میں ڈرامائی تبدیلی میں دیش کے اسلامی صدر محمد مورسی نے خود کو وسیع اختیارات دینے والے متنازعہ فرمان کو ایتوار کے دن منسوخ کردیا لیکن اپوزیشن کے اس مطالبے کو نامنظور کردیا کہ نئے آئین پر ریفرنڈم ٹال دیا جائے۔ ریفرنڈم اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق15 دسمبر کو ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

09 دسمبر 2012

چدمبرم ہوسکتے ہیں کانگریس کے 2014 میں پی ایم امیدوار؟

کانگریس آئے دن بھاجپا کے امکانی وزیر اعظم پر تو سوال جواب کرتی ہی رہتی ہے لیکن عوام کو کانگریس یہ بھی تو بتائے کہ2014ء کے چناؤ میں اس کا وزیر اعظم امیدوار کون ہوگا؟ابھی تک تو ہمیں یہ ہی خیال تھا کہ یووراج راہل گاندھی کانگریس کے امکانی وزیر اعظم ہیں لیکن اس دوڑ میں وزیر خزانہ پی چدمبرم کہاں سے ٹپک پڑے؟ اس کڑی میں نیا باب تب جڑگیا جب برطانوی میگزین’ دی اکنامسٹ‘ نے لکھ دیا کہ اگر کانگریس تیسرے مرتبہ اقتدار میں آئی تو وزیر خزانہ پی چدمبرم وزیر اعظم کے لئے امیدوار ہوں گے۔ میگزین کے مطابق اگلا لوک سبھا چناؤ معیشت کے اشو پر مرکوز ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کے امکانی امیدوار نریندر مودی کو ایک اچھا اقتصادیاتی منیجر مانا جاتا ہے ایسے میں کانگریس کی جانب سے چدمبرم کو وزیر امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔کانگریس کی ترجمان رینوکا چودھری نے اس پر فوری رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کانگریس پارٹی وزیر اعظم کے عہدے کے لئے امیدوار اعلان کرتی۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی لیڈر کو وزیر اعظم بنانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ میگزین کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم منموہن سنگھ 2014 ء تک 80 برس کو پار کرجائیں گے۔ کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی ابھی اس عہدے پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس حالت میں چدمبرم کانگریس کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ دیش کی اقتصادی چنوتیوں سے لڑنے میں پوری طرح اہل ثابت ہورہے ہیں۔ اکنامسٹ کی اس رپورٹ سے کانگریس میں طوفان مچ گیا ہے۔ چدمبرم کے خلاف کانگریس کے ایک ایم پی سجن سنگھ ورما نے تو یہاں تک کہہ ڈالا اگر اگلے عام چناؤ میں چدمبرم کو پارٹی کی طرف وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کیا گیا تو انہیں کانگریس میں رہنے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ کانگریس وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے جس طرح سے انگریزی میگزین اکنامسٹ نے چدمبرم کو پلانٹ کیا ہے اس کا 10 جن پتھ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ اندر ہی اندر پوری پارٹی میں چدمبرم کی ان شاطر کوششوں کے تئیں گھمسان مچا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چدمبرم کی یہ کوشش کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی کو ’’سپر سیٹ ‘‘ یعنی(کنارے لگانے )کے لئے ہے۔راہل کوسائڈ لائن کیا جانا نہ صرف بڑے لیڈروں اور نہ ہی عام بنیادی کانگریس ورکروں کو راس آرہا ہے۔ راہل کانگریس کو کامیاب بنانے کے لئے گہری محنت کررہے ہیں لیکن مانا جارہا ہے کہ خود کو وزیر اعظم کی دوڑ میں جوڑ کر چدمبرم بے نقاب ہوگئے ہیں اور کانگریس کا ایک طبقہ تو انہیں وزیر کے عہدے سے چلتا کرنے کی بھی مہم چلانے کو تیار ہے۔ کانگریسی حلقوں میں بحث چھڑی ہوئی ہے کہ یہ وہی چدمبرم ہیں جنہوں نے شری راجیو گاندھی کے بے رحمانہ قتل کے بعد کانگریس سے کنارہ کرتے ہوئے تمل منیلا کانگریس بنا لی تھی اور کئی کانگریسیوں کے بیچ یہ بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد چدمبرم کو اپنا سیاسی مقصد پورا ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ آج کی تاریخ میں اب وہ اتنے شاطر ہوگئے ہیں کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے بھی ابھی سے برطانوی اخباروں کا سہارا لینے لگے ہیں۔
(انل نریندر)

ملائم سنگھ یادو نے مانگی حمایت کی قیمت

بیشک منموہن سنگھ سرکار نے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی مدد سے دونوں ایوانوں میں ایف ڈی آئی پر اکثریتی نمبر حاصل کر لئے ہوں لیکن اس کی سرکار اور کانگریس کو مستقبل میں قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ اترپردیش کی سیاست پر تازہ حالات کا کیا اثر پڑتا ہے۔ بہن جی نے جہاں 10 سال پرانی بات عام کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہو کہ کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں میں سے کوئی کم نہیں وہیں مایا کے کٹر مخالف ملائم سنگھ کو بھی کرارا جھٹکا دینے کی کوشش کی۔ اترپردیش کے اقتدار سے مایا کو بے دخل کرنے والے ملائم سنگھ مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ لوک سبھا چناؤ جلد ہوجائیں۔ اسمبلی چناؤ میں جو اکثریت سپا کو ملی تھی وہ لوک سبھا میں بھی ملے۔ زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت کر وہ دہلی پر راج کریں۔ اس کے لئے انہوں نے تیاری بھی کرلی ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے وقت جو ماحول سپا کے حق میں بنا تھا وہ گھٹ رہا ہے۔ جو فائدہ سپا کو ابھی مل سکتا ہے وہ شاید2014ء میں نہ ملے۔ مایا کے سرکار کے ساتھ کھڑا ہونے سے سپا کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرنی پڑ سکتی ہے۔ سبھی جانتے ہیں سپا چیف ملائم سنگھ یادو سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے یو پی اے سرکار کی مدد تو کی لیکن اب وہ اس کی قیمت مانگ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سپا نے حمایت کے بدلے کانگریس پر بھاری دباؤ بنایا ہے کہ وکیل وشواناتھ چترویدی سے اثاثے سے زیادہ پراپرٹی والے کیس میں عرضی واپس کروائیں۔ بتایا جاتا ہے اس دباؤ کے چلتے کانگریس کی سینئر لیڈر موتی لال ووہرہ نے وکیل وشواناتھ چترویدی کو بلاکر ساری بات بتائی ہے اور ملائم ، اکھلیش، دمپل و پرتیک کے خلاف اثاثے سے زیادہ پراپرٹی معاملے میں سپریم کورٹ میں دائر عرضی کو واپس لینے کوکہا ہے۔ چترویدی نے کہا کہ ٹی ایس تلسی کو اس معاملے میں وکیل بنایا گیا ہے۔ آپ کو پتا ہی ہے کہ وہ ہر سماعت میں کافی پیسے لیتے ہیں۔ ابھی تک جتنی سماعت ہوچکی ہیں وہ بھی جانتے ہیں کئی برسوں سے اس مقدمے پرفیصلہ ملتوی چل رہا ہے۔ چترویدی نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں ملوث ملائم سنگھ و ان کی سرکار نے ہمارے خاندان پر کتنا زبردست ظلم کیا ہے۔ آپ اس بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ مجھے تو تقریباً اجاڑ ہی دیا ہے۔ مجھ پر 7 مقدمے ہیں، ایسی حالت میں جب میری جان کو خطرہ ہے تو آپ مجھ سے مقدمہ واپس لینے کو کہہ رہے ہیں؟ معلوم ہو کے وشواناتھ چترویدی نے سپریم کورٹ میں دائر عرضی (سیول) نمبر633 دائر کی جس پر عدالت نے 1-3-2007 کو سی بی آئی جانچ کے احکامات دئے۔ ان احکامات کی بنیاد پرسی بی آئی نے ملائم سنگھ یادو و ان کے بیٹے اکھلیش یادو و اکھلیش کی پتنی ڈمپل یادو اور ملائم کی دوسری بیوی کے لڑکے پرتیک اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف 5-3-2007 آمدنی سے زیادہ پراپرٹی مقدمے میں (ابتدائی جانچ) نمبر21A/2007 سی بی آئی ؍اے سی یو آئی بی؍ نئی دہلی درج کیا۔ اس معاملے کی اسٹیٹس رپورٹ کے صفحہ نمبر10 سیریل نمبر 26 پر لکھا ہے کہ آن دی بیسز آف ریزلٹ آف افورسیڈ انکوائری رجسٹریشن آف اے ریگولر کیس انڈر سیکشن 13/(2)R15/1WB(1)E آف پی سی ایکٹ 1988 ء اگینسٹڈ ملائم سنگھ یادو اینڈ سیکشن 109 آئی پی سی آر ون ڈبلیو 13(2) ڈبلیو 13(1) (E) آف پی سی ایکٹ 1988 اگینسٹڈ اکھلیش یادو وغیرہ وغیرہ سے درج ہیں۔ یہاں دیکھنے کی بات یہ بھی ہوگی کہ کیا اتنی آخری اسٹیج پر وشواناتھ چترو یدی مقدمہ واپس لے بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا سپریم عدالت اب انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے گی؟ ایوان میں جس طرح سے سپا اور بسپا نے سرکار کی حمایت کی ہے اس کا پردیش میں بھاجپا کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ دونوں نے بھاجپا کو ایک اشو تھمادیا ہے۔ بھاجپا پردیش میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ کانگریس ،سپا اور بسپا اندر خانے آپس میں ملی ہوئی ہیں۔
(انل نریندر)

08 دسمبر 2012

ہاتھی پر سوار ہوکر آئے گی ایف ڈی آئی

خوردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلے کو اب راجیہ سبھا میں بھی منظوری مل گئی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی تاریخ میں یہ بھی درج ہونے جارہا ہے کہ کسانوں اور دلتوں ، دستکاروں ،کاریگروں اور بنکروں ،مزدوروں و چھوٹا دھندہ کرنے والے کروڑوں ہندوستانیوں کے پیٹ پر لات مارنے والے اس فیصلے کونافذ کروانے میں اترپردیش کی دو پارٹیاں بہوجن سماج پارٹی، سماجوادی پارٹی کا قابل قدر کردار رہا ہے۔ اگر سماجوادی پارٹی نے لوک سبھا میں ووٹنگ کے وقت واک آؤٹ کرکے سرکار کی حمایت کی ہے تو وہیں بسپا نے راجیہ سبھا میں سرکار کے حق میں ووٹ ڈالا ہے اور ایف ڈی آئی لاگو کروانے کے لئے راستہ ہموار کردیا ہے۔ کیا شری ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی بہن بھارت کی عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں؟ کیا جنتا ان کی چال بازیوں کو سمجھ نہیں سکتی؟ ملائم سنگھ نے منگل کو کہا تھا کہ ایف ڈی آئی دیش کے مفاد کے خلاف ہے اور اس کے آنے سے کروروں کسانوں اور چھوٹے و خوردہ دوکانداروں کا روزگار چھن جائے گا مگر اب ریزولیوشن پر ووٹنگ کی باری آئی تو وہ ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ مایاوتی کی پارٹی کے داراسنگھ نے منگل کو کہا تھا کہ ایف ڈی آئی دیش کو دوسری بار غلامی کی طرف لے جائے گی۔ مایاوتی نے احتجاج میں مہا ریلی بھی کی تھی مگر راتوں رات اپنا موقف بدل کر اب بہن مایاوتی کی پارٹی نے اس ریزولیوشن کو سیکولرزم اور فرقہ واریت سے ہی جوڑدیا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو بھاجپا کے اس ریزولیوشن کے حق میں مارکسوادی سمیت دیگر لیفٹ پارٹیوں نے کیسے ووٹ دیا ؟ راجیہ سبھا میں جب مایاوتی کی تقریر کا نمبر آیا تو انہوں نے بحث کا رخ ایف ڈی آئی کی بجائے بھاجپا کی طرف موڑدیا۔ بسپا کے سی بی آئی کے دباؤ میں آنے بارے سشما سوراج کے لوک سبھا میں دئے گئے بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے انہوں نے کہا بھاجپا اس لئے ایسے الزام لگا رہی ہے کیونکہ انگور کھٹے ہیں اور ان کی اسکیم ناکام ہوگئی ہے۔ یہ بھاجپا ہی ہے جس نے مجھے تاج کوریڈو اور آمدنی سے زیادہ پراپرٹی معاملے میں سی بی آئی کے چنگل میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ میری پارٹی بھاجپا کو کوئی موقعہ نہ دیتے ہوئے ایف ڈی آئی پر سرکار کے حق میں ووٹ کرے گی۔ اب سنئے سماجوادی پارٹی کے نریش اگروال راجیہ سبھا میں کیا کہتے ہیں؟ سرکار کے پاس اب بھی وقت ہے سرکار اس فیصلے کو واپس لے۔ ایف ڈی آئی کے دستے قاتل ہیں۔ کسانوں کو مار ڈالیں گے جب سرکار سیاست کے بچولیوں کو ختم نہیں کرپائی تو خوردہ کاروبار میں ایف ڈی آئی کیسے لائے گی؟ 20 کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے تو دیش کا کیا ہوگا؟ تاجروں کے مفاد میں اس کالے قانون کو واپس لیا جائے۔ ہم لیفٹ پارٹیوں کی تعریف کرنا چاہیں گے جنہوں نے سارے طعنوں کے باوجوداپنا موقف نہیں بدلا۔ راجیہ سبھا میں مارکسوادی پارٹی کے لیڈر سیتا رام یچوری نے کہا کہ اس سے دیش کے لوگوں یا معیشت کو تھوڑا بھی فائدہ پہنچتا ہوتا تو ہم اس کی حمایت کرتے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی سمجھوتے کے دوران بھی یہ ہی دلیلیں سنی تھیں کے اس سے لاکھوں گھروں میں بجلی پہنچے گی۔ حقیقت میں ہم نے پچھلی گرمی میں اب تک سب سے سنگین بجلی بحران کو جھیلا ہے۔ آپ فرماتے ہیں روزگار بڑھے گا اس میں کتنی سچائی ہے؟ جس امریکہ کی آپ نقل کرنا چاہتے ہیں وہاں کیا ہوا؟ امریکی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ والمارٹ نے چھوٹے دوکانداروں اور مزدوروں کے لئے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں خوردہ کاروبار میں ایف ڈی آئی آنے سے کسانوں کو فائدہ ملے گا لیکن چاہے کتنا بڑا کسان ہو چاہے لاطینی امریکہ کے کسان ہوں اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ اس پالیسی سے کسانوں سے لیکر صارفین تک کے مفاد کا نقصان ہی ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کے ایف ڈی آئی لانے کا یہ فیصلہ دیش کو نقصان پہنچانے والا ہے۔ ہم اب بھی سرکار سے درخواست کرتے ہیں کے اسے نافذ نہ کرے۔ اس پر نظر ثانی کرے۔ یہ ہمارے دیش کے مفاد میں نہیں ہے۔
(انل نریندر)

بھارتیہ کھیلوں کا کالا دن 4 دسمبر

بھارتیہ کھیلوں کو جھٹکے تو اکثر لگتے ہی رہتے ہیں لیکن اتنا بڑا جھٹکا شاید پہلے کبھی نہیں لگا ہوگا جتنا 4 دسمبر کو لگا تھا۔ ہم اسے ہندوستانی کھیلوں کے لئے کالا دن کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔4 دسمبر کو انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی نے بھارتیہ اولمپک ایسوسی ایشن کے چناؤ میں سرکاری مداخلت کو اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی مانتے ہوئے آئی او اے کو اولمپک تحریک سے معطل کردیا ہے۔ آئی اوسی کے ایگزیکٹو بورڈ کی سوئٹزرلینڈ کے لوسانا میں ہوئی دو روزہ میٹنگ میں آئی او اے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئی او سی نے آئی او اے کے چناؤ کو کھیل قانون کے تحت کرانے پر ہی ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے صاف کردیا تھا کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں بھارت کی معطلی کا ریزولیشن پیش کرے گا اور اسے آخر اب آئی او اے سے معطل کردیا گیا ہے۔ اس معطلی کے فیصلے کے دور رس اثر ہوسکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت کی سپریم کھیل تنظیم کو آئی او سی سے کسی طرح کی مدد نہیں ملے گی اور اس کے حکام اولمپک میٹنگوں میں حصہ لینے اور کھلاڑی اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے سے محروم ہوجائیں گے۔ بھارتیہ ایتھلیٹ اپنے قومی پرچم کے نیچے اولمپک مقابلوں میں حصہ نہ لے سکیں گے۔ دراصل آئی او سی نے آئی او اے کو مطلع کیا تھا کہ اس کے چناؤ صرف اولمپک چارٹر کے مطابق ہی ہوسکتے ہیں اور چناؤ نے سرکاری کھیل ایکٹ کا استعمال کرنے پر اسے معطل کیا جاسکتا ہے۔ باوجود اس کے آئی او اے نے یہ کہتے ہوئے اپنا قدم آگے بڑھایا کے وہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے سے بندھے ہوئے ہیں۔ وزیر کھیل جتیندر سنگھ آئی او اے کے نگراں چیئرمین وجے کمار ملہوترہ اور آئی او اے چناؤ سے پہلے بلامقابلہ چنے گئے ابھے سنگھ چوٹالہ نے فیصلے کو افسوسناک بتایا۔ سارا جھگڑا5 دسمبر کو ہونے والے بھارتیہ اولمپک ایسوسی ایشن کے چناؤ کو لیکر کھڑا ہوا تھا۔ کھیل وزارت کے اسپورٹس کورٹ کے تحت ہورہے چناؤ کو لے کر آئی او سی نے کئی بار خبردار کیا اور معطلی کی دھمکی دی تھی لیکن آئی او اے نے ہائی کورٹ کے اس حکم کی مجبوری بتاتے ہوئے امید کی تھی کہ معاملہ بات چیت سے حل ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب آگے تو یہ ہوسکتا ہے کہ بھارتیہ اولمپک ایسوسی ایشن آئی او سی کی اس معطلی کے فیصلے کے خلاف ذیلی عدالت میں چنوتی دے سکتا ہے۔ آئی او اے چناؤ میں جنرل سکریٹری کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب للت بھنوٹ 2010 کے کامن ویلتھ گھوٹالے کے ملزم ہیں اور11 مہینے جیل میں رہ چکے ہیں۔ آئی او سی کو ایسے داغدار شخص کے تنظیم میں آنے پر اعتراض ہے۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ اس ادارے سے کیسے نپٹا جائے؟ اگر آئی او اے کھیل ضابطے کی باتوں کو صحیح سمجھتی ہے تو اسے اپنے آئین میں شامل کرسکتی ہے۔ ایسا کرنے سے اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ پچھلے لندن اولمپک میں پہلی بار بھارت نے 6 میڈل جیت کر اپنی دھاک جمائی تھی اور اب اس پر پابندی لگ گئی ہے۔ ویسے سب سے پہلے آئی او سی سے منظوری والے کھیلوں میں ایشیائی کھیلوں کا 2014ء میں انعقاد ہونا ہے اور اس وقت تک اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لئے بھارت کے پاس کافی وقت ہے۔ ویسے بھی آئی او سی کے ایگزیکٹو بورڈ کی ایک سال میں چار بار میٹنگیں ہوتی ہیں۔ اگلی میٹنگ اگلے سال فروری میں ہوگی اور اس وقت تک آئی او اے اپنا موقف رکھ کر اس فیصلے کو بدلوا سکتا ہے۔ اگر آئی او اے اولمپک چارٹر اور بھارتیہ کھیل قاعدے کو لیکر پیدا جھگڑے پر اپنا موقف رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو بھی للت بھنوٹ کے چناؤ پر اٹھے سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہوگا۔ اولمپک کھیل ایسوسی ایشن میں گروپ بندی اور بڑھتی جارہی ہے۔ سیاست کا یہ ہی مضر نتیجہ ہے۔ دراصل اولمپک ایسوسی ایشن کو سرکارکے ساتھ ساتھ سیاسی مداخلت سے بھی دور رکھنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

07 دسمبر 2012

بیشک نمبروں کی طاقت میں سرکار جیت گئی لیکن یہ اس کی اخلاقی ہار ہے

بیشک منموہن سنگھ سرکار نے ایف ڈی آئی پر لوک سبھا میں نمبروں کی طاقت کے کھیل میں کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن صحیح معنوں میں یوپی اے سرکار کی لوک سبھا میں ہار ہوئی ہے۔ کہنے کو تو اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کی جانب سے پیش ریزولیوشن کہ سرکار ملٹی برانڈ خوردہ میں51 فیصدی غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے کو واپس لے۔18 کے مقابلے253 ووٹوں سے گر گیا۔ لیکن دو دن کی بحث نے اتنا ضرور صاف کردیا کہ یوپی اے سرکار جیتی لیکن پارلیمنٹ ہاری۔ بحث میں18 پارٹیوں کے 22 ممبران نے حصہ لیا جبکہ کل چار پارٹیوں نے ایف ڈی آئی کی حمایت کی۔ اگر14 پارٹیاں جنہوں نے ایف ڈی آئی کی مخالفت میں تقریر کی ان کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد 282 کے آس پاس بیٹھتی ہے جبکہ جن پارٹیوں نے اس کے خلاف اپنے نظریات رکھے ان کی تعداد224 کے قریب بنتی ہے۔ دو دن کی بحث میں میری نظروں میں ہیرو تو بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج ہی رہیں۔ انہوں نے نہ صرف ایف ڈی آئی کے مثبت پہلو ایک ایک کرکے گنائے بلکہ حکمراں فریق کے مقررین کی دلیلوں کی ہوا نکال دی ہے۔ یوپی اے سرکار کی لاج سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی میں ووٹنگ سے ٹھیک پہلے ایوان سے واک آؤٹ کرکے بچائی۔ دیکھا جائے تو قاعدے کے مطابق ان دونوں پارٹیوں نے بھی ایک طرح سے ایف ڈی آئی کی مخالفت کی۔ اگر حمایت کرنی ہوتی تو پولنگ میں ریزولیوشن کے خلاف حکمراں فریق کے ساتھ ووٹ دیتے اور ان دونوں پارٹیوں کی ایسا کرنے کے پیچھے کیا مجبوری ہے یہ سب کو پتہ ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے تبصرہ کیا یہ سب جوڑ توڑ سے ممکن ہوپایا ہے۔ یہ ایف ڈی آئی کی جیت نہیں بلکہ سی بی آئی کی جیت ہے۔ ممتا نے کہا اکثریت کے لئے ضروری نمبر271 کے بجائے ایوان کی طاقت کی بنیاد پر سرکار کے پاس حمایت صرف 253 ممبروں کی تھی۔ پھر سے ثابت ہوگیا ہے کہ سرکار اقلیت میں ہے۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ سرکار نے جوڑ توڑ سے لوک سبھا میں نمبر جٹا لئے ہیں اب اسے جنتا جواب دے گی۔ تکنیکی طور پر بھلے ہی جیت حاصل کرلی ہو لیکن اخلاقی طور پر یہ سرکار کی ہار ہے۔ سی بی آئی لیڈر گورو داس داس گپتا کا رد عمل والمارٹ کی بہتری کے لئے سرکار دیش کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں کے لئے بھارت کو سب سے پسندیدہ جگہ بنانے کے اشارے ہیں۔ این سی پی لیڈر پروفل پٹیل کا کہنا تھا کہ کوکاکولا نے پارلے برانڈ تھمس اپ کو لے لیااور اسے کوکا سے جوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن آج بھی بھارت میں تھمس اپ کوک سے زیادہ مشہور ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسے سرکار کے فیصلے کو ملی پارلیمنٹ کی منظوری بتایا ہے جبکہ منیش تیواری نے کہا یہ اصلاحات کی جیت ہے اس سے معیشت مضبوط ہوگی۔ لالو جی نے اپنے چٹکی بھرے انداز میں کہا کہ (بھاجپا نیتا) وہ غیر ملکی گاڑیوں میں چلتے ہیں لیکن ایف ڈی آئی پر مخالفت کرتے ہیں۔ شراب پینے والوں اڈوانی جی سے پوچھو کے وہ ٹوئٹر کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟ اب سب کی نظریں راجیہ سبھا پر لگی ہوئی ہیں۔ لوک سبھا میں تو جوڑ توڑ چل گیا، راجیہ سبھا میں یہ فارمولہ کامیاب رہے گا اس میں شبہ ہے۔ راجیہ سبھا کا حساب کتاب ایسا ہے کہ سپا اور بسپا سرکار کے حق میں ووٹنگ کریں گے یا پھر واک آؤٹ کریں گی۔ دوسری سرکار کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گی۔ قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں کہ بسپا (15 ممبران) سرکار کے حق میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی سرکار طاقت کے نمبروں میں کامیاب رہے گی۔ جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیاں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتیں۔ اپوزیشن کو اس بات کی داد دینی ہوگی کہ ان کا کوئی ممبر ٹوٹا نہیں۔ لیفٹ پارٹیوں نے بھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ فرقہ پرست بھاجپا کے ساتھ سرکار کے خلاف ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اب تو فیصلہ جنتا کو کرنا ہے۔ منموہن سرکار ہر حالت میں ایف ڈی آئی لائے گی۔ اس نے تو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رکھا ہے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...