Translater

17 جون 2025

اگر جنگ بڑھی تو کیا ہوگا؟

پہلے سے جنگ لڑرہے اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کر جس میں کئی بڑے ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں ۔اپنے لئے جنگ کا نہ صرف ایک نیا مورچہ کھول دیا ہے بلکہ یوں کہیں نہ صرف مغربی ایشا کو ہی بلکہ پوری دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔دراصل اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن رائزنگ لائن ایران کے مبینہ نیوکلیئر ہتھیار کی توقعات کے ناکام کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔اسرائیل کے حملے کے جواب میں جمعہ کے روز ایران نے اپنا جوابی کاروائی شروع کی۔اسرائیل میں راجدھانی تل ابیب ،یوروشلم میں کئی جگہوں پر کئی بیلسٹک میزائلیں داغی گئیں ۔اور ڈرون سے حملہ کیا گیا ۔شوشل میڈیا میں بصرہ میں ایران کے حملے سے ہوئی بربادی کی کئی تصویریں بھی سامنے آئی ہین ۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ملٹری کمانڈ سنٹر جہاں سے اسرائیل کے سارے حملے اور کاروائیں طے کی جاتی ہیں اس کو بھی تباہ کر دیا ہے ۔اسرائیل کا طاقتور ایئر ڈیفنس سسٹم کو کئی میزائلوں اور ڈرون سے گراسکا لیکن بہت سی میزائلیں اور ڈرون ٹھیک نشانہ پر لگی ۔اب اسرائیل کی باری ہے اور پھر ایران کا جواب دے گا ۔ایران بے شک یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا نیوکلیائی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے لیکن اس پر خفیہ طور سے نیوکلیائی پروگرام چلانے کے جو الزام لگتے رہے ہیں وہ خدشات بھی پیدا کرتے ہیں ۔اس کا مزید ایران کی جانب سے باربار اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکیاں اور اس کے ذریعے حمایتی حماس اور حزب اللہ اور حوسی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں اسرائیل کی تشویشات کو اور ٹھوس بناتی ہیں ۔پھر سوال صرف اسرائیل کی سیکورٹی کا نہیں ہے بلکہ ایک نیوکلیائی طاقت کفیل ایران پورے مغربی ایشیا میں طاقت کے تواژن کو بگاڑنے کا بتایاجارہا ہے ۔پھر سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستا ن بھی تو ایک اسلامی نیوکلیائی کفیل دیش ہے تو اس سے نہ تو امریکہ کو کوئی فکر ہے اور نہ ہی اسرائیل کو کیا ہم یہ مان کر چلیں کہ پاکستان خفیہ طور سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے ۔شوشل میڈیا میں تو یہاں تک دعویٰ کیاجارہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے قریبی تعلقات ہیں اور اطلاعات کے تبادلے میں شریک کار ہیں ۔جب پاکستا ن سے کوئی خطرہ نہیں تو ایران سے کیوں ؟ وہیں دہائیوں میں ہم نے مغربی ایشیا میں بہت خون خرابہ دیکھا ہے ۔لاکھوں بے گناہ مارے جاچکے ہیں ایسے میں اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور بڑھتی ہے تو بڑی تعدادمیں لوگ مارے جائیں گے ۔ایراق وافغانستان کی تباہی لوگ بھولے نہیں ہیں اور بیچ میں بسے اسرائیل اور ایران کی تباہی کو ئی نہیں چاہے گا ۔اگر شوشل میڈیا پر جائزہ لیا جائے تو کچھ بسطی ایشیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ خراسان میں امانت اللہ عہد کو ختم کرکے اپنے مفاد والی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔اور ایران کو بم بنانے کی جلدی ہے ۔جبکہ امریکہ کے ساتھی دیش ایسا نہیں چاہتے ۔ایران کی اس کوشش پر اسرائیل کو سخت اعتراض ہے اور اس کا خیال ہے کہ اگر ایران کا نیوکلیائی پروگرام بھی نہیں روکا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ایران ایک نیوکلیائی کفیل ملک بن جائے گا جو اسرائیل کے وجود کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جائے گا اس لئے وہ جلدی میں ہے ۔آج جنگ اور جنگ کے ماحول دونوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔کچھ لوگوں کا غرور کی وجہ سے عام لوگوں کا خون نہیں بہنا چاہیے اس کے ساتھ ہی یہ مسلم ملکوں کے لئے بھی امن چین سے سوچنے کا وقت ہے ۔انہیں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی گروپ بندی یا جنگ کی حمایت سے بچنا ہوگا ۔رہی بات اسرائیل کی تو امریکہ ایسے ہر مورچہ پر پلہ جھاڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اس لڑائی میں امریکہ پوری طاقت سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے بلکہ ہم یہی کہیں کہ یہاں ساری خرافات کے پیچھے امریکہ اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہاتھ ہے ۔اس کا پٹھو نیتن یاہو بغیر امریکہ کے ایک قدم بھی نہیں اٹھاتا ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ اس میں بعد کی بھی قطعی فکرنہیں ہے کہ ایران - اسرائیل جنگ تیسری جنگ میں نہ بدل جائے جس کا امکان ہے ۔ (انل نریندر)

14 جون 2025

ڈپلومیسی یا ڈبل گیم ؟

امریکہ نے صرف دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی کھل کر تعریف کی ہے ۔بلکہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر کو امریکہ مدعو کیا ہے ۔اس سے ٹھیک پہلے عاصم منیر نے ایک بیان دیا تھا جسے بھارت نے جموں وکشمیر میں ہوئے ہوئے 22 اپریل کے آتنکی حملے سے جوڑ کر دیکھا گیا ۔دراصل آپریشن سندور کی شروعات کے ساتھ ہی یہ دیکھاجارہا ہے کہ پاکستان کو لے کر امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ کا رخ کچھ بدلا ہواہے ۔گزشتہ بدھوارکو یہ کافی واضح ہو گیا ہے کہ سرحد پر دہشت گردی کے اشور پر امریکہ کا رویہ بدلا ہوا ہے ۔پچھلے کچھ گھنٹوں میں امریکی حکومت نے تین سطحوں پر ایسے اشارے دیے ہیں جو بھارت کی پریشانیوں کو بڑھاتے ہیں۔پہلا امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ کے چیف مائیکل کوریلا نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان ایک زبردست شریک کار ہے ۔14 جون کو امریکی سینا دیوس کی پریڈ میں پاکستانی فوج کے چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا ۔تیسرا وائٹ ہاو¿س نے اشارے دئیے ہیں کہ کشمیر کو لیکر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کرسکتے ہیں ۔امریکی سینٹ کام کے چیف جنرل مائیکل کریلا نے امریکی سرکار کے قانونی باڈی کمیٹی آن آرمڈ سروس کی ایک سماعت میں کئی باتیں کہیں ہیں کہ ہمیں بھارت پاکستان دونوں کے ساتھ رشتہ بنا کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ہم ایسا نظریہ نہیں رکھ سکتے ہیںکہ اگر بھارت کے ساتھ رشتے رکھنا ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔پاکستان کے ساتھ ہماری کافی زبردست ساجھیداری ہے ۔پاکستان نے آئی ایس خورستان کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی ہے ۔او ر ہزاروں آتنکیوں کو مارا ہے ۔امریکہ کے ساتھ اطلاعات شیئر کی ہیں اور بڑے آتنکیوں کو پکڑنے میں مدد کی ہے ۔سینٹ کام چیف نے عاصم منیر کا بھی ذکر کرتے ہوئے تعریف کی ہے کیسے سب سے پہلے انہوں نے شریف اللہ کی گرفتاری کی اطلاع ان کو دی ۔انہوںنے پاکستان سرکار کی اس دلیل پر مہرلگائی کہ دہشت گردی کیخلاف لڑائی جو لمبے عرصہ سے لڑی جارہی ہے اس میں بھی وہ متاثر ہوا ہے ۔یہ بیان اس بیان کے بعد ہی اطلاعات آئی کہ پاکستانی فوفی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی فوجی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔یہ تقریب 14 جون یعنی آج ہے ۔یہ وہی منیر ہیں جنہوںنے 16 اپریل کو اسلام آباد میں ایک تقریر میں کشمیر کو پاکستان کو اپنی اپنی لائیف لائن بتایا تھا ۔انہوں نے ٹو نیشن تھیوری کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ ہندوو¿ں سے الگ ہیں اور منیر کے اس بھڑکاو¿ بیان کے بعد ہی 22 اپریل کو بیسرن پہلگام میں آٹنکی حملہ ہوا جس میں 26 بے قصور سیاح شہید ہو گئے تھے ۔آخر امریکہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟ عاصم منیر جیسے متنازعہ شخص کو بلانا بھارت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے ۔حالانکہ آ ج بھارت عالمی طور پر سرخیوں پر ہے ۔ایک نظریہ ہے کہ امریکہ کا عاصم منیر کو بلانا اور پاکستان کو غیر متوقع کے طور پر ساجھیدار کہنا بھلے ہی حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن بھارت کے لئے یہ صاف اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب اس خطہ میں توازن بنا کر چلنا چاہتا ہے اس سے بھارت کی نوتھرڈ پارٹی پالیسی کو چنوتی ملتی ہے ۔حالانکہ دونوںملکوں سے رشتے بنائے رکھنا امریکہ کی پرانی پالیسی رہی ہے ۔پھر بھی یہ قدم ڈپلومیٹک طور سے بھارت کے لئے پریشانی کا باعث ضرور ہے ۔ٹینشن نہیں لیکن چوکسی ضروری ہے ۔امریکہ کی منشاءاور نظریہ پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔فیلڈ یعنی فیلڈ مارشل منیر کے بیان پہلگام آتنکی حملے سے جڑا ہے ۔اس لئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف امریکہ کی یہ ڈپلومیسی ہے یا ڈبل گیم ؟ (انل نریندر)

12 جون 2025

پاک کو الگ تھلگ کرنے میں ہم ناکام رہے !

آپریشن سندور کے دوران گزری 9 مئی کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے (آئی ایم ایف ) نے پاکستان کو بیل آو¿ٹ پیکج کی شکل میں ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دے دی ۔آپریشن سندور کے ٹھیک بعد ورلڈ بینک نے پاکستان کو 40 بلین ڈالر دینے کا فیصلہ لیا ۔۔۔پھر ایشین ڈولپمنٹ بینک نے پاکستان کو 800 ملین ڈالر دے دیے ۔کچھ دن پہلے 4 جون کو پاکستان کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طالبان پر پابندی کمیٹی کے چیئرمین اور دہشت گردی انسداد کمیٹی کے وائس چیئرمین چنا گیا ۔پاکستان کے سلسلے میں ہوئی سبھی ڈولپمنٹ کو کانگریس نیتا پون کھیڑا نے سامنے رکھا ہے ۔اور بھارت کی خارجہ پالیسی کے زوال سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں ۔پاکستان ان معاملوں کو ایک بڑی کامیابی کی شکل میں پیش کررہا ہے ۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا میں ان کے دیش کے لئے یہ فخر کی بات ہے ۔انہوںنے ایکس پر کئے ایک پوسٹ میں لکھا ہے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں اہم ترین تقرریاں بھی متاثر کرتی ہیں ۔اور عالمی برادری کو پاکستان کی دہشت گردی مخالف کوششوں پر پورا بھروسہ ہے ۔شریف کا کہنا ہے پاکستان ان دیشوں میں سے ایک ہے اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے ۔دہشت گردی کے سبب اب تک دیش میں 90 ہزار لوگوں کی جان جاچکی ہے ۔دیش کو 150 بلین ڈالر سے زیادہ کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے ۔بھارت نے اسے لے کر خاصہ اعتراض جتایا ہے جموں وکشمیر کے پہلگام میں گزری 22 اپریل کو بے قصور سیاحوں پر ہوئے حملے کے لئے پاکستان ذمہ دار ہے ۔اس سے پہلے بھی الگ الگ محاذوں پر 2016 میں اری میں ہمارے فوجیوں پر حملہ ،2019 میں پلوامہ ،اور پھر 2008 میں ممبئی کے ہوٹلوں پر حملے یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان ہے ۔ان کی فوج اور خفیہ ایجنسی ان میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ۔آپریشن سندور بھارت کو مجبوری میں کرنا پڑا ۔3-4 دن کی لڑائی کے بعد ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کے ایم پیز کو سات الگ الگ نمائندہ وفد نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ممبر ملکوں کا دورہ کیا ۔پی آئی بی کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق اس دورہ کا مقصد آپریشن سندور اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کی مسلسل لڑائی کے بارے میں ممبر ممالک کو واقف کرانا تھا جہاں ایک طرف اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ممبران کے سامنے سرحد پار سے دہشت گردی کا مدعا اٹھا کر پاکستان کو گھیرنے کی کوشش میں سرکار جٹارہی تھی ۔وہیں پاکستان کو اس اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے دہشت گردی انسداد کمیٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ۔انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر سبھاجیت رائے نے لکھا ہے کہ شاید انہیں اسباب سے بھارت میں عجب بے چینی کے حالات نظر آرہے ہیں ۔راجستھان کے پولیس سیکورٹی اینڈ کریمنل جسٹس کے انٹرنیشنل افیئرس کے اسسٹنٹ پروفیسر ونے کوڈہ کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے دیش کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل جیسے ادارے میں کوئی بھی جگہ یا ذمہ داری دینا صرف ڈپلومیٹک سیاسی حساسیت نہیں بلکہ اس پورے ڈھانچہ کی خامی کو اجاگر کرتا ہے ۔پاکستان کو ان ایجنسیوں کا حصہ بنانا اسی دیش کو دہشت گردی پر نگرانی کی ذمہ داری سونپنے جیسا ہے ۔جس پر خود دہشت گردی کو پناہ دینے اس کو پیدا کرنے اور اسے خارجہ پالیسی کے ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنے کے سنگین الزام ہیں ۔یہ بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ عالمی دہشت گردی انسداد ڈھانچہ کے بھروسہ کے لئے بھی ایک تشویش کا موضوع ہے ۔پاکستان کی دہشت گردی پر دوہری پالیسی کوئی نیا اشو نہیں ہے یہ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی دستاویزوں میں صاف طور سے بھی درج ہے چاہے وہ اقوام متحدہ کے ذریعے ممنوعہ دہشت گردوں کو پناہ دینا ہو جیسے اسامہ بلادین یا حافظ سعید یا پھر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کو کھلی حمایت دینا ہو۔پاکستان نے مسلسل دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کا ایک ہتھیار بنایا ہے ۔خاص طور سے بھارت کیخلاف جے این یو میں اسسٹنٹ پروفیسر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ یہ خبر بھارت کے لئے تشویش پیدا کرنے والی ہے ۔ایسی تقرریاں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل نمائندہ ملکوں کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔اور ہری جھنڈی کا مطلب ہے یہ اعتراف کرنا تھا پاکستان دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ہماری کوشش رہی ہے دہشت گردی پھیلانے میں پاکستان کا بڑا رول رہا ہے لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبر ایسا شاید نہیں مانتے جہاں اقوام متحدہ کے ذریعے پاکستان کو سرٹیفکیٹ دینا اس کا بڑا کارنامہ رہا ہے وہیں یہ بھارت کی بڑی ناکامی مانی جائے گی کہ ہمارے دیش کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر ناکارہ ثابت ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

10 جون 2025

مسک بنام ٹرمپ بنام اڈانی!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج کل بڑے صند کاروں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں ۔پہلے بات کرتے ہیں ایلن مسک کی دنیا کے سب سے بڑے امیر شخص میں سے ایک ایلن مسک اور سب سے طاقتور لیڈروں میں شمار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان زبردست ٹکراﺅ ہو گیا ہے ۔دونوں کے درمیان نہ اتفاقی اب پوری طرح زبانی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔انٹر نیٹ میڈیا پلیٹ فارم پر ان میں آپس میں تلواریں کھنچی ہوئی ہیں ۔مسک کی طرف سے ٹرمپ کے بار بار ٹیکس بل کی تنقید کئے جانے پر ٹرمپ نے بیحد ناراضگی جتائی ۔انہوںنے فیڈرل حکومت کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہونے والے ایلن مسک کے کاروباری صودوں کو لیکر دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر دھمکی دیتے ہوئے لکھا اگر بجٹ میں بچت کرنی ہے تو اس کا سب سے آسان طرےقہ ایلن مسک پر کو ملنے والی عربوں ڈالر کی سبسڈی اور کنٹریکٹ ختم کر دئے جائیں ۔فی الحال تو ٹرمپ اور مسک کے جھگڑے کے بعد مسک کی کمپنی ٹیسلہ کے شئیر جمعرات کو 14 فیصدی تک گر گئے حالانکہ یہ جنگ ایک طرفہ نہیں تھی ۔ٹرمپ کے حملہ کے بعد مسک نے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے تک کی بات کر ڈالی مسک نے پلٹوار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا میں نہ ہوتا تو ٹرمپ چناﺅ ہار جاتے انہوںنے ٹرمپ پر بے وفائی کا الزام بھی لگاہا ۔یہی نہیں ایلن مسک نے کہ اب نئی پارٹی بنانے کا وقت آ گیا ہے جو 80 فیصد لوگوں کی نمائندگی کرے اس ٹکراﺅ کا سیدھا اثر امریکہ کی سیاست اور خلائی پروگراموں اور عالمی تکنیکی دنیا پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ادھر ٹرمپ اور ان کی ایجنسیاں بھارت کے بڑے صنعت کار گوتم اڈانی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہوئی ہیں امریکی اخبار دا وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی تازا رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کی امریکی کمیشن میں جانچ کر رہا ہے کے کیا ہندوستانی کاروباری گوتم اڈانی کی کمپنیوں نے بندرگاہ کے راستے میں ایرانی ایل پی جی گیس کی درآمد کی تھی حلانکہ اڈانی انٹر پراس نے ایک بیان میں اس رپورٹ کو بے بنیاد اور نقصان پہنچانے والی بتایا ہے کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا ہمیں اس معاملے پر امریکی حکام کی جانب سے کی گئی کسی جانچ کے بارے میں جانکاری نہیں ہے ۔میگزین نے بتایا گجرات کے بھدرا بندرگاہ اور خلیج فارس کے درمیان چلنے والے ٹینکروں میں کچھ ایسے عشارے نظر آئے ہیں ،جو ماحرین کے مطابق پابندیوں سے بچنے والے جہازوں میں عام ہوتے ہیں ۔اخبار میں یہ بھی کہا کے امریکہ محکمہ انصاف اڈانی گروپ کی بڑی کمپنی اڈانی انٹر پرائیسز کو مال بھیجنے کے لئے استعمال کئے جا رہے کئی ایل پی جی ٹینکروں کی آمد رفت کا جائزہ لے رہاہے یہ جانچ ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مہا مئی میں ایران سے تیل اور پیٹرو کمیکل سامان کی خرید پوری طرح سے روکنے کا حکم دیا تھا لیکن اڈانی پر امریکہ میں دھوکہ دھٹی اور رشوت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا ۔اخبار میں لکھا ہے بکلن میں امریکی اٹورنی آفس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اڈانی کے لئے مسلہ ثابت ہو سکتی ہے ۔وال اسٹریٹ کے مطابق پچھلے سال کی شروعات میں امریکی ایجنسیوں نے مدرا بندرگاہ سے خرلیچہ فارس جانے والے جہازوں کی آمد وفت کو جانچا تھا اور جہازوں کو پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کے ایسے جہازوں میں دیکھا گیا ہے جو آمد رفت کے دوران اپنی پہنچ کے بارے میں صاف نہیں بتاتے اڈانی گروپ نے ممبئی اسٹاک ایکس جینچ کی جانکاری دی ہے ۔اڈانی گروپ کی کمپنیوں ایرانی ایل پی جی کے درمیان تعلقات کا الزام لگانے والی میگزین وال اسٹریٹ کی رپورٹ کو بے بنیاد اور نقصان پہنچانے والی بتایا ہے ۔اڈانی جان بوجھ کر کسی بھی طرح کی پابندیوں سے بچنے یا ایرانی ایل پی جی سے جڑے کاروبار میں ملوث ہونے سے صاف انکار کرتا ہے ۔ (انل نریندر)

07 جون 2025

عدلیہ میں کرپشن کا سوال!

سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس وی آر گوائی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں کرپشن اور دھاندلی کے واقعات کا جنتا کے بھروسہ پر منفی اثر پڑتا ہے اس سے پورے سسٹم کے یکجہتی میں بھروسہ کم ہوتا ہے ۔برطانیہ کے سپریم کورٹ میں جوڈیشیل جواز اور پبلک بھروسہ بنائے رکھنے پر ایک گول میز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد سرکار کے ساتھ کوئی دیگر ذمہ داری لیتا ہے یا چناو¿ لڑنے کے لئے عدالتی بنچ سے استعفیٰ دیتا ہے ،تو یہ اہم ترین اخلاقی تشویشات پیدا کرتا ہے ۔اور اس کی پبلک جانچ ہونی چاہیے ۔سی جے آئی نے کرپشن کے مسئلے پر کہا کہ جب بھی کرپشن اور رویہ کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مسلسل اپنے فرض سے تلانجلی دینے کے خلاف فوری اور مناسب قدم اٹھائے ہیں ۔اس کے علاوہ ہر سسٹم ،چاہے وہ کتنا بھی مضبوط کیوں نا ہو،پیشہ آور برتاو¿ کے مسئلوں کے لئے انتہائی حساس ہوتا ہے ۔سی جے آئی نے کہا کہ عدلیہ میں کرپشن کے معاملوں سے لوگوں کے دل میں اس کے تئیں بھروسہ کم ہوتا ہے حالانکہ اس بھروسہ کو ان مسئلوں پر فوری فیصلہ کن اور شفاف کاروائی سے دوبارہ قائم کیا جاسکتا ہے ۔بھارت میں بھی کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مسلسل اس لعنت کو دور کرنے کے لئے فوراً مناسب قدم اٹھائے ہیں ۔سی جے آئی کا یہ تبصرہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما پر کرپشن کے الزامات کے پیش نظر آیا ہے ۔ورما کے دہلی میں سرکاری گھر سے بڑی تعداد میں نقدی برآمد کی گئی تھی ۔جسٹس گوائی نے کہا کہ ہر جمہوریت میں عدلیہ کو نہ صرف انصاف فراہم کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک ایسے ادارہ کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے جو اقتدار اعلیٰ کے سامنے سچائی کو رکھ سکے ۔ہم سی جے آئی کے الفاظ کے لئے ان کی تعریف کرتے ہیں ۔اگر ہم پچھلے چیف جسٹس کھنہ کو ہی لے لیں تو ان سے پہلے کئی چیف جسٹس پر اقتدار کی طرف جھکنے کے الزام لگتے رہے ہیں ۔کچھ کو تو اقتدار کے حق میں فیصلے دینے کے لئے ریٹائر ہونے کے بعد ایوارڈ سے بھی نوازہ گیا ۔چیف جسٹس گوائی نے ہندوستانی عدلیہ کے اندر جڑیں جمع یا جم چکی ہیں ان مسئلوں کو بڑے صاف الفاظ میں قبول کیا جنہیں لے کر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔پچھلے کچھ برسوں میں چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کے سیاسی دباو¿ میں یا ذاتی مفاد کی تکمیل کے مقصد سے فیصلے سنانے کو لے کر کافی ناراضگی ظاہر کی جاتی رہی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی فائدے اور حکمراں اعلیٰ کے دباو¿ میں یا ذاتی مفاد کو لے کر کافی ناراضگی جتا رہی ہے ۔سچائی تو یہ ہے کہ سیاسی فائدے اور حکمراں اعلیٰ کے دباو¿ سے نجات پائے بغیر عدلیہ صحیح معنی میں اپنی ذمہ داری کو صحیح ڈھنگ سے نبھا نہیں سکتی۔اس لئے چیف جسٹس کی اس سمت میں کوشش قابل تحسین ہے ۔جمہوریت میں عدلیہ پر جنتا کا بھروسہ اس لئے بھی بنے رہنا بہت ضروری ہے کہ یہی ایک ستون ہے جس پر آئین کی حفاظت کی ذمہ داری اور سیاسی اور سسٹم میں کرپشن پر نکیل کسنے کا کافی اختیار ہے ۔چیف جسٹس گوائی نے یہ بھی صاف کر دیا کہ دیش میں نہ تو عدلیہ ،ایگزیکٹو اور میڈیا سب سے بالاتر ہیں ۔سب سے اوپر دیش کا آئین ہے اور دیش آئین سے ہی چلے گا ۔سی جے آئی کے بیان کی ہم تعریف کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

05 جون 2025

یوکرین نے روس میں 4000 کلو میٹر اندر گھس کر مارا !

قریب 3 سال پہلے چل رہی روس یوکرین جنگ میں یوکرین نے ا توار کو روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا ہے ۔اس میں یوکرین کے مطابق 41 روس کے فوجی جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔حملے سے ہوئے نقصان کی تخمینہ لاگت 1.5 ارب پاو¿نڈ (قریب 1.72 لاکھ کروڑ روپے ) سے زیادہ بتایا گیا ہے ۔یوکرین نے اس مہم کو آپریشن اسپائیڈرس ویو کا نام دیا ہے ۔ادھر روس پر ہوئے اس حملے کو روس کا پرل ہاربر کہا جارہا ہے ۔472 ڈرون اور سات میزائلیں داغی گئیں ۔اس حملے میں یوکرین کے 62 فوجی مارے گئے اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔روسی میڈیا اور جنگ نوازوں نے اسے روس کے لئے ایویشن کا سب سے بڑا کالا دن قرار دیا ہے اور پوتن سے نیوکلیائی حملے کی مانگ کی ہے ۔ڈرون کو ٹرکوں میں کنٹینر کے ذریعے روس کے اندر لے جایا گیا ۔ایک ٹرک ایک پیٹرول پمپ پر رکا تھا جہاں سے ڈرون نکل کر ایئر بیس کی طرف بڑھے ۔ڈرون ایس پی دی تکنیک سیلس سے لیس تھے اور سیٹلائٹ سے کنٹرول ہو رہے تھے۔بعد میں اس کا کنٹینر کو بھی اڑا دیا گیا ۔روس کے بلایا ایئر بیس سمیت کئی ایئر فیلڈس کو نشانہ بنایا گیا ۔حملہ روس کے اروکتسک علاقہ میں ہوا جو یوکرین سے 4 ہزار کلو میٹر دور ہے جن جہازوں پر یوکرین نے حملہ کیا وہ نیوکلیائی ہتھیار لے جانے کے قابل تھے۔روس کی نیوکلیائی پالیسی کے مطابق اگر کسی حملے سے اس کی نیوکلیائی صلاحیت متاثر ہوتی ہے تو وہ نیوکلیائی جواب دے سکتا ہے ۔اس لئے پوتن کے حمایتی کھلے عام مانگ کررہے ہیں کہ روس یوکرین پر نیوکلیائی جوابی حملہ کرے ۔یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب استندول میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات ہونے ہیں ۔اس سے پہلے اس طرح کا بڑا حملہ روس پر دباو¿ بنانے کی حکمت عملی کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے ۔کچھ غیر مصدقہ رپورٹوں کے مطابق آر کریک میں قائم روس کے نیوکلیائی بیس پر بھی حملہ ہوا ہے یہ بیس روس کے شمالی فلیگ کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔کولاجزیرہ پر ہوئے دھماکوں کے بعد کالے دھنویں کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے ۔حالانکہ یہ کلیئر نہیں کہ وہاں کیا نشانہ بنا ۔ایک یوکرینی فوجی افسر نے بتایا کہ یہ آپریشن قریب ڈیڑھ سال کی تیاری کے بعد انجام دیا گیا۔اس کی پلاننگ خود یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی نگرانی میں بنائی گئی تھی۔اس حملے میں استعمال ڈرون یوکرین میں تیار اور ڈولپ تھے ۔جو روس کی سرحد پر ٹھیک نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ۔یہ حملہ روسی ڈیفنس کو کمزور کرنے کے لئے تھا ۔اس کے لئے روسی ایئر فورس کو اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہونے کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے ۔اس حملے میں مگ اور سخوئی جیسے جدید ترین جنگی جہاز نگرانی ،جہا ز اور کچھ ٹرانسپورٹ جہازوں کو تباہ کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔روس کو جو نقصان پہنچا ہے شاید تجزیہ نگار اس کا اندازہ لگا رہے ہوں یا نہیں کررہے ہوں لیکن آپریشن اسپائیڈرس ویب سے ایک اہم ترین پیغام نہ صرف روس بلکہ یوکرین کے مغربی ساتھیوں کو بھی گیا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غور کرہی رہے تھے کہ یہ یوکرین روس جنگ رکوانے کی پوری کوشش کررہے ہیں یہ الٹا ہی پڑ گیا ہے ۔اور نہایت ہی خطرناک دور میں پہنچ گیا ہے ۔اوپر والا دونوں یوکرین ،روس کو عقل دے اور اس جنگ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔ (انل نریندر)

03 جون 2025

ڈیفنس سودوں کی سپلائی میں دیری!

پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کی کامیابی کو لیکر تینوں افواج کی ہو رہی تعریف کے درمیان ائر فورس کے چیف ائر مارشل ای پی سنگھ نے ایک بم چھوڑ دیا ہے ۔ائر فورس کے چیف نے ڈیفنس سودے ہونے کے باوجود سازو سامان کی سپلائی میں دیری ہو رہی ہے۔کھلے طور پر یہ سنگین تشویش کی کا اظہار ائر فورس کو لائٹ کمبیٹ ائر کرافٹ (ایل سی اے)تیجس کی سپلائی میں ہو رہی تاخیر کی طرف عشارہ کرتے ہوئے کہا کے کئی بار ہم ڈیفنس سودوں پر دستخط کرتے وقت جانتے ہیں کے یہ سازوسامان صحیح وقت پر نہیں مل پائے گے ائر فورس چیف نے یہ کہنے سے بھی گوریز نہیں کیا کے ایک بھی پروجیکٹ وقت پر نہیں ہوا ۔ڈیفنس سیکٹر سے وابستہ کمپنیوں اور ایجنسیوں کو کھلا پیغام دیتے ہوئے کے ہم ایسا وعدیٰ ہی کیوں کریں جو پورا نہیں ہو سکتا ۔ائر فورس چیف نے بڑی انڈسٹریل آرگنائیزیشن سی آئی آئی سالانہ میٹنگ کے ایک سیشن کو خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں ۔دنیا فی الحال جس سنگین دور سے گزر رہی ہے اب بھارت کے سامنے اپنے ہی کچھ پڑوسی دیشوں غیر سنجیدہ رخ کی جنوتیاں کھڑی رہتی ہیں ۔ویسے میں سکورٹی کا ہر مورچہ ہر وقت پوری طرح چوکس اور ٹھیک ٹھاک رہنا ایک ضروری تقاضہ ہے ان پروجیکٹوں میں تاخیر پر ائر مارشل ای پی سنگھ کی تشویش اور سوال واجب ہے باحمی مورچے پر لڑ رہی بھارتیہ فوج کو جدیدیت میں بدلنا انتہائی ضروری ہے ۔اس کے لئے صرف غیر ملکی سودوں پر منحصر نہیں رہا جا سکتا ۔میک ان انڈیا پروجیکٹ کے تحت بھی ڈیفنس پروڈکشن میں تیزی لانی ہوگی۔تلخ حقیقت یہ ہے کے پچھلے 10 - 11 برسوں سے مرکزی حکومت نے ڈیفنس سازو سامان کی پروڈکشن کی جانب توجہ ہی نہیں دی ہے ۔ہماری ائر فورس میں 200 فائٹر جیٹس کی کمی ہے جو کئی برسوں سے چلی آ رہی ہے ۔ائر مارشل اے پی سنگھ وقتاً فوقتاً آغاہ کرتے رہے ہیں ۔لیکن نا تو وزیر دفاع نے کوئی توجہ دی نہ مرکزی حکومت نے ہم ابھی 10 سال پہلے کے دور میں ہیں ۔جہاں ایک لڑاکا جنگی جہاز کا سوال ہے اور ہمارے دشمن چین نے 5 وی جنریشن کے فائٹر ائر کرافٹ بنا چکا ہے اور پاکستان کو دینے کو تیار ہے ۔انڈین ائر فورس کے پاس 42.5 اسکوائڈ رن جنگی جہاز ہونے چاہئے لیکن ہیں صرف 701 ہندوستان ایرو نوٹکس لمیٹڈ ابھی تک دیش میں بنا تیجس معرکہ کا جہاز نہیں دے سکا اس کی وجہ سے ائر فورس کی ڈیفنس تیاریوں پر اثر پڑ رہا ہے ۔بھارت کو آنے والے وقت میں اپنی دفاعی ضروریات کے لئے خود کفیل بننا ہوگا ساتھ ہی جس طرح چین نے اپنی فوج کو جدید کیا ہے بھارت کو بھی اسی راہ پر تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا ۔منصوبوں کے تحت اگر کسی سلسلہ میں وعدے کئے جاتے ہیں تو انہیں وقت پر پورا کرنے کو لیکر بھی اتنی ہی سنجیدگی دکھانی چاہئے ۔ڈیفنس سیکٹر میں تکنیکی اور وصائل کی ترقی کے معاملے میں خود کفیل ہونا سب سے بہتر حل ہے ۔لیکن فوری ضروریات کو پورا کرنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جانا چاہئے ۔ائر مارشل ای پی سنگھ کے درد کو ہم سمجھ سکتے ہیں ۔باوجود ان کمیوں کے ہمارے جوانوں نے دشمن کو منھ توڑ جواب دیا ہے ۔اور اس میں سب سے بڑا رول ہندوستانی ائر فورس کا ہی رول ہے ۔ (انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...