Translater
11 جولائی 2023
وزیر اعظم کی تنقید بغاوت نہیں !
کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اسکول انتظامیہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیب اور قابل اعتراض اور غیر ذمہ دارانہ بیان تھے ۔لیکن اسے بغاوت نہیں کہا جا سکتا ۔ ہائی کورٹ کی کلبرگی بنچ کے جسٹس ہیمنت چندن گودر نے کوایک بیدر جو نیوٹاو¿ن پولیس میں ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے بیدر کے اسکول شاہین اسکول کی انتظامیہ کے سبھی ملزمان علاو¿الدین ،عبدالخالق ،محمد بلال ایماندار اور محمد مہتاب کو کلین چیٹ دے دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مختلف دھارمک گروپوں کے درمیان بھائی چارہ بگاڑنے کی دفعہ 153(A) کو اس کیس میں موزوں نہیں پایا گیا ہے۔ جسٹس چندن گودر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیر اعظم کیلئے نازیب بات بولنا نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ غیر ذمہ دارانہ بھی ہے ۔ سرکار کی پالیسوں کی عام تنقید جائز ہے لیکن آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو کسی پالیسی ساز فیصلے کیلئے بے عزت نہیں کیا جا سکتا ۔ خاص کر اس لئے کسی گرو پ خاص کو ان کا فیصلہ پسند نہیں آیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اسکول میں پیش کئے گئے ڈرامہ دنیا کے سامنے اس وقت آیا جب اسکول کے ایک شخص نے اپنے انٹرنیٹ میڈیا پر اس کے ویڈیو کو ڈالا ۔ عدالت نے پایا کہ عرضی گراز نے لوگوں کو سرکار کے خلاف جھگڑے کیلئے اکسانے یا جنتا کو جمع کرنے کے ارادے سے یہ قدم اٹھایا ہے ۔اس لئے کورٹ نے کہا کہ دفعہ 124(A) (بغاوت ) اور دفعہ 505(2) کیلئے درکار حالات کی کمی کے چلتے ان دفعات کو لگانا جائز ہے تو ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں سرکار کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ وہ بچوں کو سرکار کی تنقید سے دور رکھیں۔ قابل غور ہے کہ 21جنوری 2020کو درجہ 4,5,6کے طلبہ نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف اسکول میں ایک ڈرامہ میں کردار نبھایا تھا۔ اے بی وی پی ورکر نلیش رکشلا کی شکایت پر چار لوگوں پر کیس درج ہوا تھا۔ جس میں دفعہ 504یعنی جان بوجھ کر توہین کرنا،505(2)و 124(A) یعنی بغاوت ،153A وغیرہ دفعات ان پر لگائی گئیں تھیں۔ کورٹ نے صاف کہا کہ وزیر اعظم کی تنقید کرنا بغاوت نہیں ۔ حالاںکہ یہ بے عزتی کے مترادف ضرور ہے۔
(انل نریندر)
06 جولائی 2023
فیصلہ 7جولائی کو!
دہلی کی ایک عدالت اس مسئلے پر فیصلہ 7جولائی کوکرنے والی ہے کہ لیڈیز پہلوانوں کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کرنے کے معاملے میں انڈین کشتی فیڈریشن کے موجودہ صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف دہلی پولیس کے ذریعے دائر چارج شیٹ کا نوٹس لینا ہے یا نہیں ؟ برج بھوشن شرن سنگھ بھاجپا کے ایم پی ہیں ۔ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ہرجیت سنگھ جیسپال نے دہلی پولیس کی اس دلیل پر غور کیا کہ اس کی جانچ اب بھی جاری ہے اور ایک مکمل چارج شیٹ داخل کئے جانے کا مکان ہے ۔ عدالت کو اس مسئلے پر فیصلہ سنیچر کو سنا رہی تھی۔ جسٹس نے کہا کہ چوںکہ ایف ایس ایل رپورٹ اور سی ڈی آر کا نتظار ہے ۔ اس میں وقت لگنے کا امکان ہے۔ اس لئے مسئلے کو 7جولائی کو غور کیلئے کاروائی لسٹ میں شامل کریں۔ دہلی پولیس نے چھ بار کے ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف 15جون کو آئی پی سی کی دفعہ 354(یعنی کسی عورت کی عزت کو تار تار کرنے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) اور 354A(جنسی اذیت رسانی) ،354D(پیچھا کرنا )اور 306(مجرمانہ دھمکی ) جیسی دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی۔ چارج شیٹ میں ڈبلیو ایف آئی کی معطلی اور معاون سیکریٹری ونود تومر کو بھی آر پی سی کی دفعہ 109(کسی جرم کیلئے اکسانا)،(اس کے کیلئے سزا کا کوئی واضح سہولت نہیں ہونا)354،354Aاور 506کے تحت کرائم کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔ تازہ معاملے کے علاوہ نابالغ پہلوان کے ذریعے لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ (پاکسو) ایکٹ کے تحت ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ نابالغ پہلوان ان 7خاتون پہلوانوںمیں شامل تھی جنہوںنے برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی اذیت رسانی کے الزام لگائے تھے ۔ دونوں ایف آئی آر میں ایک دہائی کے دوران الگ الگ وقت اور مقامات پر برج بھوشن شرن سنگھ کے ذریعے لیڈیز پہلوانوںکو نامناسب طریقے سے چھووا ،پیچھا کرنے اور ڈرانے اور دھمکانے جیسے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ نابالغ پہلوانوں کے معاملے میں دہلی پولیس نے 15جون کو فائنل رپورٹ داخل کی تھی جس میں برج بھوشن شرن سنگھ کے خلا ف جنسی اذیت رسانی کے الزام میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ایسی رپورٹ ان معاملوںمیں دائر کی جاتی ہیں جس میں پولیس مناسب جانچ کے بعد پختہ ثبوت ڈھونڈھنے میں ناکام رہتی ہے ۔ پاکسو عدالت معاملے میں برج بھوشن کے خلاف اس ایف آئی آر کو منسوخ کرنے والی رپورٹ پر غو کرے گی۔
(انل نریندر)
یو سی سی اور اپوزیشن !
وزیر اعظم نریندر مودی نے نونیفارم سول کوڈ یعنی یو سی سی کا اشو اٹھاکر ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے اس کے بعد سے کچھ سیاسی پارٹیاں یو سی سی کی حمایت میں آگئیں ہیں تو کچھ اس کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ وہیں کچھ پارٹیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یو سی سی کا مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی اپنا نظریہ طے کریںگے۔ یونیفارم سول کوڈ یعنی شادی ،طلاق ،وراثت ،گود لینے سمیت کئی چیزوں پر دیش کے سبھی شہریوں کیلئے ایک ہی قانون ۔پی ایم مودی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوکر 2024کے عام چناو¿ میں بھاجپا کے خلاف اترنے کی کوشش میں لگ گئیںہیں۔ واقف کار مانتے ہیں کہ بی جے پی کی طرف سے اپوزیشن اتحاد میں سیندھ ماری کیلئے یو سی سی کو اگلے چناو¿ کے ایجنڈے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ سیاسی حلقوںمیں یہ بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا یو سی سی کے مسئلے پر الگ الگ رائے رکھنے والی اپوزیشن پارٹیاں تقریباً10مہینے بعد ہونے والے عام چناو¿ میں ایک اسٹیج پر آسکیںگی۔ کانگریس پارٹی پالیمانی پارٹی کی حکمت عملی گروپ نے سنیچر کو ایک اہم میٹنگ بلائی جس میں سونیا گاندھی کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر ہیں ۔میٹنگ کے بعد جے رام رمیش نے کہا کہ کوئی مسودہ آئے گا تو اس پر بحث ہوگی تو ہم حصہ لیںگے ۔ اور جو بھی مجوزہ مسودہ ہوگا اس کا جائزہ لیںگے ۔فی الحال ہمارے پاس آئینی کمیشن کا ایک پبلک نوٹس آیا ہے ۔کچھ بھی نیا نہیں ہوا ہے ۔یہ مہنگائی ،کرپشن اور بے روزگاری کے مسئلے سے توجہ بھٹکانے کیلئے بی جے پی کا ایک نیا طریقہ ہے۔انہوںنے بی جے پی پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا الزام لگایا لیکن کیا یو سی سی اپوزیشن اتحاد میں ایک بڑی اڑچن ثابت ہو سکتاہے؟ اس سوال پر این ڈی اے کے ساتھی کونراڈ سنگما نے کہا کہ یوسی سی سے قریب 200سے زیادہ قبائلی فرقوں کے اختیارات اور آزادی کم ہونے کا خطرہ ہے۔ بھارت کی قریب 12فیصدی قبائلی آبادی نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں آباد ہے ۔کونراڈ سنگما میگھالیہ میں نیشنل پیپلز پارٹی اور بی جے پی مل کر سرکار چلا رہے ہیں اور سنگما وزیر اعلیٰ ہیں۔ پر مود تیواری سنگما کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سنگما سے کہہ رہے ہیں کہ یو سی سی آئے گاتو ہم اس کی مخالفت کریںگے۔ ایسے ہی اپوزیشن پارٹیوںمیں بھی سب اپنے نظریات ہوںگے ۔ جب یہ ریزلیشن پارلیمنٹ میں آئے گا تب ہم مل جل کر طے کریںگے کہ کیا کرناہے؟ پٹنہ میں میٹنگ کے دوران لالو یادو کے ساتھ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس نے اس پر اپوزیشن پارٹیوںکے اتحاد پر سوال کھڑے کئے جا رہے ہیںان کا جواب دیا ہے ۔پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی بیرک اوبران نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ سبھی اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کی فوٹو کاپی بنے یہ ضروری نہیں کہ جمہوریت اور روزگار پیدا کرنے کیلئے جڑ رہیں اپوزیشن پارٹیوںمیں ہر مسئلے پر ایک ساتھ ہوں۔اور بڑے مسئلوںپر پارٹیوں کا رخ صاف ہے۔
(انل نریندر)
04 جولائی 2023
آدی پورش فلم اسٹوری پر نظر ثانی !
ہائی کورٹ نے تنازعات میں گھیر فلم آدی پورش کی کہانی پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ نے مرکزی سرکار کو حکم دیا ہے کہ وہ دوبارہ نظر ثانی کیلئے پانچ ممبری کمیٹی بنائی جائے ۔کمیٹی میں دو ممبر تلسی دال کی تصنیف شدہ شری رام چرتر و مہرشی بالمیکی کی تصنیف رامائن سے جوڑے دانشور ہوںگے اور دوسرے ممبر داھرمک ہوںگے کمیٹی دیکھی گی کہ فلم میں بھگوان رام ،سیتا ماتا ،ہنومان جی و راین چیتا ہنی کو ان دھارمک گرنتھو کے مطابق فلمایاگی اہے کہ یا نہیں ۔کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کی سیتا و ویبھیشن کی پتنی کوغلط طریقے سے تو نہیں پیش کیا گیا ہے ؟ کورٹ نے کہا کہ عرضی کے ساتھ داخل کئے گئے مناظر میں ویبھیشن کے پتنی کے کچھ سین فحاشی لگ رہے ہیں۔ جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس شری پر کاس سنگھ پر مشتمل بنچ نے دو عرضیون پر یہ حکم دیا ۔ کورٹ نے کہ کہ ہفتے بھر میں کمیٹی بنائی جائے ۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری ذاتی حلف نامے کے ساتھ 15دن یعنی 27جولائی تک کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں ۔ کورٹ نے سینسر بورڈ کے چیئرمین کو بھی حکم دیا ہے کہ متعلقہ دستاویزات کے ساتھ حلف نامہ پیش کریں کہ فلم آدی پرش کو دکھانے کا سر ٹیفیکٹ جاری کرتے وقت طے گائڈ لائنز کی تعمیل ہوئی یا نہیں ؟ کورٹ نے سختی سے کہا کہ حلف نامہ داخل نہیں کیا جا تا تو 27جالائی کی سماعت پر ڈپٹی سیکریٹری سطح کے افسر کو کورٹ میں پیش ہونا ہوگا ۔ کورٹ نے فلم کے ڈائریکٹر اوم راو¿ت بھوشن کمار و کہانی مصنف منوج منتشر کو بھی جوابی حلف نامے کے ساتھ اگلی تاریخ تک طلب کیا ہے۔ یوپی سرکار کی طرف سے پیش چیف وکیل شیلیندر کما سنگھ نے اسے ہندو آستھا سے جڑا معاملہ بتایا مرکز کی جانب ڈپٹی سولیسیٹر جنرل ایس بی پانڈے نے دلیلیں رکھیں ۔بنچ ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اور معاملے کو سنگین نوعیت کا بتایا اور فلم کی کہانی پر دوبارہ سے نظر ثانی کا حکم دیا ہے ۔ ہائی کورٹ میں داخل عرضیوںمیں فلم پر مکمل پابندی لگانے کی دوخواست کی گئی ہے۔عرضی کنندگان کی طرف سے پیش وکیل رنجنا اگنی ہوتری و پرنس لینن نے بھی فلم میں دکھائے گئے مناظر کو قابل اعتراض کہہ کر پیش کیا ہے۔ انہوںنے اسے ہندو سناتن آستھا کے ساتھ کھلواڑ قرار دیتے ہوئے سخت کاروائی کی درخواست کی ہے۔
(انل نریندر)
یو سی سی پر کیجریوال کا موقف؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ منگل کو مدھیہ پردیش کے بھوپال میں منعقدہ ایک ریلی کے دوران یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ کا ذکر کرکے ایک طرح سے الگے سال ہونے والے عام چناو¿ کیلئے ایجنڈا طے کر دیا ہے انہوںنے دیش میں یو سی سی کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ ’ایک ہی خاندان میں دو لوگوں کے الگ الگ قاعدے نہیں ہو سکتے ایسا دہرا نظام سے گھر کیسے چلے گا؟ مودی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بار بار کہا ہے کہ انڈو بھارت ہے اور کہتا ہے کہ کومن سول کوڈ لاو¿ لیکن یہ ووٹ بینک کے بھوکے لوگ اس میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ لیکن بھاجپا سب کا ساتھ سب کا وکاس کے جذبے سے کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کی تقریر کے بعد تما ما پارٹیوںنے اس مسئلے پر اپنی رائے رکھی۔ پچھلے ہفتے پٹنہ میں اکٹھے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ںنے اس کی مخالفت کی ۔لیکن عام آدمی پارٹی اس معاملے میں الگ چلتے نظر آئی ۔پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور سے یونیفارم سول کوڈ کی حمایت کرتی ہے لیکن ساتھ کہا کہ اس کا طریقہ الگ ہونا چاہئے اور اسے سبھی پارٹیوں کی حمایت سے لاگو کرنا چاہئے ۔ عام آدمی پارٹی کے نیتا سنجیو پاٹھک نے کہا کہ ان کی پارٹی اصولاً یو سی سی کی حمایت کرتی ہے۔ آرٹیکل 44میں اس کی حمایت کی گئی ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسے مسئلے پر عام رائے کے ساتھ ہی آگے بڑھنا چاہئے ۔ ایک طرف عام آدمی پارٹی مرکز کے آرڈیننس پر بی جے پی حملہ آور ہے وہیں یو سی سی پر اس کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے؟ حالاں کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے ،اس سے پہلے کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹانے کا بھی پارٹی نے کھل کر حمایت کی تھی۔ آخر عام آدمی پارٹی اپنی سیاست کو کس طرح لے جا رہی ہے۔ کئی واقف کار مانتے ہیں کہ ایسے مسئلوں پر بی جے پی کی حمایت کر عام آدمی پارٹی راشٹر واد اور ہندتوا کی اپنی ساکھ کو نکھارنا چاہتی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ بی جے پی سے ناراض ووٹ ان کی طرف آجائے ۔ پارٹی کا سیدھا نشانہ آنے والے اسمبلی چناو¿ اور لوک سھبا چناو¿ کیلئے ہندو ووٹروں کو لبھانے کا اگلے کچھ مہینوںمیں مدھیہ پر دیش ،راجستھان ،چھتیش گڑھ میں چناو¿ ہو نے ہیں ۔ اس علاوہ لوک سبھا چنا و¿ کی الٹی گنتی شرو ع ہو گئی ہے جہاں کانگریس کمزور ہو رہی ہے وہاں وہاں عام آدمی پارٹی مضبوط ہو رہی ہے لیکن کیا یو سی سی پر عآپ کا یہ موقف مسلمانوں اور سکھوں کو ان سے دور کرےگا؟ پنجاب میں ان کی سرکار ہے اور اب مستقبل قریب میں وہاں کوئی چناو¿ میں نہیں ہونا ہے ۔رہا سوال مسلمانوں کا تو دہلی میں 2020میں عام آدمی پارٹی نے ان سبھی پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی کہ جہاں مسلم آبادی 40فیصد سے زیاہ ہے ، این سی ڈی چناو¿ میں بھی پارٹی کو اوکھلا اور سیلم پور جیسے مسلم علاقوںمیں جم کر ووٹ ملے تھے پارٹی کو لگتا ہے کہ مسلمانوںمیں اس کا اتنا اثر نہیں اس لئے وہ ہندتوا کی سیاست کر بی جے پی کی بی ٹیم بننا چاہتی ہے ۔کل ملاکر اسے اب مسلمان ووٹروں کی پر واہ نہیں اس کی ساری توجہ ہندو ووٹروںمیں ہے۔
(انل نریندر)
29 جون 2023
وزیر اعلیٰ ہٹاو صدر راج لگاو!
منی پور کے حالات سنبھلے نہیں سنبھل رہے ہیں۔منی پور میں قریب دو مہینے سے جاری دنگوں پر کنٹرول کرنے کیلئے سنیچر کو بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے گئے۔ زیادہ تر پارٹیوںنے وزیر اعظم کے ساتھ آل پارٹی میٹنگ بلانے کی مانگ کی وہیں سماج وادی پارٹی نے صدر راج لگانے کی مانگ کی ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دلایا کہ سبھی کے تعاون سے ریاست میں امن بحال کیا جائے ۔ ان کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں تقریبا سبھی سیاسی پارٹیوںنے حصہ لیا ۔میٹنگ میں بھاجپا صدر جی پے نڈا ،بھاجپا کے منی پور انچارج ڈاکٹر سمبت پاترا ،منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ و کانگریس کے نیتاو¿ں جے رام رمیش ،ٹی ایم سی سے ڈیریک اوبراو¿ ،میگھالیہ کے سی ایم و این سی پی نیتاکونراڈ سنگھما ،شیو سینا ادھو ٹھاکرے گروپ سے پرینکا چترویدی انا ڈی ایم کے ،بی جے ڈی عآپ پارٹی اورآر جے ڈی لیڈر بھی شامل ہوئے ۔ ادھر منی پور میں بھیڑ نے ریاستی سرکار میں وزیر سسیندرو کے امپھال میں نجی گودام میں آگ لگادی۔ بھیڑ نے وزیر کے گھر و دیگر اثاثوں کو بھی آگ کے حوالے کرنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسیز کے بر وقت پہنچنے سے یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے بلوائیوں پر آنسوگیس اور گولے داغے تاکہ وزیر کے کھورائی میں گھر کا گھیراو¿ روکا جا سکے اس سے پہلے ریاست کی خاتون وزیر کے گھر کو بھی 14جون کی رات نامعلوم افراد نے جلادیا ۔ جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ۔ وہاں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورس اور افسران تعینات ہیں ۔ اپوزیشن کا دباو¿ ہے کہ وہاں ایک کل جماعتی نمائندہ وفد بھیجا جائے جو کوکی اور میئتی فرقے سے بات کرے اور معاملے کو ٹھنڈا کیا جائے ۔ یہ سب کوشش ایسے وقت میں ضروری ہوتی ہے اور کی بھی جانی چاہئے۔ اس سے تشدد زدہ ریاست کو پیغام جاتا ہے کہ سرکار ان کے مسئلوں کو لیکر اور دیش فکر مند ہے ۔ ریاست کی سرکار اور اس کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ جنتا کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اکثریتی فرقہ میتئی مانتے ہیں کہ وہ سرکار کی حمایت کے باوجود بھی مر رہے ہیں تو کوکی فرقہ بھی ان پر بھروسہ نہیں کرتا منی پور جل رہا ہے اور فوراً حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)
اپوزیشن اتحاد کا رآونڈ ون !
بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کئی معنوںمیں تاریخی رہی اس میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھاجپا مخالف 15سیاسی پارٹیوں کو ایک اسٹیج پر لانے میں کامیاب رہے ۔ یہ بھی اپنے آپ میں ایک تاریخی لمحہ تھا۔ قریب ساڑھے تین گھنٹے کی میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیاں بھاجپا کے خلاف ایک ہوکر چناو لڑنے پر رضامند ہوگئیں۔ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت میں لالو یادو نے بتایا کہ جولائی میں اگلی میٹنگ شملہ میں ہوگی جس میں آ گے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔نشانے پر ہیں 2024میں نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کو سکشت دینا ۔ دوسری جانب بھاجپا کے سینئر لیڈروں کی نظر میں یہ ایکتا زیادہ لمبی چلنے والی نہیں ہیں۔ بھاجپا نیتاوں کا خیال ہے کہ اگر اپوزیشن اتحاد ہو بھی گیا تو صرف بہار، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں ہی بھاجپا کو تھوڑی چنوتی ملے گی۔ جسے صحیح حکمت عملی اور اشوز کے ذریعے پست کیا جا سکتا ہے ۔ مہاراشٹر میں 48،بہار میں 40اور جھاکھنڈ میں لوک سبھا کی 14سیٹیں ہیں۔ پچھلی بار اتر پردیش میں اپوزیشن ایکتا کے مقابلے بھاجپا لڑ کر دکھا چکی ہے۔ باقی کی 400سیٹوںپر اپوزیشن ایکتا کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دراصل اپوزیشن پارٹیوں کی اتحاد کی کوشش پہلی بار نہیں ہوئی ہے ۔ نئے بنے اتحاد میں زیادہ تر علاقائی پارٹیاں ہیں اور سب کے اپنے علاقائی مفادات اور اپنے جوڑ توڑ اورمسئلے ہیں۔کئی ریاستوںمیں سب کی لڑائی بھاجپا کے علاوہ کانگریس سے بھی ہے۔ اس طرح اگر سبھی متحد ہوکر صرف بھاجپا کی مخالفت میں اترتیں ہیں تو انہیں کانگریس کے ساتھ اپنی سیٹوں کا بٹوارہ کرنا پڑے گا۔ جس کے لئے خاص غور خوض اور احتجاج سے گزرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپوزیشن کی اتحاد ہو نہیں سکتا ۔ کوشش یہ رہے گی کہ بھاجپا کے خلاف ایک مشترکہ امید وار ہو اور لڑائی آمنے سامنے کی ہو ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ریاستی سطح پر اختلافات کو دور کیا جائے گا۔ مگر کانگریس کو کچھ قربانی دینی ہوگی تو دیںگے ۔ بہت سی سیٹوں پر بھاجپا کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھاجپا کا گراف نیچے آرہا ہے اور مودی جی کی مقبولیت 2019جیسی نہیں رہی ہے۔ پھر ان تمام اپوزیشن پارٹیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر 2024میں مودی جی جیت جاتے ہیں تو ان کا کیا حال ہوگا۔ بی جے پی نے اس اتحاد کو توڑنے کی پوری کوشش کی لیکن پھر بھی کامیاب نہیں ہوئی ۔ اختلاف بہت ہیں اور تضادات بھی بہت ہیں لیکن ای ڈی ،سی بی آئی جیل کی ڈر کی وجہ بھی ان کے ساتھ آنے کی مجبوری ہے ۔ دراصل اگلا راونڈ سب سے اہم ہوگا۔ نتیش کمار نے پہلے دو پڑاو کو پار کرنے میں کافی اہم رول نبھایا ہے ۔ 10یا 12جولائی کو شملہ میں اس اپوزیشن اتحاد کا دوسرا راونڈ ہوگا۔ جہاں سیٹوں کے بٹوارے اور چیلنج پر بھی غور خوض ہوگا۔ اتحاد آسان نہیں تو ناممکن بھی نہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!
یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...